63

انسانِ کامل حضرت محمد ﷺ کا میلاد-شفقت ضیاء


عرب کے معزز قبیلہ قریش کے عظیم انسان ہاشم کے ایک خوبصورت اور مشہور بیٹے عبداللہ تھے جس کا ہم مرتبہ اُس دور میں کوئی نہ تھا۔وہ قریش کے سردار اور مکہ کے قافلہ تجارت کے ذمہ دار تھے۔ انہیں زمزم کا کنواں کھودنے کا شرف بھی حاصل ہو اتھا۔ انہی کے زمانے میں خانہ کعبہ پر ہاتھی والوں کے حملے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ان کے ایک بیٹے کا نام عبداللہ تھا جن کی شادی آمنہ بنتِ وہب سے ہوئی جو اس وقت قریش کی سب سے بلند پایہ خاتون تھیں۔ شادی کے بعد آمنہ ابھی امید سے تھی کہ عبداللہ کا انتقال ہو گیا۔
مکہ مکرمہ میں موسم بہار تھا۔ ربیع اول کی تاریخ میں اختلاف لیکن مشہور ۲۱ تاریخ ۱۷۵ء انسان کامل محمدﷺ کی پیدائش ہوئی۔ دایہ کا کام حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کی والدہ شفاء بنت عمرو نے انجام دیا۔ آپﷺ جب پیدا ہوئے تو جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہو گئے۔ دادا عبدالمطلب نے ”محمد“ نام رکھا۔
عرب میں اُس وقت دستور تھا کہ بچوں کو دودھ پلانے کے لیے بدوی عورتوں کے حوالے کر دیا کرتے تھے تاکہ بچے شہری بیماریوں سے بچ سکیں اور مضبوط ہو جائیں اس دستور کے مطابق عبدالمطلب کو بھی دودھ پلانے والی دایہ کی تلاش تھی مکہ آنے والی خواتین یتیم بچے کو لینے کے لیے تیار نہ تھی لیکن حلیمہ بنت ابو ذوہیب کو جب کوئی اور بچہ نہ ملا تو مجبوراََ آپ کو لے لیا۔ جب لے لیا تو خوش قسمتی کا دروازہ کھل گیا۔گھر برکتوں سے مالامال ہو گیا۔مکہ جب آئی تھیں تو قحط سائی کا دور تھا اپنا بچہ بھوک کی بے قراری سے پوری رات بلکتا اور چیختا رہتا۔ نہ خود سوتا نہ والدین کو سونے دیتا۔جب آپﷺ کو گود میں رکھا تو سینے دودھ سے بھر گئے۔آﷺ کے ساتھ حلیمہ کے بچے نے بھی جی بھر کر دودھ پیا پھر دونوں آرام سے سو گئے۔ حضرت حلیمہ کے گھر کے حالات بدل گئے بکریاں، اونٹنی سے ہر وقت دودھ ابلا ہوتا میاں بیوی خوب دوہتے اور پیتے۔دو سال اس گھر میں خیر وبرکت ہوتی رہی۔ مدت رضاعت پوری ہونے پر والدہ سے مزید وقت کی درخواست کی اور کہا مکہ میں وبا سے ڈر لگتا ہے اس لیے میں چاہتی ہوں مزید وقت دیا جاے والدہ نے اجازت دے دی جس پر مزید دو سال کے لیے حلیمہ کے پاس رہے۔اس عرصہ میں آپ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کرنے کا واقعہ پیش آیا جس سے ڈر کر آپ ﷺ کو والدہ کے حوالے کر دیا گیا۔
انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ
آپﷺ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل ؑ تشریف لائے اور آپ ﷺ کو لیٹا کر سینہ چاک کردیا پھر آپ کا دل نکالا اور اس میں سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا کہ یہ تم سے شیطان کا حصہ ہے۔ پھر دل کو سونے کی طشت میں زمزم کے پانی سے دھو کر جوڑ دیا اور اسی جگہ پلٹا دیا۔ادھر بچے دوڑ کر آپ کی ماں یعنی دایہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ محمدﷺ کو قتل کر دیا گیا۔ وہ لوگ جھٹ پہنچے تو دیکھا رنگ اترا ہو ا تھ۔
حضڑت انس ؓ کا بیان ہے نبیﷺ کے سینے پر سلائی کا اثر دیکھا کرتا تھا۔آپ ﷺ نے اپنی ماں کے سایہ محبت میں دو برس گزارے عمر 6 سال تھی مدینہ کا سفر کیا جہاں والد کی قبر بھی تھی اور دادا کاننھیال بھی۔ ایک ماہ رہ کر واپس ہوئے تو راستہ میں والدہ بیمار ہو گئیں اور ”ابواء“ پہنچ کر رحلت کر گئیں۔وہیں انہیں دفن کر دیا گیا۔ والدہ ماجدہ کے انتقال کے بعد عبدالمطلب نے حضورﷺ کو اپنے دامن تربیت میں لیا۔ہمیشہ آپ ﷺ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر چاہتے لیکن ابھی آپ کی عمر صرف آٹھ برس ہوئی تھی کہ ان کا بھی انتقال ہو گیا۔
دادا کے بعد چچا ابو طالب نے آپ کی کفالت کا بیڑہ اٹھایا ابو طالب مالدار نہ تھے آپ ﷺ کی کفالت کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوب برکت دے دی۔ابو طالب آپﷺ سے اس قدر محبت رکھتے تھے کہ آپ ﷺ کے مقابلہ میں اپنے بچوں کی پرواہ نہیں کر تے تھے۔ آپﷺ کو ساتھ سولاتے باہر جاتے تو ساتھ لے کر جاتے۔آپ ﷺ نے 12,10 سال کی عمر میں بکریاں بھی چرائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی بھی نبی نہیں گزرا مگر اس نے بکری ضرور چرائی ہے۔
ابو طالب تجارت کرتے تھے اسی غرض سے شام جانے کا ارادہ کیا سفر کی مشکلات کے باعث آپﷺ کو لے جانا نہیں چاہتے تھے آپ ﷺ محبت کی وجہ سے ابو طالب کو جاتے دیکھ کر لپٹ گئے جس کی وجہ سے ابو طالب نے آپﷺ کی دل شکنی گورا نہ کی اور ساتھ لے لیا جب بُصرے پہنچے تو ایک عیسائی راہب نے آپﷺ کو دیکھ کر کہا یہ دنیا کے سردار ہیں۔لوگوں نے پوچھا تم نے یہ کیونکر جانا ہے؟ کہا جب تم لوگ پہاڑ سے اترے تو کوئی پتھر یا درخت ایسا نہ تھا جو سجدہ کے لیے جھک نہ گیا ہو۔اس وقت آپ کی عمر 12سال کے قریب تھی۔ اس سے آگے بڑھنے سے پہلے آپﷺ کا حُلیہ مبارک دیکھتے ہیں جسے امام ابن حزم نے اس طرح لکھا ہے رسوال اللہ ﷺ نہ بہت لمبے تھے نہ پست قد بلکہ آپ کا قد مبارک درمیانہ تھا۔ رنگ کے اعتبار سے آپ نہ بالکل سفید تھے نہ گندم گوں، بلکہ رنگ سفیدی کے ساتھ سُرخی لیے ہوئے تھا۔ چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن، چمکدار، سر کے بال نہ بالکل سیدھے تھے نہ بالکل پیچیدہ بلکہ ہلی سے پیچیدگی کے ساتھ گھنگریالے تھے۔
اعضاء کے جوڑوں کی ہڈیاں موٹی اور پُرگوشت تھیں، پلکیں سیاہ سُرمگیں۔ آنکھوں کی سفیدی میں باریک سرخ ڈورے، زندان مبارک خوبصورت چمکدار۔ذہین اعتدال کے ساتھ فراخ یعنی تنگ نہ تھا، ناک خوبصورت رفتار تیز تھی، چلتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ آپ ڈھلوا ن زمین پر اُتر رہے ہیں۔ جب آپ توجہ فرماتے تو پورے بدن کے ساتھ فرماتے یعنی صرف گردن پھیر کر متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ نگاہ اکثر نیچی رہتی تھی۔ہتھیلیاں پُر گوشت اور ملائم تھی۔ ایڑیوں میں گوشت کم تھا۔ ریش مبارک گھنی اور بال سیاہ تھے۔آپ کے پاؤں کے تلوے قدرے گہرے تھے سر کے بال زیادہ لمبے ہوتے تو کان کی لو تک یا شانے تک پہنچ جاتے تھے تو نصف کان کی لو تک یا شانے تک رہتے تھے آپ کے سر اور داڑھی کے بال بیس سے زیادہ سفید نہ تھے یعنی گنتی کے بال سفید تھے۔
آپﷺ کی عمر بیس برس تھی۔ جب جنگ فجار پیش آئی جو قریش اور قیس کے قبیلے کے مابین ہوئی۔آپﷺ بھی اس میں شریک تھے بڑے زور کا معرکہ ہوا جس میں قریش غالب آئے لیکن آپ نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔جنگ فجار کے بعد پانچ قریشی قبائل بنو ہاشم، بنو المطلب،بنو اسد،بنو زہرہ اور بنو تیم کے درمیان ایک عہد نامہ طے پایا کہ ہم میں سے ہر شخص مظلوم کی حمایت کرے گا اور کوئی ظالم مکہ میں نہ رہنے پائے گا۔اس معاہدہ کو حلف الفغول کہاجاتا ہے۔ آپﷺ بھی اس معاہدہ میں شریک تھے۔
عرب کا ظہور اسلام سے ہزاروں سال پہلے سے تجارت پیشہ تھا۔آپ ﷺ کے چچا ابو طالب بھی تاجر تھے بچپن سے ہی آپﷺ ان کے ساتھ تجارتی سفر کر چکے تھے یوں جو ان ہوتے ہی آپﷺ نے بھی تجارت شروع کر دی۔آپ ﷺ معاملات میں حد درجہ امانت، سچائی اور پرہیز کے لیے مشہور تھے۔اسی لیے آپ کا لقب ہی امین پڑ گیا تھا۔ آپ نے ایک شخص کا تین دن تک وعدے کے مطابق انتظار کیا۔جب تیسرے دن وہ شخص آیا تو آپﷺ کو اُسی جگہ پایا۔ آپﷺ نے اس خلاف وعدہ کی پیشانی پر بل تک نہ آیا صرف اس قدر فرمایا کہ تم نے مجھے زحمت دی میں تین دن سے اس مقام پر انتظار کر رہا ہوں۔
آپﷺ کی شہرت سن کر حضرت خدیجہ ؓ نے تجارت کے لیے اپنے مال کی پیش کش کی اور کہا کہ وہ آپ کو سب سے اچھی اجرت دیں گی۔حضرت خدیجہ ؓ قریش کی سب سے معزز خاتون تھیں اور کاروبار میں بڑا نام تھا۔آپ ﷺ نے پیشکش قبول کی اور ان کے غلام میسرہ کے ساتھ ملک شام کا سفر کیا تجارت سے خوب نفع ہوا۔
جب آپ مکہ واپس تشریف لائے اور حضرت خدیجہ ؓ نے جب اپنے مال میں امانت و برکت دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی اور غلام میسرہ نے آپ کے بلند اخلاق بتائے تو حضرت خدیجہ ؓ نے محسوس کیا کہ ان کا گوہر مراد انہیں مل گیا ہے چنانچہ اپنی سہیلی کے ذریعے شادی کا پیغام بھیج دیا۔ آپ ﷺ نے قبول کر دیا۔اس وقت آپﷺ کی عمر 25سال تھی جب کہ حضرت خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی۔ جو نسب و دولت سوجھ بوجھ کے لحاظ سے اپنی قوم کی سب سے معزز اور افضل خاتون تھی بڑے بڑے سردار اور رئیس شادی کے خواہاں تھے۔آپﷺ سے شادی ہوئی۔یہ آپ ﷺ کی پہلی بیوی تھی ان کی وفات تک آپﷺ نے کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی۔ابراہیم کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی تمام اولاد انہی کے بطن سے تھی سب سے پہلے قاسم پیدا ہوئے پھر زینبؓ، رقیہؓ، ام کلثومؓ، فاطمہؓ اور عبداللہ پیدا ہوئے۔ آپﷺ کے سب بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے البتہ بچیوں نے اسلام کا زمانہ پایا۔ مسلمان ہوئیں لیکن حضرت فاطمہ ؓ کے سوا باقی سب کا انتقال آپﷺ کی زندگی ہی میں ہو گیا۔ حضرت فاطمہ کی وفات آپ ﷺ کی رحلت کے چھ ماہ بعد ہوئی۔
آپ ﷺ کی عمر کا پینتیسواں سال تھا کعبہ کی اونچی دیواریں جو چھت کے بغیر تھی بارش کے پانی سے عمارت کو نقصان ہواتھا۔ اس لیے موجودہ عمارت ڈھا کر نئے سرے سے عمارت بنانے کا پروگرام بنایا گیا تمام قریش نے مل کر تعمیر شروع کی ہر قبیلہ کا الگ الگ حصہ مقرر کیا گیا تاکہ کوئی بھی سعادت سے محروم نہ رہے۔
رسول اللہ ﷺ بھی پتھر ڈھو رہے تھے تعمیر کا کام باقوم نامی رومی معمار کر رہا تھا چونکہ مال اتنا جمع نہ ہو سکا کہ عمارت حضرت ابراہیم ؑ کی بنیادوں پر مکمل کی جا سکتی اس لیے ایک طرف سے زمین چھوٹی سی دیوار اُٹھا کر چھوڑ دی گئی جو کعبہ کا حصہ ہے۔یہی حصہ ہے جس کو آج حطیم کہتے ہیں۔
جب کعبہ کی دیوار اٹھ چکی اور ”حجرِاسود“ کو رکھنے کا موقع آیا تو جھگڑا اُٹھ کھڑا ہوا جو چار پانچ روز تک جاری رہا ہر سردار یہ شرف حاصل کرنا چاہتا تھا نوبت خون خرابہ تک پہنچ گئی۔ایسے میں عمر رسیدہ ابو امیہ نے فیصلہ کی صورت یوں رکھی کہ جو شخص کل سب سے پہلے مسجد حرام کے دروازے سے داخل ہو گا وہی ثالث قرار دیا جائے گااس پر اتفاق ہو گیا۔ اللہ کی مشیت صبح جو شخص سب سے پہلے داخل ہوا ہو آپﷺ تھے۔ رحمت عالم ﷺ نے اس شرف سے تنہا بہرہور ہونے کے بجائے ایک چادر پر حجرِ اسود کو رکھ کر تمام قبائل کے سرداروں کو کہا کہ چادر کے کونے تھام لیں اور اوپر کواٹھائیں جب چادر برابر آ گئی تو آپﷺ حجر اسود کو اٹھا کر نصب فرمادیا یہ گویا اشارہ تھا کہ دین الٰہی کی عمارت کا آخری تکمیلی پتھر بھی ان ہی کے ہاتھوں سے نصب ہوا۔
عمر کے چالیس سال عرب کی اس سرزمین پر گزارے جہاں تاریکی تھی تہذیب و شائستگی کی روشنی نہ تھی۔ملک میں نہ کوئی تعلیمی ادارہ تھا نہ لائبریری تھی اور نہ ہی لوگوں کو تعلیم، علوم و فنون سے دلچسپی تھی۔ گنتی کے چند لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اعلیٰ درجے کی زبان تو موجود تھی لیکن معلومات محدود تھیں تہذیب و تمدن میں پست خیالات اور عادات میں جہالت اور وحشت تھی۔ حکومت نام کی کوئی چیز نہ تھی۔جنگل کا قانون تھا۔ ہر قبیلہ اپنی جگہ خود مختار تھا جس کی لاٹھی اُسی کی بھینس کا قانون چلتا تھا۔
اخلاق کی پستی کا یہ حال تھا کہ پاک اور ناپاک، جائز اور ناجائز کی تمیز سے ناآشنا تھے۔ زنا، شراب،جوا، رہزنی اور قتل و خونریزی انکی زندگی کے معمولات تھے۔ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف برہنہ ہو جاتے تھے حتیٰ کہ انکی عورتیں ننگی کعبہ کا طواف کرتی تھیں۔ بچیوں کو اپنے ہاتھوں سے زندہ دفن تک کر دیتے، نکاح کی کوئی حد نہ تھی، بُت پرستی عروج پر تھی کعبہ تک میں بت رکھے ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد ہونے کا لحاظ کم ہی لوگوں میں باقی تھا۔ایسے ماحول میں آپﷺ بچپن سے ہی پاک دامن تھے۔ جوانی اور پختگی کی عمر میں آپ کی خوبیاں اور نکھر کر سامنے آئیں، آپ بہترین اخلاق اور عمدہ عادات کے مالک تھے۔کبھی جھوٹ نہیں بولا۔آپ کی صداقت پر ساری قوم گواہی دیتی تھی۔ بدترین دشمن نے بھی کبھی آپ پر الزام نہیں لگایا کہ جھوٹ بولا ہو یا بدکلامی کی ہو یا گالی دی ہو یا فحش کلامی کی ہو۔ آپ کی زبان میں شیری تھی کبھی کسی کی حق تلفی نہیں کی۔ساری قوم آپ کو امین کہتی تھی اپنے قیمتی مال آپ کے پاس رکھواتے جس کی پوری حفاظت فرماتے۔حیا ایسی تھی کہ ہوش سنبھالنے کے بعد کسی نے برہنہ نہیں دیکھا۔ شراب اور جوئے کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔ بدتمیزی اور گندگی سے نفرت کرتے،نرم دل دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہوتے یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرتے مسافروں اور مہمانوں کی میزبانی کرتے لڑائیوں سے دامن بچائے رکھتے۔بُت پرستوں کے درمیان سلیم الفطرت، کسی مخلوق کے آگے سر نہ جُھکایا، شرک اور مخلوق پرستی سے نفرت کرتے۔ چالیس سال تک گھٹا ٹوپ اندھیرے میں شمع کی طرح روشن انسان قوم کے حالات سے پریشان اوررنجیدہ ہو کر الگ تھلگ رہنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے وہ جہالت، بداخلاقی، بدکرداری اور بت پرستی کے ماحول سے دور جانا چاہتے ہیں۔ روزے رکھ رکھ کر روح کو پاک صاف رکھنے کا اہتمام کرتے۔ اور مکہ سے دو میل دور جا کر کوہِ حرا کے غار میں رہنے لگے(حرا پہاڑ اب جبلِ نور کے نام سے مشہور ہے)اور زیادہ وقت عبادت(غور وفکر) میں گزارنے لگتے ہیں۔اسی خلوت کے دوران خواب آنا شروع ہوتے ہیں جیسا دیکھتے ہیں ویسا پیش آتا ہے جو حقیقت میں نبوت کی ابتدا تھی۔
آپﷺ کی عمر مبارک کا اکتالیسواں سال چل رہا ہے غار حرا کی تنہائی میں حسب معمول عبادت میں مشغول ہیں اچانک حضرت جبریل ؑ آتے ہیں کہیے اقراء پڑھ یوں نبوت کا آغاز ہوتا ہے۔ زندگی کے مثالی پاک صاف 40سال گزارنے والے کو اللہ تعالیٰ نبوت سے سرفراز فرماتا ہے تو دعوت کے آغاز سے قوم اس کی مخالف ہو جاتی ہے ظلم و جبر کا ہر ہتھکنڈا استعمال کرتی ہے قتل تک کے منصوبے بنتے ہیں، خون میں لت پت کر دیا جاتاہے الزامات کی بارش کی جاتی ہے دنیا کی بڑی بڑی آفرز کی جاتی ہیں تمام حربوں کے باوجود صبر و استقامت کا پہاڑ 23سال کی جدوجہد کے بعد ایسا انقلاب برپا کر دیتا ہے کہ دنیا ششدر رہ جاتی ہے۔ اندھیرے ختم کر کے اجالا کر دیتے ہیں دنیا کی تاریخ میں ایسا انقلاب کبھی آیا اور نہ آسکتا ہے۔ آپﷺ کی اس 23سالہ زندگی کو تفصیل سے پڑھنے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج دنیا ایک بار پھر ظلم و بربریت نا انصافی بندوں کی خدائی اور طبقات میں تقسیم ہے ادھر ادھر کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں واحد راستہ محمد ﷺ کا انقلابی راستہ ہے مسلمانوں کو بلخصوص اپنے آقا ﷺ سے محبت اور اطاعت کا راستہ اختیار کیے بغیر دنیا اور آخرت کی سرخروی حاصل نہیں ہو سکے گی اس لیے ضرورت اس امر کی ہے اللہ کی کتاب یعنی قرآن اور محمدﷺ کی سیرت کو سمجھا جائے اس کے مطابق انفرادی و اجتماعی زندگیاں گزاری جائیں اسی میں کامیابی اور نجات ہے ورنہ محض ایمان و محبت کے دعوے کسی کام نہیں آئیں گے۔اللہ ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کی سچی محبت و اطاعت نصیب فرمائے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں