5

کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر بھارت سے مذاکرات بامعنی نہیں ہونگے،وزیرا عظم

اسلام آباد(پر ل نیوز)وزیراعظم آزادکشمیر سردارتنویر الیاس خان نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی طرف سے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دینے کے رد عمل میں کہا ہے کہ ہم ایک نظریے کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی ہیں،پاکستان ہماری منزل ہے جس کا تعین ہمارے اجداد نے 1947ء میں کردیا تھا۔اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے، ہندوستان نے ہمیشہ وعدہ خلافی کی اور قراردادوں کی نفی کی،کشمیریوں کے بغیر بھارت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات بے معنی ہوں گے۔جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا خطہ میں امن بھی قائم نہیں ہوسکتا۔ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے مخالف نہیں تاہم یہ تعلقات کشمیریوں کی قیمت پر نہیں ہونے چاہیے، کشمیری عوام نے تکمیل پاکستان کے لیے طویل جدوجہد کی ہے اور صبر آزما قربانیاں دی ہیں۔جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، یہ ڈیڑھ کڑور انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،مسئلہ کشمیر دراصل تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے جسے ہر قیمت پر مکمل کیا جانا چاہیے۔وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے، گزشتہ 75سال سے ہندوستانی حکومت کی وعدہ خلافیاں خطے کے امن کو انتہائی سنگین خطرات سے دو چار کرچکی ہیں۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ کشمیری قوم نے آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی ہے،ہماری آزادی کی منزل 1947ء میں اجداد نے طے کی تھی،مسلم اکثریتی ریاست کے طورپر اس خطہ کے عوام نے پاکستان کو اپنی منزل قرار دے رکھا ہے اور اس منزل کے حصول کے لیے جدوجہد کی جارہی ہے۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ مذاکرات کی آڑ میں کشمیریوں کی جدوجہد آزدای کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان کا کوئی بھی حربہ کشمیریوں کا جذبہ آزادی سرد نہیں کرسکا۔75 سال گزرنے کے باوجود جدوجہد آزادی پوری آب وتاب سے جاری ہے۔5اگست 2019ء کے سانحہ کے باوجود ہندوستان کشمیر میں اپنے قدم جمانے میں ناکام ہے،کشمیری عوام نے کبھی بھی ہندوستان کا ناجائز قبضہ قبول نہیں کیا اور آج بھی اس ناجائز اور جبری قبضہ کے خلاف نہتے کشمیری عوام صبر واستقلال کے ساتھ نمبرد آزما ہیں۔جان ومال،عزت اور عصمت کی قربانیاں دینے کے باوجود کشمیری ہندوستان کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کے مابین تنازعات حل کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم کشمیر کا مسئلہ حق خود ارادیت کی بنیاد پر ہی حل ہوسکتا ہے اور یہ حق خود ارادیت اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔کشمیر پر اس سے پہلے بھی کئی طرح کے فارمولے اور تجاویز سامنے آچکی ہیں مگر ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے پہلے کشمیریوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور ایسے کوئی بھی مذاکرات جن میں کشمیری شامل نہ ہوں دیر پا اور قابل عمل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں کے بغیر ہونے والے مذاکرات قابل عمل یا قابل قبول ہوسکتے ہیں۔ہم نے طویل جدوجہد کی ہے اور ہماری جدوجہد منزل کے حصول تک جاری رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں