26

نیشنل کانفرنس کے نئے صدر کی کمان سنبھالنے کے بعد پارٹی کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں میں آئے گی تبدیلی: جانئے سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نئے صدر کی کمان سنبھالنے کے بعد پارٹی کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں میں کس طرح کی تبدیلی آئے گی اور PAGD پر اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ جانئے سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے۔

جموں وکشمیر: ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کی پیشکش کی تاکہ پارٹی کے اندر انتخابات کرائے جائیں۔ پارٹی کے نئے صدر کے کمان سنبھالنے کے بعد نیشنل کانفرنس کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں اور پارٹی کے دیگر غیر بی جے پی جماعتوں خصوصاً پی ڈی پی کے ساتھ سیاسی تعلقات کے حوالے سے کئی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی انتخابات کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق پارٹی صدر کے لیے نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ یکم دسمبر مقرر کی گئی ہے اور انتخابات 5 دسمبر 2022 کو ہوں گے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی انتخابات مکمل ہونے تک پارٹی صدر کے عہدے پر برقرار رہنے پر اتفاق کیا۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ پارٹی کا نیا صدر کسے منتخب کیا جائے گا لیکن ایسا لگتا ہے کہ فاروق عبداللہ کے بیٹے اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کا نیا صدر منتخب کیا جا سکتا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے صدر کی تبدیلی یقینی طور پر نیشنل کانفرنس کے مستقبل کے منصوبوں کو بدل سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے برعکس عمر عبداللہ دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ افہام و تفہیم کے بغیر اکیلے آگے بڑھنے کے لیے پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے۔ معروف سیاسی تجزیہ نگار پرکھشیت منہاس نے اس پیش رفت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ کی حکمت عملی میں بہت فرق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں