طویل خشک سالی کے بعد بارش وبرفباری

راولاکوٹ(پرل نیوز)راولاکوٹ میں طویل خشک سالی کے بعد پہلی بارش وبرفباری ،عوام کے شکرانے کے نوافل ادا ،حسب معمول محکمہ برقیات کی کارگزاری صفر ،اکثر حصوں میں بجلی کی طویل ترین تعطل اکثر ٹرانسفارمر خراب ،علاقہ تاریکی میں ڈوبار ہا محکمہ برقیات کے آفیسران کی نااہلی کے باعث عوام ذلیل وخوار بجلی کے بلات تواتر سے وصول ،عوام کا شدید غم وغصہ ،تفصیلات کے مطابق راولاکوٹ میں طویل خشک سالی کے بعد راولاکوٹ سٹی اور پہاڑی علاقوں میں دوسرے روز تک برفباری اور بارش کا سلسلہ جاری رہا شہر میں ہوکا عالم رہا اکثر دکانیں بند رہیں سڑکیں بھی برف کے باعث بند رہیں ،برقی تاریں جگہ جگہ سے ٹوٹ گئیں جس کے باعث اکثر علاقے چوبیس گھنٹوں تک تاریکی میں ڈوبے رہے تاہم بعض جگہوں پر ٹرانسفارمر دوروز سے خراب ہیں جس باعث علاقے میں ہنوز بجلی بند ہے جن مقامات میں ٹرانسفارمر خراب ہیں ان میں یونائیٹڈ روڈ محلہ سندیاس شامل ہے محکمہ برقیات نے برف بار ی سے قبل کوئی پلاننگ نہیں کی جوں جب معمولی سے برف باری ہوئی تو حسب روائت بجلی بند ہوگئی ،عوام علاقہ نے محکمہ برقیات کی غفلت پر شدید غم وغصہ کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ برقیات سفید ہاتھی بن چکا ہے اور دفاتر میں بیٹھ کر تنخوائیں وصول کرنا اس کا معمول بن چکا ہے بجلی کے بل تواتر سے وصول کیے جاتے ہیں جب بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت بجلی بند ہوجاتی ہے بوجوہ اندھیرا لوگوں کومشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے عوام علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی طویل ترین بندش کا سبب بننے والے محکمہ برقیات کے اہلکاران وآفیسران کو معطل کرتے ہوئے فی الفور بجلی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ساتھ ہی وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے بارشوں اور برف باری سے شاہرات کی بندش اور نقصانات کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بارشوں اور برف باری سے بند ہونے والی شاہرات کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی یقینی بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کریں۔شاہرات کی بحالی کے لیے تمام ادارے مل کر کام کریں ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کی ہدایات کی روشنی میں مختلف اداروں نے بالائی علاقوں میں شاہرات کی بحالی کے کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیے ہیں۔ شاہرات کی بحالی کے لیے تمام ادارے مل کر اپنے وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ پانیولہ(نامہ نگار) ملک کے دیگر حصوں کی طرح راولاکوٹ و گردونواح میں بھی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری ہے جسکی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ اور فضائی آلودگی میں کمی واقع ہو گئی ہے پانیولہ اور اس کے تمام نواحی علاقوں میں گزشتہ شب سے تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش جبکہ پہاڑوں پر برفباری ہو رہی ہے طویل عرصے بعد ہونے والی بارش سے جہاں پانی کی کمی دور ہونے کی امید ہے وہاں ہر شے نکھری نکھری دکھائی دینے لگی ہے اور وادی جنت نظیر کا قدرتی حسن مزید دوبالا اور رعنائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے بارش اور برفباری ہوتے ہی ایل پی جی سلنڈرز اور بالن کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے اور سیاحوں نے بھی کثیر تعداد میں ان علاقوں کا رخ کر لیا ہے جو دلفریب نظاروں سے محظوظ ہو رہے ہیں برفباری سے داتوٹ ٹوپہ کھیریاں ایڑ گلی بیڑیں اور بیروٹہ کے علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر بھی ہوئے مگر عوام نے بارش ہونے پر اللہ تعالی کا شکر بجا لایا کیونکہ ان بارانی علاقوں میں پانی کے چشمے خشک ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے موسم کا پتہ دینے والوں کے مطابق بارش کا حالیہ سلسلہ آئیندہ اٹھارہ سے بیس گھنٹوں تک جاری رہے گا۔برفباری ہوتے ہی سب ڈویثرن پانیولہ میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن تیرہ گھنٹے بجلی بند رہنے سے معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئے اتوار اور پیر کی درمیانی شب پورا سب ڈویثرن تاریکی میں ڈوبا رہا رہا رات ساڑھے نو بجے بند ہونے والی بجلی پیر کے روس ساڑھے گیارہ بجے بحال ہو سکی معمولی بارش سے بجلی کی ترسیل میں طویل تعطل پر عوامی حلقوں شہریوں اور تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی انجمن تاجراں کے صدر کی شدید برہمی محکمہ برقیات واپڈا کی مین لائن کو فوری زیر استعمال لاتے ہوئے اپنی خامیوں کا ازالہ کرے بصورت دیگر سخت ترین احتجاج سے گریز نہیں کریں گے انہوں نے مزید کہا کہ عموماً رات کے وقت بجلی کی فراہمی میں پایا جانے والا تعطل دور نہیں ہوتا اور رات بھر علاقہ تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے جو محکمہ برقیات کے ارباب اختیار کے لئے لمحہ فکریہ ہے پیر کے روز دن بھر بجلی کی آنکھ مچولی سے نظام زندگی مفلوج رہاراولاکوٹ پانیولہ مین لائن بوسیدہ ہو چکی اکثر لائینوں پر شاخ تراشی نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں تعطل معمول بن چکا ہے جبکہ واپڈا کی باغ جانے والی مین لائن خالی پڑی ہوئی ہے جسے ایکسپریس فیڈر کے طور پر استعمال کیا جا کر بہت سارے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر بار بار کے مطالبوں کے باوجود حکومت اور محکمہ برقیات اس جانب توجہ نہیں دیتا انہوں نے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر وزیر برقیات اور چیف انجینئیر برقیات سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرف توجہ دیکر درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے بصورت دیگر ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ ہر ی پور(صباح نیوز)شدید طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ،متعدد کچے مکانات کی چھتیں گر گئیں، جبکہ بھینسوں کے باڑہ کی چھت گرنے سے تین مویشی ہلاک ندی نالوں میں شدید طغیانی سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا جبکہ گیس کی عدم فراہمی پر گھریلو صارفین کو مشکلات کا بھی سامنا ہے زرائع کے مطابق گزشتہ رات سے جاری شدیدبارشوں نے پہاڑی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے سرائع نعت خان کالی تراڑ جبری دیگر علاقوں میں کچے مکانات کی متعدد چھتیں گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ میاں ڈھیری میں بھینسوں کے باڑہ کی کچی چھت گرنے سے تین مویشی ہلاک ہو گے ہیں شدیدجاری رہنے والی بارشوں سے ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی ہے شہر کے ندی نالی بھی ابھل پڑے ہیں جس سے گندہ پانی شہر کی تمام سٹرکوں پر جمع ہو گیا جوکہ تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں سردی میں اضافہ کے باعث گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی شروع ہو گئی ہے گیس کی عدم فراہمی کے باعث گھریلو صارفین کو بھی مشکلات کا سامان کرنا پڑرہا ہے مختلف علاقوں سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے بارش کے باعث سٹرکوں پر حادثات میں دس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018