محکمہ ماحولیات نے راولاکوٹ کے 13 مقامات کے پانیوں کو آلودہ قراردے دیا

راولاکوٹ (صباح نیوز)میونسپل کارپوریشن راولاکوٹ کے دفتر سے جاری کر دہ پریس ریلیز کے مطابق راولاکوٹ و گردونواح کے 13 مقامات سے پانی کے نمونہ جات چیک کروانے کے لئے ماحولیات سے تعاون حاصل کرتے ہوئے تفصیلاً معائنہ کروایا گیا جس کی رپورٹ ادارہ کو موصول ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق راولاکوٹ شہر کے اندر پینے والا پانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ قرار دے دیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق یہ پانی پینے کے لحاظ سے انتہائی خطرناک اور بیماریوں سے بھرپور ہے۔رپورٹ کے مطابق اس پانی کو پینے کے لئے استعمال کرنے سے قبل ابالنا / فلٹر کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق راولاکوٹ شہر کے اندر قائم ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز ، شادی ہال کے مالکان وغیرہ پانی کو پینے کی غرض سے استعمال میں لانے سے قبل اسے فلٹر / ابال لیں۔ جس سے اس پانی میں موجود جراثیم اور مختلف اجزاء وغیرہ کا اخراج ہوجاتا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر سردار عاطف نسیم، میونسپل مجسٹریٹ سردار عمران سمیت دیگر آفسیران و عملہ آئندہ شہر کے اندر پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور بغیر فلٹر / ابالنے کے استعمال میں لائے جانے والے پانی کی روک تھا م کے حوالہ سے سخت اقدامات اٹھانے کے پابند ہوں گے۔پریس ریلیز کے مطابق بلدیہ کے دیگر آفیسران کو مضر صحت پانی کی روک تھام کے حوالہ سے مکمل اختیارات کا استعمال عمل میں لاتے ہوئے صاف پانی کی ہر ممکن دستیابی کے حوالہ سے ہمہ وقت اقدامات اٹھانے کے احکامات صادر کر دیئے گئے اور آئندہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی ہر ممکن دستیابی عمل میں لائی جائے گی اور بغیر فلٹر / ابالنے کے استعمال میں لائے جانے والے پانی کے خلاف جرمانے، قید و دیگر سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ چیف ایڈمنسٹریٹرسردار عاطف نسیم، میونسپل مجسٹریٹ سردار عمران نے اس حوالہ سے شہریوں/ عوام میں شعور بیداری و آگہی کے لئے ہر خاص و عام پر زور دیتے ہوئے پانی کے استعمال کے حوالہ سے محتاط رہنے کی ہدایات دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئندہ عوام الناس اپنے گھروں میں بھی پانی استعمال کرنے سے قبل اسے بہر صورت ابال لیں تاکہ بیماریوں کی روک تھام میں زیادہ سے زیادہ معاونت کے ساتھ ساتھ اس پر قابو پانے کے لئے ممکنہ اقدامات اٹھائے جاسکیں۔ انہوں نے ماحولیات کی طرف سے پانے کے حوالہ سے ملنے والی مفصل رپورٹ کے حوالہ سے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام میں آگہی پیدا کرنے اور پینے کے پانی کے حوالہ سے اقدامات کو دینی، اخلاقی و قانونی فریضہ کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس حوالہ سے مزید سروے بھی کروائے جائیں گے اور اس کے تدارک کے لئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھاتے ہوئے اس کے ازالہ کے لئے بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018