5

تنازعہ کشمیر پرسیاسی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر، جارحانہ اقدام اٹھانا ہوگا، وزیر اعظم

اسلام آباد(پرل نیوز)ایوان صدر اسلام آباد میں وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی مختصر اورجامع گفتگو نے حاضرین مجلس کو خوب متاثر کیا، وزیر اعظم سردار تنویر الیاس میں قومی لیڈر کی جھلک واضح طوپر نظر آئی،کشمیریوں کی جد و جہد کو ”تکمیل پاکستان کی جنگ”قرار دیا۔سید علی شاہ گیلانی،یسین ملک اور دیگر حریت رہنماوں کی بے مثال جدو جہد کو خراج تحسین پیش کیا وہیں کشمیری پنڈتوں اور وہاں پر آباد دیگر مذاہب کے لوگوں کی بھی بھرپور ترجمانی کی اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کو وجہ نزع قرار دیا۔وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان نے کہا کشمیر کے حوالے سے ساری سیاسی قیادت کا ایک ساتھ بیٹھنا اور پالیسی کا تعین کرنا ضروری ہے۔ہماری حکومت میں 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نو ممالک کے سفراء کے ہمراہ آزاد کشمیر آئے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کا خصوصی تشخص ختم کیا،یسین ملک جیسے بیمار اور معزور رہنماء کوجیل میں سزا سنائی،سید علی گیلانی ایسے مدبر رہنمائجو دنیا بھر میں جاری آذادی کی تحریکوں کے لیئے باعث تقویت تھے انکے جنازے کی توہین کی گئی اور بزرگی کے آخری ایام تک نظر بند رہے۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان کے جارحانہ اقدامات مسلسل بڑھ رہے ہیں،جی 20 کانفرنس کشمیر میں بلائی گئی وہاں چین آگے نہ بڑھتا تو یہ کانفرنس ہو جاتی،ہم نے ان سے او آئی سی کے جدہ سیکرٹریٹ میں کشمیر کی نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا،تاکہ جب ہر روز صبح شام وہاں پر کشمیر کا نمائندہ نظر آئے گا تو انہیں کشمیریوں کی مظلومیت کا احساس ہو تا رہے گا۔کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے دیگر معاملات پر بھی غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیری آزادی کے حصول کے لیے ہر وہ قربانی دے چکے ہیں جو دنیا کی کسی بھی قوم نے آزادی کی تحریک کے لیے آج تک نہیں دی، ہمیں اس مسئلے پر اب جارحانہ قدم اٹھانے ہوں گے،کشمیر میں جاری مسلح جدوجہد کواقوام متحدہ کی قراردادوں،جنیوا کنونشن اور دنیا بھر میں موجود انسانی حقوق کی نمائندہ تحریکوں نے جائز قرار دیا ہے کیونکہ جد وجہد آزادی کا حق لینے کیلئے جاری ہے۔بھارت نے جارحیت کا یہی رویہ جاری رکھا تو اس کے جسم کے اتنے ٹکڑے ہوں گے کہ وہ چن نہ سکے گا لیکن دنیا کو خبردار رہنا چاہیے کہ غاصب بھارت کے اس جارحانہ رویے سے دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔بھارت کی بد ترین بر بریت کے باوجود کشمیریوں کے پایہ استقلال میں کوئی کمی نہیں آئی،ہمیں وزارت خارجہ سے مل کر یسین ملک کی سزا کے خلاف قدم اٹھانا ہو گا۔ ہم نے آزاد کشمیر کشمیر یونیورسٹی کو سید علی شاہ گیلانی کے نام سے منسوب کیا ہے، صدر پاکستان سے گزارش ہے کہ وفاق کی سطح پر کوئی ادارہ یا منصو بہ بھی سید علی شاہ گیلانی کے نام سے منسوب کر یں۔ کیونکہ سید علی شاہ گیلانی نے بستر مرگ پر ”ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے” کاجو نعرہ دیا وہ تا قیامت جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں