12

رواں مالی سال،5 ماہ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی،دفاع پر 2200 ارب روپے خرچ

اسلام آباد(پرل نیوز)رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران بجٹ کی صرف دو مدوں یعنی قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاع پر 2.2 ٹریلین (2200 ارب) روپے خرچ ہوگئے جو وفاقی حکومت کی کل خالص آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال جولائی تا نومبر کے دوران وفاقی حکومت پر واجب الادا 50 ٹریلین(50,000 ارب) روپے کے قرضوں پر سود کی لاگت میں 83 فیصد کا تشویشناک اضافہ ہوا۔وزارت خزانہ نے تقریباً 1.7 ٹریلین روپے قرضوں پر سود کی مد میں ادا کیے، یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 763 ارب روپے یا 83 فیصد زائد ہے، اسی طرح ریٹائرڈ فوجیوں کی پنشن اور مسلح افواج کے ترقیاتی پروگرام کے اخراجات کو چھوڑ کر پانچ ماہ میں 517 ارب روپے دفاع پر خرچ کیے گئے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 112 ارب روپے یا تقریباً 28 فیصد زیادہ ہے۔قرض کی ادائیگی اور دفاع پر مجموعی اخراجات 2.2 ٹریلین روپے رہے جو کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی سے بھی زائد (107 فیصد کے برابر) ہیں۔ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ان کے حصے کی ادائیگی کے بعد وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 2.04 ٹریلین روپے تھی۔قرضوں کی ادائیگی اور دفاع پر 2.2 ٹریلین روپے کے بھاری اخراجات کے مقابلے میں صرف 119 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔ ترقیاتی اخراجات گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 133 ارب روپے یا 53 فیصد کم رہے۔ وفاقی حکومت کے دیگر تمام اخراجات 1.15 ٹریلین روپے تھے، جو کہ پچھلے سال کی بہ نسبت160 ارب روپے یا 12 فیصد کم ہیں۔قرض کی ادائیگی پر بے قابو اخراجات اور گردشی قرضوں میں کمی کے منصوبے پر مکمل عملدرآمد میں ناکامی کے نتیجے میں حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والے سالانہ بنیادی بجٹ خسارے کا ہدف حاصل نہ کرپائے گی۔ وفاقی بجٹ کا خسارہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں 1.43 ٹریلین روپے سے زائد ہو گیا۔وفاقی بجٹ کا خسارہ (اخراجات اور محصولات کے درمیان فرق) جی ڈی پی کے 1.7 فیصد کے برابر ہے۔ رواں مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کے کل اخراجات 3.46 ٹریلین روپے تک جاپہنچے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد یا 570 ارب روپے زیادہ ہیں۔رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں یعنی جولائی تا نومبر کے دوران کل اخراجات کا 63 فیصد صرف دو مدوں قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاع پر خرچ ہوا، جس کے باعث ملک وقوم کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے بہت کم فنڈز حکومت کے پاس باقی بچے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں