چمن بارڈر پر افغان فورسز کی جانب سے فائرنگ

راولپنڈی(پرل نیوز) چمن بارڈر پر افغان فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں 9 پاکستانی شہید، ایف سی کے چار جوانوں سمیت ،46 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔پاک فوج کے شعبے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعہ کی صبح افغان فورسز کی جانب سے چمن بارڈر پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ اٹھارہ زخمی ہوگئے، زخمیوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہیں ۔ افغان فورسز کی طرف سے پاکستان کے سرحدی گاوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں9 شہری شہید اور خواتین و بچوں سمیت 46 افراد سے زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت نازک ہے۔پاکستانی شہریوں کے تحفظ کیلئے سیکورٹی فورسزنے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے افغان فائرنگ کا بھر پور جواب دیا گیا۔سیکورٹی حکام کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ پاک افغان سرحد پر باب دوستی ہر قسم کی آمدورفت کیلئے بند کردیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغان بارڈر پولیس 30 اپریل سے پاکستانی سرحد کے اندر کی طرف موجود تقسیم شدہ کلی جہانگیر اور گلی لقمان میں مردم شماری کے دوران رکاوٹیں کھڑی کررہی تھی مردم شماری کے حوالے سے سفارتی اور عسکری ذرائع کے ذرائع افغان حکام کو بہت پہلے آگاہ کر دیا گیا تھا اس کے باوجود یہ سب کچھ کیا گیا آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور چمن سرحد کو آمدروفت کے لیے بند کر دیاگیا ہے۔چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان بارڈر پولیس نے مردم شماری کی ٹیم کی سیکیورٹی کے لیے تعینات ایف سی اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ اسلام آباد(صباح نیوز)ترجمان دفتر خارجہ محمد نفیس ذکریا نے چمن بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان فائرنگ کا سلسلہ نہ روکا تو پاکستان جوابی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے،بھارت اپنے نفرت آمیز منصوبوں کے لئے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کر رہا ہے،بھارتی قابض افواج نے اپریل کے مہینے میں25کشمیریوں کو شہید کیا جن میں دو خواتین اور 11بچے شہیدشامل ہیں، سی پیک میں افغانستان یا کسی بھی تیسرے ملک کی شمولیت کا فیصلہ پاکستان اور چین مل کر کریں گے۔اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ محمد نفیس ذکریا نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے اپریل کے مہینے میں25کشمیریوں کو شہید کیا جن میں دو خواتین اور 11بچے شہید ہوئے ہیں،646کشمیری آنسو گیس،لاٹھی چارج اور پیکٹ گنز کے استعمال سے زخمی ہوئے ہیں،447کشمیری حریت راہنماوں اور طالب علموں کو اپریل میں گرفتار کیا گیا انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل میڈیا بلیک آؤٹ کے باعث اطلاعات بیرون دنیا تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔بھارتی قابض افواج کی جانب سے بلیک آؤٹ کے باوجود بیرون ممالک کشمیری برادری کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کو اجاگر کر رہی ہے۔سری نگر میں 9اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد وہاں انسانی حقوق کی صورتحال مزید دگرگوں ہوئی ہے،بھارتی قابض افواج کی جانب سے خواتین کے ایک کالج پر حملے سے ایک نوجوان شہید ہوا۔بھارتی قابض افواج کی جانب سے بلیک آؤٹ کے باوجود بیرون ممالک کشمیری برادری کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کو اجاگر کر رہی ہے اور بھارتی بربریت کی ویڈیو اب منظر عام پر آ رہی ہیں۔سری نگر میں 9اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد وہاں انسانی حقوق کی صورتحال مزید دگرگوں ہوئی ہے،بھارتی قابض افواج کی جانب سے خواتین کے ایک کالج پر حملے سے ایک نوجوان شہید ہوا۔انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے ایران،جاپان،سری لنکا اور جرمنی سمیت مختلف ممالک کے اعلی سطح کے وفود نے پاکستان کا دورہ کیا۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018