پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم

ہجیرہ (سردار ناصر حمید سے) ہجیرہ سے کراسنگ پوائنٹ تیتری نوٹ کی جانب مظاہرین کا کفن پوش مارچ، ہجیرہ میں مکمل شٹر ڈاؤن پہیہ جام، پولیس اور مظاہرین کے درمیان دواراندی کے مقام پر خوفناک تصادم۔پولیس کا مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسوگیس کا بے دریغ استعمال،پتھراؤ، دواراندی میدان جنگ بن گیا۔کئی پولیس اہلکار و مظاہرین زخمی،سابق سپیکر اسمبلی آنسو گیس سے بے ہوش،سابق امیدوار اسمبلی کاشان مسعود،واجد علی ایڈوکیٹ زخمی۔پولیس اور مظاہرین گتھم گتھا ہوگئے۔مظاہرین نے پولیس گاڑی کے شیشے توڑ ڈالے۔پولیس کی شیلنگ سے ایمبولینس کے شیشے ٹوٹ گئے۔مظاہرین پولیس کا گھیرا توڑنے میں کامیاب،مظاہرین کا کئی گھنٹے دواراندی کے مقام پر پڑاؤ۔ریاست کو پولیس سٹیٹ بنادیاگیا ہے۔نوٹیفیکیشن کی منسوخی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان۔آئندہ کا لائحہ عمل آج پریس کانفرنس کے ذریعہ کیاجائے گا۔تفصیلا ت کے مطابق لائن آف کنٹرول سے ملحقہ سات یونین کونسلز کو عباسپور کے ساتھ منسلک کئے جانے کے خلاف ایکشن کمیٹی حلقہ1و ایکشن کمیٹی حلقہ2کی کال پرہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔مظاہرین نے ہجیرہ سے کفن پوش مارچ کا آغاز کیا۔مظاہرین نے کفن پہن رکھے تھے۔مظاہرین حکومت کے خلاف اور مسائل کے حق میں شدید نعرہ بازی کررہے تھے۔مظاہرین تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف رواں دواں تھے کہ دواراندی مویشی منڈی کے مقام پر پہلے سے موجود پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو روک لیا۔مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔جواب میں مظاہرین نے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے دوران سابق سپیکر سردار غلام صادق خان آنسو گیس سے بے ہوش ہوگئے جنھیں ساتھیوں نے سنبھالا دیا۔لاٹھی چارج سے سابق امیدوار اسمبلی کاشان مسعود، سردار واجد علی ایڈوکیٹ سمیت چھ مظاہرین اور چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔مشتعل مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی کے شیشے توڑ ڈالے۔پولیس نے زخمیوں کو اٹھانے والی ایک ایمبولینس کو بھی نشانہ بنا ڈالا اور آنسو گیس کا پورا شیل ایمبولینس کا پچھلا شیشہ توڑ کر اندر گھس گیا۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔مظاہرین نے پولیس کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے کر پتھراؤ شروع کردیا۔مظاہرین نے دواراندی کے مقام پر دھرنا دے کر احتجاجی جلسہ شروع کردیا۔احتجاجی جلسہ سے سابق سپیکر سردار غلام صادق خان، سردار اعجاز ایڈووکیٹ، کاشان مسعود، سردار الطاف، رئیس انقلابی ایڈووکیٹ، نسیم انجم ایڈووکیٹ، سردار محمد نسیم، سردار انصار احمد، نبیل امتیاز، مختار علی خان، حافظ ساجد، جاوید چوہدری ایڈووکیٹ،سردار امین ایڈووکیٹ، محمود سدوزئی ، عرفا ن عظیم زرگر، ناصر مشتاق، مجید بسمل، ثاقب خورشید، شبیر انقلابی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے نہتے مظاہرین پر پولیس تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حلقہ1کی سات یونین کونسلز کو عباسپور کے ساتھ منسلک کر کے ایم ایل اے حلقہ عباسپور اور موجودہ حکومت نے انڈین فائرنگ کے متاثرین کو مزید عذاب میں مبتلا کردیا۔عوام کو سہولیات دینے کی بجائے موجودہ حکومت مسائل میں الجھا رہی ہے۔نوٹیفکیشن منسوخ نہ کرنا حکومت کا احمقانہ اقدام ہے۔ایک طرف بھارتی فوج ان یونین کونسلز کے عوام پر دن رات فائرنگ اور گولہ باری کرتی ہے تو دوسری طرف حکومت آزادکشمیر نے ان عوام کو مسائل کی دلدل میں پھنسا دیا ہے۔مقررین نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ریاست کو پولیس سٹیٹ بنادیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔مقررین نے کہا کہ کراسنگ پوائنٹ جانے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا لیکن آئندہ کا لائحہ عمل آج کے اجلاس میں طے کر کے اعلان کریں گے۔مظاہرین کے نمائندہ وفد نے ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد احتجاج کو مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ آج ایک بڑے اجلاس میں آئند ہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیاجائے گا۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018