13

جنرل (ر)باجوہ اور حکومت نے مل کر میرے ساتھ غداروں، ملک دشمنوں والا سلوک کیا،عمران خان

لاہور(پرل نیوز)سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ایجنسیاں ہمارے لوگوں کو توڑ رہی تھیں لیکن جنرل(ر)باجوہ کہہ رہے تھے کہ ہم نیوٹرل ہیں، اب ساری چیزیں سامنے آ گئی ہیں، یہ منصوبہ 2021 کی گرمیوں میں بن گیا تھا،جنرل باجوہ نے پی ٹی آئی پر ظلم کیا، کہا آپ کے لوگوں کی ویڈیوز، فائلیں ہیں، اب تو ساری چیزیں سامنے آ گئی ہیں، شروع میں کافی شک تھا کیا ہو رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کے خلاف پارٹی بیانیے کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی ترجمانوں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو حکومت کی ناکامیوں سے متعلق آگاہی دی جائے، تباہ حال معیشت اور مہنگائی کے پس پردہ حقائق کو بھی عوام تک پہنچایا جائے۔ عمران خان نے ترجمانوں کو مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق موثر آواز بلند کی جائے اور ملک بھر میں ہونے والی مہنگائی ریلیوں میں عوام کو متحرک کیا جائے، عوام کو یہ بھی بتائیں انہوں نے کس طرح این آر او ٹو سے فائدہ لیا ہے۔ دوسری جانب نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ پلان پہلے ہی بن گیا تھا، اب تو ساری چیزیں سامنے آ گئی ہیں، شروع میں کافی شک تھے کہ کیا ہو رہا ہے، ہمیں سمجھ نہیں آرہا تھا ایک بات جنرل(ر) باجوہ کہتے تھے، ایک گراؤنڈ پر ہو رہی تھی، ایجنسز ہمارے لوگوں کو توڑ رہی تھیں لیکن جنرل(ر) باجوہ کہہ رہے تھے کہ ہم نیوٹرل ہیں، اب ساری چیزیں سامنے آ گئی ہیں، یہ منصوبہ 2021 کی گرمیوں میں بن گیا تھا۔ عمران خان نے دعوی کیا کہ کام شروع ہو گیا تھا، یعنی حسین حقانی کو ہماری حکومت میں ہائیر کیا گیا، اور اسے جنرل(ر) باجوہ نے ہائیر کیا، جس نے امریکا میں پوری مہم چلائی کہ عمران خان امریکا مخالف ہے، اور جنرل(ر) باجوہ کی تعریفیں کیں، حسین حقانی کی ٹوئٹ بھی ہے، ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ ہماری حکومت میں دفتر خارجہ کے نیچے حسین حقانی کو اکتوبر 2021 میں ہائیر کیا تھا، جب سے یہ سازش شروع ہوئی، اس کے ساتھ سی آئی اے کا بھی کوئی آدمی تھی، ہمارے دورے میں بطور لابسٹ ہائیر ہوا تھا وہ میرے خلاف امریکا میں کام کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہوا کیا؟ یہ کہنا شروع ہو گئے کہ میں جنرل(ر) فیض کو آرمی چیف لگانا چاہتا ہوں، میں نے اس حوالے کبھی سوچا ہی نہیں تھا، میں نے سنا کہ اس وجہ سے آرمی چیف بننے کی دوڑ میں شامل امیدوار میرے خلاف ہو گئے، مجھے اس کا بھی اندازہ نہیں تھا، یہ گیم چلائی گئی جس کی مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں