14

راولاکوٹ،قومی بچت بنک میں کیش ناپید،صارفین کو چکر لگوانامعمول،حکام سے نوٹس کا مطالبہ

راولاکوٹ(کرائم رپورٹر: پرل ویو) راولاکوٹ میں قومی بچت عوام کے لیے درد سر بن گیا،دوردراز سے آئے ہوئے لوگوں کو یہ کہہ کر تاریخیں دی جارہی ہیں کہ بنک میں پیسے نہیں دوماہ کے بعد آنا،عباسپور،کہوٹہ،پلندری،باغ اور دور دراز سے آئے ہوئے افراد واپس لوٹنے لگے،تفصیلات کے مطابق قومی بچت بنک کی بدمعاشی یا نااہلی،بزرگ اور معمر افراد جن کے ڈاکخانہ میں پیسے جمع تھے انکو ذلیل وخوار کیا جانے لگا،بزرگ شہری جو کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں بری طرح خوار کیا جاتا ہے اور انکو پہلی ترجیح پر لیے جانا دور انکو باہر بیٹھنے کی سہولت تک میسر نہیں جب انکی باری آتی ہے انکو یہ کہہ کر لوٹا دیا جاتا ہے کہ بنک میں کیش ہی نہیں بنک انتظامیہ سے جب اس بابت معلوم کیا گیا کہ تمام تر پراسیس ایک شہری کے پورا ہے پھر رقم کیوں نہیں دی جارہی تو اسے دوسرے ماہ کا ٹائم دیا گیا کیوں تو انکا موقف تھا کہ کیش ختم ہوگیا ہے اس لیے انھیں دوبارہ آنا پڑے گا چند ہزار کیلئے بارہا چکر لگانے پر عوام سیخ پاہیں ان کا کہناتھا کہ فی یوم صرف چالیس افراد کو ٹوکن جاری کیے جاتے ہیں اگر ان کے لیے بھی انکے پاس پیسے نہیں تو بنک کس نام کا ہے،صارفین نے اعلیٰ حکام،وزیر اعظم آزادکشمیر،چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ بنک انتظامیہ کے دہرے معیارکے خلاف کارروائی کی جائے اور حکام کو وقت پرپیسے دییے جائیں نہ کہ لوگوں کو خوار کیا جائے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس بنک میں معیار کاالگ ہی پیمانہ ہے اس پورے سٹاف کو تبدیل کرکے دیانتدار اور قابل رحم سٹاف کو تعینات کیا جائے،خیال رہے اس بنک کے خلاف عوام کی مسلسل شکایات رہتی ہیں،بیس نمبروں کی دوڑ کی وجہ سے لوگ رات بھر شدید سردی میں جاگ کرگزارتے ہیں اور جب ان کا پراسیس مکمل ہوتا ہے تو کیش نہیں ہے کا بہانہ بناکر عوام کو ذلیل وخوار کیا جاتا ہے،خیال رہے ماضی میں بھی اس بنک کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوچکے ہیں ادھر ذی شعور طبقہ نے اس بنک کے خلاف سختی برہمی کااظہار کرتے ہوئے احتجاج کی بھی دھمکی دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں