13

اسلامی تعاون تنظیم سمیت عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے،ممتاز زہرہ بلوچ

اسلام آباد(صباح نیوز)دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے اسلامی تعاون تنظیم سمیت عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، جوہر ٹاون دھماکے پر پاکستان نے عالمی سطح پرقانونی کارروائی شروع کردی ہے۔انٹرپول اورمعاہدوں کے ذریعے مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے گا، جمعرات کو ہفتہ وار میڈیابریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں اپنے غیر قانونی قبضے اور ظالمانہ کارروائیوں سے جنوبی ایشیاء کا امن یرغمال بنایا ہواہے،بھارت کے بالادستی کے عزائم نے اس کے پڑوسیوں سے کشیدگی پیدا کی ہے اور بھارتی عزائم بامقصد علاقائی تعاون میں بنیادی رکاوٹ ہیں،ترجمان نے کہا کہ ایک جامع ڈوزئیر تیار کیا گیا ہے جس میں گزشتہ سال جوہر ٹاؤن لاہور میں بھیانک دہشت گردی کے حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کو اجاگر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عالمی اداروں کے تعاون سے ٹھوس ثبوت ملا ہے کہ لاہور دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ،فنڈنگ فراہم کرنے والے اورسہولت کار بھارتی شہری تھے اور وہ بھارت میں موجود ہیں۔ترجمان نے کہا کہ جوہر ٹاون دھماکے پرپاکستان نے عالمی سطح پر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، انٹرپول اور باہمی قانونی امداد معاہدوں کے ذریعے مجرموں کو انصاف کے کٹہڑے میں لایا جائے گا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اگلے ماہ کی نو تاریخ کوموسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ پاکستان کے موضوع پربین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوگی جس کا مقصد حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کے لئے تعاون کو متحرک کرناہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آئندہ سال9 جنوری کو جنیوا میں منعقد ہونے والی کلیمیٹ ریزیلینٹ پاکستان بارے بین الاقوامی کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے، پاکستان کانفرنس میں ملک میں آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد تعمیر نو، بحالی اور آئندہ اس سے بچاؤ کے بارے میں فریم ورک پیش کرے گا جو سیلاب آنے کے بعد تباہی کے تخمینے(پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسسمنٹ)پر مبنی ہے جسے 28 اکتوبر 2022 کو شروع کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 14.9 ارب ڈالر جبکہ 15.2 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اس کے علاوہ ہے، پاکستان کو سیلاب کے بعد تعمیر نو کے لیے 16 ارب ڈالر سے زیادہ رقم کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ کانفرنس تباہ کن سیلاب کے بعد دوبارہ بہتر تعمیر نو کے لیے مدد کی خاطر بین الاقوامی برادری کو متحرک کرے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں