11

پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی راولاکوٹ سمیت تمام ترقیاتی اداروں کے سربراہان کی تقرریاں غیر آئینی،غیر قانونی قرار

مظفرآباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ آف آزادکشمیر نے تمام ترقیاتی اداروں کے سربراہان کی تقرریاں غیر آئینی،غیر قانونی قراردیتے ہوئے فارغ کردیئے۔ڈویلپمنٹ اتھارٹی مظفرآباد،میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی،پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی راولاکوٹ سمیت تمام اتھارٹیوں کے چیئرمین وڈی جی فارغ،جب تک حکومت رولز تیار کر کے نئے چیئرمین نہیں لگاتی اس وقت تک ترقیاتی اداروں کے چیئرمینوں کا چارج چیف انجینئرز/ یا سپرنٹنڈنٹ انجینئرز کو دیا جائے جبکہ دیگر اضلاع کی اتھارٹیوں کی سربراہی ایکسیئن کو دی جائے،سپریم کورٹ کے فل کورٹ کا فیصلہ۔بینچ کی سربراہی چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کررہے تھے جبکہ بینچ میں سینئر جج سپریم کورٹ خواجہ محمد نسیم،جسٹس رضا علی خان اور جسٹس محمد یونس طاہر شامل تھے۔تفصیلات کے مطابق عدالت العظمیٰ میں چیئرمین ترقیاتی ادارہ میرپور ودیگر چیئرمینوں کی تقرریوں کے حوالے سے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کردیا گیا۔اپیل کنندگان کا استدلال تھا کہ ہائی کورٹ نے رولز بنانے کی ہدایت کی اور اس کے بعد اس کے مطابق رولز بنانے کے لیے معاملہ فورم کو بھجوایا مگر حکومت نے ابھی تک اس پر کوئی رولزنہیں بنائے،عدالت العظمیٰ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ تاحال حکومت نے ترقیاتی اداروں کے سربراہان کی اہلیت کے لیے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا،جس کے لیے ضروری ہے کہ تجربہ اور بغیر سیاسی وابستگی کے تعیناتیاں کی جائیں،ان اسامیوں پر گریڈ 20کے آفیسران کی تقرریاں ہونی چاہئیں۔مرکزی ترقیاتی اتھارٹیز جس میں مظفرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی،میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی راولاکوٹ سمیت دیگر اتھارٹیز میں کم از کم گریڈ 19کا افسر چیئرمین ہونا چاہیے۔وکلاء نے دلائل دیئے کہ ان بڑی اتھارٹیز کے چیئرمین کے لیے کوئی بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا اور نہ ہی اہلیت کا کوئی تعین کیا گیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ جب تک حکومت رولز نہیں بناتی اس وقت تک تمام سربراہوں کی تقرریاں غیر قانونی قرار دی جاتی ہیں اور وہ فوری طورپر برطرف کیے جاتے ہیں۔سیکرٹری قانون کو ہدایت کی کہ وہ تین ماہ کی مدت کے اندر ترقیاتی اتھارٹیز کے سربراہوں کی تمام پوسٹوں کے لیے رولز تیار کریں اور حکومت کے سامنے پیش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں