82

محمدﷺ کی نبوت کا آغاز شفقت ضیاء


حضرت عائشہؓ وحی کے آغاز کے واقعہ کو اس طرح بیان فرماتی ہیں رسول اللہﷺ پر وحی کی ابتدا نیند میں اچھے خواب سے ہوئی۔آپﷺ جو بھی خواب دیکھتے تھے وہ سُپیدہ صبح کی طرح نمبردار ہوتا تھا پھر آپﷺ کو تنہائی محبوب ہو گئی چنانچہ آپﷺ غارِ حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی روز گھر تشریف لائے بغیر مصروف عبادت رہتے ۔ اس کے لیے آپﷺ توشہ لے جاتے پھر (توشہ ختم ہونے پر) حضرت خدیجہؓ کے پاس واپس آتے اور تقریباََ اتنے ہی دنوں کیلئے پھر توشہ لے جاتے یہاں تک کہ آپﷺ کے پاس حق آیا اور آپﷺ غار حرا میں تھے یعنی آپ ﷺ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا پڑھو! آپﷺ نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔آپﷺ فرماتے ہیں کہ اس پر اس نے مجھے پکڑ کر زور سے دبایا کہ میری قوت نچوڑ دی۔ پھر چھوڑ کر کہا پڑھو۔میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔اس نے دوبارہ پکڑ کردبایا۔ پھر چھوڑ کر کہا پڑھو میں نے پھر کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اس نے تیسری بار پکڑ کر دبایا پھر چھوڑ کر کہا ’اقراء باسم رَبِّکَ الذِی خَلَق۰ خَلَق الاِنسَانَ مِن عَلَق۰اِقرَاوَ رَبُّکَ الاَکرَم۰الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم ترجمہ :۔پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔پڑھو اورتمہارا رب نہایت کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم دیا، انسان کو وہ بات سکھائی جسے وہ جانتا نہ تھا‘‘۔
ان آیات کو لے کر رسول اللہﷺ پلٹے، آپﷺ کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔حضرت خدیجہ ؓ کے پاس پہنچ کر فرمایا مجھے چادر اوڑھائو ۔انہوں نے آپ ﷺ کو چادر اوڑھائی یہاں تک کہ خوف جاتا رہا۔اس کے بعد آپﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کو واقعہ سناکر فرمایا مجھے اپنی جان کا ڈر لگتا ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے کہا اللہ کی قسم ! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ۔اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا آپﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، بے سہاروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، دردمندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تنگ دستوں کا بندوبست کرتے ہیں، مہمان کی میزبانی کرتے ہیں، اس کے بعد حضرت خدیجہؓ آپﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عربی زبان جانتے تھے اور تورات اور انجیل کے ماہر تھے۔ا نہوں نے آپﷺ سے واقعہ سن کر کہا یہ وہی ناموس(وحی لانے والا فرشتہ) ہے جو موسیٰ ؑ پر اُترا تھا۔
غارِ حرا میں پہلی وحی کے بعد چند روز تک وحی کا سلسلہ بند ہو گیا اس کی وجہ سے آپﷺ کو سخت رنج و ملال ہوا ،تاہم جلد ہی اپﷺ کا خوف جاتا رہا۔ جبرائیلؑ نے آپ ﷺ کو بتا دیا آپﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔آپﷺ کو یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ آپﷺ اللہ کے نبی بن چکے ہیں تو آپﷺ کا وحی کے لیے شوق و انتظار بڑھ گیا۔آپﷺ نے اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا کہ میں چلا جارہا تھا کہ مجھے اچانک آسمان سے ایک آواز سُنائی دی۔میں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں اس سے خوف زدہ ہو کر زمین کی طرف جھکا۔ پھر میں نے اپنے اہلِ خانہ کے پاس آ کر کہا مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔انھوں نے مجھے چادر اوڑھادی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یَااَیُّھَا المُدَثِّر۰قُم فَاَنذِر۰وَرَبُّکَ فَکَبِّر۰وَثِیَابَکَ فَظَھِّر۰وَالرَّجزَ فَا ھجُُر۰
اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے اٹھو اور خبردار کرو، اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور پنے کپڑے پاک رکھو اور گندگی سے دور ہو۔
ابتدائی وحی کے بعد یہ دوسری وحی تھی جس کے بعد نبی ﷺ دعوت و تبلیغ کے کام میں لگ گئے او ر سب سے پہلے اپنے گھر ،کنبے ، قبیلے اور دوست احباب کو دعوت کا کیا۔
آپ ﷺ نے لوگوں کو کہا کہ اللہ واحد ہے اور میں محمدﷺ اللہ کا نبی ہوں دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتے ہو تو اس دعوت کو قبول کرو۔ انسانی رشتوں میں قریب ترین دن کے اجالے اور رات کی تاریکیوں سے واقف بیوی حضرت خدیجہؓ سب سے پہلے آگے بڑھتی ہیں اور کہتی ہیں لبیک یا رسول اللہﷺ میں قربان آپ جو فرماتے ہیں سچ کے سوا کچھ نہیں آپ کے ساتھ بیوی کی حیثیت سے 15سالہ رفاقت ہے اُس سے پہلے آپ کو کاروبار میں ساتھ رکھ کر آزماچکی ہوں بلکہ اُس مثالی کردار و عمل کو اور بہترین اخلاق سے متاثر ہو کر ہی خود آپ کو شادی کا پیغام بھیجا تھا حالانکہ اُس وقت بڑے بڑے سردار اور رئیس مجھ سے شادی کی خواہش رکھتے تھے۔آپﷺ کی مثالی اور بہترین زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپﷺ اس قابل ہیں جنہیں اللہ نے اس کام کے لیے چنا ہے اس لیے میں اس دعوت کو قبول کرتی ہوں اس کے ساتھ ہی زندگی کے بہترین دوست جن کے ساتھ شب و روز گزرتے رہے ابو بکر صدیق ؓ آگے بڑھتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ آپ سچے انسان ہیں آپ کی دعوت قبول کرتا ہوں اور اب اس کام میں آپ کا بھرپور ساتھ دوں گا یوں حضرت خدیجہؓ پہلی خاتون اور حضرت ابوبکر صدیقؓ پہلے مرد ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ایک بیوی جوکاروبار کی وجہ سے مزید قریب ترین تھی اور دوسرا ایسا جگری دوست جو عمر میں صرف دو سال چھوٹے تھے آپ کے سب رازوں سے واقف تھے ا ن دونوں کا ایمان لانا آپﷺ کی سچائی کا بہترین ثبوت ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جو دل رکھتے، آنکھیں رکھتے اور سمجھنے کی صلاحیت اور جذبہ رکھتے ہوں۔جو اس سے محروم تھے وہ سرداری کے گھمنڈمیں انکار کرتے ہیں۔ تو ایسے میں ایک بچہ اٹھتا اور کہتا ہے اگرچہ کمزور اور چھوٹا ہوں لیکن جذبہ اور سمجھ میں کم نہیں ہوں اس لیے اس دعوت کو قبول کرتا ہوں یوں بچوں میں سب سے پہلے ایمان حضرت علیؓ لاتے ہیں جن کی عمر اس وقت دس سال تھی آپﷺ کے چچازادبھائی تھے آپﷺ کے پاس ہی رہتے تھے آپ نے بچوں کی طرح پالا تھا اُس نے بھی گواہی دے دی کہ میں جانتا ہوں کے آپ کس اخلاق اور کردار کے مالک ہیں۔آپ کے ساتھ جو رہتا تھا، یہ تیسری بڑی گواہی تھی قریب ترین رہنے والوں میں سے جو آپ ﷺ کے حق میں آئی تھی۔
دور جاہلیت میں غلام بنائے جانے والے زید بن حارثہ ؓ جنہیں حکیم بن حزام نے خریدکر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کو دے دیا تھا اور حضرت خدیجہؓ نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے حوالے کر دیا تھا۔جن کے والد کو اس بات کا علم ہوا کہ وہ آپ ﷺ کے پاس ہیں تو وہ حاضر ہوئے اور کہا کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیں آپﷺ نے زاید کو بلایا اور اختیار دیا کہ چاہے تو آپ کے پاس رہیں چاہے تو والد کے ساتھ چلے جائیں انہوں نے والد کے ساتھ جانے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں محمدﷺ کے ساتھ رہنے میں زیادہ خوش ہوں میں آپﷺ کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے اسی وقت آزاد کردیا یہ منظر دیکھ کر والد خوشی کے ساتھ واپس چلے گئے یہ نبوت سے پہلے کا واقعہ تھا۔ اب دعوت اُسی آزاد کردہ غلام حضرت زید کے کانوں تک پہنچی تو کو کیسے پیچھے رہ سکتے تھے جو پہلے ہی آپ کو باپ اور دیگر خاندان پر ترجیح دے چکے تھے فوری ایمان لاے، یوں یہ چوتھی گواہی تھی ایسے شخص کی جس نے غلامی کے دن بھی ساتھ گزارے تھے اور اُس وقت عرب میں غلاموں کے ساتھ رکھا جانے والا سلوک بھی دیکھا تو اورآپﷺ کی عظیم ہستی کے اخلاق کو بھی دیکھا تھا یوں ابتدائی طور پر یہ چار لوگ ایمان لائے جو آپ ﷺ کی شخصیت کو خوب جاننے والے تھے
دعوت کے اس کام میں جگری دوست ابوبکر ؓ بھی سرگرم ہو گئے اور آپﷺ کا دائیاں بازو بن گئے۔ آپ کی شخصیت بھی پاک دامن اور معزز تھی آپ کے اخلاق و کردار لین دین اور میل جول کی خوبیوں کی وجہ سے ان کے پاس ہر قسم کے لوگ آتے تھے آپ ان میں سے چن چن کے لوگوں کو دعوت دیتے جن میں سے بہت سے ایمان لائے ان میں عثمان بن عفانؓ، زبیر بن العوامؓ، عبدالرحمٰن بن عوفؓ، سعد بن وقاصؓ، اور دیگر نے اسلام قبول کیا ان ابتدائی لوگوں کی تعداد ایک سو تیس تک بتائی جاتی ہے جو اس خفیہ دعوت کے ابتدائی تین سالوں میں اسلام لائے۔
آپﷺ پر سورۃ مدثر کی ابتدائی آیات کی وحی کے بعد سے پہلی سورت جو نازل ہوئی وہ سورۃ فاتحہ ہے جس میں اہل ایمان کو حمد اور دعا کا طریقہ بتایا گیا۔ اللہ کی صفات کا تصور اور اچھے اور برے عمل کا نتیجہ بتایا گیا کہ دنیا میں اچھے عمل کرو گے تو آخرت میں اچھا بدلا پائو گے اللہ کی بندگی ہی کامیابی کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔رسالت شروع ہونے کے بعد آپﷺ اور آپ کے ساتھ خفیہ طور پر عبادت کرتے نماز کی چند رکعتیں صبح و شام ادا کرتے۔آپ ﷺ کتاب و حکمت کی تعلیم کے ذریعے صحابہ اکرم ؓ کو پاک صاف کرتے ان کے اخلاق کو پاکیزہ ، دلوں کو صاف، معاملات کی سچائی کی تربیت دیتے۔ا للہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑے اور ثابت قدم رہنے کی تلقین فرماتے یوں خفیہ دعوت کے تین برس گزرے جن کو قریش نے کوئی اہمیت نہ دی لیکن اب انھیں علم ہو گیا کہ اندر ہی اندر کام بڑھتا جا رہا ہے۔خطرہ محسوس ہو گیا کچھ لوگوں پر زیادتیاں بھی ہوئی لیکن مجموعی طور پر خاموشی تھی۔آپﷺ نے بھی ان کے جھوٹے معبودوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں