تازہ ترین


نیلہ بٹ میں کیا ہوا؟


نیلہ بٹ میں کیا ہوا؟ شفقت ضیاء تحریک آزادی کشمیر میں ہر طبقے، علاقے ،قبیلہ کے لوگوں نے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیںجس کے نتیجے میں آزادکشمیر کا خطہ آزادہوا۔ سیاسی اور عسکری قیادت دونوں نے اپنا اپنا بھرپور کردار اد ا کیاتاہم سیاست کے میدان میں سردار محمد ابراہیم خان اور عسکری محاذ پر کیپٹن حسین خان شہید کا مقابلہ کسی اور سے نہیں کیا جاسکتا۔ بدقسمتی سے آج اپنے ذاتی مفادات کے لیے بیرون ملک بیٹھے کچھ نام نہاد ددانشور جن میں باشانی نامی شخص بھی شامل ہے ،جو انڈین چینل پر بیٹھ کر زہر اگلتا ہے، سیاسی وعسکری قیادت پر تنقید کرتاہے، ہندوئوں کا ہمدرد بن کر اُن پرظلم کے قصے سناتاہے، جس کی وجہ سے ہندوستان کے چینل بھی اُس کو وقت دیتے ہیں۔مسلمانوں پرجو ظلم اور بربریت ماضی میں ہوا یا آج ہو رہاہے اُس پر بات کر نے کی بجائے اپنی گھڑی ہوئی کہانیاں سنائی جاتی ہیںجس کے مقابلے میں درست تاریخ اور تحریک کو پڑھانے، بتانے کا کام آزادخطہ میں حکومتوں کے مزے لینے والے کرنے کے بجائے آزادکشمیر میں اپنی مرضی ومنشاء اور تعلقات کو خاطر میں لاتے ہوئے قوم کو بالخصوص نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ آزادکشمیر میں حکومتوں نے ایک طرف اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاریخ کو اپنی پسند اور مرضی کی مطابق ڈالنے کی کوشش کی اور دوسری طرف کچھ لوگوں نے موقع ملنے کے باوجود درست تاریخ بتانے اور مرتب کرانے کے بجائے اتنا کہنے پر اتفاق کیاکہ تاریخ کو کوئی بدل نہیں سکتا، حقائق کو چھپایانہیں جاسکتا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بہت کچھ بدل گیا ۔ تحریک آزادی کشمیر طویل بھی ہے اور قربانیوں کی اپنی مثال آپ بھی ہے ۔ زندہ کھالیں کھینچوانے اور پوری ریاست کو 75 لاکھ روپے نانک شاہی میں فروخت کرنے کی مثالیں قائم ہونا شامل ہیں۔ اس جدوجہد کا ہر ورق سنہری حروف کے ساتھ لکھنے اور ہر تاریخ کو تاریخی حیثیت حاصل ہے لیکن کچھ تاریخیں ایسی ہیں جنہیںبھلایا نہیں جاسکتا ،بالخصوص وہ دن جب لوگوں نے اپنی جانیں دیں اور آزادی کی خاطر شہادتوں کو گلے لگایا ،جن کی قربانیوں کی وجہ سے یہ خطہ آزاد ہوا ۔وہ سارے لوگ عظیم ہیں جنہوں نے 1947 میں کردار ادا کیا ،قربانیاں دیں ،ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا ، جو قابل تحسین ہیں ۔اللہ اُن کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔وزیر اعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس نے اس بار اعلان فرمایا کہ یوم نیلہ بٹ پرسرکاری چھٹی پورے آزادکشمیر میں ہو گی تو خیال تھا کہ وزیراعظم اس دن خود جلسے میں حاضر ہوکر شاید تاریخ کا کوئی ایسا واقعہ سنائیں گے جس سے معلوم ہوگا کہ نیلہ بٹ کی تاریخی حیثیت کیا ہے، جس طرح انھوں نے کچھ عرصہ پہلے یوم شہدائے کشمیر کی تاریخ بتاتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’جمعہ کی اذان کے ساتھ اتنے لوگوں نے قربانیاں دیں‘‘لیکن وہ خود تو جلسہ میںنہیں گئے البتہ ایک نئی سرکاری تعطیل کا اضافہ ضرور کر گئے بلکہ جو کام مسلم کانفرنس اقتدار میں رہنے کے باوجود نہ کر سکی وہ کام تحریک انصاف کے عنانِ حکومت میں وزیر اعظم تنویر الیاس نے کر دیا، یا کروا دیا گیا۔ وزیر اعظم خود وسائل سے مالا مال ہیں ،وہ ذاتی تعلقات کو ذاتی و سائل تک ہی رکھتے تو زیادہ اچھی بات ہوتی۔ سرکاری وسائل کا استعمال اور قومی خزانے کے نقصان کو درست فیصلہ نہیں کہا جاسکتا۔ ہماری معلومات کے مطابق 23 اگست 1947 کو نیلا بٹ کے مقام پر غربی باغ کا جلسہ عام ہوا تھا جس میں مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ریاست کا پاکستان سے الحاق کا اعلان کرے ورنہ ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ جس میں سردار عبدلقیوم خان نے ایک نوجوان رہنما کی حیثیت سے خطاب کیا اور کہا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر باغ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہوکر دبائو ڈالنا چاہئے، جس پر ان کی تحریک پرجلوس روانہ ہوا جسے ڈوگرہ فوج نے باغ داخل نہیں ہونے دیا، بنی پساری کے مقام پر لوگوں نے کیمپ لگالیا پھر 26 اگست کو ہڑاباڑی کے مقام پر جلسہ ہوا، جس پر فائر ہو ا اور 6 لوگ شہید ہوئے، جس کے بعد جلسہ منتشر ہو گیا، جس کی خبر ملنے پر راولاکوٹ میں ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں ڈوگرہ فوج کو مختلف مقامات پر الجھانے کا منصوبہ بنایا گیا اور 29 اگست 1947 کو دوتھان کے مقام پر پونچھ شہر سے براستہ راولاکوٹ ، با غ جانے والی فوج پر مجاہدین نے منصوبہ بندی سے حملہ کیا، جس سے ڈوگرہ فوج کو کافی نقصان ہوا اور پانچ مجاہدین شہید اور ایک زخمی ہوا ۔یہ پہلا باضابطہ منصوبہ بندی سے حملہ تھا۔ سردار عبدالقیوم خان جن کا تحریک آزادی کشمیر میں اہم کردار ہے، جنہوں نے 22 جون 1947 کو چوہدری حمیدا للہ قائم مقام صدر مسلم کانفرنس کے دورہ راولاکوٹ کے موقع پر پہلی بار اعلیٰ سطح کے کنونشن میں شرکت کی تھی۔ اُن کی کوششوں اور قیادت میں تحصیل باغ کو ڈوگرہ فوج سے آزادکرایا گیا۔ انھوں نے خود بار بار کہا کہ میر امجاہد اول کا دعویٰ نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ پہلی گولی نہیں چلائی ہے ،اس کے باوجودنیلہ بٹ کو سرکاری سطح پر بنانا سمجھ سے بالا ہے ۔اگر سرکاری تعطیلات کا زیادہ ہی شوق ہے تو اُن عظیم شہیدوں کے بے شمار دن موجود ہیں لیکن ایسے دن کو پورے آزادکشمیرمیں سرکاری چھٹی کر دینا اور غیر ضروری اہمیت دینا سمجھ سے باہر ہے جبکہ اس سے بہت زیادہ اہمیت کے دن بے شمار موجود ہیں۔ بالخصوص 15 اگست1947جب پاکستان کے قیام کی خوشی میں جشن منایاگیا اور راولاکوٹ میں دفعہ 144 کی دھجیاں اُڑائی گئیںجلسہ عام سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست کا پاکستان سے الحاق کرے ورنہ مسلم گارڈتیارہے، یوں کھل کر بغاوت کا اعلان کیا گیا۔ اسی وجہ سے،راوالاکوٹ کی سیاسی ٹیکری کو سابق وزیراعظم فاروق حیدر کے والد محترم حیدر خان نے دارلجہار قرار دیاتھا اور فاروق حیدر سے ہمیشہ یہی سنا کہ تحریک آزادی کا آغاز راولاکوٹ سے ہوا ،اب اطلاعات ہیں کہ آپ کے دستخط اُس اعلامیہ میں ہیں جس میں کہا گیا کہ آغاز نیلہ بٹ سے ہوا، موجودہ صدر ریاست برسٹر سلطان تو اسے ہمیشہ فراڈ کہتے رہے ہیں اور آج تک کبھی نیلہ بٹ نہیں گئے، شاید ایک وجہ یہ بھی ہو کے وزیراعظم اس دن کو اہمیت دے رہے ہیں لیکن کون انکار کر سکتا ہے کہ 15 اگست 1947ئ، 22 جون 1947ء مولوی اقبال خان پوٹھی مکوالاں راولاکوٹ کے گھر ہونے والے کنونشن، 18 اور19 جولائی 1947ٗ کا کنونشن اور دیگر کئی چھوٹے بڑے پروگرامات 23 اگست سے پہلے ہوئے ہیں وہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس لیے ہماری معلومات کے مطابق 23 اگست کو نیلا بٹ کے مقام پر ایک جلسہ ہوا تھا، جس سے پہلے بھی بہت سے جلسے ہوے اور تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہو چکا تھا۔ وزیر اعظم کی معلومات میں کچھ اور ہو تو برائے مہربانی قوم کو بتا دیں۔تاریخ کو بدلنے کی ناکام کوششیں کرنے والوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں،تعلقات ضرور پالیں لیکن اپنے خرچے پر! اسی میں سب کا بھلا ہے۔



انتیس اگست پہلا اقدامی جہاد


انتیس اگست پہلا اقدامی جہاد سردار محمد حلیم خان انتیس اگست کا دن برصغیر کی تقریباً تین سو سو سالہ تاریخ میں منفرد اور بے مثال مقام رکھتا ہے۔یہ بات محض اپنی خوش عقیدگی یا شہدا دوتھان کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے نہیں کہ رہا بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1857 کی جنگ آزادی سے لیکر 1947 تک برصغیر کے مسلمانوں نے معرکہ دوتھان کے علاوہ کسی مقام پر آگے بڑھ کر حملہ نہیں کیا۔1857 کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر میں اور اس سے قبل 1832 میں پونچھ میں سبز علی خان ملی خان شمس خان راجولی خان اور ساتھیوں کی مظلومانہ شہادت اور اس سے قبل سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل کی بالا کوٹ کے مقام پر شہادت کے بعد کشمیر سے لیکر بنگال تک مسلمانوں کی تیغ حریت ہمیں نیام میں ہی نظر آتی ہے۔ایسے حالات میں برصغیر کے سب سے ظالم مہاراجے کو للکارنے کے بعد عملاً اس کی افواج پر پہلا حملہ کرنا نوے سال بعد پہلا اقدامی جہاد تھاجو ایک بھرپور منصوبہ بندی اور نظریاتی جہت کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔اس سے دو ہفتے قبل پندرہ اگست 1947 کو راولاکوٹ میں مہاراجہ کی ریشہ دوانیوں کو بھانپتے ہوئے اس کی طرف سے الحاق پاکستان میں لیت و لعل پر اعلان بغاوت کر دیا گیا تھا۔اس دوران تین مزید اہم واقعات ہوے راولاکوٹ کے اعلان جہاد کے بعد لوگ سردار محمد اشرف کی قیادت میں منظم ہونا شروع ہوے ساتھ ہی یہ چنگاری تھوراڑ دھیرکوٹ اور باغ تک پھیلتی چلی گئی اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ صرف راولاکوٹ کے اعلان بغاوت کے نتیجے میں کس طرح سارے آذاد کشمیر میں مہاراجہ کی فسطائیت کے خلاف بغاوت ہو گئی تو وہ حالیہ واقعات سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ کس طرح راولاکوٹ سے پندرہویں ترمیم کے خلاف اٹھنے والی چنگاری شعلہ جوالہ بن کر پورے آذاد کشمیر میں پھیل گئی۔ یہ بات تو برسبیل تذکرہ اگئی۔ راولاکوٹ کے اعلان بغاوت کے بعد انتیس اگست سے قبل کچھ اہم واقعات ہوے تھوراڑ جسہ پیر کے مقام پر عوام نے ڈوگروں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا یہ ایمان افروز تقریب اس طرح منعقد ہوئی کہ درخت کے ساتھ قرآن پاک باندھا گیا اور تمام لوگ عہد جہاد کے طور پہ اس کے زیر سایہ گزرے تئیس اگست کو نیلا بٹ کے مقام پر پیر شمشاد شاہ گردیزی کی صدارت میں جلسہ ہوا مولانا مظفر ندوی صاحب نے شرکاء سے جہاد پہ بیعت لی اور سردار عبد القیوم خان نے بھی ایک نوجوان ریٹایرڈ فوجی کی حیثیت سے پرجوش خطاب اس وقت ان کی کوئی جہادی یا سیاسی پہچان نہیں تھی لیکن ان کی پرجوش تقریر نے شرکاء پر ویسا ہی اثر کیا جیسا غیر معروف عبدالقدیر کی تقریر نے سری نگر میں مجمع پر کیا تھا۔ ا چھبیس اگست کو ہڈا باڑی کے مقام پر ڈوگرہ فوج کی فائرنگ سے مولوی اللہ بخش شہید ہو گے ان واقعات کے بعد پونچھ شہر سے کرنل رام لعل کی قیادت میں ڈوگرہ فوج باغیوں کا قلعہ قمع کرنے کے لیے روانہ ہوئی۔ پونچھ شہر سے نکلتے ہی اس فوج نے قابض فوج کی حیثیت سے گھر گھر تلاشی اور لوٹ مارکا سلسلہ شروع کردیا۔ جہاں جہاں سے یہ فوج گزرتی گئی اس پاس کی بستیوں میں لوٹ مار کے ساتھ ہر قسم کے ہتھیار حتیٰ کہ سبزی کاٹنے والی چھری تک ضبط کردی۔دیہات کے نمبرداروں کی ڈیوٹی لگائی کئی ک کسی قسم کی نقل و حرکت اور اسلحہ کی رپورٹ ڈوگرہ فوج کو دی جائے۔ مجاہدین کے پاس بھی جاسوسی کا انتظام تھا انھوں نے اس قاتل گروہ کو قتل وغارت گری سے قبل ہی گردن سے دبوچنے کا فیصلہ کیا چنانچہ ہجیرہ سے یہ فوج آگے بڑھی تو مجاہدین نے دوتھان موجودہ یادگار کی جگہ اپنی پکٹ لگا دی۔جب ڈوگرہ فوج عین پکٹ کی سیدھ میں نیچے سے گزرنے لگی تو مجاہدین نے اس پر ہلہ بول دیا انھوں نے توڑے دار بندوقوں سے فائرنگ شروع کر دی اور پہلے سے جمع کیے گے بھاری پتھر اور چٹانیں بھارتی فوج پر لڑھکانا شروع کر دیں۔ درست اندازہ تو نہیں لیکن درندہ قابض فوج کا بھاری نقصان ہوا انکی خچریں اور سپاہی جدھر منہ اٹھابھاگ کھڑے ہوے۔ انھوں نے بوکھلاہٹ میں آٹومیٹک گنوں سے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ملت کے پانچ ستارے شمع آذادی پہ قربان ہو گے۔ جن میں سردار عطا محمد خان سردار سخی محمد خان باپ بیٹا سردار مصاحب خان سردار فقرالہ خان اور سردار روشن خان شامل تھے نوے سال کے بعد پہلی دفعہ ڈوگرہ فوج پر منظم اور با مقصد حملہ کیا گیا تھا اس حملے اور شہادتوں نے لوگوں میں جہاد اور شہادت کی وہ لو روشن کر دی جس نے آگے چل کر بارہمولہ اور کرنل ہدایت خان کی قیادت میں ریاسی تک ڈوگرہ فوج کو بھگا بھگا کے مارا۔اٹھارہ ماہ تک مجاہدین نے نہتے پونچھ شہر کے گردا گرد تمام چوٹیاں جن میں چاند ٹیکری خاکی ٹیکری اور چھجہ پہاڑی شامل ہیں ڈوگروں سے چھین کر پونچھ شہر کو اٹھارہ ماہ تک محصور رکھا۔اس دوران ہندوستان ہیلی کاپٹر کے ذریعے محصور فوج تک اشیاء ضرورت پہنچاتا رہا بعد میں جب مجاہدین سے ہتھیار رکھوا دیے گے تو مجاہدین کے فتح کیے گے علاقوں کو بھی سنبھالا نہ جا سکا۔چنانچہ راجوری مینڈھر پونچھ ہی نہیں خاکی ٹیکری اور چھجہ پہاڑی بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی ا۔ لیکن اس سب کا نکتہ آغاز معرکہ دوتھان ہی ہے اسی معرکے سے پھوٹنے والے جہاد کے نتیجے میں ساڑھے تیرہ ہزار مربع کلومیٹر آذاد کشمیر کا علاقہ آذاد ہوا اور یہی خبریں سن کر گلگت والوں نے بھی علم بغاوت بلند کر کے اٹھائیس ہزار مربع میل علاقے سے ڈوگرہ فوج کو مار بھگایا۔ یوں نوے سال کے بعد پہلا حملہ بھی ایک منفرد واقعہ ہے اور برصغیر کی تاریخ میں پچھلے تین سو سال میں آذاد کشمیر کا آذاد ہونا بھی منفرد واقعہ ہے کیونکہ تین سو سال سے برصغیر کے مسلمانوں نے سوائے آزاد کشمیر کے کوئی دوسرا علاقہ فتح نہیں کیا۔ اس کا بہت بڑا کریڈٹ شہداء دوتھان کو جاتا ہے کہ آذادی شہادت اور جہاد کی نئی داستان کے ابتدائی حروف ان کے خون سے لکھے گے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پہ چلتے ہوے بقیہ کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کی توفیق سے نوازے۔آمین



بلدیاتی ادارے اور ان کے انتخابات کیوں ضروری ہیں۔؟


بلدیاتی ادارے اور ان کے انتخابات کیوں ضروری ہیں۔؟ محمد حیات خان ایڈووکیٹ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہر کام ملک میں رائج قوانین کے مطابق طریقے سلیقے سے ایک سسٹم کے تحت ہونے سے عوام خوشحال زندگی گذارتے اور مطمن رہ کر روز مرہ کے معمولات بڑی خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں۔مگر ترقی پذیر ممالک اور خصوصاً پاکستان جیسے ملک میںجیسے کہ ہم آج کل دیکھ رہے ہیں۔حکمران صرف حکمرانی کرتے ہیں۔عوام پستے ہیں یا مساہل سے دوچار ہیں ان حکمرانوں کو اس سے غرض نہیں۔اور چونکہ حکمرانوں کا مطمع نظر صرف پیسہ بنانا ہوتا ہے اس لیے عوام یہ خواہئش کرتے ہیں۔کہ اگر انہیں بھی زندگی کی دوڑ میں اپنی روزمرہ کی زندگی گذارنے کے لیے عملی حصہ لینے دیا جائے تو شاہد انہیںآٹے میں نمک کے برابر کچھ ریلیف مل سکے۔اس کے لیے بلدیاتی ادارے ایک موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔جونوجوانوں کی گراس روٹ لیول پر سیاسی تربیت،اور دیہی و شہری علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے اور جمہوریت کی روح کے مطابق معاشرے میں بہتر کارکردگی سے اپنے مساہل کے حل میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔جہاں نئی سیاسی پود تیار ہوتی ہے وہاںوارڈ،یونین کونسل،اور ڈسٹرکٹ کونسل کی سطع پر محلے ،گائوں اور علاقے کے بنیادی مساہل جانتے ہوئے انہیں باہمی مشاورت سے بہتر انداز میں حل کر کے عوام کو ریلیف مہیا کرتے ہیں۔جبکہ برادری اور گائوں کے چھوٹے موٹے معاملات اور تنازعات اپنی حد تک ہی حل کر کے تھانے کچہری اور عدالتوں کے گورکھ دھندے میں جائے بغیر حل کر لیے جاتے ہیں۔اگر کوئی مصلحتاً اظہار نا کرے تو الگ بات ہے وگرنہ موجودہ سیاسی قیادت سے کسی بھی طرح کی بہتری اور اچھائی کی توقع رکھنا خام خیالی ہی نہیں نادانی اور کم عقلی ہے۔ہمیں پاکستان یا دیگر کسی کے معاملات کو پرکھنے کی ضرورت نہیں۔ہم خود جائزہ لیں کہ ہمارے نماہندے جنہیں ہم ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بیھجتے اورمسند اقتدار پر بیٹھاتے ہیں۔کیا دیانت دار ی سے اپنے فرائض پورے کرتے ہیں۔؟جواب ہے۔نہیں۔قطاً نہیں ۔بالکل نہیں۔ اصل میں یہ ہمارے حقیقی نماہندے نہیں ہوتے ۔اس لیے کہ ہم سے دولت کے زور پر یا وقتی قسمیں وعدے جھوٹے لارے لگا کر ووٹ لیتے ہیں۔اور پھر اس کی قیمت ریاست کے ترقیاتی فنڈز سے سکیمیں،حکومت سے روٹھ کر بڑی بڑی گاڑیاں دیگر مراعات،اپنے بچوں اور رشتے داروں کو نوکریاں دلوانا،ان کے بچے جب تعلیم کے آخری سال میں ہوتے ہیں تو ان کے لیے پہلے سے دفتر تیار ہوتے ہیں۔جو بڑی پہنچ والے ہیں انہوں نے امریکہ،یورپ اور کنیڈا کی دوہری شہریت لے رکھی ہوتی ہے۔اور یہاں آزاد کشمیر میں بطورمہمان رہ کر عوام پر احسان کرتے ہیں۔ان کے بچے پاکستان کے اعلیٰ کالجز اور یونیورسٹیز میں لاکھوںکی فیسیں دے کر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔اور جو سیاسی لوگ ہیں انہیں سونگھ کر پتہ چلتا ہے کہ کس کی حکومت بنے گی ۔یہ اپنا ضمیر جگا کر اس پارٹی کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔اور اپنے ذاتی مفاد حاصل کرتے ہیں۔اور منتخب ہونے والے ممبر نے قسم اٹھائی ہوتی ہے کہ حلقے میں اپنی پارٹی اوراپنے ووٹر کے سواء کسی دوسرے کا کام نہیں کرنا۔ایک حلقے میں چار پانچ امیدوار الیکشن میں حصہ لیتے ہیں۔جیتنے والا ۱۵ ہزار ووٹ لیتا ہے اور رنر آپ ۱۴۵۰۰ ووٹ لیتا ہے جبکہ دیگر بھی چار چار پانچ پانچ ہزار ووٹ لیتے ہیں۔اب جیتنے والے نے ۱۵۰۰۰ اور ہارنے والوں نے۲۵۰۰۰ ووٹ لیے ہوتے ہیں مگر جیتنے والا صرف انہی ۱۵۰۰۰ اپنے ووٹروں کے کام کرتا ہے۔اور یہ عملی طور پر ہوتا ہے۔اس کا گذشتہ ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں۔اور آج کی حکومت کا بھی ریکارڈ دیکھ لیں۔۔۔۔۔گذشتہ حکومتوں میں ہر ممبر اسمبلی یہ کہتاتھا کہ ایک ایک پائی صحیح جگہ پر لگا رہا ہوںتو راقم نے یہ عرض کیا کہ جناب آپ پانچ نہیں ایک سال کی ترقیاتی سکیموں کی تفصیل لکھ کر حلقے کے دو چار بازاروں میں لگائیں تاکہ آپ کی بات کی تصدیق ہو سکے۔مگر جواب نادارد۔پھر کچھ وقت کے بعد یاد دہانی کرائی مگر پھر بھی خاموشی اور ایک ہی جواب کہ ایک ایک پائی ٹھیک لگ رہی ہے۔پھر یہ سیاسی لیڈرز اپنے ذاتی کاموں کے لیے وزیراعظم کو ایک ہاتھ میں استعفیٰ اور دوسرے میں ذاتی کاموں کی لسٹ ( اس میں یہ مہاجرین سب سے زیادہ تیز واقع ہوئے ہیں) ہوتی ہے۔اور کام نکلوا لیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ابھی حالیہ آزاد کشمیر کے بجٹ میں پاکستان کی معاشی حالت اچھی نا ہونے کی وجہ سے سوچا گیا کہ بجٹ پرکچھ کٹ لگایا جائے۔تو آزاد کشمیر گورنمنٹ نے اودھم مچا دیا ۔اور ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ اگر پورے فنڈز نا ملے تو ملازمین کی تنخوائیں ادا نہیں کر سکتے۔جب فنڈز مل گئے تو پہلی فرصت میں پارلیمانی پارٹیز کے راہنمائوں کو نئی گاڑیاں لے کر دی گئی۔۔۔۔۔۔ہمارا صدر جب ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تودو درجن گاڑیوں کے پروٹو کول میں جاتا ہے۔اور وزیراعظم کے پروٹو کول میں ابھی پرسوں ہی میرپور میں بیالیس گاڑیاں تھیں۔یہ لوگ تو پتہ چلتا ہے کہ برونائی دارلسلام کے باد شاہ ہیں۔انہی لوگوں نے آزاد کشمیر میں پاکستانی جماعتوں کی فرنچائز بنا کر ایک تماشا لگا رکھا ہے۔ اور اس وقت ایوان میں بیٹھے پچانوے فیصد ممبران کو یہ معلوم نہیں کہ اس انقلابی اور عارضی حکومت کا کیا مقصد اور ذمہ داری تھی۔کوئی ن لیگ کے لیے لڑ رہا ہے۔کوئی بھٹو زندہ ہے کے نعرے لگا رہا ہے۔اور کوئی عمران خان کی فارن فنڈنگ کی چوری اور توشہ خانہ کے معاملے کا دفاع کرنے کے لیے اس کی تیاری میں مصروف ہے کہ کب حکم ملے تو اسلام آباد پر چڑھائی کر کے عمران خان کو بچائیں۔بیشک اس نے کیسی ہی کرپشن کی ہو۔اداروں کی ایسی تیسی کر رہا ہو۔مگر ہے تو عمران خان کہ ورلڈ کپ اکیلے جیت کے لایا تھا۔یہ ہے ہماری اصل حقیقت۔ ۔۔۔۔۔پھر پاکستان کے اداروں کی طرح آزاد کشمیر کے ادارے بھی کام نہیں کرتے ۔کہ جو آفیس میں آکر بیٹھتے پیں یہی غنیمت ہے۔ہے کوئی ہمت والا جو یہ دیکھ کر بتا سکے کہ آزاد کشمیر میں کتنے اٹھارویں گریڈ سے اوپر کے بیوروکریٹس ہیں اور کتنوں کی دوہری شہریت ہے۔؟۔۔۔۔۔کیا ہمارے لوکل گورنمنٹ کے ادارے پچاس فیصد بھی صحیح کام کر رہے ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ بڑی پوزیشنوں پر کام کرنے والوں کا تجربہ ہی زیرو ہوتا ہے۔وہ کسی نا کسی کے رشتے دار ہوتے ہیں۔بغیر تجربے کے کام کرتے ہیں اور آفیسوں سے باہر نکلناان کے لیے ناممکن ہو تا ہے تو سیکھیں کہاں۔؟ انہی دنوں میں پاک گلی کے نزدیک اور پانیولہ کے ساتھ سلائنڈنگ میں جو کام ہو رہے ہیں۔یہ کوئی ان پڑھ عام زمیندار بھی نہیں کرتا۔مگر دیکھے کون۔؟پہلی بات یہ کہ ادارے کے متعلقہ لوگوںمیں ٹیکنیکل نالج ہی نہیں۔وہ کام کیا دیکھیں۔جو قومی خزانے کے ساتھ سراسر ظلم اور مجرمانہ غفلت ہے۔اور باقی جو جو ۔۔۔۔کچھ ہوتا ہے یہ سب مخلوق جانتی ہے۔۔۔۔ٹریفک کا ایک ادارہ ہے۔اس کے لوگ کتنے ایفیشنٹ ہیں کہ سڑک پرجگہ جگہ اونچے اونچے ہمپس بنا کر بغیر مارکنگ کے چھوڑ دیتے ہیں۔ جو ڈرائیور کو بالکل دیکھائی نہیں دیتے ۔اور جب گاڑی اور خصوصاً موٹر سائیکل سواران جنپس سے گذرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوتے ہیں اور اکثریت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔تو ایک انتباہ جاری کرتے ہیں۔کہ سیفٹی کا خیال رکھا کریں۔اگر کوئی مہذب اور قانون کی حکمرانی والا ملک ہو تو ان بڑے آفیسران کو سزا وار ٹھہرائے۔مگر نہیں یہ آزاد کشمیر اور پاکستان ہے۔یہاں پانی مہنگا اور خون ارزاں ہے۔۔۔۔۔سنتے ہیں کہ یہاں پرائیس کنٹرول کمیٹیاں بھی ہوا کرتی ہیں۔اور ارباب اختیا رجو راولاکوٹ میں بیٹھتے ہیںیہ کبھی کبھار مہنیے میں ایک دفعہ مارکیٹ کا چکر تو لگا لیا کریں۔(کہ شہر یار آفریدی کی طرح آپ نے بھی اللہ کو جان دینی ہے) جہاںہر دکاندار کا اپنا ریٹ ہے۔ اسے پتہ ہے کہ کب کسی نے دیکھنا ہے انہیں جو مرضی کرے۔ ۔۔۔۔۔پنڈی ڈویژن جس کی سوا کروڑ آبای ہے۔ایک ڈی سی اور دیگر عملہ کام کرتا ہے۔یہاں پچاس لاکھ کی آبادی پر تین ڈویژنل کمشنر،دس ڈی سی،کئی درجن اے سیسز،کئی د رجن ایس پیز ،ڈی ایس پیز اور اسی طرح کے لاتعداد دوسرے ملازمین ہیں ۔اسی طرح دوسرے کئی ادارے ہیں ۔ جنگلات کا محکمہ ہے کیا یہ جنگل کی رکھوالی کرتے ہیں۔؟ ایک محکمہ تجدید جنگلات کا ہے ۔اور سالانا اعلان ہوتا ہے کہ اتنے کروڑ درخت لگائے ہیں۔جیسے عمران خان نے کے پی کے میں ہزاروں بیلین پودے لگائے ہیں۔کیا یہ محکمہ چند سو بھی دیکھا سکتا ہے۔تو ان سفید ہاتھیوں کی کیا ضرورت ہے ۔؟آزاد کشمیر میں ایک محکمہ مال بھی ہے ۔جو ایک زمیندار کو ’’فیس‘‘ لے کر اس کی اپنی زمین کی نقل دیتا ہے۔قانون یہ ہے کہ اگر کوئی مر جائے تو محکمے کا عملہ متوفی کے ورثا میں زمین کا انتقال کرے۔کیا آزاد کشمیر کی تاریخ میں کبھی اس پر عمل ہوا۔ ربیع اور خریف میں محکمے کے اہل کار گائوں میں جا کر کاشتی بھریں۔کیا ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ میں کبھی ایسا ہونا تو در کنار ایسے کرنے کا سوچا بھی گیا۔؟نہیں۔اگر کسی کے پاس کئی عشروں سے ایسا کوئی ثبوت ہو تو پلیز شیئر کر لیں تاکہ استفادہ کیا جا سکے۔نوے کی دہائی میں مسلم کانفرنس کی حکومت اور طارق فاروق وزیرمال تھے بڑے دعوے کئے کہ اس ٹینیور میں محکمہ مال کا ریکارڈکمپیوٹرائز کر کے ثواب دارین حاصل کروں گا۔کیا کچھ ہوا۔؟نہیں یہ صرف دعویٰ تھا۔جس نے نا ہونا تھا نا ہوا۔اور نا کبھی ہو گا۔جو خزانے پر بوجھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔اسی طرح کئی محکمے مثلاً زراعت کا محکمہ ہے ۔جس کی برانچیزمیں ڈائرکٹرز،اسسٹنٹ ڈائرکٹرز اور مکئی،گندم ،آلو،پیاز،سبزیاں،پھل فروٹس کے ایکسپرٹ سینکڑوں ملازمین ہیں۔جو میہنے کے بعد تنخواہ لیتے وقت سوچتے ہوں گے کہ کوئی پوچھے تو کیا بتائیں گے کہ ان کا کام کیا ہے۔؟ ۔۔۔۔۔اور محکمہ تعلیم کہ جو خزانے پر سب سے بڑا بوجھ ہے ۔کہ بلڈنگز اور اساتذہ تو ہیں مگر بچے نہیں۔کیوںکہ اساتذہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھاتے ہیں تو عوام کیوں سرکاری سکول میں بچے بھجیں۔جبکہ ان لیڈروں نے اپنے ووٹوں کی خاطر یہ بھاری بھر کم بوجھ اٹھا رکھا ہے۔اور ستم تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس پر آواز نہیں اٹھاتے۔جو قومی جرم ہی نہیں اللہ اور رسول کے نزدیک دیدہ دانستہ اس کوتائی کو دیکھ کر خاموشی اختیا ر کرنا گناہ عظیم ہے ۔مگر کئی سے کوئی آواز نہیں اٹھتی۔بعض خدائی خدمتگار بڑے دعوے کرتے ہیں مگر یہاں آ کر ان کی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔بہر حال ہر ایک نے اللہ کو حساب دینا ہے۔ ۔۔۔۔۔ آزاد کشمیر کے اس بیس کیمپ جو اب پیسے کمانے کا ایک کارخانہ بن چکا ہے کے ملازمین پر ٹوٹل سالانہ بجٹ جو ایک کھرب اور چالیس ارب کا ہے صرف پچیس ارب ترقیاتی (اس میں سے بھی نصف سیاسی لوگ ہڑپ کر لیتے ہیں)اور ایک کھرب پندرہ ارب ملازمین کی تنخوائوں اور دیگر مراعات پر جاتا ہے ۔اور حاصل وصول کیا ہے۔ان لیڈروں کی بلا سے۔انہیں بڑی بڑی گاڑیاں اور ہوٹرز چاہیے جو ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں۔جب دل کرے تو اسلام آباد کے پر فضا مقام پر کشمیر آزاد کرانے چلے جائیں۔یا پھر کشمیر کی آزادی کے لیے عمرہ کر نے کے لیے مکہ مکرمہ چلے جائیں۔ ۔۔۔۔۔عوام نے دیکھا ہو گا کہ زبانی تو سب کہتے ہیں مگر جے کے پی پی اور جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی جماعت بھی بلدیاتی انتخابات کرانے میں بالکل مخلص نہیں۔اور یہ انتخابات ہوں گے بھی نہیں۔کہ ان لیڈروں کی روزی روٹی بند ہوجاتی ہے۔لہذاٰ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام زور دیں پریشر بڑھائیں تاکہ یہ بلدیاتی الیکشن ہو سکیں۔اس میں بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کا ڈسٹرکٹ کونسلر بالکل حلقے کے اسمبلی ممبر کی طرح ہوتا ہے کہ وہ قسم کھا کے آتا ہے کہ اپنے پورے ٹینیور میں صرف اورصرف اپنے جماعتی لوگوں اور صرف اپنے ووٹروں کو ہی نوازے گا۔اس پر کچھ قد غن لگنی چاہیے کہ یونین کونسل کے کام باہمی مشاورت سے ہوں اور ڈسٹرکٹ کونسلر صرف اپنی جماعت تک محدود نا رہے۔ ۔۔۔۔۔یہ دیکھنا کہ یہ لیڈران کتنی کرپشن کرتے ہیں ۔قومی خزانہ شیر مادر سمجھ کر کس طرح ہضم کرتے ہیں۔اسے ایک ٹسٹ کیس سمجھ کر دیکھیں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔وہ یہ کہ (۱)نیلم جہلم پراجیکٹ کتنے میں شروع ہوا، ٹوٹل کتنا خرچہ ہوا،اس کا مکمل آڈٹ کرائیں۔(۲) ۲۰۰۵ئ؁ کے زلزلے میں کتنا نقصان ہوا۔کتنی امدا دملی۔ کتنی خرچ ہوئی۔اس کا مکمل حساب بالکل موجو دہے مگر ادارہ د ے گا نہیں۔کا آڈٹ کرائیں۔تو معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے یہ سیاست دان کیسے کیسے فن کار ہیں۔کس کس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔تو دیکھنے والوں کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔۔تو کیا یہ بلدیاتی الیکشن کرائیں گے سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو سر عام نیلام کریں گے۔یہ ڈیمانڈ کر کے تو دیکھ لیں تو ان کی پاکبازی ظاہر ہو جائے گی۔اور اسی طرح ہمیشہ فنڈز ہڑپ کیے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کی گورنمنٹ حساب مانگتی ہے تو شور اٹھتا ہے کہ کشمیر خطرے میں پڑ گیا ہے۔شروع سے آج تک جو آزاد کشمیر کو امداد ملتی رہی ہے اگر پچاس فیصد بھی لگتی رہتی تو پورے آزاد کشمیر میں سونے کی اینٹوں کی سڑکیں اور بلڈنگیں بن چکی ہوتی۔مگر کاش پوچھے کون۔؟ اس لیے کہ آج ایک کی باری ہے تو کل دوسرے کی۔۔۔اللہ پاک ہم پر رحم فرمائے۔آمین۔ثم آمین



’’ارقم‘‘… ’’محترم و محتشم‘‘


’’ارقم‘‘… ’’محترم و محتشم‘‘ (چٹکا) تحریر: ڈ اکٹر محمد صغیر خان (راولاکوٹ) ’’جہنیاں ناں بالا ایہہ نیدری اینا اوٹھی‘‘… دیگر ہزارہا بلیغ اور برمحل پہاڑی آخانوں کی طرح یہ آخان مجھے اُس کو دیکھ کر بے طرح یاد آیا۔ وہ میرے لئے کوئی اجنبی اور ’’اوپرا‘‘ نہیں۔ اس نے میری آنکھوں کے سامنے جنم لیا۔ میں اس کی ’’مائی‘‘ یا ’’دائی‘‘ تو نہیں تھا لیکن وہ ’’نائی‘‘ ضرور تھا جو اس کی ’’بدھائی‘‘ کہنے اور ’’مٹھائی‘‘ لینے صبح سویرے یا رات اندھیرے جا پہنچتا ہے۔ وقت گزرا تو وہ پالے سے نکلا۔ قدم قدم چلنا سیکھا اور پھر سرپٹ دوڑنے لگا۔ اس دوران بوجوہ اس کا در گھر تو نہیں رہا لیکن تب تک وہ ’’بال‘‘ اتنا ’’کمال‘‘ ہو چکا تھا کہ اسے بہرحال زوال نہیں آیا۔ وہ چلتا رہا، وہ بڑھتا رہا اور وہ ہنوز پوری شان سے مگر خراماں خراماں چل رہا ہے۔ وقت نے اسے اعتماد بخشا اور اعتباردان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ارقم‘‘ محترم بھی ہو چکا اور محتشم بھی۔ اس کا تازہ ظہور میرے دعوے کی تصدیق ہے کہ ’’ارقم‘‘ کا کشمیر نمبر واقعی لاجواب ہے۔ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کی سرپرستی اور ڈاکٹر ضیاضی نقی کی ادارت میں نئے روپ اور نرالی سج دھج کے ساتھ سامنے آنے والا مجلہ بلامبالغہ ایک شعلہ بھی ہے اور حوالہ بھی۔ یہ جلتے بھسم ہوتے سرد راکھ بنتے کشمیر کے بچے کچھے تنکوں تیلوں کے لئے دیا سلائی ہے اور کشمیر بیتی پر ایک مترنم دہائی بھی۔ بزم ارقم کے زیرانصرام شائع ہونے والا یہ شمارہ اپنے وجود میں ضخیم، مواد میں اعلیٰ اور انداز میں نرالا کہلا سکتا ہے مزید یہ کہ ایک بھری پوری مجلس مشاورت اس کے وزن کو مزید بڑھاوا دینے کا ایک اور جواز بھی ہے۔ ڈاکٹر ظفر نے اسے ’’کشمیر شناسی کی روایت کا تسلسل‘‘ کہا ہے تو بجا کہا ہے کہ وہ بساط بھر یہ بھاری پتھر چومنے اٹھانے کی سعی مسلسل کر رہے ہیں۔ ایسے ہی فیاض نقی اسے ’’قصہ حاصل جاں‘‘ لکھے تو اس کا حق بنتا ہے کہ ازاں بعد اس کے اس ’’دلنشیں جرم‘‘ کے ’’کئی نشان‘‘ اس کی کہی کو سچ ثابت کرنے موجود ہیں۔ ابتداًء تاریخ کا باب وا کیا جاتا ہے۔ اس میں علم الدین سالک، پنڈت پریم ناتھ بزاڑ، مسعود احمد خان، ڈاکٹر زاہد عزیز، ڈاکٹر ممتاز احمد اور سردار اعجاز افضل کے وقیع مضامین مجلے کی وقعت ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ’’تحریک‘‘ کے خانے میں ارشاد محمود، مقبول ساحل، سردار عاشق حسین، دانش ارشاد، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور ڈاکٹر فیاض نقی کے تحقیقی اور تخلیقی رنگ اپنے انداز اور زاویہ نگاہ سے تحریک کشمیر کا تجزیہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اب ’’زبان و ادب‘‘ کی باری ہے۔ اس میں سب سے ’’خوش دیوینی‘‘ کا ہونا وحدت کا مزہ دیتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر قاسم بن حسن کا تحقیقی مقالہ ’’کشمیر اُردو کے افسانوی ادب کے آئینے میں‘‘ آتا ہے۔ یہ ایک معلومات افزاء جاندار بلکہ شاندار تحقیقی مرقع ہے جو ادب اور کشمیر فہمی کے لئے موثر بھی ہے۔ پھر ’’کشمیر میں اُردو زبان و ادب‘‘ پڑھتے ہوئے ڈاکٹر فیاض نقی کی محنت و ہنر کا داد دینے کی باری آتی ہے اور انسان ’’مرحبا‘‘ پکار اٹھتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر محمد طیب امجد علی سدوزئی، منظور دایک، اعجاز نقی، مفتی اقبال اخترنعیمی اور سعیدارشد کے تحقیقی مضامین علم و جانکاری میں اضافے کے لئے موجود ہیں۔ جب ہم ’’سیاحت‘‘ کو نکلتے ہیں تو ہماری پہلی ملاقات حسن نواز شاہ سے ہوتی ہے۔ آگے بڑھتے تو ڈاکٹر ارشد ناشاد ہمارا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر ظفر خود آجاتے ہیں۔ یہ تینوں تحقیقی مقالات یعنی ’’میاں محمد بخش کا سفر کشمیر اور شیخ تارہ احمد بلی‘‘، ’’منشی امین چند کی سیاحت کشمیر‘‘ اور ’’سفرنمہ کشمیر از غلام رسول مہر‘‘ اپنے حسن میں تحقیق و تدوین کا بہترین نمونہ ہیں۔ سچ کہا جائے تو یہ مقالات اس مجلے کی جان ہیں۔ میاں محمد بخش جو ریاست جموں کشمیر کا روشن استعارہ ہیں کے سفر کشمیر کو یوں بیان کرنا کہ بندہ ساتھ چل پڑے، ایک اوکھا اور چوکھا کام ہے جسے حسن نواز شاہ نے خوبصورتی سے کیا۔ ڈاکٹر ارشد ناشاد تحقیق کے بندے ہیں اور اس بندھے بھی۔ امین چند کا سفرنامہ کشمیر جو اُردو کی بہت ابتدائی سفرناموں میں گنا جاتا ہے، غالباً اس عہد کا کشمیر کا اوّلین سفرنامہ بھی کہلا سکتا ہے۔ اس کے مطالعہ سے کشمیر کا ایک پورا عہد انسان کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ یقینا نادر و نایاب تخلیق ہے جس کی دریافت بھی کسی قدر کم اہم نہیں۔ جب ہم غلام رسول مہر کے سفر کشمیر کی روئیداد پڑھتے ہیں تو ایک اور طرح کے کشمیر سے شناسا ہوتے ہیں۔ یہ سفرنامہ تصویر کا دوسرا رخ ذرا زیادہ دکھاتا ہے اور یقینا یہی اس کی بڑی انفرادیت ہے۔ اسے تحقیق و تدوین کی بھٹی سے گزارنا ڈاکٹر ظفر کی محنت اور محبت کی علامت ہے۔ ’’ثقافت‘‘ کی باری آئے تو ہمیں عبداللہ قریشی، عرشی امرتسری اور عطاء محمد میر سے ملاقات کرنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ ’’ادبی دنیا‘ کا وہ کشمیر نمبر جو ازاں بعد حنیف رامے کے ’’نصرت‘‘ کی طرح کشمیر کے حوالے سے ایک جامع دستاویز ہے۔ وہ سنوارنے نکالنے والے ہاتھ عبداللہ قریشی کے تھے۔ ایسے ہی ’’ارقم‘‘ میں ان کا وجود بلاشبہ وجہ سواد اور مسعود کہلا سکتا ہے۔ ’’مکاتیب‘‘ تک پہنچیں تو یقینا اہم شخصیات کی خطوط نگاری ہمارے سامنے آتی ہے جن میں معلومات کا خزینہ پوشیدہ ہے اور بہت سے نئے مباحث کی بنا ڈالنے کے سامان بھی موجود ہیں۔ ’’کتاب شناسی‘‘ کا حصہ بھی مناسب سا ہے کہ اس میں بعض تبصرے یا تذکرے واقعی اہم ہیں۔ کشمیر ہمہ رنگ رنگوں کی بستی ہے جس کا ہر رنگ مختلف اور منفرد ہے اور بے حد خوبصورت اور جاذب نظر بھی۔ ’’ارقم‘‘ کو مختلف رنگوں کے پھولوں کے بجائے ایک دنگ کے مختلف پھولوں سے خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ ’’ارقم‘‘ کے مطالعہ سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ ڈاکٹر ظفرحسین ظفر اپنے ساتھ محققین کی ایک جماعت کامیابی سے بنا چلے ہیں جو بلاشبہ ایک پائیدار ادبی عمل ہے۔ اگر زمینی حقائق، مقامی ادبی فضائ، علمی و تحقیقی ماحول اور میسر وسائل کو سامنے رکھ کر ’’ارقم‘‘ کے کشمیر نمبر کو دیکھا تولا جائے تو اسے ایک ’’کارنامہ‘‘ کہنے مانے بغیر ہرگز بنتی نہیں۔ یہ ہماری ادبی تحقیقی بنجرپنے میں کھلنے والا وہ پھول ہے جو اپنے حسن میں بلاشبہ بے مثال ہے۔ یہ ایک جامع دستاویز ہے جو کئی پہلوئوں سے دلنشیں بھی ہے اور دلآویز بھی۔ اس خوبصورت ’’تحقیقی عمل‘‘ کے لئے ڈاکٹر ظفر اور ’’عاملین‘‘ کو ست سلام… اللہ مزید حوصلہ و تونائی دے۔



معرکہء دوتھان…اک نشان


معرکہء دوتھان…اک نشان ڈ اکٹر محمد صغیر خان (راولاکوٹ) تاریخ کیا ہے؟ کیا یہ مغالطوں کی ’’پنڈ‘‘ ہے یا مخالفتوں کی ’’چنڈ‘‘… یہ سچ کا نکھار ہے یا کذب کا نجار…؟ یہ حق شناسی ہے یا دورغ گوئی؟ یہ اور ایسے بہت سے سوالات مجھ کم فہم کو اکثر الجھائے رکھتے ہیں اور میں اپنی ناقص عقل کے باعث تاریخ فہمی اور تاریخ سہمی کے بیج ایک ایسے جزیرے پر کھڑا رہتا ہوں جس کی بھی وقت حالات کے تیز پانیوں کی نذر ہو سکتا اور یوں کسی بھی معاملے مغالطے پر کھوجتے سوچتے میرے ساتھ وہی ہوتا ہے جو کے پی کے ان پانچ بھائیوں کے ساتھ ہوا جو طغیانی کے بیج کسی ’’امدادغیبی‘‘ کے منتظر تھے مگر ان کا انتظار زندگی سے ان کا فرار بن چلا اور یوں وہ گدّلے تندرو پانیوں میں کہیں بہہ رڑھ گئے۔ ایسا میرے ساتھ ازل سے ہو رہا ہے اور شاید ابد تک ہوتا رہے گا کہ تاریخ سے سچ کی گیڈر سنگھی مانگنے کا مجرم ہوں اور مجرم چاہے چھوٹا ہو چاہے بڑا، اس کی ’’سزا‘‘ کچھ ویسی ہی ہوتی ہے جیسی مجھ ایسوں کے لئے مدت مدید سے تجویز کر دی گئی ہے۔ تاریخ اس کی تجویز کردہ سزا اور جزا اور وقت کے تندپانیوں کے شور کو ایک جانب رکھ کر اگر ہم ماضی کے جزیرے پر اتریں اور اس وقت کو پالیں جب وہ ہوا تھا جس کی اہل اقتدار کو شاید توقع ہی نہ تھی تو ہمیں صاف صاف نظر آئے گا پونچھ شہر جو تب ریاست پونچھ کا مرکز تھا سے مہاراجہ کی فوج جب پچھلے علاقوں کو کنٹرول کرنے نکلتی تھی تو یقینا یہاں سے… ذرا اوپر سے… ذرا نیچے سے۔ تھوڑا دائیں سے یا پھر بائیں سے ہی گزرتی تھی کہ یہ جگہ اس کے راستے میں پڑتی تھی۔ فوجی قافلوں کی گزرگاہیں ہی ہمیشہ ان کے خلاف ’گھات‘ کا موقعہ اور سامان مہیا کرتی ہیں… یہی یہاں بھی ہوا… یقینا ایسا ہی ہوا کہ اس نیم آباد بلکہ تب کے لحاظ سے غیرآباد اس مقام پر شب خون مارا گیا۔ مقامی مجاہدین نے جو اپنے طور پر منظم ہوئے تھے اور جو اس سے پہلے ڈوگرہ و انگریز فوج سے تربیت یافتہ تھے کہ اس کا حصہ رہے تھے اُنہوں نے مہاراجہ کی فوج کے دستے کو گھات لگاکر روکا… ایک زوردار معرکہ ہوا۔ مہاراجہ کی فوج زیادہ مستعد اور لیس تھی مگر ادھر بھی جذبے کی فروانی تھی۔ لہٰذا یہاں بہادری کی نئی کہانی لکھی گئی اور عطا محمد اور چار دوسرے شہداء عوامی مسلح جدوجہد کو ایک کامیاب، یادگار مگر خونیں آغاز مہیا کرکے نئی تاریخ رقم کر دی۔ 29 اگست 1947ء کو دوتھان کی بلندیوں پر ہونے والا یہ معرکہ وقت کی جدوجہد اور تحریک کے لئے نئے جذبوں اور سمت کی نوید تھا۔ یہ کوئی ہجانی و جذباتی قدم ہرگز ہرگز نہ تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی مربوط حکمت عملی کا عملی اظہاریہ تھا… اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 29 اگست 1947ء کا مقام تاریخ جہد کشمیر میں کیا بنتا ہے؟ کیا مسلح جدوجہد اور عملی اقدام کے حوالے سے اسے ’’اوّلیت‘‘ کا سزاوار قرار دیا جا سکتا ہے یا اوّلیت کا تاج کسی اور جگہ و دن کے سر پر رکھ کر اسے ثمرباد کرنا درست ہو گا؟ یاد رہے کہ میں کوئی مورّخ ہوں نہ ہی میں آج کے عہد کا دفاعی تجزیہ نگار اور نہ ہی میں سٹریٹجی سے متعلق معاملات کو زیادہ سمجھتا ہوں۔ میں تو بس اپنی ’’ذرا سی عقل‘‘ کے گھوڑے دوڑائوں تو مجھے لگتا ہے کہ پونچھ شہر سے روانہ ہونے والی ملٹری یا پیراملٹری ٹرپس ہوں یا واپس پلٹنے والے قافلے ان کا راستہ یقینا یہی بنتا ہے اور جب ’’گوریلاوار‘‘ کی تکنیک کو سامنے رکھ کر کسی پر وار کرنا ہوتا ہے تو تب ایسی ہی مشکل، پرپیچ، دورعلیحدہ مگر راستے میں پڑنے والی جگہوں، جنگلوں اور گھاٹیوں کا انتخاب درست ہوت اہے۔ 1947ء کے وقت اس وقت کی جدوجہد اور تحریک اور اس کے لئے اپنائی حکمت عملی کا جائزہ کسی نظریاتی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر لیا جائے۔ یہ دن اور معرکہ بہت دنوں کی ایک مالا کا موتی معلوم ہوتا ہے… 22 جون 1947ء کو پوٹھی مکوالاں میں مولوی اقبال خان کے گھر ہونے والا اجلاس ہو یا پھر 15 اگست 1947ء کو سیاسی ٹیکری راولاکوٹ پر ہونے والا اعلان بغاوت، کیپٹن حسین خان کی منظم فوجی منصوبہ بندی ہو یا مقامی رضاکاران کی اپنے طور پر ہونے والی تیاریاں… Moreover کے طور پر مہاراجہ کی فوج کی نقل و حرکت کا ’Map‘ دیکھا جائے تو دل ہی نہیں دماغ بھی بلاچوں چراں یہ ماننے پر آمادہ ہو جاتا ہے کہ مہاراجہ کی فوج پر پہلا باقاعدہ منصوبہ بند حملہ ’’دوتھان‘‘ میں ہی ہوا اور یہی وہ سچ ہے جسے وقت و نیت کے گدلے پانیوں سے آلودہ کرنے کی جسارت دراصل اپنا منہ مہاندرہ خراب کرنے کی ایک صورت سے زیادہ کچھ بھی نہیں… میں تو کوڑھ مغز ہوں۔ فوج اور فوجی معاملات کی سمجھ پرکھ سے عاری ہوں لیکن وہ جو ’’ہمہ صفت‘‘ ہیں ان سے محض یہ سوال ہے کہ بیج راہ کو چھوڑ کسی بستے رستے علاقے سے ہٹ کر دوردراز ایسی جگہ جو راہ میں آتی ہو نا وہاں فوج کے دییلائی ہونے کا جواز و آثار ہوں وہاں بے موجود ان دیکھی فوج پر پہلا فائر کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟… ہو سکتا ہے ایسا ہوا ہو کیونکہ تاریخ میں کہیں کہیں وہ ہو جاتا ہے جو کہیں نہیں ہوتا لیکن دلیل و شواہد کو بنیاد پر کچھ بلند آہنگ باتوں سے گریز بھی ممکن ہے… میں گریز کہہ رہا انکار نہیں کیونکہ میرے خیال میں انکار بھی ایک طرح کا اقرار ہوتا ہے اور اقرار کسی بھی نوع کا اس کے لئے ’’وقوعہ‘‘ کا ہونا ضروری ہوتا ہے… بہرحال 29 اگست 1947ء کا معرکہ دوتھان ایک ایسا سچ ہے جسے سچ ثابت کرنے کے لئے کسی نوع کے سٹیج اور سیج کی کوئی ضرورت نہیں… کہ یہ راز نہیں کارزار تھا اور پانچ مقامی مجاہدین کی دلیرانہ شہادت وہ ’’شہادت‘‘ ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت و شہادت بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقی داستان ہے… عمل کا نکھرا گلستان ہے… یہ جہد و قربانی کا نشان ہے… یہ دوتھان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخ کے سچ کے باب میں معذرت خواہانہ انداز روا نہ رکھا جائے کیونکہ اگر ایسا ہوتا رہے تو پھر تحریک حقوق ملکیت کے سرخیل سردار بہادر علی خان کے نام و نامے کو بدلنے والا کوئی سامنے آ جاتا ہے اور یوں تاریخ کا روشن چہرہ دھندلا ہی نہیں کرٹھ کالا بھی ہو جاتا ہے اور ہاں غلام قوموں کے لئے تاریخ کا چہرہ ہی چراغ بھی ہوتا ہے اور منہ مہاندرہ بھی ۔روشن شہید ہوں یا عطا محمد شہید یا فقرا شہید، سارے شہید سانجھا ورثہ ہوتے ہیں اور ہر علاقے اور جگہ کے ہوتے ہیں۔ ان سب کو اسی طرح لیا جائے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے ورنہ ٹکڑوں میں بٹے لوگ۔



تماشائے اہل کرم اور تماشائے اہل قلم


تماشائے اہل کرم اور تماشائے اہل قلم ڈاکٹر ممتاز صادق خان مجھے ایک صاحب کی یہ بات بہت پسند آئی، وہ کہہ رہے تھے ’’ مجھے گانا نہیں آتااس کے باوجود میں نہیں گاتا تو آپ سب کو میرا شکر گزار ہونا چاہیے‘‘۔ دوستو !میرا حال بھی اس فرمان کے مطابق ہے ۔ مجھے لکھنا نہیں آتا، اس کے باوجود نہیں لکھتا تو بجا طور پر توقع کرتا ہوں کہ آپ میرے شکر گزارر ہیں ،ورنہ میں بھی اپنی یاوا گوئی اور پھکڑپن آپ پر مسلط کر سکتا ہوں ۔ میری اسی نالائقی اور کمزوری کا نتیجہ ہے کہ برادر عزیز پروفیسر ایاز کیانی کی پہلی تصنیف (سفر نامہ) مارکیٹ میں آئے مہینہ بھر ہو گیا ہے اور مجھے یہ کتاب ملے بھی ۲ ہفتے سے زیادہ وقت ہوچکالیکن میں آج تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں لکھ سکا حالانکہ برادرعزیز ایاز کیانی کچھ مہربانوں کی طرح میرے ’’ برادر یوسف‘‘ کبھی نہیں رہے اور ان کے ساتھ تعلق عزت احترام اور محبت پر قائم ہے۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے کسی دوست کی کوئی کتاب مارکیٹ میں آتی ہے تو پروفیسر عبدا لصبور شیدائی ، ڈاکٹر ظفر حسین ظفر ، ڈاکٹر محمد صغیر خان اور برادران عزیز قمر رحیم ،نقی اشرف اور ممتاز غزنی تابڑتوڑ تبصروں پر اُتر آتے ہیں ۔ ایاز کیانی کی ’’تماشائے اہل کرم ‘‘بھی مارکیٹ میں آئی تو ہمارے یہ دوست موبائل فون اور قلم کمان سنبھال کر بیٹھ گئے اور یکے بعد دیگرے اس کتاب پر ایسے جامع اور خوبصورت تبصرے لکھتے چلے گئے کہ ہم ’’تماشائے اہل کرم ‘‘ کے ساتھ ’’تماشائے اہل قلم ‘‘بھی دیکھتے رہ گئے۔ان اہل قلم کے تبصروں کی جوار بھاٹہ کم نہ ہوئی تھی کہ کچھ اور آزمودہ کاروں کی آراء کی رم جھم برسنے لگی اور ہماری باری آتے آتے ’’رات گئی بات گئی‘‘ والا معاملہ ہو گیا ۔ ایسی صورتحال کی عکاس کے لیے جو پہاڑی لطیفہ میرے ذہن میں ابھی ابھی وارد ہوا ہے کاش! وہ آپ کی نذر کر سکتا۔ کلمات معترضہ کے لیے معذرت چاہتے ہوئے میں آپ کے ساتھ یہ حقیقت بانٹنا چاہتا ہوں کہ میں پروفیسر ایاز کیانی کو اُردو زبان وادب کے بہترین استاد ، ایک سلجھے ہوئے متواضح انسان اور سٹیج پر اچھی اور مختصر گفتگوکرنے والے سمجھ دارمقرر کے طور پر جانتا تھا ۔ الحمد ا للہ ! ’’ تماشائے اہل کرم‘‘ لکھ کر وہ صاحب تصنیف بھی ہوگئے ہیں اور تصنیف بھی ایسی جسے آزادکشمیر کے علمی و ادبی حلقوں میں بے حد پسند کیا گیا ہے ۔ اس کے لیے پروفیسر ایاز کیانی صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ’’ تماشائے اہل کرم‘‘ پڑھتے ہوئے مجھے حیرت ہوئی کہ پروفیسر صاحب وقت کے وہ ’’ابن بطوطہ ‘‘ہیں جنھوں نے کشمیر سے کوئٹہ اور کراچی تک کا یہ سفر تن تنہا کیا۔ مختلف شہروں میں اگر چہ انھیں دوست اور شاگرد ملتے رہے لیکن سفر کی صعوبتیں انھوں نے یکے و تنہا ہی سہی، حالانکہ وہ کثیر الاحباب انسان ہیں ، چاہتے تو اپنے کسی دوست کو ساتھ لے جا سکتے تھے ۔بالفرض انھیں اِ س سفر کے لیے کوئی دوست میسر نہیں تھا تو برادر شاہد مختار کی خدمات حاصل کر سکتے تھے۔ بھلا شاہد مختار صاحب کی موجودگی میں کوئی راولاکوٹی کہیں اکیلا گیا ہے کیا؟وہ تو ہم جیسوں کے ساتھ ہم سفر ہو جاتے ہیں آپ کے ساتھ تو اُن کا ’’ دوہرا ‘‘تعلق ہے ۔ اس کے باوجود پروفیسر صاحب اس طویل سفر کے لیے اکیلے نکلے اور ہماری بھلے منساہٹ دیکھیے کہ پھر بھی اُن کی نیت اور ارادوں پر کوئی شک نہیں کرتے۔ آپ کے لیے یہ جاننا قطعاً ضروری نہیں ، میں صرف تبصرہ نگاروں اور نقادوں کی روایت نبھانے کے لیے یہ بات کر رہا ہوں کہ اُردو میں سفر نامہ نگاری کا آغاز ۱۸۴۷ء میں محمد یوسف خان کمبل پوش کے سفر نامہ ’’ عجائبات فرنگ‘‘ سے ہوا، اس کے بعد سر سید احمد خان کے سفر نامے ’’ مسافرانِ لندن ‘‘ اور محمد حسین آزاد کے ’’ سیرِایران‘‘ کا ذکر آتا ہے۔ ڈیڈھ صدی سے زائد اس سفری ارتقاء میں اُردو سفر نامہ ابن انشاء اور مستنصر حسین تارڑ سے ہوتا ہوا پروفیسر ایاز کیانی تک پہنچ گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُردوادب میں آج تک کوئی عہد ساز اور رجحان ساز سفر نامہ تخلیق نہیں ہوا۔ اُردو میں جس پائے کی نظم یا غزل کہی گئی ہے یا جس معیار کے ناول ڈرامے اور افسانے تخلیق ہوئے ہیں اُس معیار کا سفر نامہ نہیں لکھا جا سکتا۔ اس کی سیدھی سی وجہ یہ ہے کہ بظاہر آسان اور سہل نظر آنے والی یہ صنفِ نثر در حقیقت بہت بڑی فن کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک اچھے سفر نامہ نگارکو اچھا افسانہ طراز ،ا چھامکالمہ نگار اور اُس سے بھی اچھا خاکہ نگار ہونا چاہیے ، صرف یہ ہی نہیں بل کہ اس کے ہاتھ میں ایک مشاق مصور کا فن بھی ضرور ی ہے۔ علم و ادب کے انحطاط کے اس دور میں سفر نامہ کی رہی سہی روایت بھی روبہ زوال ہے ، آج کل تو سفر نامہ لکھنے کی بجائے فلمانے اور لائیو دکھانے کا رجحان عام ہو گیا ہے ۔ بھلا ہو پروفیسر ایاز کیانی کا جنھوں نے سفر نامے کے لیے موبائل فون کے بجائے قلم و قرطاس کا سہارا لیا اور اس مشکل صنف نثر سے پنگا لینے کی جسارت کی جس کے نتیجے میں قاری کو ایک خوبصورت سفر نامہ پڑھنے کو ملا ۔ اگر آپ کو عہد حاضر یا ماضی قریب کے سفر ناموں کے مطالعے کا اتفاق ہوا ہو تو اتو آپ نے یہ بات ضرور محسوس کی ہو گی کہ آج کل کے سفر نامہ نگار ، سفر نامے کے لیے درکار ساری قابلیتوں کی تلافی زیب د استان سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے سفر ناموں میں سفر کہیں پس منظر میں رہ جاتا ہے اور جھانکا تا نکی غالب آجاتی۔ ہمارے زیادہ تر سفر نامے ائیر ہوسٹسوں کی دل ربا ادائوںاور نیلگوں سمندر کے کنارے ریت ، مٹی پر اُوندھی پڑی مخلوق کی منظر کشی تک محدودہو کر رہ گئے ہیں۔ میر ا خیال ہے ایسے سفر نامے پروفیسروں اور بچوں کی پہنچ سے دور رکھنے کا خاص اہتمام ہونا چاہے ۔پروفیسر ایاز کیانی نے اپنے سفر نامہ میں حرف کی حرمت کو مجروح نہیں ہونے دیا۔ اِس سفر نامے میں ان مناظر کی تلاش سعی لا حاصل ہو گی۔ سادگی اور سچائی کا جو خاصا پروفیسر ایاز کیانی کی شخصیت کاحصہ ہے وہ اُن کی تحریر میںبھی نمایاں ہے۔ سادہ اور رواں دواں اسلوب نے اُن کے اِس سفر کو اتنا دلچسپ بنا دیا ہے کہ کہیں بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا اور ہر مقام اور ہر شہر میں کچھ دن اور ٹھہرے رہنے کی خواہش ہوتی ہے۔اچھا سفر نامہ نگار اپنے قاری کو بھی اپنا ہم سفر بنا دیتا ہے’’ تماشائے اہل کرم‘‘ میں قاری کہیں بھی مصنف سے انگلی چھڑا کر بھاگنے کی کوشش کرتے نظر نہیں آتا بل کہ لا ہور، ملتان ، کوئٹہ اور کراچی کی سیر اور وہاں کی متنوع تہذیبی زندگی کی پرتیں کھولنے میں منہمک ہو جاتا ہے ۔ یہ بات ضرورت ہے کہ پروفیسر ایاز کیانی زیادہ خوش خوراک نہیں لگے ورنہ وہ اپنے قاری کو پھجے کے سری پائے ، حافظ کا سوہن حلوہ ، کوئٹہ کے سجی کباب اور کراچی کی بریانی ضرور چکھاتے۔ لیکن کوئی بات نہیں وہ اس کوتا ہی کی تلافی راولاکوٹ میں ہی دوستوں کی تواضح سے کرسکتے ہیں۔ ہم اُن کی دعوت ِشیراز اور دوسری کتاب کے منتظر رہیں گے۔



یا نہیں تو۔۔۔۔


یا نہیں تو۔۔۔۔ کبیر خان ہماری چھوٹی سی بہن بڑی سی پسہوڑی ڈالنے میں یدطولی رکھتی تھی۔ گھر کے بڑے بڑے پھڈّوں میں بھی اُس کا چھوٹا سا ہاتھ ناچتا اور ٹانگ اڑی دکھائی دیتی تھی۔ اور یہ سب وہ نیک نیّتی سے کرتی تھی۔ دراصلاُسے کسی بھی قیمت پرماں کے ’’پاسے‘‘ہونا ہوتا تھا۔ اُس کی اس طرفداری کی بدولت ماں لفڑوںمیں ملوّث ہو جاتی تھی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے، بڑی عید پر ابّا رخصت پر گھر آئے، مشورے ہونے لگے کہ اب کے اپنا پالتو ’’بھارُو‘‘ قربان کرنے کی بجائے گائے میں حصّہ ڈالا جائے۔ گائے میں حصّہ کیسے ڈالا جاتا ہے۔۔۔۔؟ خاندان کے بچّوں میں اس امر پر بحث چھڑی اور منطقی انجام پر منتج ہوئی۔ اِدھر دھپّا، اُدھر مُکاّ۔ چیخ پکار، اک ہنگامہ۔ آخر ماں کو میدانِ کارزار میں کوُدنا پڑا۔ اِدھر دلاسہ، اُدھردھکا۔ جیسے تیسے ’’چیچو باسا‘‘فرو ہوا تو ماں گائے میں حصّہ ڈالنے کا مفہوم اور طریقہ بیان کرنے لگیں۔۔۔ ’’یوں سمجھ لو کہ یہ گائے ہے۔۔۔۔۔‘‘ ’’دُم نہ کھُر،کان نہ سینگ، تھن نہ کھِیری، منہ نہ متھّا۔۔۔،جِنّ پہاڑوں لتھّا،یہ گائے نہیں، ڈسلہ ہے۔۔۔‘‘ایک باحث نے نکتہ اعتراض بلند کیا۔۔۔۔ [بائی دی وے، بھُٹیمیں جس شے پر دانے اُگتے ہیں، اُس کی درست اُردو کسی کو آتی ہو تو ہمیں بھی بتادیں۔۔پلیز] ’’سینگوں کے بغیر گائے کی قربانی لگتی ہی نہیں۔۔۔۔۔‘‘ایک شرعی عزر کھڑا ہو ا’’پوچھو کیوں۔۔۔۔؟ اس مارے کہ سینگوں کے بغیر جانور روز قیامت والے دیہاڑے شیطان کا پیٹ نہیں پھاڑ سکتا۔ پیٹ نہیں پھٹتا تو پھوُکناٹا(غبارہ؟) نہیں نکلتا۔ پھوکناٹا نہیں تو آگ کا دریا کس پر سوار ہو کر پار کرو گے۔۔۔ تایا کی بِرجس پر؟ اس میں ملیشیا کی پوری چھ ٹاکیاں مڑھی ہوئی ہیں۔ بیچ منجدھار کے جب پھوک نکلی تو لگ پتہ جائے گا۔۔۔‘‘ ’’اور جانتے ہو منجدھارکیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟ قسم سے نِرامنجوپار۔ عید والے دِن یہاں سے پیر رپٹا تو سی ی ی ی دھا کپتّوں کی ڈاب میں۔۔۔۔ جہاں اِتّے بڑے بڑے کیکڑے۔۔۔ کبھی ترِ نگلی چاچا کو ڈھنڈ میں سن کوکڑا(کپاس) ڈبوتے دیکھا ہے؟پسلیوں سے بھی ٹانگیں نکل آتی ہیں۔چاچا کو دیکھ کر پانی پر آنے والے مال مویشی کا بھی تراہ نکل نکل جاتا ہے۔ ڈکرا کر پیاسے ہی اپنی اپنی کھُرلی کوبھاگ جاتے ہیں۔ جانتے ہو کیکڑا کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟ سیخریارڑ،وہ بھی اتنا بڑا کہ گھیبے تایا کے سنڈے کو چُکّا مارے تو دُم وہیں کے وہیں اتار کر بھاگ لے۔۔۔۔۔ بات کرتا ہے۔۔۔۔‘‘ ’’کیوں۔۔۔۔؟ میں نے کون سی ایسی بے ثبوتی کہہ دی کہ جسے دیکھو بھُنتے ہوئے دانے سمان تڑختا جاتا ہے۔ جس کو شک ہو، بھانویں کسی بڑے بڈیرے پوچھ لے۔۔۔۔ میری توبہ جسے دیکھو خواہی مخواہی سپّوں کی جیبھیں دھروتا ہے۔ سیدھی طرح قربانی حلال کرنی ہے تو کرو،نہیں تو اپنا اپنا رستہ پکڑو۔۔۔۔‘‘ایک سیانا دور کی کوڑی لایا۔ ’’۔۔۔۔۔ اور لُنڈے بُچّے کی قربانی ہوتی ہی نہیں۔۔۔۔۔‘‘ ’’ہوجاتی ہے۔۔۔۔ پچھلے سال گوند سے موہری کی دُم چپکا کر بھاگل تایا نے بیٹھوک جھلّے کی قربانی دی تھی۔۔۔۔۔ اس کی بوٹیوں سے دُرگان بھی نہیں آئی تھی۔۔۔۔‘‘۔ ’’چُپ کرو، باطلوں کے ٹبّر۔۔۔۔‘‘ماں ماتھا پیٹتے ہوئے بولیں ’’بڑے ڈنگر کی قربانی میں سات حصّہ دار نہ ہوں تو قربانی لگتی ہی نہیں۔ بھانویں میاں شاہ مہاند سے پوچھ پاچھ کر تسلّی کر لو۔ ہم کُل ملا کے پانچ بنتے ہیں۔۔۔۔، چاچا، تمہارا پیو،گُلجار، جوُسوُ پہائی،اور کُلفی۔ کُلفی کا بھی پکّا پتہ نہیں۔۔۔۔ چھتّے رکھ کرزبردستی بڑوں میں شمار ہورہاہے یا واقعی۔۔۔۔؟کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔کھِیڑا پیڑھا پڑنے پرابھی تک دوشاخہ آواز میں روتا ہے۔ کبھی شوقیہ ہل پکڑ بیلوں کو ہانکتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ہاڑ جیٹھ میں کوئی پسار کا بھِتّ کھول رہا ہے۔۔۔۔چی چوں چاں ہآآآآ۔۔۔۔۔‘‘۔ ’’یا نئیں تو میرا ہیک روپیّہہ ڈال کر حساب کتاب برابر کرلو۔۔۔۔‘‘ ’’لاہڑ پاہڑیاں مت مارو۔۔۔۔‘‘ماں نے جھڑکا’’اوّل تو تمہارا ہیک روپیّہہ دوسال سیہر بیاہ شادی، عید شب برات میں ڈلتا ہے اور ختم ہی نہیں ہوتا۔ دوسرے قربانی میں ڈال بھی دیں تو چھ حصّے بنتے ہیں، ایک پھر بھی کم پڑتا ہے۔۔۔۔۔‘‘ ’’اَٹھ اَٹھ آنی کے دو کرلیں، حساب کتاب برابر ہو جائیگا۔۔۔۔‘‘’’ہیک روپیّہے والی نے ہاتھ نچا کر معاملہ سلجھا دیا۔ برسوں بعد، پچھلے دنوں ہمیں ایک دن اُس کے ساتھ جم کے بیٹھنے کا موقع ملا۔ اُس کے گھنگھریالے بالوں میں ہی نہیں آواز میں بھی سفیدی اُتر آئی تھی۔ بچّوں کے معاملات پر ’’نَکّی سِکّی‘‘کرتے ہوئے ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ فلاں باڑی میں کم از کم تین کمروں کا ایک مکان بنایا جائے اور اُسے آباد رکھا جائے۔۔۔۔ کہ اندریں حالات جائیداد کے تحفّظ کا یہی ایک موزوں طریقہ ہے۔ ’’لیکن مہنگائی کے اس دور میں اتنی رقم کہاں سے آئے گی۔۔۔؟‘‘ہم نے کہا۔وہ جھٹ بولی’’یا نئیں تو میرا ہیک روپیّہہ بھی ڈال کرحساب کتاب برابر کرلو۔۔۔۔‘‘۔ ہم نے یاد کرنے کی پوری کوشش کی کہ ’’یا نئیں تواُس کا ہیکر روپیّہہ ڈال کر ہم نے کتنی شادیاں کرائیں، کتنے مکان بنائے، کتنے بچّے پالے پڑھائے، کتنی علالتیں بھُکتیں۔۔۔؟ یاد نہ آیا۔ لیکن اُس کے ہیک روپیّہے نے ہمیں وہ حوصلہ دیا کہ ابھی تک ہم ڈھے نہیں۔یارو کبھی کبھی بے معنی سے جملے آپ کی ٹیکیں اور سہارے بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔ انہیں بے وقعت سمجھ کر کچرے میں نہ ڈال دیا کرو۔ جہاں کچھ کام نہیں دیتا،بے معنی جملے کام آ جاتے ہیں۔



ڈی این اے بدلتانہیں


ڈی این اے بدلتانہیں ارشاد محمود اس دفعہ سیلاب بغیر اطلاع کے نہیں آیا بلکہ عالمی اداروں نے اس طرح کے حالات کی پہلے ہی پیش گوئی کررکھی تھی۔ گزشتہ دو دھائیوں میں 173 قدرتی آفات کا پاکستان شکار ہوا۔ حالیہ سیلاب میں نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے ابتدائی اندازے کے مطابق ساڑھے چار لاکھ سے زائد مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔غالباًیہ تعداد ایک ملین کو بھی عبور کرجائے گا، جس طرح مزید بارشوں کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ایک ہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہوچکے۔مالی نقصانات کا اندازہ ابھی تک سامنے نہیں آیا لیکن یہ اربوں نہیں کھربوں میں ہوگا۔خیبر پختون خوا اور سندھ کا سرکاری اور نجی انفرسٹرکچر بری طرح تباہ ہوچکاہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فصلیں لگ بھگ تباہ ہوچکی ہیں۔ وبائی امراض کی لہر الگ سے اٹھنے کو ہے۔خوراک کا ایک نیا بحران ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ قدرتی آفات بالخصوص سیلاب اور زلزلوں کی صورت میں مقابلہ کرنے کے لیے ہم نے ادارہ جاتی سطح پر کس قدر منظم میکنزم تیار کیا؟ سماجی اور رفاعی اداروں کو کس حد تک متحرک کیا؟ کیا ضلع اور تحصیل کی سطح پر موجود اداروں کے پاس ایمرجنسی کا مقابلہ کرنے کی استعداد اور وسائل ہیں۔این ڈی ایم اے، صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے) اور فیڈرل فلڈ کمیشن کی صلاحیتوں کا پول کھل چکا ہے۔ ان اداروں کے پاس بڑے پیمانے پر آنے والی قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے نہ وسائل۔ سیلاب کا پانی اگلے چند ہفتوں اتر جائے گا۔ میڈیاروایتی سیاسی ہنگاموں میں ہمیشہ کی طرح دوبارہ کھو جائے گا۔ سرکار ی ادارے جان چھڑا کر کسی اور سمت سرپٹ دوڑنا شروع ہوجائیں گے۔بے سروسامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے پڑے تین کروڑ پاکستانیوں کا کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔ اگر پاکستان میں آج فلاحی اور رفاعی ادارے جنہیں عرف عام میں این جی اوز کہا جاتاہے سرگرم ہوتے تو اربوں ڈالر کے فنڈزدستیاب ہوجاتے اور ہزاروں رضاکار میدان عمل میں اتر چکے ہوتے۔ وہ تیزی کے ساتھ متاثرین تک امداد پہنچانے کا ہنر جانتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے حکام نے مختلف بہانوں سے رفاعی اداروں کا گلا گھونٹ دیا۔رجسٹریشن کرانا، بینک اکاو?نٹ کھلوانا اور مختلف اداروں سے این او سی کا حصول جوئے شیر لانے کے متراف بنادیا گیا۔ قابل اور رفاعی سرگرمیاں منظم کرنے کی صلاحیتوں سے ملامال لوگ بیرون ملک نقل مکانی کر گئے۔ جہاں وہ عالمی اداروں میں خدمات سرانجام دیتے ہیں اور بھاری معاوضہ پاتے ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے نام پر ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خدمت کے جذبے سے سرشار ماہرین کو دیس نکلاسنایاگیا۔دوسری طرف تلخ حقیقت یہ ہے کہ عالمی ادارے سرکاری اداروں پر اعتماد نہیں کرتے۔وہ رفاعی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔ مقامی حکومتوں یا بلدیاتی اداروں کے خلاف سیاست دانوں اور نوکر شاہی کے ایکے نے گلی محلے کی سطح پر موجود منتخب لیڈرشپ کا صفایا کردیا۔ سیاستدان اور بیوروکریسی اختیارات اور مالی وسائل میں شراکت دار قبول نہیں کرتی۔ چنانچہ ملک میں بلدیاتی ادارے اوّل تو ہیں ہی نہیں یا جو ہیں ان کے پاس مالی اور انتظامی اختیارات نہیں ہوتے۔ مقامی رکن قومی اور صوبائی اسمبلی سرکاری افسران کے اشتراک سے ان کا ناطقہ بند کردیتے ہیں۔ یہ ناپاک گٹھ جوڑ تحصیل، ضلع اور ڈویژن کی سطح پر نئی لیڈرشپ ابھرنے ہی نہیں دیتا۔موثربلدیاتی ادارے ہوتے تو نکاسی آب کے قدرتی راستوں پر ہوٹل اور آکاش کو چھوتی عمارتیں تعمیر ہوتیں نہ ندی نالوں کے کنارے آبادی کا جم غفیر جمع ہوتا۔کونسلر یا تحصیل ناظم گلی محلے سے لے کر اپنے شہر تک کی صفائی، تعلیم، اور شہری سہولتوں کا خیال رکھنے کا ذمہ دار ہوتاہے۔ رفاعی اداروں کو نیشنل سیکورٹی کے نام پر مفلوج کیا گیااور بلدیاتی اداروں کو سیاست دانوں اورنوکر شاہی نے محض ہوس اقتدار اور مالی وسائل پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لیے پنپنے ہی نہیں دیا۔چنانچہ آج سوائے فوج کے کوئی ایک ادارہ بھی ایسا نہیں جو دل جمی کے ساتھ آزمائش کی اس گھڑی میں شہریوں کا سہارہ بن سکے۔ اس تلخ حقیقت کو پلے باندھنا ہوگا کہ سیلاب اب کبھی کبھار نہیں بلکہ مسلسل آتے رہیں گے بلکہ ہر سال آئیں گے۔ سرما میں ایسی طوفانی برفباری ہوگی لوگ سائبیریا کے برفانی طوفانوں کو بھول جائیں گے۔ گلوبل وارمنگ کی بدولت گلیشیئر پگھلیں گے۔ نئی نئی جھیلیں وجود پائیں گی۔گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب آئیں گے۔ دریائے سندھ کے گردونواح میں پائی جانے والی آبادیوں اور شہروں کے انفرسٹرکچر کومسلسل خطرات لاحق ہوں گے۔ گلگت بلتستان اور نیلم ویلی کی بلند وبالا چوٹیوں پر منجمد برف ہیٹ ویو کی وجہ سے طوفان برپاکرے گی۔ گزشتہ چند سالوں میں خیبر پختون خوا، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں کئی جھیلیں بنی ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ کر آبادیوں کی آبادیوں کو بہا کرلے جاسکتی ہیں۔ سیلاب کے علاوہ ملک کو جن مسائل کا تسلسل کے ساتھ سامنا کرنا پڑے گا، ان میں کم بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی قحط سالی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوگا۔ علاوہ ازیں سیلاب اور قحط کی وجہ سے دیہاتوں کے دیہات اور شہروں کے شہر نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں گے۔ کراچی جیسا عظیم شہر نالائق صوبائی حکومت اور ناکارہ بلدیاتی نظام کی وجہ سے دنیا کے گندے ترین شہروں میں اپنا نام پہلے ہی رقم کراچکا ہے۔ قدرتی آفات جن کا اس کالم میں ذکر کیاگیا ہے متشکل ہونا شروع ہوچکی ہیں۔ لیکن ہمارا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔کیونکہ ہم میں سے اکثر کا ڈی این اے کاہلی، بے حسی اور محض ذاتی خواہشات کی تسکین کے خمیر سے اٹھا ہے۔ سیلاب اور زلزلے ہمیں بدل نہ سکیں گے کیونکہ ہم بدلنا ہی نہیں چاہتے۔



بابا بلھے شاہ ؒ


بابا بلھے شاہ ؒ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی تا ریخ تصوف کے اورا ق بے شمار ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں جب کسی طالب حق کے دل میں عشق الہی کی چنگا ری سلگ اٹھی چنگاری آگ کا بھانبھڑ بن گئی آتش عشق نے جسمانی کثافتوں کو راکھ کا ڈھیر بنا ڈالا پھر طالب حق معرفت الہی عشق الہی کے پر کٹھن سفر پر نکل پڑا پھر قرب الہی پانے کے لیے عبا دت ریاضت تزکیہ نفس مراقبہ اور کڑے مجا ہدوں کے پل صراط سے خو د کو گزار کر کثافت کو لطا فت میں بدل ڈالا جسم و روح کی گندگی کو صاف کیا جسم و روح سراپا نور بن گئے اورپھر ایسے سالک سے کرامات کا ظہور ہو تا ہے اِن کرامات سے اہل دنیا کو پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ بندہ خاص ہے جس پر خالق کا ئنات کا کرم خاص ہو چکا ہے ایسا بندہ سیف زبان بھی ہو تا ہے وہ کن فیکون کے مقام پر ہو تا ہے ایسے بندے پر یہ انعام سخت کڑے مجاہدوں اور عبادات کے بعد ہو تا ہے لیکن کو چہ تصوف میں کچھ ایسے بھی خو ش نصیب ہمیں ملتے ہیں جو عبا دت ریا ضت کڑے مجا ہدوں کے بنا ہی اللہ کے ولی ہو تے ہیں یہ پیدائشی ولی ہو تے ہیں اِن کے اندر پیدا ئش کے وقت سے ہی لطا فت کی مقدار زیا دہ ہو تی ہے یہ سراپا نور ہو تے ہیں یہ جذب وسکر کی دولت سے مالا مال ہو تے ہیں بچپن سے ہی اِن سے کرا مات سر زد ہو تی ہیں ایسا ہی ایک پیدا ئشی ولی آج ہما را مو ضو ع سخن ہے جو پیدا ئشی ولی تھا اور بچپن میں ہی آپ سے کرامات سر زد ہو نی شروع ہو گئی تھیں 1675 میں ایسا ہی پیدا ئشی ولی اچ گیلانیاں شہر میں پیدا ہوا 6سال کی عمر میں با پ کے کہنے پر یہ بچہ ایک دن کھیتوں میں اپنے مویشی چرا رہاتھا تیز گرمی میں بچہ آرام کی نیت سے ایک شجر سایہ دار کے نیچے لیٹ گیا اور سو گیا مویشیوں کو کو ئی دیکھنے والا نہ تھا اِس لیے وہ بے لگا م ہو گئے وہ جنگل کی گھا س چرتے چرتے قریبی فصل میں گھس گئے اور بری طرح فصلوں کو اجا ڑنے لگے کھیتوں کے مالک جیون خان کو پتہ چلا تو ڈنڈا لے کر مویشیوں کومار پیٹ کر کھیتوں سے با ہر نکالنے لگا لیکن اِس دوران مویشی کھیتوں کو نقصان پہنچا چکے تھے جیون خان غصے کی آگ میں جھلسنے لگا اور چرواہے کو تلاش کر نے لگا تھو ڑی دو ر ہی ایک معصوم 6سالہ بچہ درخت کے نیچے سویا نظر آیا جیون خان آگ برساتا بچے کی طرف بڑھا کہ بچے کو کھا ہی جا ئے گا جس کی کو تا ہی سے اس کی فصلیں بر باد ہو گئیں تھی لیکن جیسے ہیں جیون خان بچے کے قریب پہنچا تو منظر دیکھ کر پتھر کا مجسمہ بن گیا سانسیں رک گئیں اور بچے کو پہچان بھی لیا منظر یہ دیکھا کہ بچہ دنیا ومافیا سے بے خبر پڑا تھا ایک شیش ناگ پھن پھیلائے بچے کے سر پر کھڑا تھا جیون خان خو فناک انداز میں الٹے پا ں واپس بھا گا اور جا کر بچے کے با پ کو اطلاع دی کہ اس کا بچہ اب زندہ نہیں سانپ نے اس کو ڈس لیا با پ پر یہ خبر قیامت بن کر ٹو ٹی وہ بھا گتا ہوا اس جگہ آیا جہاں جیون خان نے اشارہ کیا تھا با پ کو دیکھ کر سانپ خاموشی سے رینگتا ہوا جھاڑیوں میں چلا گیا سانپ کا اندازبتارہا تھا جیسے وہ بچے کا پہرا دے رہاتھا باپ نے جلدی سے بیٹے کو بلایا آوازیں دیں تو بچہ اٹھ کر بیٹھ گیا اورمعصومیت سے باپ کی طرف دیکھا اور بو لا جی بابا جان کیا بات ہے باپ نے اچھی طرح بیٹے کو دیکھا کہ کہیں سانپ کے کا ٹے کا نشان تو نہیں ہے لیکن بچہ تو بلکل ٹھیک تھا بچے کو صحیح سالم دیکھ کر جیون خان غصے میں بو لا تمہا را بیٹا تو ٹھیک ہے لیکن میری فصل تو برباد ہو گئی میرا نقصان کو ن پو را کر ے گا تمہارا بیٹا ٹھنڈی چھاں میں نیند کے مزے لو ٹ رہا تھا ادھر تمہا رے مو یشی میری فصلیں اجا ڑ رہے تھے اب بچہ بو لا ابا جان چاچا جیون غلط کہہ رہا ہے میرے جانور کسی کی فصل نہیں اجا ڑتے وہ تو گھاس ہی چرتے ہیں جیون خان غصے سے بو لا یہ بچہ ہو کر مجھے جھو ٹا کہہ رہا ہے تو باپ بو لا جیون خان میں تمہارا نقصان بھر دونگا چلو دکھا تمہا ری فصل کدھر خراب ہوئی ہے اور پھر جب جیون خان کے کھیت پر پہنچے تو حیران کن منظر تھا فصل بلکل ٹھیک تھی فصل پر بر بادی کے ہلکے سے آثار بھی نہیں تھے نقصان تو دور کی بات یہاں تو کو ئی جانور تک داخل نہیں ہوا تھا جیون خان آنکھیں پھا ڑ کر صحیح سالم فصل کو دیکھ رہا تھا اور شرمندہ بھی ہو رہا تھا اب باپ بو لا میں نے کہا تھا نا کہ میرا بیٹا جھوٹ نہیں بو لتا جیون خان بچے کی کرامت دیکھ چکا تھا باپ بھی بچے سے متا ثر ہو چکا تھا اب جیون خان اِس معصوم بچے کا بہت زیا دہ احترام کر نے لگ گیا تھا یہ بچہ جب کسی راستے سے گزرتا تو جیون خان اِس کے احترام میں کھڑا ہو جاتا اور ادب سے معصوم بچے کو سلام کر تا دعا کی درخواست کر تا پھر جب یہ معصوم بچہ گزر جاتا تو لوگوں کو بتا تا میں اِس بچے کی کرامت دیکھ چکا ہوں یہ اِس دور کا ولی ہے مویشی چرانے والا یہ بچہ شہر قصور کا مشہور بے باک صوفی حضرت بلھے شاہ تھا با پ عبداللہ المعروف بلھے شاہ سے متا ثر ہو چکا تھا اب اس کی تعلیم کی فکر کی اور قصور میں حافظ غلام مر تضے کے مدرسے میں تحصیل علم کے لیے بھیج دیا یہاں پر آپ نے عربی فارسی زبان پر دسترس حاصل کی پھر تحصیل علم کے بعد جب سند ملی تو باکمال استاد نے اپنے ہو نہا ر شاگرد کو مبا رک باد دی بلھے شاہ نے سر جھکا کر کہا جناب استاد محترم آپ کی درس گاہ نے مجھے علم و شعور دیا دما غ تو مطمئن ہو گیا لیکن دل ابھی بھی پیا سا ہے یہاں تعلیم کے بعد میری روح کا اضطراب مزید بڑھ گیا ہے پیاس اور بڑھ گئی ہے بے چینی جستجو مزید بڑھ گئی ہے استاد مسکرایا اور بو لا بیٹا میں ان استادوں میں سے نہیں ہو ں جو بیک وقت انسان کے دل و دما غ کو مطمئن کر سکیں میرے پاس علم کا جو نو ر تھا و ہ تمہیں دے چکا دل اور روح کی تشنگی اب کسی روحا نی مر شد کے پاس ہی بجھے گی استاد محترم آپ ہی رہنما ئی فرمائیں اب میں کس در پر جا ں استاد محترم شفیق لہجے میں بو لے صدق دل سے تلاش کرو اور اللہ تمہا ری مدد کر ے گا اِسطرح بلھے شاہ دنیا وی علم حاصل کر نے کے بعد استاد کی دعاں کے ساتھ وہاں سے روحا نی مرشد کی تلاش میں نکل پڑے اِس کے بعد بلھے شاہ ایک جگہ سے دوسری جگہ مرشد کی تلاش میں بھٹکتے رہے لیکن سکون کہیں نہ ملا آخر تھک ہا ر کر روحانی مرشد کی تلاش کی آگ سینے میں سلگا ئے گاں آگئے ایک رات والدہ محترمہ کے پاں دبا رہے تھے چہرے سے اداسی چھلک رہی تھی والد ہ نے اداسی کی وجہ پو چھی تو بلھے شاہ گلو گیر آواز میں بو لے میری روح کی بے چینی اضطراب جستجو تشنگی ختم ہی نہیں ہو رہی میں گیلی لکڑی کی طرح مسلسل سلگ رہا ہو ں بے قراری مجھے کھا ئے جا رہی ہے میرا مرشد نہیں مل رہا میرے لیے دعا کریں ماں نے بیٹے کو گلے سے لگا یا اور کہا اللہ جلدی تمہیں مر شدسے ملا ئے گا بلھے شاہ اسی اضطراب میں سو گئے تو اس رات عجیب خواب دیکھا آسمان سے ایک نو رانی تخت زمین پر آیا ہے جس پر ایک پر جلال نو رانی بزرگ بیٹھے تھے بلھے شاہ نے تیزی سے قریب جا کر سلام کیا اور ادب سے کھڑے ہو گئے نورانی بزرگ نے پو چھا تمہا را نام کیا ہے تو بلھے شاہ بو لے شاہا میں سید عبداللہ بن سید درویش محمد قادری ہوں بزرگ مسکرائے اور بو لے تم مجھے پہچانتے ہو بلھے شاہ نے لا علمی کا اظہا ر کیا تو بزرگ بو لے میں پا نچویں پشت میں تمہارا جد امجد ہوں سید عبدالحکیم مجھے پیاس لگی ہے جا پا نی لے کر آ بلھے شاہ دوڑ کر گاں گئے اور مٹی کا پیا لا دودھ سے بھر لا ئے بزرگ نے دودھ کا پیا لہ پکڑا ور دودھ پی لیا تھوڑا دودھ چھو ڑ کر پیا لے کو بلھے شاہ کی طرف بڑھا یا اور کہا یہ دودھ پی لو بزرگ نے دعا دی کہ اللہ تعالی تمہیں آتش عشق سے نوا زے تمہارے سینے کو نور سے بھر دے اِس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اب کسی کامل مرشد کی صحبت اختیار کر و اب عشق حقیقی کی پل صراط سے تمہیں مرشد کا مل ہی گزار سکتا ہے ۔



نیلہ بٹ میں کیا ہوا؟


نیلہ بٹ میں کیا ہوا؟ شفقت ضیاء تحریک آزادی کشمیر میں ہر طبقے، علاقے ،قبیلہ کے لوگوں نے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیںجس کے نتیجے میں آزادکشمیر کا خطہ آزادہوا۔ سیاسی اور عسکری قیادت دونوں نے اپنا اپنا بھرپور کردار اد ا کیاتاہم سیاست کے میدان میں سردار محمد ابراہیم خان اور عسکری محاذ پر کیپٹن حسین خان شہید کا مقابلہ کسی اور سے نہیں کیا جاسکتا۔ بدقسمتی سے آج اپنے ذاتی مفادات کے لیے بیرون ملک بیٹھے کچھ نام نہاد ددانشور جن میں باشانی نامی شخص بھی شامل ہے ،جو انڈین چینل پر بیٹھ کر زہر اگلتا ہے، سیاسی وعسکری قیادت پر تنقید کرتاہے، ہندوئوں کا ہمدرد بن کر اُن پرظلم کے قصے سناتاہے، جس کی وجہ سے ہندوستان کے چینل بھی اُس کو وقت دیتے ہیں۔مسلمانوں پرجو ظلم اور بربریت ماضی میں ہوا یا آج ہو رہاہے اُس پر بات کر نے کی بجائے اپنی گھڑی ہوئی کہانیاں سنائی جاتی ہیںجس کے مقابلے میں درست تاریخ اور تحریک کو پڑھانے، بتانے کا کام آزادخطہ میں حکومتوں کے مزے لینے والے کرنے کے بجائے آزادکشمیر میں اپنی مرضی ومنشاء اور تعلقات کو خاطر میں لاتے ہوئے قوم کو بالخصوص نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ آزادکشمیر میں حکومتوں نے ایک طرف اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاریخ کو اپنی پسند اور مرضی کی مطابق ڈالنے کی کوشش کی اور دوسری طرف کچھ لوگوں نے موقع ملنے کے باوجود درست تاریخ بتانے اور مرتب کرانے کے بجائے اتنا کہنے پر اتفاق کیاکہ تاریخ کو کوئی بدل نہیں سکتا، حقائق کو چھپایانہیں جاسکتا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بہت کچھ بدل گیا ۔ تحریک آزادی کشمیر طویل بھی ہے اور قربانیوں کی اپنی مثال آپ بھی ہے ۔ زندہ کھالیں کھینچوانے اور پوری ریاست کو 75 لاکھ روپے نانک شاہی میں فروخت کرنے کی مثالیں قائم ہونا شامل ہیں۔ اس جدوجہد کا ہر ورق سنہری حروف کے ساتھ لکھنے اور ہر تاریخ کو تاریخی حیثیت حاصل ہے لیکن کچھ تاریخیں ایسی ہیں جنہیںبھلایا نہیں جاسکتا ،بالخصوص وہ دن جب لوگوں نے اپنی جانیں دیں اور آزادی کی خاطر شہادتوں کو گلے لگایا ،جن کی قربانیوں کی وجہ سے یہ خطہ آزاد ہوا ۔وہ سارے لوگ عظیم ہیں جنہوں نے 1947 میں کردار ادا کیا ،قربانیاں دیں ،ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا ، جو قابل تحسین ہیں ۔اللہ اُن کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔وزیر اعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس نے اس بار اعلان فرمایا کہ یوم نیلہ بٹ پرسرکاری چھٹی پورے آزادکشمیر میں ہو گی تو خیال تھا کہ وزیراعظم اس دن خود جلسے میں حاضر ہوکر شاید تاریخ کا کوئی ایسا واقعہ سنائیں گے جس سے معلوم ہوگا کہ نیلہ بٹ کی تاریخی حیثیت کیا ہے، جس طرح انھوں نے کچھ عرصہ پہلے یوم شہدائے کشمیر کی تاریخ بتاتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’جمعہ کی اذان کے ساتھ اتنے لوگوں نے قربانیاں دیں‘‘لیکن وہ خود تو جلسہ میںنہیں گئے البتہ ایک نئی سرکاری تعطیل کا اضافہ ضرور کر گئے بلکہ جو کام مسلم کانفرنس اقتدار میں رہنے کے باوجود نہ کر سکی وہ کام تحریک انصاف کے عنانِ حکومت میں وزیر اعظم تنویر الیاس نے کر دیا، یا کروا دیا گیا۔ وزیر اعظم خود وسائل سے مالا مال ہیں ،وہ ذاتی تعلقات کو ذاتی و سائل تک ہی رکھتے تو زیادہ اچھی بات ہوتی۔ سرکاری وسائل کا استعمال اور قومی خزانے کے نقصان کو درست فیصلہ نہیں کہا جاسکتا۔ ہماری معلومات کے مطابق 23 اگست 1947 کو نیلا بٹ کے مقام پر غربی باغ کا جلسہ عام ہوا تھا جس میں مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ریاست کا پاکستان سے الحاق کا اعلان کرے ورنہ ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ جس میں سردار عبدلقیوم خان نے ایک نوجوان رہنما کی حیثیت سے خطاب کیا اور کہا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر باغ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہوکر دبائو ڈالنا چاہئے، جس پر ان کی تحریک پرجلوس روانہ ہوا جسے ڈوگرہ فوج نے باغ داخل نہیں ہونے دیا، بنی پساری کے مقام پر لوگوں نے کیمپ لگالیا پھر 26 اگست کو ہڑاباڑی کے مقام پر جلسہ ہوا، جس پر فائر ہو ا اور 6 لوگ شہید ہوئے، جس کے بعد جلسہ منتشر ہو گیا، جس کی خبر ملنے پر راولاکوٹ میں ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں ڈوگرہ فوج کو مختلف مقامات پر الجھانے کا منصوبہ بنایا گیا اور 29 اگست 1947 کو دوتھان کے مقام پر پونچھ شہر سے براستہ راولاکوٹ ، با غ جانے والی فوج پر مجاہدین نے منصوبہ بندی سے حملہ کیا، جس سے ڈوگرہ فوج کو کافی نقصان ہوا اور پانچ مجاہدین شہید اور ایک زخمی ہوا ۔یہ پہلا باضابطہ منصوبہ بندی سے حملہ تھا۔ سردار عبدالقیوم خان جن کا تحریک آزادی کشمیر میں اہم کردار ہے، جنہوں نے 22 جون 1947 کو چوہدری حمیدا للہ قائم مقام صدر مسلم کانفرنس کے دورہ راولاکوٹ کے موقع پر پہلی بار اعلیٰ سطح کے کنونشن میں شرکت کی تھی۔ اُن کی کوششوں اور قیادت میں تحصیل باغ کو ڈوگرہ فوج سے آزادکرایا گیا۔ انھوں نے خود بار بار کہا کہ میر امجاہد اول کا دعویٰ نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ پہلی گولی نہیں چلائی ہے ،اس کے باوجودنیلہ بٹ کو سرکاری سطح پر بنانا سمجھ سے بالا ہے ۔اگر سرکاری تعطیلات کا زیادہ ہی شوق ہے تو اُن عظیم شہیدوں کے بے شمار دن موجود ہیں لیکن ایسے دن کو پورے آزادکشمیرمیں سرکاری چھٹی کر دینا اور غیر ضروری اہمیت دینا سمجھ سے باہر ہے جبکہ اس سے بہت زیادہ اہمیت کے دن بے شمار موجود ہیں۔ بالخصوص 15 اگست1947جب پاکستان کے قیام کی خوشی میں جشن منایاگیا اور راولاکوٹ میں دفعہ 144 کی دھجیاں اُڑائی گئیںجلسہ عام سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست کا پاکستان سے الحاق کرے ورنہ مسلم گارڈتیارہے، یوں کھل کر بغاوت کا اعلان کیا گیا۔ اسی وجہ سے،راوالاکوٹ کی سیاسی ٹیکری کو سابق وزیراعظم فاروق حیدر کے والد محترم حیدر خان نے دارلجہار قرار دیاتھا اور فاروق حیدر سے ہمیشہ یہی سنا کہ تحریک آزادی کا آغاز راولاکوٹ سے ہوا ،اب اطلاعات ہیں کہ آپ کے دستخط اُس اعلامیہ میں ہیں جس میں کہا گیا کہ آغاز نیلہ بٹ سے ہوا، موجودہ صدر ریاست برسٹر سلطان تو اسے ہمیشہ فراڈ کہتے رہے ہیں اور آج تک کبھی نیلہ بٹ نہیں گئے، شاید ایک وجہ یہ بھی ہو کے وزیراعظم اس دن کو اہمیت دے رہے ہیں لیکن کون انکار کر سکتا ہے کہ 15 اگست 1947ئ، 22 جون 1947ء مولوی اقبال خان پوٹھی مکوالاں راولاکوٹ کے گھر ہونے والے کنونشن، 18 اور19 جولائی 1947ٗ کا کنونشن اور دیگر کئی چھوٹے بڑے پروگرامات 23 اگست سے پہلے ہوئے ہیں وہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس لیے ہماری معلومات کے مطابق 23 اگست کو نیلا بٹ کے مقام پر ایک جلسہ ہوا تھا، جس سے پہلے بھی بہت سے جلسے ہوے اور تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہو چکا تھا۔ وزیر اعظم کی معلومات میں کچھ اور ہو تو برائے مہربانی قوم کو بتا دیں۔تاریخ کو بدلنے کی ناکام کوششیں کرنے والوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں،تعلقات ضرور پالیں لیکن اپنے خرچے پر! اسی میں سب کا بھلا ہے۔



’’ارقم‘‘ اور مرقوم


’’ارقم‘‘ اور مرقوم کبیر خان سُپر مارکیٹ کی یکسانیت اور ادھار نکل جانے سے تنگ آکر مالک نے بہت سوچ بچار کے بعد محلّے میں ڈاکٹر کے کلینک کے پہلو میں ادویہ کی دُکان کھول لی۔ کئی دن گذر گئے،اُدھر سے کسی گاہک کا گذر تک نہ ہوا۔ کاروباری دوستوں سے مشاورت کے بعد اُس نے شہر سے خوبصورت رنگین پوسٹر چھپوائے اور پورے علاقہ میں چسپاں کروا دیئے۔ اور تو کوئی نہ آیا ، ایک بطخ روزانہ صبح شام تھپ تھپ کرتی آتی اور کیمسٹ سے پوچھتی۔۔۔۔ ’’ڈاکٹر صاحب! آپ کی دُکان میں کھر کھرا ہے۔۔۔۔؟‘‘کیمسٹ خوش اخلاقی کے ساتھ اُسے جواب دیتا کہ دوائیوں کی دُکان میں کھرکھرے کا کیا کام ؟ کسی سُپر مارکیٹ سے معلوم کریں۔ وہ تھپ تھپ کرتی چلی جاتی۔ شام کو پھر آتی اور سوال دہراتی۔۔۔۔ آپ کے پاس کھر کھرا ہے۔۔۔۔؟ صبح شام کے سوال سے تنگ آئے ہوئے کیمسٹ نے شام کوبطخ کو ٹوکا اور کہا ، اگر تم کل کھرکھرا خریدنے آئیں تو میں ہتھوڑی اور کیلوں کے ساتھ تمہارے پنجے اسی فرش میں گاڑھ دوں گا ۔ بط چلی گئی ، لیکن دوسری صبح پھر تھپ تھپ کرتی آ گئی۔۔۔۔۔ آپ کے پاس ہتھوڑی ہے؟ ۔’’نہیں ہے۔۔۔‘‘ کیمسٹ نے دانت پیستے ہو جواب دیا’’لیکن میں آج ہی خرید لاوں گا‘‘۔ بطخ چلی گئی ، لیکن شام کو پھر آ گئی۔۔۔۔۔’’آپ کے پاس سیمنٹ میں گڑھنے والے کِیلے ہیں۔۔۔۔؟ ‘‘ کیمسٹ اس قدر زچ ہو ا کہ اُس نے بطخ کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔۔ ’’آج چلی جاوٗ ، میں کل سے ادویات کی دُکان بند کر کے اوزاروں کی دُکان کھول لوں گا۔ لیکن یہ تو بتا دو، تم کھر کھرے کا کروگی کیا۔۔۔۔؟‘‘۔ ’’میں نے چیک کرایا ہے، میرے ہاں طوطا جنم لینے والا ہے، اُس کے بال سنوارا کروں گی۔۔۔۔‘‘۔ بطخ نے جواب دیا’’لیکن تم پرائی پِیڑ کیا جانو‘‘۔ عزیزی قمر رحیم بڑا بیبا بندہ ہے، عموماً پرائی پِیڑ میں مبتلا رہتا ہے۔ چنانچہ کھر کھرے تلاشتا رہتا ہے۔ اسی تلاش میں وہ حسین شہید پوسٹ گریجویٹ کالج جا پہنچا۔ اُسے کھرکھرا تو نہ ملا، ڈاکٹر طفر حسین ظفر نے اُسے ’’ارقم‘‘ کا تازہ شمارا تھما دیا۔ ’’اسے قبلہ رو ہو کر استعمال کریں تو کُھرک مَٹھّی ہونے کہ بڑے چانسز ہیں ۔ نہ ہوا تو اسے تاک کربطخ کے دے ماریں ، انشااللہ دوسری بار کھرکھرا خریدنے نہیں آ ئے گی۔‘‘لیکن وہ بقدم خود ہمارے پاس آگیا۔۔۔۔۔ ’’اِس شمارے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی جلد بندی اتنی پختہ ہے کہ آپ جیسے کور زوق کو بھی دے ماریں تو کم از کم ایک دن کے لئے بھلا مانس بن جائے گا۔ ‘‘ ہم نے کمر کس کے قمر کے تحفظات بغور سُنے ، سمجھے اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ ارقم اپنے جننے والوں پر پڑا ہے جو کسی طور بھی کوئی غلط بات نہیں ہے۔ یہی نہیں، اس کے پچھلے شمارے بھی ، اُنیس بیس کے فرق کے ساتھ ایسے ہی تھے۔ آپ غیرجانبداری کے ساتھ دیکھیں تو اتفاق کریں گے کہ حسین خان شہید ڈگری کالج سے کبھی کبھار خیابان نام کا مجلّہ نکلا کرتا تھا۔ جس میں افسران بالامقام کے فرمودات اور تصاویر کے بعد کالج یونین کی مصوّرسرگرمیاں شائع ہوا کرتی تھیں ۔ اور مجلّہ کا اہم ترین کارنر طلبہ یونین کی تصاویر ہوتا تھا۔ جن میں سے اپنی اپنی تصویر کھوج نکالنے کے لئے دوسروں سے تبادلہ شکوک کرنا پڑتا تھا ۔ نجانے کھر کھرے کے وار سے کون سی زلف گرہ گیر کِس سر میں جا لگی ہو۔ ہم نے تو ایک شمارے میں اپنے محبوب طالب علم راہنما کو مونچھوں اور قلموں کے نیچے سے محض قیافے سے ڈھونڈ نکالا ۔ لیکن جب نکال چکے تو عقدہ کھُلا کہ موصوف کے گلے میں جو مفلر ہے، اُس کا والی وارث اے جے کے 420کا کنڈیکٹر ہے جس نے سویرے طالب علم راہنما سے کرایہ طلب کیا تھا۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ارقم کے مدیر بھی طالب علم راہنما رہے ہیں ۔ لیکن موصوف کبھی بھی مولوی متشدّد ہزاروی نہیں رہے۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ بندہ جماعت سے نکل جاتا ہے، جماعت اُس سے کبھی نہیں نکلتی۔ ہم ذاتی طور پر خوش ہیں کہ مشارالیہ اپنے کِلّے پر قائم ہیں ۔ ہم بزمِ ارقم راولاکوٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اُنہوں نے ارقم کا کشمیر نمبر نکالا اور وقیع نکالا۔ جملہ قمروں سے گذارش ہے کہ سیاسی عینک اتار کر دیکھیں تو آپ کی آنکھیں کھُل جائیں گی ۔ خیابانوں اور گلستانوں سے ارقم کا موازنہ کر کے دیکھیں تو آپ مانیں گے کہ ارقم بالعموم اور زیرِ نظر شمارہ بالخصوص علمی و ادبی لحاظ سے ایک یاد گار چیز ہے۔ ہم اپنے سُرخ اور نیلے پیلے چشموں کی بجائے ’’ننگی آنکھوں ‘‘ سے دیکھیں تو ماننا پڑے گا کہ ارقم کا راولاکوٹ سے اجرا خطّہ کے لئے اعزاز سے کم نہیں ۔اور ڈاکٹر طفر حسین ظفر اور اُن کے ساتھی بلا شبہ طفر یاب ہو ئے ہیں ۔ جو خطّہ کے لئے باعثِ افتخار ہے۔



ایک دن راولاکوٹ سی۔ایم۔ایچ (C.M.H) میں۔


ایک دن راولاکوٹ سی۔ایم۔ایچ (C.M.H) میں۔ ثاقبہ خالد جولائی کا مہینہ نمی, بارش اور اوس سیاٹا ہوا۔صبح کا وقت جب ڈیوٹیز اور اسکول میں جانے والے لوگ افراتفری کے عالم میں ہوتے ہیں اسی اثنا میں فون کی بجتی بل نے حیران کر دیا۔اللہ خیر اتنی سویرے کال اور کس کی؟؟؟دوسری طرف سماعت سے ٹکراتی آواز نے بس اتنا بتایا کہ اسکول وین کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔کیری وین نے جلدی اور اجلت میں سوزوکی کو بچاتے ہوئے موڑ مڑا جو کہ کیری وین کے ایکسیڈنٹ کی وجہ بنا۔یہ سنتے ہی ہزاروں سوال امڈ آئے دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔20جولائی 2022بروز بدھ صبح 7.30بجے یہ حادثہ واقع ہوا۔حقیقت یہ تھی کہ اسکول وین والے نے سٹپنی چڑھا رکھی تھی یہ ٹائر دوسرے ٹائروں کی نسبتا چھوٹا ہوتا ھے اور ڈرائیور رانگ سائیڈ پر گاڑی چلا نہیں اڑا رہا تھا جونہی سامنے گاڑی آئی ڈرائیور نے ہڑبڑی حالت میں اپنی سائیڈ پر لانی چاہی کہ گاڑی کا توازن برقرار نہ رہ سکا اور وہ الٹ گئی اور ہمیشہ کی طرح ڈرائیور موقع واردات سے فرار ہو گیا۔اٹھ سے دس جانوں کو گاڑی میں موت کے خوف و ہراس نے گھیر رکھا تھا۔ آس پاس کے لوگ دوڑے چلے آئیاور سبکو کھینچ تان کر باہر نکالا اور ہسپتال پہنچایا۔ایک دفعہ پھر یہ واضع ہوگیا کہ ڈرائیور کی اوور سپیڈ اور لاپرواہی سے انسان حادثے کا شکار ہوتا ھے اور قیمتی جانیں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ڈرائیور کی زمہ داری ھے کہ وہ وین کی مینٹیننس کو برقرار رکھے روز چیک کرے کہ اسکے سبھی پارٹس درست کام کر رہے ہیں۔کم عمر بچوں کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہونی چاہییاور ساتھ ہی ڈرائیونگ لائسنس کے بغیرکسی کو بھی گاڑی سڑک پر لانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ڈرائیونگ کو کھیل نہیں سمجھنا چاہیے اپنی جان کیساتھ دوسروں کی جان جوکھوں میں نہیں ڈالنی چاہیے۔ڈرائیور بھاگنے کے بجائے خدمت خلق میں اپنا حصہ ڈال دیں تو شاہد کسی کی دبتی بجھتی سانسوں میں تواتر پڑ جائے۔ ہسپتال کچھا کھچ لوگوں سے بھرا پڑا تھا۔کوئی درد میں کرا رہا تھا تو کوئی اپنی فائل لئے ڈاکٹر کے پیچھے بھاگتا دکھائی دیا کہ کوئی مثبت رائے مل جائے۔ہسپتال کا آ نکھوں دیکھا حال قلمبند کیا جا رہا ھے۔غصے کو سائیڈ پر رکھ کر حقیقت کی تصویر سے آ شنا ہوں۔شاہد سبھی حالت کو بھانپ کر بھی آنکھیں موند لی گئی ہوں۔ائے روز کی ہڑتال تو اب معمول کا حصہ بن گئی ہے اور بات منوانے کا بہترین پینترا بھی ھے۔راولاکوٹ سی۔ایم۔ایچ میں ہڑتال ہونے کے باوجود ہسپتال کا گیٹ عوام کے لیئیکھلا ھے۔سنئیر اور قابل ڈاکٹرز ہڑتال پر تھیاور اپنے مطالبات منوانے کے لئے انسانی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے فرائض سے منہ موڑ کر کہیں دبک کر بیٹھے تھے انکو انسانی جانوں سے کیا واسطہ۔ہاوس جاب،انٹرلیول کے ڈاکٹرز اور نئی بھرتی کی گء نرسوں جنکو ڈاکٹری کی الف ب تک معلوم نہیں،نے ہسپتال کی بھاگ دوڑ سنبھال رکھی تھی۔جنکو بات کرنے کا طریقہ نہیں انکو نجانے ڈاکٹری کی ڈگری کیسے مل گئی۔میڈیکل کالج والوں سے درخواست ھیکہ وہ ڈاکٹری کی تعلیم کیساتھ ساتھ تمیزوتہذیب کا درس دیں اور اس ڈگری سے بھی اپنے شاگردوں کو نوازیں۔ ایکسیڈنٹ میں آ نے والوں کو پین کیلر بڑے فخر سے لگایا جاتا ھے اور پھر باقی پروسس شروع ہوتا ھے۔لواحقین کی جانیں اپنوں میں اٹکی پڑی ہیں انھیں بغیر بولے کھڑے رہ کر تماشا دیکھنے کو کہا جاتا ھے۔اگر اپنے مریض کی دادرسی کرنا چاہیں تو انھیں بولنے کا حق دیا جاتا،کسی کی ٹانگ ٹوٹی ہوگی تو اسی جگہ سے پکڑ کر اسے ہلایا جائیگا،کنولہ پاس کرنے پر درد سے کرانے والے کو یہ کہا جاتا ھے آ پکو پتا ھے ناں اتنا درد تو ہوتا ہی ھے۔مریضوں پر تجربات کیے جاتے ہیں چاہے انکی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔کبھی سنا ھے کہ فون کال پر کسی کا علاج ہوا ھے اور وہ اپنے قدموں پر چل کر گھر کو لوٹا ھے۔ نہیں ناں!فون کال پر علاج نہیں تجربات ہوتے ہیں۔ہاوس جاب والوں کا اپنے سینئر ڈاکٹرز سے رابطہ یہ میڈیسن دی ھے،انجکشن دیا،اب حالت یہ ہوگئی پھر اسکا متبادل بتایا جاتا ھیکہ ایسا کر کے دیکھیں۔چاہے مریض قریب المرگ ہی کیوں نہ ہو۔ہاوس جاب کرنے والوں کا طریقہ متعارف کرواتی چلوں۔انکو دیکھ کر لگتا ھے کہ تمیزوتہذیب ان کو چھو کر نہیں گزری شاہد کچھ سلجھے تہذیب دار میڈیکل سٹوڈنٹ بھی ہوں۔لیکن آ تے کیساتھ گن تو پستا ہی ہے۔ڈاکٹری کا شعبہ کوئی شو آ ف کرنے والی چیز نہیں ہوتی ڈاکٹرز سے مریضوں کی سانسوں کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔جنھیں وہ خود ہی چکنا چور کر دیتے ہیں۔ڈاکٹر کائنات کو دیکھتے ہی گرلز ڈگری کالج کی فرسٹ ائیر کی سٹوڈنٹ ہونے کی جھلک دیکھنے کو ملی۔مریضوں کا علاج کچھ یوں کرتی ہیں انکی ایک مریضہ کو یورین کا مسئلہ تھا۔ڈاکٹر صاحبہ نے چیک کیا اور سامان منگوایا کہ انکو ٹیوب (کیتھیٹر بیگ)پاس ہوگی سامان لائیں اور مجھے بتائیں۔اس ٹیوب کو پاس کرنے والا کوئی نہ تھا سبھی سے باری باری بات کی ایک دوسرے کے پاس بھیجتے رہے آخر کار مینی آپریشن تھیٹر بھیجا گیا وہاں دو گھنٹے کے انتظار کے بعد موقع ملا۔ڈاکٹر کائنات اور انکے ساتھیوں نے مریضہ کے لواحقین کو یہ کہہ کر باہر بھیج دیا کہ ہمارا وقت ضائع نہ کریں ہمیں ہمارا کام کرنے دیں۔مریضہ کو دو دفعہ ٹیوب پاس کی گئی اور باہر بھیج دیا گیا۔اب ورثاء کو باہر کیوں بھیجا گیا تھا اس حقیقت سے آ شنا ہوں۔مریضہ مسلسل درد سے کرا رہی تھی اور کیتھیٹر بیگ میں یورین پاس نہیں ہو رہا تھا۔ورثاء نے ڈاکٹر کائنات سے درخواست کی کہ آ پ دوبارہ چیک کر دیں۔ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ وہ سنئیر سے بات کرتی ہیں کہ کیا مسئلہ ھو فون ہاتھ میں لیا مگر کال نہیں کی اور باقی کاموں میں مصروف ہو گئیں۔اب گپ شپ بھی تو کام کا حصہ ھے۔دوسری ڈاکٹر سے مریضہ نے تلخ کلامی کی کہ میں بہت تکلیف میں ہوں۔انھوں نے غلط ٹیوب پاس کی تو محترمہ نے صاف یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم ایسے مریضوں کو نہیں دیکھتے۔اب تو برداشت سے باہر ہو رہا تھا۔مریضہ کو پرائیویٹ لے جایا گیا وہاں پتہ چلا کہ ٹیوب پاس کرتے وقت 10ccپانی پاس کرنا پڑتا ھے انکو تو یہ معلوم ہی نہیں تھا۔اب بتائییایسا جنکے ساتھ ہووہ آ گ بگولہ کیسینہ ہوں۔پتھراو کے حقدار ہیں ایسی ڈگری والے۔ سنا ھے تجربات اور پوسٹ مارٹم مردوں کے ہوتے ہیں۔مگر راولاکوٹ سی۔ایم۔ایچ میں تو زندہ سانسیں لینے والے تجربات کا موجب بنے پڑے ہیں۔اتنا ہی نہیں ایک عورت کا آ ٹھواں ماہ شروع ہونے پر آ پریشن کر کے ڈیلیوری کر دی گئی بچی مشین کی نظر اور ماں کو کچھ انجکشن لگے اور پھر اگلے ہی لمحے نگہداشت وارڈ میں بیحس و حرکت۔ہنستی مسکراتی اپنے قدموں پر چل کر آ نے والی لاچاری میں بے حس و حرکت پڑی نظر آ ئی۔اسکے ورثاء نے نرس سے درخواست کی کہ ان کی مریضہ کی حالت بگڑتی جا رہی ھے۔ایک ہجوم برپا ہوا اسمیں نرسیز اور ڈاکٹرز تھے انجکشن لگینجانے اور کیا ہوا۔پھر کسی ڈاکٹر سے رابطہ کیا گیا۔بڑی ہڑ بڑی حالت میں پیروں ہاتھوں پر ڈرپس خون کی بوتلیں چڑھا دی گئیں یہ بتایا گیا کہ مریضہ کمزور پڑ گئی ہیں کم سے کم آ ٹھ،دس بوتل خون لگے گا۔اور پھر سنئیر کا آ نا جسم کو مشینوں کے ڈھیر سے منسلک کر دینا مشین چل نہیں رہی تھی یا چلانی آ نہیں رہی تھیں بہرحال کوشش پہ کوشش کی جا رہی تھی۔ایک پائپ بڑی بے دردی سے منہ سیاندرکیا گیا ورثاء کی تسلی کیلے کہ مریض کا علاج ہو رہا ھے آ ٹھ سے دس ڈاکٹر اور نرسوں نے مریضہ کو گھیرے رکھا اور ساتھ ایک آ واز بلند ہوئی رش نہ ڈالیں۔بتائیے رش یہ ھے یا جس مریض کے پاس دو لواحقین ہیں ادھر رش ھے۔جسطرح قربانی کی عید پر آ ٹھ سے دس آ دمی ملکر بیل کو ذبح کرتے ہیں بالکل اسی طرح مریض کی چیرپھاڑ کی جاتی ھے۔ریفر کرنے سے بھی منع کردیا گیا کہ مریضہ راستے میں دم توڑ جائے گی۔اسکے بعد مریضہ کی سانسیں دبتی گئیں۔لواحقین کو بتایا گیا کہ مریضہ کے دماغ کی وین پھٹ گئ،مریضہ کا بی۔پی۔شوٹ کر گیامریضہ نے سٹریس لیا ھے کوئی ایک معقول بات بتائی نہیں جا رہی تھی۔وہیں سٹی سکین کیا گیا۔کوئی مثبت صورتحال نظر نہ آ ئی لواحقین سے کہا جانے لگا کہ تعاون کریں مریضہ کیپاس باتیں نہ کریں۔جو مریض بیجان حالت میں پڑاہوا ہو بالکل جیسے مردہ ہو اسکے پاس ڈھول پیٹو،جتنی چاہے آ ہ وبکاہ کرو اسکے کس کام کی۔یہی کیفیت اس مریضہ کی تھی۔اسکی دادرسی کرنے آنے والی ہر آ نکھ نم تھی۔ آخر ان جلادوں نے ایسا کیا کیا تھا؟ کہ وہ اس حالت کو پہنچ گئ۔اسکو خبر تک نہ تھی کہ اسکے ساتھ کیا کیا جارہا ھے پھر اچانک اسکا جسم آ گ کی طرح دہکنے لگا پھر اگلے لمحے ٹھنڈا یخ برف کی مانند۔ادھر وہ بچی بھی دنیا سے کوچ کر گئی ماں نجانیزندگی اور موت کی کشمکش میں کس کے انتظار میں تھی۔ ابتداء میں ہی اچھا علاج کیا جاتا تو یہ نوبت نہ آ تی۔ جب حالات حد سے زیادہ بگڑ گئے تو ڈاکٹرز آ تے اور پھس پھسا کر چلتے بنتے۔تفصیلا کچھ نہیں بتایا جا رہا تھا بس گول مول باتیں تھیں۔مریضہ وینٹیلیٹر کی نظر ہو چکی تھی اسکے بے حس بدن میں بس دل کی دھڑکن تھی جو اسکے زندہ ہونے کی دلیل تھی۔اسکا خاوند بیرون ملک سے بھاگا آ یا ایمبولنس ہائیر کی تاکہ وہ اپنی زندگی کی خوبصورت ہمسفر کو اس دلدل سے نکالیمگر ڈاکٹروں نے ڈسچارج کرنے سے انکار کر دیا۔ کیوں؟کیا انکو خطرہ تھا کہ انکا راز کھل جائے گا؟؟ایک ہنستی مسکراتی جان ڈاکٹروں کی لاپرواہی کیوجہ سے قریب المرگ تھی۔کچھ دنوں بعد مریضہ کے ورثاء سے کہا گیا کہ اپنے مریض کو لے جائیں اس وارڈ میں جگہ نہیں اور مریض بھی ہیں۔یہ کیا تھا؟ایسا کہنا درست ھے؟اور پھر یکم اگست 2022کو اسکے دل کی دھڑکن نے ہمیشہ کیلئے دھڑکنا بند کر دیا۔اپنوں سے پھر سے ہنستے مسکراتے رہنے کی آ س اسکی سانسوں کے ساتھ ختم ہوگئی۔انا لللہ وانا الیہ راجعون۔رب تعالیٰ انکی مغفرت کرے۔(امین).پہلے بھی کء دفعہ ایسے واقعات ہوئے کسی کے اندر قینچی،پٹیاں چھوڑ دی گئی،کسی کو غلط کٹ لگا دی دیا۔ہردفعہ معاملے کو دبا دیا گیا۔حالیہ جس ڈاکٹر کے ساتھ مار پیٹ ہوئی جان بچاتے ٹانگیں ٹوٹ گئیں واقع سے آ گاہی تو سبھی کو ہوگی۔ڈاکٹرز بھی تو بہت دم رکھتے ہیں غلطی کو غلط رپورٹ بنا کر پیش کر دیتے ہیں اور خود پر آ نچ نہیں آ نے دیتے۔زندگی اور موت کا اختیار آدمی کے ہاتھ ہوتا تو کوئی جی ہی نہ پاتا۔ اب ہسپتال کی دوسری جانب چلئیے جہاں ہر وارڈ کیساتھ باتھ روم منسلک ہیں اس قدر گندے ہیں کہ پاؤں رکھتے ہی انتڑیاں منہ کو آ تی ہیں۔چار باتھ رومز میں سے صرف ایک بغیر کنڈی کے استعمال کے قابل ھے مگر گند اور بو سے بھرا پڑا، پہریدار کو باہر کھڑا رہنا پڑتا ھے ایک عدد لوٹا دستیاب ھے۔باری کا انتظار بھی کرنا پڑتا ھے۔واش بیسن میں بہتی ٹوٹیاں جو چوبیس گھنٹے کی سروس سر انجام دیتی ہیں کو کپڑے کے ٹکڑے کیساتھ زبردستی باندھ کر روکنے کی کوشش کی گئی ھے مگر بیکار۔ پانی ھوں تو بہوں گا ہی تو۔اگلی صبح پانی کو واش بیسن سے (چلونگ) کر خالی کیا جاتا ھے۔ذرا سوچیے یہاں سے گزرنے کے بعد جراثیم قدم بقدم پوری وارڈ کا راونڈ لگاتے ہیں ایسے میں جراثیم بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں؟ ڈسٹ بین کے منہ سے گند باہر کو چھلانگیں مارتا نظر آ تا ھے۔ہر وارڈ میں چھ سے آ ٹھ بیڈ ہیں ہر بیڈ کیساتھ پنکھا اور ڈراڑ۔کچھ پنکھوں کے بٹن نہیں انکی لگاتار ورزش سے چھٹی اور کچھ کڑک آواز کیساتھ ہوا بکھیرتے۔بیڈز پر میلی کچیلی چادریں اپنی لائی گئی چادر آ پ بچھا نہیں سکتے،اگلی صبح تک اسی چادر پراتفاق کرنا ہوگا۔میٹریسس ایسے کی جیسے بلی،کتوں کی لڑائی میں انکو نوچاگیا ہو۔ڑراڑ زنگ آ لود اور گندے۔ایک اور بات بتاتی چلوں ہسپتال میں مریضوں سے زیادہ کاکروجوں نے بسیرا کر رکھا ھے۔نگہداشت وارڈ میں جہاں مریضوں کی ایک حد سے زیادہ دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جاتا ھے جراثیم کا حدشہ زیادہ ہوتا ھے۔وہییں کاکروجوں نے ہلہ بول رکھا ھے وارڑ کو وراثت سمجھ کر آ وارہ گردی کرتے نظر آ ئیں گے۔مریض کا حال احوال ان پر گھوم پھر کر پوچھتے ہیں۔انکے کھانے کی اشیاء بھی چیک کرتے ہیں۔مریض کے لئے مفید ہیں یا نہیں۔ارے کوئی تو انکو آ پریشن وارڈ میں لے جاؤ اور انکا خاتمہ کرو۔ اتنے بڑے ہسپتال میں انکی کوئی دوائی،سپرے دستیاب نہیں۔ اگر یہ فائدہ مند ہوں تو گھروں میں انکو پٹ انسیکٹس کیطرح پالنا چاہیے۔ بیڈ کی نیچے گردوغبار کا غلاف آٹا ہوا اور اسکے اوپر پڑیمریض۔عملے کو یہ تک نہیں معلوم کہ اس وارڈ میں پڑے بیڈ اونچے کیسے ہوں گے کبھی وائیر کا بہانہ،یہ ہمارا کام نہیں، تو کبھی کچھ۔ڈاکٹر کہہ کر چلے جاتے ہیں کہ مریض کا سر اونچا کریں بیڈ اونچا کرنا آ تا نہیں تو ورثا خودی بیٹھ کر سر کو کئی گھنٹوں اپنے سینے سے لگائے بیٹھتے ہیں۔مگر کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔اتنا ہی نہیں اگر آپ ایکسرے کرانے کر دوران اونچا بول دیں یا غصہ ہو جائیں تو ایکسرے رپورٹس ھی غلط ہو جائیں گی یہ کہہ کر ٹال دیا جائے گا کہ مشینری میں پرابلم ھے باقیوں کے رزلٹس درست آئیں گے مگر آ پ کے نہیں۔ اگر عوام بولتی ھے تو مجرم/قصوروار عوام کو ہی ٹھہرایا جاتا ھے۔ہسپتال میں مہنگی دوائیاں آ پکو خرید کر لانی پڑتی ہیں اور سستی ہسپتال کے اسٹور پر دستیاب ہیں. ایمرجنسی وارڈ کو دیکھ کر لگتا ھے مویشیوں کی منڈی ھے۔بدبو اور گند ہی گندملے گا۔راولاکوٹ سی۔ایم۔ایچ کا ہر ڈیپارٹمنٹ اپنے اندر ہر آنگ میں اپنی ایک داستان لئے بیٹھا ھے۔اسکا نام تجربہ گاہ ہونا چاہیے۔ذرا سوچیے روز ایسے کتنے واقعات رونما ہوتے ہوں گے۔جنکی پوچھ کھچ کرنے والا کوئی نہیں۔راولاکوٹ سی۔ایم۔ایچ کی ہرشے نرالی ھے کبھی نہ سننے والے باتیں سنیں فیمیل ڈاکٹرز شوکیس پر بیٹھ کرٹانگیں لہراتی ہوئی باتیں کرتی نظر آئیں گی پارکنگ ہال میں بھی فی میل ڈاکٹرز آ پکو فٹ پاتھ پر بیٹھی گھنٹوں باتیں کرتی نظر آ ئیں گی۔۔اتنا ہی نہیں نرسز بھی کالز پر مصروف ملیں گی دو یا تین منٹ نہیں گھنٹوں باتیں ہوتی ہیں۔اپ برائے مہربانی انتظار فرمائیں۔ لمحہ فکریہ سعودی حکومت نے یہ ہسپتال ہمیں تحفے کے طور پر دیا جسمیں ہر طرح کی مشینری،ادویات سٹور،لیبارٹریز جنمیں تمام میڈیکل ٹسٹوں کی سہولت موجود تھی اب بھی کیا یہ



سیاسی ٹیکری سے یادگارِ شہداء تک


سیاسی ٹیکری سے یادگارِ شہداء تک (چٹکا) تحریر: ڈ اکٹر محمد صغیر خان (راولاکوٹ) کسی مقام کا نام یونہی ہی بام عروج پر نہیں پہنچتا کہ ناموری بے سبب نہیں ملا کرتی۔ ایسا ہی اُن کے ساتھ بھی ہے۔ وہ جگہ یا مقام گئے دنوں کے راولاکوٹ کے پہلو میں تھی۔ ایک ٹبہ ٹیلہ سا جو اب پھیلتے بڑھتے راولاکوٹ کے دامن بیچ سما گئی ہے۔ یہ ٹبہ ٹیلہ پہلے ’’سیاسی ٹیکری‘‘ کہلایا کہ 1947ء سے پہلے اس علاقے میں ہو نے والی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔ اس زمانے میں نہ سیاست آسان تھی نہ اس کا مرکز ہوتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تب جو نام و مقام سامنے آئے انہیں ایک وقار ملا۔ یاداش بخیر کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں 15 اگست 1947ء کو مقامی عوام کا ایک بڑا اجتماع ہوا جس میں مہاراجہ کی شخصی حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان ہوا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قبل ازیں 22 جون 1947ء کو راولاکوٹ کے گائوں پوٹھی مکوالاں میں مولوی اقبال خان کے گھر ایک ہائی پروفائل اجلاس ہوا تھا جس میں چوہدری حمیداللہ سمیت پونچھ بھر سے سیاسی عمائدین نے شرکت کی اور کشمیر کی آزادی اور مہاراجہ کی ظالمانہ حکومت کے خلاف جدوجہد اور بغاوت کا فیصلہ کیا۔ 22 جون 1947ء اور مآبعد کے حالات میں سیاسی ٹیکری، تحریکی اور کسی قدر انقلابی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ راولاکوٹ بازار سے متصل یہ جگہ اپنے محل وقوع کے لحاظ سے نمایاں اور خوبصورت تھی، اسی لئے 15 اگست 1947ء کو ایک بڑے اجتماع کے لئے اسی کا انتخاب ہوا۔ اب ’’سیاسی ٹیکری‘‘ اہلیان پونچھ کے سیاسی مزاج کے لئے ایک استعارہ بن گیا اور یوں اسے خاص شہرت ملی۔ 1947ء کے بعد اگرچہ اس مقام پر سیاسی سرگرمیوں میں کسی قدر تھوڑ ضروری آئی لیکن اس مقام کا نام اور احترام ہمیشہ باقی رہا کہ یہ جگہ تاریخی اہمیت کی حامل تھی۔ اسی تاریخی اہمیت کے پیش نظر بالآخر ’’سیاسی ٹیکری‘‘ کے مقام پر ’’یادگارِشہدائ‘‘ بنانے کا فیصلہ ہوا۔ اس حوالے سے ’فیصلہ ساز‘ تو یقینا بہت سے تھے اور اس بابت ایک ’فورم‘ بھی قائم ہوا لیکن یادگارِشہداء کی تعمیر کو محض چند ایک لوگوں نے حرزِجاں بنائے رکھا ہے۔ اس میں فعال ترین کردار سردارعبدالخالق ایڈووکیٹ کا ہے۔ سردار عبدالخالق ایڈووکیٹ دھیمے مزاج کے خوش طبع انسان ہیں۔ وہ محنت اور توجہ سے اپنے کام میں جتنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی نئے کام و منصوبہ کی بنیاد فراہم کرنے کا حوصلہ و سلیقہ بھی رکھتے ہیں۔ سیاسی ٹیکری کے مقام پر یادگارِشہداء کا کام یقینا ایک اوکھا کام ہے کہ یہاں کے مقامی لوگ اپنے کام سے متعلق عمومی طور پر تسائل کا شکار رہتے ہیں، البتہ دوسروں کے لئے ان کا دل ہمیشہ دریا بلکہ سمندر بنا رہتا ہے۔ اسی لئے یادگارِشہداء کے لئے فنڈز کی فراہمی ایک مشکل عمل رہا ہے لیکن صدمبارک کہ جنرل (ر) انور خان صاحب اور سردار عبدالخالق ایڈووکیٹ نے اپنے ذاتی روابط اور مسلسل اصرار سے کچھ نہ کچھ حاصل کیا اور یوں یادگارِشہداء جسے غالباً آزادی مینار کا نام دیا گیا کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ یادگار یا مینار ’’ہمہ صفت‘‘ بنانے کے لئے سنجیدہ منصوبہ کی گئی اور یوں ایک بھاری پتھر اٹھا لیا گیا۔ یادگار کی بنیادیں پڑیں وسائل کی آڑے آتی رہیں بلکہ فی الوقت بھی منتظمین شدید کمی بلکہ ایک نوع کی کوتاہی کا سامنا ہے اور یوں یہ کام کچھوے کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ خوش کن امر یہ ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود سردار عبدالخالق خان ایڈووکیٹ دیگر احباب کی معاونت اور سرد روّیوں کی ودعیت سمیٹتے آگے بڑھ رہے ہیں اور یادگار کا ایک حصہ تکمیل پا چکا ہے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ یادگار کی نچلی منزل پر ایک معقول کتب خانہ بنیاد پا چکا ہے اور اس کا ’’نک نقشہ‘‘ کچھ ایسا نکل آیا اب ایک عرصے سے وہاں اجلاس منعقد ہوتے ہیں اور خوبصورت محفلیں جمتی ہیں۔ اس اہتمام کے لئے سول سوسائٹی کے فعال کرداروں کے تال میل سے ایک ’’فورم‘‘ یا ’’تھینک ٹینک نما‘‘ تخلیق کیا گیا جس کے زیرانصرام مختلف سماجی و تاریخی معاملات و موضوعات پر ’’بیٹھکیں‘‘ ہوتی ہیں جو تبادلہ خیالات ار رحجان سازی کے لئے یقینا مفید ہوتی ہیں۔ آزادی مینار اور یادگارِشہداء اس علاقے کا تاریخی اثاثہ و چہرہ ہے اور ایک ثقافتی علامت بھی۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے جلدازجلد بہترین صورت میں مکمل کیا جائے۔ اس کی تکمیل کے لئے حکومت، صاحبانِ اقتدار، موثر شخصیات سیاسی کرداروں اور عوام الناس سمیت ہر طبقہ ہائے زندگی کی طرف سے دلچسپی اور معاونت کا ’’تقاضہ‘‘ ہو تو بے جا نہیں ہو گا۔ ایک ایسے وقت میں جب ریاست جموں کشمیر کی وحدت اور تحریک آزادی کشمیر کی ’’زندگی‘‘ کو شدید خطرات لاحق ہیں ایسے میں ’’شہدائ‘‘ اور ’’آزادی‘‘ سے متعلق اجتماعی مراکز کا قائم اور فعال ہونا یقینا کسی قدر نیک شگون ہو گا۔ اس لئے ہم بس کو ’’اجتماعیت‘‘ کی اہمیت کو سمجھ کر باہم مل کر چلنا ہو گا اور ریاستی وجود وحدت کی علامات اور معاملات کو زندہ رکھنا ہو گا کہ اس میں ہمارا وقار اور عزت ہے۔ ویسے چلتے چلتے… کیا خوب ہو کہ اگر ہم سب بالعموم اور صاحبان استطاعت بالخصوص سردار عبدالخالق خان ایڈووکیٹ کی آواز پر لبیک کہیں اور اس تاریخی عمل میں حصہ بقدر جثہ ڈالیں اور اپنے علاقے، ملک اور شہر کو ایک خوبصورت چہرہ مہیا کرنے کی کاوش باہم مل کر کریں… کہ اجتماعیت ہمیشہ خیر کی حامل ہوتی ہے۔



فروغ تعلیم میں سدھن ایجوکیشن کانفرنس اور کیپٹن حسین خان شہید کالج راولاکوٹ کا کردار


فروغ تعلیم میں سدھن ایجوکیشن کانفرنس اور کیپٹن حسین خان شہید کالج راولاکوٹ کا کردار (سہانے خواب :ڈاکٹر محمد نواز خان ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پید اکیا ۔ انسان کی تخلیق جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے کی ۔ پڑھو اور تمھارا ربّ بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا ۔انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھااور اس کے علاوہ کچھ نہیں بس اس کے لیے وہی ہے جس کے لیے اس نے کوشش کی ۔ اے نبی ؐ ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت اور معلم بنا کر بھیجا ۔ کیا لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا یا دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں ۔نبی کریم ؐ نے فرمایا تم میں بہتر وہ ہے جو خود علم سیکھے اور دوسروں کو بھی سیکھائے ۔ حیرت اس قوم پر جو تعلیم و ترقی میں سب سے پیچھے ہے جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا ۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ۔’’کہ ایک باپ کی جانب سے اپنی اولاد سب سے بہتر تحفہ ان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت ہے ۔ ماں کی گود بچے کے لیے پہلی درس گاہ ہے ۔فاتح عالم نپولین نے ملکی بھاگ ڈور سنبھالتے ہی امراء اور عمائدین پر مشتمل دربار سے خطا ب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ مجھے پڑھی لکھی ماں اور صحت مند بچے دیں میں آپ کو ایک مضبوط قوم دوں گا ۔ دراصل نپولین اس امر سے واقف تھا کہ بچے ہی مستقبل کے معمار اور ایک طاقت ور قوم کی بنیاد ہوتے ہیں ۔اگر بچے صحت مند اور درست خطوط پر تعلیم و تربیت حاصل کررہے ہوں۔ اسطرح جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو وہ ذمہ دار شہری ہونگے ۔بچوں کے مستقبل میں ایک کامیاب ذمہ دار انسان بنانے کے لیے ان کواچھا ماحول فراہم کرنا اور ان کے مسائل کو سمجھنا بنیادی طور پر والدین ،اساتذہ اور علماء کرام کی ذمہ داری ہے ۔ مختصر تمہید کا مقصدیہ تھا کہ 1934 ء میں ایک مرد مومن مر د حق کرنل خان محمد خان نے ان مندرجہ بالا چیزوںکو محسوس کیا اور اپنے آپ کو مضبوط مجاہد کی حیثیت میں سامنے لایا ۔ انہوں نے علامہ اقبال کے اس فلسفہ کو سمجھا علامہ اقبال کا پیغام تھا ۔ نہیں ہے اقبال نا امید اپنے کشت ِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی مثبت پہلو انقلابی سوچ اور پوری قوت کے ساتھ جو کام کریگا تاریخ اس کی محتاج ہو گی ۔ بشرطیکہ جذبہ خدمت انسانیت کا ہو اور میدا ن عمل میں بے خطر کود پڑے آتش نمبرود میں عشق ۔ محض کسی کی آواز بلند کرنے سے بھی کوئی تبدیلی یا انقلاب نہیں آسکتا ۔اس کے لیے سنجیدہ قیادت کی تبدیلیوں کی جدو جہد ضرورت ہوتی ہے ۔یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں تاریخ بناتی ہیں اور مورخ انہی کے کارناموں کا مرہون منت ہوتا ہے اور وہ شخصیات کرنل خان محمد خان جیسی ہوتی ہیں اور یا کے ۔ایچ خورشید جیسی ہوتی ہیں ۔ایک مٹھی بھر آٹا کی مہم چلاتا ہے اور دوسرا کیپٹن حسین خان شہید کالج جیسے تعلیمی ادارے کی منظوری دیتا ہے ۔ یقینا آج جو لوگ اس کانفرنس میں موجود رہیں ان میں سے زیاد ہ سے زیادہ کا تعلق ان دونوں چیزوں سے منسلک ہے ۔گو کہ کشمیر کے صوبے جموں وکشمیر میں 1930 ء میں چوہدری غلام عباس نے ینگ مسلم ایسو سی ایشن او سری نگر میں شیخ عبداللہ نے ریڈنگ روم پارٹی کی بنیادرکھی ان دونوں تنظیموں کا مقصد بھی عوام میں بیداری پیدا کرنا تھا ۔ مگر جموں وکشمیر اور سری نگر اس وقت بھی تعلیم کے مرکز اور بڑے شہروں میں شمار کئے جاتے تھے ۔ دونوں شہروں میں ڈگری کالجز تھے مگر سدھنوتی کا رقبہ اتنا بڑا تھا کہ وہ آج چار اضلاع پر مشتمل ہے ۔اس وقت مرد مومن مر د حق کرنل خان محمد خان نے 1934 ء میں سدھن ایجوکیشن کانفرنس کی بنیاد رکھی جس کا مقصد عوام کی تعلیم عام کرنے کے بعد ایسے مواقع پیدا کرنا تھا کہ لوگ اپنے بچو ں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم دلوانے کی طرف متوجہ ہوں ا س عوامی تحریک کو کامیاب کرنے کے لیے انہوں نے انتھک محنت کی ۔ پونچھ کے پہاڑی علاقوں کے چپے چپے میں پیدل سفر کیا ۔ گائوں گائوں گئے، ہر دروازے پر دستک دی ۔ کتنا خوش نصیب ہے یہ شخص نہ صرف مرد بلکہ ہر ماں ، بہن بھی اس غریب اور درویش سردار کے گیت گانے لگی۔ اسطرح کا کردار حسین خان شہید ڈگری کالج کا بھی ہے ۔ ہاں سب یاد رکھیں اس وقت تو بات صرف نسوار تک محدود تھی مگر اس وقت بات کلاشنکوف ، ہیروئن ، شیشہ ، کمپیوٹر اور موبائل کا غلط استعمال، سگریٹ نوشی ، غیر اخلاقی حرکات ، منشیات کا استعمال ، فحاشی و عریانی ، بے حیائی ایک فیشن بن چکا ہے ۔ ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے ہم سب نے مل کرایک مہم چلانی ہے او ر اس وقت ہمارے پاس سب سے اچھا پلیٹ فارم سدھن ایجوکیشن تنظیم کا ہے ۔ یہ خان صاحب کی مٹھی بھر آٹا اور نسوار کی ڈبیہ گندی نالی میں پھینکنا ، سر سید احمد خان کی چندہ مہم کے ہم پلہ تھی ۔ خواتین نے دل کھول کر اس میں حصہ لیا تھا ۔ جب کہ اس وقت خواتین زیادہ پڑھی لکھی بھی نہیں تھیں ۔ ماشاء اللہ اس وقت بچوں سے بچیاں زیاد ہ پڑھی لکھی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ دعوت ان تک پہنچانے کی کوشش ہو اس لگن کے ساتھ جس طرح بابائے قوم نے کی تھی ۔ اصل میں سدھن ایجوکیشن کانفرنس ریاست پونچھ میں اصلاح بیداری عوام کی تحریک تھی اور اس کے لیے غالباًخان صاحب نے سر سید احمد خان کی تحریک محمڈن ایجوکیشنل سو سائٹی کو ماڈل بنایا تھا ۔ اسطرح 1947 ء میں جنگ آزادی کشمیر تک تنظیم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کافی حد تک کامیاب ہوچکی تھی ۔اس وقت نہ صرف پونچھ بلکہ جموں وکشمیر کے عوام نے سردار محمد ابراہیم خان کی صورت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان قیادت ہی نہیں بلکہ سینکڑو مجاہدین تیار ہو چکے تھے ۔1947 ء کی جنگ آزاد ی تک لگ بھگ 80 ہزار تربیت یافتہ فوجی جوان جنگ میں ایک طوفان بن کر مکار دشمن پر ٹوٹ پڑے جس کے پیچھے کرنل خان محمد خان کاخلوص تھا ۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قبیلہ کو اکٹھا کیا جائے تاکہ کسی بھی برے وقت میں دوبارہ وہی جذبہ حب الوطنی دیکھنے میں آئے ۔ اب تاریخ کے دھارے بدلے ،سوچ کا انداز بدلا ، زمانے کی ترجیحات تبدیل ہونے لگیں ،خود غرضی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سدھن قبیلے جیسے بہادر اور جنگجو قبیلے میں جس قیادت کا خلا پیدا ہوا اور اس قبیلہ کی طرح سدھن ایجوکیشنل کانفرنس بھی انحطاط پذیر ہوئی اور وقتا ً فوقتاً جذبہ قیادت نے اسے دوبارہ منظم کرنے پر اکسایا اور ٹھوس بنیادوں پر تنظیم کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش ہوئی ۔جس کے نتیجہ میں کچھ نبیادی کام سابق صدر سدھن ایجوکیشنل کانفرنس سردار رفیق صاحب نے کوشش کی ۔سابق صدر سردار صدیق خان صاحب نے کوشش کی اور ان کی خوش قسمتی کے ایک انتہائی متحرک اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار جنرل سیکرٹری ڈاکٹر غلام حسین اور میجر مشتا ق صاحب نے نئے عزم کے ساتھ کوششیں کیں اور مالی معاونت کے لیے سردار فاروق اور ریٹائر ڈ میجر جنرل ڈاکٹرافتخار حسین خان نے زیادہ حصہ ڈالا اور اسی طرح درد دل رکھنے والے ہر ممبر نے اپنی جیب کی قوت کے مطابق حصہ ڈالا جس کے نتیجہ میں اللہ کے فضل سے سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کا مرکزی آفس زیر تعمیر ہے ۔ یقینا 22 ، 23 اگست کو جو ایجوکیشنل کانفرنس ہورہی ہے اس میں عملی طور اقدامات پر بات ہو گی اور انشاء اللہ آفس کی تعمیرمیںتیزی آئے گی اور تمام ممبران نئے جوش و جذبے سے فیلڈ میں نکلیں گے ۔ جس کے نتائج بھی مثالی ہوں گے ۔ اس کانفرنس میں بھی خوش قسمتی یہ ہے کہ سردار فاروق صاحب امریکہ سے تشریف لا رہے ہیں ان کے عملی اقدامات لوگ انکی زبان سے سنیں گے ۔اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں پروفیسر ڈاکٹر نسیم صاحب ، پروفیسر ڈاکٹر رحیم صاحب ، تنظیم کے سیکرٹری جناب ڈاکٹر غلام حسین صاحب اور دیگر ممبران جو پر جوش جذبہ سے کا م کر رہے ہیں سب قابل تعریف ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اس کوشش کو استحکام بخشے اور یقین ہے کہ اس تنظیم کے دو پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے مالی تعاون اور عملی تعاون کے نظریہ سے سدھن فیملی کے تمام خواتین و حضرات اس تنظیم کے پروگرام کی تکمیل کے لیے مٹھی بھر آٹا تصور کو جدید طریقہ کار سے منظم کرے گی ۔ تاکہ اہم اپنی تاریخ کو دوبارہ زندہ کرسکیںاور بات قوم کی اس اصلاح تحریک جاری رہنی چاہیے اس کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کل تھی اور ہر زمانے میں اس کی ضروت برقرار رہے گی ۔ الحمداللہ اس وقت بھی سدھن ایجوکیشنل پروگرام کے لیے ممبران موجود ہیں جو اپنی بے لوث خدمت اور بے مثال قیادت باصلاحیت خوش فکر حلیم الطبع قیادت مسلسل جدوجہد میں مصروف عمل ہے ۔ جس نے اپنی ذہانت ،متانت عوام سے محبت اور دیانت سے اس ایجوکیشنل پروگرام کو ترقی کی نئی شاہراہ پر گامزن رکھنا ہے ۔ آخرمیں :۔ یا رب یہ آفتاب سدا زفشاں رہے تنویر اس کی اس زمیں پر مہرباں رہے تسلسل اے خدا یہ رکھنا قائم بہت ہیں خواب بے تعمیر ابھی تک ۔



’’سدھن ایجوکیشن کانفرنس‘‘…اور ’’اچھوتا عمل‘‘


’’سدھن ایجوکیشن کانفرنس‘‘…اور ’’اچھوتا عمل‘‘ (چٹکا) تحریر: ڈ اکٹر محمد صغیر خان (راولاکوٹ) نیلی کہوڑی اپر سوار میاں آیا چھے چھن ناں صوبیدار میاں جس چھڑائی ایہہ نسوار میاں جہیڑا قوماں ناں سردار میاں پڑھو لا الہ الا اللہ … جی ہاں یہ وہی ’’صوبیدار‘‘ ہے جسے آج تاریخ کہیں بابائے پونچھ کہتی لکھتی ہے اور کبھی اسے ’’پونچھ کا سرسیّد‘‘ کہا مانا جاتا ہے۔ کرنل خان محمد خان المعروف ’’صوبیدار صاحب‘‘ ریاستی و مقامی تاریخ کا ایک اہم باب اور روشن کردار ہیں۔ اُنہوں نے جہاں علمی و انتخابی سیاست میں حصہ لیا اور ریاستی وحدت، وجودوہیت کو مسلمہ جانا وہاں معاشرتی فلاح، تعلیمی ترقی اور سماجی اصلاح کا بیڑا بھی اٹھایا۔ اس کام کو مربوط و منظم کرنے کے لئے کرنل خان محمد خان نے سدھن ایجوکیشن کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے اُنہوں نے علم، سادگی، محنت اور بھائی چارے کی ترغیب دی اور اس عید میں مروّج مختلف نوع کی نشستوں سے بچائو کی کاوش کی تو ساتھ ہی لوگوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لئے ’’مٹھی آٹا سکیم‘‘ سمیت بہت سے اقدامات اٹھائے۔ خان صاحب نے معاشرے میں رائج ’’رم‘‘ کی انتہائی قبیح رسم کا خاتمہ یوں کیا کہ ان کے بہت بعد تک عمومی و ان پڑھ لوگ ’’رم‘‘ کھانے اور ’’رم کھانے والوں‘‘ سے شدید نفرت کرتے تھے۔ بدقسمتی سے ’’رم‘‘ جیسی رسومات آج ہمارے معاشرے میں کسی اور نام اور جدید ’’پیکنگ‘‘ میں موجود ہیں ہیکن تسائل پسندی اور جہالت کے تدارک اور نشہ خوری اور رم سے گریز کے لئے خان صاحب کی جدمسلسل تاریخ کا روشن باب ہے۔ خان صاحب نے سدھن ایجوکیشن کانفرنس کے پلیٹ فارم سے تعلیم کے پھیلائو کے ہمہ جہتی جدوجہد کی۔ اُنہوں نے بحیثیت ’’مبر اسمبلی اپنے ربط و تعلق کو بھی تعلیمی اداروں اور ذرائع رسل و رسائل کی تعمیر کے لئے استعمال کیا اور خود بھی درالعلوم پلندری ایسی عظیم درسگاہ کے قیام کو عمل میں لایا۔ علاوہ ازیں اُنہوں نے مقامی لوگوں کو برطانوی فوج میں ہونے کی طرف راغب کیا جس سے مقامی لوگوں کی معیشت بہتر ہوئی اور ان کو تعلیم و اصلاح ایسے اعمال کی متوجہ ہونے کی فرصت ملی۔ فوج میں بھرتی کے باعث مقامی لوگ جب دنیا کے دوردراز علاقوں میں گئے تو وہاں کے حالات سے اُنہوں نے بہت کچھ سیکھا اور ان کے ’’وژن‘‘ میں وسعت بھی پیدا ہوئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب 1947ء میں مہاراجہ کی ظالمانہ شخصی حکومت کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف پونچھ اور دوسرے علاقوں میں عوامی بغاوت کا آغاز ہوا تو فوج سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد میدان کارِزار میں کودی اور بہادری و جرات کی نئی تاریخ رقم کی۔ کرنل خان محمد خان نے 1947ء میں مہاراجہ اور ہندوستانی فوجوں کے مقابل کشمیر کی فوج یا مجاہدین کی ترتیب اور تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پر اُنہوں نے ’’وارکونسل‘‘ بنائی جس کی بنیاد اور مرکز پلندری میں تھا۔ یاد رہے کہ ’’وارکونسل‘‘ ہی وہ ’’فورم‘‘ تھا جس میں 24 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کی انقلابی مقامی حکومت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا… چلتے چلتے یہ بھی کہہ دینا ضروری ہے کہ 24 اکتوبر 1947ء کو بننے والی انقلابی حکومت کا ’’اعلامیہ‘‘ اپے اصل ریاست کی وحدت اور آزادی کا ’’پروانہ یاترانہ‘‘ کہلا سکتا ہے۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ اس کے بعد کے کئی اقدامات پر سوال بھی اٹھ سکتا ہے اور انگلی بھی، اور ان سے اختلاف کا جمہوری و انسانی حق بھی محفوظ ہے، لیکن یہاں بات صرف کرنل خان محمد خان اور ان کی قائم کردہ سدھن ایجوکیشن کانفرنس کے تعلیمی اور سماجی اقدمات تک ہی رکھی جائے تو مناسب ہے… اس حوالے سے سدھن ایجوکیشن کانفرنس محض ایک ’’نشانی‘‘ نہیں اثاثہ بھی ہے کہ اسی کی کاوش سے اس علاقے کو ماضی بعید میں بیشمار اعلیٰ ذہن میسر آئے جنہوں نے اس معاشرے پر اپنے دوررس اثرات مرتب کیے۔ اپنی دہائیوں کی تاریخ میں سدھن ایجوکیشن کانفرنس نے اپنا سفر جاری رکھا۔ کبھی اس کی رفتار ’’کچھوے موافق ‘‘ ہوتی تو کبھی ’’رتھ‘‘ کی طرح چلی اور کبھی اس کو پہئے لگانے کی سنجیدہ کاوشیں ہوتیں۔ بہرحال ’’جیسے تیسے‘‘ یہ فعال رہی اور اس کی فعالیت کا ایک فائدہ اور ھبی ہوا کہ ’’کبّے لت پرے آئی‘‘ اور اس کی دیکھا دیکھی اور کہیں کہیں تقابل و خفگی کے جذبات کے تحت مختلف علاقوں اور قبائل میں اسی نوع کی تنظیمیں بنیں جو اپنے اپنے دائرہ کار و اثر میں ہمارے معاشرے کے لئے بہرطور سودمند ثابت ہوئیں۔ طویل تاریخ کی ’’رنگارنگی‘‘ اور ’’ہمہ ہمی‘‘ رکھنے والی یہ تنظیم گزشتہ چند برسوں سے ایک بار ’’نشاۃ ثانیہ‘‘ کے سفر پر نکلنے کی خواہش لئے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس تنظیم نے اس دوران جہاں راولاکوٹ میں ’’ایجوکیشنل کمپلیکس‘‘ کی تعمیر کو شکل دینے کی ٹھانی ہے وہاں اہل و ضرورت مند طلباء و طالبات کی طرف سے بھی مناسب توجہ کی ہے۔ اس کے علاوہ ’’Do More‘‘ کے طور پر سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کی ذیلی تعلیمی کمیٹی نے پروفیسر ڈاکٹر نسیم خان صاحب کی سربراہی میں ’’نیاکچھ‘‘ کرنے کا سوچا، کھوجا اور پھر 22 اگست کو اسے تعلیمی کانفرنس و ازاں بعد ادبی سرگرمی کے طور پر معاشرے کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ اس عمل میں ڈاکٹر نسیم کے نادیدہ معاونین کون ہیں؟یہ تو وہی جانتے ہوں گے لیکن اُنہوں نے ڈاکٹر سلیم صاحب، ڈاکٹر رحیم صاحب، ڈاکٹر رفیق صاحب، ڈاکٹر رئوف صاحب، عابد صدیق، وسیم اعظم اور جامعہ پونچھ کے دیگر کولیگز اور کیپٹن حسین خان شہید پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ کے تعاون سے واقعی ’’اچھوتا‘‘ قدم اٹھایا ہے جو بلاشبہ ایک مثبت روایت کا آغاز ہے۔ اس نوع کی کانفرنسیں، اجتماعات اور اکٹھ لوگوں کے تال میل اور تنظیم کے متحرک کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی کانفرنس اور اس سے جڑی دوسری سرگرمیوں پر ڈاکٹر نسیم اور ان کے متعلقین و معاونین کو بہت زور سے شاباش کہنے کو دل کرتا ہے کہ چلئے مدت بعد سہی ایک بڑی ایجوکیشنل کانفرنس کی مثبت تعلیمی سرگرمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جو اپنے اندر ’’بہت کچھ‘‘ کرنے کی امید بھی ہے اور اظہاریہ اور پوری تنظیم کے لئے ’’ہلاشیری‘‘ کا باعث بھی ہے۔ دعا ہے کہ نیک جذبوں اور مثبت سوچ کے عوامی اصلاح اورفلاح کا یہ عمل جاری رہے اور بلاتخصیص، پسند و ناپسند سے ماورا ’’بہبود‘‘ کا پہیہ لچتا رہے کہ حرکت زندگی کی علامت ہے اور ’’زندگی‘‘ اور ’’مثبت‘‘ اور ’’اثبات‘‘ سے رنگ پاتی ہے اور یہی رنگ خوبصورتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ چلتے چلتے یہ کہ جہاں سدھن ایجوکیشنل کانفرنس اور اس کا ایجوکیشنل کمپلیکس تعریف و تعاون کا متقاضی ہے وجہاں استادان محترم ڈاکٹر نسیم و ڈاکٹر رحیم یعنی ’’’ٹیم نسیم رحیم‘‘ کی تعلیمی کانفرنس اور دوسری سرگرمیاں اور اس سب کے لئے حسین شہید کالج راولاکوٹ کی معاونت بھی قابل لحاظ فعل ہے جس کو سراہا جانا ضروری ہے کہ کچھ اداروں و افراد کی فعالیت پورے معاشرے میں متحرک و تحریک کا ذریعہ بن سکتی ہے اور یوں ہمارا ’’جامدپنا‘‘ دور بھی ہو سکتا ہے۔



کشمیر برائے فروخت۔۔۔۔ جو دوا کے نام پر زیر دے، وہ چارہ گر۔۔۔۔۔۔


کشمیر برائے فروخت۔۔۔۔ جو دوا کے نام پر زیر دے، وہ چارہ گر۔۔۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے۔ بشیر سدوزئی 5/ اگست 2019 کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے خبر جاری ہونے کے تمام ذرائع بند کر دئے حتی کہ انسانی حقوق کے مستند کارکن خرم پرویز، نام ور فوٹو گرافر جرنلسٹ مسرت زہرہ سمیت صحافیوں کیمرہ مینوں اور قلم و زبان استعمال کرنے والے افراد کو شہید کر دیا گیا یا ٹارچر سیل میں پہنچا دیا گیا۔ سری نگر کے لال چوک سے بارہ مولا کے پہاڑوں تک وری ناگ سے چکوٹی اور شوپیاں سے بانیال کی بلندیوں تک،بازاروں، میدانوں، گھاٹیوں اور کھلیانوں میں قبرستان سی خاموشی اور موت جیسا سناٹا ہے۔ کچھ معلوم نہیں ہو رہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اب کیا سوچ رہے ہیں بس نوجوانوں کے قتل کی خبر آتی ہے تسلسل سے کبھی دو کبھی چار افراد کو شہید کیا جاتا ہے۔ اسی سبب بلا ضرورت کوئی گھر سے باہر بھی نکلتا کہ بے قصور مارا جاوں گا، سڑکیں اور گلیاں ویراں ہیں۔ لگ بھگ ایک کروڑ افراد مارے خوف کے گھروں میں دبک کر بیٹھے ہیں۔ حتی کہ ہوا کے لیے کھڑکیوں کے کِواڑ بھی نہیں کھولتے۔ اس ظلم و ستم پر حیران و پریشان ہیں کہ اکناف عالم ان کو دنیا کی سب سے بڑی جیل کے قیدی تو مانتا ہے مگر ان کا مقدمہ لڑنے کوئی سامنے نہیں آتا۔ بھارت کا موقف ہے کہ 5 اگست کے اقدام سے جموں و کشمیر کے عوام مطمئن ہیں اور وادی میں پہلے کی جیسی افراتفری اور سیاسی بے چینی نہیں رہی ،کشمیری بھارت یونین میں شامل ہو کر خوش ہیں۔ کشمیریوں کی یہ حالت ہے کہ ہر دل زخمی ہے ، لیکن وہ زخمی دل دیکھائیں کس کو۔ کوئی زخم بانٹنے والا بھی تو ہو۔۔۔ گزشتہ 75سال سے مختلف اوقات میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر مذمتی بیان جاری ہوتا رہتا ہے، اس میں یہ جملے بھی ہوتے ہی کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں ۔ جو بھی لوگ اپوزیشن میں ہوتے ہیں لگتا ہے کشمیریوں کے بڑے ہمدرد اور غم خوار وہی ہیں جب حکومت میں آتے ہی کان بند اور منہ سل جاتے ہیں ۔۔2019 کے بھارتی اقدام پر پاکستانی اپوزیشن نے شور مچا رکھا تھا کہ عمران خان نے کشمیر فروخت کر دیا۔۔ آج بھارت 40 لاکھ غیر کشمیری ہندوؤں کو کشمیر کی شہریت دے چکا ، جن میں سے 25 لاکھ کو انتخابی ووٹر لسٹ میں شامل کر رہا ہے جو آئندہ انتخابات میں ووٹ دیں گے۔ وادی کشمیر میں ہونے والے سابق انتخابی ریکارڈ کے مطابق کل تقریبا 30 لاکھ ووٹر حق رائے دہی استعمال کرتے رہے ہیں ۔ ان میں 25 لاکھ کا یک مشت اضافہ ایک بڑی تبدیلی لائے گا، جس سے وادی کی سیاست ہی نہیں زبان و ادب اورفن و ثقافت پر بھی اثر پڑے گا ۔ مسلم لیک ن کی قیادت میں قائم پاکستان میں تمام پارٹیوں کی قومی حکومت نے دلیرانہ اقدام کرتے ہوئے اعلان کیا کہ " پاکستان نے مقبوضہ کشمیرمیں غیر ریاستی افراد کی ووٹر لسٹوں میں شمولیت کی کوششوں کو مسترد کردیا" ان کے لیے یہی کہا جا سکتا ہے کہ " جو دوا کے نام پر زیر دے، وہ چارہ گر تو یہی ہیں" صرف یہ بیان دے کر خاموش ہو جانے سے کیا بھارت خوف زدہ ہو کر کشمیر چھوڑ دے گا یا آپ کے اس بیان کو پڑھ کر مذید دو چار نوجوان جذباتی ہو کر نعرے لگائیں گے کہ پاکستان کی حکومت ہمارے ساتھ کھڑی ہے، اس جرم میں وہ مارے جائیں گے۔ 75 سال گزر گئے ایسے ہی بیانات کے آسرے پر، سلمان اختر سے معذرت کے ساتھ تھوڑی سی تبدیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوابوں کے آسرے پہ بہت دن جیے ہیں ہم ۔۔۔۔۔ شاید یہی سبب ہے کہ تنہا رہے گئے ہیں ہم ۔۔۔۔کشمیری اب خاموش انتظار کر رہے ہیں، وہ کیا کریں تو یقین آئے کہ وفادار ہیں، ان کے مسائل دنیا تک کون پہنچائے گا ان کے سر پر اب سید علی گیلانی نہیں رہے، اشرف صحرائی بھی نہیں ہے۔ مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک، قاسم فکتو، آسیہ اندرابی اور میر واعظ عمر فاروق بھی نہیں سب جیلوں میں ہیں۔ انہوں نے جدوجہد میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، ابھی تک موصول ہونے والی دستیاب معلومات کے مطابق 5 اگست 2019 سے 2022 تک 698 افراد ماورائے عدالت قتل کئے گئے۔ 515 افراد آمنے سامنے مقابلے میں شہید یوئے۔گویا شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1213 کے لگ بھگ ہے۔33 خواتین بیوہ ہو گئیں 82 بچے یتیم ۔2172 افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران 17139 افراد کو بلاوجہ گرفتار کیا گیا۔ 1989تا 2022ء تک مجموعی طور پر 96946 افراد کو شہید کیا گیا۔ 25940 افراد زخمی ہوئے۔خواتین کو گھروں میں گھس کر یا فوجی چھاونیوں میں لے جا کر ریپ کرنے کی تعداد 11246 ہے۔ سب سے خوف ناک واقعات کنن پوش پورا اور سرن کوٹ پونچھ کے ہیں جہاں بھارتی فوج نے بطور جنگی ہتھیار اجتماعی ریپ کیا۔ مردوں کو قتل یا باندھ کر رات بھر اجتماعی ریپ کرتے رہے۔ 107855 بچے یتیم ہوئے۔11045 مکانات، 15000 دوکانیں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا۔ مجموعی طور پر اب تک کشمیریوں کا 40 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا، اب کشمیر میں سرامکس سمیت کشمیری صنعت بند ہے جو شاہ ہمدان کے دور میں شروع ہوئی تھی۔2011 سے اب تک ہندوؤں نے کشمیری تاجروں کی مصنوعات کا بائی کاٹ کیا ہوا ہے۔ کشمیر میں فروٹ کے درخت بھارتی فوج نے سکورٹی خطرات کے نام پر کاٹ دئے۔ بھچا کچھا فروٹ وادی میں ہی جل سڑ رہا ہوتا ہے۔ 8652 اجتماعی گم نام قبریں دریافت ہوئیں۔2014 میں پیلٹ گنز کا استعمال شروع ہوا جس سے 120 افراد شہید اور 15500 شدید زخمی ہوئے۔ جن میں بچے اور خواتیں بھی شامل ہیں اکثر کی کی آنکھیں ضائع اور چہرے داغ دار ہو گئے۔۔ 1947 سے اب تک مسئلہ کشمیر کے تنازر میں سات لاکھ سے زائد افراد شہید ہو گئے۔ 14 ہزار سے زائد سیاسی کارکن اور قائدین کو ٹارچر سیلوں میں رکھا ہوا ہے جن میں آسیہ اندرابی سمیت کئی دیگر نامور خواتین بھی شامل ہیں ۔ آج بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مقامی پولیس پیراملٹری فورسز اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے علاوہ 10 لاکھ سے زائد بھارتی فوجی کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لئے کیمیائی ہتھیاروں بھی استعمال کرنے لگے ہیں جس سے اجتماعی طور پر سول آبادی مختلف بیماریوں میں مبتلاع اور اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔آزاد کشمیر حکومت اور اسمبلی کے کردار کے بارے میں سپریم کورٹ مظفرآباد کے باہر 19 اگست کو ایک وکیل صاحب نے درست انداز میں تشریح کی اس سے زیادہ بہتر انداز میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جو اسبملی ممبران اپنے بچوں کے مستقبل کے خطرات کے پیش نظر بلدیاتی اداروں اور اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات نہ ہونے دیں کہ قوم سے کوئی نوجوان نمایاں ہو کر سیاست میں آ گیا تو ان کے نالائق بچوں کو سیاست سے باہر کر دے گا ان سے خیر و بھلائی کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی پارٹیوں کو خواہ وہ مقبوضہ کشمیر کی مین اسٹریم پارٹیاں ہیں آزادی پسند یا آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں پاکستانی پارٹیوں کی فرنچائز ایک نقطہ پر جمع ہونا ہو گا اور وہ ہے رائے شماری اس سے قبل آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور حریت کانفرنس پر مبنی کشمیریوں کی نمائندہ حکومت تسلیم کر کے بین الاقوامی سطح پر بھارت کے خلاف جہارانہ سفارتی مہم کی ضرورت ہے اس کے لیے سفارت کاری کے اختیار کشمیریوں کو دئے جائیں دنیا بھر میں موجود کشمیری ڈائس پورا میں سے کچھ افراد کو چنا جائے جن کو رضاکارانہ طور پر سفارت کاری کی ذمہ داریاں دی جائیں تاکہ بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست دی جا سکے۔ بصورت دیگر بھارت نے کشمیر کو ہضم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بعد میں کشمیر فروخت کر دیا حکومت نے پاکستان کی اپوزیشن لاکھ واویلا کرے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔ ۔



جھانوے، رُوہڑے ، موہلےاور دراٹولے


جھانوے، رُوہڑے ، موہلےاور دراٹولے کبیر خان کل ہی کی بات ہے۔۔۔۔’’جھانویں‘‘،’’رُوہڑے‘‘’’موہلے‘‘اور ’’دراٹولے‘‘ ہماری زندگیوں کی اشیائے ضروریہ میںشمارتھے۔اور ہم ان آلات حرب و ضرب سے دشمنوں کو شکست فاش دیا کرتے تھے۔ اپنی ڈیجیٹل نسل کی اطلاع کے لئے ان لوازم کا مختصر سا تعارف پیش کرتے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آسکے: ۱۔ جھانواں ایک آلہ ہے جو دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو مٹّی سے بنتا اور آوے میں پکتا ہے۔یہ ذات کا کھرکھرا ہوتاہے۔ گھریلوخواتین عید کے عید اس سے پھٹی ایڑیاں ، تلوے ،کہنیاں اور صراحی دار گردنیں رگڑ رگڑ کر صاف کرتی ہیں ۔ یعنی یہ ایک آلہ ِ حسن ہے جو عید وعید استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری قسم کا جھانواں بھی جھانواں ہی ہوتا ہے لیکن وہ کچھ زیادہ ہی جھانواں ہوتا ہے۔ عیدوں شب براتوں کا پابند نہیں ہوتا۔ وہ جس مٹّی سے بنتا ہے، وہ بھی اور طرح کی ہوتی ہے۔اک پرتی، لیس دار، چملوٹھ ، اور مستقل مزاج ۔ جھانوے کی یہ قسم ایک مختلف قسم کے آوے میں پکتی ہے۔ جس کا بھلا سا نام ہے، جو اس وقت ہمیں یاد نہیں آرہا۔ لیکن یہ اسی آوے کا اعجاز ہے کہ خواہ کیسی ہی جلد پر کیوں نہ رگڑا جائے، اس کا ککھ نہیں بگڑتا ---، جلد بھانویں لیریں بتیاں ہو ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قصّہ گُل بکاولی، ڈھٹّی باولی اور عالم جنتری جیسی حوالوں کی کتابوں میں اس جھانوے کو صفائی ستھرائی وغیرہ کے لئے استعمال نہ کرنے کی دُہائی آئی ہے۔ نورانی صحیفہنولکھّا پریس میں صاف لکھا ہے کہ۔۔۔’’اکڑّ تکّڑ پہبّے پو،کسّو کسّی نوّے سو‘‘کی نہار منہ تسبیح پڑھ کر دم کرنے سے جِنّ،بلا ،دیو علاقہ چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں ۔ پھر بھینسیں کِلّے پر کھڑی کھلوتی تھنوں میں دودھ اتار دیتی ہیں۔(تاہم پہلا ڈولاجھانواں ڈالنے والے کو دان کرنا ضروری ہوتا ہے۔)۔ پیداوار کے لحاظ سے جھانوے کی یہ قسم سب سےزیادہ مقبول ہے۔ راولاکوٹ اور گردونواح کی مٹّی اور آب و ہوا اس کے لئے موزوں ترین بتائی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ علاقہ میں سائیوں کی تعداد قصائیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسرے نمبر پر ’’روُہڑا‘‘ آتا ہے۔ روہڑا ایکMultipurpose gadget)کثیرالمقاصد آلہ (ہے ۔ یہ ایجاد ِبندہ اگرچہ گندہہے مگردر بھِت اور کھُلے منہ بند کرنے کے کام آتا ہے۔ تاہم اس سے کماحقہ کام لینے کے لئے بھِت پر ایک اڑنگا اور فرش میں اُکھل بنانا پڑتا ہے ۔ پھر اس کا ایک سرا اڑنگے میں ، دوسرا اُکھل میں پھنسایا جاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی مائی کا لال باہر سے بھِت نہیں کھول سکتا۔ رُوہڑا ایک اَن منہ سِری ایجاد ہے ، اس لئے اس سے ویسے ہی کام لئے جاسکتے ہیں ۔ مثلاً آپ کپتّی گھر والی کو راہِ راست پر لا سکتے ہیں ۔ اسی طرح گھر والی آپ کو ٹھکانے بٹھا سکتی ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ اس پر ’’خطرہ 440وولٹ‘‘ اور انسانی کھوپڑی والا بورڈ مستقل چسپاں کر کے رکھیں ۔اشتہاری کھوپڑی سے ڈر کر گھر والی اسے ہاتھ نہیں لگائے گی۔ اور آپ بھی اُس کی فالتو اورپالتودستبرد سے محفوظ رہیں گے۔ روہڑے کے سائیڈ ایفیکٹس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ گھر والی سے بنا کررکھیں یا اُسے منا کر رکھیں ۔ ورنہ جگر کی چوٹ اوپر سے کہیں معلوم ہوتی ہے جگر کی چوٹ اوپر سے نہیں معلوم ہوتی ہے موہلا بھی ایک آلہ ہے۔ جواُکھلی میں دئیے سر اور اناج کو کوُٹ کر برابر کرتا ہے۔ اہلِ زبان اسے موسل کہتے ہیں ۔۔۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ لیکن جو بات موہلے میں ہے، وہ موسل میں کہاں ۔ موسل زیادہ سے زیادہ ’’کِلّا‘‘ یا کھونٹا لگتا ہے ۔ جب کہ موہلا ’’مونگلے‘‘ کا دادا سجھائی دیتا ہے۔ آپ نے کبھی ماٹو کا ’’بوگریاڑ‘‘ دیکھا ہے؟ اگر ہاں تو خداہونی کہیں ،آپ اُسے کِس منہ سے ’’ٹِسّی‘‘ کہیں گے؟؟؟۔ہمارے ہاں موہلا صرف اُکھلی میں دیئے سر چھڑنے کے کام ہی نہیں آتا ، ژالہ باری اور انگریزی میں ’’کُتّوں اور بِلیوں کی برسات‘‘کو بھی روکتا ہے۔ آج کل سندھ میں کُتے بلیاں برس رہے ہیں ،لیکن یہاں پورے محلّے میں کسی گھر میں موہلا دستیاب نہیں ۔۔۔۔۔ ہور چوُپو۔ صاحبو! ایک اور انتہائی مفید آلہ جسے ’’دراٹولہ‘‘ کہتے ہیں ، اپنا گھاس اور پڑوسیوں کی ہری شاخیں کاٹنے کے کام آتا ہے۔ اس کے علاوہ زچہ کے سرہانے رکھا ہو تو بلائیں جفائیں زچہ و بچّہ کے قریب نہیں پھٹکتیں۔ دراٹولہ درانتی کا لاڈلا پوُت ہوتا ہے ۔چنانچہ ہمہ وقت دندانِ آزار تیز رکھتا ہے۔ ایک پریکٹیکل ٹپ گانٹھ میں باندھ رکھیں،کہ حالیہ موسم میں اگر آپ نے کسی کے کچّے’’آرواڑے‘‘ یا سیب چھیل کر کھانا ہیں تو دراٹولے کو ہمہ وقت اپنےکالر سے پُشت پر لٹکائے رکھیں ۔ باقی آپ خود سیانے ہیں ۔ وہ جوکھرکھرے کاریگر’’سُلّی‘‘مٹی اپنے آوے کسی کی چنگی نہ مندی…ہمہ وقت راضی برضا ۔ چنانچہ خوش باش۔ اللہ بخشے ترِنگل چاچا بڑے بیبے بندے تھے۔ لیکن اُن کی پیش بندیاں دیکھنے لائق ہوتی تھیں ۔ مثلاً کل بخیر و خوبی شب برات گُذری ہے تو وہ آج ہی آئیندہ کے لئے مشعلوں کی ’’دھنیاں‘‘ہی نہیں ، ڈالے بھی گھڑ کررکھ چھوڑیں گے۔ ’’کہالی کمائی‘‘ کا موسم سات ماہ بعد شروع ہو گا،اُن کا ہل جوتا آج ہی تیار ملے گا۔ اِدھر سوُکھا پڑا ہے ، خلقت پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔ بارش کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں ، استسقا ٗ کی نمازیں ادا کی جا رہی ہیں ، بستیوں سے باہر جنگلوں میں جا چادریں بچھائی جا رہی ہیں ۔ اُدھر چاچا ترِنگل وہیڑے میں ’’رُہڑا وگانا‘‘کافی نہیں جانتے ،اُسے ’’لہنے‘‘والے پاسے رکھنا ’’لہا یروری‘‘سمجھتے ہیں۔۔۔۔’’رُہڑا اس رخ پر نہ ہو تو اللہ قہرمان ہوتا ہے ۔ پھر برسات کے ساتھ انیاری(اندھکاری؟)بھی جھُلتی ہے۔ چڑکیں کڑکتی ہیں ، بدلیاں پھڑکتی ہیں ۔ مُٹھ مُٹھ گولے پڑتے ہیں ، پتّے ، میوے جھڑتے ہیں ۔ فیر ہیٹھ کی مٹّٗی اُپّرہوتی ہے۔ اِسّے مارے ،جد وی رُوہڑا وہیڑے میں وگاہیں ،اُس کا قبلہ کعبہ سچّے سُچّے رُخ بٹھائیں‘‘۔ چاچا کے اس بیان کی تائید گاوں کے پڑھے پڑھائے میاں صاحب بھی کرتے ہیں ۔ اور اس کی تائید و تاویل میں یوں ’’یوسف زلیخا ‘‘ پیش کرتے ہیں : سوہنی تیری جُتّی ویرا لوہے نِیاں میخاں چنگی بھلی قسمت ویرا اگ لگی زلیخاں ہمارے سیانے اور بیانے ایسے ہی ہوا کرتے تھے ۔چنانچہ امن سکون اور بھائی بندی تھی۔ برادری برادری ہی ہوا کرتی تھی۔



بلدیاتی انتخابات سے خطرہ کس کو ہے؟


بلدیاتی انتخابات سے خطرہ کس کو ہے؟ شفقت ضیاء آزادکشمیر میں جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کی گئی، جس کے نتیجے میں عوام کواپنے نمائندے چُننے کا حق ملا،بے شمار کمزوریوں اور کمیوں کے باوجود سلسلہ چل رہا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ تسلسل سے پراسس چلنے سے بہتری آئے گی لیکن بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے اُن نرسریوں کو ہی بند کر رکھا ہے جو سیاسی کارکن تیار کرتی ہیں،جن میں بلدیاتی انتخابات اور طلبہ یونین شامل ہیں۔کسی ڈکٹیٹرنے ایسا کیا ہوتا تو افسوس بھی نہ ہوتا لیکن نام نہاد جمہوری جماعتوں نے مسلسل 32 سالوں سے آزادکشمیر میں یہ ظلم کیا ہوا ہے۔آزادکشمیر میں آخری بلدیاتی انتخابات 1991 ء میں ہوئے تھے جس میں ہم ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے جس کی وجہ یہ تھی کہ ہمار ا ابھی ووٹ درج نہیں ہوا تھا۔ یوں تقریباََ 50 سال تک کے لوگوں کو بلدیاتی انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے اور الیکشن لڑنے کا علم ہی نہیں۔ خواتین اور نوجوان پوچھتے ہیں،بلدیاتی انتخابات سے منتخب ہونے والے کیا کرتے ہیں؟اس سے بڑا ظلم بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ آپ نے 50 سال تک کے لوگوں کو اس بنیادی حق سے محروم رکھا ہو اہے! آخر اس کی وجہ کیا ہے اور اس سے خوف کس کو ہے؟ بلدیاتی انتخابات اور طلبہ یونین کی بحالی جو نہیں ہونے دیتے خوف بھی یقینا انہی کو ہے۔ گزشتہ 15 سال سے بلدیاتی انتخابات اور طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لکھ رہے ہیں،تینوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اس سے پہلے مسلم کانفرنس اور اب تحریک انصاف ان کی قیادت سے جب بھی موقع ملاتو سوال کرنے پر ہمیشہ یہی جواب دیا گیا کہ یہ بہت ضروری ہیں، ہم اگر اقتدار میں آئے تو بلدیاتی الیکشن فوری کرائیں گے بلکہ انتخابات کے دوران جلسوں میں بھی اعلان کرتے رہے کہ ہم اقتدار میں آئے تو چھ ماہ کے اندر، 3 ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کروائیں گیااور طلبہ یونین بحال کریں گے جیسے ہی منتخب ہوتے ہیں دوسرا منہ لگا دیتے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی جس کے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید تھے اور صدر حاجی یعقوب تھے، انھوں نے اسی طرح پانچ سال گزار لیے، راجہ فاروق حیدر وزیر اعظم بننے سے پہلے الیکشن مہم میں اعلان کرتے رہے کہ 6 ماہ کے اند ر الیکشن کرائیں گے وہ اسی طرح پانچ سال پورے کرگئے اور اب بیرسٹر سلطان 3 ماہ کے اند ر اور تنویر الیاس وزیراعظم آزادکشمیر 6 ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کے وعدے اور اعلان کے بعد کامیاب ہوئے، سال گزر جانے کے بعد الیکشن سے بھاگنے کی تما م تر کوشش کے باوجود جب عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن کی طرف سے شیڈول جاری ہوا تو تینوں مجرم ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے اور کھل کر ثابت کر دیا کہ ہم تینوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ہم ایک ہی ہیں،ہماری ایک ہی کلاس ہے، نام کی ہماری الگ الگ پارٹیاں ہیں ہم نہ پیپلز پارٹی ہیں نہ مسلم پارٹی ہیں اور نہ انصاف پارٹی ہیں یہ سارے عوام کو بے وقوف بنانے کے نام ہیں،ہم سب کی پارٹی مفاد پرست پارٹی ہیں، ہمارا مفاد مشترک ہے،ہماری کلاس ایک اور عوام کی کلاس دوسری ہے، عوام ہماری غلام ہے اور ہم ان کے حکمران ہیں، محلے اور گاؤں سے ہم کسی کو تیار نہیں ہونے دیں گے، ہماری اولادیں اس طرح رہ جائیں گی، تعلیمی اداروں سے بھی یونین بحال ہوگی تو عام آدمی کا بچہ لیڈر بن سکتا ہے اور ہمارا بچہ رہ جائے گا،عام آدمی کے مسائل گاؤ ں میں ہی حل ہوجائیں گے تو ہم اور ہماری اولادیں کیسے حکمرانی کریں گی؟ قانون کی بنیادی باتوں سے ہم ناواقف ہیں۔قانون ساز اسمبلی میں ہم نسل درنسل کون سی قانون سازی کرتے آئے ہیں، انگریز کا نظام قانون آج بھی چل رہا ہے۔ نسلیں گزر جاتی ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا، تعلیم اپنی ہے نہ عدالتی نظام، وہ کام ہم کر نہیں سکتے۔لوگوں کو ساتھ چلانے کا ایک ہی ہمارے پاس طریقہ ہے وہ کھمبہ، سڑک، ٹوٹی وہ بھی ہمارے ہاتھ سے نکلنے کا مطلب یہ ہو گاکہ چند سالوں کے بعد پڑھا لکھا نوجوان آگے آجائے گاپھر ہماری نہیں چلے گی، اس لیے بلدیاتی انتخابات اور طلبہ یونین کی بحالی کو اپنے لیے سیاسی موت سمجھتے ہیں، جس سے یہ ڈرتے ہیں۔ یہ اپنی اور اپنی اولادوں کو مارنا نہیں چاہتے اس لیے اس ہتھیار کو تالالگا رکھا ہے اور اس کو کھولنے کے لیے یہ تیار تھے،نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔ اس کے لیے تینوں ایک ہیں،ان کے وعدے، نعرے مدعوے محض جھوٹ، دھوکہ فراڈ ہیں۔ دیکھانے اور کھانے کے دانت اور رکھتے ہیں۔ آزادکشمیر میں 32 سال بعد ہونے والے انتخابات جس کی تاریخ بھی مقرر ہو چکی تھی، ان کو سب نے مل کر روکا۔ اس کے بعد بھی کسی کو کوئی شک ہے تو احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ ان کی کلاس سے عام آدمی کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہ امیرزادوں کی کلاس ہے جو سمجھتی ہے کہ حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔یہ پارٹیاں بدلتے ہیں، لوٹے بنتے ہیں، ایک دوسرے کو چور ڈاکو کہتے ہیں۔ پاکستان اور آزادکشمیر میں انھوں نے طوفان بدتمیزی قائم کر رکھا ہے۔ نوجوان نسل کو گالیاں اور بدتمیزی سیکھاتے ہیں، عام کارکن ان کی وجہ سے ایک دوسرے سے دست راز ہوتا ہے جبکہ ان کی خوشیاں غم ایک ہیں یہ دن کو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور اتوں کو اکٹھے کھاتے پیتے ہیں، یہ صرف عام آدمی کو اور مخلص کارکنوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ان کے مفادات ایک جیسے ہیں،جس کے لیے بعض اوقات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو کہنے والوں سے کوئی پوچھے تم سب نے مل کر عوام کے حق پر جو ڈاکہ مارا ہوا ہے اُس کے بعد اس میں کیا شک رہتا ہے کہ تم سارے ایک ہو۔ آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات یہ اپنے بس میں نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان میں بھی عدالتوں کے زور پر ہوئے ہیں، سپریم کورٹ ان کو مجبور کرے تو ہو سکتے ہیں جس کے لیے بھی انہوں نے تیاری کرلی ہے کہ اگر مجبورََ ایسا کر نا ہی پڑے تو اختیارات اپنے پاس ہونے چاہیے تاکہ اپنی پسند سے اپنی اولادوں کو بھی لاسکیں ورنہ پاکستان بھر میں ایک الیکشن کمیشن کا ادارہ ہے جو پورے ملک میں اسمبلی سے لے کر بلدیات تک تمام انتخابات کراتا ہے جو آئینی اور بااختیار ادارہ ہے۔ آزادکشمیر کا خطہ کتنا سا ہے جس کے لے انھیں الیکشن کمیشن سے یہ کام واپس لینے کے لیے پندرہویں ترمیم کرنی پڑی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس مکمل اختیارات ہیں وہ حکومت کے زیر اہتمام نہیں اس لیے نئے متوازی الیکشن کو قائم کرنے کے لیے یہ کام کیا گیا ہے جو الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد بھی ہے اور من پسند لوگوں کو بھرتی کرنے کی چال بھی ہے۔ اس لیے خود مختار اور بااختیار ادارہ سے وہی کام لینے کے بجاے بلدیات کا الگ الیکشن نظام بنایا جارہاہے۔ جس سے قومی خزانے پر بوجھ پڑھے گااس وقت تک انتخابات کے حوالے سے کروڑوں روپے خرچ ہوچکے وہ کون دے گا؟ قومی خزانے کے ساتھ مل کر یہ کھیل کھیلنے والے کون لوگ ہیں؟اب بھی عوام نہیں سمجھیں گے تو کب سمجھیں گے؟ تینوں بڑی جماعتوں کے کارکنان کو اب ان کی طرح ایک ہونا چاہئے، اس طرح دو جماعتیں بن جائیں گی، ایک عام آدمی کی پارٹی اوردوسری مفاد پرستوں،اشرافیہ کی پارٹی جو پہلے سے موجود ہیں۔ بس جس طرح یہ کھل کر سامنے آئے ہیں سیاسی حقیقی کارکنوں کو بھی آنا ہوگا اور مل کر اپنا حق چھینا ہو گا۔ اب فیصلہ کرنا ہوگاکہ ہماری ماؤں نے ہمیں آزاد جنا ہے یہ کون ہوتے ہو ہمیں غلام بنانے والے۔ اسی صورت میں بلدیاتی انتخابات بھی ہوسکتے ہیں اور طلبہ یونین بھی بحال ہوسکتی ہے ورنہ ان سے اُمید رکھنا حماقت ہوگی یہ جھوٹے، مکار بہروپیے ہیں ان کی کلاس ہی الگ ہے ان سے اعلان بغاوت میں ہی نسلوں کا مستقبل ہے ورنہ آنے والے مزید 50 سال ایک اور نسل رخصت ہو جائے گی ان کی جگہ ان کی اولادیں ہوں گی۔ قانون ساز اسمبلی کے وزیرہائیر ایجوکیشن ایسے ہی بنتے جائیں گے جو قتل کیس میں اند ر ہوں گے، لیکن انتخابات میں یہی لوگ کامیاب ہوتے رہیں گے۔ بلدیاتی انتخابات اور طلبہ یونین کی بحالی کے بغیر اب جنرل الیکشن نہیں ہونے چاہئے اور بلدیاتی انتخابات بھی صاف، شفاف ہونے چائیں،تعلیم قابلیت گریجویشن ہونی چاہئے تاکہ آئندہ عام انتخابات کے لیے بھی یہی رکھی جائے ورنہ یہ میڑک پاس پی ایچ ڈی والوں پر وزیر بنتے رہیں گے اور شرمندہ ہوتے رہو گے”اب یا کھبی نہیں“فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سب اس لیے ایک ہوئے ہیں کہ ان کو بلدیاتی انتخابات سے خطرہ ہے۔ عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی یہ بتاکس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟



عمران خان کے امریکہ سے تعلقات


عمران خان کے امریکہ سے تعلقات ارشاد محمود گزشتہ چند ہفتوں سے میڈیا میں ایک طوفان برپا ہے کہ تحریک انصاف نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔خبر پھیلائی گئی کہ عمران خان کی امریکی سفیر سے ویڈیو لنک پر بات ہوئی۔واشنگٹن میں پی ٹی آئی نے ایک امریکی فرم کی خدمات مستعار لی ہیںتا کہ امریکی میڈیا اور حکام کے سامنے پارٹی کا نقطہ نظر بہتر طریقے سے پیش کیا جاسکے۔پی ٹی آئی کے نقاد ان خبروں کو خوب مسالے لگاکر تجزیہ اور تبصرے کررہے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن اور وقار قائم کرنا محض عمران خان کی خواہش نہیں بلکہ ہر حکمران اور پاکستانی کی رہی ہے۔پاک امریکہ دوستی کے معمار جنرل ایوب خان نے تنگ آکر : Friends not Masters کے عنوان سے کتاب لکھی ۔ جنرل ایوب نے کتاب میں رونا رویا کہ امریکہ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کے بجائے دھونس جماتاہے۔با الفاظ دیگر پاکستان کے قومی مفادات اور عوامی جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرتاہے اور نہ ان کی پروا کرتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور نوازشریف کے دور میں جس تحقیر آمیز لب ولہجے میں امریکی حکام ہدایات جاری کیا کرتے تھے انہوں نے پاکستانیوں کو بہت رنجیدہ کیا۔افغانستان کی جنگ میں پاکستان کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا لیکن امریکی حکام صرف اپنے مفادات کی تکمیل پراصرار کرتے رہے۔ بھول کون سکتاہے کہ تسلسل کے ساتھ ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتاتھا۔ پاکستانی حکام کو دورغ گو اور پیسہ کے پجاری قراردیاجاتا۔ انہیں طعنہ دیاجاتاکہ وہ افغانستان میں دوہراکھیل کھیل رہے ہیں۔ امریکہ سے پیسہ بھی ا ینٹھ رہے ہیں اور ڈیلیور بھی نہیں کررہے۔ عمران خان برسراقتدارآئے تو یہ منظر نامہ بدلنے لگا۔ بتدریج پاک امریکہ تعلقات بہترہوئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان میں گاڑھی چھننے لگی۔افسوس! صدر بائیڈن کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔عمران خان نے نچلے درجے کے امریکی اہلکاروں کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیا۔ حتیٰ کہ سی آئی اے کے سربراہ کے دورے پاکستان میں ملاقات کی درخواست کی گئی تو انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے ہم منصب سے ملیں۔ امریکی حکام ایسے کسی پروٹوکول کے عادی نہیں۔چند برس قبل سابق امریکی سفارت کار Dennis Kuxکی پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے ایک دلچسپ کتاب The United States and Pakistan, 1947-2000: Disenchanted Allies کے عنوان سے چھپی ۔ مصنف کے بقول امریکی سفارت خانے کی تقریبات میں اعلیٰ پاکستانی حکام کی شرکت معمولی کی بات تھی۔ وزیراعظم لیاقت علی خان تو سفارت کے تھرڈ سیکرٹری کے استقبالیہ میں بھی آجاتے تھے۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنہوں نے پاکستانی وزارت خارجہ اور حکومت کو غیر ملکیوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں ایک ضابط کا پابندکیا جس کی انہیں قیمت چکانا پڑی۔ عمران خان کا نقطہ نظر اصولی طور پر درست ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات دونوں ممالک کے باہمی مفادمیں ہونے چاہیںنہ کہ ایک فریق کے مفاد کی تکمیل کرتے کرتے کمزور فریق مسائل کی دلدل میں مزید الجھ جائے۔ دونوں ممالک کے دوستانہ اور کشیدہ تعلقات کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ معاشی پابندیاں بھی امریکہ نے پاکستان پر لگائیں۔ ایف سولہ جنگی طیاروں کی قیمت لے کر انہیں پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد فراہم کرنے کے بجائے نائن الیون کے بعد مسلسل بھارت کی پیٹھ ٹھونکی۔ایٹمی پروگرام پر ڈٹ کر پاکستان کی مخالفت کی۔ خود ہتھیار دیتاہے اور نہ ٹیکنالوجی لیکن چین سے جو تعاو ن یا مدد ملتی ہے اس پر بھارت کا ہمنوا بن کر پاکستان کی ناک میں دم کردیتاہے۔ شکایات کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے طاقت ور ملک ہے۔ جب چاہتاہے پاکستان کی طرح کے کمزور ملکوں کا حقہ پانی بند کردیتاہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اس کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی لاٹھی ہیں۔ مشرق وسطی کے دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر امریکی پالیسیوں سے ہم آہنگ رہتے ہیںاور ان ممالک سے گریز کرتے ہیں جو امریکہ کی گڈ بکس میں نہیں۔یعنی ہاتھی کے پاؤں میں سب کے پاؤں۔ پاکستان کی داخلی سیاست کا رخ متعین کرنے میں جہاں پاکستانی اداروں کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں وہاں امریکہ اور سعودی عرب کے کردار سے بھی انکار ممکن نہیں۔سادہ الفاظ میں اسلام آباد میں اقتدار کا راستہ عوامی مقبولیت سے ہموار نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے کئی اور داخلی اور خارجی عوامل کو بھی ہمنوا بنانا پڑتاہے۔ عمران خان ایک عملیت پسند سیاستدان ہیں۔ ماضی میں وہ زندہ نہیں رہتے۔ اگر امریکہ میں پی ٹی آئی نے کسی فرم کی خدمات حاصل کی ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستان کی سب بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کو محض چند سرپھروں کی روح کی تسکین کی خاطر اپنی حکمت عملی مرتب نہیں کرنی بلکہ اسے پاکستان کے بہتر مستبقل کی فکرکرنی ہے۔خیبر پختون خوا حکومت اور وزیراعلیٰ کی امریکی سفیر سے ملاقات بھی ایک مثبت قدم ہے۔ ملکوں، جماعتوں اور اداروں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کوئی مستقل عنصر ہے۔ کل تلک پیپلزپارٹی اور نون لیگ کو صف دشمناں میں شمار کیاجاتاتھا ۔ ان کے ساتھ تال میل رکھنے والوں کو بھی غداری کا سرٹیفیکیٹ دیا جاتاتھا ۔آج وہ نہ صرف برسراقتدار ہیں بلکہ مقتدر حلقوں کی آنکھ کا تارہ ہیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ادارے رائے عامہ کی طاقت کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔چودہ اگست کی شب لاہور میں ہونے والے جلسہ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ عمران خان پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ آدھی آدھی رات تک لوگ ان کا خطاب سننے جلسہ گاہ میں نہ صرف موجود رہتے ہیں بلکہ پورے جوش وخروش کے ساتھ ان کی گفتگو کا جواب بھی دیتے ہیں۔ روز بہ روز خان کی مقبولیت میں اضافہ ہورہاہے۔ الیکشن جلد ہوں یا تاخیر سے ۔عمران خان کا کوئی نقصان نہیں۔ پنجاب جہاں الیکشن کا بڑا دنگل برپا ہوتاہے وہاں پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت ہے جو کامیابی کے ساتھ اپنے پنچے گاڑھ رہی ہے۔ مقبولیت کے جس گھوڑے پر عمران خان سوار ہیں شاہد کوئی سیاستدان ان کی پارٹی چھوڑ نے کا خطرہ مول لے۔ وزیراعلیٰ پرویز الہٰی اور پی ٹی آئی کا سارا فوکس اگلے الیکشن ہیں ۔ وہ عوامی فلاح وبہبود کے منصوں کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ ووٹر ز کا اعتماد حاصل رہے۔دوسری جانب نون کی حکومت کا سکہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے شروع ہوکر فیض آباد چوک سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ ملک کو انتشار سے بچانے کا واحد حل یہ ہے کہ شفاف الیکشن ہونے دیئے جائیں جو بھی پارٹی برسراقتدار آئے اسے حکومت کرنے دی جائے۔سازشوں کے ذریعے منتخب حکومتوں کے تختہ الٹنے کا رواج اب ختم ہونا چاہیے۔



آئین میں پندر ویں ترمیم کا نیا شو شہ


آئین میں پندر ویں ترمیم کا نیا شو شہ جسٹس (ر)منظورحسین گیلانی آئین میں پندر ویں ترمیم کا نیا شو شہ سوشل میڈیا سے پتہ چلا ہے کہ وزیر حکومت خواجہ فارق احمد نے آئین میں ترمیم کا پندرہواں بل اسمبلی میں پیش کردیا ہے لیکن یہ وہ بل نہیں جو متنازعہ تھا اور گمنام حلقوں سے گشت کرتا ہوں آزاد کشمیر پہنچ گیا -یہ بل آئین کی ان دفعات کی ترمیم سے متعلق ہے جس کے تحت آزاد کشمیر کے بلدیاتی اداروں کے الیکشن کا اختیار آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کو آئین کی تیرویں ترمیم کے تحت دیا گیا تھا - آئین اور قوانین میں ترمیم ارتقائ پراسس کا حصہ ہے یہ جاری رہتا ہے اور رہے گا - آزاد کشمیر کے آئین میں اس وقت تک تیراں ترامیم ہو چکی ہیں -پاکستان کے آئین میں شائید سینتیس اور ہندوستان کی آئین میں ایک سو سات - قوانین میں ترمیم حالات کے تبدیل ہونے یا نئی وجوہات پیدا ہونے عوامی یا ریاستی مفاد میں کی جاتی ہیں- الیکشن کرانا دنیا بھر میں الیکشن کمیشنر کا کام ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک قومی آئینی ادارہ ہوتا ہے جس کے ممبران کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے - اس کے چئیرمین کی تقرری وزیر اعظم پاکستان کی ایڈوائس پر کی جاتی ہے - اس کے پاس ٹرینڈ مشینری، ووٹر فہرستیں ہوتی ہیں اور یہ حکومت کے اثر و نفوظ سے بالاتر ہوتا ہے - جبکہ مجوزہ بلدیاتی کمیشن حکومتی ادارہ ہے - مجوزہ ترمیمی بل میں یہ اختیار اس ادارے سے لیکر بلدیات الیکشن کے لئے آئین کے تحت ہی الگ الیکشن کمیشن مقرر کیا جارہا ہے جس کے سربراہ اور ایک ممبر کی تقرری کا اختیار حکومت آزاد کشمیر کو حاصل ہوگا - یہ ادارہ وزیر اعظم کی ایڈوائس پر ادارے میں ملازمین کی تعیناتی اور تقرری کے قواعد بنا سکے گا - یہ عملی طور ایک بلمقابل الیکشن کمیشن ہوگا- جو کام الیکشن کمیشن نے کرنے ہوتے ہیں وہی کام یہ بھی کرے گا لیکن ایک حکومتی مشینری کے طور اور عملی طور حکومت مشینری کا حصہ ہوگا - سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئ جب قومی الیکشن کمیشن نے اعلی عدلیہ کے احکامات کے مطابق بلدیاتی الیکشن کرانے کی ساری تیاریاں مکمل کر کے اس کا شیڈول بھی جاری کردیا تھا - حکومتی پارٹی سمیت آزاد کشمیر کی تمام پارلیمانی اور چند بڑی سیاسی جماعتوں نے ایکا کیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن نہیین ہونے دینے کیونکہ اس صورت میں دیہی سطح پر تعمیر وترقی کے سارے کام بلدیاتی اداروں کو منتقل ہو جائیگے - ممبران اسمبلی تعمیر و ترقی کے نام پر حکومت سے جو فنڈ لیتے ہیں وہ بلدیاتی اداروں کے زریعہ خرچ ہونگے اور ممبران اسمبلی کا ان کاموں میں کوئ عمل دخل نہیں ہوگا - یہ لوگ عام لوگوں پر ان فنڈس کی آڑ میں کوئ اثر و رسوخ نہیں رکھ سکیں گے - یہ کام دیہات یا وارڈ کے لوگوں کی نگرانی میں ہونگے - اس طرح اسمبلی کے ممبران، وزیر ، وزیر اعظم اور ان کے اتحادی بلدیاتی کونسلوں کے محتاج ہو جائینگے اور قیادت کی ایک نئ کھیپ تیار ہو جائیگی جو ان کو گوارہ نہیں - حکومت نے بلدیاتی الیکشن نہ کرانے یا ان کو التوا میں رکھنے کے لئے الیکشن کمیشن پر بھر پور دباؤ ڈالا جس کو قبول کرنا اس کے بس میں نہ تھا کیونکہ یہ کام سپریم کورٹ کے حکم کے تحت ہورہا تھا - سپریم کورٹ پر بھی اثر انداز ہونے کی بھر پور کوشش کی گئ جو کا گر ثابت نہ ہوئ آخر میں سیاسی جماعتوں / اسمبلی کے زریعہ ایک مشترکہ قرار داد کے زریعہ الیکشن ملتوی کرانے کی کوشش کی گئ اور اس سلسلے میں سب سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ سے مشترکہ طور رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ، جس کی ایک کڑی وزیر قانون کے چیف جسٹس آزاد کشمیر کو سیاسی جماعتوں کے سیکریٹری جنرل بلانے کا مشورہ دیا گیا جس کا سپریم کورٹ نے برا منا کر وزیر قانون کو نوٹس بھی جاری کیا لیکن میں اس بحث میں نہیں جاؤں گا - اب حکومت نے آخری وار کے طور قومی الیکشن کمیشن سے یہ کام واپس کر کے عملی طور حکومت کے زیر اھتمام لینے کے لئے متوازی الیکشن کمیشن قائم کرنے کے لئے آئین میں پندرہویں ترمیم پیش کی ہے جس سے عدالتی احکامات پر بلواسطہ اور قومی الیکشن کمیشن پر براہ راست عدم اعتماد کا اظہار اور ان کے یکم جنوری 2022 کے بعد کے سارے احکامات اور اقدامات کالعدم تصور ہونگے جب سے اس ترمیم کا اطلاق کی جانا مطلوب ہے - - اس سلسلے میں کروڑوں روپے کے اخراجات ، الیکشن کمیشن اور حکومتی مشینری کی ساری سعی دریا برد کردی - مجوزہ ترمیم متوازی الیکشن کمیشن، ایک ہی کام کے لئے دو ادارے قائم کر کے overlappingپیدا کرنے ، ایک ہی کام کے لئے دو بار کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات، کرنے ، موجود الیکشن کا کام صرف اور صرف اسمبلی کے الیکشن کا انعقاد اور اس کے زریعہ کونسل کے ممبران کا جو پانچ سال کے بعد ایک بار ہوتا ہے جو لگ بھگ ایک ماہ کی سرگرمی ہے ، اس سے یہ کام واپس لینا عقل سے ماوراء بات ہے اور جو متوازی ادارہ قائم کیا جارہا ہے اس نے بھی یہ کام چار سال بعد ایک بار کرنا ہے اس میں کون سی عقلمندی ، کون سی حکمت ، کون سی جوازیت اور عوامی مفاد مضمر ہے ؟ یہ حکومت کی اہلیت اور اس کا سسٹم چلانے والوں اور مشیروں کی صلاحئیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے !! جب تک کوئ قانون خواہ وہ آئین ہو یا اس کے تحت قانون ہو Reasonablness, Legitimacy , propriety , Public interest کے معیار پہ پورا نہ اترے ، اس کو اتھارٹی کے اختیار کا جائز استمعال نہیں سمجھا جا سکتا - اس کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے بدلنے ، جمہوری اختیارات کو بنیادی سطح تک پہنچانے میں رکاوٹ ، بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کی آئینی ہدایت کی نفی ہے - اس ترمیم کے مقاصد لوکل باڈیز کے الیکشن Honestly , Justly and fairly منعقد کرنا بیان کئے گئے - کیا قومی الیکشن کمیشن میں Honestly, fairly and justly الیکشن کرانے کی اہلیت اور صلا حیت نہیں ہے ؟ اپنے ہی دوسرے ادارے پر اس طرح کا الزام انتہائ نا مناسب بات ہے - اس مقصد کی جوازیت اور بلواسطہ قومی الیکشن کمیشن کا اس معیار پر پورا نہ اترنے کی وجوہات اور ثبوت پیش کرنا پڑے گا - اگر حکومتی جماعت اور اس کے ہمنوا سیاسی جماعتیں بلدیاتی الیکشن کرانے کے واقعی حق میں ہیں اور ان کو الیکشن کمیشن کے حوالے سے کوئ تحفظات ہیں اس کا حل قومی ادارے کو تباہ کرنا نہیں بلکہ عدالتوں کے زریعہ اس کا ازالہ کرانا ہے - میں نے ایک کہنہ مشق سیاسی لیڈر اور ایک معقول سینئر پارلیمنٹیرئین سے جو اسمبلی کے ممبر بھی ہیں اور پندرہویں ترمیم میں حکومت کے ہمنوا بھی پوچھا کہ آپ لوگ سسٹم کو خراب کیوں کررہے ہیں اس کا جواب تھا ووٹر لسٹیں بھی غلط بنی ہیں اور وارڈ بندی بھی ، الیکشن کمیشن بات سنتا نہیں اور ہائ کورٹ میں معاملات پنڈنگ ہیں وہاں سے فیصلے ہو نہیں رہے ، ظاہر ہے کسی ایسے معقول فورم کی ضرورت ہے جو بات سنے اور بلدیاتی انتخابات منصفانہ ہوں - اگر یہ بات درست ہے تو اس کا حل بھی عدالتیں ہی نکال سکتی ہیں متوازی ادارے بنانے سے مسائل زیادہ پیدا ہونگے حل نہیں ہونگے - آزاد کشمیر میں شریعت کورٹ والی واردات اس کی کلا سیکل مثال ہے - ہائ کورٹ اور سپریم کورٹ میں من مانی خلاف روایات تقرریاں حکومتی اور ریاستی ہی نہیں سیاسی زوال کا باعث بھی بنی - غلطیوں سے سبق سیکھا جاتا ہے - ان کو دہرانے سے ویسے ہی نتیجے بر آمد ہوتے ہیں - اداروں میں بھی انسان بیٹھے ہیں روبوٹ نہیں جو حالات کا ادراک کر کے اس کا حل نہ نکال سکیں - ان ہی سے رجوع کریں - الیکشن تو سیاسی جماعتوں کی قیادت میں عوام نے لڑنا ہے ، یہ کام الیکشن کمیشن نے حکومتی اہلکاروں سے لینا ہے اگر ان سب کے تحفظات ہیں تو الیکشن کیسے ممکن ہوگا ؟ سب کو مل کے objectively سوچنے ، قانونی اور قابل عمل حل نکالنے کی ضرورت ہے - انگریزی کا ایک معروف مقولہ ہے Where there is a wrong there is a remedy اس کمیشن کے ہوتے ہوئے اس طرح کے متوازی ادارے کے قیام کی وجہ حکومتی اکثریت کی آمریت قائمُ کرنے ، باقی سیاسی جماعتوں کا اس عمل میں اشتراک اپنی سیاسی انا کی تسکین کرنے اور ضرورت سوائے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے ، حکومت کی زیر اثر بلدیاتی ادارہ قائم کرنے ، اعلی عدالتوں کے فیصلہ جات کو بے اثر کرنے ، اس ادارے میں حکومت کے من پسند افراد کی بھرتی کرنے کے علاوہ نہ کوئ قومی مقصد ہے ، نہ مصلحت، نہ ضرورت - ممکن ہے یہ اصل پنُدرویں ترمیم کی طرف پہلا قدم ہو -



آزاد جموں و کشمیر گزٹیڈآفیسرز ایسویسی ایشن کی جدوجہد


آزاد جموں و کشمیر گزٹیڈآفیسرز ایسویسی ایشن کی جدوجہد از: سید سلیم گردیزی طویل تعطل کے بعد آزاد جموں وکشمیر کی سول بیورو کریسی مختلف کیڈرز کے آفیسران کی نمائندہ تنظیم‘‘ آزاد جموں وکشمیر گزیٹیڈ آفیسرز ایسویسی ایشن کے انتخابات 13مئی 2014کو منعقد ہوئے۔ بھر پور مقابلے کے بعد ویلفیئر پینل کے تمام امیدواران بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ جس کے نتیجے میں سردار جاوید ایوب ڈائریکٹرفشریز (وقت) صدر اور راقم الحروف (سید سلیم گردیزی، ایڈیشنل سیکرٹری سول سیکرٹریٹ) جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ ویلفیئر پینل نے آزاد کشمیر میں گڈ گورننس کا قیام، جس میں سیکرٹریز حکومت اور دیگر اعلیٰ اسامیوں پر ترقیابیوں /تعیناتیوں کے لیئے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ اور قواعد و ضوابط اور پالیسی کی تشکیل و تدوین اور ہر سطح پر تقرریوں /ریکروئمنٹ کے لیئے میرٹ بیسڈ شفاف نظام کا قیام شامل تھا کو اپنے ایجنڈے میں سر فہرست رکھا۔ اس کے علاوہ آفیسران کی عزت نفس کے تحفظ، آفیسران کے مختلف کیڈرز کے مابین امتیازی سلوک کے خاتمے اور جملہ کیڈرز کو منصفانہ بنیادوں پر تعیناتیوں اور ترقیابیوں کے مواقع کی فراہمی، مختلف محکمہ جات کے سروس سٹریکچرز کو منصفانہ بنایا جانا، پروموشن پالیسی کا نفاذ، سال ہا سال سے رکے ہوئے ترقیابی کے کیسز کی یکسوئی کے لیئے سلیکشن بورڈز کے برقت انعقعاد اور آفیسران کی فلاح و بہبود کے لیئے آفیسرز ویلفیئر فاؤنڈیشن کے قیام کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا تھا۔ جس پر آفیسران نے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا اور ویلفیئر پینل کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ نو منتخب باڈی نے حلف اٹھانے کے بعد وسیع البنیاد مشاورتی باڈی (سنٹرل ایکزیکٹو کونسل) تشکیل دی جس میں نہ صرف جملہ محکمہ جات اور کیڈرز کے آفیسر کو نمائندگی دی گئی بلکہ مد مقابل پینل کے نمائندگان کو بھی شامل کیا گیا تاکہ آفیسران کے ہر طبقے کو فیصلہ سازی اور مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی انتخابی منشور کے نکات اور ملازمین کو بالعموم اور آفیسران کو بالخصوص درپیش مسائل کے حل کے لیئے لائحہ عمل اور سفارشات تیار کرنے کے لیئے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ان کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں نو نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کیا گیا جو سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کی منظوری حکومت کے سامنے پیش کیا گیا۔چارٹر آفس ڈیمانڈز کے حوالے سے آفیسران اور متعلقہ حلقوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیئے اسے باقاعدہ پمفلٹ کی شکل میں شائع کر کے ہر آفیسراور دفتر تک پہنچایا گیا نیز اس کے ہر نکتے پر فالو اپ کے لیئے سینئر عہدیداران اور آفیسران پر مشتمل متعدد ٹاسک فورسز تشکیل دی گئیں اور اس پر عملدرامد کے لیئے بھر پور کوششیں بروئے کار لائی جانے لگیں۔ اس ضمن میں تنظیم کے صدر کی قیادت میں سینئر عہدیداران نے وزیراعظم، وزرائے کرام، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری او رمتعلقہ سیکرٹری صاحبان و سربراہان محکمہ جات سے متعدد میٹنگز کیں جس کے نتیجے میں آفیسران کی ترقیابیوں کے سالہا سال سے رکے ہوئے معاملات رواں ہوئے۔ سلیکشن بورڈ ز برو قت منعقد ہونے لگے۔ متعدد محکمہ جات کے سروس سٹریکچرز میں پائے جانے والے نقائص کو دور کیا گیا۔ جن آفیسران کو اپنے کیڈرز میں ترقیابی کے مواقع دستیاب نہیں تھے، ان کے لیئے یکساں فارمولے کے مطابق ٹائم سکیل ترقیابی کا نظام وضع کیا گیا۔ دریں اثناء حکومت آزاد کشمیر (وقت) کے سینئر وزیر نے وزیر اعظم (وقت) کے پرنسپل سیکرٹری صاحب کو تھپڑ دے مار ا۔ آفیسران کی عزت نفس پر حملے کے حوالے سے ایک ایسا واقعہ تھا جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ گزیٹیڈ آفیسر ایسوسی ایشن کی کال پر عدیم المثال قلم چھوڑ اور تالہ بند ہڑتال کی گئی، احتجاجی مظاہرے کیئے گئے اور سینئر وزیر کی ایسی حرکت کا شدید نوٹس لیا گیا۔ اس ہڑتال میں ملازمین کی دیگر تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔ حکومت نے حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے جنا ب چوہدری لطیف اکبر، وزیر خزانہ منصوبہ بندی و ترقیاب، جناب میاں عبدالوحید وزیر تعلیم اور جناب سردا ر جاوید ایوب وزیر جنگلات پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔ گزیٹیڈ آفیسرز ایسوسی ایشن کی طرف سے سردار جاوید ایوب صدر اور سید سلیم گردیزی جنرل سیکرٹری ایسوسی ایشن پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ فریقین کے مابین مذاکرات میں سہولت کاری اور رابطہ کاری کے لیئے جناب چیف سیکرٹری (وقت) نے جناب نعیم احمد شیراز سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (وقت) کی سربراہی میں ایک کو آرڈینشن کمیٹی تشکیل دی جس میں سیکرٹری سروسز، ڈی آئی جی پولیس اور کمشنر مظفرآباد ڈویژن بھی شامل تھے۔ ہر سہ کمیٹیوں کے ما بین طویل مذاکراتی عمل کے بعد حکومت نے ایسوسی ایشن کے نہ حرف جملہ مطالبات تسلیم کر لیئے بلکہ سینئر وزیر صاحب نے تحریری طور پر معافی بھی مانگی اور حکومت کی جانب سے آفیسران کی عزت نفس کی پاسداری اور ان پر سیاسی اغراض کے لیئے دباؤ ڈالنے سے مکمل اجتناب کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس موقع پر حکومت اور ایسی ایشن کے مابین ایک تفصیلی معاہدہ ہوا جس میں آئیندہ کے لیئے کسی سرکاری ملازم پر حملہ آور ہونے،بد تمیزی یا گالم گلوچ کرنے والے وزیر کو کابینہ سے فارغ کیئے جانے نیز اس کے خلاف متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے قانونی کارروائی عمل میں لائی جانے کا وعدہ کیا گیا۔علاوہ ازیں یہ بھی طے کیا گیا کہ وزراء سرکاری آفیسران سے رولز آف بزنس 1985میں طے کیئے گئے طریق کار کے مطابق ہی معاملات کرنے کے مجاز ہوں گے اور رولز آف بزنس میں وضع کردہ طریق کار سے ہٹ کر سرکاری ملازمین پر اپنی من مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ نیز کسی سرکاری آفیسر سے شکایت کی صورت میں چیف سیکرٹری کو اپنی شکایت سے آگاہ کریں گے اور خود انتقامی کاروائی کے مجاز نہیں ہوں گے۔ معاہدے میں بیورو کریسی میں ترقیابیوں اور تعیناتیوں کو میرٹ کے مطابق عمل میں لائے جانے اور سیکرٹری حکومت و سربراہان منسلکہ محکمہ جات اور دیگر انتظامی عہدوں پر تعینات آفیسران کی میعاد عہدہ (Tenure)کے تحفظ،سیکرٹری حکومت کی آسامی پر صوابدید کی بجائے قواعد کے مطابق تینوں سروس گروپس میں سے تعیناتیوں جیسے مطالبات کو بھی تسلیم کیا گیا۔ یہ ایسوسی ایشن کی ایک بڑی کامیابی تھی جو بعض حلقوں سے ہضم نہیں ہوئی۔ اور طے شدہ امور پر عملدرامد میں رکاوٹیں ڈالی جانے لگیں۔ ایسوسی ایشن کے بنیادی ایجنڈے یعنی گڈ گورننس کے منافی اقدامات کیئے جانے لگے جن میں اعلیٰ عہدوں پر من پسند افراد کی تعیناتیوں اور بعض سروس گروپس کو دیوار سے لگائے جانے کے اقدامات شامل تھے۔ اس پر ایسوسی ایشن ایک مرتبہ پھر بھر پور انداز سے میدان عمل میں آئی اور گڈ گورننس تحریک کا آغاز کیا گیا جس دوران اضلاع اور مختلف محکمہ جات میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے آفیسران کو اعتماد میں لیا گیا او ر آزاد کشمیر کی تاریخ کا ایک فقید المثال گڈ گورننس مارچ کیا گیا۔ گڈ گورننس مارچ اولڈ سیکرٹریٹ سے شروع ہو کر نیو سیکرٹریٹ پہنچا تو حکومت نے دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے سول سیکرٹریٹ کے مین گیٹ بند کر کے مظاہرین آفیسران کا سول سیکرٹریٹ میں داخلہ بند کر دیا۔ آفیسران نے سیکرٹریٹ کے مین گیٹ پر دھرنا دے دیا جو حکومت کی طرف سے آفیسران کے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی پر ختم کیا گیا۔ اس سے قبل سیکرٹری حکومت کی آسای کی نوعیت صوابدیدی اسامی کی تھی جس پر منظور نظر افراد کو بغیر کسی قاعدے ضابطے کے تعینات کیا جا سکتا تھا۔ حتیٰ کہ نان سول سرونٹ بھی سیکرٹری حکومت تعینات ہوتے رہے۔ اس صورت حال میں گڈ گورننس محض خواب و خیال بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسویسی ایشن کے مطالبے پر سیکرٹری حکومت کی آسامی کے قواعد کی تدوین ہوئی جن میں مزید بہتری کی ضرورت ہے تاہم یہ ابتدائی سنگ میل عبور کیا جا چکا ہے۔ گڈ گورننس کے لیئے ایسوی ایشن کی گڈ گورننس تحریک کے نتیجے میں ایسی فضا بنی کہ حکومت نے طویل عرصے سے غیر فعال پبلک سروس کمیشن کو فعال بنایا اور میرٹ پر آفیسران کی ریکروئمنٹ عمل میں لائی جانے لگی۔ سیاسی عہدوں پر تعینات شخصیات سرکاری آفیسران کے بازو مروڑ کر جس طرح غیر جریدہ اور چھوٹے سکیل ہا کی آسامیوں پر اپنے من پسند ملازمین بھرتی کروا لیتے تھے، اس گڈ گورننس تحریک کی کاوشوں سے ہر سطح پر میرٹ کا نظام وجود میں آیا جس کے تحت اب غیر جریدہ آسامیوں پر بھی این ٹی ایس کے ذریعے تعیناتیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ اس میں بھی ایسوسی ایشن کی کاوشوں کا بڑی حد تک عمل دخل ہے۔ صدر اایسوسی ایشن بہود فنڈ ٹرسٹ کے بربنائے عہدہ ممبر بھی ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے بھی متعدد اقدامات عمل میں لائے گئے جن میں ملازمین کے لیئے فیئر ویل گرانٹ،ملازمین کے بچوں کو وظائف اور مرحوم ملازمین کے ورثاء کو ملنے والی گرانٹ میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔ سرکاری آفیسران کی فلاح و بہبود کے لیئے آفیسرز و یلفیئر فاؤنڈیشن کا قیام ایک اہم مطالبہ تھا۔ ایسوسی ایشن کی کاوشوں سے اس سلسلے میں مسودہ قانون محکمہ قانون کی Vettingکے بعد کابینہ کے سامنے منظوری کے لیئے پیش کروایا گیا۔ کابینہ سے منظوری کے بعد قانون سازی کے لیئے اسمبلی کو ارسال کیا گیا جو اب بھی اسمبلی میں منظوری کا منتظر ہے۔ اس حوالے سے سپیکر اسمبلی، وزیر قانون، اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی او دیگر حکام سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں سردار جاوید ایوب اور راقم نے شرکت بھی کی اور مجوزہ مسودہ قانون کی مختلف شقوں کی وضاحت بھی کی۔ دریں اثناء ایسوسی ایشن کا تنظیمی سیشن مکمل ہو گیا۔ مزید فالو اپ آنے والی باڈی نے کرنا تھا جو بعد میں بر قرار نہ رہا۔ سردار جاوید ایوب کی قیادت میں ایسوسی ایشن کی منتخب باڈی نے عزم کیا تھا کہ وہ اپنی میعاد مکمل ہوتے ہی الیکشن کا پراسیس شروع کر دے گی تاکہ انتخابی تسلسل قائم رہے اور آفیسران کی منتخب باڈی مسائل کے حل میں کردار ادا کر سکے۔ ایسو سی ایشن کی تین سالہ میعاد مکمل ہونے سے 45ایام قبل الیکشن کمشنر کا تقرر کر کے انتخابی پراسیس شروع کر دیا گیا۔ ایسو سی ایشن کے سینئر راہنما اور کور کمیٹی کے رکن سرفراز عباسی ڈائریکٹر سماجی بہبود کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا۔ بد قسمتی سے الیکشن کمشنر الیکشن کا انعقاد نہ کروا سکے اور ریٹائر ہو گئے۔ا ن کے بعد ایسوسی ایشن کے سینئر ترین راہنما اور چیف آرگنائزر جناب عابد اعوان سیکرٹری برقیات کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا آفیسر مذکور بھی اپنی ریٹائرمنٹ تک انتخابات کا انعقاد نہ کروا سکے۔ اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے مشاورت کا عمل جاری تھا کہ تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن سید وحید الحسن گیلانی ناظم برقیات نے پیش کش کی کہ وہ انتخابات کروا دیں گے۔ ان کی آمادگی بلکہ فراخدلانہ پیش کش کی روشنی میں انہیں چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا۔وہ وقت اور یہ وقت تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے، آفیسر موصوف انتخابات کے انعقاد میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکے۔ ان کی طرف سے انتخابی فہرستوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تو اے جی آفس سے آفیسران کا نامینل رول بطور انتخابی فہرست انہیں فراہم کیا گیا تاکہ کسی کو بھی اعتراض نہ ہو۔ ایسوسی ایشن کے پاس انتخابات کے لیئے مطلوبہ فنڈز بھی دستیاب تھے اور الیکشن کے انعقاد میں کوئی امر بھی مانع نہ تھا۔ لیکن الیکشن کمشنر موصوف نے اپنے وعدے کی تکمیل میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہ کیا۔اس صورت حال میں ایسوسی ایشن کے صدر جاوید ایوب اور جنرل سیکرٹری سید سلیم گردیزی نے غیر معینہ مدت تک عہدوں پر براجمان رہنے کے بجائے راجہ افتخار حسین کیانی ڈائریکٹر جنرل سنٹرل ڈیزائن آفس کو بطور قائم مقام صدر اور سید اشتیاق حسین جعفری ایڈیشنل جنرل سیکرٹری کو بطور قائم مقام جنرل سیکرٹری نئی منتخب باڈی کے قیام تک تنظیمی معاملات چلانے کی ذمہ داری سونپ کر اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہو گئے۔ صدر اور جنرل سیکرٹری کی جانب سے اس انتہائی اقدام کے بعد بھی نہ تو الیکشن کمشنر ٹس سے مس ہوئے اور نہ عبوری باڈی انتخابات کے انعقاد کے لیئے کوئی متبادل اقدامات عمل میں لا سکی۔ اب یہ آفیسران کمیونٹی کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ عبوری باڈی اور الیکشن کمشنر کو انتخابات کے انعقاد پر مجبور کریں تاکہ آئینی طور پر منتخب باڈی آفیسران کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے کردار ادا کر سکے اور گزشتہ منتخب باڈی کی جانب سے کیئے گئے اقدامات آگے بڑھائے جا سکیں۔ کوئی بھی باڈی اپنی میعاد Tennureکے دوران جملہ مسائل حل نہیں کرا سکتی بلکہ اس کے لیئے تنظیمی تسلسل ضروری ہوتا ہے تاکہ ایک باڈی کے کیئے گئے کام کو آنے والی باڈی آگے بڑھا کر نتیجہ خیز بنا سکے۔ لہذا تنظیمی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیئے فوری انتخابات ناگزیر ہیں۔



آزاد جموں و کشمیر گزٹیڈآفیسرز ایسویسی ایشن کی جدوجہد


آزاد جموں و کشمیر گزٹیڈآفیسرز ایسویسی ایشن کی جدوجہد از: سید سلیم گردیزی طویل تعطل کے بعد آزاد جموں وکشمیر کی سول بیورو کریسی مختلف کیڈرز کے آفیسران کی نمائندہ تنظیم‘‘ آزاد جموں وکشمیر گزیٹیڈ آفیسرز ایسویسی ایشن کے انتخابات 13مئی 2014کو منعقد ہوئے۔ بھر پور مقابلے کے بعد ویلفیئر پینل کے تمام امیدواران بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ جس کے نتیجے میں سردار جاوید ایوب ڈائریکٹرفشریز (وقت) صدر اور راقم الحروف (سید سلیم گردیزی، ایڈیشنل سیکرٹری سول سیکرٹریٹ) جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ ویلفیئر پینل نے آزاد کشمیر میں گڈ گورننس کا قیام، جس میں سیکرٹریز حکومت اور دیگر اعلیٰ اسامیوں پر ترقیابیوں /تعیناتیوں کے لیئے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ اور قواعد و ضوابط اور پالیسی کی تشکیل و تدوین اور ہر سطح پر تقرریوں /ریکروئمنٹ کے لیئے میرٹ بیسڈ شفاف نظام کا قیام شامل تھا کو اپنے ایجنڈے میں سر فہرست رکھا۔ اس کے علاوہ آفیسران کی عزت نفس کے تحفظ، آفیسران کے مختلف کیڈرز کے مابین امتیازی سلوک کے خاتمے اور جملہ کیڈرز کو منصفانہ بنیادوں پر تعیناتیوں اور ترقیابیوں کے مواقع کی فراہمی، مختلف محکمہ جات کے سروس سٹریکچرز کو منصفانہ بنایا جانا، پروموشن پالیسی کا نفاذ، سال ہا سال سے رکے ہوئے ترقیابی کے کیسز کی یکسوئی کے لیئے سلیکشن بورڈز کے برقت انعقعاد اور آفیسران کی فلاح و بہبود کے لیئے آفیسرز ویلفیئر فاؤنڈیشن کے قیام کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا تھا۔ جس پر آفیسران نے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا اور ویلفیئر پینل کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ نو منتخب باڈی نے حلف اٹھانے کے بعد وسیع البنیاد مشاورتی باڈی (سنٹرل ایکزیکٹو کونسل) تشکیل دی جس میں نہ صرف جملہ محکمہ جات اور کیڈرز کے آفیسر کو نمائندگی دی گئی بلکہ مد مقابل پینل کے نمائندگان کو بھی شامل کیا گیا تاکہ آفیسران کے ہر طبقے کو فیصلہ سازی اور مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی انتخابی منشور کے نکات اور ملازمین کو بالعموم اور آفیسران کو بالخصوص درپیش مسائل کے حل کے لیئے لائحہ عمل اور سفارشات تیار کرنے کے لیئے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ان کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں نو نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کیا گیا جو سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کی منظوری حکومت کے سامنے پیش کیا گیا۔چارٹر آفس ڈیمانڈز کے حوالے سے آفیسران اور متعلقہ حلقوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیئے اسے باقاعدہ پمفلٹ کی شکل میں شائع کر کے ہر آفیسراور دفتر تک پہنچایا گیا نیز اس کے ہر نکتے پر فالو اپ کے لیئے سینئر عہدیداران اور آفیسران پر مشتمل متعدد ٹاسک فورسز تشکیل دی گئیں اور اس پر عملدرامد کے لیئے بھر پور کوششیں بروئے کار لائی جانے لگیں۔ اس ضمن میں تنظیم کے صدر کی قیادت میں سینئر عہدیداران نے وزیراعظم، وزرائے کرام، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری او رمتعلقہ سیکرٹری صاحبان و سربراہان محکمہ جات سے متعدد میٹنگز کیں جس کے نتیجے میں آفیسران کی ترقیابیوں کے سالہا سال سے رکے ہوئے معاملات رواں ہوئے۔ سلیکشن بورڈ ز برو قت منعقد ہونے لگے۔ متعدد محکمہ جات کے سروس سٹریکچرز میں پائے جانے والے نقائص کو دور کیا گیا۔ جن آفیسران کو اپنے کیڈرز میں ترقیابی کے مواقع دستیاب نہیں تھے، ان کے لیئے یکساں فارمولے کے مطابق ٹائم سکیل ترقیابی کا نظام وضع کیا گیا۔ دریں اثناء حکومت آزاد کشمیر (وقت) کے سینئر وزیر نے وزیر اعظم (وقت) کے پرنسپل سیکرٹری صاحب کو تھپڑ دے مار ا۔ آفیسران کی عزت نفس پر حملے کے حوالے سے ایک ایسا واقعہ تھا جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ گزیٹیڈ آفیسر ایسوسی ایشن کی کال پر عدیم المثال قلم چھوڑ اور تالہ بند ہڑتال کی گئی، احتجاجی مظاہرے کیئے گئے اور سینئر وزیر کی ایسی حرکت کا شدید نوٹس لیا گیا۔ اس ہڑتال میں ملازمین کی دیگر تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔ حکومت نے حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے جنا ب چوہدری لطیف اکبر، وزیر خزانہ منصوبہ بندی و ترقیاب، جناب میاں عبدالوحید وزیر تعلیم اور جناب سردا ر جاوید ایوب وزیر جنگلات پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔ گزیٹیڈ آفیسرز ایسوسی ایشن کی طرف سے سردار جاوید ایوب صدر اور سید سلیم گردیزی جنرل سیکرٹری ایسوسی ایشن پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ فریقین کے مابین مذاکرات میں سہولت کاری اور رابطہ کاری کے لیئے جناب چیف سیکرٹری (وقت) نے جناب نعیم احمد شیراز سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (وقت) کی سربراہی میں ایک کو آرڈینشن کمیٹی تشکیل دی جس میں سیکرٹری سروسز، ڈی آئی جی پولیس اور کمشنر مظفرآباد ڈویژن بھی شامل تھے۔ ہر سہ کمیٹیوں کے ما بین طویل مذاکراتی عمل کے بعد حکومت نے ایسوسی ایشن کے نہ حرف جملہ مطالبات تسلیم کر لیئے بلکہ سینئر وزیر صاحب نے تحریری طور پر معافی بھی مانگی اور حکومت کی جانب سے آفیسران کی عزت نفس کی پاسداری اور ان پر سیاسی اغراض کے لیئے دباؤ ڈالنے سے مکمل اجتناب کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس موقع پر حکومت اور ایسی ایشن کے مابین ایک تفصیلی معاہدہ ہوا جس میں آئیندہ کے لیئے کسی سرکاری ملازم پر حملہ آور ہونے،بد تمیزی یا گالم گلوچ کرنے والے وزیر کو کابینہ سے فارغ کیئے جانے نیز اس کے خلاف متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے قانونی کارروائی عمل میں لائی جانے کا وعدہ کیا گیا۔علاوہ ازیں یہ بھی طے کیا گیا کہ وزراء سرکاری آفیسران سے رولز آف بزنس 1985میں طے کیئے گئے طریق کار کے مطابق ہی معاملات کرنے کے مجاز ہوں گے اور رولز آف بزنس میں وضع کردہ طریق کار سے ہٹ کر سرکاری ملازمین پر اپنی من مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ نیز کسی سرکاری آفیسر سے شکایت کی صورت میں چیف سیکرٹری کو اپنی شکایت سے آگاہ کریں گے اور خود انتقامی کاروائی کے مجاز نہیں ہوں گے۔ معاہدے میں بیورو کریسی میں ترقیابیوں اور تعیناتیوں کو میرٹ کے مطابق عمل میں لائے جانے اور سیکرٹری حکومت و سربراہان منسلکہ محکمہ جات اور دیگر انتظامی عہدوں پر تعینات آفیسران کی میعاد عہدہ (Tenure)کے تحفظ،سیکرٹری حکومت کی آسامی پر صوابدید کی بجائے قواعد کے مطابق تینوں سروس گروپس میں سے تعیناتیوں جیسے مطالبات کو بھی تسلیم کیا گیا۔ یہ ایسوسی ایشن کی ایک بڑی کامیابی تھی جو بعض حلقوں سے ہضم نہیں ہوئی۔ اور طے شدہ امور پر عملدرامد میں رکاوٹیں ڈالی جانے لگیں۔ ایسوسی ایشن کے بنیادی ایجنڈے یعنی گڈ گورننس کے منافی اقدامات کیئے جانے لگے جن میں اعلیٰ عہدوں پر من پسند افراد کی تعیناتیوں اور بعض سروس گروپس کو دیوار سے لگائے جانے کے اقدامات شامل تھے۔ اس پر ایسوسی ایشن ایک مرتبہ پھر بھر پور انداز سے میدان عمل میں آئی اور گڈ گورننس تحریک کا آغاز کیا گیا جس دوران اضلاع اور مختلف محکمہ جات میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے آفیسران کو اعتماد میں لیا گیا او ر آزاد کشمیر کی تاریخ کا ایک فقید المثال گڈ گورننس مارچ کیا گیا۔ گڈ گورننس مارچ اولڈ سیکرٹریٹ سے شروع ہو کر نیو سیکرٹریٹ پہنچا تو حکومت نے دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے سول سیکرٹریٹ کے مین گیٹ بند کر کے مظاہرین آفیسران کا سول سیکرٹریٹ میں داخلہ بند کر دیا۔ آفیسران نے سیکرٹریٹ کے مین گیٹ پر دھرنا دے دیا جو حکومت کی طرف سے آفیسران کے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی پر ختم کیا گیا۔ اس سے قبل سیکرٹری حکومت کی آسای کی نوعیت صوابدیدی اسامی کی تھی جس پر منظور نظر افراد کو بغیر کسی قاعدے ضابطے کے تعینات کیا جا سکتا تھا۔ حتیٰ کہ نان سول سرونٹ بھی سیکرٹری حکومت تعینات ہوتے رہے۔ اس صورت حال میں گڈ گورننس محض خواب و خیال بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسویسی ایشن کے مطالبے پر سیکرٹری حکومت کی آسامی کے قواعد کی تدوین ہوئی جن میں مزید بہتری کی ضرورت ہے تاہم یہ ابتدائی سنگ میل عبور کیا جا چکا ہے۔ گڈ گورننس کے لیئے ایسوی ایشن کی گڈ گورننس تحریک کے نتیجے میں ایسی فضا بنی کہ حکومت نے طویل عرصے سے غیر فعال پبلک سروس کمیشن کو فعال بنایا اور میرٹ پر آفیسران کی ریکروئمنٹ عمل میں لائی جانے لگی۔ سیاسی عہدوں پر تعینات شخصیات سرکاری آفیسران کے بازو مروڑ کر جس طرح غیر جریدہ اور چھوٹے سکیل ہا کی آسامیوں پر اپنے من پسند ملازمین بھرتی کروا لیتے تھے، اس گڈ گورننس تحریک کی کاوشوں سے ہر سطح پر میرٹ کا نظام وجود میں آیا جس کے تحت اب غیر جریدہ آسامیوں پر بھی این ٹی ایس کے ذریعے تعیناتیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ اس میں بھی ایسوسی ایشن کی کاوشوں کا بڑی حد تک عمل دخل ہے۔ صدر اایسوسی ایشن بہود فنڈ ٹرسٹ کے بربنائے عہدہ ممبر بھی ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے بھی متعدد اقدامات عمل میں لائے گئے جن میں ملازمین کے لیئے فیئر ویل گرانٹ،ملازمین کے بچوں کو وظائف اور مرحوم ملازمین کے ورثاء کو ملنے والی گرانٹ میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔ سرکاری آفیسران کی فلاح و بہبود کے لیئے آفیسرز و یلفیئر فاؤنڈیشن کا قیام ایک اہم مطالبہ تھا۔ ایسوسی ایشن کی کاوشوں سے اس سلسلے میں مسودہ قانون محکمہ قانون کی Vettingکے بعد کابینہ کے سامنے منظوری کے لیئے پیش کروایا گیا۔ کابینہ سے منظوری کے بعد قانون سازی کے لیئے اسمبلی کو ارسال کیا گیا جو اب بھی اسمبلی میں منظوری کا منتظر ہے۔ اس حوالے سے سپیکر اسمبلی، وزیر قانون، اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی او دیگر حکام سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں سردار جاوید ایوب اور راقم نے شرکت بھی کی اور مجوزہ مسودہ قانون کی مختلف شقوں کی وضاحت بھی کی۔ دریں اثناء ایسوسی ایشن کا تنظیمی سیشن مکمل ہو گیا۔ مزید فالو اپ آنے والی باڈی نے کرنا تھا جو بعد میں بر قرار نہ رہا۔ سردار جاوید ایوب کی قیادت میں ایسوسی ایشن کی منتخب باڈی نے عزم کیا تھا کہ وہ اپنی میعاد مکمل ہوتے ہی الیکشن کا پراسیس شروع کر دے گی تاکہ انتخابی تسلسل قائم رہے اور آفیسران کی منتخب باڈی مسائل کے حل میں کردار ادا کر سکے۔ ایسو سی ایشن کی تین سالہ میعاد مکمل ہونے سے 45ایام قبل الیکشن کمشنر کا تقرر کر کے انتخابی پراسیس شروع کر دیا گیا۔ ایسو سی ایشن کے سینئر راہنما اور کور کمیٹی کے رکن سرفراز عباسی ڈائریکٹر سماجی بہبود کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا۔ بد قسمتی سے الیکشن کمشنر الیکشن کا انعقاد نہ کروا سکے اور ریٹائر ہو گئے۔ا ن کے بعد ایسوسی ایشن کے سینئر ترین راہنما اور چیف آرگنائزر جناب عابد اعوان سیکرٹری برقیات کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا آفیسر مذکور بھی اپنی ریٹائرمنٹ تک انتخابات کا انعقاد نہ کروا سکے۔ اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے مشاورت کا عمل جاری تھا کہ تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن سید وحید الحسن گیلانی ناظم برقیات نے پیش کش کی کہ وہ انتخابات کروا دیں گے۔ ان کی آمادگی بلکہ فراخدلانہ پیش کش کی روشنی میں انہیں چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا۔وہ وقت اور یہ وقت تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے، آفیسر موصوف انتخابات کے انعقاد میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکے۔ ان کی طرف سے انتخابی فہرستوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تو اے جی آفس سے آفیسران کا نامینل رول بطور انتخابی فہرست انہیں فراہم کیا گیا تاکہ کسی کو بھی اعتراض نہ ہو۔ ایسوسی ایشن کے پاس انتخابات کے لیئے مطلوبہ فنڈز بھی دستیاب تھے اور الیکشن کے انعقاد میں کوئی امر بھی مانع نہ تھا۔ لیکن الیکشن کمشنر موصوف نے اپنے وعدے کی تکمیل میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہ کیا۔اس صورت حال میں ایسوسی ایشن کے صدر جاوید ایوب اور جنرل سیکرٹری سید سلیم گردیزی نے غیر معینہ مدت تک عہدوں پر براجمان رہنے کے بجائے راجہ افتخار حسین کیانی ڈائریکٹر جنرل سنٹرل ڈیزائن آفس کو بطور قائم مقام صدر اور سید اشتیاق حسین جعفری ایڈیشنل جنرل سیکرٹری کو بطور قائم مقام جنرل سیکرٹری نئی منتخب باڈی کے قیام تک تنظیمی معاملات چلانے کی ذمہ داری سونپ کر اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہو گئے۔ صدر اور جنرل سیکرٹری کی جانب سے اس انتہائی اقدام کے بعد بھی نہ تو الیکشن کمشنر ٹس سے مس ہوئے اور نہ عبوری باڈی انتخابات کے انعقاد کے لیئے کوئی متبادل اقدامات عمل میں لا سکی۔ اب یہ آفیسران کمیونٹی کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ عبوری باڈی اور الیکشن کمشنر کو انتخابات کے انعقاد پر مجبور کریں تاکہ آئینی طور پر منتخب باڈی آفیسران کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے کردار ادا کر سکے اور گزشتہ منتخب باڈی کی جانب سے کیئے گئے اقدامات آگے بڑھائے جا سکیں۔ کوئی بھی باڈی اپنی میعاد Tennureکے دوران جملہ مسائل حل نہیں کرا سکتی بلکہ اس کے لیئے تنظیمی تسلسل ضروری ہوتا ہے تاکہ ایک باڈی کے کیئے گئے کام کو آنے والی باڈی آگے بڑھا کر نتیجہ خیز بنا سکے۔ لہذا تنظیمی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیئے فوری انتخابات ناگزیر ہیں۔



پونچھ میں احتجاج! کیا کھویا کیا پایا؟


پونچھ میں احتجاج! کیا کھویا کیا پایا؟ شفقت ضیاء آل پارٹیز پیپلز رائٹس فورم کا احتجاجی دھرنا14 روزکے بعد حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم ہوگیا۔اس سے پہلے مختلف ایکشن کمیٹیوں اور علاقوںکے عوام کی طرف سے احتجاج ہو رہے تھے، جس کا بڑا سبب بجلی بلات میں بے جا ظالمانہ ٹیکسز تھے ۔ سٹرکیںبلاک کر کے احتجاج کے نتیجہ میں بہت سارے لوگوں کو گرفتار بھی کیا جا چکاتھا،ایسے میں پونچھ کی سیاسی جماعتوں نے بہت ہی اچھا قدم اٹھایااور تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم بنا کر احتجاج کا فیصلہ کیاورنہ جس طر ح عوام کے چھوٹے چھوٹے گروپ سٹرکو ں پر آرہے تھے، حالات بے قابو ہونے کا خطرہ موجو د تھا۔ابتداء میں آل پارٹیزفورم نے بھی لوڈ شیڈنگ اور بجلی بلات میں لگائے گئے ٹیکسزکو ٹارگٹ بنایالیکن وقت اور حالات کے مطابق مزید مطالبات کو شامل کرتے ہوئے حکومت کو ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا،جس میں لوڈشیڈنگ، بجلی کے بلات میں ٹیکسز کے ساتھ مجوزہ پندرہویں ترامیم ، ٹورازم اتھارٹی ایکٹ، آٹا کی سبسڈی ، مراعات یافتہ طبقے سے مراعات واپس لینے اور احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والوں کی غیر مشروط رہائی شامل کیے گئے بلکہ اسیران کی رہائی کو مذاکرات سے مشروط کیا گیا اور اسی وجہ سے مذاکرات کا پہلادور نہیں ہوسکا۔ مطالبات کے حق میں کچہری کے ایریا میں دھرنا دیا گیااور اس میں لوکل سیاسی قیادت کے علاوہ مرکزی قیادت بھی آتی رہی، جس میں راجہ فاروق حیدر، چوہدری لطیف اکبر، ڈاکٹر خالد محمود، حسن ابراہیم اور دیگر شامل ہوئے، جنہوں نے مطالبات کی بھرپور حمایت کی، جس سے تحریک میں کافی جان پیدا ہوئی۔ اس تحریک میں وکلاء ، تاجران ، میڈیا اور ٹرانسپورٹرز کا سب سے زیادہ کردار رہا۔ راولاکوٹ انجمن تاجران نے ایک ہفتے میں دوبار شٹر ڈائو ن کیاجو راولاکوٹ اورگردونواح میں مکمل کامیاب رہا۔ اس سے نہ صرف اربوں روپے کا نقصان ہوا بلکہ غریب اور چھوٹے تاجر ، ریڑھی، تھڑے والے اور عام مزدور کو ایک ماہ تک اس کے اثرات رہیں گے جس کا شاید ادراک نہیںیا پھر یہ کہہ کہ کر بڑے مقاصد کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن قربانیاںاور قیمت ہمیشہ غریب آدمی سے ہی کیوں لی جاتی ہے۔ بڑے تاجر اور بالخصوص لیڈران تاجران کو تو فرق نہیں پڑے گا۔اس لیے عام آدمی اور غریب تاجران کو ان دو دنوں کا بہت فرق پڑاہے ،اس پر غور ضرور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہی راولاکوٹ انجمن تاجران ہے جس کی بنیاد جب رکھی گی تھی تو اُس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اُس وقت کی انجمن تاجران آئے روزشٹر ڈائون ہڑتال کر لیتی تھی اور کہا جاتاتھاکہ یہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے ہڑتال کرتے ہیں حالانکہ ان کے مطالبات میں اس وقت بھی بجلی کے مسائل سب سے سرفہرست رہے اور کوئی شک نہیںکہ اُس وقت طویل لوڈشیڈنگ ہوتی تھی لیکن شٹر ڈائون مذاق بن گیاتھا،جس سے تنگ آکر چند لوگوں نے آغاز کیاتھااور اس وقت کے صدر کے سامنے کھڑے ہوئے۔ اس وقت کی راولاکوٹ انجمن تاجران کے عہدیداران تو بعد میں آئے بلکہ اُن ابتدائی لوگوں کے ناموں سے بھی زیادہ واقف نہیں ہوں گے، الیکشن کے بعد دو گروپ بن گئے، انجمن تاجران راولاکوٹ اورراولاکوٹ انجمن تاجران جس سے تاجران کی قوت تقسیم ہوئی، عام تاجر کے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے ہی گئے اور دونوں گروپ اپنی اپنی سیاست کرتے راولاکوٹ سے مرکزی قیادت تک پہنچ گئے جبکہ راولاکوٹ کے سات ہزار سے زائد دکانات کے تاجران بے شمارمسائل کا شکار ہیںاور ایک بار پھر شٹر ڈائون کی طرف قدم بڑھتے دیکھائی دے رہے ہیں،۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تاجران کو اپنی قیادت چننے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ تاجران کے لیے شٹرڈائون کے بعد ٹرانسپورٹرز کی طرف سے پہیہ جام اور شٹرڈائون ایک ساتھ ہوا جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا،مریض ،مسافر پریشانی کاشکار ہوئے، البتہ مجموعی طور پر الحمد للہ ماحول پرامن رہا کوئی بڑا سانحہ رونما نہیںہوا ،جو خوش آئند ہے۔ حکومت کی جانب سے اس عرصہ میں انتہائی نااہلی کا ثبوت دیا گیا ایسا لگتا رہا کہ آزادکشمیر میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ورنہ ابتدائی طور پر ہی مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جاسکتا تھا لیکن بے حسی اور عدم توجہی سے احتجاج طویل بھی ہوا اور بڑے نقصان کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ 14 روز کے احتجاج اور اربوں روپے کے نقصان کے بعد مذاکرات کے بعد جو معاہدہ سامنے آیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہر فرد یہ جائز ہ لگا سکتا ہے کہ یہ سارے معاملات 15 روز قبل بھی طے کیے جاسکتے تھے۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ حکومت کے علاوہ آل پارٹیز فورم نے بھی تھکنے تک احتجاج کو ہی زیادہ اہمیت دی ورنہ پہلے ہی مذاکرات کا جب کہا گیا تھا اسیران کی رہائی سے مشروت نہ کرتے، آخر میں انکے بغیر ہی مذاکرات ہوئے اور رہائی تو بعد میں ہوئی لیکن اصل ذمہ داری بہر حال حکومت ہی کی بنتی تھی ،جس نے درست طور پرذمہ داری ادا نہ کی۔ بہرحال 14 دن بعدآل پارٹیز پیپلز رائٹس فورم پونچھ کے دورکنی حکومتی کمیٹی کے ممبران جن میں سردار میراکبر ،سردار فہیم اختر ربانی شامل تھے کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور فیصلہ کیا گیا کہ: ۱۔ مجوزہ مسودہ پندرہویں آئینی ترامیم اور مجوزہ ٹوازم پر موشن ایکٹ کو موجودہ تجاویز کے ساتھ اسمبلی فورم میںپیش نہیںکیا جائے گا اچھی بات ہے حکومت تو پہلے بھی کہتی تھی کہ ہم ایسا نہیںکرنے جارہے تو پہلے ہی مذاکرات کرکے یہ بات طے ہوسکتی تھی۔ ۲۔بجلی فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز وغیر ہ وزیر اعظم کے اعلان پر عملد رآمد کیا جائے گا یعنی یہ بھی پہلے اعلان ہوگیا تھا ۔ ۳۔مراعات یافتہ طبقے کی مراعات کے حوالہ سے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ ۴۔لوڈشیڈن کے حوالہ سے تحریر کیا گیا کہ آزادکشمیر کو لوڈشیڈنگ فری زون قرار دینے کیلئے حکومت پاکستان سے بات کی جائے گی۔ ۵۔آٹا سبسڈی کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیہل دی جائے گی جو حکومت کو سفارشارت پیش کرے گی۔ ۶۔جملہ اسیران کو غیر مشروط اورفی الفور رہا کیا جائیگا البتہ کھڈ واقعہ میں درج ایف آئی آر التو ا میں رکھی جائے گی اور چھان بین کیلئے کمیٹی بنائی گئی ہے جو پندرہ ایام میں رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ تھا وہ معاہدہ جو آل پارٹیزفورم اور حکومتی کمیٹی مابین ہوا جس کے لیے پندرہ ایام تک شدید احتجاج ہوا جس میں اکثر مطالبات پورے آزادکشمیر کے تھے اور کوئی ایسا مطالبہ نہیں تھا جو جائز نہ ہواور پندرہ دن پہلے بھی اسی صورت میں حل نہ ہوسکتا ، اس پر عملدرآمد کتنا اور کیا ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس کی انکوائری بھی ہونی چاہیے کہ اتنا بڑا نقصان کرنے میں آل پارٹیز فورم اور حکومت کا کتنا حصہ ہے تاخیر کا سبب کیا رہا اور ذمہ داران کی سزا کا تعین بھی ہونا چاہیے کم ازکم آئندہ کیلئے یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ احتجاج کس حد تک ہو نا چاہیے اور مذکرات نقصان سے پہلے ہونے چاہیے، عوام کوتکلیف اور نقصان سے بچانے کا اہتمام بروقت ہونا چاہیے،پونچھ میں احتجاج سے کیا کھویا کیا پایا یہ آنے والا وقت بتاے گا۔



پی ڈی اے ملازمین کا احتجاج اور حکومت ٓٓٓٓ


پی ڈی اے ملازمین کا احتجاج اور حکومت ٓٓٓٓ آزادکشمیر حکومت نے 1994 میں راولاکوٹ کی تعمیرو ترقی اورخوبصورتی میں اضافے کے لیے پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا، 28 سال پہلے جس ادارے کو قائم کیا گیا،اس کے ملازمین 28 دن سے اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی جاب پوری کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہو کرپنشن کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وہ جوان بھی ہیں جن کی تعلیمی قابلیت، صلاحیت قابل فخر ہے جن سے کام لیا جاتا تو آج یہ ادارہ دیکھنے کے قابل ہوتا۔ اس ادارے نے راولاکوٹ کی تعمیر ترقی کے لیے کیا کیا اور کیا نہ کر سکا۔ یہ اس وقت موضوع نہیں ہے گزشتہ 12سال سے اس پر سب سے زیادہ لکھنے کا اعزاز خاکسار کو حاصل ہے درجنوں کالم اور سٹوریز ثبوت کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس ادارے نے وہ کارگرد گی نہیں دکھائی جو اسے دیکھانا چاہئے تھی۔ قوم کے خون پسینے کی کمائی سے ماہانہ لاکھوں روپے خرچ ہونے کے باوجودیہ ادارہ اپنے پاوؑں پر کھڑا نہ ہو سکا۔ جزوی تکمیل شدہ ہاؤسنگ سکیم راولاکوٹ ہو یا ادارے کے قیام کے ساتھ اعلان کی گئی گلشن شہدا ہاؤسنگ سکیم، جس پر عوام کے کروڑوں روپے لگے ہوئے ہیں اس کی ناقص کارگردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہاؤسنگ سکیم کے پلاٹوں کی بندر بانٹ،پلازوں میں خرد برد،قیمتی پلاٹس میں تعمیر نہ ہوناجن سے ادارہ نہ صرف اپنے پاوٗں پر کھڑا ہو جاتابلکہ دینے کے قابل ہو جاتا اس کی ذمہ دار حکومتیں ہیں جو سیاسی چیئر مین لگاتی آئی ہیں جو اپنے دورانیے کو کمائی کا ذریعہ بناتے اور اپنے لوگوں کو ادارے میں بھرتی کراتے رہے، جس پر ادارے پر مالی بوجھ بڑھتاگیا۔ایک بھی کمرشل پلازہ بنایا جاتا تو آج ان حالات سے نہ گزرنا پڑتا۔ احتساب کا مطالبہ ہمیشہ ہوتا رہاہر آنے والا چیئرمین آتے ہی شور مچاتا رہا اور پھر اس کھیل کا حصہ بنتا رہا۔اس لیے کسی بھی حکومت نے سنجیدہ احتساب نہیں ہونے دیاکیوں کہ اس حمام میں سارے ننگے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس میں چند ملازمیں بھی شامل ہوں گے جن کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب کا احتساب اور کام نہ ہونے کے اصل ذمہ دار کون ہیں یقینا سابقہ حکومتیں ہیں اور اب موجودہ حکومت بھی شامل ہو گئی ہے۔ ادارے کی ناقص کارکردگی کا جائزہ ضرور لیا جائے لیکن اس وقت جو ملازمیں احتجاج پر ہیں ان کے مطالبات کو پہلے پورا کیا جائے، کیا حکومت نام کی کوئی چیز ہے؟ ایک ماہ ہونے کو ہے پڑھے لکھے باعزت ملازمین سٹرکوں پر ہیں اور حکومت کو ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ کیا کسی معزز دنیا میں ایسا ہوتا ہے؟ پر امن احتجاج سے اس طرح صرف نظر کرناتباہ کن ہو سکتا ہے حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے۔ ایک دن یا چند گھنٹوں کا احتجاج حکومت کے لیے کافی ہونا چائیے۔ مطالبات جائز اور قابل قبول ہوں تو منظور ورنہ احتجاج ختم کرواناحکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ ادارے کے ملازمین کے احتجاج کے باعث عوام کو کتنے مسائل سے دو چارہونا پڑھ رہاہے اس کا احساس بھی کسی کو ہے؟ اس ادارے میں قوم کے اربوں روپے لگے ہوئے ہیں اب مختلف بہانے بنا کر ادارے کو ختم کرنے کی باتیں کرنے والے پتہ نہیں کس دنیا میں رہتے ہیں۔ اس ادارے کو تباہ کرنے کی ذمہ دار تمام حکومتیں اور ان کے وہ چیئرمین ہیں جنہوں نے ادارے کو بنانے کے بجائے تباہ کیا، ملازمین جو حصہ رہے ان کو بھی ضرور رگڑا لگنا چاہئے، لیکن ملازمین کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور اس ادارے کو اپنے پاوؑں پر کھڑا کرنے اور عوامی منصوبوں جن میں گلشن شہداہاؤسنگ سکیم سرفہرست ہے۔ فوری طور پر خصوصی گرانٹ کے ذریعے تعمیر کی جائے۔وزیر اعظم آزادکشمیر جن کا تعلق اسی ضلع سے ہے خود اس کا نوٹس لیتے ہوئے عملی اقدامات کرتے ہوئے ماضی کی حکومتوں کے برعکس آپنی نیک نامی کما سکتے ہیں۔ادارے قوم کے خون پسینے سے بنتے ہیں انھیں ختم کرنے کا نہیں سوچا جاتاانھیں مضبوط بنانے کا سوچنا چاہئے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔پی ڈی اے کے ملازمین بھی ہمارے بھائی ہیں ہندوستان سے نہیں آئے ہوئے ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر پورا کیا جانا چاہئے۔ ان کے مطالبات میں تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، پنشن جیسے بنیادی مسائل ہیں جو ان کا حق ہے جن کو اب ہمیشہ کے لیے حل کر لیناچاہئے۔ تاخیر کا مطلب عوامی مسائل میں اضافہ کے ساتھ اس ادارے کو مزید تبائی کی طرف دھکیلناہے،پہلے ہی بہت ظلم ہو چکا ہے اب مزید گنجائش نہیں بنتی ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے فوری طور پر سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے اس معاملے کو حل کرے۔ سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ کے ذمہ داران اور سول سوسائٹی کو بھی آپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے۔ محض احتجاجی کیمپ میں جا کر اظہار یکجہتی کی تصویر بنا دیناکافی نہیں ہے۔ یہ سب کا ادارہ ہے اس کا نقصان سب کا نقصان ہے، اس لئے ایک ماہ گزرنے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہواتوسب کو یک زبان ہوناہو گا۔ راولاکوٹ کے حلقوں سے منتخب ممبران اسمبلی کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے۔ سابق صدر و وزیراعظم حاجی یعقوب خان، حسن ابراہیم اور محترم شاہدہ صغیر کہاں ہیں؟ وہ نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے مسئلے کو حل کروانے میں اپنا کردار اداکریں، منتخب لوگ اگر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے تو30 سال گزرنے کے باوجود گلشن شہداء ہاؤنگ سکیم کیسے تعمیرنہ ہوتی یہ کیسی عوامی نمائندگی ہے کہ سیاسی لوگ چیئر مین تو لگ رہے ہیں لیکن عوامی مسائل حل نہیں کر رہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے لوگوں کو ایڈجسٹ تو کراتی ہیں لیکن ان عوام کے مسائل کو حل نہیں کراتی جن کے ووٹ سے منتخب ہوتی ہیں راولاکوٹ شہر میں تعمیرات رولز کے مطابق نہیں ہو رہی ادارے فحال نہیں شہر کے بے شمارمسائل ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ نمائندگی جن لوگوں کے پاس ہے وہ اپنی ذمہ داریاں نہیں ادا کر رہے۔حکومتیں اپنے لوگوں کو سیاسی ایڈجسٹمنٹ تو کرا تی ہیں عوام کے مسائل اور ادااروں کو بنانے کے بجائے برباد کرانے میں حصہ دار ہیں۔ بہت ہو چکا یہ سلسلہ بند کیا جائے گا۔ راولاکوٹ کے مسائل حل کیے جائیں ادروں کو فعال بنایایا جائے پانی کی بوند بوند پر لوگ ترس رہے ہیں شہر میں پلاننگ سے تعمیرات نہ ہونے کی وجہ سے مچھلی منڈی کا منظر بنا ہو ا ہے عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر کوئی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں۔حکومت جس کو وزیراعظم کے کمرے تک پنچنے والے فرد کا پتہ نہیں چل رہا جہاں سکیورٹی کا سخت ترین انتظام ہوتا ہے چیونٹی تک بھی کیمروں اور گارڈز کی نظروں سے نہیں بچ سکتی، وہاں اس طرح کا واقعہ ہونا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے عام آدمی کا کیا بنے گا۔ادارے تباہ ہو رہے ہیں ملازمیں احتجاج پر ہیں اگر اس خطہ میں کوئی حکومت نام کی چیز ہے تو فوری توجہ دے۔



راولاکوٹ میں سپورٹس کی بہار


راولاکوٹ میں سپورٹس کی بہار شفقت ضیاء راولاکوٹ کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہوا ہے۔اپریل سے اکتوبر تک سر سبز و شاداب وادی پرل میں آنے والا ایسے جنت نظیر کہنے پر مجبور ہوتے ہیں پہاڑوں میں گھیری ہوئی وادی حکومتوں کی عدم ترجہی کا ماتم کرنے کے باوجود سیاحوں کو باغ باغ کر دیتی ہے جو ایک بار آ تا ہے ہمیشہ کے لیے مناظر کو نقش کر دیتا ہے اور بار بار آنے کی خواہش سہولیات کے فقدان کے باوجودلے کر جاتا ہے۔ عید اور گرمیوں کی چھٹیوں میں تو سیاحوں کا سمندر آمڈ آتا ہے اور خوب لطف انداز ہو کر جاتے ہیں ایسے موسم میں جب گرمی آپنے جوبن پرہوتی ہے دن کے اوقات میں باہر نکلنا عذاب سے کم نہیں وادی پرل کا دن کا موسم نارمل اور رات ٹھنڈی کمبل کے بغیر گزارا نہ ہوتا،باہر سے آنے والے عیش عیش کر کے رہ جاتے ہیں۔ ایسے خوبصورت موسم میں کھیلوں کے مقابلے کھلا ڑیوں اور تماشائیوں کے لطف کو دو بالا کر دیتے ہیں۔ ایسے دور میں جب نوجوان نسل کمپیوٹر اورموبائل کی ہوکر رہ گئی ہے کھلی فضاء اور صحت مند سرگرمیوں سے دورہونے کی وجہ سے جسمانی و ذہنی امراض کا شکاری ہو رہی ہے صحت مند سرگرمیوں کا انعقاد کرنے والے قابل تحسین ہیں۔ گزشتہ دنوں میں سپورٹس کی سرگرمیاں راولاکوٹ کی موسمی بہار کے ساتھ سپورٹس بہار کا منظر پیش کرتی رہی ہیں۔ ہورنہ میرہ میں سردار زرین خان والی بال ٹورمنٹ کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان بھر کی ٹیموں نے حصہ لیا اور موسم سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ تماشائیوں کی بڑی تعداد نے بہترین موسم اور کھیلوں کے دلچسپ مقابلوں سے خوب لطف اُٹھایا۔اس کا انعقا د گلف ایمپائرکے ایم ڈی سردار شبیر خان اور اُن کے فرزند نوجوان ابھرتے ہوئے رہنما شازیب شبیر اور مقامی ٹیم نے کرایا۔گلف والوں نے راولاکوٹ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر کے اس شہر کی اُٹھان میں بہت بڑا اور نمایا ں کردار ادا کیاہے۔ ابھی تک ان کے مقابلے میں کوئی دوسرا رول ادا نہ کر پایا۔چونکہ لوگ زیادہ منافع کی خاطرراولپنڈی، اسلام آباد او بیرون ممالک وسائل لگا کر زیادہ منافع کمانا اہم سمجھتے ہیں لیکن انھوں نے مقامی جگہ پر وسائل لگا کر کم منافع کو ترجیحی دی جس پر مبارکباد کے مستحق ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر کوئی قدر اور تعریف کرتا ہے۔ایسے میں انھوں نے والی بال کا اتنا بڑا پاکستان سطح کا ٹورنامنٹ کرا کر علاقے کو ترقی دینے میں مزید ایک قدم بڑھایا ہے جو قابل تحسین ہے۔سردار شبیر خان کے بڑے بھائی سردار زرین خان خود سپورٹس مین تھے، بھرپور زندگی گزار کر اس دنیا فانی سے ہمیشہ والی زندگی کی طرف کوچ کر گے۔گلف ایمپائر گروپ سے میرے ذاتی تعلقات سب سے زیادہ اسی شخصیت کے ساتھ تھے، بلکہ شازیب شبیر سے پہلی ملاقات بھی انھوں نے کرائی تھی اُن کے ساتھ تعلقات کی ایک وجہ میرے خالو نذیر حسین سے اُن کی دوستی بھی تھی اور راولاکوٹ اُن کی موجودگی کی وجہ سے ملاقاتیں بھی تھی، بھائیوں اور خاندان کو جوڑنے والے سمجھدار اور سلجھے اور اُجلے شخص کا اس دنیا سے چلا جانا ایک خلا ہے لیکن سردار شبیر خان کے فرزند شازیب شبیر اپنے اخلاق اچھی تعلیم و تربیت سلیقے اور سمجھداری سے درست سمیت میں آگے بڑھ رہے ہیں امید ہے یہ گروپ راولاکوٹ کی تعمیر و ترقی میں مزید کردار ادا کرے گا۔ کھیلوں کے مقابلے کرانے پر مبارکباد کے ساتھ اس تسلسل کو جاری رکھنے اور اتنے بڑے مقابلوں کے لیے راولاکوٹ شہر کا انتخاب کیا جائے تو زیادہ اچھا ہو گا۔ راولاکوٹ میں کھیلوں کا دوسرا بڑا میلہ پولیس کی طرف سے سپورٹس فسٹیول کا چک ائیرپورٹ کے مقام پر انعقاد ہے جس میں افتتاحی تقریب برگیڈئیر نصیر احمد عباسی، کمانڈنٹ سی ایم ایچ اور ڈی آئی جی پونچھ ڈویژن سردار راشد نعیم ایس ایس پی وحید گیلانی نے کی۔ جس میں مقامی خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی چیک ائیر پورٹ کے وسیع علاقے میں پھیلے میدان میں کھیلوں کے مقابلوں رسہ کشی،کرکٹ،والی بال اور مختلف سٹالز جس میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ عسکری ہتھیار وں کا سٹال توجہ کا مرکز رہا۔ ایک بھر پور پروگرام جس نے عوام کو خوب محظوظ کیا اور ایک عرصے کے بعد صحت مند سرگرمیوں دیکھنے کو ملی، پولیس کے حوالے سے ایک خاص رائے کو تبدیل کر کے دوستانہ ماحول پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس پر پولیس کے ذمہ داران اور فوج کا تعاون شامل رہا مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے دوریا ں ختم کرنے اور محبتوں کو بڑھانے کا کردار اداکیا ہے ایسے ایونٹ صحت مند ماحول اور باہمی تعلقات میں اضافہ کے ساتھ عوام کو تفریحی کے بہترین موقع فراہم کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان مقابلوں کو دیکھنے کے لیے خواتین، بچے،جوان، بوڑھے ہر عمر اور طبقہ فکر کے لوگ کثیر تعداد میں پائے گے خواتین کی اکثریت با پردہ تھی۔خواتین پولیس بھی باوقار انداز میں شریک تھی سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبریں درست نہیں تھی چند ویڈیوز جن میں ڈانس دیکھایا گیا ہے وہ انفرادی حیثیت رکھتا ہے اتنے بڑے پروگرام میں کوئی بڑا ایشو نہیں رہا،البتہ توجہ کی ضرورت ہے بالخصوص وردی میں چند لوگوں کا ڈانس کرنا پسندیدہ عمل نہیں کہا جاسکتا لیکن جس طرح اوچھالا گیا یہ بھی درست نہیں،ان لوگوں کی نیت پر شک تو نہیں کیا جا سکتا لیکن بے جا سختیاں کرنے سے شاید وہ اپنے اہداف کو حاصل نہیں کر سکیں گے اور خود زیادہ تنقید کا باعث بنیں گے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمیں اس طرح کے پروگرامات میں اپنے مذہب اور روایات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہمیں ہمارے دین نے تفریں کھیل کود کی اجازت دی ہوئی ہے،اسے سمھجنے کی ضرورت ہے، کھیل کود کو دیکھنے کی اجازت پردے کی حدود میں رہتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے اماۃالمومنین کو دی ہے، باقی کوئی کیا حیثیت رکھتا ہے بہرحال یہ مسلمانوں کا معاشرہ ہے، جہاں خرابیاں آتی ہیں دو ر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن ہر ایک کو اپنی حد میں رہنا چاہیے بے جا تنقید سے بچنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کے دانشوروں کی باتوں کے بجائے خود بھی دیکھ لینا چاہیے اسی طرح آرمی اور پولیس کے میچ میں تھوڑی بہت تلخی کو جورنگ دیا گیاوہ بھی خدمت نہیں بد نیتی کا اظہار دیکھائی دیا۔کھیلوں کے مقابلوں میں ادارے نہیں ٹیموں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے الحمدواللہ معمولی تلخی کو بڑے حادثے سے بچانے کا بروقت اہتمام کیا گیا لیکن اُس کو برے طریقے سے پھیلایا گیا، جس کو بد قسمتی کہا جا سکتا ہے مجموعی طور پر پولیس سپورٹس فیسٹول بہت اچھا ایونٹ رہا ہے، جس میں رشہ کشی، کرکٹ، فٹ بال، والی بال،پیرا گلائیڈنگ، بیڈمنٹن کے دلچسپ مقابلے ہوئے، ان مقابلوں میں پاک آرمی، پولیس، پی ڈی ڈبلیوڈی، غازی ملت پریس کلب، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، انتظامیہ، تاجران، ایس سی او، پروفیسر صاحبان، وکلاء نے بھر پور شرکت کی۔ فائنل میں پولیس نے آرمی کو ہرا کر کرکٹ اپنے نام کیا، فٹ بال میں پی ڈبلیو ڈی نے پروفیسرز کو شکست دی، رسہ کشی میں آرمی نے پولیس کو شکست دی، بیڈ منٹں میں تاجران نے پروفیسرز کو ہرایا، والی بال ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے نام کیا۔ان دلچسپ مقابلوں نے اور ہر طرف سپورٹس کی گونج سے راولاکوٹ میں کھیلوں کی بہار کا سماء رہا، امید کی جا سکتی ہے ایسے سپورٹس ایونٹ آئندہ بھی جاری رہیں گے، ایسے وقت میں جب لوگ بالخصوص نوجوان موبائل اور بند کمروں کے ہو کر رہ گئے ہیں، صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت ہے، اسی صورت میں اچھے مستقبل کی امید کی جا سکتی ہے۔ صحت مند نسل کی تیاری کے لیے صحت مند سرگرمیاں جاری رہنی چاہیے۔ پولیس سپورٹس فیسٹول کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈنگ آفیسر شیخ زید ہسپتال راولاکوٹ برگیڈئیر نصیر احمد عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نفسا نفسی کے اس دور میں محکمہ پولیس کی طر ف سے اس طرح کے فیسٹول کا انعقاد خوش آئند ہے، یہ ایک صحت مند سرگرمی ہے جس کے اچھے نتائج بر آمد ہوں گے، جب میدان آباد ہوتے ہیں تو ہسپتال ویران ہو جاتے ہیں، اور اسی میں ہماری بہتری ہے کہ میدان زیادہ سے زیادہ آباد ہوں، انھوں نے کہا کہ پاکستان آرمی اس طرح کی سرگرمیوں کی ہمیشہ سپورٹس کرتی ہے جبکہ ڈی آئی جی پونچھ سردار راشد نعیم جن کا تعلق اسی وادی پرل سے ہے، خوبصورت با وقار، باکردار، لائق، ذہن اور ہر دل عزیزپولیس آفیسر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادکشمیر پولیس جاں فشانی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی، عوام کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہے گی، یہ فیسٹول پہلا ضرور ہے لیکن انشاء اللہ آخری نہیں ہو گااور آئندہ بھی ایسی سرگرمیوں کوجاری رکھا جائے گاجو کہ خوش آئند ہے، ایسی سرگرمیاں جاری رہنی چاہیے اس لیے جہاں صحت مند افراد ہوں گے وہاں کاروبار بھی بڑھے گا اور خوبصورت وادی پرل کے موسم کو انجوائے کرنے کے لیے سیاحوں کی آمد مزید بڑھے گی امید ہے کہ عوام اور مختلف شعبہ جات کا تعاون بھی اسی طرح کی سرگرمیوں میں جاری رہے گا۔ پولیس سپورٹس فیسٹول کے فائنل میچز کے مہمانان خصوصی میں کشمیر پونچھ ڈویژن انصر یعقوب، ڈئی آئی جی پونچھ راشد نعیم معروف سرمایہ کار گلف ایمپائر کے ایم ڈی سردار شبیر خان، سردار شازیب شبیر اور عوام علاقہ نے بھر پور شرکت کی، یوں تین دن تک چک ائیر پورٹ کے علاقے میں پھیلی ہوئی رونقیں ختم ہو گئیں۔ راولاکوٹ میں پولیس سپورٹس فیسٹول کے ساتھ کھیلوں کا ایک اور بہت بڑ ایونٹ بین الصوبائی ہاکی ٹورنامنٹ بھی شروع ہوا، جو قدرے انتظامی نا اہلی کی وجہ سے ایک ہی دن میں شروع ہو ا، جس میں پنجاب، سندھ، خبیر پختونخوا، اسلام آباد، بلوچستان، اور آزادکشمیر کی دو ٹیموں نے حصہ لیا، آزادکشمیر کے واحد سپورٹس اسٹیڈیم راولاکوٹ میں ملک بھر سے آنے والے کھلاڑیوں کے مقابلوں سے شائقین ہاکی خوب اندوز ہوئے۔ وادیِ پرل کے سر سبز و شادات علاقے اور ٹھنڈے موسم کھیلوں کے شائقین کو اپنا دیوانہ بنا دیا۔ کھیلوں سے دلچسپی لینے والے سندھ کے گر م ترین علاقوں سمیت پاکستان سے آنے والوں نے راولاکوٹ کو جنت قرار دیتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا کہ حکومت اس علاقے کی تعمیر و ترقی بلخصوص سڑکوں پرتوجع دے تو قومی ہی نہیں بین الاقوامی مقابلے بھی اس علاقے میں ہو سکتے ہیں۔ اتنا آئیڈیل موسم اور علاقہ کے لوگوں کی کھیلوں سے دلچسپی دیدنی ہے، اس ایونٹ کے ابتدائی میچ کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر پونچھ سید ممتاز کاظمی تھے، جنھوں نے کھیلوں کے ان مقابلوں میں انتظامات میں بھر پور تعاون اور کردار ادا کیا۔ ہاکی جو پاکستان کا قومی کھیل ہے آزادکشمیر بالخصوص پونچھ کی ٹیم ہمیشہ اس کھیل کی بادشاہ رہی ہے، بہترین سٹیڈیم ہونے کے باوجود ایک عرصے سے کھیلوں کے مقابلے نہ ہو نا باعث افسوس ہے جس کی وجہ سے نئی نسل اس بہترین کھیل سے ناواقف ہوتی جا رہی ہے۔موجودہ نسل بند کمروں اور موبائل کی ہو کر رہ گئی ہے جس کو اگر صحت مند سرگرمیاں نہ دی گئی تو کمزور نسلیں تیار ہوں گی جو ملک اور قوم کے لیے کسی طور پرسود مند نہیں ہوں گی۔ کھیلوں کی صحت مند سرگرمیوں سے ہی ہسپتالوں کو ویران کیا جا سکتا ہے، آج ہمارے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں اور کھیلوں کے میدان کم بھی ہیں اور خالی بھی ہیں، حکومتوں، سپورٹس بورڈ،کھیلوں کی ایسوسی ایشنز سب کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ راولاکوٹ میں ہاکی کے ان مقابلوں نے ایک با ر پھر میدانوں کی طر ف رُخ کرنے کا راستہ کھولا ہے، امید ہے آئندہ مزید ایسے مقابلے ہوں گے، بین الصوبائی ان مقابلوں کے فائینل میں پنجاب نے اسلام آباد کو 3-2 کے مقابلے سے شکست دے کر فتح اپنے نام کی ہے، خیبر پختونخواہ کی ٹیم نے سندھ کو شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی، آزادکشمیر کی دو ٹیمیں تھی جن کی کارکردگی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ایک عرصے سے ہاکی کے مقابلے نہ ہونے بھی ہیں، راولاکوٹ میں ہونے والے ان مقابلوں کے فائنل میچ کے مہمان خصوصی سیکرٹری سپورٹس منصورقادر ڈار اور ان کے ساتھ ڈپٹی کمشنر پونچھ سید ممتاز کاظمی تھے، جنھوں نے ٹیموں کے کھلاڑیوں کو انعامات دیے اور ٹیموں میں ٹرافیاں تقسیم کیں۔اس موقع پر مہمان خصوصی منصور قادر ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راولاکوٹ کا موسم اور بہترین سٹیڈیم پاکستان بھر کی ٹیموں کے لیے حاضر ہے، وہ اپنے کیمپ یہاں لگا سکتے ہیں اور ہم ان کی بھر پور معاونت کریں گے، انھوں نے کہا کہ ہاکی کے ساتھ راولاکوٹ میں فٹ بال کا بھی بہترین سٹیڈیم موجود ہے، راولاکوٹ کی خوبصورت وادیِ پرل اور اس کا موسم دنیا بھر میں نمایاں اور خوبصورت ہے اس لیے ٹیموں کو یہاں مقابلے کرانے چاہیے ہم بھی کھیلوں کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے اور سہولتیں دیں گے تا کہ میدان آباد ہوں اور ہسپتال ویران ہوں، محبتیں بھڑیں اور ملک بھر سے آنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ سکیں۔ راولاکوٹ میں ملک بھر سے آئی ہوئی ٹیموں کی رونق اس میچ کے اختتام کے ساتھ ختم ہو گئی لیکن کھیلوں کی اس بہار نے ایک اچھا ماحول بنا لیا ہے جس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ ان کھیلوں کے مقابلوں کے دوران حکومتی توجہ کی ضرورت بھی محسوس ہوئی بلخصوص پانی کے مسائل، سٹیڈیم کے ارد گرد صفائی، نالیوں میں کھڑا پانی اور صفائی اور گھاس وغیر ہ کے لیے مزید توجہ درکا رہے۔؎ جس سے علاقہ کا تاثر مزید بہتر ہو گا اور باہر سے آنے والے مزید خوش ہو سکیں گے۔باہر سے آنے والوں کا زیادہ خیال یہی ہے کہ قدرتی حسن سے مالا مال اس علاقے کی تعمیرو ترقی پرتوجع دی جائے تو دنیا کی خوبصورت وادی ہے جو کھیل اور سیر دونوں کے لیے مثالی ہے۔



امجد سرور شہید کے شہر میں


امجد سرور شہید کے شہر میں مجاہد آباد ایک طویل عرصے تک ہمارا بازار رہا،جہاں سے ہم سوداسلف بھی لاتے تھے اور راولاکوٹ جانے کے لیے بھی گاڑی پر یہاں سے ہی بیٹھتے تھے۔ جس جگہ بچپن، نوجوانی اور جوانی کا ایک بڑا عرصہ گزرا ہوا ُ س کی یادیں بھی زیادہ ہوتی ہے اور اُنھیں بھولنا بھی چاہے تو آدمی بھول نہیں سکتا۔چند روز قبل ریٹائرڈ صدر معلم سردار ممتاز خان نے فون کیا کہ جمعہ کو امجد سرور شہید اور دیگر شہید ا کے حوالے سے کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے،جس میں آپ کی شرکت ضروری ہے یہ آواز اور حکم اُس بھائی کا تھا جیسے خود بھی شاہد یہ علم نہیں کہ اُس کے شہید بھائی امجد سرور نے مجھے تیسرے حقیقی بھائی کا درجہ دیا تھا اور ساری زندگی آپنے عمل سے اس کا ثبوت بھی دیتا رہا۔ایسے میں نہ جانے کا تو سوال ہی نہیں بنتا تھا تاہم ماضی کی ساری یادیں تازہ ہو گی۔ وہ سارے شب و روز جو اس شہر میں گزرے تھے۔ وہ آندھی و طوفان، خوشیاں و غم ایسے میں یہ حکم بھی برادر محترم نے فرمادیا کہ بات بھی کرو، حکم پر سٹیج پر کھڑا تو ہو گیا سوچا درجنوں لوگ خطاب کر چکے اور ابھی بڑی لیڈر شپ ساری باقی ہے گھنٹوں بیٹھنے سے میں خود تھک چکا اور سٹیج پر بیٹھے شہیدکے عظیم والد کے لیے بیٹھنا کتنا مشکل ہو گا اور جن لوگوں نے ابھی خطاب کرنا ہے اُن میں کمانڈرمفتی مسعود اور اعجاز افضل خان بھی شامل ہیں۔جو گھنٹوں بولنے اور خوب بولنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ایسے میں مجھ جیسے طالب علم کی باتوں کی کیا حیثیت ہے اس لیے اتنا کہ کر کہ امجد سرور شہید سے تعلق کا لمبا عرصہ ہے وہ ایک باکردار اللہ سے تعلق اور محبت رسول ؐسے سرشار باشعور باعمل انسان تھا اور قلم کے ذریعے اپنی گزارشات آپ تک پہنچانے کا اہتمام کروں گا اجازت لے لی یوں وہ وعدہ نبھانے بیٹھا ہوں۔ کالج کا زمانہ طالب علمی تھا۔اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی تھی۔ نظریاتی سیاست کا دور تھا جب لوگ اپنے نظریات اور نعروں اور پرچموں کے رنگوں سے واقف بھی ہوتے تھے۔سوالات بھی کر تے تھے بحث اور ڈسکشن بھی ہوتی تھی اور لڑائی جھگڑے بھی خوب ہوتے تھے اور سب سے زیادہ دیواروں پر چاکنگ پرلڑائیاں ہوتی تھی۔ کارکن کسی بھی تنظیم کا ہوتا ہر وقت سر گرم نظر آتا تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ تو ایک تعلیمی ادارے کی طرح شب و روز کی ڈائری اپنے کارکنان کو دیتی تھی،جس کی رپورٹ ہر ہفتے بعد اجتماع کے اندر دینی ہوتی اور پھر دوسروں کے سوالات کے جوابات اور ناظم کی ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اُس رپورٹ میں نمازوں کی تفصیل کے جماعت کے ساتھ کتنی ہوئی اور بغیر جماعت کتنی پڑھی، قضا کتنی ہوئی؟ مطالعہ قرآن پورے ہفتہ میں کتنے دن اور کتنا کیا؟مطالعہ حدیث اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کتنا کیا اور کتنے لوگوں تک دعوت پہنچائی؟خصوصی رابطہ کتنے اور کون کون ہیں نام؟ اجتماعات میں شرکت اور دیگر تفصیلات کے ساتھ رپورٹ پیش کرنا اور سخت احتساب سے گزارنا سکول سے بھی زیادہ سخت تھا۔ لیکن جن لوگوں نے یہ طریقہ بنایا اُن کو سلام۔اب بھی یہ طریقہ کار ہے یا نہیں پتہ نہیں۔ تاہم تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام اسلامی جمعیت طلبہ کا خاصا تھا۔پوٹھی مکوالاں میرا گاؤں ہونے کے ناطے اور مجاہد آباد میر ا بازار ہونے کے ناطے اس سارے عرصہ میں میرے ہداف میں رہے۔ جمعہ والے دن بعد نماز جمعہ مجاہد آباد میں اجتماع ہوتا تھا جو پہلے مسجد اور پھر ساتھ ہی دفتر میں کرتے تھے۔ ابتدائی دوستوں میں امجد سرور شہید کے بڑے بھا ئی امتیاز سرور تھے جو اس شہر کے چوہدریوں میں بھی شمار ہوتے تھے۔اُن کے چچا اشرف خان کا گھر بھی ادھر ہی تھا اور بڑے بھائی ممتاز خان معلم شعبہ کے ساتھ تحریک سے بھی وابستہ تھے۔لیکن ہمارے اجتماع میں تین چار سے زیادہ طالب علم نہیں ہوتے تھے یہ وہ دور تھا جب ہورنہ میرہ اور مجاہد آباد ہمارے کمزور ترین یونٹ ہوتے تھے،ہم معمول کے مطابق اجتماع کے لیے باہر کھڑے تھے اور نوجوانوں کو شرکت کی دعوت سے رہے تھے میری نظر امجد سرور شہید پر پڑی،جو ایک مخصوص سٹائل میں دوستوں کے ساتھ گزرر ہے تھے میں نے اُنھیں دعوت دی کہ اس طرح ہمارااجتماع ہوتا ہے آپ بھی بیٹھیں۔اُنھوں نے تنزکے انداز میں کہا آپ لوگ پہلے اپنی تربیت کرو،نمازوں کی پابندی کرو میری فکر نہ کرو اور گزر گے حقیقت یہ تھی کہ وہ نماز کے پابند تھے اور امتیاز سرور قدرے سست، تاہم پھر وہ میرے خصوصی روبطہ کی فہرست میں شامل ہوگئے۔دوستی اتنی بڑھی کے بڑھتی ہی چلی گی۔آئے روز کبھی وہ میرے گھر اور کبھی میں اُن کے گھر جاتا اور کبھی کبھار جہڑی سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست نقی اشرف جو آج کل بلجیئم میں ہوتے ہیں اُن کے گھر ٹھہرنے ان دونوں کی خاندانی ناراضگیوں کے باوجود ہم ایک دوسرے کے گھرآتے جاتے رہتے،امجد سرور شہید ہمیشہ مسکراتے بلکہ شروع میں بہت زور سے ہنسنے کے عادی تھے لیکن دینی مطالعہ سے تبدیلی آتی گئی۔ لیکن مسکراتے ایسے جیسے گلاب کا پھول کھلا ہو۔اللہ نے خوبصورت شکل صورت کے ساتھ باطن کا بھی خوب صورت بنایا ہوا تھا۔ شعوری زندگی کا آغاز میڑک سے کرتے ہیں اللہ اکبر،ر ہیرو رہنما مصطفیؐ کے نعرے بلند کرتے ہیں عملا ً اللہ سے تعلق ایسا ہے کہ راتوں کے آخری پہر میں اُٹھنا معمول بنا دیتے ہیں ہر وقت ہسنے والا رورو کر دعاؤں کے لیے ہاتھ اُٹھاتاہے کہ نوجوان اسی نعصب العین کے لیے کارواں میں شامل ہو جائیں۔ مطالعہ قرآن و حدیث معمول بنا دیتے ہیں شروع میں لٹرلچر پڑھنے سے بھاگتے پھر مطالعے کے ایسے عادی ہو جاتے ہیں کہ کتابوں کی کتابیں پڑھ ڈالی تقریر سے دور بھاگتے رہے اورکچھ عرصے کے بعد اچھے مقرر بن گے، برائی سے نفرت اور اُ س سے روکنے کے لیے ہاتھ کا استعمال کرنا ایمان کا حصّہ سمجھتے،حکمت اور تنظیمی پالیسوں کی وجہ سے زبان کا راستہ اختیار کرنے پر راضی با مشکل ہوئے منشیات، فحاشی عریانی اور ہر برائی کے خلاف ننگی تلوارتھے اپنے ساتھ نو جوانوں کو لے چلنے اور اُن کی زندگیوں کو تبدیل کرنے کا گُر خوب جانتے، یہی وجہ تھی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ تنظیم کو حلقہ کی ایک قوت بنانے میں کامیاب ہوگے۔ امجد سرور شہید اپنے بڑے بھائی ممتاز خان سے ڈرتے اور بہت احترام کرتے تھے باقی ڈر نام کی چیز اُن میں نہ تھی۔ اللہ کے خوف کے علاوہ باقی ہر خوف ان کے دل سے نکل گیا تھا اوراللہ کی محبت اُس کی تمام محبتوں پر غالب تھی۔ قرآن پاک کی یہ آیت جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو ہلکے ہو یا بوجھل اکثر زبان پر ہوتی اور حدیث رسول ؐ جب کوئی برائی دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے تو دل میں برا جانو اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے وہ برائی کو ہاتھ سے روکنے کے قائل تھے انکی زندگی میں مجاہدانہ پن پایا جاتا تھا ہمیشہ سعاوت کی زندگی اور شہادت کی موت کی تمنا کرتے۔ دنیا کا ان کے ہاں کوئی مقام نہیں تھا آخرت کی منزل اور وہاں کی کامیابی ہی کی فکر رکھتے اسلام کی محبت اُس کے خون کی رگ رگ میں بستی تھی اور عمل سے نظر آتی تھی۔ اسلام کے غلبے اور کشمیر کی آزادی کا خواب اُسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔ ہربات میں مجھ سے مشور ہ کرنے اور ہر بات ماننے والا جب جہاد کشمیر کے لیے جانے کا ارادہ کر گیا تو میری حکمتوں اور باتوں کو بھی ہوا میں اڑا گیا اور آخری خط میں لکھا "میرے پیارے بھائی،جگری دوست میں بڑے معاذ پر جا رہا ہوں شہادت کی تمنا اور خواہش لے کر۔مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا پھر کچھ دنوں کے بعد ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔وہ جو اس نے عہد کیا تھا میرا جینا میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے اپنے عمل سے سب سچ ثابت کر گیا توقع ہے کہ ہمیشہ سچ بولنے والا قیامت کے دن مجھ گناہگار کو بھی بھائی کے رشتے کا لاج رکھتے ہوئے شفاعت ضرور کرے گا۔اللہ درجات کو بلند کرے اس عظیم نوجوان کی بہترین تربیت کرنے پر اس کے والدین اور اسلامی جمیعت طلبہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں علم کے ساتھ اچھی تربیت وقت کی ضرور ہے۔سردار ممتاز سرور، امتیاز سرور،مولانا اتفاق اور دیگر منتظمین شہدا ء کانفرنس کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک عرصہ کے بعد ایسے پروگرام میں شرکت کا موقع دیا۔ کانفرنس میں مقررین کی گفتگو اچھی تھی لیکن مقررین کی فہرست طویل ہونے کی وجہ سے تھکاوٹ کا احساس ضرور ہوا۔ نیز شہیدا کے حوالے سے معلوماتی گفتگوکی کمی محسوس ہوئی ہے۔امجد سرور شہید کے علاوہ ان14 شہدا کے حوالے سے مجھ سمیت کوئی معلومات لے کر نہ جا سکا،یہ جو لوگ موت کو سامنے دیکھتے ہوئے شہادت کے لیے گئے ہیں ان کی زندگیوں میں یقینا سبق ہے جن کی موت اتنی عظیم ہے ان کی زندگیاں بھی مشعل راہ ہیں۔مجاہدین کا کشمیر کی آزادی کا عزم اور تقسیم کشمیر کی ہر سازش کو ناکام بنانے کا عزم حوصلہ افزا ہے۔ جس تحریک میں امجد سرور شہید،عامر حفیظ شہید جسے ہزاروں نوجوانوں کا خون شامل ہے اُس کے خلاف پہلے بھی سازشیں ناکام ہوئی ہیں۔ آئیندہ بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گی ان کے مقد س لہو سے کشمیر ضرور آزاد ہوگا البتہ حق اور باطل،ظالم او رمظالم کی اس جنگ میں کون کس کے ساتھ کھڑا رہا یہ آزمائش ہے۔کامیاب وہی ہیں جو حق کے ساتھ ہے۔کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے۔ اسلام کا پرچم ضرور ساری دنیا میں غالب ہو کر رہے گا۔ امجد سرور شہیدکے شہر میں اس کی کمی تو تھی لیکن مشن جاری رکھنے کا عزم لیے نوجوانوں کی بڑی تعداداچھے مستقبل کی نویدہیں اللہ حق کے ساتھ زندگی کزارنے کی توفیق دے اور باطل کو مٹا دے آمین۔ 22 Attachments



چہرے نہیں نظام بد


چہرے نہیں نظام بد شفقت ضیاء اسلامی جمہوریہ پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے چوہتر سال گزر گے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کے نعرے بلند کرنے والی ایک نسل اللہ کو پیار ی ہوگی لاکھوں قربانیاں دینے والے اور ان کی نسلیں اس نظام کیلئے ترس گئیں،ہر آنیوالے کے نعرے ،دعوے تو کیے ملک اور قوم کو کچھ نہ دیا جس ملک کے نام کی ابتداء اسلام سے ہوئی اس کو کبھی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی صورت اور کبھی جمہوری عمران خان کی صورت میں مدینہ کی ریاست بنانے کے حسین خواب دیکھاے گئے جس سے مولانا طارق جمیل بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ،افسوس چارسال گز رجانے کے باوجود اس کی طرف ایک قدم بھی مزید بڑھ نہ سکا آئین پاکستان اپنے اقتدار کوڈوبتے ہوے نظر آجاتا ہے لیکن وہ اسلام کا نظام جس کے بارے آئین پاکستان میںکہا گیا ہے سپریم ہوگاوہ تعلیم میںصرف اسلامیات کی چھوٹی سی کتاب کی صورت میںجبکہ عدالتوں میں آج بھی انگریز کا قانون ملے گا ،نسلیں انصاف کی تلاش میں زندگی سے محروم ہوجاتی نظرآئینگی ،معیشت میں تلاش کروگے تو سود کی صورت میں غریبوںکو نچوڑتے ملے گی ،سیاست میں دیکھنا چاہیں تو جھوٹ سے ابتداء اور جھوٹ پر خاتمے کی صورت میں خوب دستیاب ہے معاشرت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہوتو حکمرانوںکی توں توں میں میں اوربداخلاقی کی ساری حدیں پوری کرتے ہوئے قوم کے حکمرانوںسمیت لیڈر اپنے بچوںکوسکھاتے ملیںگے لیکن نہیںملے گاتواسلام نہیں ملے گا یہ کیسا پاکستان ہے جس میں سب کچھ ہے قدرت نے وسائل سے مالامال کیا ہوا ہے پھر بھی غربت اور بے روزگاری مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ ہے اب تو پوری قوم کی چیخیں نکل رہی ہیںپھر بھی سوچنے اور فکر کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو چور اور ڈاکو کہہ کر لیڈران تھکتے نہیں ہیں چہرے بدلنے کی فکر میں ہمیشہ کی طرح پھر لگے ہوئے ہیںنظام بدلنے کی فکر ہے نہ عمل، قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے اسلام کے نام کو بھی استعمال کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے اوراعلانات بھی کرتے ہیں کون نہیںجانتا کہ موجودہ حکمران نے اعلان کیا تھا کہ مدینہ کی ریاست بنائوںگاانصاف کا نظام ہوگا اور چار سال میںایک قدم بھی نہ بڑھانے کے باوجود پھر تقریریں ہورہی ہیں ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئیں ؟ بے روزگاری میں اضافہ کیوںہو ا ؟ پچاس لاکھ گھر بن گئے ہیں تولوگ بے گھر کیوں ہیں ،وزیر اعظم ہاوس اورگورنر ہائوس کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کردینگے ،یونیورسٹیاں بن گئیں؟کابینہ کی فوج ظفر موج نہیں ہوگی اس سے بڑی کابینہ تو پہلے بھی نہ تھی جی ہاں انہی عمران خان صاحب نے کہا تھا خودکشی کر لوں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائوںگا ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا قرض لینے کاریکارڈ کیسے حاصل کرلیا پھر بھی مدینہ کی ریاست بنائوں گا جس سود کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے وہ نظام کیسے کامیاب ہوسکتا ہے اللہ اور رسول پر ایمان ہے تو ان کی باتوںکو ماننا ہوگا سود سے مال نہیں بڑھتا صدقات اور خیرات سے مال بڑھتا ہے زکواۃ کے نظام کو درست کرنے او سود سے جان چھڑانے سے معیشت بہتر ہوگی لوگوںکو بے وقوف بنانے کے لیے جتنے مرضی دعوے کرتے رہومعیشت بہتر نہیںہوسکتی اللہ اور رسول سے مقابلہ کوئی نہیںکرسکتا ہے دو رنگی ختم کیے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ،چوہتر سال سے ملک اور قوم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے نام بدلے ہیں چہرے بدلے ہیں لیکن نظام نہیں بدلا گیا اب پھر چہرے بدلنے کی جدوجہد ہورہی ہے اس میںکوئی شک نہیں کہ حکومت ناکام ہوگئی اس نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ لانا تو دور کی بات ملک کو الٹا تباہ کردیا گیا ہے کوئی بھی شعبہ ایسانہیں ہے جس میں کوئی تبدیلی آئی ہو ہر شعبہ زندگی تباہ حال ہے سب سے بڑھ کر عوام بالخصوص غریب عوام کی زندگی عذاب بن چکی ہے لیکن اس کے باوجود محض چہرہ بدلنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے ایک سال اور دیا جاے قوم کی چٹنی بنا لے گا کافی لوگوں کو آرام آچکا ہے اور باقیوں کو بھی آجاے گا، حقیقی تبدیلی نظام کی تبدیلی کے بغیر نہیں آسکتی چہرہ بدل دینا ماسوائے مزید تباہی سے بچانے کے کچھ نہ ہوگا عدم اعتماد جمہوری طریقہ تو ہے لیکن ماضی سے زیادہ تبدیل نہیں جب جہانگیر ترین جہاز بھر بھر کر لارہا تھا اورعمران خان پھولے نہیںسمارہے تھے اور ساتھ فون کال بھی آئی تھی سنا ہے فون کا لز کا سلسلہ بند ہوگیا ہے اللہ کرئے ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے اور میرے ہم وطنو کا نعرہ بھی نہ بلند ہو اسی میں ملک اور قوم کا بھلا ہے قوم کو خوراک اچھی اور ایک نمبر ملتی نہیں ہے اس لیے اس کا حافظہ بھی کمزور ہوگیا ہے ورنہ پانچ سال کے بعد انتخابات کے موقع پرا نہیںسب دعوے بھول کیوں جاتے ہیں اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ قوم اپنے آپ کو تبدیل نہ کرسکی جو قوم اپنی حالت نہیں بدلتی اللہ بھی اس کی حالت نہیں بدلتا ،اور ایسی قوم پر اللہ کا عذاب ظالم حکمران کی صورت میں مسلط ہوتاہے حدیث میں آٹا ہے جیسے اعمال ہوتے ہیں ایسے ہی حکمران ہوتے ہیں قوم جب تک اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتی اللہ کی طرف سے ایسے عذاب آتے رہیں گے ایک جائے گا دوسرا آئے گا ملک اور قوم کا بھلا اسی میں ہے کہ ملک جس مقصد کے لیے بنا تھا وہ اسلام کا عادلانہ نظام نافذ کیا جائے جس کے لیے خود کو اور حکمرانوں کو بھی بدلنا ہوگا چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا ،جمہوریت کو حقیقی جمہوریت جس میںعوام کو آزادانہ ،منصفانہ ووٹ کا حق ہو جس میں جہاز بھر لانے اور پیسوںکی بوریوں کے منہ کھول کر ضمیر خریدنے کا سلسلہ بندہو اقتدار بچانے کے لیے بھی غیر جمہوری اور غیر آئینی حربوںسے بازآنا ہوگا ورنہ ملک مزید تباہی سے دوچار ہوگیا ہے ملک حقیقی اسلامی اور جمہوری نہ بننے کی قیمت پہلے ہی ایک بڑے حصہ کو گنو ا کردئے چکے ہیں اندرونی ،بیرونی سازشوں سے بچنے کا راستہ اپنے رب کی طرف پلٹنے کے سوا کچھ نہیں اقتدار کے پوجاری موجود ہ ہوں یاسابقہ حکمران ان کی دلچسپی صرف اقتدار سے ہے حل صرف عوام کے پاس ہے کہ وہ سچی توبہ کرتے ہوئے اپنے آپ کوبھی تبدیل کریںا ور ملک کے نظام کو بھی تبدیل کریں اسی میں سب کا بھلا ہے چہرہ تو تبدیل ہونے کو ہے اللہ کرے نظام بھی تبدیل ہوجائے چہرئے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



پی ڈی اے کی غضب کہانی


پی ڈی اے کی غضب کہانی شفقت ضیاء دنیا بھر میں ادارے جن مقاصد کے لیے بنائے جاتے ہیں وہ حکومتوں اور شخصیات کی تبدیلی کے باوجود اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تعمیراتی ادارے اور بلدیاتی ادارے عوام کے ٹیکسز کا استعمال اتنی خوبصورتی کے ساتھ کرتے ہیں کہ اُن ممالک میں مہینوں جوتی کو پالش کی ضرورت تک نہیں پڑھتی صفائی کا بہترین نظام اور تعمیر و ترقی کے سلیقے سے کیے گئے کاموں کو دیکھ کر کون کافر ہو سکتا ہے جو ٹیکس کی ادائیگی خوشی سے نہ کرے ا ن اداروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ کس پارٹی یا شخصیت کی حکومت ہے انہوں نے اپنے کام کو ہر طرح کی سیاست سے بالاتر ہو کر کرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے عوام کو اچھی سہولتیں میسر ہوتی ہیں اور یہ احساس رہتا ہے کہ ہمارے ٹیکسزسے یہ سارے کام ہو رہے ہیں ہمارے ملکوں میں ادارے شخصیات اور حکومتوں کے رحم پر ہوتے ہیں حکومتیں تبدیل ہوتے ہی ان اداروں کے ذمہ داران کو بھی تبدیل کر دیا جاتا ہے اور من پسند لوگوں کو محض پارٹی وابستگی کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے۔اُس کی اہلیت،قابلیت اور صلاحیت کو نہیں دیکھا جاتا جس کی وجہ سے بعض اوقات ایسے لوگ ذمہ دار بن جاتے ہیں جنہوں نے کبھی اپنا گھر نہیں چلایا ہوتا جن کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارہ تباہ ہو جاتا ہے چونکہ ایسے شخص نے گزشتہ حکومت کے دور میں بے روزگاری کا ٹی ہوتی ہے اور صرف پارٹی کے نعرے لگانے کی وجہ سے مالی حالات خاصے خراب ہو چکے ہوتے ہیں اس لیے پرانے قرض چکنے کے ساتھ آئیندہ پھر کب موقع ملتا ہے کی سوچ کے مطابق دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر وہ لوگ جو کگلے ہوتے ہیں وہ کروڑوں کے مالک بن جاتے ہیں اور ادارے کئی سال پیچھے چلے جاتے ہیں بدقسمتی سے احتساب کے ادارے بھی موئثر نہیں وہ بھی حکومتوں کے ماتحت ہی ہوتے ہیں چونکہ اُن کو بھی نوکری پکی رکھنا ہوتی ہے باقی جائے سب کچھ جہنم میں یوں آج تک کوئی ایسا نظام نہیں بن سکا جس میں حقیقی احتساب ہو سکے۔سیاسی جماعتیں ہوں یا آمروں کے دورِ حکومت ہوں سارے ہی اس حمام میں ننگے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جمہوریت کی بات کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی نہ بلدیاتی انتخابات کراتی ہیں اور نہ ان اداروں کو مظبوط بنانے کے اقدامات کرتی ہیں عوام کی ہمدردی اور خیر خواہی کی باتیں تو خوب گلے پھاڑ پھاڑ کر کرتی ہیں لیکن عوام کے وسائل کو بے دردی سے لوٹتی اور لوٹاتی ہیں اداروں کو مظبوط بنانے کے لیے نہ سوچتی ہیں اور نہ عملی اقدامات کرتی ہیں جبکہ عوام کو ایسے مسائل میں الجھا دیا جاتا ہے کہ ان کو ہوش ہی نہیں رہتا مہنگائی،بے روزگاری کے مارے عوام پیٹ سے زیادہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے جس کا نتیجہ ملک کی تباہی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ آزادکشمیر کا چھوٹا سے خطہ جو ضلع راولپنڈی جتنا ہے جس کے دس اضلاح ہیں ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر اور تمام محکمہ جس کی لمبی فہرست ہے اور پھر تین کمشنر بھی ہیں اور ان کے ساتھ دیگر افسران جبکہ ہر ادارے کا سربراہ اور پوری ٹیم موجود ہونے کے باوجود جس پر اربوں روپے کا بجٹ خرچ ہو رہا ہے عوام کی حالت ہے کہ بدلنے کو نہیں۔ حکومتوں کی موج ظفر موج بھی ہمیشہ رہتی ہے لیکن سڑکوں کی خستہ حالی ہو یا گندگی کے ڈھیر اور بدبو سے پھیلنے والی بیماریاں،ختم ہونے کو نہیں آتی آخر کیوں؟اس لیے کہ عوام بیدار نہیں ادارے چند لوگوں کے روزگار اور لوٹ مار کے سوا کوئی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے۔وسائل کی کمی نہیں مگر وسائل غلط لوگوں کے ہاتھوں میں ہونے کے باعث برباد ہوتے ہیں عوام کو شعور نہیں کہ ان کے وسائل پر عیاشیاں ہو رہی ہیں اور ذمہ دار ان شیر مادر سمجھ کر لوٹتے ہیں ایسے میں بیدار ہونے کی ضرورت ہے جب تک اپنے حقوق کے لیے اُٹھتے نہیں ہیں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔حقیقی تبدیلی کے لیے قیادت درست ہاتھوں میں ہونا ضروری ہے خواہ وہ ملکی سطح پر ہو یا اداروں کے سربراہان ہوں وہ دیندار، باصلاحیت اور کام کو سمجھنے والے نہیں ہوں گے تو کام صحیح نہیں ہو سکے گا ایک وقت میں جب آزاد کشمیر کے 3اضلاع تھے کام اس سے بہتر ہوتا تھا جو آج دس اضلاع پر تقسیم ہونے کے باوجود نہیں ہو رہا۔اداروں کو سیاسی ایڈجسٹمنٹ کے لیے بنانے سے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھے ہیں آزادکشمیر کے بڑے شہروں میں میونسپل کارپورشن یا بلدیہ کے اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے بجائے 1994 میں مسلم کانفرنس کے دور میں مزید ادارے کا اضافہ کر کے اُسی شہر کے نام ادارہ بنا کر اپنے لوگوں کو ایڈجسٹ کیا گیا۔وادی پرل رولاکوٹ میں پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی جس نے پہلے سے بنی ہوئی پبلک ہاؤسنگ سکیم کو بھی اپنے انڈر لیا اور مزید بھی کچھ منصوبے شروع کیے لیکن ان 26سالوں میں تعمیر سے زیادہ بربادی کی گئی ہر حکومت نے اپنا چیئر مین لگایا اُس نے ایک طرف تو اپنے رشتہ داروں اور پارٹی ورکروں کو پلاٹوں کی صورت میں نوزا دوسری طرف نئی نئی نوکریاں تخلیق کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو ایڈجسٹ کیا جس سے ادارے پر بوجھ بڑھتا گیا اور ادارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے بجائے تباہ ہو کر رہ گیا۔عوام کو فائدے کے بجائے نقصان ہوا اُن کے وسائل چند لوگوں کو نوازنے کا باعث بنے۔ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پرانی محکمہ شاہرات سے لی جانے والی ہاؤسنگ اسکیم کے باسیوں کے بنیادی مسائل بھی حل نہ ہو سکے۔پیسے بٹورنے کے لیے بڑے ایریا کو کمرشل بنا دیا گیا بڑے بڑے پلازے جن کے پاس اپنی پارکنگ ہے نہ کوئی جگہ خالی رکھی ہے سڑک پر پارکنگ ہوتی ہے کسی پلاننگ سے تعمیر ہو سکی نہ کسی خالی جگہ اور عوام کے مفادات کے مقامات کو چھوڑا گیا پی ڈی اے کے افسران مل کرسیاسی چیئر مینوں نے انت مچائے رکھی۔گزشتہ 12سال میں متعدد بار اقتدار کے ایوانوں تک تبائی کا نوٹس لینے ک،اور ذمہ داروں کا احتساب کا مطالبہ کیا لیکن کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگی کیونکہ مال اوپر تک جاتا رہا ایسے میں اب امید ختم ہو چکی تھی ادارہ اب تنخواہوں کے لیے بھی مجبورتھا چونکہ وسائل کا درست استعمال نہ ہونے اور لوٹ مار کی وجہ سے ادارہ تباہ ہو گیا ہے ایک ماہ قبل لکھا تھا کہ آخری امید موجودہ حکومت سے ہے اب یا کبھی نہیں کی صورتحال پی ڈی اے کی ہو چکی ہے کوئی ایسا آدمی چیئر مین بنایا جائے جو بولڈ فیصلے کر سکے اور تباہ حل ادارے کو اُٹھا سکے جو بہت مشکل کام ہے ایسے میں چند دن قبل پی ڈی اے کا چیئر مین ارشد نیازی کو بنایا گیا جو ایک تجربہ کار اور دبنگ آدمی ہیں لیکن مجھے کوئی زیادہ امید نہیں تھی کہ کوئی بڑا اسٹیپ اُٹھائیں گے لیکن انہوں نے آتے ساتھ 30کے قریب غیر قانونی پلاٹ منسوخی کا اعلان کر کے ایک امید کی کرن روشن کر دی کہ اس ادارے کو تباہ کرنے والوں کا احتساب ہو سکے گا۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کروڑوں روپے کے پلاٹ لاکھوں میں غیر قانونی طور پر بانٹے گئے ہیں جس کا کیس احتساب بیورو کے حوالے کر رہے ہیں جو خوش آئند ہے لیکن یہ کام ادھورا ہے آغاز سے آج تک جس نے جو کچھ کیا سب کا احتساب وقت کی ضرورت ہے۔سپیشل آڈٹ کروایا جائے اور احتساب بیورو جس کا چیئر مین بھی راولاکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور دیندار آدمی ہیں ان کی موجودگی میں اس خطہ کے عوام کے وسائل کو لوٹنے والے بچ نہیں پانے چائیے البتہ کسی کے ساتھ نا انصافی بھی نہیں ہونی چاہیے۔اس میں اصل امتحان حکومت کا ہے بلخصوص وزیراعظم عبدالقیوم نیازی اور سنیر وزیر تنویر الیاس جن کا اسی ضلع سے تعلق ہے کہ احتساب حقیقی اور مستقل چیرمین لگایا جاے تاکہ ہمیشہ کے لیے یہ مسلہ حل ہو جاے یہ عہدے، عزت مقام اللہ کی دین ہوتی ہے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن سے اللہ بڑا کام لیتا ہے احتساب کے ساتھ گلشن شہدا ہاؤسنگ اسکیم جس پر عوام کے کروڑوں روپے طویل عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں وہ حکومت خصوصی وسائل دے کر تعمیر کرا کر اُن کے حوالے کرے تاکہ وہ اپنا گھر بناسکیں۔امید ہے اس غضب کہانی کے کردار بچ نہیں پائیں گے۔



آزادی جمہوریت اور انصاف


آزادی جمہوریت اور انصاف شفقت ضیاء آزادی بڑی نعمت ہے اس کی قدر وہی لوگ جانتے ہیں جو غلامی میں زندگی بسر کرتے ہیں 1947میں کشمیریوں نے اپنے زورِ بازو پر اللہ کی مدد سے آزادکشمیر کا خطہ آزاد کرایا منزل کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کے لیے اسے بیس کیمپ کا درجہ دیا ابتدائی دور انتہائی مشکل تھا وسائل کی کمی اور بے شمار مسائل کے باوجود عزت و وقار کے ساتھ تمام مشکلات کا مقابلہ کیا کشمیر کی مکمل آزادی کا خواب تو پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پایا لیکن کشمیریوں نے عزت اور وقار پر آنچ بھی نہ آنے دی۔عہدے منصب کو بے توقیر نہیں ہونے دیا۔غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان، کے ایچ خوورشید، سردار عبدالقیوم خان جیسے بڑے لیڈرا ن کی موجودگی میں پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بہترین شناخت رہی لیکن بدقسمتی سے لیڈر شپ تیار کرنے کا کام نہ ہو سکا جس قوم کے پاس اچھی لیڈر شپ نہ ہو وہ ترقی اور بڑے مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتی یوں مقبوضہ کشمیر کی آزادی تو خواب ہی رہا آزاد کشمیر کی آزادی پر بھی سوالات پیدا ہونے لگے۔ یہ کیسی آزادی ہے جس میں ہماری سیاسی جماعتیں الیکشن میں اپنی مرضی سے امیدواران دے سکتی ہیں اورنہ منتخب ممبران اسمبلی اپنا قائد ایوان دے سکتے ہیں ٹکٹوں کے حصول کے لیے رائیونڈ، بنی گلہ، نوڈیرو کا طائف ہی نہیں پیسوں کے انبار اور گھنٹوں قطاروں میں ذلیل ہونا پڑتا ہے ہر 5سال بعد پھر کسی سرمایادار کو وزیرِ اعظم کا امیدوار بنا کر ٹارگٹ دے دیا جاتا ہے آخری وقت تک دیکھایا کچھ کیا کچھ جاتا ہے پارٹیاں بھی پاکستانی، فیصلے بھی وہاں سے ہوتے ہیں تو ہماری لیڈر شپ صرف ذلیل ہونے کے لیے کیوں ہے؟ کشمیریوں کی قیادت نے پاکستان بننے سے پہلے اپنی سمت کا تعین کر دیا تھا اور اپنے آپ کو پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی کہتے تھے لیکن کبھی کسی کو یہ اختیار نہیں دیا تھا کہ وہ ہمیں ذلیل کرے لیکن سیاست میں جب قیادت چھوٹے اور کمزور لوگوں کے پاس آتی ہے تو گھر اورہر جگہ ذلت آتی ہے۔پیسوں سے لوگ بڑے نہیں ہوتے کردار سے لوگ بڑے ہوتے ہیں جب پیسوں کی وجہ سے لوگوں کو بڑاسمجھا جانے لگتا ہے اور قیادت ان کے سپرد کر دی جاتی ہے تو گھاٹے کا سودا کیا جاتا ہے چونکہ جرات بے باکی اور غیرت کے لیے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ہماری قیادت وسائل کی کمی کے باوجود باوقار رہی ہے۔آزادکشمیر کے انتخابات میں جس طرح وسائل کا استعمال کیا گیا بلکہ تذلیل کے انداز میں نوٹ پھینکے گئے اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد وزیرِ اعظم کے انٹرویو لیے گئے آخر میں نیازی قبیلہ سمجھتے ہوئے تخلص نے کام دیکھایا یا ستاروں کے علم یا روحانی ہدایات پر عمل کیا گیا لیکن جو بھی ہوا جمہوریت کے ساتھ مذاق ضرور ہوا۔ موجودہ جمہوری نظام پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے لیکن اس کی جو تعریف کی جاتی ہے کہ عوام کی حکومت عوام کے لیے، عوام کے ذریعے اس میں لفظ عوام نکال لیا جائے تو عوام کے لیے کچھ نہیں بچتا بس یہی صورتِ حال ہے اس جمہوریت میں عوام کی۔سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹرشپ قائم ہو چکی ہے۔آمروں کے خلاف باتیں تو کی جاتی ہیں عملاََ سیاسی جماعتوں میں آمریت فاتح ہے۔انتخابات کا صاف شفاف نظام موجود نہیں سرمایا داروں کے ذریعے کاروبار کی طرح پارٹیاں چلائی جا رہی ہیں عوام کی رائے کا کوئی احترام نہیں کیا جاتا۔ جن لوگوں کو عوام چن کر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں انہیں وزیرِ اعظم چننے کا اختیار حاصل نہیں۔پھر یہ کیسی آزادی اور جمہوریت ہے َ آزاد کشمیر میں جس طرح حکومت سازی کی گئی ا س کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آزادکشمیر میں برسرِ اقتدار آنے والی پی ٹی آئی قیادت سمیت کسی ایک آدمی نے کھل کر آواز تک بلند نہ کی بیرسٹر سلطان محمود پارٹی صدر اور 8سال سے جماعت کو منظم کرنے کے باوجود جس طرح مکھن سے بال نکالتے ہیں نکال باہر کیا گیا مجال ہے کسی کو اعتراض ہو کوئی ممبر سمبلی بولا ہو کہ اس کا اختیار صرف ہمارا ہے یہ کیسی قیادت اسمبلیوں میں جا پہنچی ہے کل اللہ نہ کرے ان سے کوئی اور بڑا فیصلہ کروا لیا جائے؟وزیرِ اعظم کوئی بھی بنتااختیار ممبران اسمبلی کا تھا جسے استعمال بھی انہیں کرنا چاہیے تھا ایسا نہ ہونا اور آواز بھی نہ آنا آزادی کی علامت ہے یا غلامی کی؟ پارٹی کے اندر گروپنگ تو تھی لیکن انصاف بھی کوئی چیز ہے۔ عمران خان تو کہتے تھے آزاد کشمیر کے فیصلے آزاد کشمیر میں ہوا کریں گے اُن باتوں کا کیا ہوا؟کچھ عرصہ قبل موجودہ سینئر وزیر تنویر الیاس نے کہا تھا کہ بیرسٹر سلطان محمود نا قابلِ اعتبار آدمی ہے اس نے کئی جماعتیں تبدیل ہی نہیں بلکہ خرید و فروخت بھی کی اور اب کہا کہ بیرسٹر سلطان نے پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا صدر بن جانا چائیے اُسے ہُوٹر کا ویسے بھی کافی شوق ہے اور صدر کے ساتھ یہ زیادہ ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر وہ اتنے ہی ناقابلِ اعتبار تھے تو پارٹی صدر کیوں بنایا گیاپارٹی کو بنانے اور مشکل وقت میں اس بات کا خیال کیوں نہ آیا؟ اب صدر کیوں بنایا جا رہا ہے، بیرسٹر سلطان محمود کو بھی آخر تجویز پسند آ گئی لیکن اس سے بہتر تو یہ تھاکہ جس خاموشی کے ساتھ وزیرِ اعظم کے فیصلے کو قبول کیا اسی پر اتفاق کرلیتے، تاکہ کم از کم چند ہمدردوں کے دلوں میں ہمدردی اور نا انصافی کا خیال تو باقی رہ سکے۔لیکن بعض اوقات مخالفین کا مشورہ بھی قبول کرنا مجبوری بن جاتی ہے،بیرسٹر سلطان محمود کے ساتھ بھی شاید اسیا ہی کچھ ہوا ہے یوں مخالفین کا راستہ بھی خالی کر دیا ہے ورنہ اتنے تجربہ کار آدمی کو باہر رکھنا پی ٹی آئی حکومت کے لیے مشکلات ضرور پیدا کر سکتا تھا۔اب بھی وقت ہے پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت یہ فیصلہ کر ے کہ اپنے فیصلے خود کریں گے ورنہ پاکستان کی قیادت ہمیشہ کی طرح یہ کہنے کے باوجود کہ اب فیصلے آزادکشمیر میں ہوں گے باہر سے ہی آتے رہیں گے اور چاہتے نہ چاہتے قبول کرنا ہوں گے آزادی، عزت یا غلامی، ذلت میں سے کسی کا انتخاب کرنا ہو گاآزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم عبدالقیوم خان نیازی کو بڑے منصب کی مبارک ہو۔واقعی اللہ جسے چاہتاہے اسے عزت دیتا ہے اور اللہ ہی بعض لوگوں کو عہدے دے کر ذلیل بھی کر لیتا ہے بڑی آزمائش ہے جس کے لیے محنت اور مسلسل اللہ کی مدد کا طلب گار رہنا چاہیے۔سردار عبدالقیوم نیازی نے سردار عبدالقیوم کے ساتھ کام کیا ہے یقینا بہت کچھ سیکھا ہو گا بڑے لیڈر سے حاصل کیے گئے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے مشکل حالات میں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ آپ اس عہدے کے اہل ہیں آپ اچھے انسان ہیں جس رب نے آپ کو اس منصب پر فائز کیا اب اُس کے حکم کے مطابق عدل و انصاف، غریب بے بس و لاچار عوام کی خدمت کے فرض کو ادا کرنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑیں جو وقت ملا ہے با اختیار رہ کر گزاریں پونچھ کے باسی ہونے کے ناطے اس کی محرومیوں کا خاص خیال رکھیں راولپنڈی سے راولاکوٹ تک ایکسپرس وے کو ترجیح اول میں بنوا لیں۔اس سے پونچھ ڈویژن کے عوام کو بہت فائدہ ہو گا۔سیاحت میں اضافہ ہو گا اور عوام کے مسائل کے حل میں بڑا اقدام ہو گا اللہ نے جو عزت دی ہے عوام کی خدمت سے اُس میں اضافہ کا موقع امیدہے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔



ادارہ پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تباہی اور موجودہ حکومت سے امیدیں


ادارہ پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تباہی اور موجودہ حکومت سے امیدیں شفقت ضیاء کشمیر جنت نظیر کی خوبصورت وادی پرل قدرت کا حسین شاہکار ہے۔قدرتی حسن اور جغرافیائی اعتبار سے پورے آزاد کشمیر میں منفرد حیثیت کی حامل اس وادی کو راولاکوٹ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے لیکن بہت پہلے اس کے حسن سے متاثر ہو کر کسی انگریز سیاح نے اسے پرل کہہ دیا تو اس کا دوسرا نام پرل پڑ گیا اس خوبصورت علاقے کو 74سال میں رنگ بھرنے کے بجائے گند بھرنے کا کام کیا گیا جس کا ثبوت بنجوسہ جھیل اورراولپنڈی سے راولاکوٹ داخل ہوتے ہوئے بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ماسٹر پلان پہلے موجود ہی نہ تھا لیکن ایک عرصے سے موجود ہونے کے باوجود خلاف قواعد تعمیرات سے شہر مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا ہے اس شہر کو خوبصورت بنانے کے لیے 1994میں پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(پی ڈی اے)کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بعد جزوی تکمیل شدہ پبلک ہاؤسنگ سکیم راولاکوٹ اور چھوٹا گلہ اسکیم پی ڈی اے کو محکمہ تعمیرات سے منتقل ہوئیں۔ادارہ ترقیات پرل نے پہلے سے کی گئی پلاننگ کو تبدیل کرتے ہوئے پلاٹ الاٹ کیے اور اس رقم کو حکومتی ہدایات کے برعکس خلاف قواعد تنخواہوں اور دیگر مدعات پر خرچ کر کے ایک ایسا آغاز کیا جس کا سلسلہ جاری رہا،پلاٹس کی الاٹمنٹ پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ہوتی رہی اور ہر دور میں اپنا حصہ لینے کا کام جاری رہا جس سے شہر کی قریب ترین ہاؤسنگ سکیم اور عوامی اہمیت کی ضرورت کی جگہوں پر بھی پلاٹ بنا کر الاٹ کر دیے گئے ایک بڑے ایریا کو کمرشل بھاری فیس لے کر بنا دیا گیا اور ادارے میں آنے والی آمدنی غیر ضروری کاموں اور تنخواہوں پر اڑانے کے سوا عوام کے مفاد کا کوئی کام نہ ہو سکا سیاسی چیئرمینوں نے ادارے کو تباہ کرنے میں زیادہ کردار ادا کیا ہر دور میں شکایات کے باوجود مافیاز کا احتساب نہ ہو سکا بلکہ وہ اپنا کام کرتے رہے۔یوں پبلک ہاؤسنگ اسیکم چند افراد کے لیے سونے کی کہن اور پبلک کے لیے مشکلات کا باعث بنتی گئی طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود سیوریج کا نظام ہے نہ سڑکیں چلنے کے قابل،ہر طرف گندگی کے ڈھیر ہیں یوں محسوس ہوتا ہے یہ کوئی غیر وارث علاقہ ہے جبکہ دوسری طرف ادارے میں عملے کی ایک فوج ہے جن کو سیاسی چیئر مینوں نے اپنے اپنے دور میں بھرتی کرنا ضروری سمجھا۔21سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ادارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی بجائے تباہ حال ہو گیا۔ہاؤسنگ اسکیم میں رہنے والوں کے مسائل کا ذکر کیا جائے یا شہر کے خوبصورت ترین علاقے میں سڑک پر بلدیہ اڈے سے لے کر آگے تک جو جگہ تھی جسے شہر کا دل کہا جا سکتا ہے جس طرح کے پلازے کھڑے کیے گئے وہ اس ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہی نہیں بلکہ ماضی کی حکومتوں کا ماتم بھی ہے۔مین سڑک پر بڑے بڑے کمرشل پلازے فیس لے کر منظوری دے دی گئی کسی کے پاس پارکنگ نہیں گاڑیاں سڑک میں کھڑی رہنے کی وجہ سے ٹریفک کے نظام میں خلل پڑتا ہے اور آئے روز حاثات پیش آتے ہیں ماسٹر پلان میں تعمیرات نہ ہونے کی وجہ سے شہر تنگ اور عوام کی مشکلات کا ازالہ کون کرے گا؟ پی ڈی اے نے پبلک ہاؤسنگ سکیم اور پلازوں کو ہی تباہ نہیں کیا بلکہ گلشنِ شہداء کے نام سے رہائشی اسکیم کے لیے زمین اور باقاعدہ منصوبہ بندی اور پلاننگ سے آغاز نہ کرتے ہوئے الاٹمنٹس سے کثیر رقم حاصل کر کے غیر متعلقہ اور غیر ضروری کاموں پر خرچ کر دیے قومی خزانے کو کبھی کسی فرم کے حوالے کیا گیا کھبی کسی، تنازعات اور عدالتوں میں معاملے کو جانے کے باعث اخراجات کے سوا عوام کو 25سالوں میں کچھ حاصل نہ ہو سکا۔الایٹوں سے وصول ہونے واالی رقم کا بڑا حصہ بھی تنخواہوں اور دیگر غیر متعلقہ کاموں پر خرچ کی جا چکی ہے اور مختلف فرموں نے بھی اپنا اپنا حصہ وصول کیا اور کام جوں کا توں ہے مختلف اداروں میں حکومتوں کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی رہیں ترقیاتی کاموں کی الاٹمنٹ کے خلاف قواعد ہونے کی نشاندہی بھی ہوتی رہی لیکن ہر دور میں مٹی پاؤ اور اپنا الو سیدھا کرو کی پالیسی سے ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا اور عوام پر بوجھ بن چکا ہاؤسنگ اسکیم میں الاٹیوں کے کروڑوں روپے طویل عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں جس میں ایک کنال کے 190پلاٹ اور 10مرلہ کے 230پلاٹ کی ابتدائی رقم دو کروڑ ارسٹھ لاکھ بتیس ہزار چار سوایک(2,68,32,401)بنتی ہے جبکہ بہت سے الاٹیوں نے تقریباََ ساری ادائیگی کی ہوئی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان لوگوں کو کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے۔؟ کیا عوام کے ٹیکسوں سے بننے والے اور چلنے والے ادارے اس لیے ہوتے ہیں؟احتساب نام کی کوئی چیز اس خطے میں موجود ہے؟ مسلم کانفرنس،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے اس ادارے کے ساتھ جو ظلم کیا ہے پی ٹی آئی حکومت صاف شفاف تحقیقات اور احتسا ب کر پائے گی یا یوں اپنا چیئرمین بنا کر اس تباہ حال ادارے کو مزید تباہ کرے گی یہ آنے والا وقت بتائے گا تاہم اب اس ادارے کے پاس کچھ نہیں بچا ہوا جس سے پی ٹی آئی مستفید ہو سکے اب اُن کے پاس ایک ہی حل ہے کہ صاف شفاف احتساب کرتے ہوئے اس ادارے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے جنگی بندیوں پر منصوبہ بندی کی جائے۔ گلشن شہداء ہاؤسنگ سکیم کو حکومتی توجہ اور خصوصی گرانٹ کے ساتھ تعمیر کرایا جائے تاکہ متاثرین جنہوں نے 25سال پہلے گھر بنانے کا خواب دیکھا تھا وہ پایا تکمیل تک پہنچ سکے یقینا اب وہ اس رقم میں تعمیر ہونا ممکن نہیں لیکن الاٹیوں کا کوئی قصور نہیں اس لیے انہیں اب مزید سزا نہ دی جائے باقی ہاؤسنگ اسیکم مکمل ہو یا نہ ہو ابتدائی الاٹیوں کو فوری طور پر ضروری کام کر ا کر قبضہ دیا جائے۔پی ٹی آئی حکومت اگر اپنا چیئرمین بنانا بھی چاہتی ہے تو ایسے فرد کو بنائے جو تباہ حال ادارے کو از سر نو اُٹھانے اور ان مشکل ترین مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ورنہ مزید انجوائے کرنے کا یہ ادارہ متحمل نہیں رہا ہے۔ عوام کی اب آخری توقعات پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت سے ہیں اب نہیں تو کبھی نہیں کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے وادی پرل کی خوبصورتی میں اضافے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے بڑے اقدامات کی اشد ضرورت ہے ماضی میں تباہ کیے جانے والے دیگر ادارے جن میں جامعہ پونچھ، میڈیکل کالج اور ٹیکنیکل کالج کی بلڈنگ کی عدم تعمیر شامل ہے پر بھی توجہ کی ضرورت ہے بلخصوص پی ڈی اے کو تباہ کرنے والوں کا سخت احتساب عوامی منصوبوں کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات سے ہی موجودہ حکومت اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے عوام کی توقعات پر موجودہ حکومت پورا اترتی ہے یا نہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا تاہم وادی پرل کے ساتھ بہت ظلم ہو چکے ہیں اب عوام کو اپنے حقوق کے لیے اُٹھانا ہو گا جن کو آج کی جدید دنیا میں صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت تک پوری نہیں ہو رہی۔حکومتی ادارے کو پیسے دینے کے باوجود ہاؤسنگ اسکیم مکمل نہیں ہو رہی صحت کی سہولتیں ہیں نا تعلیم کی ادارے چند لوگون کی عیاشیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں عوامی نمائندے حق نمائندگی ادا نہ کرتے ہوں تو عوام کو سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا اس لیے موجودہ حکومت کو کچھ وقت ضرور دیا جائے لیکن عوام کو اپنے حق کے لیے اُٹھے بغیر حق ملنا مشکل دیکھائی دیتا ہے۔



چوروں کا ہے راج یہاں، جائیں مظلوم کہاں؟


چوروں کا ہے راج یہاں، جائیں مظلوم کہاں؟ تحریر: شفقت ضیاء پاکستان میں مہنگائی 73سال کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ جس سے عام عوام ہی نہیں درمیانہ طبقے کی بھی چیخیں نکل گئی ہیں۔ کوئی دن نہیں گزرتا جب عوام پر پٹرول، گیس، ڈالر،بجلی کے میزائل فائر نہ ہوں۔پہلے بجٹ سال میں ایک دفعہ پیش ہوتا تھا اور چیزیں مہنگی ہوتی تھیں یا سستی۔۔ عوام اِس کے مطابق اپنا بجٹ بنایا کرتے تھے۔ اب تو مہنگائی کی رفتار جہاز کی رفتار کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ گئی ہے کہا جائے تو غلط نہ ہوگا مہنگائی کی وجہ سے غریب زمین پر ڈھیر ہو چکے ہیں دو وقت اور دو روٹیوں کی بجائے ایک روٹی اور ایک وقت کا کھانا کھانے کی ہدایات بادشاہ کے درباری دے رہے ہیں۔ اس لیے کہ اُنھیں کیا معلوم کے غریب تو صرف روٹی پر گزارا کرتا ہے۔ تمہاری طرح وہ کہاں جانوروں کو مربے کھلانے کے قابل ہے تم تو کھاتے ہو طاقت ور چیزیں اور پیتے ہو جسے تم شہد کہتے ہو۔ تم جو جانوروں کوکھلاتے ہو وہ غریبوں کو میسر کہاں؟ اس لیے جناب والا آپ مشورے اپنے پاس رکھیئے۔اگرغریبو ں کو دینے کیلئے آپ کے پاس کچھ نہیں تو ان کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکو۔ پاکستان کے ظالم حکمرانو۔جو اِس غریب قوم کو سہانے خواب دکھائے تھے وہ تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعدانہیں سمجھ آ گئی۔ اب یہ باتیں چھوڑ و کے ماضی کے چوروں کی وجہ سے ملک کو کیا نقصان پہنچا اور تم نے ان 3سالوں میں کیا کیا ہے؟ پیپلز پارٹی کے دور میں عالمی مارکیٹ سے 147ڈالر فی بیرل پٹرول خرید کر عوام کو 86روپے دیا جاتا تھا۔ پی پی کے دور میں پیٹرول 114روپے تک گیا تھا جسے نواز شریف 62روپے تک لائے۔جب نا اہل ہوئے تو 71روپے کا ہوا۔ ن لیگ حکومت کے خاتمے کے وقت پاکستان کے عوام کو 87روپے 70پیسے میں پٹرول فی لیٹر ملتا تھا۔ آج عالمی مارکیٹ میں پٹرول 87روپے ڈالر فی بیرل ہے اور پاکستان میں 138روپے فی لیٹر مل رہاہے۔ کرپٹ زرداری کے دور میں ڈالر 98روپے تھا۔ نواز شریف کے دور 2013میں ڈالر 108روپے کا ہوا۔ اِس وقت عمران خان نے کہا ڈالر ایک روپیہ اوپر جاتا ہے تو 100ارب روپے قرضہ بڑ ھ جاتا ہے۔ شیخ رشید، اسد عمر اور دیگر کی تقاریریں بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں پھر وہی ڈالر اسحاق ڈار نے جسے تم چور ڈاکو نہ جانے کیا کیا کہتے ہو اس نے 100روپے تک لایا آج وہی ڈالر 175روپے ہے اور مزید اڑان بھرنے کو تیار ہے کہتے ہیں اُس نے مصنوعی طور پر اسے روکے رکھا، عوام چیلنج کرتی ہے اگر تم بھی کر سکتے ہو کر کے دیکھو مصنوعی طور پر ہی 100روپے تک لا کر دکھا دو۔ ان چوروں کے دور میں آٹا 40روپے کلو، بجلی 9روپے فی یونٹ چینی 55روپے کلو کھانے کا تیل 200روپے تھا تو ایمانداروں کے دور میں آٹا 85روپے، چینی 120روپے کوکنگ آئل 360روپے لیٹر، ادویات کی قیمتیں 100فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔گھریلو سلنڈر 2800 تک پہنچ چکا ہے کوئی چیز ایسی بتاؤ جو سستی ہوئی ہو۔ ہر ایک کی قیمت دوگنی ہو گئی پھر دعویٰ ہے کہ ایمانداروں کی حکومت ہے۔ کیا ان نالائقوں سے کرپٹ دور بہتر نہیں تھا؟ کہاں گے وہ دعوے کہ 22سال کی جدوجہد سے ٹیم تیار کی ہوئی ہے آج بھی وزیر خزانہ پرانا آزمایہ ہوا لگایا ہوا ہے۔ آپ تو فرماتے تھے کہ0 200ارب ڈالر قرض حکومت آتے ہی ادا کر دیں گے، عمران خان کا ہی یہ ارشاد تھا کہ آئی ایم ایف جانے کے بجائے خود کشی کر لوں گا آپ نے تو خود کشی نہ کی لیکن عوام کو خو دکشی کرنے پر مجبور ضرور کر دیا۔ آج اُسی آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے عوام پر ظلم ڈھا رہے ہو۔ اُن کو خوش نہیں کر سکو گے اس نے آپ کے عوام کی عزت، حمیت کو ختم کرنے کے ساتھ غریبوں کا ایسا برا حال کرنا ہے کہ وہ اسلام اور ملک سے بیزار ہو جائیں وہ اپنے ایٹمی قوت سے بھی دستبردار ہو جائیں، یہودی شکنجے سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ اُس کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل کر بڑا معاشی فیصلہ کرنا ہو گا لیکن گردن کے سریے کا کیا کیا جائے۔ اگر واقعی ملک کے وفادار ہو اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے مدینہ کی ریاست کی بات نہیں کرتے ہو تو پھر اس نظام سے جان چھڑاؤ سب مل کر یہ فیصلہ کرو آئندہ آئی ایم ایف سے قرض لے کر حکومت کرنے کے بجائے روکھی سوکھی کھا کر ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا کریں گے۔ ایسا کر لو تو عوام مہنگائی اِس سے زیادہ بھی برداشت کر لے گی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ حکمران طبقہ بھی عام عوام کی طرح زندگی گزارے جس طرح مدینہ کی ریاست میں محمد ﷺ کے غلام ابو بکر صدیق جب حکمران بنے تو کپڑے اُٹھا کر کاروبار پر نکلنے لگے تو ساتھیوں نے کہا کہ کہاں جا رہے ہو فرمایااپنے اور بچوں کے پیٹ کے لیے کام تو کرنا پڑے گا۔ ساتھیوں نے کہا کہ یہ بڑی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے آپ کو اپنا کاروبار چھوڑنا پڑے گا۔ اور حکومت کے خزانے سے اپنی ضرورت کے مطابق معاوضہ لینا ہو گا اور معاوضہ عام آدمی کے برابر مقرر کیا جاتا ہے۔ تین سو کنال کا گھر اور بچے لندن کے امیر ترین گھر میں ہوں اور گھر کے لیے کبھی آٹا، چینی، خریدی نہ ہو اُن کو کیا معلوم غریب کی زندگی کیسے گزرتی ہے۔ان کو مدینے کی ریاست کی بات کرنا کسی صورت زیب نہیں دیتا مہنگائی کی صورت میں بہت ظلم ہو گیا اور ابھی تم نے اور بھی کرناہے کرو غریب عوام برداشت کر رہے ہیں کریں گے اور مر رہے ہیں مریں گے۔ لیکن سرکار دو عالم ﷺ محسن ِانسانیت کا نام غلط استعمال نہ کیا جائے، عد ل و انصاف اپنی ذات سے لیکر حکومت تک جب لاؤ گے پھر کہنا محض اس کارڈ کو استعمال کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا بند ہونا چاہیے۔ مہنگائی بے روز گاری سے تنگ عوم کو بہت رولا دیا ہے اُن کی چیخیں آسمانوں تک پہنچ چکی ہیں۔ اللہ کی پکڑ سخت ہے اس سے ڈرو، بد قسمتی یہ ہے کہ آج مسلمانوں کے قول و فعل میں تضاد ہے ہوسکتا ہے اعمال کی کمزوری کی وجہ سے ایسے حکمران مسلط ہو چکے ہیں حدیث کا مفہوم ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کسی قوم کے اعمال خراب ہوتے ہیں تو اُ ن پر ظالم حکمران مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے قوم توبہ کرتے ہوئے اِس بات کا عزم کرے کہ انفرادی زندگیوں کو بھی اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزار یں گے۔ اور اجتماعی نظام بھی اُسی کا لائیں گے اُسی صورت میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ورنہ اس طرح کی سزائیں ملیں گی۔ تمام وسائل سے مالا مال ہمارا ملک آج جن مشکلات سے دو چار ہے اُ س کی وجہ وہ دھوکہ ہے جو اللہ سے کیا گیاہے کہا تھا یہ ملک لا اللہ الہ اللہ کی بنیاد پر بنا رہے ہیں آج وہ کلمے کا نظام موجود نہیں کبھی ضیا الحق اسلام کے نام پر بے وقوف بناتا رہا اور کبھی عمران خان مدینے کی ریاست کے نام پر بے وقوف بناتا ہے۔ غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہوتا رہا۔ آج بھی ملک آئی ایم ایف کی غلامی میں جکڑا ہوا ہے۔ بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ کے مطابق 43ممالک کی فہرست میں صرف3ممالک پاکستان سے آگے ہیں یعنی پاکستان دُنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک بن گیا ہے۔ غربت، بے روز گاری، مہنگائی منظور نہیں، مظلوموں کی پکار ہے، چوروں کا راج ہے۔ جائیں ہم مظلوم کہاں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



افغانستان ہو یا کشمیر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں


افغانستان ہو یا کشمیر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں شفقت ضیاء افغانوں نے کبھی بھی غلامی کو قبول نہیں کیاآزادی کے لیے قربانیوں کی تاریخ رقم کی اوردنیا کی دو بڑی سپر پاور زکو عبر ت ناک شکست سے دوچارکیا۔روس نے اپنی طاقت کے گمنڈ میں افغانستان پر یلغار کی اس امید کے ساتھ کہ جلد پاکستان تک کامیابی کے جھنڈے گاڑیں گے ، ان بھوکے پیاسے لوگوں کی جدید ہتھیاروں کے سامنے نہیں چل سکے گی۔ افغانی ڈٹ گئے تو امریکوں نے موقع غنیمت سمجھا اور مدد شروع کر دی ۔پھر دنیا نے دیکھا افغان لڑے اور خوب لڑے روس کو اپنے نظریے سمیت شکست دی ، روس کے اندر سے کئی ملک بنے اور دنیا کی سپر پاوردنیا کو فتح کرنے کے خواب سمیت دھڑم ہو گئی،اشتراکیت کی شکست پر سرمایہ دارانہ نظام کا علمبردار امریکہ سپر پاور بنا اُس نے سوچا ہماری مدد سے روس کو شکست ہوئی تھی اب ہمارامقابلہ افغان کیا کریں گے ، دیگر ممالک کو ملاتے ہوئے امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا بہانہ بنا یا،جب دو طیارے ٹکرانے سے ٹریڈ سنٹر زمین بوس ہو گیا تو الزام اسامہ بن لادن پر لگایا اور افغانوں کو اسامہ بن لادن کے حوالے کرنے کو کہا گیا لیکن مہمان نواز افغانوں نے انکار کر دیا جس پر دنیا کی نام نہاد سپر پاور نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نیٹو افواج کے ذریعے افغانستان میں بارود کی بارش کی ۔ڈالروں کی خاطر اپنے اور پرائے سب نے کوئی کسر نہ چھوڑی لاکھوں بے گناہ لوگوں کا خون بہا۔پاکستان میں بھی دہشت گردی بڑھی اور غلط پالیسیوں کا بڑا نقصان اُٹھایا، افغانستان کو کھنڈرات بنا دیا گیا افغانوں کی سرزمین کو اُن ہی خون سے لالہ زار بنا دیا گیا۔بیرونی قبضے اور مداخلت کے خلاف کسی کی آواز نہ نکلی لیکن نہتے افغانوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی سرزمین پر کسی کے قبضے اور یلغار کو تسلیم نہ کیا اسی لیے شاید اقبال نے کہا تھا افغان باقی کہسار باقی الحکم للہ الملک للہ امریکہ اور نیٹو کی افواج تمام وسائل اور جدید ترین اسلحہ استعمال کرنے کے باوجود باضمیر بہادر ایمان کی حرارت والے افغانوں کے خلاف تمام حربوں کے باوجود کامیاب نہ ہوئے اپنے فوجیوں کے لاشیں اور مالی نقصان کے بعد واپسی کا باعزت راستہ نکالنے کے لیے سر پیر مارنے لگے اور اپنی فوجوں کو یہ کہ کر نکال لیا کہ ہم نے کابل میں مضبوط حکومت اور جدید اسلحہ سے بہترین فوج تیار کرلی ہے۔ اس لیے اب ہماری ضرورت نہیں رہی در اصل وہ اپنی شکست کو کھل کر تسلیم نہیں کر رہے تھے لیکن اندر سے مان چکے تھے کہ ان بوریا نشین ایمان والوں سے مقابلہ ممکن نہیں ہے یوں غاروں میں رہنے والے معمولی اسلحہ والے جب نکلے تو جدید اسلحہ بھی ہاتھ آتا گیا اور علاقے ایسے خالی ہوتے گئے جیسے تیز ہوا سے ریت کے ذرے اڑتے ہیں ۔ کابل تک فتح حاصل کرنے کے لیے دفاعی تجزیہ کار مہینوں کا سفر کہتے تھے جو دنوں اور گھنٹوں میں مکمل ہوا۔اشرف غنی نوٹوں کے جہازوں سمیت غائب ہو گئے اور طاقتور فوج جو ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب تھی صرف 30ہزار طالبان کے آگے ہاتھ کھڑے کرنے پر مجبور ہو گئی اللہ کی مدد اور ایمان کی طاقت کے علاوہ اگر کسی کو کچھ اور نظر آیا ہے تو وہ اندھا ہے،بصیرت اور بصارت سے آری ہے۔امریکہ اور اُس کے حواریوں کی تکلیف اور پریشانی سمجھ میں آتی ہے،کیوں کہ وہ اس شکست کو معمولی نہیں سمجھ رہے وہ اُس وقت سے ڈرتے ہیں جب روس کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوں وہ جانتے ہیں جس طرح اشتراکیت کی موت ہوئی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کا وقت بھی بہت زیادہ دور نہیں لیکن افسوس کہ ملک پاکستان میں بھی سیکولر طبقہ کے رنگ اڑے ہوئے ہیں اور منہ کھلے ہوئے ہیں ان کی تکلیف کی شدت میڈیا پر نظر آتی ہے۔اللہ کے دین کا علم اور سمجھ نہ ہونے اور دین سے بیزاری کی وجہ سے سرمایہ دار انہ انظام کے علم برداروں کی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور طالبان پر بھی سوالات اُٹھا رہے ہیں۔ مبارک ہو طالبان کی قیادت پر جنہوں نے فتح کے وقت عام معافی کا اعلان کر کے فتح مکہ کی یاد تازہ کی اور دشمنوں کے منہ پر تمانچہ مارا ہے عورتوں کے حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو تعلیم اور ملازمت باعزت اور شریعی طریقے سے کرنے کی اجازت دی ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ 20سال کی جدوجہد اور قربانیوں سے سیکھا ہے۔ امریکہ اور دنیا کی جدید فوج کو شکست ہی نہیں دی الحمداللہ دین اور دنیا کی تعلیم سے لیس قیادت بھی تیار کی ہے اس وقت تک اقدامات قابلِ تعریف ہیں لیکن ماضی میں طالبان کے خلاف جہاں دنیا بھر میں سازش ہوئی تھی اُن سے غلطیاں بھی ہوئی تھی۔ اس وقت تک کے اقدامات سے محسوس ہوتا ہے طالبان نے بہت سیکھا لیکن ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں دنیا بھر کی باطل قوتیں جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ان کے خلاف صف آراء ہیں کوئی موقع ضائع نہیں کریںگے۔ مسلمان ممالک کی قیادت بھی بدقسمتی سے انہی کے اہل کار ہیں اللہ کی مدد صبر، تدبر ، حکمتِ عملی اور اسلامی تحریکوں کی سپورٹ کے بغیر اچھی حکومت قائم کرنا مشکل ہو گا۔پہلی کامیابی سے دوسری کامیابی زیادہ مشکل اور بڑا چیلنج ہے جس کے لیے دینا بھر کی اسلامی تحریکوں کو اُن کی پشت پر آنا ہو گا اور جدید تعلیم سے لیس مختلف شعبوں کے ماہرین کو سیاست ،معیشت، معاشرت، تعلیم ،صحت ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کو تعاون کرنا ہوگا ، اگر طالبان ایک حقیقی اسلامی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا بھر میں ایک بار پھر اسلام کا علم بلند ہو پائے گا۔ اس موقع کو طالبان اور اسلامی تحریکوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔تمام افغان گروپوں کو ملا کر حکومت قائم کرنا ہی عوامی اور مضبوط حکومت ہو گی۔ افغانستان کی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال نہ کرنے اور دوسروں کو بھی مداخلت کی اجازت نہ دینے کا عزم قابلِ تحسین اور سختی سے عملدآمدکا متقاضی ہے طالبان کو ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا چونکہ اُن کا مقابلہ دنیا بھر کے ظالموں سے ہے جو اتنی بڑی شکست کو ہضم نہیں کر سکیں گے۔اُ ن کے لاکھوں ڈالر اور طویل ظلم جو انہوں نے کیا ہوا ہے وہ راتوں کو سونے نہیں دے رہا ہو گا۔بھارت بھی زخمی ہے اُس کے بہت ڈالر لگے ہیں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے اور کشمیریوں کو دبانے کا خواب ادھورا رہ گیا ہے اس لیے وہ بھی چالیںچلے گا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے اور توجہ دوسروں کی طرف دینے کی تمام کوششوں کی ناکامی پر پھڑپھڑا رہا ہے جس کی چیخیں اُس کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر سنائی دے رہی ہیں ۔ لیکن ایسے میں مظلوم کشمیریوں کی دعائیں آپ کے لیے ہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوم عوام کی دعائیں ہیں ، چونکہ دنیا بھر کی بڑی قوتوں کے تمام مظالم آپ نے برداشت کیے ہیں ، ننگا کر کے گرم پانی ڈالا جاتا رہا۔زندہ جلایا گیا کونسا حربہ ہے جو طالبان پر آزمایا نہ گیا ہو انسانی حقوق کے کسی علمبردار کو مظالم نظر نہ آئے، ظلم پھر ظلم ہوتا ہے جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ ہندوستان بھی ظلم کے سارے حربے آزما چکا ہے بچے، جوان، بوڑھے، عورتیں سب ہی ظلم کا شکار ہیں ۔دنیا خاموش ہے کیونکہ اُن کے کاروبار ہندوستان کے ساتھ ہیں اُن کے ملکوں میں سرمایہ جاتا ہے اُن کو اپنے مفادات عزیز ہیں اس لیے ہندوستان کی آٹھ لاکھ فوج کے مظالم کو وہ نہیں دیکھ سکتے۔لیکن ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ نیت خالص ہو مرنے اور مارنے کے لیے قوم تیار ہو اور مشکلات صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کا حوصلہ ہو تو مقدس خون رنگ لاتا ہے اللہ کی مدد آتی ہے اور دنیا کی سپر پاور لائو لشکر کے ساتھ ہونے کے باوجود ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ ہندوستان کی فوج اور جدید ترین اسلحہ دنیا بھر کی سپورٹ میں بہت جلد انشاء اللہ ریت کی دیوار ثابت ہو گی ۔ کشمیروں کی آزادی کی منزل بھی قریب ہے ، دنیا کا نقشہ بدلنے والا ہے مظلوم حاکم اور ظالم ٹوٹنے کو ہیں منزل قریب لیکن راستہ بہت مشکل ہے افغانستان ہو یا کشمیر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔



آزادکشمیر کے انتخابات اور کشمیریوں کا تشخص


آزادکشمیر کے انتخابات اور کشمیریوں کا تشخص تحریر شفقت ضیاء پاکستان میں مہنگائی ،بے روزگاری، بجلی ،پٹرول کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ، LPG(گیس) جس کا استعمال آزادکشمیر میں زیادہ ہوتا ہے اُس کی قیمتیں تاریخ کی بلد ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں 3سال قبل 1000روپے میں ملنے والا سلنڈر 2300روپے سے تجاوز کرگیا ہے ابھی تو گرمیوں کا موسم ہے سردیوں تک 3000تک پہنچنے کاخدشہ موجود ہے گیس مہنگی ہونے کی وجہ نااہلی اور بروقت فیصلہ نہ کرنا ہے جب گیس سستی مل رہی تھی اُس وقت خریدی نہیں گئی اور اب مہنگی خریدنے سے پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور عوام جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں اُن کے لیے بم ثابت ہو رہی ہے۔آٹا جو ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیںچینی جو 55روپے تھی موجودہ حکومت کے دور میں 110 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح دیگر اشیاء ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیںبے روزگاری میں اضافہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔کشمیر ایشو پر حکومتی پالیسی گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانا اور آزاد کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پاکستان کے موقف سے ہٹ کر وزیرِ اعظم عمران خان کا ریفرنڈم کرانے کا اعلان سمیت بے شمار سوالات کے باوجود آزادکشمیر کے عوام نے پی ٹی آئی کو کامیاب کر اکر ثابت کیاکہ پا کستان میں جو بھی اور جیسی بھی حکومت ہو انہیں قبول ہے۔ایسے میں انتخابات پاکستان کے ساتھ عبوری حکومت کے دور میں ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔اپوزیشن کی طرف سے دھاندلی کا واویلا اس حد تک تو درست ہے کہ آزادکشمیر میں انتخابات سے قبل الکٹیبلز کو توڑا گیا اور پھر ان لوٹوں کو کامیاب بھی کرایا گیا اور وفاقی وزراء کی طرف سے عوام کو لالچ اور اعلانات کیے گئے جو قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی وزیرامور کشمیر پابندی کے باوجود نہ صرف جلسوں سے خطاب کرتے رہے بلکہ وزیرِ اعظم پاکستان کے دورہ آزادکشمیر کے دوران ساتھ ساتھ رہے اور تقاریر کیں۔جس نے ثابت کیا کہ ان کے نزدیک قوانین کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اور اس کے ساتھ مہاجرین کی سیٹوں میں وفاقی حکومت نے ٹھپے لگائے۔ماضی میںبھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے البتہ آزادکشمیر میں پولنگ والے دن کوئی بڑی دھاندلی دیکھنے کو نہیں ملی وہی لوگ کامیاب ہوئے جو مقابلے میں تھے کوئی ایک بھی ایسا امیدوار نہیں جو مقابلے کی دوڑ میں ہی نہ ہوا ہو۔اس لیے اپوزیشن کو ہار تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے اور اپنی ناقص کارکردگی اور دیگر عوامل پر بھی غور کرنا چاہیے البتہ جمہوریت کے موجودہ طریقہ کار پر ایک بار پھر سوالات پیدا ہوئے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کیا جانا ضروری ہے جیسے پی ٹی آئی کی طرف سے 26نشستیں 6لاکھ ووٹوں سے اور ن لیگ کو 5لاکھ ووٹوں کے باوجود 6سیٹس ملنا اپوزیشن کو مجموعی طور پر 10لاکھ ووٹ ملنا اور حکومتی پارٹی کو 6لاکھ ووٹ ملنا غوور طلب ضرور ہے اور متناسب نمائندگی طرز پر انتخابات کی ضرورت بڑھ گئی ہے اس سے شخصی طور پر جس طرح اب کروڑوں سے اربوں تک اخراجات کر رہے ہیں خرید و فروخت کا بازار گرم ہو گیا ہے اس پر کنٹرول ممکن ہے ورنہ یہی حال رہا تو دشمن ممالک کے لوگ بھی کل خریدنے کے لیے آ جائیں گے۔اور یہ انتہائی خطرناک کھیل ہے سیاست کاروبار بنتی جا رہی ہے بدقسمتی سے اس میں تمام بڑی جماعتیں شامل ہیں الزامات ایک دوسرے پر لگائے جاتے ہیں لیکن جس کے بس میں جہاں ہوتا ہے وہ یہی کھیل کھیتا ہے۔آزاد کشمیر کے انتخابات میں وفاقی وزراء اوردیگر جماعتوں کی قیادت نے جو زبان استعمال کی انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے ایسی گندی سیاست اس سے پہلے دیکھنے کو نہیں ملی جس ملک و قوم کی قیادت ایسی ہو گی عوام کا کیا حال بنے گااس پر انہیں شرمندگی محسوس ہونی چاہیے آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں گندی زبان کے استعمال میں مشہور وزراء کو ہی آزادکشمیر کیوں بھیجا گیا؟جس طرح عوام کی تذلیل ہوئی اور بکنے والی قوم سمجھ کر کئی نوٹوں کے بنڈل اور کئی ہوائی اعلانات ہوئے جو انتہائی افسوس ناک پہلو ہے سیاست میں جو گندگی پھیلائی جا رہی ہے اس کے اثرات کسی کے لیے بھی اچھے نہیں ہوں گے۔ آزادکشمیر انتخابات میں پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل ہونے کے باوجود یہ غلط فہمی نہیںہونی چاہیے کہ وہ پاکستان میں اپنی کارکردگی یا عوام میں مقبول جماعت بن چکی ہے بلکہ یہ حقیقت تسلیم کرنی چائیے کہ پاکستان میں حکومت ہونے کا جو امیج حاصل تھا اُس وجہ سے کامیابی ملی ہے اس کے اثرات نہ پاکستان میں آنے والے انتخابات میں ہوں گے نہ آزاد کشمیر میں سوائے اس کے کہ کارکردگی پر توجہ دیتے ہوئے عوام کے مسائل کو حل کریں مہنگائی جو اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اسے کنٹرول کیا جائے اپنے انتخابی منشور کے مطابق تعمیر و ترقی بلخصوص بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کر کے مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے۔آزادکشمیر میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم آزادکشمیر کے لیے انٹرویو اور آزادکشمیر کی قیادت کو بلا کر جس طرح اسلام آباد میں ذلیل کیا گیا یہ بھی قابلِ افسوس ہے ۔پہلے تینوں جماعتوں نے ٹکٹوں کے لیے بنی گالہ ، رائیونڈ اور گڑھی خدابخشکے چکر لگائے اور ٹکٹوں کے نام پر بھاری فیس اور نہ جانے کیا کیا کرایا اور کامیابی کے بعد وزیرِ اعظم اور دیگر عہدوں کے لیے تذلیل کی،کشمیریوں کا تشخص کہاں گیا کہاں گئے وہ لوگ جو باعزت،باوقار برابری کی بنیاد پر بات کرتے تھے باقی کیسا مال بچا ہے؟ایسی قیادت میں جوقوم تیار ہو گی اُس کا اللہ ہی حافظ ہو گا اللہ ہمارے حال پر رحم کریں آج جن لوگوں نے یہ خطہ آزاد کرایا تھا اُن کی روح کو بھی تکلیف ہوئی ہو گی۔ یہ کیسی جمہوریت ہے اور کیسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے ممبران اسمبلی کو الیکشن جیتنے کے بعد بھی نہیں پتہ ہوتا کہ ہماری قیادت کون کرے گا ہم منتخب ہو کر بھی اپنے فیصلے خود نہیں کر سکیں گے عوام کے منتخب نمائندوں کی اس سے بڑی تذلیل کیا ہو گی با عزت اور باوقار راستے کو چھوڑ کر ہمارے سیاستدانوں نے کون سے راستے کا انتخاب کر لیا۔ہمارے فیصلے آزادکشمیر کے بجائے اسلام آباد میں اگر آج وزیراعظم کے ہو رہے ہیںتو اللہ نہ کرے کل ہمارے مستقبل کے فیصلے بھی وہاں سے ہی ہوں ۔کیا یہ سب واقعی آزادکشمیر کے ساتھ ہو رہا ہے بزرگوں نے خون دے کر یہ خطہ اس لیے تو آزاد نہیں کرایا تھا کاش آزادکشمیر میں کوئی لیڈر ہوتا جو اس سب کچھ کے خلاف آواز بلند کر سکتا خالد ابرہیم زندہ ہوتے تو ایک شخص کی آواز ہی ہوتی لیکن ضرور گونجتی۔لیڈرشپ کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے اللہ کو ئی بہتر نعم البدل دے آمین۔



سردار ابرہیم خان ایک عہد ساز شخصیت


سردار ابرہیم خان ایک عہد ساز شخصیت شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے کشمیر جنت نظیر کو جہاں قدرتی حسن سے نوازا ہے وہاں اس مٹی میں ایسی خصوصیت رکھی ہے کہ اس کی غلام فضائوں میں ایسی قد آور شخصیات نے جنم لیا جن کی خداداد صلاحیتوں ، بصیرت ،معاملہ فہمی کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ایسی ہی ایک شخصیت سردار محمد ابراہیم خان کی ہے جنہوں نے ظالم و جابر حکمرانوں اور غاصب قوتوں کے خلااف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے زمانہ کو جینے کا نیا انداز سکھایا اور تاریخ کے اوراق پر ایسے گہرے نقوش چھوڑے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔سردار محمد ابراہیم خان اپریل ۱۹۱۵ء پونچھ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم ہورنہ میرہ راولاکوٹ سے حاصل کی۔میٹرک کا امتحان سٹیٹ جوبلی ہائی سکول پونچھ سے پاس کیا۔آپ نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد قانون میں اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔اور صرف ۲۲ سال کی عمر میں بیرسٹر بن کر ریاست جموں و کشمیر کا پہلا نو عمر ترین بیرسٹر کا اعزاز حاصل کیا اور ۲۸ سال کی عمر میں ریاست جموں و کشمیر کے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کو اس نوجوان سے کوئی اور ہی کام لینا تھا۔آپ نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا اور 1946ء میں عملی سیاست میں کود پڑے اور مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ممبر قانون اسمبلی منتخب ہوئے۔۱۹۴۷ء میں آپ ہی کی دلولہ انگیز قیادت میں کشمیری عوام نے ڈوگرہ مظالم کے خلاف مسلح جدو جہد کا آغاز کیا یہ وہ وقت تھا جب کشمیر میں ظلم و جبر ناانصافی اپنی حدوں کو چھو رہی تھی ایسے حالات میں غازی ملت نے تحریک کو منظم کرنے کے لیئے سری نگر میں اپنی حاملہ بیوی اور ڈیڑھ سالہ بچے کو چھوڑ کر پاکستان کو کوچ کیا یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔اس وقت کا تصور کیا جائے جب یہ مرد مجاہد اپنی رفیقہ حیات اور بیٹے کو چھوڑ کر ایک عظیم مہم کا آغاز کر رہا تھا بہادر اور بڑا انسان عظیم مقصد کی خاطر اتنی بڑی قربانی دے رہا تھا۔اتنی ہی بڑی اور عظیم وہ خاتون تھی جو راضی خوشی اس مقصد کے لیے رخصت کر رہی تھی۔ایسی ہی وہ قربانیاں تھیں جس کی وجہ سے نہتے مجاہد ین نے مہاراجہ کی فوجوں کو مار بھگایا۔مجاہدین سرینگر پہنچنے ہی والے تھے کہ مہاراجہ نے بھاگ کر بھارت سے فوج منگوائی اور بھارت اقوام متحدہ پہنچ کر جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کی شخصیت ہی تھی جنھوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی کشمیری قوم کے لیے مستقبل کی راہ متعین کرتے ہوئے سرینگر میں اپنے گھر پر الحاق پاکستا ن کی قرارداد منظور کرائی جو قابل فخر کارنامہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔غاز ی ملت کے بے شمار کارناموں میں معاہدہ کراچی آپ کی دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ نے ۱۹۴۹ء میں حکومت پاکستان سے معاہدہ کر کے گلگت بلتستان کو انتظامی بنیادوں پر پاکستان کے سپر دکیا ،جب تک پوری ریاست کا فیصلہ بشمول گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نہیں ہو جاتا تب تک یہ معاہدہ کار آمد ہے۔۲۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو مشکل ترین حالات میں آپ انقلابی حکومت کے بانی صدر بنے۔اس وقت آپ کی عمر ۳۲ سال تھی یوں آپ کو اقوام عالم کا پہلا نو عمر صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔اور ایک ایسے وقت میں جب اقتدار پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کی مالا تھی۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کو۱۹۴۸ء میں کشمیر کا مسئلہ سیکورٹی کونسل میں اٹھانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔آپ نے بھرپور انداز میں کشمیریوں کی نمائندگی کی۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کا آزادی کشمیر میں وہی مقام و حیثیت ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان میں حاصل ہے۔آپ بانی آزاد کشمیر ہیں آپ کی خدمات کا اعتراف آپ کے سیاسی مخالفین نے بھی کیا ہے۔سیاسی اختلافات کے باوجود سردار محمد عبدلقیوم جو خودایک بڑے آدمی تھے اور تحریک آزادی کشمیر میں ان کا بھی اہم کردار ہے آپ نے غازی ملت کے جنازہ کے موقع پر ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان بڑے انسان تھے۔میں ان کا پہرے دار رہا ہوں۔یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ غازی ملت ہی اس تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔سردار محمد ابرہیم خان نے ساری عمر جرات اور بہادری سے سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا۔لیکن اپنے دامن پر کوئی داغ نہیں لگنے دیا۔آپ کا شمار آزاد کشمیر کے ان عمائدین میں ہوتا ہے کہ جن کی اولاد کے دلوں میںبھی اپنے آبائو اجداد کی خاطر قوم کا درد،بصیرت ،جرات،بے باکی بد درجہ اتم موجود ہے۔آپ کے بیٹوں نے اپنے والد کے دور حکومت میں کبھی نمایاں ہونے کی کوشش نہ کی اور نہ ہی اقتدار کی آڑ میں اپنے کاروبا ریا اثر و رسوخ کو کسی ناپسندیدہ عمل کے لیے استعمال کیا۔ورنہ عمومی طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اقتدار والوں کے خاندان نسل در نسل کی کمائی کر لیتے۔قومی خزانے کو شیرمادر سمجھ کر لوٹتے ہیں۔لیکن آپ نے اولاد کی جو تربیت کی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔سردار محمد ابرہیم خان کے بیٹے خالد ابراہیم خان درویش صفت آدمی تھے۔ان کی سیاست اور نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن با اصول اور با کردار ہونے سے دشمن بھی اختلاف نہیں کر سکتا۔بانی صدر کا بیٹا ہونے اور بارہا ممبر اسمبلی منتخب ہونے کے با وجود ان پر کوئی داغ نہیں لگا۔دلیر،نڈر اور صاف و شفاف کردار کا مالک شخص ا ٓخری سانس تک کشمیریوں کے قومی تشخص اور حقوق کی بحالی کی جد و جہد میں مصروفِ عمل رہا۔غازی ملت ابرہیم خان اس دنیا فانی سے ۳۱ جولائی ۲۰۰۳ ء کو پورے کشمیر کو آزاد دیکھنے کا خواب اپنی آْنکھوں میں سمیٹے اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ان کے ادھورے مشن کی تکمیل کے لیے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے کے باوجود اپنے آپ کو ثابت قدم رکھا۔قربانیوں کی طویل جدو جہد کے بعد بھی وہ اپنے مشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔آزاد کشمیر اور پاکستان کی عوام کو ان کی بھرپور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔عالمی دنیا جس نے آنکھیں بند کر رکھی ہیںان کو بیدار کرانے سیاسی اخلاقی سے بڑھ کر ان کے کندھوں سے کندھا ملا کر آگے بڑھنا ہو گا۔جب تک کشمیر مکمل آزاد نہیں ہو جاتا غازی ملت محمد ابرہیم خان کا مشن نا مکمل رہے گا۔تقسیم کشمیر کی سازشوں کے خلاف بند بندھنے اور آزادکشمیر کے تشخص کو بحال رکھنے کی ضرورت ہے بدقسمتی سے قیادت کا خلا پیدا ہو چکا ہے سیاسی جماعتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ غازی ملت کے درجات بلند کرے جیسا ان کو توکل اور بھروسہ اپنے رب پر تھا اس کے مطابق انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے ادھورے مشن کی تکمیل کرے۔آمین ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا



کیا ترابی بھی بِک گیا؟


کیا ترابی بھی بِک گیا؟ شفقت ضیاء جماعتِ اسلامی پاکستان کا قیام 1940میں پاکستان بننے سے پہلے ہوا ۔مفکرِ اسلام سید ابواعلیٰ مودودیؒ نے اپنے لٹریچر کے ذریعے پڑھے لکھے طبقے کو بے حد متاثر کیا پاکستان بننے سے پہلے دو قومی نظریے کو خوبصورت انداز میں پیش کیا اور اسلام کو ایک مکمل نظام کے طور پر قرآن و سنت سے مضبوط دلائل کے ساتھ رکھا سیاسی، سماجی،معاشی ،معاشرتی،خاندانی ہر پہلو سے لکھا اور خوب لکھا ۔علم کے اس سمندر نے قرآن مجید کی آسان زبان میں بہترین اردو تفسیر لکھ کر ایسی خدمت کی جو انہی کا خاصا ہے۔پاکستان،ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے لوگ ان کی خدمات سے متاثر ہوئے اور دنیا بھر میں اسلامی تحریکیں چلیں جن سے عوام متاثر ہوئے کئی ملکوں میں کامیابیاں بھی حاصل کیں،اسلام کے اس حقیقی تصور کولا دین قوتیںقبول کرنے کو تیار نہیں تھے اس لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور جمہوری انداز میں کامیابیوں کے باوجود موقع نہیں دیا گیا۔ پاکستان کو جب دو ٹکڑے کیا جا رہا تھا اقتدار کے پجاری ادھر ہم ادھر تم کے نعرے لگا رہے تھی ان کی فکر کے لوگ قربانیاں دے رہے تھے آج بھی پھانسیوں پر چڑھ رہے ہیں لیکن اس سب کے باجود جماعتِ اسلامی بنگلا دیش میں ایک بڑی قوت بن گئی ، پاکستان میں مولانا مودودی کی فکر سے متاثر بڑے بڑے لوگ نعیم صدیقی ہوں یا ڈاکٹر اسرار نے بہت پہلے کہہ دیا کہ اس جمہوریت سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی اور انہوں نے الگ جدوجہد شروع کی جماعتِ اسلامی پاکستان میں بارہا انتخابات میں شکست کے باوجود انتخابی سیاست کا حصہ بنی ہوئی ہے قاضی حسین احمد کے دور میں خرم مراد جیسے دانشوروں نے کوشش کی کہ کچھ تبدیلیاں کی جائیں سیاسی شعبہ میں تبدیلیاں لائی جائیں فرنٹ بھی بنا جو اس وقت بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا کہ ابھی ابتدائی مرحل میں تھا کہ انتخابات ہو گے بہر حال سب سے بڑی پر مغز اور اچھی کاوش تھی جو قاضی حسین احمد کے دور میں کی گئی لیکن جماعتِ اسلامی کے اندر اختلاف کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی۔ جماعتِ اسلامی نے کبھی مارشل لا کا سہارا لے کر اور کبھی مسلم لیگ اور پی ٹی آئی سے اتحاد اور کبھی مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے کوشش کی کہ وہ کامیابی حاصل کر سکے لیکن ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔بلکہ اس سے ہمیشہ نقصا ن اُٹھایا اس سب کے باوجود 75سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کا وجود باقی رہنا اس بات کی علامت ہے کہ سید مودودیؒ کی فکر جاندار ہے۔ جماعتِ اسلامی سب سے منظم اور اپنے اندر جمہوریت رکھنے والی جماعت ہے ورنہ سرا ج الحق جیسا غریب کا بیٹا اور ڈاکٹر خالد محمود جیسا درویش آدمی امیر نہ بن سکتے۔آزاد کشمیر میں جماعتِ اسلامی 1970کے بعد بنی اُس سے پہلے ایک عرصہ تک سردار عبدالقیوم مرحوم کہتے رہے کہ یہی خدمت میں ادا کر رہا ہوں اس لیے جماعتِ اسلامی کی ضرورت نہیں۔آزاد کشمیر کے عوام دینی مزاج اور تعلیمی شعور رکھتے ہیں۔جہادِ کشمیر میں جماعتِ اسلامی کا اہم کردار ہے۔عوامی خدمت کے بے شمار ادارے جن میں الخدمت فائونڈیشن ،ریڈ فاونڈیشن ، آغوش بہترین کام کر رہے ہیں۔زلزلے اور دیگر موقو ں پر جماعت کے کام کو سب نے سراہا۔اس کے باوجود انتخابی سیاست میں مسلسل ناکامی پر جماعتِ اسلامی کو کھلے دل و دماغ کے ساتھ سوچنا اور منصوبہ بندی کرنا ہو گی ورنہ عبدالرشید ترابی جیسے دن دیکھنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔عبدالرشیدترابی جنہیں مجاہدین کا پشتی بان اور نہ جانے کیا کیا کہا جاتا تھا آج اپنے اور پرائے کہتے ہیں کہ ترابی بھی بک گیا۔لاکھوں ، کروڑوں میں بکنا ہی بکنا نہیں ہوتا عہدوں کے لیے بھی اصول ،نظریات سے ہٹنا بکنا ہی ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اب ہر کوئی کروڑوں کا ذکر کرتے نظر آتا ہے لیکن میرا نہیں خیال کہ انہیں کروڑوں کی ضرورت تھی۔ جماعتِ اسلامی نے انہیں دوکان سے اُٹھا کر سب کچھ دیا امیر ہوتے ہوئے بھی نہ ہوتے بھی گھر، گاڑی، تنخواہ،سفر خرچ اور تمام تر اخراجات کے ساتھ اتنی عزت دی کہ آزادکشمیر، پاکستان ہی نہیں دنیا کے سامنے لیڈر کے طور پر پیش کیا اس کے بعد انہیں کروڑوں کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔البتہ ممبر اسمبلی کا چسکا بھی کوئی کم نہیں ہوتا گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے مشتاق منہاس کے حق میں بیٹھ جانے پر احتساب کیوں نہیں ہو؟اس لیے کہ موصوف خود امیر جماعت تھے؟ مثالیں تو صحابہ کی دی جاتی ہیں اُس قت کارروائی کیوں نہ ہوئی؟؟ایک عرصہ سے وہ اقتدار اور اختیار کے خواہش مند رہتے تھے جماعت اسلامی میں لابنگ کی اجازت نہ ہونے اور منصب کی خواہش نہ رکھنے کے باوجود وہ یہ عمل کرتے رہے اُس وقت شوریٰ کیا کرتی رہی۔اب اُن سے امارت بھی لے لی اور وہ ممبر اسمبلی بھی نہ بنیں تو کیا کریں؟اتنا بڑا لیڈر اقتدار اور اختیار کے بغیر کیسے رہ سکتا ہے انہیں ٹکٹ کیوں دیا گیا جبکہ باقی حلقوں میں نئی نوجوان قیادت سامنے لائی گئی اُن کے حلقے میں تو نثار شائق جیسا جاندار جوان موجود تھا وہ ان سے زیادہ ووٹ لینے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا عبدالرشید تربی تو کہتے ہیں میں نے جماعت کو کہا تھا اس عمر میں الیکشن ہارنے کے لیے نہیں لڑ سکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ مجاہدین کا پشتی بان اب بڈھا ہو گیا اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتا ویسے دیکھنے میں تو جوان ہی لگتے ہیں۔جماعتِ اسلامی کے اندر سے جو آوازیں آتی تھی کہ معاملات خراب ہیں؟ مفادات، عزیر و اقارب کو نوازنا ا نہیں دبایا کیوں جاتا رہا؟ جماعتِ اسلامی اس سب کچھ کے بعد سیکھ پائے گی یہ آنے والا وقت بتائے گالیکن عبدالرشید ترابی نے جماعت اسلامی کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہے۔ایسے میں امیر جماعتِ اسلامی ڈاکٹر خالد محمود نے شوریٰ کی مشاورت سے انہیں جماعت سے نکالنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس نے ثابت کیا کہ جماعتِ اسلامی ایک سیٹ نہ جیتنے کے باوجود منظم اور ڈسپلن میں سب سے آگے ہے بڑی بڑی جماعتیں یہاں بے بسی لاچاری کی تصویر نظر آتی ہیں جیسے مسلم لیگ ن جیسی بڑی سیاسی جماعت چوہدری نثار کو نکالنے کی ہمت نہ دیکھا سکی،پی ٹی آئی جہانگیر ترین پر کرپشن کے الزامات، الگ گروپ بنانے کے باوجود ہمت نہ کر سکی چونکہ عمران خان کے پر جلتے ہیں جماعتِ اسلامی آزادکشمیر نے سخت فیصلہ کر کے جماعتِ اسلامی کو دوسروں سے ممتاز بنایا ہے سخت فیصلوں کے دوررس نتائج نکلیں گے اگرچہ ایسے فیصلے بہت پہلے ہونے چاہیے تھے لیکن موجودہ امیر نے ثابت کیا کہ بڑے فیصلے بڑا آدمی ہی کر سکتا ہے۔ عبدالرشید تربی نے کس نیت سے اور کیوں ایسا فیصلہ کیا وہی بتا سکتے ہیں لیکن انھوں نے گھاٹے کا سودا کیا عزت کے بجائے ذلت کا فیصلہ کیا اُن کی بڑی خدمات اور قربانیاں ہیں لیکن شاید کئی غلطیاں بھی ہوگئی ہیں چونکہ اسلام کی خدمت مشکل کا م ہے۔نیت کی خرابی ہو یا تکبر و غرور مالی معاملات میں بد دیانتی ہو یا اختیارات کا غلط استعمال،مشکل اور بڑی ذمہ داریوں کی پکڑ بھی سخت ہوتی ہے یہ تو دنیا کی زندگی ہے اللہ آخرت کی ذلت سے ہر ایک محفوظ رکھے۔ جماعتِ اسلامی سیاسی طور پر مکمل ناکام ہو چکی ہے نئی سیاسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جماعت اپنے دعوتی،تربیتی پہلو پر مکمل توجہ دے اور سیاسی میدان میں الگ گروپ بناے جو عوام میں موجود ہو جماعت اسلامی کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہوتااسیے میں قیامت تک عوامی جماعت نہیں بن سکتے ۔ترابی تیار ہوتے رہیں گے اور جاتے رہیں گے اور مزید 70سال میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آ سکے گی اب حالات کافی بدل چکے ہیں ڈاکٹر خالد محمود جیسی قیادت کچھ نہ کر سکی تو جماعت کامیابی کبھی حاصل نہیں کر سکے گی۔بڑی تبدیلی کے بغیر جماعت اسلامی الیکشن کی سیاست میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے گئی بلکہ تنزلی کا شکار ہوتی رہے گئی ،تاہم پوری قوم کو غور کرنا ہو گا ہم کدھر جا رہے ہیں الیکشن میں عام آدمی توکیا ترابی بھی نہ بچ سکے۔



جوتے مارنے کی نہیں،با شعورہونے کی ضرورت ہے


جوتے مارنے کی نہیں،با شعورہونے کی ضرورت ہے شفقت ضیاء آزاد کشمیر کے 25جولائی کو ہونے والے انتخابات کی انتخابی مہم پورے جوبن پر ہے ۔تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کارکنان کو جوش وولولہ دلانے اور عوام کو اپنی طرف قائل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے ۔آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار 3بڑی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے تینوں جماعتوں کی مرکزی قیادت بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر رہی ہے اپوزیشن جماعتوںکے قائدین حکومتِ پاکستان کی کشمیر پالیسی پر سخت تنقید کر رہی ہے اور اس کے ساتھ مہنگائی جس سے آزادکشمیر کے عوام بھی متاثر ہوتے ہیں کی وجہ سے آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں جبکہ پاکستان کی حکومتی پارٹی کے وزرا آزادکشمیر میں تعمیر و ترقی نہ ہونے کا ذمہ دار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو قرار دیتے ہیں اور مسائل کا حل ان سے نجات قرار دیتے ہیں۔ غداری کے فتوے اور نقد روپے دینے کی باتیں ہو رہی ہیں عوام بھی سب کی سن رہے ہیں اور سننا بھی چائیے۔دلیل اور عمل کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کا ہر ایک کو حق ہے لیکن ایک دوسرے کو ذلیل کرنے اور ایسی گفتگو جس سے کارکنان پر منفی اثرات پڑتے ہیں کسی طور درست نہیں ہے۔تینوں سیاسی جماعتوں کی قیادت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا کردار ادا کیا اور کس نے کس موقع پر کیا کیا سب تاریخ کا حصہ ہے کسی کا کردار بھی مثالی نہیں رہا البتہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عوام کا اتفاق رہاکہ رائے شماری کے علاوہ کوئی حل قبول نہیں، تقسیم کشمیر کسی صورت قبول نہیں،آزاد کشمیر کو صوبہ کسی صورت نہیں بننے دیا جائے گا۔25جولائی الیکشن کے دن عوام کو فیصلہ دیتے وقت بھی کشمیرایشو ہی کو سب سے مقدم رکھنا چاہیے اور اس کے بعد کشمیر کی تعمیر و ترقی اور دیگر معاملات کو رکھا جانا چاہیے، بدقسمتی سے چھوٹا سا خطہ آج بھی بے شمار مسائل کا شکار ہے تعلیم،صحت اور پانی جیسے بنیادی مسائل آج بھی حل طلب ہیں لیکن یہ کہہ دینا کہ کچھ بھی نہیں ہوا یہ بھی درست نہیںہے ۔سڑکیں بنی ہیں، میڈیکل کالج ، یونیورسٹیاں ،ہسپتال بہت کچھ بننے کے باوجود عوام کی بہت سی ضروریات اب بھی موجود ہیں جس کے لیے عوام کو ووٹ دینے سے پہلے جائزہ لینا چاہیے کہ کس ممبر اسمبلی نے اپنا کردار درست طور پر ادا کیا۔قانون ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے قانون سازی میں کون کردار ادا کر سکتا ہے بکنے جھکنے والا تو نہیں ہے عوام کو پیسوں سے خریدنے کی کوشش کرنے والا تو نہیں ہے چونکہ جو خرید و فروخت کرنے والا ہو گا وہ عوام کے مفادات کا خیال نہیں رکھے گا وہ اپنے مفادات کا ہی خیال رکھے گا۔بلخصوص ایسے لوٹے جنہوں نے گزشتہ حکومت میں 5سال لگائے اور آج کسی دوسری پارٹی کا رخ کر دیا ہوا کے رُخ پر چلنے والے بے ضمیروں سے خیر کی توقع رکھنا عبس ہے۔ وفاقی وزرا کی طرف سے جس طرح نوٹ پھینکنے کے واقعات سامنے آئے اور اعلانات ہوئے اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے اور پیسوں کے زور پر انتخابات کے موقع پر آنے والے پراشٹروں کا راستہ بھی روکنا ہو گا۔جوتے مارنے سے مسائل حل نہیں ہوتے شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔باغ میں وفاقی وزیر پر جوتا مارنے والے کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کے بجائے اخلاقیات کا درس دینے کی ضرورت ہے۔غیرت اور بہادری کا تعلق جوتے پھینکنے ،گالیاں دینے اور کسی کوذلیل کرنے سے نہیں ہوتا بلکہ سیاسی بصیرت سے ہوتا ہے اگر کشمیری قوم کی توہین ہوئی ہے تو قوم کے پاس موقع ہے ووٹ کے ذریعے اپنے شعور کا ثبوت دے نہ کہ غیر اخلاقی حرکتوں سے اپنی پستی کا ثبوت دیں آزادکشمیر پڑھے لکھے باشعور لوگوں کا خطہ ہے دلیل اور منطق سے جواب اور اُس کا ثبوت دینا چائیے، وہ جو لوٹے بنتے ہیں اور ہر سال پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں یا جو سرمائے کے آگے ڈھیر ہو جاتے ہیں جو ضمیروں کا سودا کرتے ہین ان بکنے والے بے ضمیروں کو ناکام بنا کر باشعور کشمیری ہونے کا ثبوت دیں اگر ایساا کر دیا تو آئندہ آپ کا سودا لگانے کی جرات نہیں کر سکے گا کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ دیں اس کی کاکردگی اور پرگرام کودیکھتے ہوئے ووٹ دیا جائے۔وفاق میں حکومتی پارٹی پی ٹی آئی کی کارکردگی بھی سامنے ہے اور آزادکشمیر میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی کارکردگی بھی سامنے ہے اور سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو بھی سامنے رکھا جائے۔سب سے بڑھ کر اپنے حلقے کے امیدواروں کا پوری دیانتداری سے جائزہ لیا جانا چاہیے ہوا کے رُخ پر چلنے والے لوٹوں کو کسی بھی صورت ووٹ نہیں دینا چائیے اگر عوام نے اس بار شعور کا مظاہرہ کیا تو نسلوں کا مستقبل بن جائے گا ورنہ مستقبل کا نقشہ بڑا گھمبیر ہو گا جس میںسرمایادار کرپٹ لوگ پیسوں کے زور پر سیاست کو کاروبار بنا دیں گے۔سیاست جب کاروبار بن جائے گی اور اہل اور باکردار لوگوں کی جگہ کرپٹ لوگ اقتدار میں آجائیں گے تو نسلیں تباہ ہوں گی اپنے وقتی مفاد کے لیے قوم کے مستقبل کو دائو پر لگانے والے قومی مجرم ہیں جو کسی معافی کے مستحق نہیں ہیں۔25جولائی کو آزادکشمیر کے عوام کے شعور کا امتحان ہے جوتے مارنے کی نہیں شعور کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے الیکشن کمیشن کو بھی قواعد و ضابطہ پر عمل درامد کرانا چائیے وفاقی وزیر کے حوالے سے خط لکھ دینا یا آخر میں کشمیر کی حدود سے نکال لینے والے اقدامات بروقت اور زیادہ سخت کی توقع کی جاتی تھی آزدکشمیر کے الیکشن اہم نوعیت کے ہیں یہ انتہائی حساس خطہ ہے صاف شفاف ا لیکشن میں ہی سب کا بھلا ہے جس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی تو ہے ہی لیکن سیاسی جماعتوں کی قیادت کی بھی بڑی ذمہ داری ہے جو زبان استعمال کی گئی وہ غیر ذمہ دارانہ ہے قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ پر امن صاف شفاف الیکشن ہو سکیں



پی ٹی آئی پاکستان سے آزادکشمیر تک


پی ٹی آئی پاکستان سے آزادکشمیر تک پاکستان میں ایک طویل عرصے تک دو سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ رہا ، نظریاتی طور پر مسلم لیگ کو دائیںبازو اور پیپلزپارٹی کو بائیںبازو کی جماعت سمجھا جاتا تھا ، دائیں بازوکا ووٹ دینی جماعتوں سے زیادہ مسلم لیگ کو جاتا رہا اور سوشلزم کے نظریے سے متاثر دیگر جماعتوں کے پیپلزپارٹی کو، روس کو افغانستان کے ہاتھوں شکست کے بعد نظریاتی سیاست بھی دم توڑ گئی ، لیکن پاکستان میں دو جماعتیں یا دو نظریات کا کسی نہ کسی طور پر مقابلہ چلتا رہا ، پاکستان میں دو جماعتوں کے بجائے زیادہ جماعتوں کی ضرورت محسوس ہوتی رہی بلخصوص نوجوان ایک تیسری قوت کی ضرورت محسوس کرتے تھے ، پہلے سے پاکستان میں موجود جماعتیں اس خلا ء کو پر نہ کرسکی ، نوجوانوں کو اعتماد کے ساتھ دو جماعتوں کے مقابلے میںکھڑا کرنامشکل کام تھا ، جسے عمران خان کی صورت میں ایک بااعتماد شخص نے پورا کیا ، پی ٹی آئی کودائیں یا بائیں بازو میں سے کس طرف رکھا جائے یہ تو مشکل ہے چونکہ عمران خان کبھی مدینہ کی ریاست کی بات کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی چائنہ سے متاثر ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ نوجوانوں کو تیسری قوت کے طور پر کھڑا کرنے میں ضرور کامیاب ہو گئے ہیں وہ خلاء جو ایک عرصہ سے محسوس ہوتا تھا اسے پُرکرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ، عمراں خان کھلاڑی ہونے کی وجہ سے پہلے سے ہی مشہور تھے ، نوجوان انھیں پسند کرتے تھے ، سیاست میں آ کر انھوں نے اپنے خطابات سے نوجوانو ں کو متاثر کیا ،وہ جھوٹ بھی اتنے اعتماد اور خوبصورت انداز میں بولتے ہیں کہ وہ سچ محسوس ہوتا ہے ، انھیں بہترین موٹیویشن سپیکر کہا جاتا ہے ، اپوزیشن میں رہتے ہوئے بڑے بڑے اجتماعات کیے اور دو بڑی جماعتوں بالخصوص ان کی قیادت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ،او رملک کی تنزلی کا ذمہ دار ان کی کرپشن کو قراردیا اور لوگوں کو بتایا کہ یہی دو پارٹیاں حکومت کرتی رہی ہیں ، اس لیے تمام حالات کی ذمہ دار یہی ہیں ، اور اس میں کوئی زیادہ ٖغلط بھی نہیں تھا ، لیکن اس کے ساتھ تیسری غیر جمہوری حکومتوں کو نکال دینا بھی درست نہیں ہے ، پاکستان میں جتنا عرصہ جمہوریت رہی ، اتنا ہی عرصہ آمریت بھی رہی ، اس لیے ان دو جماعتوں کی ذمہ داری کے ساتھ غیر جمہوری قوتوںکا قصور اس سے بھی زیادہ ہے ، عمران خان اسٹیبلشمنٹ پر بھی الزام لگاتے رہے کہ ان جماعتوں کو لانے میں کردار ادا کرتے رہے ، لیکن جب خور اقتدار ان کے ذریعے ملنے کا موقع ملا تو ماضی کی سب تقرریں بھول گے ، چونکہ اقتدار ہی تو منزل ہے اور منزل کے حصول کے لیے سب کچھ کرنا جائز ہے ، پھر وہی جسے چوکیدار رکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے وہ سب سے بڑی وزارت لے گیا اور جو پنجاب کا سب سے بڑا چور تھا وہ پنجاب کا سپیکر بن گیا پھر وہی ایم کیو ایم جو دہشت گردوں کی جماعت تھی وہ اتحادی بن گئی اور اقتدار کے لیے جہانگیر ترین کے ہیلی کاپٹر کو استعمال ہوتے ہوئے دنیا نے دیکھا ، یوںاقتدار کے لیے نظریات کردار سوچ و فکر سب کچھ بہاڑ میں گیا ، پاکستان کے جتنے الیکشن ہوئے ان پر انگلیاں اٹھتی رہی الیکن ان انتخابات کوسب سے زیادہ متنازع سمجھا جاتا ہے، غیر جانبدار حلقوں نے بھی ان پر سوالات اور ان کو پاکستان کے پرانے تمام ریکارڈ توڑنے کا الزام دیا ۔ پاکستان میں پی ٹی آئی حکومت کو تین سال ہو گئے ، شروع میں حکومت عوام کو یہ بتاتی رہی کہ گزشتہ کرپٹ حکومتوں نے ملکی معیشت کابیڑا غرق کیا ہوا ہے ، اس لیے حالات بہتر ہونے کے لیے چھ ماہ لگے گیں، ہم نے جو کروڑوں نوکریوں کے وعدے کیے ہیں اور لاکھوں گھر بنانے کی بات کی ہے چورو ں ، ڈاکوئوں کے لیے احتساب کی بات کی ہے یہ چھ ماہ کے بعد پاکستان میں نظر آجائے گا ، ہم ایسی تبدیلی لائیں گے کہ ملک میں دودھ و شہد کی نہریں بہہ جائیں گی۔ پھر چھ ماہ گزرنے کے بعد حالات ٹھیک نہ ہوئے تو کہا ان چوروں نے بہت برے حالات کیے ہیں ، اس لیے سال میں تبدیلی آجائے گی ، عوام کو تسلی ہوئی اور امید بھی کہ چھ ماہ مزید مشکل ہیں ، ایک سال کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا ، لیکن سال کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے ، لیکن اپوزیشن والوں کو چن چن کر جیلوں میں ڈال کر کہا گیا کہ اب ملک کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے، چوروں کے احتساب کے نتیجے میں ملک ترقی کرے گا ، باہر سے دولت آئے گی ، اور ملک کا کاروبار زندگی بھی بہتر ہو گا ، عوام کی زندگیاں اب سکون سے گزریں گی ، لیکن سب ’’چوروں ــ‘‘کے جیلوں میں جانے کے باوجود مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ، احتساب پر ملک کی اعلیٰ عدالتیں بھی سوالات اٹھا رہی ہیں ، اور گرفتارملزمان کی اکثریت باہر بھی آگئی، بجلی جس کے بارے میں موجودہ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ حکومت میں زیادہ بنائی گئی ، لیکن ترسیل کا نظام بہتر نہیں ، ہم اسے ٹھیک کریں گے اب لوڈ شیڈنگ دوبارہ جوبن پر ہے ، مہنگائی نے عوام کی ایسی کمر توڑی ہے کہ غریب دو وقت کی روٹی سے محروم ہو گیاہے ۔ بے روزگاری میں تاریخی اضافہ ہوا ہے ، آئی ایم ایف سے قرضے لے کر ان کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے پٹرول ، بجلی ، گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کیا جارہا ہے ، ایسے میں عوام تبدیلی سے مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں ، جس کا اظہار گزشتہ عرصے میں پاکستان کے ضمنی انتخابات میں بھی نظر آیا کہ حکومت کے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی کی اپنی سیٹیں بھی اپوزیشن نے حاصل کی ہیں ۔ پاکستان میں پی ٹی آئی حکومت کی تین سالہ ناقص کارکردگی کی موجودگی میں آزادکشمیر میں ہونے والے انتخابات میں پی ٹی آئی اچھی کارکردگی دیکھا سکے گی ، یہ آنے والا وقت بتائے گا ، تا ہم ایک ماہ قبل تک چھوتھے نمبر پر دیکھائی دینے والی جماعت اب تین جماعتوں کے درمیان مقابلے میں شامل ہے اور مجموعی طور پر ایک اچھا منشور بھی عوام کے سامنے پیش کر چکی ہے تاہم سب سے اہم ایشوء مسئلہ کشمیر ہے۔جس کے حوالے سے آزادکشمیر کے عوام میں کافی تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کا آٖغاز گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے ہوا ہے ، جس سے مسئلہ کشمیر متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے ، گلگت کے عوام کے مسائل مختلف تھے وہ صوبہ بنانے کی حق میں اس وجہ سے تھے کہ ان کو حقوق حاصل نہیں تھے وہ نہ آزادخطہ تھا ، نہ صوبہ،جس کی وجہ سے محرومیاں تھی ،لیکن آزادکشمیر کی صورتحال مختلف ہے یہاں کے عوام سو فیصد صوبہ بنانے کے خلاف ہیں اس کی وجہ سے یہ نہیں کہ یہ پاکستان سے ملنا نہیں چاہتے بلکہ رائے شماری سے سارے کشمیر کی آزادی کے بعد پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں ، آزادکشمیر کی تمام بڑ ی جماعتیں الحاق پاکستان کے حق میں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کا حل رائے شماری سمجھتی ہیں ، حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے اس سے پہلے کسی سٹیٹس کو تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہیں ، پی ٹی آئی آزادکشمیر میں کھل کر صوبہ بنانے کی بات تو نہیں کرتی لیکن اپنے منشور میں موجودہ سٹیٹس کو متاثر کیے بغیر آزادکشمیر کو وفاقی پالیسی ساز اداروں میں نمائندگی کی بات کرتی ہے ، آئینی اداروں میں صوبہ بنائے بغیر کیسے شامل کیا جاسکتا ہے ، اس پر سوالات پیدا ہور ہے ہیں ،اور ایسے تقسیم کشمیر کی طرف پیش قدمی سمجھا جا رہا ہے آزادکشمیر کے عوام آج طویل عرصہ گزر جانے کے باجود بیس کیمپ کی حیثیت تبدیل کرنے کے حوالے سے کسی بھی تبدیلی کے حق میں نہیں ، پی ٹی آئی کو الیکشن مہم میں کشمیر ایشو پر دو ٹوک موقف اپنا نا ہو گا،ورنہ عوام میں پائے جانے والے شکو ک و شہبات ان کو بامشکل تیسرا نمبر ہی دے پائیں گے۔خواہ اس کے لیے جس طرح میرپور میں وزیر امورکشمیرایک ووٹ کی لیڈ پر ایک کروڑ روپے دینے کے جتنے اعلانات کریں اور پیسوں کی گھٹیاںپھکتے رہیں ، اس پر عوام سمجھوتا نہیں کریں گے ، پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ تین ماہ میںبلدیاتی انتخابات کرائے گی، اعلان بہت اچھا ہے لیکن پاکستان میں تین سال میں عمل دیکھائی نہیں دیتا ، آزادکشمیر کے عوام کیسے اعتماد کر لیں؟ پی ٹی آئی کو آزادکشمیر انتخابات میں حکومت پاکستان کی کارکردگی ، کشمیر ایشو پر پالیسی ، چند لوٹوں کو ٹکٹ دینا جو کہ پانچ سال مسلم لیگ ن کی حکومت میں وزیر کی حیثیت سے رہے اور کرپشن کے الزمات میں سوالات کا سامنا تھا راتوں رات صاف شفاف ہو کر ٹکٹ کا حق دار بننے کا راز بھی جاننا چاہتے ہیںاور کارکنان سراپا احتجاج ہیںجبکہ پارٹی اندرونی اختلافات کا شکار بھی ہے۔جس کے دو گروپ واضح طور پر آمنے سامنے ہیں ، ایسے میں مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کی قیادت اور عمران خان بھی دورہ کریں گے۔کیا وہ عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوں گے ،یہ آنے والے دن بتائیں گے تا ہم صاف شفاف انتخابات سے چند سیٹیں حاصل کر لینا پی ٹی آئی کے لیے زیاد ہ بہتر ہو گا کہ وہ دھاندلی سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے۔چونکہ آزادکشمیر احساس علاقہ ہے اقتدار آنے جانے والی چیز ہے ، ملک پاکستا ن سے محبت رشتہ زیادہ اہم ہے ، عوام کے جذبات اور رائے کے احترام میں ہی سب کے لیے بہتر ی ہے۔



مسلم لیگ ن اقتدار سے انتخابات تک


مسلم لیگ ن اقتدار سے انتخابات تک آزاد کشمیر میں ایک طویل عرصہ تک مسلم کانفرنس کو ہی مسلم لیگ سمجھا جاتا رہا وہی ٹکٹ جو مسلم لیگ ن کے آج رائیونڈ سے دیے گئے مسلم کانفرنس کے امیدواران کو دیے جاتے رہے لیکن پھر بھی وہ ریاستی جماعت رہی ،مسلم کانفرنس میں اندرونی اختلافات اور نواز شریف نے جب دیکھا اور سمجھا کہ مسلم کانفرنس اقتدار کے لیے ڈکٹیٹروں سے بھی ہاتھ ملا لیتی ہے اور ہمارا سہارا محض اقتدار کے لیے لیا جاتا ہے تو انہوں نے گزشتہ انتخابات سے قبل آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن بنائی جس کے نتیجے میں مسلم کانفرنس سردار عتیق کے علاوہ تقریباََ ساری ہی مسلم لیگ میں چلی گئی اور انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کر کے اقتدار بھی حاصل کر لیا راجہ فاروق حیددر وزیرِ اعظم بن گئے اور ایک اچھے ایمبسٹر کو صدر بنا دیا گیا جس نے 5سال اچھی نوکری کی کشمیر ایشو پر روزانہ کی بنیاد پر بیانات دیتے رہے تعمیر و ترقی تو ان کے سٹینڈرڈ سے نیچے کی بات تھی جس کی انہوں نے زحمت ہی نہیں کی۔ یوں اُن کی قابلیت اور صلاحیت سے عام آدمی کو سِرے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا مظفرآباد اور میرپور والوں کو غلط فہمی رہی کہ صدر ریاست کا تعلق پونچھ سے ہے انھوں نے پونچھ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہائی ہوں گی لیکن دیکھنے پر اُنھیں بھی مایوسی ہوئی اور تعصب کا شکار وزیرِ اعظم مظفرآباد میں بہت کچھ کرنے کے باوجود بھی آج 5سیٹوں میں مقابلے کی پوزیشن میں نہیں دیکھائی دے رہا آزاد کشمیر میں مجموعی طور پر بہتر حکومت کرنے کے باوجود اس حال میں آنے کی وجوہات محض یہ نہیں ہیں کہ حکومتِ پاکستان کسی اور پارٹی کی ہے اور وہ آزادکشمیر میں زور لگا رہے ہیں بلکہ اقتدار میں رہتے ہوئے اپنے منشور کو پس پشت ڈالنا بڑی وجہ ہے وزیرِ اعظم فاروق حیدر نے الیکشن میں وعدہ کیا تھا کہ 6ماہ میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے آج وہ کچھ بھی کہیں لیکن سنجیدہ ہوتے تو بلدیاتی انتخابات کر ا لیتے تو ان کی پوزیشن مختلف ہوتی، غیر منتخب لوگوں کو ایڈمنسٹریٹر بنا کر نہ ہی عوام سے اُس طرح کا رابطہ رہتا ہے اور نہ ہی خدمت ہوتی ہے ایسے لوگ صرف اپنی خدمت کرتے ہیں اور سب سے بڑی رکاوٹ ممبران اسمبلی ہیں جو نہیں چاہتے کہ بلدیاتی انتخابات ہوں کیونکہ اُن کے پاس نلکے،نالی،سڑک کے علاوہ عوام کے لیے کچھ نہیں ہے وزیرِ اعظم کا پروگرام ہو یا دیگر منصوبے 50ہزار سے لاکھ روپے کا منصوبہ دے کر ممبران اسمبلی بلدیاتی نمائندے سے بھی نیچے گرتے ہیں یہ ووٹ بنانے کی کوشش آج ہر جگہ ناکام نظر آتی ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ اتنے چھوٹے منصوبے تو آج نقد کی صورت میں دینے والے سرمایہ دار الیکشن میں موجود ہیں پھر پرانے کس نے یاد رکھنے ہیں یاد تو قریب کی ہی رہتی ہے اس سے قبل پیپلز پارٹی نے بھی وعدے کے مطابق بلدیاتی الیکشن اور سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کا کام نہیں کیا تھا اور یہی چھوٹے منصوبوں کے نام پر انہوں نے بھی مخصوص لوگوں کو نوازا تھا اور انجام بد سے درچار ہونا پڑا تھا اس کے باوجود کہ مسلم لیگ ن کا دورِ حکومت پیپلز پارٹی سے بہت بہتر رہا بلخصوص محکمہ تعلیم میں NTSکے ذریعے جو میرٹ قائم کیا گیا یہ ایسا کارنامہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اور ہم نے توصیف و توقیر میں کوئی فرق بھی نہیں چھوڑا بلکہ اس پر مسلم لیگی کے طعنے بھی دیے گئے لیکن حق و سچ کی بات کہنے سے باز نہ آئے،پیپلز پارٹی کے دور میں میرٹ نام کی چیز نہیں تھی نوکریاں ریوڑیوں کی طرح اپنے لوگوں میں بانٹی جاتی تھی لیکن ظلم نا انصافی کا اللہ بہتر بدلہ دیتا ہے اسی طرح پبلک سروس کمیشن کا قیام اور کردار بھی ہمیشہ یاد رکھا جاتا لیکن جاتے جاتے دودھ میں ایسی مینگنی ڈال دی کے اپنے کیے پر پانی پھیر دیا جب ایڈہاک، عارضی ملازمین کو امتحانی پراسس کے بغیر مستقل کر دیا ۔5سال میرٹ کا بڑی حد تک خیال رکھنے والوں نے جب میرٹ کا جنازہ نکالا۔ وزیرِ اعظم فاروق حیدر کے چند آستین کے سانپوں نے ا یسا کام کرایا ہے جس سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے۔قادیانیوں کو اسمبلی سے غیر مسلم قرار دینے جیسے اچھے اقدام والوں نے غیر شریعی اور ناانصافی والا کام کر کے دنیا تو دنیا آخرت میں جوابدہی کا سامان کیا ہے اسی پر اتفاق نہیں بلکہ چند لوگوں کی خوشنودی کے لیے چیف سیکرٹری اور دیگر بڑے ملازمین کی تنخوہوں میں مال مفت دل بے رحم کے طور پر خزانے کے منہ کھولے گئے۔ایسا خطہ جس میں عوام کو بنیادی حقوق حاصل نہیں،تعلیم،صحت اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں میسر نہیںغریب آدمی کا بجٹ اچھا کھانا نہیں کھا سکتا وہاں لاکھوں روپے صرف امیروں کی تنخواہوں میں اضافہ کردینا کونساانصاف ہے اس نا انصافی کا کبھی تو جواب دینا ہو گا۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے آزادکشمیر کے بجٹ کو دو گنا ضرور کرایا لیکن آج بھی وہ تعمیر و ترقی کے بجائے زیادہ تر انہی تنخواہوں کی نظر ہو تا ہے۔ایک کھرب 41ارب کے بجٹ میں سے ایک کھرب40کروڑ روپے غیر ترقیاتی جبکہ صرف 28ارب ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہیں یہ ہے وہ نظام جس سے یہ خطہ گزر رہا ہے صاف شفاف نظام ہوتا تو چھوٹا سا خطہ ضرور بدل چکا ہوتا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیںہو سکا اور نہ ہی ہوتا نظر آرہا ہے سوائے اس کے کہ عوام نظام کو بدلنے کا عزم کر لیں اور بلدیاتی انتخابات ،سٹوڈنٹ یونین کی بحالی اور صاف شفاف لوگوں کو کامیاب کرانے کی تحریک کریں۔ مسلم لیگ ن آزادکشمیر حکومت نے تیرویں ترمیم کا بھی بڑا کارنامہ کیا جس سے کشمیر کونسل کے اختیارات کم ہوئے عجلت کے باعث مکمل طور پر بہتری تو نہیں آ سکی لیکن ایک مشکل کام فاروق حیدر ہی کرسکتے تھے سو انھوں نے کیا۔لیکن وزیرِ اعظم فاروق حیدار اور ان کی پارٹی آئندہ کی توقعات اور لالچ نہ رکھتی ہوتی تو پاکستان میں مہاجرین کی 12سیٹوں کا کچھ ضرور کرتے جو ہمیشہ دھاندلی کا ذریعہ رہی ہیں اور اس بار بھی امید کی جارہی ہے کہ استعمال ہوں گی جس کا مزہ فاروق حیدر کو چکھنا پڑے گا۔ مسلم لیگ ن بلخصوص وزیرِ اعظم فاروق حیدر آج کل بڑے کھل کر کشمیر ایشو پر بول رہے ہیں اور خدشات اور منصوبہ بندی کو بے نقاب کر رہے ہیں اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ کشمیر ایشو پر کوئی بڑی تبدیلی دیکھائی دے رہی ہے ۔گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنایا جانا اس کی طرف پیش رفت ہے اور کشمیر کی تقسیم کا کوئی بھی اقدام لاکھوں شہدا کے خون سے غداری ہو گی آزاد کشمیر کے عوام سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے انھوں نے خطہ قربانیاں دے کر آزاد کرایا ہے لیکن فاروق حیدر وزیرِ اعظم ہوتے ہوئے محض آنسو بہانے کا کام کیوں کرتے رہے ہیں؟ جرات اور بہادری کے ساتھ عوام کو لے کر میدان میں کیوں نہیں اترے تھے؟کیا کہیںمصلحت اور اقتدار کا لالچ تو آڑے نہیں آ رہا تھا؟اور اب جب اقتدار کا سورج ڈھل رہا ہے اُس وقت جارہانہ بیٹیگ شروع کر دی ہے بہرحال جو بھی ہے سوالات ضرور بنتے ہیںلیکن کشمیر ایشو پر کسی بھی جماعت کو کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے خواہ اقتدار کو ٹھوکر ہی کیوں نہ مارنی پڑے لیکن ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے یہ نہ ہو کسی غیر سیاسی قیادت سے کام لیا جائے یقینا کوئی بھی سیاسی قیادت ایسا نہیں کرے گی کیونکہ یہ اُسکی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کشمیر ایشو کشمیری عوام کہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ فاروق حیدر درست ایشو پر الیکشن مہم چلا رہے ہیں کاش وہ پہلے بھی اسی طرح کی جاندار بیٹنگ کرتے اور بلدیاتی الیکشن کرا چکے ہوتے اور ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنے کا جرم نہ کرتے تو آج کوئی آپ کی حکومت پر انگلی نہ اٹھا سکتا لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ مجموعی طور پر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی حکومت ماضی کی تمام حکومتوں سے اچھی رہی ہے جس کی وجہ سے وہ آج بھی کھڑی ہے اور خوب مقابلہ کر رہی ہے تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بہت بڑا ڈینٹ نہیں ڈالا جا سکا ہے اور مریم نواز کے جلسوں سے ٹیم مزید چارج ہو گی جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ اچھی نشستیں حاصل کر لے گی۔



آزاد کشمیر انتخابات2021ء،ایک جائزہ


آزاد کشمیر انتخابات2021ء،ایک جائزہ شفقت ضیاء آزاد کشمیر 2021ء انتخابات میں ایک ماہ رہ گیا ہے۔تمام سیاسی جماعتوں اور بڑی تعداد میں آزاد امیدواران نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔ایک ایک جماعت کے تقریباََ ہر حلقے میں کئی کئی امیدوار اس وقت تک میدان میں ہیں کوئی ٹکٹ والے اور کوئی بغیر ٹکٹ کے۔ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ ٹکٹ کا حقدار میں ہی تھا،کچھ الزامات لگاتے ہیں کہ ٹکٹ پیسے دے کر دیے،لیے گئے اور کچھ کا کہنا ہے کہ بلیک میل کر کے لیا گیا کہیں تو زیادتی صاف نظر آتی ہے اور کہیں محض دعوے،لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کچھ ٹکٹ ایسے لوٹوں کو دیے گئے کہ وہ 5سال اقتدار کے مزے لیتے رہے اوررات کو پارٹی میں شامل ہوئے اور صبح نئی جماعت کا ٹکٹ لے کر میدان میں آ گئے پاکستان کی حکمران جماعت کے ٹکٹ لیے اور آزادکشمیر کی حکومتی جماعت کو خیر آباد کہا۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایساہوتا آیا ہے اور یہ زیادہ غلط بھی نہیں ہے لیکن ماضی کے ریکارڈ ضرور ٹوٹے ہیں چونکہ رات کو ایک پارٹی چھوڑنا اور صبح نئی پارٹی میں جانا قدرے پہلے ہو جایا کرتا تھا۔گزشتہ انتخابات میں مسلم کانفرنس سے مسلم لیگ بننے کی مثال بھی کچھ لوگ دیتے ہیں لیکن میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے۔مسلم کانفرنس ریاستی جماعت ضرور تھی لیکن تانے بانے اور حکم رائیونڈ کا ہی چلتاتھا اور کبھی کبھار اقتدار کی لالچ میں ڈکٹیٹر سے بھی مل جاتی تھی۔آزادکشمیر میں مسلم لیگ اس لیے نہیں بننے دی جا رہی تھی کہ وہی خدمت ہم کرتے ہیں بلکہ ایک عرصہ تک تو سردار عبدالقیوم مرحوم نے آزاد کشمیر میں جماعتِ اسلامی بھی نہیں بننے دی تھی کہ یہی کام ہم کرتے ہیں پچھلے سال نوز شریف نے مسلم لیگ بنائی اور وہی لوگ جو مسلم کانفرنس میں تھے وہ گئے اُس میں کس کا کیا کردار تھا وہ سب سامنے آ چکا۔آج ریاستی جماعت کو توڑنے کی باتیں کرنے والے خود اس کے ذمہ دار ہیں اس لیے مسلم کانفرنس سے مسلم لیگ بن جانا اور ایک جماعت سے دوسری جماعت میں لوٹوں کا چلے جانے میں بہت فرق ہے،دوسری بات جس کا اکثر ذکر ملتا ہے کہ پاکستان میں جو بھی سیاسی جماعت حکومت میں ہوتی ہے آزادکشمیر میں بھی اُسی کی حکومت بنتی رہی ہے یہ بات بھی درست ہے لیکن ماضی کے حالات اور انتخابات کو آج سے ملانا اس لیے درست نہیں کہ ماضی کے کسی بھی انتخاب کو اُٹھا کر دیکھیں صورتحال مختلف نظر آئے گی گزشتہ دو انتخابات کا جائزہ ہی لیا جائے جس میں پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور دوسرے میں مسلم لیگ نے حکومت بنائی تو دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ تھا ایسا نہیں تھا کہ مقابلہ ہی نہ ہو تیسرے چھوتھے نمبر کی جماعت نے حکومت بنائی ہو،انتخابات کے وقت ہوا کا کردار بہرحال رہتا ہے جب کہ اب کی بار صورتِ حال اس لیے مختلف ہے کہ ایک ماہ پہلے تک پاکستان کی حکمران جماعت یعنی پی ٹی آئی چوتھے نمبر پر تھی گزشتہ دنوں چند الیکٹیبلز کو شامل کرنے کے بعد تین بڑی جماعتوں کی فہرست میں شامل ہوئی ہے اگر صاف شفاف انتخابات ہوں تو کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں تاحال نہیں ہے۔وفاق کی برسر اقتدار پارٹی کو آزاد کشمیر میں اقتدار میں آنے کی ایک بڑی وجہ عوام کے ذہن میں یہ رہی ہے کہ فنڈز ملیں گے اور تعمیر و ترقی ہو گی جو کبھی بھی درست ثابت نہیں ہوئے بلکہ ان انتخابات میں تو پاکستان میں حکومت کے اپنے حالات بھی کافی پتلے ہیں۔مہنگائی کے اثرات آزادکشمیر میں بھی نمایاں ہیں جس کی وجہ سے ہوا بنانا مشکل بھی ہو رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام زور لگانے کے باوجود آزدکشمیر کی حکمران جماعت سے چند افراد کے علاوہ کوئی بڑی ٹوٹ پھوٹ نظر نہیں آئی جبکہ پاکستان کی حکمران جماعت پی ٹی آئی دو واضح گروپوں میں نظر آتی ہے اور ٹکٹوں کی تقسیم سے بھی کافی مسائل کا شکار ہے پھر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے اور کشمیر ایشو کی پالیسی کی وجہ سے بھی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ ایسے انتخابات ہیں جو ایک ماہ پہلے تک واضح پوزیشن وفاقی حکومت کو نہیں دے رہے۔ایسے میں انتخابات کیسے ہوں گے ماضی کے ریکارڈ ٹوٹیں گے یا صاف شفاف ہوں گے آنے والا وقت بتائے گا۔تاہم اگر انتخابات صاف شفاف ہوتے ہیں تو آزاد کشمیر کی 3بڑی جماعتیں مسلم لیگ،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی قریب قریب سیٹوں کے ساتھ سامنے آئیں گی جبکہ آزاد کشمیر کی دو ریاستی جماعتیں مسلم کانفرنس اور جے کے پی پی اپنی تاریخ کے مشکل ترین انتخابات سے گزریں گی۔مسلم کانفرنس کے قائد سردار عتیق جن کا شمار آزادکشمیر کے تیز ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے ملٹری ڈیموکریسی کے نعرے بھی خوب الاپتے رہے اور پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کے جتن بھی کر چکے مگر تاحال کوئی واضع کامیابی حاصل نہ کر سکے۔عمران خان سے حالیہ ملاقات کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انتخابات کے بعد مل کر حکومت بنائیں گے آپ کے پاس کچھ ہو گا تو مل کر حکومت بنائیں گے۔اگر کچھ ہو گا ہی نہیں تو کیسے حکومتی اتحادکرینگے۔شاید یہ ہوا بنانے کی ایک ناکام کوشش ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایک خطرناک کھلاڑی ضرور ہیں جبکہ جے کے پی پی اپنے قائد جو ایک بڑے سیاسی قد کاٹھ کے آدمی تھے سردار خالد ابراہیم کے بعد پہلا الیکشن لڑنے جا رہی ہے ضمنی انتخابات اور اس میں بڑا فرق ہے۔ضمنی انتخاب کے وقت اکثر جماعتوں نے خالد ابراہیم کا ہی حق سمجھتے ہوئے اُن کے فرزند سے اتحاد کر کے کامیاب کرایا تھا۔پی ٹی آئی کے ساتھ اس بار اتحاد بن گیا تھا جس کے مطابق حلقہ4,3جے کے پی پی اور حلقہ 5کو اوپن چھوڑنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن صغیر چغتائی کی وفات کے بعد پی ٹی آئی نے یو ٹرن لے لیا اور انہیں حلقہ 5سے امیدوار نہ دینے کا اصرار شروع کر دیا جسے جے کے پی پی آبائی حلقہ سمجھتے ہوئے کسی بھی صورت میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے جے کے پی پی کے لیے مجموعی طور پر مشکل ترین الیکشن بن گیا ہے لیکن حلقہ 5میں اُس کی پوزیشن بہتر ہو گئی ہے اُس کی ایک وجہ صغیر چغتائی مرحوم کا نہ ہونا اور دوسرا مسلم لیگ ن کا ٹکٹ میں بڑی غلطی ہے حلقہ 5میں پارٹی مکمل تقسیم کا شکار ہو گئی ہے سیٹ تقریباََ ناممکن دکھ رہی ہے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم مجموعی طور پر اوپر سے فیصلوں کے باعث کارکنان میں مایوسی پھیلی ہے اور سیاست میں ایک بڑا ٹرینڈ خاص طور پر پیسے کا چلنا بہت ہی خطرناک ہے جس کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان کا اتفاق و اتحاد ضروری ہے کہ ایسے فیصلوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کوئی اچھا شگون نہیں ہے کہ ہر آدمی خود کو ٹکٹ کا حقیقی حقدار سمجھتے ہوئے ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار بن جائے بلخصوص دولت مند طبقہ تو اسے اپنا حق سمجھتا ہے اور ہر صورت میں الیکشن میں جانا چاہتا ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں آنے والے دوچار دنوں میں امیدواران واضح ہو جائیں گے پھر صورتحال زیادہ واضح ہو گی لیکن کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے گئی اتحادی گورنمنٹ کے چانسز زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔آزادکشمیر کے ان انتخابات میں جس طرح امیدوااران سامنے آ رہے ہیں دور دور تک قانون سازی ہوتی نظر نہیں آ رہی سڑک،کھمبہ، نلکہ، نالی ہی کی سیاست لگتی ہے کسی کے پاس منشور نظریہ نہیں ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات اور سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں کی ترجیحات پر رکھنے کے لیے عوام دباؤ ڈالیں ورنہ آنے والے دور میں صورتِ حال مزید خراب ہو جائے گی۔



عورت کا لباس، عمران خان اور سیکولر طبقہ


عورت کا لباس، عمران خان اور سیکولر طبقہ شفقت ضیاء پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے،جس کی بنیاد نظریہ پر رکھی گئی، جومدینہ کی ریاست کے طرز پراسلامی نظریہ پر وجود میں آیا، خطہ میں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کا نظام نافذ کیا جائے گاجو مسلمانوں کی اکثریت کی وجہ سے اُن کے نظریے یعنی قرآن و سنت کے مطابق ہو گا۔ جس میں انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی اسی نظام کے مطابق ہو گی۔انفرادی حیثیت میں ہندوستان میں زندگی گزارنا کسی حد تک ممکن تھا لیکن اجتماعی نظام اسلام کے اصولوں کے مطابق ناممکن تھا۔مسلمانوں کی زندگی،رہنا سہنا،تہذیب،ثقافت،اُٹھنا،بیٹھنا، معاشی،سیاسی، اجتماعی نظام ہندووں سے مختلف ہے، ان کے ساتھ رہنے سے انفرادی و اجتماعی زندگی میں خامیاں پیدا ہو رہی تھیں جن میں سے بہت سی آج بھی موجود ہیں جس میں اُن کے اور انگریزوں کے چھوڑے ہوئے قوانین اور رسم و رواج شامل ہیں لیکن پاکستان کو حقیقی پاکستان نہیں بننے دیا گیا اور آج بھی دشمن دین و ملت سازشوں میں مصروف ہیں۔ایک منظم منصوبہ بندی کے ذریعے ملک کو کمزور کرنے بلخصوص اُسے اپنے نظریے یعنی اسلام سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ایسا نظام تعلیم اس ملک میں دیا گیا ہے جو منافقانہ ہے جس میں نہ مسلمان بنایا جاتا ہے اور نہ کھل کر کافر بنایا جا رہا ہے جس کی کوئی سمت نہیں ہے۔مخلوط نظامِ تعلیم اور میڈیا کے ذریعے ایسی ذہن سازی کی جا رہی ہے جس سے ایسی ”درمیانی“مخلوق تیار ہو رہی ہے جو اللہ رسول کا اقرار تو کر رہی ہے اور عملاََ انکاری بھی ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہا وضع میں تم ہو نصاریٰ،توتمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں،جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود وزیرِ اعظم عمران خان جدید تعلیم یافتہ شخصیت ہیں جس نے نہ صرف تعلیم بیرونِ دنیا میں حاصل کی بلکہ زندگی کا بڑا حصہ یورپ میں گزارا۔ اسلام سے بھی زیادہ یورپ کے نظریات اور ماحول سے واقفیت رکھتے ہیں۔گزشتہ دنوں انھوں نے دو مختلف نظریات اور تہذیبوں کو اپنے انٹرویو میں سمجھانے کی کوشش کی تو پاکستان کی سیکولر لابی اُن کے خلاف سرگرم ہو گئی بلخصوص میڈیامیں بیٹھے ہوئے اینکر اور اینکرنیاں تو اُن کے پیچھے ہی پڑھ گے اور کہا کہ اُن کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ عورتوں کے لباس پر بات کریں،انہوں نے یہ کیوں کہا کہ عورتوں کے مختصر لباس سے مرد کو ا ثر تو پڑے گا۔ عمران خان نے درست کہا کہ مغرب اور مشرق کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور فکر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔یہ مسلمانوں کی ریاست ہے یہاں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی مرضی و منشاء کے مطابق انفرادی و اجتماعی زندگی گزارنی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سے فرمایا ہے کہاے نبی، مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے اوراپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ نبی ﷺ کی احادیث اور سیرت سے پتا چلتا ہے کہ مسلمان عورتیں پردے کا اہتمام کرتی تھیں، آرائش و زیبائش کر کے باہر نہیں نکلتی تھیں۔ ایسا لباس پہنتی تھی جس سے وہ شریف باعصمت محسوس ہوتی تھی نہ کہ آوارہ۔قرآن مجید میں دوسری جگہ سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپراپنی چادرورں کے پلو لٹکا لیا کریں۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے قرآن و سنت نے لباس اور گھروں سے باہر نکلنے کے لیے عورتوں کو واضح ہدایات دی ہیں۔پردے کے واضح احکامات،قرآن و سنت کی واضح ہدایات کے باوجود ایک مخصوص سیکولر طبقہ قوم کو گمراہ کرنے کے لیے میڈیا کو استعمال کر رہا ہے بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا کا ایک بڑا حلقہ ان کی نمائندگی کرنے کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔فحاشی کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ عمران خان نے درست کہا ہے کہ ملک میں فحاشی عریانی بھی ایک بڑی وجہ ہے، جس سے آئے روز زیادتی کے واقعات پیش آتے ہیں، حیوانی ذہنیت آگے بڑھتی ہے اور بچیوں تک کو ہوس کا نشان بنا لیتی ہے انہوں نے کب کہا کہ ریپ کی واحد وجہ مختصر کپڑے ہیں جب نشان دہی کی جاتی ہے تو توجہ ہٹانے کے لیے اِدھر اُدھر کی مثالیں دی جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے دنیا میں سب سے زیادہ ریپ امریکہ یورپ میں ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں اس کی نسبت کم کیس ہوتے ہیں جوکیس آتے ہیں یہ بھی نہ آئیں اگر اسلامی نظام نفاذکر دیا جائے۔ فحاشی کو کنٹرول کیا جاے، یورپ کا تو برا حال ہے تمام آزادی،سہولتیں ہونے کے باوجود سارا زور صرف جبر کو روکنا ہے پھر بھی کامیاب نہیں ہیں، لیکن یہاں مغرب سے متاثر چند لوگ پروپیگنڈا کرتے ہیں اور ملک کا نقشہ ہی ایسا پیش کرتے ہیں جیسے جرائم ہی سب یہاں ہو رہے ہیں۔ان جرائم کی بھی وجہ سزاوں کا نہ ہونا ہے اسلام کی سزاؤں کو نافذ کیا جائے، اس کے لیے وزیراعظم عمران خان کو کچھ عملی اقدامات کرناہوں گے، کاش وہ مدینہ کی ریاست بنانے کا بار بار اعلان کر چکے کچھ عملی اقدامات بھی کر لیتے تو آج صورتحال بہتر ہو چکی ہوتی اسلام کی عادلانہ سزاؤں کو نافذ کر دیا جائے، تو بہتری آ سکتی ہے۔نظامِ تعلیم میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے مخلوط نظامِ تعلیم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا میں تیزی سے پھیلنے والی فحاشی و عریانی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔اب تو کسی شریف آدمی کے لیے نیوز چینل فیملی کے ساتھ دیکھنا بھی مشکل ہو گیا ہے، ایسی ایڈورٹائزمنٹ چلائی جاتی ہے کہ سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ڈراموں کی تو بات ہی کیا کرنی ہے فحاشی و عریانی سے معاشرہ تباہ ہو رہا ہے، شریف خاندان آئے روز ذلت و پریشانی کا شکار ہو رہے ہیں۔مغربی تہذیب نے پورا حملہ کیا ہوا ہے آج مغرب اپنے تبا ہ حال خاندانی نظام سے پریشان ہے ایسے میں کچھ لوگ مغرب کی غلامی میں اس ملک کو تبا ہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اس کے راستے میں بندھ باندھنے کی ضرورت ہے۔ پردے کے حوالے سے عمرا ن خان نے درست نشاندھی کی ہے،لباس کا مقصد زینت و آرائش اور موسمی اثرات سے حفاظت بھی ہے لیکن اولین مقصد ستر پوشی ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصو ں کوڈھانکے اور تمہارے لیے زینت اور حفاظت کا ذریعہ بھی ہو، لباس ایسا ہونا چاہیے جو شرم و حیا،غیرت و شرافت اور جسم کی ستر پوشی اور حفاظت کے تقاضوں کو پورا کرے اور اس سے تہذیب و سلیقہ اورزینت و جمال کا اظہار ہو۔نیزتعلیم دی گئی ہے کہ لباس میں عورتیں اور مرد ایک دوسرے کا رنگ ڈھنگ اختیار نہ کریں۔نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خدا نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کا سا رنگ ڈھنگ اختیا رکریں اور اُن عورتوں پر بھی لعنت فرمائی ہے جو مردوں کا سا رنگ ڈھنگ اختیار کر یں، نبی ﷺ نے اس مرد پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کا سا لباس پہنے اور اس عورت پر لعنت فرمائی ہے جو مرد کا سا لباس پہنے۔عورتیں دوپٹہ اوڑھنے کا اہتمام رکھیں اور اپنے سر چھپائے رکھیں نہ کہ گلے میں پٹی بنا کر مذا ق بنائیں۔ آج مغرب کی تقلید میں جس طرح کا باریک تنگ لباس خواتین پہنتی ہیں اور ایک خاص طبقہ ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جن سے تم متاثر ہو وہ خود آج پریشان ہیں۔اگر تمہیں ان کی تہذیب پسند ہے تو وہیں چلے جاؤ،اس ملک اور معاشرے کے لیے بزرگوں نے جو دین اور تہذیب پسند کی ہے اس ملک کے باغیرت لوگوں کو اسی پر فخر ہے۔



آزادکشمیر انتخابات، مفاد پرست لوٹے اور تبدیلی


آزادکشمیر انتخابات، مفاد پرست لوٹے اور تبدیلی شفقت ضیاء جمہوریت میں عوام کی رائے سے حکومت کی تشکیل ہوتی ہے۔سیاسی جماعتیں اپنے منشور کو عوام تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہیں جس کو دیکھ کر عوام یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس کا منشور ملک اور ان کے مفاد میں ہے اُسے ووٹ دیتے ہیں۔ووٹ دینے والے سارے برابر ہوتے ہیں خواہ پی ایچ ڈی ہو یا انگوٹھامار،امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت،نیک ہو یا بد سب کا ووٹ ایک ہی ہوتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں عوامی شعور زیادہ ہوتا ہے اور مسائل بھی مختلف ہوتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں عوام کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں، تعلیم کم ہونے کی وجہ سے شعور بھی کم ہوتا ہے اور بدقسمتی سے سیاسی استحکام نہ ہونے کے باعث جمہوریت میں پائی جانے والی خامیا ں اور بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں پاکستان جس کی بڑی مثال ہے،جس کے 73سالوں میں نصف سے زیادہ عرصہ غیر جمہوری رہا،تعلیم پر بھی توجہ نہ دی گئی جس کی وجہ سے جمہوریت نام کی حد تک ہی ہے،جو چند خاندانوں اور افراد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ اور اب گزشتہ 3سال سے پی ٹی آئی آپ کو وہی لوگ نظر آئیں گے جو ہر 5سال کے بعد ہوا کا رُخ دیکھ کر پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں اور ہوا کا رُخ بنانے میں اسٹیبلشمنٹ اہم کردار ادا کرتی ہے۔یہ چند سو افراد عوام کی خدمت کی وجہ سے اقتدار حاصل نہیں کرتے بلکہ کرپشن سے لُوٹے ہوئے قومی خزانے کا منہ کھولتے اور غریبوں کی غربت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور طاقت کا بھی استعمال کرتے ہیں۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے تنگ نوجوانوں کو تیسری قوت کی تلاش تھی اور اُس خلا کو تحریکِ انصاف کی صورت میں عمران خان سے امیدیں لگا کر تیزی سے پُر کیا جا رہا تھا۔اینٹی اسٹیبلشمنٹ عمران خان ابھی تیسری بڑی سیاسی قوت کے روپ میں سامنے آئے تھے کہ اچانک نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات خراب ہونے پر ہاتھوں میں لے لیا گیا اور عمران خان اقتدار کی لالچ میں آگئے پھر شارٹ کٹ میں سارے وہی الیکٹیبل لیے اور دھونس و دھاندلی کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔لیکن تیاری نہ ہونے اور درست حقیقی طریقے سے نہ آنے کے باعث پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت کا باعث بن گئے جس میں غریب آدمی کے لیے زندگی کی سانس لینا دشوار ترین بن گیا۔مہنگائی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ،قرض، کشمیر ایشو سمیت دیگر بے شمار مسائل حل کے بجائے خرابی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔اس کی وجہ عمران خان کی حکومت میں چند حقیقی کارکنان کے علاوہ سارے وہ الیکٹیبل ہیں جن کا نہ کوئی منشور ہے نہ نظریہ وہ مفادات کے پجاری ہیں ہر اقتدار میں آنے والے کے ساتھ ہوتے ہیں عوام کو خریدنے اور دبانے کا ہنر جانتے ہیں یوں ایسی تیسری قوت جس کے لیے عوام بلخصوص نوجوان سہانے خواب دیکھ رہے تھے مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کا چھوٹا سا خطہ جسے بڑی قربانیوں سے حاصل کیا گیا جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کی گئی اس کا مقصد بیس کیمپ بنانا تھاجس سے آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانا تھا۔مظفرآباد کو دارلحکومت اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہ سری نگر کے قریب ہے اور منزل کی طرف بڑھنا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ بیس کیمپ کے بجائے اقتدار کا ریس کیمپ بن گیا۔جس میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا بھی کردار ہے لیکن اس کے ساتھ آزاد کشمیر میں قیادت کا نہ ہونا بھی ہے، سردار محمد ابراہیم خان، کے ایچ خورشید، سردار عبدالقیوم خان اور اب سردار خالد ابراہیم بھی نہیں رہے ایسے میں گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے اور اس کے تشخص کو ختم کرنے کے لیے آخری حملے کا امکان بڑھ گیا ہے آزاد کشمیر کے انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔کسی بھی سیاسی جماعت کے حقیقی کارکن کی کامیابی ہی عوام کے مفاد میں ہو گی اگر مفاد پرست ہوا کے رُخ پر چلنے والوں کا انتخاب کسی بھی طرح سے ہوا تو یہ تباہ کن ہو گا۔آج ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت جو لوٹے رات کو پارٹی میں شامل ہوتے ہیں اور صبح انہیں دوسری پارٹی سے ٹکٹ دے دیا جاتا ہے اگر سیاسی کارکنان اور عوام نے ان کا انتخاب ہونے دیا تو داستان بھی نہیں رہے گی داستانوں میں۔یہ مفاد پرست کرپٹ ترین لوگ ہیں بلخصوص جو گزشتہ 5سال اقتدار کے مزے لیتے ہیں اپنی تجوریاں بھر کر اب اپنی کرپشن بچانے کے لیے نئی چھتری لے رہے ہیں ان ضمیر فروشوں اور کرپٹ لوگوں کا راستہ روکنا سیاسی کارکنوں اور عوام پر فرض ہے۔اس کے لیے سیاسی جماعتوں کے بتوں کو توڑنا بھی ضروری ہے جس سیاسی جماعت کی قیادت کو اپنے کارکن کی طویل جدو جہد کا خیال نہیں وہ لوٹے کو لے کر اُس کی مہم چلانے کے لیے کہے تو بغاوت کرنی چائیے۔یہ اس خطے کی نسلوں کی جنگ ہے ورنہ ان کی نسلیں بھی قابض رہیں گی پھر معیارِ تعلیم،قابلیت، صلاحیت یا محنت نہیں رہے گا بلکہ دولت، بے ضمیر ہونا اور طاقت ور ہونا ٹھرے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادکشمیر کے انتخابات میں ہمیشہ پاکستان کی حکومت کے اثرات رہتے ہیں اس کا حل ایک ہی دن انتخابات ہے عوام کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ دیں لیکن لوٹوں کو ٹکٹ دینے پر بغاوت کریں یہ ملک قوم کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں تبدیلی کی علم بردار تحریک انصاف کی قیادت بلخصوص عمران خان سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ آپ کہتے ہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کرپٹ پارٹیاں ہیں یہ پانچ سال کرپشن کر کے اب آپ کی طرف آ رہے ہیں ان کو آپ سینے سے لگا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟کیا کرپٹ شخص پی ٹی آئی میں شامل ہو جائے تو وہ پاک صاف ہو جاتا ہے؟کیا یہ ہے تبدیلی؟ اگر یہ تبدیلی ہے تو آزادکشمیر کے عوام کو اس سے معاف رکھیں، جن لوگوں نے 5 سال حکومت کے مزے لیے آج احتساب کے وقت پارٹی بدل کر عوام کے پاس نئی چھتری کے ساتھ آنے والے اور ان کو ٹکٹ دینے والے عوام دوست نہیں ہو سکتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے حلف کا پاس بھی نہیں رکھا، کہا جاتا ہے ان کی فائلیں تیار ہیں اور انہیں چند ورق دیکھائے جاتے ہیں وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں حتیٰ کے حلف بھی بھول جاتے ہیں اُس میں پیر بھی ہیں اوروزیر جنگلات بھی ہیں اگر ایسے کرپٹ لوگوں سے حکومت بنانا کامیابی اور تبدیلی ہے تو ایسی کامیابی سے ناکامی اچھی ہے۔ایسے چہروں کو عوام کو پہچاننا چاہیے۔ان کو پھولوں کے ہار نہیں کچھ اور پہنانے کی ضرورت ہے۔یہ لوگ سیاست پر بد نما دھبہ ہیں انہیں عزت نہیں بے عزت کرنے کی ضرورت ہے، وہ سیاسی کارکنان جنہوں نے پارٹی کے لیے طویل جدو جہد کی ہے اُن کے سیاسی قتل کرنے والے عزت کے نہیں ذلت کے حقدار ہیں۔قوموں اور افراد کی زندگیوں کے کچھ خاص موقع ہوتے ہیں جن میں کیے گئے فیصلے نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔آزاد کشمیر کے عوام اور سیاسی کارکنوں کے لیے یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے، بے ضمیر لوٹوں کی صورت میں قیادت پر فائز کر کے نسلوں کے لیے تاریک مستقبل چھوڑنا یا پھر با ضمیر سیاسی لوگوں کا انتخاب کر کے باشعور قوم کا ثبوت دینا ہو گا۔ووٹ اور سپورٹ کسی بھی سیاسی جماعت کی کرو لیکن لوٹوں کو ان کی اوقات ضرور دیکھاؤ۔



انتخابات یا جنگِ آزادی


انتخابات یا جنگِ آزادی آزاد کشمیر کے انتخابات آئین کے مطابق 29جولائی سے پہلے ہونے ضروری ہیں۔انتخابات ملتوی ہونے کی واحد صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جنگی حالات ہوں اور ملتوی کرنے کے لیے اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے فیصلہ آنا ضروری ہے۔مقبوضہ کشمیر میں آگ و خون کا کھیل ایک عرصے سے جاری ہے نوجوانوں کے خون سے گلی کوچے رنگین ہیں، خواتین کی عزتیں تار تار ہیں۔لاک ڈاؤن سے زندگیاں اجیرن ہیں۔قیادت گرفتار، نظر بند بعض جیلوں میں ہی شہید کر دئیے گئے ہیں، بچوں کے چیخیں آسمانوں کو پہنچ رہی ہیں۔یوں مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری مسلمانوں کے خلاف جنگ ہو رہی ہے، وہ بھی ایک طاقتور ملک کی لاکھوں افواج کے ساتھ جو انہیں زندگی کے بنیادی حق اور حقِ آزادی سے محروم کیے ہوئے ہیں۔ان کی اکثریت کو اقلیت سے تبدیل کرنے کے لیے بھی تیزی سے کام جاری ہے۔انسانی حقوق کی پامالی کی اس سے بڑی نظیر شاید ہی دنیا بھر میں کہیں ہو لیکن اس کے باوجود دنیا خاموش ہے۔انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردارں کے منہ پر تالے ہیں۔مسلمان ممالک کے بے غیرت حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے حکمران ایک تقریر کر کے عوام کو بیوقوف بنا کر اپنے حال میں مست ہیں جبکہ آذاد کشمیر کے عوام کے ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھے ہوئے ہیں۔خود بزدل حکمران تو ڈرتے ہیں لیکن با غیرت عوام کو بھی اجازت نہیں کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کر سکیں۔اب تو ایسا لگتا ہے کہ حکمران کشمیر ایشو کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے در پر ہیں یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے اور آزاد کشمیر کو بھی ملانے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں جن کی تعبیر لاکھوں کشمیریوں کے خون کے بعد بھی ممکن نہیں ہو گی۔ ایسے حالات میں آزاد کشمیر میں انتخابات کے بجائے آزادی کی جنگ شروع کر دی جائے تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔مقبوضہ کشمیر کے حالات کا تقاضا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام اُن کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔حکومتوں کی 73سالہ کارکردگی مایوس کن ہے لیکن اب آنے والے حالات کسی بڑے سانحہ کا باعث بن سکتے ہیں۔اس لیے انتخابات کے بجائے مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد کی جائے جو فریاد کر رہے ہیں کہ ہمیں ظالموں کے ظلم سے بچانے کے لیے کوئی محمد بن قاسم، کوئی صلاح الدین ایوبی، کوئی مدینہ کی ریاست کا نام لیوا، کوئی فاروق حیدر، کوئی مسعود خان، کوئی نام نہاد ٹیپو سلطان آئے اور اگر یہ بزدل نہیں آ سکتے تو عوام کے پاؤں کی بیڑیاں کھولیں تاکہ عوام اپنے بھائیوں کے لیے کوئی پتھر کوئی گولی اپنے سینے پر ہی کھا کر اُن کے زخموں میں کمی کر سکیں اور قیامت کے دن اللہ کے حضور سرخرو ہو سکیں۔ایٹمی پاکستان اور دنیاکی بہترٰین افواج کی موجودگی میں صرف شیرقیادت کی ضرورت ہے آزاد کشمیر جس کو بیس کیمپ کا کردار ادا کرنا تھا اُسے اقتدار کا ریس کیمپ بنانے والو کل قیامت کے دن کیا منہ دیکھاؤ گے۔کشمیر محض تقریروں سے آزد نہیں ہو گا شاید آپ آزادی چاہتے ہی نہیں ہو اس لیے کہ اگر کشمیر آزاد ہو گیا تو تمہیں کوئی چپڑاسی بھی نہیں رکھے گا۔اس لیے تمہارے لیے آزاد کشمیر ہی ٹھیک ہے جہاں تم وزیرِ اعظم بھی بنتے ہو، صدر بھی بن جاتے ہیں اور وزیر مشیر اور نہ جانے کیا کیا بن جاتے ہو لیکن یاد رکھو حالات بدلتے نظر آرہے ہیں اب صدر، وزیرِ اعظم،وزیر،مشیر بھی شاید نہ بن سکو۔آزاد کشمیر کی عیاشیاں بھی ختم ہو سکتی ہیں۔ہاں لوکل کونسل کے لیے تیار رہو چونکہ پاکستان میں پیسے والے بھی آپ سے بہت زیادہ ہیں جو عہدے اور منصف کروڑوں میں خرید لیتے ہو وہ اربوں میں بھی مشکل سے حاصل کر سکو گے۔ایسے میں اقتدار سے زیادہ اختیارات اور شناخت کی فکر کرو۔کشمیر کی آزادی کی جنگ کی طرف جاؤ یہی صورت انتخابات کو ملتوی بھی کر سکتی ہے اور کشمیر کی آزادی کا تقاضا بھی کرتی ہے۔کشمیر تقریروں سے آزاد ہو گا نہ اقوامِ متحدہ جو امریکہ کا پھٹو ہے حق ِ خود ارادیت لے کر دے گا۔کشمیر کی آزادی کا واحد حل جہاد ہے۔حکمرانوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اس راستے کواختیار کریں۔اقتدار کے پجاریوں سے اس کی توقع نہ کی جائے عوام نے ہی فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہو گا۔ورنہ نہ رہے گا بانس نا بجے گی بانسری۔اگر انتخابات ہی ہونے ہیں تو ہوشیار ہونا پڑے گا۔آنے والے انتخابات ماضی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کا انحصارہے۔بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں پہلے ہی قیادت کا فقدان ہے ایسے میں سرمایا کاروں کو سیاسی جماعتیں تلاش کر کے آگے لانے کے راستے پر گامزن ہیں اس سے اُن کو ذاتی فائدہ بھی ہوتا ہے اور غریب عوام کو ٹوٹی،کھمبے،سڑک،ٹینکی کے نام پر خرید کر کامیابی بھی ممکن ہوتی ہے۔عوام نہ بِکنے کا فیصلہ کر لیں۔لوٹوں کو اپنی اوقات میں رکھ لیں تو پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔بصوتِ دیگر پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں حاصل ہو گا۔آزاد کشمیر میں تعلیم کا ریشو پاکستان سے زیادہ ہونے کی وجہ سے عوام کا شعور زیادہ تصور کیا جاتا ہے لیکن انتخابات قریب آتے ہی شعور بھی کہیں دفن ہوتا دکھائی دیتا ہے جو کسی بھی صورت میں بہتر سائین نہیں ہے۔آپ کسی بھی پارٹی کو ووٹ دیں پوری دیانت داری سے ملک و قوم کے مفاد کو سامنے رکھیں۔ چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے ضمیر کا سودا کرنے والی قوم نہ ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی اُس کا کوئی مستقبل ہے۔مفاد پرستی کے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دی جائے کشمیر کی آزادی اور تعمیر وترقی با صلاحیت اور دیانتدار قیادت کے بغیر ممکن نہیں۔وسائل اور صلاحیتوں کی کمی نہیں،قیادت نا اہلوں اور مفاد پرستوں کے ہاتھوں میں ہے جومسائل کی اصل جڑ ہے۔الیکشن نہیں سلکشن ہوتی ہے لوٹے خریدنے اور استعمال کرنے کا کھیل ہے جن کا کوئی نظریہ ہے نہ جماعت اسے لوگ جب پڑھی لکھی باشعور عوام کی قیادت کریں گے تو آزادی ملے گئی نہ تعمیر و ترقی عوام کو لوٹوں کو اپنی اوقات بتانی ہو گئی سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو بھی کردار ادا کرنا ہو گا جو ان کا استحصال کرتے ہیں ان کے خلاف علم بغاوت کرنا ہو گاخواہ اپنی ہی پارٹی کی قیادت کیوں نہ ہو،الیکشن ہوں تو صاف شفاف ورنہ انتخابات نہیں جنگ ہی بہتر ہے۔



تاجدارِ ختمِ نبوتﷺ زندہ باد


تاجدارِ ختمِ نبوتﷺ زندہ باد محسنِ انسانیت ﷺ سے محبت مسلمان کے ایمان کا حصّہ ہے۔ ناموسِ رسالتﷺ کی شان میں گُستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مسلمان کا دل دکھی ہے۔ احتجاج کا طریقہ کار میں فرق ضرور ہے لیکن تمام امت مسلمہ کے مسلمان اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں پاکستان میں تحریکِ لبیک کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کے مطالبہ پر حکومت نے معاہدہ کیا جس پر عمل نہ کرنے پر دوبارہ احتجاج شروع ہوا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور کچھ جان سے بھی گئے۔جس پر حکومت نے تحریک لبیک کو دہشت گرد تنظیم کرار دیتے ہوئے پابندی لگائی لیکن دوسرے ہی دن پھر مذاکرات کیے اور ان کے گرفتار افراد کو رہا اور پابندی ختم کرنے کے لیے بھی انڈرسٹینڈنگ کہا جاتا ہے کہ ہو چکی ہے اسی کے نتیجے میں اس مسئلہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کیا گیا لیکن حکومت اسے پاس کرانے کے حق میں نظر نہیں آئی تاہم قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے تاجدارِ ختمِ نبوتﷺ زندہ باد اور غلامی رسول ﷺمیں موت بھی قبول کے نعروں کی گونج سنائی گئی جس سے ثابت ہوا کہ ان اسمبلیوں میں بھی بیٹھے ہوئے ممبران اگرچہ محسنِ انسانیتﷺ کے نظام کو عملاََ نافذ کرنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے لیکن محبت کی رمق ضرور موجود ہے۔کاش یہ بات بھی سمجھ جائیں کہ جس نبی ﷺ سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں اُن کا لایا ہوا نظام آج مغلوب ہے اس کے غلبے کے لیے جدوجہد کرنافرض ہے نبی مہربان ﷺ نے 23سال تک دن رات قرآن کے نظام کے لیے جدوجہد کی کوئی تنگی اور تکلیف ایسی ہے جو برداشت نہیں کی؟ لہولہان کیے گئے وطن کو چھوڑنا پڑا پیٹ پر پتھر باندھے، ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن اپنی جدوجہد کو اس وقت تک جاری رکھا جب تک دین غالب نہیں ہو جاتا اور پھر لاکھوں لوگوں کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگو میں نے آپ تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے کہ نہیں سب نے کہا بلاشبہ آپ نے اس کا حق ادا کر دیا ہے۔اس وقت اللہ کو گواہ کر کے کہا کہ اے اللہ تو گواہ رہنا میں نے یہ کام تکمیل کر دیا ہے اب اے لوگو تمہاری ذمہ داری ہے اس دعوت اور پیغام کو آگے لوگوں تک پہنچانے کی محبت ِرسولﷺ سے سرشار لوگ ہر دور میں اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتے رہے ہیں آج امت ِ مسلمہ مشکل دور سے گزر رہی ہے ذلت اس کا مقدر بن چکی ہے 57اسلامی ممالک کے حکمران دنیا پرست بن چکے ہیں۔غیروں سے ڈر تے ہیں۔ایٹمی پاکستان کا حکمران کہتا ہے میں مغرب کو جانتا ہوں اگر پاکستان فرانس کے سفیر کو نکالے گا تو دوسرے یورپی ملک میں آزادی اظہار کے نام پر یہی کچھ ہو گا تو کیا ہم پھر اس کے سفیر کو بھی واپس بھیجیں گے؟ سفیر کو واپس بھیجنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے کا لیکن پاکستان کو اس سے بہت فرق پڑے گا۔ہماری معیشت کا بیڑہ غرق ہو جائے گا۔اس لیے ہم سفیر کو نہیں نکال سکتے ان حکمرانوں کو کون سمجھائے عشقِ رسولﷺ سودوزیاں کے احساسات سے ماوراء ہوتا ہے۔رسول مہربانﷺ سے تو اللہ اور اس کے فرشتے محبت کرتے ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اللہ اور اسکے ملائکہ نبیﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو“ اللہ کی طرف سے درود کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ پر بے حد مہربان ہے۔آپ ﷺ کی تعریف فرماتا ہے آپ ﷺ کا نام بلند کرتا جس کی تعریف اللہ کر رہا ہے اس کے فرشتے کر رہے ہیں اس نبیﷺ مہربان کا گنہگار ترین امتی بھی آپﷺ کی ناموس پر کٹ مرنے کے لیے تیار کیوں نہ ہو۔رسول ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے باپ اور اولاد سے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔ رحمت العالمینﷺ سے محبت تو ایمان کا حصہ ہے ہی لیکن رسولﷺ کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیا گیا ہے آج تمام مسائل کا حل اس بہترین زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادی و اجتماعی نظام میں ہے۔محبت رسولﷺ کے دعوے اور تقریریں کافی نہیں ہیں اگر عملاََ اُس نظام کو لایا جائے تو دنیا کی کسی قوت میں اتنی جرات نہیں ہو سکے گی کہ وہ گستاخی کا سوچ بھی سکے۔محبت رسول ﷺ موجود ہو گی تو دنیا و آخرت میں سرخروحی یقینی ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا آدمی اس کے پاس ہے جس سے اس نے محبت کی کتنا ہی خوش قسمت ہو گا وہ شخص جسے محمد ﷺ کی قربت نصیب ہو گی لیکن محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ زندگی اس طرح گزاری جائے جس طرح گزارنے کا محبوب نے بتایا ہے۔اسلام محض ایک مذہب نہیں ہے بلکہ یہ دین ہے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔رسولﷺ کو غیر مسلموں نے بھی دنیا کا بڑا لیڈر مانا ہے اور مدینہ کی ریاست کو بہترین ریاست نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اس سے استفادہ بھی کیا ہے۔ان صولوں پر عمل بھی ہو رہا ہے لیکن بطورمکمل نظام کے بدقسمتی سے مسلمانوں کے ملکوں میں بھی آج نافذ نہیں ہے۔پاکستان جو بناہی کلمے کے بنیاد پر تھا آج 73سال بعد بھی محض دعوے ہیں کہ مدینہ کی ریاست بنائیں گے عملاََ کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ا ٓج بھی وہی سودی نظام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایایہ اللہ اور رسولﷺ کے خلاف جنگ ہے اللہ اور رسولﷺ کے خلاف جنگ لڑنے والے کہتے ہیں معیشت بہتر کرنے کے لیے فرانس، امریکہ اور دیگر دنیا کی قوتوں کا راضی رہنا ضروری ہے اللہ اور رسول ﷺ کو ناراض کر کے یہ تو قع رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔یا تو اللہ اور رسول ﷺ کو ماننا ہے تو اس کے فیصلوں کو بھی ماننا ہو گا یا پھر اُس سے انکار کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہونا ہو گا۔منافقت سے کامیابی ممکن نہیں ہے دو رنگی ختم کیے بغیر کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے ذلت کے سوا کچھ نہیں مل سکے گا۔منافقت سے انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی اُس میں رسوائی ہی مقدر بنتی ہے۔ نبی مہربانﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے جب وعدہ کرتا ہے خلاف ورزی کرتا ہے اور جب کوئی امانت دی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔ مدینہ کی ریاست میں کافروں سے زیادہ منافقین نے مسائل پیدا کیے تھے اور اسلام کو نقصان پہنچایا تھا۔مسلمانوں کے پاس قرآن کی صورت میں دستور زندگی اور نبی مہربانﷺ کی زندگی کا بہترین نمونہ موجود ہونے کے باوجود منافقت کی وجہ سے مشکلات کا دور دور ہ ہے۔سچ کے بجائے جھوٹ عام ہو چکا ہے وعدہ کر کے مکر جانا چلاکی سمجھا جاتا ہے امانت کا پاس نہیں رکھا جاتا۔اللہ کا کلام قرآن مجید جیسی امانت ہمارے پاس ہے اس کو دوسروں تک پہنچانے اور اس کے نظام عدل کو نافذ کرنے میں خیانت کی جا رہی ہے۔لوگوں سے جھوٹے وعدے کرنا مذاق بن چکا ہے ایسے میں رمضان المبارک کا یہ برکتوں والا مہینہ اچھا موقع ہے جس میں توبہ کرتے ہوئے اس بات کا عزم کیا جائے کہ اب زندگی اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت والی گزاری جائے گی۔قرآن و سنت کے نظام کے غلبے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو لگایا جائے۔قرآن کو محض ثواب کے لیے پڑھنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کی جائے رسول ﷺ کی زندگی انفرادی و اجتماعی کا مطالعہ کیا جائے اور اُس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈالا جائے۔ رمضان کے مہینے تک اپنے آپ کو نیک بنانے کے بجائے بقایا گیارہ ماہ بھی تقویٰ والی زندگی اپنائی جائے۔بدقسمت ہو گا وہ شخص جو اس ماہ مقدس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکاتاجدارِ ختمِ نبوتﷺ زندہ باد اور غلامی رسولﷺ میں موت بھی قبول ہے کے محض نعرے نہیں اسمبلیوں میں عملاََ اس کے نظام کے نفاذ کا اعلان کیا جاے کامیابی کا صرف یہی راستہ ہے کہ انفرادی و اجتماعی طور پر دین کو نافذ کیا جائے تمام مسائل اسی صورت حل ہو پائیں گے ورنہ دنیا اور آخرت کی ذلت سے بچنا ممکن نہیں ہے۔



تحریکِ لبیک پر پابندی


تحریکِ لبیک پر پابندی شفقت ضیاء 1947ء میں تقسیم ِ برصغیر کے نتیجہ میں مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل الگ ملک وجود میں آیا جس کا نام پاکستان رکھا گیا۔جس کا مقصد ایک ایسی اسلامی ریاست تھا جس میں اسلام کا مکمل نظام ِ حیات نافذ کرنا تھا۔ اس تجربہ گاہ سے دنیا کو مستفید کرنا اور ایک اسلامی بلاک کی صورت میں اسلام کے پرچم کو دنیا بھر میں بلند کرنا تھا۔لیکن بدقسمتی سے اپنوں اور غیروں کی سازشوں سے 73سال گزرنے کے باوجود اسلام کا مکمل حقیقی نظام نافذ نہ ہو سکاتاہم ایک جدو جہد کے نتیجہ میں اس ملک کو ایک ایسا آئین ملا جو اسلام کو سپریم لاء تسلیم کرتا ہے اور قرآن و سنت کے مطابق نظام چلانے کی بات کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو رہا جس کے راستے میں دنیا کی بڑی طاقتور قوتیں رکاوٹ ہیں جو پلاننگ کے ساتھ ایسے حکمران تیار کرتی ہیں جو ہمیشہ اس کے راستے میں رکاوٹ رہتے ہیں اور آج بھی رکاوٹ ہیں۔چند سو لوگوں نے قوم کو یر غمال بنایا ہوا ہے وہ اقتدار کے لیے کبھی کسی جماعت میں ہوتے ہیں اور کبھی کسی جماعت میں اور اگر ڈکٹیٹر کی حکومت آجائے تو اُس میں شامل ہو جاتے ہیں۔یہ اقتدار کے پجاری ہیں جن کا کوئی نظریہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک پاکستان مسائل سے نکل نہیں پا رہا اگر اس کے حقیقی مقاصد کو پورا کر دیا جاتا ہے تو ملک دنیا میں با عزت قیادت کر رہا ہوتا لیکن بزدل حکمرانوں کی وجہ سے آج بھی غیروں کی غلامی کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وہ آئے روز مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔غربت،بے روزگاری نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے جبکہ محدود سا طبقہ ہے جس کے سرمائے کا حساب ہی نہیں اقتدار کے راستے انہی کے لیے کھلے ہیں۔سوچ و فکر بھی انہی کی چلتی ہے جو ان کی اپنی نہیں بلکہ غیروں کی دی ہوئی ہے۔ان کی تعلیم و تربیت وہی کرتے ہیں یہ بڑی بڑی ڈگریوں کے باوجود چھوٹی سی سورت کی تلاوت تک نہیں کر سکتے اور قرآن و حدیث کے علم سے نابلد ہیں البتہ اپنے اقتدار کے حصول کے لیے یہ کوئی بھی نعرہ لگا سکتے ہیں اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے سب کچھ کرتے ہیں اسی وجہ سے انہوں نے ملک کے ایک بڑے حصّے کو کاٹ دیا واور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے نعرے تقریروں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ہندو اُن پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے وہاں ان پر ہونے والا ظلم نہ دنیا کو نظر آتا ہے اور نہ یہ دنیا کے سامنے رکھ سکے اور نہ خود جرات کر کے ان کے لیے عملی اقدامات اُٹھا سکے۔آج تک کوئی واضح پالیسی نہ بنا سکے کبھی جذبہ جہاد سے سرشار نوجونوں کو جہاد کی اجازت دیتے ہیں ا ور کبھی انہی کو دہشت گرد بنا دیا جاتا ہے۔کنفیوز پالیسی کے باعث ملک اندونی و بیرونی خطرات سے دوچار ہے لیکن اقتدار کے نشے میں مست حکومت اور اپوزیشن جو ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اُن کو اقتدار کے علاوہ کسی چیز سے دلچسپی نہیں۔کشمیر میں ہونے والے ظلم پر ہی خاموش نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایمان کے جز محمدﷺ کی شان میں گُستاخی پر بھی محض تقریر کر کے سمجھتے ہیں حق ادا کر دیاجب مسلمانوں کے جذبات بُری طرح مجروح ہیں گناہ گار ترین شخص بھی سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن محسنِ انسانیت ﷺ کی شان میں گُستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔کیوں کہ محبت رسول کے بغیرایمان ہی نہیں مکمل ہوتااس میں پاکستان کے 22کروڑ عوام یک زبان ہیں۔جان دے سکتے ہیں لیکن گوستاخی برداشت نہیں،دنیا بھر کے مسلمانوں نے فرانس کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کیا لیکن 57اسلامی ممالک کے بے حس لاچار غلام حکمران ان کے جذبات کو دلیری کے ساتھ دنیا کے سامنے نہ لا سکے احتجاجاََ فرانس سے سفارتی تعلقات بھی ختم نہ کر سکے پاکستان میں دینی جماعتوں کے طرف سے احتجاج ہوا تحریکِ لبیک نے بھی احتجاج کیا دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔حالانکہ س سے بھی انھیں کیا فرق پڑ جانا تھالیکن حکومتِ پاکستان نے مذاکرات کے ذریعے تحریکِ لبیک سے معاہدہ کیا جس میں اس بات کا وعدہ کیا گیا لیکن وقت مقرر تک ایسا نہ ہو سکا جس پر تحریک لبیک نے دوبارہ احتجاج کا فیصلہ کیا تحریکِ لبیک کے قائد سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا جس پر تحریک کے کارکنان نے احتجاج شروع کر دیا۔ سڑکیں بلاک کی گئیں جس کے نتیجے میں پولیس اور کارکنان میں تصادم ہوا۔اطلاعات کے مطابق دونوں طرف سے بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے پولیس کے کچھ جوان جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی۔املاک کا بھی نقصان ہوا۔جس کے بعد حکومت نے تحریکِ لبیک پر پابندی لگا دی اور اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔ایساکس کے کہنے پر کیا گیا؟کس کا دباو تھا حکومت بتانے سے قاصر ہے اس میں کوئی دو راہے نہیں کہ تحریکِ لبیک کے جذبات پوری قوم کے جذبات ہیں بلکہ تمام امت مسلمہ کے ہیں۔البتہ قانون کو ہاتھ میں لینے کا بھی کسی کو حق نہیں ہے حکومت کو چاہیے کہ غیر جانبدارانہ تحقیق کرائے جو لوگ ملوث ہیں انھیں سخت سزائیں دی جائیں۔لیکن غیر قانونی پابندیاں لگانا بھی درست اقدام نہیں۔تاریخ بتاتی ہے اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتے ہیں۔چند سال پہلے جب مسلم لیگ کی حکومت تھی تو ان کی حمایت موجودہ حکمران پارٹی کر رہی تھی یہی وزیرِ داخلہ جن کو عمران خان چپڑاسی بھی رکھنے کے قابل نہیں سمجھتے تھے تعاون کر رہے ہیں۔خود حکمران جماعت نے 126دن دھرنا دے کر عوام کو جو تکلیف دی تھی اُس کی بھی کچھ سزا بنتی ہے؟۔قومی املاک کے نقصان پر اُس وقت جو کیس بنے تھے اُن کا کیا بنا؟وزیرِ داخلہ کے جلاؤ مارو والی تقریروں کا کیا بنا؟خود وزیرِ اعظم کی تقریروں کا کیا بنا؟دو نہیں ایک قانون کی بات کرنے والے وزیرِ اعظم کو ان پر بھی غور کرنا چاہیے۔پھر کل ان سے تحریری معاہدہ کیوں کیا تھا؟ اس کا مطلب یہی سمجھا جائے کہ ساری باتیں جھوٹ اور وقت گزرنے کے لیے ہوتی ہیں اب کون اور کیوں اعتبار کرے گا حکومت کو اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہیے تحریکِ لبیک بریلوی مکتبِ فکر کی سیاسی جماعت ہے۔بریلوی مسلک سب سے پُر امن سمجھا جاتا ہے۔بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکتا ہے لیکن ضرورت کے مطابق کسی گروہ کو استعمال کر کے جب بات آگے بڑھ جاتی ہے اُس وقت دہشت کرد بنا کر پیش کرنا انصاف نہیں ہے۔مذہبی جماعتوں کو بھی ہوشیار رہنے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ناموسِ رسالت ﷺ پر کٹ مرنے کا جذبہ رکھنے والوں کو سیرتِ رسولﷺ کو سامنے رکھتے ہوئے دوسروں کی جان،مال عزت کا احترام کرنا چائیے اور اگر صفوں میں سازشوں سے شر پسند داخل ہو گئے ہیں تو اُن کو نکالنا ہو گا۔مسجدوں اور نماز، روزہ تک اتفاق کر کے بیٹھ جانے کے بجائے اقتدار کے ایوانوں تک پُر امن عوامی جدوجہد کے ذریعے باہمی اتحاد وا تفاق سے جانا ہو گا۔اسی صورت میں نہ صرف اسلام کا نظام نافذ ہو سکتا ہے بلکہ اللہ اور رسولﷺ سے محبت کا تقاضا بھی پورا ہو سکے گا۔



رمضان نیکیوں کا موسم بہار


رمضان نیکیوں کا موسم بہار شفقت ضیاء اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنی زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ نصیب کیا جس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔ جو نیکیوں کا موسم بہار ہے ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس نے دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے نام نہاد سپر پاور اور اس کے چیلے چانٹے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں تما م تر تدابیر کے باوجود لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور ہزاروں زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ جن کو اپنی معاشی طاقت پرناز تھا وہ بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔ محسن انسانیت ﷺ نے 14سو سال پہلے جو ہدایات دی تھی ان کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں صفائی کو ایمان کا حصہ، پانچ وقت وضو، ہاتھ، منہ، ناک کو اچھی طرح صاف رکھنا اور اپنے آپ کو وباء سے بچانے کے لیے ایسے علاقے میں نہ جانا اور ایسے علاقے کو نہ چھوڑ نا شامل ہے ایسے میں اس آزمائش سے نکلنے کے لیے اللہ نے اچھا موقع دیا ہے توبہ کرتے ہوے رب کو راضی کرنے کی کوشیش کی جاے رمضان المبارک جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ نبی مہرباں ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ گویا نیکیاں کمانے کا سنہری موقع ہے جس نیکی کے دروازے سے جنت میں جانا چاہتے ہو وہ کر لو سب دروازے کھولے ہیں۔ بنی مہربان ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ تو اس کے وہ سب گنا ہ معاف کر دیے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزرد ہوئے ہیں اور جس نے رمضان میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ قصور جواس نے پہلے کئے ہوں گے اور جس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ سب گناہ جو اس نے پہلے کیے ہو ں گے۔ احتساب سے مراد تمام نیک اعمال میں ٖصرف اللہ کی رضا اور اسی سے اجر کا امیدوار ہو نا ہے یہی وجہ ہے کہ روزے کو دیگر عبادات سے بڑھ کر اجر و ثواب کا ذریعہ کہا گیا ہے جس میں دکھاوے کا امکان نہیں بلکہ روزے دار اور اللہ کو اس کا علم ہو تا ہے نبی مہربان ﷺ نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی د س گنا تک اور دس گنی سے سات سو گنی تک بڑھائی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، بدقسمت ہو گا وہ شخص جو اس موقع سے کما حقہ فائدہ نہ اٹھا سکے جب اللہ کی رحمت پورے جوبن پر ہے ہر نیک کام کا اجر و ثواب بڑھ چکا ہے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ رب کریم اپنے بندوں کو معافی اور اجر و ثواب کے بہانے تلاش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ بنی مہرباں ﷺنے تین با ر آمین کہا تو صحابی ؓ نے پوچھا ہمیں کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آیا آپ نے خلاف معمول آمین کہا ہے تو آپ ؐ نے فرمایا جبرائیل ؑ آئے تھے اور دعا کر رہے تھے وہ شخص تباہ ہو گیا جس کی زندگی میں رمضان المبارک آیا اور وہ اپنی مغٖفرت حاصل نہ کر سکا میں نے کہا آمین دوسری بار کہا وہ شخص بھی تباہ ہو گیا جووالدین کی خدمت کر کے جنت نہ پا سکا جس پر میں نے کہاآمین اور تیسری بار فرمایا جس کے سامنے میرا نام نامی محمد ﷺ لیا گیا اور مجھ پر درود نہ پڑھا۔جس پر میں کہا آمین بس ثابت ہوا جو دعا جبرائیل نے کی ہو اور جس پر محمد ﷺ نے آمین کہا و ہ دعا قبول ہو گی اس کی قبولیت پر شک نہیں بس ہمیں اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کیلئے رمضان المبارک کو ایسا گزارنا ہو گا کہ بخشش کا سامان حاصل کر لیا جائے۔ اللہ نے قرآن مجید میں رمضان المبارک کو قرآن کا مہینہ قرار دیا ہے جس میں قرآن نازل ہو ا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کر تے ہیں روزہ کہتا ہے کہ اے رب میں نے اس کو دن بھر کھانے پینے سے شہوت سے روکے رکھا تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما اور قرآن کہتا ہے کہ میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما بس دونوں کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی۔ اس لیے اس مہینہ میں قرآن سے خصوصی تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا اصل مقصد ہے اس ماہ میں آغاز کر لیا جائے اور اس بات کا عزم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو سمجھتے ہوئے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈالنے کی کوشش کرنی ہے آج قرآن سے دوری کی وجہ سے امت مسلمہ ذلت اور آزمائش سے دوچار ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے زندگی کے ہر شعبہ میں قرآن رہنمائی کرتا ہے لیکن ہماری انفرادی و اجتماعی زندگیاں اس سے خالی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پڑھنے کا بہت اجر و ثواب ہے بلخصوص رمضان المبارک میں اس کا اجر تو اور بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے اس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جانی چاہیے لیکن اس کا اصل مقصد ہدایت لینا ہے جس کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے پھر اس کو آئینہ کی طرح سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ڈالنا ہوگا قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہمیں انسانوں کا خیال رکھنے ان کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا درس ملتا ہے آج کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں ان کی مدد زکوۃ کے علاوہ صدقات کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ کرنا ہوگی روزہ کا ایک مقصد لوگوں کا احساس پیدا کرنا بھی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو بھوکا پیا سا رکھنے سے کیا حاصل کرنا تھا اس کے خزانوں میں کسی کی کمی تو نہیں آنی تھی اس لیے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اس ماہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اس لیے اس کی پلاننگ پہلے دن سے ہی کر لینی ہو گی تا کہ کوئی لمحہ ضائع نہ ہو جائے۔دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے جہاں انسانیت کی خدمت پر خصوصی توجہ دی جائے وہاں اللہ کو یاد کرنے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ آنے والے گیا رہ ماہ کو بھی اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا عزم کرنا ہو گا۔ اگر اس ماہ سے درست طور پر استفادہ کیا گیا تو آئندہ آنے والے مہینوں میں اس کے اثرات نظر آئیں گے ورنہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق بہت سارے روزے دار ایسے ہیں جنہیں بھوک پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو تا اللہ نہ کر ے ہم ایسے لوگوں میں شامل ہو ں بلکہ نیکیوں کے اس موسم بہار میں اپنے دامن کو بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین



پرل ویو 6سال کا ہو گیا


پرل ویو 6سال کا ہو گیا سردار شفقت ضیاء صحافت ایک مقدس پیشہ ہے جسے ریاست کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اس کی محتاج ہیں۔ دنیا بھر میں اس کی اہمیت کو مانا جاتا ہے، ہر بڑی تحریک میں اس کا نمایاں مقام رہا ہے۔تحریک پاکستان میں اس کا بڑ ا کردار ہے۔ جرات مندانہ صحافت نے مسلمانوں کو ایک تازہ ولولہ دیا اور مسلمان انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے لیکن قیام پاکستان کے بعدحالات واقعات سے جہاں دوسرے ادارے زوال کا شکار ہوئے وہاں صحافت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا۔ حکومتوں نے ہمیشہ اسے قبضہ میں رکھنے کی کوشش کی جبکہ مالکان پیسہ بنانے کے چکر میں پڑ گے۔ اس صورتحال میں زرد صحافت نے جنم لیا، نظریہ پاکستان کا خیال نہ رکھا گیا، ادارے بے لگام ہو گئے،صحافت مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے خود بے راہ روی کا شکار ہوئی، کشمیر جیسے اہم ایشو کو نظرانداز کیا گیا۔ بد قسمتی سے ایک طویل عرصے تک آزادکشمیر میں ریاستی اخبارات کا وجود ہی ممکن نہ بنایا جاسکا جسکی وجہ سے تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے میں وہ کردار ادا نہ ہو سکا۔اسی طرح عوامی مسائل پر بھی اس طرح دلچسپی نہ لی گئی لیکن کچھ عرصہ قبل ریاستی اخبارات کا آغاز ہوا بے شمار مسائل اور کمزوریوں کے باوجود مثبت تبدیلی آئی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود اخبارات کی اہمیت کم نہ ہو سکی بالخصوص ریاستی اخبارات کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی اور ریاستی اخبارات میں کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ریاستی اخبار ہونا چاہیے۔جس کے لیے اخبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ غازیوں شہیدوں کی سر زمین راولا کوٹ جو اپنی درخشاں تاریخ کی وجہ سے پوری دنیا میں منفرد، طلسمی اور قدرت کا شاہکار خطہ ہے،یہ خطہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی ہے،پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ وادی دیکھ کر کسی انگریز نے اس کوپرل کا نام دیا تھا، پرل سے مراد چمکتا ہوا موتی ہے اور وادی پرل سے مراد چمکتے ہوئے موتیوں کی سرزمین ہے۔ یہ وادی جہاں حسنِ فطرت کا حسین شاہکارہے، وہاں اس وادی کے گونا گوں مسائل بھی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ گوئیں نالہ روڈ سے پہلے وادی پرل اسی طرح گوشہ ہائے گمنامی میں رہی جیسے کولمبس کے امریکہ پہنچنے سے پہلے امریکہ کے وجود سے دنیا آگاہ نہیں تھی، میرے دل میں برسوں سے یہ خواہش انگڑائی لے رہی تھی کہ یہ وادی جس قدر حسین اور پر کشش ہے اس کو ادبی، صحافتی اور ثقافتی دنیا میں میں بھی ایک منفرد مقام ملنا چاہیے، اسی سوچ کے پیش نظر 18 فروری 2015 سے ”روز نامہ پرل ویو“کی اشاعت شروع کی۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ”پرل ویو“ نہ صرف وادی پرل کی طرح خوبصورت اخبار ہو بلکہ یہ اخبار جموں کشمیر کی تمام حسین وادیوں کانمائندہ اخبار بھی ہو، ہم نے پرل ویو کی اشاعت کے 6سال مکمل کیے ہیں اس دوران ہم نے کوشش کی ہے کہ پرل ویو کو مکمل طور پر غیر جانبدار بنایا جائے اس کوشش میں ہم کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں اس پر اخبار پڑھنے والے زیادہ بہتر انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں اخبارات کے مالکان کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ انہیں اخبار کے اخراجات پورے کرنے کے لئے سرکاری اشتہارات کی ضرورت پڑتی ہے اورسرکاری اشتہارات کے لیے اکثر اخبارات کو حکومتی اداروں کے غلط کاموں کو بھی درست اور قابل تعریف بنا کر لکھنا پڑتا ہے لیکن پرل ویو کا وہی انداز اور مزاج ہے جو وادی پرل کے رہنے والوں کا ہے یعنی ہم وہی لکھتے ہیں جو سچ ہوتا ہے،جس کا ہمیں بڑا نقصان بھی ہوا ہے لیکن ہم استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں آزادکشمیر بھر میں سرکولیشن اور پونچھ میں سرکولیشن کے اعتبار سے سب سے بڑا اخبار جس کے قریب ترین بھی کوئی دوسرا اخبارنہ ہونے کے باوجود ماضی اور موجودہ حکومتیں ناانصافی کا مظاہرہ کر تی رہی ہیں اس کے باوجود ہم نے پرل ویو کو حکومت اور عوام کے درمیان پل بنا رکھا ہے، اس پل کے ایک طرف عوام ہیں اور پل کی دوسری طرف حکومت ہے ہم حکومت کی ساری خرابیاں اور اچھے کام عوام کو بتاتے ہیں اور عوام کے تمام مسائل پل کی دوسری طرف موجود حکمرا نوں تک پہنچاتے ہیں، ”پرل ویو“ریاست جموں کشمیر کی تمام وادیوں اور کوہستانوں کا بلا تخصیص ترجمان ہے اسی وجہ سے ”پرل ویو“ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ راولاکوٹ کا پہلا اخبار ہے جسے وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان کی طرف سے باقاعدہ تصدیق شدہ اشاعت کا اعزاز حاصل ہے یعنی اے بی سی سرٹیفائیڈ(ABC Certified) ہے۔ اس اعتبار سے ”پرل ویو“ہر قسم کے سرکاری اشتہارات کے حصول کے لیے مجاز اور اتھارٹی اخبار ہے لیکن”پرل ویو“سرکاری اشتہا ر ات لینے کے لئے سرکار کی بے جا تعریف پر یقین نہیں رکھتا،یہی وجہ ہے کہ حکومتوں نے ہمیشہ اس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ سابق حکومت کے دور میں اسے عدالتوں میں گھسیٹا گیا موجودہ حکومت بھی انصاف نہ کر سکی تا ہم حکومتو ں کے تمام حربوں کے با وجود اللہ کے فضل وکر م سے نہ بکے ہیں اورنہ جھکے ہیں۔”پرل ویو“ کو اپنی غیر جانبداری اور حق گوئی کی وجہ سے جو پذیرائی6 سالوں میں ملی ہے،وہ عام طور پر اخبارات کو بارہ سال کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتی، الحمدللہ!6 سال میں آزادکشمیرمیڈیالسٹ پر ہی نہیں بلکہ سنٹرل میڈیا لسٹ (اسلا م آباد) میں بھی شامل ہو کر آزادکشمیر بھر کے چنداخباروں میں شامل ہے۔اورعوام کا مقبول ترین اخباربن چکا ہے ”پرل ویو“ کو جتنی شاندار کامیابیاں ملی ہیں ان کامیابیوں میں سٹاف،رپورٹرز،کالم نگاروں،اخبار فروشوں سمیت تمام قارئین کی محنت،دعا اور تعاون شامل ہے جنہوں نے ایک زبردست ٹیم ورک بن کر ”پرل ویو“کو شاندار کامیابیوں سے ہمکنار کر دیا ہے، ”پرل ویو“ نہ تو کسی کی پگڑی اچھال کر خبر بنانے پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی زرد صحافت اور بلیک میلنگ کے ذریعے خبریں روک کر کسی قسم کا کوئی مفاد حاصل کرنے پر یقین رکھتا ہے، ہماری ٹیم حقائق کی کھوج لگاتی ہے اورپوری طرح تحقیق کرتی ہے جو خبر سچائی کے معیار پر اترتی ہے وہی شائع کی جاتی ہے۔الحمداللہ اس حوالے سے کو ئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ ”پرل ویو“معاشرے کے تمام طبقات کا نمائندہ ہے اور سب سے بڑھ کر مظلوم اورستم زدہ افراد کی طاقت ور آواز اورتحریک آزادی کشمیر کا ترجمان ہے مقبو ضہ کشمیر،آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے درمیان بھی ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے ریاست جموں کشمیر کے تمام منقسم علاقوں کے حقیقی مسائل اجاگر کرتا ہے۔ہماری کوشش رہی ہے اور ہے کہ ہم وادی کشمیر کے ان مسائل کو زیر بحث لائیں جن کی وجہ سے عوام کو مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پرتا ہے۔ ”پرل ویو“کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ساری ٹیم کی تربیت ٹریننگ ادارے نے کی ہے، کوئی بھی شخص کسی دوسرے ادارے سے نہیں لیابلکہ ہمارے تربیت یافتہ لوگ دوسرے اداروں میں بھی کام کر رہے ہیں۔ ادارہ اپنے نمائندگان اور سٹاف کی تربیت کے لئے تربیتی ورکشاپس کا بھی خصوصی اہتمام کر تا ہے۔اسی طرح سکولوں، کالجوں کے باصلاحیت، ہونہار طلباء کے اعزاز میں تقاریب کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ’’پرل ویو“نے ابھی بہت سے مراحل طے کرنے ہیں، سب سے بڑا ٹارگٹ اس کو8 صفحات پر مشتمل مکمل اخبار بنانا تشنہ تکمیل ہے۔جوقارئین کے تعاون سے انشاء اللہ جلد یہ ہدف حاصل کر لیں گے۔آزادکشمیر بھر کے ساتھ پاکستان کے مختلف شہروں سے بھی اشاعت کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ کاغذ کی بڑھتی ہو ئی قیمتیں اور مہنگائی کے باوجود ہم نے قیمت کا بوجھ قارئین پر نہیں ڈالا جس کی وجہ سے آج بھی ہمارے اخبار کی قیمت 10 روپے ہے چونکہ ہمارا مقصد کمائی نہیں ہے بلکہ مشن ہے۔ بلیک میلنگ، زرد صحافت کے بجائے حق و سچ کو عام آدمی تک پہنچانا ہے یہی وجہ ہے صاف ستھری، بے باک صحافت ہماری پہچان بن چکی ہے، امید ہے ماضی کی طرح قارئین کا آئندہ بھی تعاون رہے گا۔ اس حق اور سچ کے علم کومل کر بلند رکھنا ہو گا انشاء اللہ کامیابی و کامرانی ہمارا مقدر بنے گی۔ اپنی خصوصی دعاؤں میں ضرور یا د رکھیے گا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔



گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا مگر


گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا مگر شفقت ضیاء ریاست جموں و کشمیر 84,471مربع میل کے وسیع علاقے کی حامل ہے۔گلگت بلتستان اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا علاقہ بھی اس کا حصہ ہے۔ طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو آزادی ملی منزل ابھی حاصل نہیں ہوئی تھی جدوجہد آزادی جاری تھی 1948ء کو بھارت نے اقوامِ متحدہ کے دروازے پر دستک دی پاکستان اور بھارت دونوں نے اقوامِ متحدہ کے سامنے اپنا اپنا موقف رکھا جس پر اقواِم عالم نے طویل بحث و تمحیص کے بعد جو قراردادیں پاس کیں وہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کے لیے ریاستی عوام کو رائے شماری کی بنیاد فراہم کرتی ہیں اور گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کرتی ہیں جس کو بھارت اور پاکستان دونوں نے بین الاقوامی طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔ یکم جنوری 1949 کو جنگ بندی عمل میں آئی تو مارچ 1949 کو آزاد کشمیر کی حکومت کے صدر سردار محمد ابراہیم خان، صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس چوہدری غلام عباس اورمرکزی وزیربے محکمہ مشتاق احمد گورمانی کے درمیان سہ فریقی معاہدہ عمل میں آیا جس کے مطابق گلگت بلتستان کا تمام تر انتظام عبوری طور پر حکومتِ پاکستان کے پاس رکھا گیا جبکہ آزاد کشمیر کا دفاع، امورِ خارجہ، کرنسی اور ڈاک و تار کا نظام حکومت پاکستان کے زیرِ انتظام رکھا گیا ہے۔ اسے معاہدہ کراچی کہتے ہیں۔مواصلاتی اور انتظامی دشواریاں اور گلگت بلتستان کے علاقے کی حساس نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے اُس وقت کی دور اندیش لیڈر شپ کے اس فیصلے کو داد دیئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔یہ ایسی دستاویز ہے جو گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ثابت کرتی ہے۔ پاکستان کے دساتیر 1956ء،1962ء،اور 1973ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرحدوں اور علاقے کے ذکر میں شمالی علاقے شامل نہیں ہیں اسی طرح1977ء میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کا قانونی حصہ نہیں ہے اور اس کی حیثیت آزاد کشمیر سے مختلف نہیں ہے پاکستان نے آئینی اور قانونی اعتبار سے اور بین الاقوامی سطح پر اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم اور خود دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدا ت میں ہمیشہ ان علاقوں کو جو ایک معاہدہ کے تحت براہِ راست پاکستان کے زیرِ انتظام ہیں جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی میں پاکستان کی بعض حکومتوں کی خواہش کے باوجود اسے پاکستان کا صوبہ نہیں بنایا جا سکا لیکن بدقسمتی سے ان علاقوں کو ہر سطح پر ریاست جموں کشمیر کا حصہ تسلیم کرنے کے باوجود آج تک آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ان کو حقوق دینے کے لیے صوبہ بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کو بھی آزاد کشمیر کے طرز پر اختیارات ملنے چاہیے۔ گلگت بلتستان کے عوام 72سال سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کے انتظار میں آج بھی گومگو کی کیفیت میں ہیں ان کے صبر کو داد دینا پڑتی ہے اور ارباب اقتدار کے لیے باعث افسوس ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور لیڈر شپ کا کردار بھی مایوس کن اور افسوس ناک ہے جنہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی شدید مشکلات اور مسائل کا احساس نہیں کیا اور بیس کیمپ کو اقتدار کا ریس کیمپ بنائے رکھا وہاں کی قیادت سے رابطے اور ان کے دکھ و تکلیف کو محسوس نہ کیا یہی وجہ ہے کہ آج وہاں کے عوام کی خواہش مزید انتظار کے بجائے پاکستان کا صوبہ بنانے کے حق میں ہے جبکہ پاکستان کی قیادت بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکی اور تھکی تھکی محسوس ہوتی ہے لیکن اگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا جاتا ہے تو اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچے گااور خود پاکستان کی طرف سے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گی۔ ہندو ستان پہلے ہی بہت سی خلاف ورزیاں کر چکا ہے اس کو معقول جواز بھی مل جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو سی پیک اور چائینہ کے تحفظات اور دیگر مشکلات بھی ہو سکتی ہیں لیکن گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا فیصلہ تحریک آزادی کشمیر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا۔ اس کے بعد تحریک آزادی کشمیر ہر محاذ پر کمزور ہو گی۔ تحریک آزادی کشمیر کا اس وقت مرکز وادی ہے جس کے چپے چپے پر خون کی سرخی ہے ہر گھر میں شہادت ہے اسلام اورپاکسان کی محبت ہے ہندوستان ہر حربہ استعمال کر چکاہے لیکن ان کے عزم کو کمزور نہیں کرسکا ان کے حوصلے بلند ہیں ان میں مایوسی پیدا ہو سکتی ہے جموں میں ہندو اکثریت ہے جس کی رائے ہندوستان کے حق میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ ہندستان اس کا فائدہ اٹھاتے ہوے اسے صوبہ بھی بنا سکتا ہے جس سے کشمیر عملاتقسیم ہو جاے گاگلگت بلتستان کی سو فیصد آبادی مسلمان بھی ہے اور پاکستان کے حق میں بھی ہے رائے شماری کی صورت میں پاکستان کے حق میں بڑی قوت ثابت ہو گی اس لیے کشمیر کی تقسیم کا کوئی بھی فیصلہ نہ پاکستان کے حق میں اچھا ہو گا اور نہ ہی کشمیریوں کے حق میں اس لیے اس سے اجتناب کیا جاے اور یاد رکھا جائے یہ قائد اعظم کی پالیسی سے انحراف ہو گا ان کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔ عسکری قیادت نے جس طرح کہا ہے کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے جو سیاسی قیادت نے کرنا ہے تو پھر سیاسی قیادت کا بڑا امتحان ہے۔قوم کی توقعات اور امیدوں کا پاس رکھا جاے اور تاریخ سے سبق لیا جائے کہ جب ملک پاکستان بنگلہ دیش جیسے بڑے سقوط سے دوچار ہوا تھا اقتدار کے لالچ اور بزدلی نے ہی ملک کو دو ٹکڑے کیا تھا۔ تقسیم کشمیر اس سے بھی بڑا سقوط ہو گا جس کی قیمت بھی بڑی ہو گی۔پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح جیسی قیادت تو دور کی بات ہے ان کے ویژن والی بھی نہیں ہے قائد اعظم کی زندگی میں موقع آیا تھا جب وہ چاہتے تو گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیتے لیکن انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کی مکمل آزادی اور اس کا پاکستان سے الحاق ہی ہمارے مفاد میں ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان اور اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی خاموشی سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ انھیں یاد رکھنا چائیے کہ پاکستانی قوم قائد اعظم کے ویژن کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے خلاف ہے ایسے ہر اقدام کو مسترد کرے گی جس سے پاکستان کے مفاد اور برسوں پر مشتمل پاکستان کے قومی موقف کو نقصان پہنچے اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیاتو سمجھا جائے گا کہ کشمیر کے فیصلے کی خاطر ہی ایسی حکومت کو لایا گیا عمران خان کشمیریوں کے سفیر ہونے کا دعوی کرتے ہیں محض اچھی تقریوں سے نہیں ان کے اقدمات سے بھی یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کی مرضی، منشا اورقومی مفاد کا خیال رکھنے والے ہیں اس لیے حکومت پاکستان کو ایسا فیصلہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ہو گا۔ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم کی خاموشی بھی تشویش ناک ہے فاروق حیدر جو ڈٹ جانے اور کھل کر بات کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں اس خبر کی بھی ترجمان کے ذریعے تردید کراتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا شہدا سے غداری ہو گی تقسیم کشمیر کسی صورت قبول نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے اُن کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے ورنہ اس میں تردید کی کیا بات تھی۔اقتدار کا نشہ اور شوق ایسا ہے کہ سیاستدان سب کچھ بھول بھی جاتے ہیں اور قومی موقف سے پیچھے بھی ہٹ جاتے ہیں اور بعض اوقات مصلحت کا شکار ہو کر خاموش بھی ہو جاتے ہیں۔اسی طرح ہمارے لائق، قابل، باصلاحیت،تاریخ پر گہری نظر رکھنے اور قابلِ رشک خاندانی پس منظر، مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے والے صدرِ ریاست سردار مسعود خان بھی اس حوالے سے خاموش ہیں۔انکی خاموشی کو کیا سمجھا جائے۔کیا یہ بھی راضی ہو چکے ہیں؟ غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کی قربانی اور ویژن کو بھول چکے ہیں یا مصلحت کا شکار ہو گئے ہیں؟ بیرسٹر سلطان محمود جو کشمیر پر بیانات اور دنیا بھر میں اجتماعات کے حوالے سے مشہور ہیں وہ بھی کوئی موقف نہیں دے رہے آخر کیوں البتہ سردار عتیق، لطیف اکبر، ڈاکٹر خالد محمود،مولانا سعید یوسف اور حسن ابرہیم کھل کر اپنا موقف دے چکے ہیں اور یقینا یہی قومی موقف ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا کوئی بھی فیصلہ ریاستی وحدت، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی عمل ہو گا۔بہترین حل یہی ہے کہ اس خطے کے عوام کو آزاد کشمیر کے طرزکاحکومتی نظام دیا جائے تاکہ وہاں کے عوام کا احساسِ مرحومی دور ہو سکے اور ریاستی وحدت پر بھی کوئی آنچ نہ آئے۔مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں شہدا کا خون اور سید علی گیلانی اور دیگر حریت قیادت جس نے اپنا سب کچھ لٹا دیا ہے ان سے غداری کرنے کا جو بھی سوچے گا ناکام بھی ہو گا، ذلیل بھی ہو گا یہی تاریخ کا سبق ہے اس لیے گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا مگر کشمیر کی مکمل آزادی کے بعد اس لیے سازشیں کرنے والے باز آجائیں ورنہ عوامی سیلاب میں بہہ جائیں گے اور مصلحت کے شکاربھی نہیں بچ پائیں گئے.



”ڈیجیٹل“ تحریک آزادی


”ڈیجیٹل“ تحریک آزادی تحریر: ڈ اکٹر محمد صغیر خان راولاکوٹ تاریخ بتاتی ہے کہ کشمیر، چاہے ایک آزاد ریاست کی صورت میں، چاہے ایک مقبوضہ باج گزار کے طور سہی، دنیا کے نقشہ پر صدیوں قرنوں سے موجود چلا آ رہا ہے۔ اس دوران اس کی ہیت و حیثیت بدلتی رہی۔ کبھی یہاں آزادی کا سورج چمکا، امن کی چاندنی چٹکی تو کبھی یہاں غلامی کی سیاہ بھیانک رات چھائی رہی۔ کشمیر کے مسلمہ وجود کی طرح، اس کی تحریک آزادی بھی مدت مدیر سے جاری رہی ہے۔ ماضی بعید سے رف نظر کرتے ہوئے اگر ہم نسبتاً نئے دور میں اس کی تحریک آزادی کا جائزہ لیں تو کبھی اس کا روپ ہمیں یوسف چک و یعقوب چک کی صورت میں نظر آتا ہے تو کبھی سبزعلی خان و ملی خان ایسوں کی شکل میں، پھر یہی عمل ہمیں کہیں گوہر امان کے نام سے دھمکتا ملتا ہے تو کہیں بہادر علی خان کے کارناموں و جہد کے چمتکار میں، کہیں ریشم خانہ کے مزدور اسے آگے بڑھاتے ہیں تو کہیں ریڈنگ روم پارٹی اورینگ میز ایسوسی ایشن…… کہیں اسے سردار ابراہیم و کیپٹن حسین خان شہید نے آگے بڑھایا و کسی جگہ شیخ عبداللہ اے آر ساغر، چوہدری غلام عباس وغیرہم نے، کسی مقام پر اسے ”وارکونسل“ نے ترتیب کی لڑی میں پروہا تو کہیں کرنل حسن مرزا و میجر بابر کی صورت میں صورتگر ملے، کبھی اسے کرنل منشاء نے آپریشن جبرالٹر کا انداز میں آگے بڑھایا تو کبھی کرنل خان محمد خان کے ”پلندری سازش کیس“ کو اس کی بڑھوتی سمجھا گیا۔ کہیں یہ کے ایل ایم کہلائی تو کہیں گنگا ہائی جیک کرکے اسے چمکایا مہکایا گیا۔ وقت نے کبھی اسے مقبول بٹ ایسا مقبول کردار دیا تو کہیں کے ایچ خورشید نے اس کے گیسو سنوارے۔ کبھی اسے تاشقند و شملہ میں زیربحث لایا گیا تو کہیں اسے سردار عبدالقیوم کے ہاتھ حوالے کیا گیا۔ وقت گزرا تو یہ امان اللہ خان کی وساطت سے اشفاق مجیدوانی، یاسین ملک، حمید شیخ، جاوید میر اور عبدالاحد گرو، شبیر صدیقی و بشارت رضا، ماسٹر محمد افضل تک پہنچی تو پھر سید علی گیلانی و صلاح الدین نے اس زمام سنبھالی۔ یہاں ہی شبیرشاہ اور آسیہ اندرابی بھی تھے اور اعظم انقلابی سجاد شاہد اور دوسرے بھی۔ یہاں ہی کہیں الیاس کشمیری بھی نمودار ہوئے اور دوسرے ہزارہا کردار بھی۔ کشمیر کی متذکرہ بالا تحریک آزادی کے مقاصد، قیادت اور طریق کار سے اختلاف تو ممکن ہے اور ایسا یقینا ہے بھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک کشمیر کی تحریک آزادی ایک زمینی حقیقت تھی…… لیکن پھر وقت بدلا، دنیا کا ماحول بدلا۔ عالمی سیاسی صورتحال بدلی اور کشمیر کی تحریک آزادی اس تبدیلی کا ایسے شکار ہوئی کہ موجود سے مفقود کی طرف تیزی سے بڑھنے لگی اور بڑھتے بڑھتے وجود سے عدم کی کیفیت کے مزے لینے لگی۔ گزشتہ چند سال میں کشمیر یعنی ریاست جموں کشمیر کے وجود و تحریک آزادی کو جوعارضے لگے وہ وقت کے ”کورونا“ یعنی ”Covid-19“ سے زیادہ مہلک تھے۔ کرکٹ ڈپلومیسی و نووارپیکٹ جیسی باتوں کو جانے دیں کہ ان کے اثرات نسبتاً محدود تر تھے، البتہ اس صورت حال میں ”سی پیک“ کی ”بیک و پیک“ ایک ایسا وائرس تھا جس نے ریاست کی وحدت کی سوچ کو ایک خاص بالادست طبقے کے لئے غیرضروری بنا دیا۔ وقت مزید گزرا، بات 5 اگست 2019ء تک پہنچی تو بھارت نے ریاست کے وجود کے خلاف آج تک کا سب سے بھیانک و مہک قدم اٹھایا۔ محب وطن حلقے یقینا اس کی تلخی و سنجیدگی کا احساس رکھتے تھے۔ اسی لئے بساط بھر چیخے تڑپے مگر خوش فہم اذہان ”تبدیلی“ کے اس عمل کو نہ سمجھ سکے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر اور بعد میں بتائے جانے کی اکسیر کو لئے بیٹھے رہے کہ انہیں گھبرانا نہیں تھا۔ اس دوران کچھ واقعات ایسے بھی ہوئے جو بہت کچھ سمجھانے کے لئے کافی تھے کہ مظفرآباد میں اہل کشمیر سے یکجہتی کے لئے سراج الحق، پرویز الٰہی، اختر مینگل اور فاروق ستار کے بجائے مائرہ خان، جاوید شیخ، ساحرعلی بگا اور شاید آفریدی کا ”ورود“ سب بتا رہا تھا لیکن…… خیر جانے دیں۔ مجھے کہنا بس اتنا ہے کہ گئے زمانوں میں ہزار ہا کوتاہیوں و غلطیوں کے باوجود کشمیر کی تحریک آزادی ”زمینی“ تھی…… سو اس کا وجود تھا۔ لیکن بدلتے وقت کے ساتھ اسے پہاڑوں، وادیوں، گھاٹیوں، میدانوں، جلسہ گاہوں، شاہراہوں، گلیوں اور پنڈالوں کے بجائے ”ڈیجیٹل“ کر دیا گیا اور محض نازک لرزیدہ ہاتھوں میں تھے۔ سیل و سمارت فون میں ڈال دیا گیا، سوشل میڈیا یقینا آج کا ایک موثر ہتھیار ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی ”ہتھیار“ ایک نشہ بھی ہے جو بے سبب بھی چڑھا رہتا ہے۔ اب ایکٹ 74 میں مجوزہ ترمیم، جس کے لئے نہ صرف ریاست کے وجود بلکہ محض نام تک کو ”حرف غلط“ کی طرح مٹایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ریاستی وسائل یعنی”بہتے سیال“ کا یوں ”ہستیایا ہڑپایا“ جانا بہت کچھ کہنے کے لئے کافی ہے، لیکن ڈیجیٹل عہد کی ڈیجیٹل سیاست، قیادت و ذہانت کے لئے زمینی تحریک کا انہدام اور اس ڈیجیٹل روپ کو سمجھنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ ویسے سچ یہ ہے کہ ریاست کی تحریک آزادی اور وجود ماضی کے کسی بھی دور کے مقابلے میں فی الوقت جس خطرے و قضیے سے دوچار ہے، وہ توشتہ دیوار ہے لیکن…… ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کی وحدت پر یقین رکھنے والے تمام محب وطن لوگ، قیادتیں و جماعتیں، کشمیر کے لئے ایک زمینی تحریک کے وجود کو ممکن بنائیں اور اس ”ڈیجیٹل پنے“ کے سحر و زیر سے باہر نکلیں اور تیری سے بڑھتے خطرات اور قابضین کی تعداد اور روّیوں کی ”تبدیلیوں“ کو محسوس کریں اور ہو سکے تو اپنے مٹتے وجود کے لئے سوچیں، گھبرائیں، روئیں، کرلائیں اور پھر حوصلے مجتمع کرکے اٹھ کھڑیں ہوں کہ وہ سب فرزندان زمین ہیں اور وطن ”ماں“ کی مانند ہے اور حب الوطنی ایمان کا جزو ہے۔



حضور کے پسندیدہ، قسطنطنیہ کی آیا صوفیہ میں اللہ اکبر کی صدا ۔


حضور کے پسندیدہ، قسطنطنیہ کی آیا صوفیہ میں اللہ اکبر کی صدا ۔ بشیر سدوزئی ۔ قسطنطنیہ کی تاریخی عمارت آیا صوفیہ میں 24 جولائی 2020ء کو 86 سال بعد ایک مرتبہ پھر اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس منظر کو اس طرح شوق سے دیکھا جیسے حج کا خطبہ سنا جا رہا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے خطبہ اور نماز کی ادائیگی کا منظر الیکٹرانک میڈیا، فیس بک سمیت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ ترکی کے صدر طعیب اردگان نے اپنی کابینہ کے ہمراہ نماز جمعہ ادا کی جب کہ وزیر مذہبی امور نے امامت کے فرائض سرانجام دے ۔ اس سے قبل کئی گھنٹے تک تلاوت قرآن مجید سے مسجد کے مینار بکاء نور بنے رہے۔ صدر طعیب اردگان نے بھی اپنے مخصوص انداز میں تلاوت قرآن مجید کی سعادت حاصل کی۔ بعض لوگ تو ترکی میں طیب اردگان کی اصلاحات کو خلافت کی نشاط ثانیہ قرار دیتے ہیں ۔ امریکا ، یورپ ،روس سمیت کئی ممالک کی مخالفت کے باوجود آیا صوفیہ میں ایک مرتبہ پھر اللہ اکبر کی صدا بلند ہونا اسی طرف پیش قدمی سوچا جا سکتا ہے۔ ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں جشن کا سماء تھا جیسے قسطنطنیہ آج فتح ہو رہا ہو ۔ بلا شبہ قسطنطنیہ تو نہیں مگر استنبول کی فتوحات کا مرحلہ جاری ہے ۔ اس مرتبہ مسلمانوں کے تاریخی شہر استنبول میں ہتھیاروں کی نہیں نظریات کی جنگ ہو رہی ہے یہ جنگ اس دن سے جاری ہے جب یورپ کے ایجنڈے کی تکمیل پر کمال اتا ترک نے مسلمانوں کی وحدت کی نشانی آخری خلیفہ عبدالمجید کو یہ حکم دیا تھا کہ کل صبح سورج کی پہلی کرن سے پہلے خلیفہ ملک چھوڑ دے ۔ ایک گروپ شعوری یا لا شعوری طور پر جدید ترکی کے نام پر یہود اور نصارہ کے ایجنڈے پر کاربند ہے تو دوسرا گروب سلطان محمد دوئم کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے جو دراصل دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پرچار نفاذ اور عمل پہرا کا ایجنڈا ہے۔ آج کے سلطان محمد دوئم طعیب اردگان کی قیادت میں فرزندان توحید نظریاتی سرحدوں کی توسیع اور فتوحات میں کامیابی پر کامیابی حاصل کر رہے ہیں ۔آنا صوفیہ میں 86 سال بعد اللہ اکبر کی صدا بلند ہونا بے شک محرکہ فتح قسطنطنیہ ثانی کہا جا سکتا ہے ۔ قسطنطنیہ کی شکست یورپ آج تک نہیں بھولا۔بدلہ لینے کے لیے یہود اور نصارہ مسلمانوں کے مقابلے میں جمع ہیں اور امت محمدی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں کامیاب ہیں۔ اسلام دشمن سمجھتے ہیں کہ سلطان محمد دوئم جیسی قیادت اور قوت مسلمانوں کو پھر حاصل ہو گئی تو یورپ پر دوبارہ قبضہ ہو سکتا ہے ۔آیا صوفیہ میں پہلی مرتبہ اللہ اکبر کی صدا 29 مئی 1453 کو بلند ہوئی تھی اس روز جمعرات تھی اور دوسری دن 21 سالہ سلطان محمد ثانی کی قیادت میں فرزندان توحید نے اس عمارت میں نماز جمعہ ادا کی تھی ۔ یونان والے آج بھی جمعرات کو منحوس دن سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کی تکمیل کے لیے اس شہر کو فتح کرنے کے لیے سات سو سال تک کوشش جاری رکھی ۔ حضور کا فرمان ہے کہ " تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، وہ فاتح بھی کیا باکمال ہوگا اور وہ فوج بھی کیا باکمال ہوگی"۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ابتداء سے ہی فتح قسطنطنیہ کے خواب دیکھتے رہے اور ہر دور میں کوشش ہوتی رہی کہ با کمال کا اعزاز ہمیں ملے ۔ مگر اللہ تعالی نے با کمال لوگوں کے اعزاز کے لئے اناطولیا کے ایک چھوٹے سے جاگیر دار ارطغرل کی نسل سے 21 سالہ نوجوان محمد ثانی کو منتخب کر رکھا تھا۔ 674ء میں مسلمانوں کے بحری بیڑے نے قسطنطنیہ کاچار سال تک محاصرہ کئیے رکھا، اور متواتر فصیلیں عبور کرنے کی کوششیں جاری رہی۔ لیکن عربوں کے پاس آتش یونانی کا کوئی توڑ نہ تھا جو ان پر برسائی گئی۔ 678 میں بازنطینیوں نے عربوں پر جوابی حملہ کیا۔ اس وقت ان کے پاس ایسا ہتھیار تھا، جسے ’آتشِ یونانی‘ یا گریک فائر کہا جاتا۔ اس کو تیروں کی مدد سے پھینکا جاتا، کشتیوں اور جہازوں سے چپکنے کے علاوہ پانی کی سطح پر بھی اس کی آگ جلتی۔ بازنطینیوں نے جب ان ہتھیاروں سے حملہ کیا تو عربوں کا بحری بیڑہ آتش زار بن گیا، سپائیوں نے پانی میں کود کر جان بچانے کی کوشش کی مگر پانی بھی آگ پکڑ چکا تھا ۔ عرب سیکڑوں کشتیوں میں سے چند ہی بچا سکے۔ مشہور صحابی ابو ایوب انصاری اسی جنگ میں شہید ہوئے تھے ۔717 میں بنو امیہ کے خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پھر حملہ کیا لیکن دو ہزار جنگی کشتیوں میں سے پانچ واپس پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔ اس کے بعد عثمانیہ دور تک مسلمانوں نے قسطنطنیہ کی طرف پلٹ کر دیکھا بھی نہیں ۔ سلطان محمد فاتح نے 39 مئی 1453 جمعرات کو شہر پر اپنا جھنڈا لہرا کر سارے پرانے بدلے چکا دیے۔اور اگلے دن جمعتہ المبارک کو ہاجیہ صوفیہ کی انتظامیہ سے ذاتی رقم ادا کر کے عظیم الشان کلیسا کو خرید کر آنا صوفیہ مسجد میں تبدیل کرنے کا سرکاری علان جاری کیا۔عثمانیوں نے 10 سال پہلے 1443ء میں بھی قسطنطنیہ پر حملہ کیا تھا جب سلطان محمد فاتح کے والد مراد دوئم سلطان تھے۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بارے میں بننے والی فلم ’اوٹومن‘ کے اہم مناظر میں سلطان محمد یاد کرتے ہیں کہ 1443 میں سلطان مراد دوئم اس تاریخی شہر اور اس کی مضبوط دیواروں کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں کہہ رہا تھا کہ قسطنطنیہ کائنات کا دل ہے، وہ سرزمین جس کے بارے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ جو قسطنطنیہ کو فتح کرے گا دنیا اور آخرت اُسی کی ہو گی۔ یہ دیواریں رکاوٹ ہیں ہر اس کے لئے جو اس کو فتح کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔سلطان محمد دوئم نے اپنے والد سے پوچھا کہ (قسطنطنیہ کی دیواروں کو) گِرا کیوں نہیں دیتے؟ والد نے مایوسی کے عالم میں جواب دیا تھا، ابھی اتنا طاقتور ہتھیار نہیں بنا۔ اس وقت 11 سالہ شہزداے محمد دوئم نے پورے اعتماد کہ ساتھ والد سے کہا تھا کہ میں اِن دیواروں کو گراؤں گا۔ اس وقت سلطان مراد دوئم کے ساتھ فوج اور گھڑ سوار تھے جو قسطنطنیہ کی مضبوط دیواروں کو تلواروں اور تیروں سے گرا نہیں سکتے تھے اور مسلمان فوج ابھی جدید ترین ہتھیاروں سے لیس نہیں ہوئی تھی ۔ 1453 میں جب سلطان محمد دوئم قسطنطنیہ فتح کرنے آئے تو ان کے پاس جدید ہتھیار تھے۔ ایک مؤرخ بتاتے ہیں کہ ’دنیا نے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں توپیں ایک جگہ نہیں دیکھی ہوں گی ۔جن کے ساتھ سلطان محمد دوئم نے قسطنطنیہ کو گھیر رکھا تھا۔ ان توپوں کے گولوں کی ایسی گھن گرج کہ شاید دنیا میں کسی دشمن نے پہلے نہیں سنی ہو گی۔مؤرخ گیبور اگوستون لکھتا ہے کہ 1450 تک توپیں محاصروں پر مبنی جنگوں کے لیے فیصلہ کُن ہتھیار بن چکی تھیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے پاس جدید ہتھیار خریدنے اور بنانے کے لیے وسائل اور سہولیات بھی موجود تھیں،اسی زمانے میں اوربان نامی ایک کاریگر نے سلطان محمد دوئم کو ایک توپ کا ڈیزائن پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے گولے قسطنطنیہ کی تاریخی دیواروں کو گرا دیں گے۔ توپ آٹھ میٹر لمبی قیمت 10 ہزار دکت ہو گی۔ سلطان محمد دوئم نے کہا کہ اگر اس توپ نے قسطنطنیہ کی دیواریں گرا دیں تو چار گنا زیادہ قیمت ادا کی جائے گی۔ ہنگری کا اوربان انتہائی ماہر مستری تھا۔ وہ پہلے بازنطینی بادشاہ کو اس توپ کی پیشکش کر چکا تھا لیکن وہ اس کی قیمت ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ سلطان محمد دوم نے اروبان کی پیشکش قبول کر لی۔ کیوں کہ عثمانی سلطنت کے پاس کافی وسائل تھے۔ 70 نئی اور جدید توپیں خریدی گئیں۔ یہ دیو ہیکل توپیں قسطنطنیہ کی دیوار تک پہنچانے کے لیے 30 ویگنیں جوڑی گئیں ان کو کھینچنے کے لیے 60 طاقتور بیلوں کا بندوبست کیا گیا اور ویگنوں کے اطراف 200 اہلکار تعینات کیے گئے جو راستہ ہموار کر رہے تھے۔ سلطان محمد دوم نے جدید ہتھیاروں سے لیس بہادر فوج کے ساتھ ہزار سال پرانی بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ کا محاصرہ اور دیوار توڑنے کے لیے بھاری توپوں کے ذریعے گولہ باری شروع کر دی ۔عثمانی توپوں کو گولے برساتے 47 دن گزر چکے۔ تین مقامات پر گولہ باری مرکوز رکھ کر فصیل کو زبردست نقصان اور شگاف پڑ چکے تو عثمانی دستوں نے فصیل کے کمزور حصوں پر ہلہ بول دیا۔ ایک طرف خشکی سے اور دوسری طرف سمندر میں بحری جہازوں پر نصب توپوں نے آگ برسانا شروع کر دی۔ بازنطینی سپاہی اس حملے کے لیے فصیلوں پر تیار کھڑے تھے۔ شہری بھی مدد کے لیے فصیلوں پر آ پہنچے اور پتھرحملہ آوروں پر برسانا شروع کر دیے۔ تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے عیسائی صدیوں پرانے اختلاف بھلا کر ایک ہو گئے اور بڑی تعداد سب سے بڑے کلیسا ہاجیہ صوفیہ میں اکٹھی ہو گئی۔ اطالوی طبیب نکولو باربیرو جو اس دن شہر میں موجود تھا، لکھتا ہے کہ سفید پگڑیاں باندھے ہوئے حملہ آور بےجگر شیروں کی طرح حملہ کرتے تھے اور ان کے نعرے اور طبلوں کی آوازیں ایسی تھیں جیسے ان کا تعلق اس دنیا سے نہ ہو۔روشنی پھیلنے تک ترک سپاہی فصیل کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران اکثر دفاعی فوجی مارے جا چکے تھے۔ سپہ سالار جیووانی جسٹینیانی زخمی حالت میں میدانِ جنگ سے باہر ہو چکا تھا۔ 29 مئی 1453ء بروز جمعرات سورج کی پہلی کرن نے دیکھا کہ ایک ترک سپاہی دروازے پر نصب بازنطینی پرچم اتار کر اسلامی جھنڈا لگا رہا ہے۔سلطان محمد دوئم سفید گھوڑے پر اپنے وزرا اور عمائدین کے ہمراہ ہاجیہ صوفیہ پہنچے۔ گھوڑے سے اترے اور گلی سے ایک مٹھی خاک لے کر اپنی پگڑی پر ڈال دی۔ ان کے ساتھیوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری تھے۔آج مسلمان سات سو سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر قسطنطنیہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر پر ایک بادشاہ کے اقتدار کا خاتمہ اور دوسرے کے اقتدار کا آغاز نہیں تھا۔ بلکہ مسلمانوں کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی کہ اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کی تکمیل ہو رہی تھی ۔ اس واقعے کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ کا ایک باب بند اور دوسرا کھل رہا تھا۔۔ قبلِ مسیح میں قائم ہونے والی سلطنت روم 1480 برس تک قائم رہنے کے بعد انجام کو پہنچی، تو دوسری جانب عثمانی سلطنت اوج کمال کو چھو رہی تھی اور عباسیہ کے بعد خلافت کے چوتھے دور خلافت عثمانیہ کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔ جواگلی چار صدیوں تک تین براعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے حصوں پر بڑی شان سے حکومت کرتی رہی۔ سلطان نے دارالحکومت ادرنہ سے قسطنطنیہ منتقل کر دیا اور یہ مسلمانوں کا مدینہ، دمشق، بغداد، کے بعد چوتھا درالخلافہ قرار پایا۔ یورپ پر سقوطِ قسطنطنیہ کا بڑا گہرا اثر ہوا اور یہ واقعہ ان کے اجتماعی شعور کا حصہ بن گیا۔اسی وجہ سے یورپ کبھی اسے بھول نہیں سکا۔ نیٹو کا اہم حصہ ہونے کے باوجود یورپی یونین ترکی کو یونین میں شامل نہیں کرتی وجوہات یہی ہیں کہ ترکوں نے وہ کام کیا جو اس سے پہلے کے مسلمان نہ کر سکے بازنطینی بادشاہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ قسطنطنیہ سے وہ باہر نکالے جا سکتے ہیں ۔ قسطنطنیہ تو فتح ہوا مگر یہود اور نصارہ ہوشیار ہو گئے اور مسلمانوں کی مرکزیت اور قوت توڑنے کے لئے تمام تر اقدامات شروع کر دئیے۔ صلیبی جنگیں ہوں ۔ آتا ترک ہو یا لارنس آف عریبیہ سارے حربے، ایجنٹ اور کریکٹر وہی تھے کہ مسلمانوں کی مرکزیت کو ختم کر دیا جائے ۔ ایک برٹش فوجی آفیسر نے خلافت کے خاتمے کی وجہ یہ بتائی کہ یورپ کو خوف ہے کہ خلیفہ نے اگر دوبارہ جان پکڑ لی تو امریکہ اور یورپ خطرے میں رہیں گے ۔ ایک کمزور خلافت استنبول میں بیٹھ کر جہاد کا علان کرتی ہے تو جکارتہ اور برصغیر میں نوجوان رضاکار بھرتی ہونا شروع ہو جائے ہیں ۔ جب تک خلافت رہے گی یورپ خطرے میں رہے گا۔ چنانچہ یورپ نے عربوں اور ترکوں کو علیحدہ علیحدہ ہم نوا بنایا ۔اسلامی تاریخ کی چوتھی بڑی خلافت تقریباً 642 سال 1282ء تا 1924ء 37 خلیفہ رہنے کے بعد آتا ترک نے 3، 4 مارچ 1924ء کی رات کوآخری خلیفہ عبدالمجید دوم کو پیغام بیجھا کہ صبح سورج طلوع ہونے سے قبل ترکی کی سر زمین پر کوئی خلیفہ نہیں ہو گا۔ اسی رات خلیفہ پہلے سوئٹزرلینڈ پھر فرانس جلاوطنی کے لیے روانہ ہونے کے ساتھ ہی اسلام کی آخری خلافتِ عثمانیہ ختم ہو گئی۔ آتا ترک نے ترکی کو سیکولر ریاست بنانے کے لئے مساجد پر تالے اور عربی زبان پر پابندی لگا دی ۔ ترکیت، کفریٹ، لادینیت، اور وطنیت جیسے نعروں کا سرکاری اعلان ہوا ۔ جس کو جدید ترکی کا نام دے کر آتا ترک بانی قرار پائے۔ 1931میں مسجد آنا صوفیہ کو بند اور 1935 میں آتا ترک کی صدارت میں کابینہ نے میوزم بنانے کی منظوری دی ۔ 86 سال بعد 24 جولائی 2020ء کو ترقی کے صدر طعیب اردگان نے اپنی کابینہ کے ہمراہ مسجد آیا صوفیہ میں ہزاروں مسلمانوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا کر کے ایک مرتبہ پھر فتح قسطنطنیہ کی یاد تازہ کر دی جب سلطان محمد دوئم نے بھی اسی طرح اپنی کابینہ کے ہمراہ پہلی نماز جمعہ ادا کی تھی۔ طعیب اردگان نے بعد ازاں فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد دوئم کے مزار پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی ۔ نماز جمعہ کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے ۔ کورونا کے باعث درجہ حرارت چیک کرنے کے لیے 17 چیک پوائنٹس بنائ گئ تھیں۔ نمازیوں کے لیے ماسک کو ضروری اور میونسپلٹی کی جانب سے نمازیوں کو مسجد لے جانے کے لیے فری شٹل سروس بھی مہیا کی گئی۔ جب کہ پانی کی بوتلوں، ماسک، سینیٹائزر اور قالین کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ یورپ، امریکہ اور روس کی مخالفت کے باوجود 60 فیصد ترک شہریوں نے آیا صوفیہ کو مسجد میں بدلنے کے فیصلے کی حمایت کی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترک عوام کی اکثریت زمانہ خلافت کے اقتدار کی بحالی کی حمایت اور آتا ترک کے نظریات کو مسترد کرتے ہیں ۔ طعیب اردگان خلافت عثمانیہ کا عکس ہے ۔



یہ ظلم کی انتہا ہے


یہ ظلم کی انتہا ہے کرن عزیزکشمیری مقبوضہ وادی میں بھارتی درندگی کا سلسلہ جاری ہے ایک سلگتا ہوا خطہ جہاں طویل محاصرہ ظلم و بربریت کی المناک داستان پیش کررہا ہے مودی سرکار کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے طویل عرصے کی اسیری جوش آزادی اور جذبہ حریت کو نہ دبا سکی بھارتی فوجیں کشمیریوں کا بے دریغ قتل عام کر رہی ہیں چشم فلک نے بھی ایسا منظر 72 سالوں میں نہیں دیکھا ہوگا طویل قید کی وجہ سے اس وقت محصور کشمیریوں کو جو صورتحال ہے لاکھوں افراد کا حق خود ارادیت سے محرومی اکسو ویں صدی کا المیہ ہے انسانیت سوز مظالم سے دنیا بھارتی جارحیت سے آگاہ ہوچکی ہے تاہم خاموشی افسوسناک ہے عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کے بجائے تماشائی بن چکی ہے اعتدال پسند دنیا میں موجود تنظیموں نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو پہچان لیا ہے اپنی فوجی طاقت پر بھروسہ رکھنے والا بھارت چین سے فوجی محاذ پر مار کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اوندھے بل گرنے کے بعد چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اس ضمن میں اہم امر یہ ہے کہ چین کے خلاف امریکہ اور بھارت کی مشترکہ بحری مشقیں بھی جاری ہیں بھارت کشمیریوں سے عملی طور پر شکست کھا کر مکمل بدحواس ہو چکا ہے ہو سکتا ہے بھارت نے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو شروع میں مذاق سمجھا ہو تاہم ظلم و بربریت کے باوجود آزادی کا جذبہ ان کے لیے ممیز کا کام کر رہا ہے اہم امر یہ ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن رپورٹ میں انسانیت کے خلاف جنگی مجرم ثابت ہوا اس ضمن میں مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا امریکہ سمیت عالمی مقتدر طاقتوں کو اس سنگین مسئلے پر اپنا جائز کردار ادا کرنا چاہئیے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں سے خطے کے امن و استحکام کو شریک خطرات لاحق ہیں پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ آزاد ملکوں پر کیسے قبضہ کروائے گئے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف بولنے والے بھی جہاد کا کردار ادا کر رہے ہیں اور خاموش رہنے سے اس کو تقویت ملتی ہے کہ آپ بھی ان کے جرائم میں شامل ہیں اور جارحیتوں کے ذمہ دار بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر کی المناک صورتحال کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتی ہیں مسئلے کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں آواز بلند کریں دباؤ بڑھا ئیں سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ پابندیوں کے باعث کشمیری عوام مشکلات کا شکار ہیں ستم ظریفی یہ کہ لاک ڈاؤن پر لاک ڈاؤن کا شکار ہیں بھارتی حکومت نے کرونا کی آڑ میں پابندیوں کو مزید سخت کردیا تھا اس وقت پوری وادی وحشت و بربریت کی تصویر پیش کر رہی ہے ہسپتال و کاروبار بند کرو نا کی آڑ میں پابندیاں مزید سخت کر دی گئی نیز سکول کالج نقل و حرکت پر پابندی درندگی کی انتہا ہیں کشمیری قائدین کو پابند سلاسل رکھنے سے محصور کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے جذبہ حریت کو مزید تقویت ملی بھارت اندرونی خلفشار کا شکار ہے کشمیر میں مظالم پر عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی خاموشی بھارت کے لیے طمانیت کا امر ہوگا البتہ انسانیت کی بقا ء کے لیے ندامت کا باعث ہے بھارت نے کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائی ہے کشمیری عوام بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں بھارتی فوج جس طرح مقبوضہ وادی کے نوجوانوں کو شہید کرتی جارہی ہے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتی ہے یہ ظلم کی انتہا ہے اہم امر یہ ہے کہ مقبوضہ وادی کے عوام کو ظلم و جبر آزماکر آزادی کے جذبے کو کچلنے کے گھناؤنے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں فون اور انٹرنیٹ پر پابندی کے ذریعے مقبوضہ وادی کے عوام کی آواز کو ظالمانہ طریقے سے دبانے کی جارحانہ کوششیں کشمیریوں کو شکست نہیں دے سکتی بھارت کے پاس اب آزمانے کے لیے کچھ نہیں بچا بھارتی ہتھیار کشمیریوں کے جسموں کو چھلنی کرتے رہے اور حوصلوں کو بلند کرتے رہے بھارت سرکار کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہوچکا ہے اہم امر یہ ہے کہ کشمیری حریت پسند رہنما برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام بھارتی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے شہداء کا لہو ایندھن بن کر آزادی کی شمع کو فیروزہ کرتا رہا بھارت مقبوضہ وادی میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے گزشتہ دنوں سوپور میں معصوم بچے کے سامنے اس کے نانا کا قتل انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے لیے کھلا چیلنج ہے بھارتی قابض فوج نے غیر انسانی اقدامات کی انتہا کر دی ہے۔



"بیڈ نمبر18 "


"بیڈ نمبر18 " سردار کامران " جاگتی آنکھیں " زندگی جب رواں دواں رہتی ہے تو زندگی کے اندر میسر آنے والی نعمتوں کا بھی اندازہ لگانا مشکل رہتاہے۔ جسم صحت مند ہو تو زندگی کی چاشنی ہوتے ہوئے بھی انسان شکوے شکایات لبوں پر لاتا رہتاہے۔ ایک سانس جو انسان اندر کی طرف لے آتاہے، اُس کی زندگی کو چلانے کیلئے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے مگر اردگرد کی خوشیوں میں گم اِس ایک سانس کا شکر بھی بجا لانا انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ کسی انسان کو درپیش بہت سارے چیلنجز ایک طرف رکھ دیے جائیں، انسان ان سب سے نبرد آزما ہو سکتاہے مگر صحت کی خرابی وہ مسئلہ ہے جس کو انسانی کاوشیں اپنے بس کے مطابق حل کرنے کی کوشش تو کر سکتاہے مگر شفاء اُسے میسر آتی ہے یا نہیں،یہ اُس کی قسمت اور رب تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کے جسم کے اندر دوڑنے والا خون،کون کون سے مراحل طے کر کے،زندگی بن کر اُس کی رگوں میں دوڑتاہے، اس کا احساس بھی ہمیں شاید نہیں ہوتا، اپنی مستی میں مگن باقی چیلنجز کو نبٹانے میں لگے رہتے ہیں۔ خوشحال دنوں میں زندگی اپنے تکیے پر سر رکھ کر خوب لمبی تان کر سوتے ہیں اور جس تکیے پر سر رکھ کر سوتے ہیں، نیند کے وہ عالم، سکون کی وہ راحتیں جو ہمیں میسر رہتی ہیں، اُن کی طرف بھی شکرانے کی ایک نظررب تعالیٰ کی طرف شاید ہی اُٹھتی ہو؟ زندگی کی تمام راحتیں، نعمتیں اور رحمتیں اللہ پاک نے انسان کو میسر کی ہیں، شکرانے کے بھی مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ ناانصافی کے خلا ف زبان کا استعمال، جابر حکمران کے خلاف قلم کا استعمال، احتجاج کی صورت میں حقوق کی بات، کسی غریب کو کھانا کھلانا، راستے سیدھے کرنا، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا، مریض کی تیمارداری کرنا، یہاں تک کہ کسی کی طرف مسکرا کر دیکھنا، یہ سبھی تو شکرانے کی صورتیں ہیں۔ یہ تمام شکرانے بھی انسان کو تب ہی میسر آسکتے ہیں جب انسان کے اندر احساس پایا جاتاہو۔ شاعروں اور ادیبوں نے دیوانوں کے دیوان لکھ ڈالے، یہ احساس ہی تو تھاجو اُنھیں مجبور کرتا تھا کہ جو بس میں نہیں اس پر لکھا ہی جائے، با اثر طریقے سے لکھا جائے جس سے احساس کی تحریک پیدا ہو اور لوگ ایک دوسرے کا احساس کرتے ہوئے شکرانہِ نعمت کر سکیں۔ بقول میرے دوست شاعر "طارق بٹ صاحب " میرے کمرے میں اک عجیب سی حساسیت ہے میں سانس لیتا ہوں تو آئینے ٹوٹ جاتے ہیں اب جو ہمارے جسم میں خون دوڑتاہے اس کا شکرانہ کیسے کیا جائے؟اس کا احساس مجھے اُس وقت ہوا جب راولاکوٹ سی ایم ایچ میں ایک کینسر کے مریض سے ملاقات ہوئی، 50سال کی عمر کا یہ شخص کینسر میں مبتلا تھا، دل کا بائی پاس بھی ہو چکا تھا اور اُس کی رگوں میں خون صرف 2.8بچ گیا تھا۔ کھانے پینے کی کوئی صورت نہ تھی، انشور دودھ اُس کو زندہ رکھے ہوئے تھا، ڈاکٹرز کے مطابق خون اگر کچھ زیادہ ہو تو کھانے پینے کی صورتحال بھی بہتر ہو سکتی تھی۔ خون کہاں سے آئے، COVID-19کی وجہ سے کالجز اور مدرسے بند پڑے ہیں، ایک عجیب بے چینی اُس مریض کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔ بے قراری میں کبھی وہ اِدھر لوٹتا تھا کبھی اُدھر، اتنی بے چینی بے قرار ی تو تھی مگر حسین کوٹ کے اس شخص کے اندر اتنا صبر تھا کہ "اللہ کا شکر ہے "کے الفاظ منہ سے جاری تھے۔آخر کار اُس کے بھائیوں نے ایک بوتل خون کی کہیں سے مہیا کی، جب خون کی بوتل لگانے میں ڈاکٹرز دیر کرنے لگے، کیونکہ بوتل ابھی ٹھنڈی تھی، بے چینی میں اُس کی اضافہ ہوتا گیا، چار پانچ دفعہ اُس نے یہی کہا کہ خون جلدی جلدی لگائیں۔ جب خون کی بوتل لگا دی گئی، اُس کی آنکھیں خون کی بوندوں کو بوتل سے اترتے ہوئے دیکھ کر چمکنے لگیں جس سے میرے دل پر بھی جیسے کسی نے ایک زور دار وار کیا، تھوڑی دیر کے بعد اُس کی آنکھوں سے جیسے موتی گرنے لگے۔ وہ چمکتے ہوئے آنسو میری آنکھوں کو بھی نم کر گئے۔ کہنے لگا، یہ خون کتنا ضروری ہے، مجھے بدقسمتی سے یہ میسر نہیں رہتا، میرا جسم اسے بنانے سے انکار کر چکاہے۔ خون لگتے ہی اُس نے ایک چباتی کھائی اور وہ جس طرح خوش تھا جیسے دنیا کے تمام خزانے اُس کے قدموں میں رکھ دیے گئے ہیں۔ یقین مانیے دنیا کے تمام خزانے ایک طرف، آپ کے جسم کے نارمل فنکشن ایک طرف، خون، انسان کے اندر اللہ کا دیا ہوا باقی نعمتوں کی طرح ایسا خزانہ ہے جو کہ انسان کی زندگی کو بحال رکھے ہوئے اور تمام خوشیاں اسی کی وجہ سے ہیں۔ ہمارے ہاں کتنے ہی ایسے مریض موجود ہیں جن کو خون کی ہمیشہ سے ضرورت رہتی ہے۔ تھیلیسیمیا کے مریض ہوں یا کینسر کے، خون ان کی زندگی بچانے کیلئے ہمیشہ ضرورت پڑتاہے۔ یہ ضرورت اُن کی ایسے پوری ہو سکتی ہے کہ ہم اپنے اندر بہنے والے خون کو ان تمام مریضوں کو عطیہ کرتے رہیں۔ خون کے شکرانے کا میرے نزدیک یہ واحد طریقہ ہے۔ جتنے صحت مند لوگ ہیں اگر وہ سال میں ایک دفعہ اپنا خون عطیہ کرتے ہیں تو اللہ کی اس نعمت کا صحیح معنوں میں شکر ادا ہو سکتاہے۔ آج ہم سارے اپنے بیڈز پر تکیہ رکھے خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، بیڈ نمبر18پر اُس مریض کی طرح کتنے ہی پیارے دوست اور رشتہ دار جا سکتے ہیں۔ لہذا اگر ہمیں نعمتیں میسر ہیں توہمیں چاہیے کہ اپنے خون کو ایسے مریضوں کیلئے عطیہ کرتے رہیں تاکہ جب بھی انہیں ضرورت پڑے تو خون اتنی وافر مقدار میں موجود ہو کہ خون کیلئے انہیں دائیں بائیں دوڑنا نہ پڑے۔ احساس اگر زندہ رہے تو 22کروڑ کے اس ملک میں اگر ایک کروڑ صحت مند لوگ خون عطیہ کرنا شروع کر دیں تو ہمارے ملک کے خون کے ضرورت مند لو گ ایک نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔



قارئین کرام آؤ لداخ چلیں


قارئین کرام آؤ لداخ چلیں صدا بصحرہ سردار ممتاز حسین خان چینی اور بھارتی افواج کے درمیان ہاتھا پائی کی جنگ جو وادی مگوان میں ہوئی۔ اپنی نوعیت کی منفرد جنگ اس طور ہے کہ دونوں ایٹمی قوتوں کے مابین اس جنگ میں کوئی آہنی اسلحہ استعمال کئے بغیرچینی فوجیوں نے بھارتی فوجیوں کے ایک کرنل سمیت بیس فوجیوں کی گردنیں مروڑ کر زندگی کا خاتمہ کیا اور درجنوں زخمی کئے۔ بھارتی وزیراعظم نیندر مودی چین سے اس قدر خوف زدہ ہوا کہ کوئی جاندار بیان دینے سے بھی قاصر رہا۔ پاکستان کے خلاف اس کی گیڈر بھبکیاں ”اندر گھس کر ماریں گے“ آئے روز میڈیا کی زینت بنتی ہیں لیکن چین کے آگے بلی بن گیا ہے۔ خیر اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ میں اس وقت لداخ کی سیر پر ہوں جو دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ لداخ جموں و کشمیر کا دورافتادہ پس ماندہ خطہ ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہ خطہ ایک صدی قبل تک خاصا متمول تھا۔ لداخ متحدہ ہندوستان، تبت، چین، ترکستان، وسط ایشیاء کی ایک اہم گزرگاہ ہوا کرتا تھا۔ خوب صورت ارضیاتی خدوخال حد نگاہ تک بلند و بالا پہاڑ، کھلے میدان۔ اگست 2019ء میں بھارت نے اس خطے کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے مرکز کے زیرانتظام ایک علاقہ قرار دے ڈالا۔ دو ضلعوں پر مشتمل لہیہ اور کرگل کا رقبہ 87ہزار مربع کلومیٹر ہے، لیکن اکسائی چن علاقہ تقریباً 55ہزار کلومیٹر چین کے زیرانتظام ہے۔ اس وقت لداخ کا اصل رقبہ 32ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ 2011ء میں بھارتی حکومت کی مردم شماری کے مطابق خطہ لداخ میں مجموعی طور پر مسلمان 46فیصد اور بدھ 39فی صد، 15فی صد دیگر مذاہب۔ ایک لداخی مورخ لکھتا ہے کہ ”کشمیر کی طرح لداخ بھی 20ویں صدی میں وقوع پذیر سیاسی واقعات کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ ہو کر رہ گیا ہے۔ اس خطے کی بقاء، ترقی، اور عظمت رفتہ کی بحالی کا دارو مدار قراقرم کے بند دروں کو دوبارہ تجارت و راہدی کے لئے کھولنے میں ہی مضمر ہے“۔ قدیم شاہراہ ریشم کی ایک شاخ اس خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔ چین کے ہاتھوں 1949ء سنکیانگ اور میر1950میں تبت پر قبضے کے بعد آہنی دیوار کھڑی کرنے سے یہ راہداریاں بند ہو گئیں مگر سب سے زیادہ نقصان 1947ء میں تقسیم ہند اور تنازعہ کشمیر کی وجہ سے اس خطے میں پیدا ہوتی کشیدگی کی وجہ سے ہوا۔ 1962ء کی بھارت چین جنگ سمیت، یہ خطہ پانچ جنگوں کے زخم کھا چکا ہے۔ بھارت کی پاکسان اور چین کے ساتھ چپقلش نے اس پورے خطے کے تاریخی رابطے منقطع کر دئیے۔ لداخی بودھ ڈوگرہ ہندوؤں سے خلش رکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 1841ء میں ڈوگرہ جنرل زور آور سنگھ نے لداخ پر فوج کشی کی ان کی عبادت گاہوں کو اصطبل بنا کر ان کی بے حرمتی کی گئی۔ لداخ میں مسلم اور بدھ آبادی میں خاصا باہمی میل جول تھا۔ مذہبی منافرت نہیں تھی لیکن 1990ء کے اوائل میں یہاں کی بدھ آبادی نے اس خطے کو کشمیر سے الگ کر کے نئی دہلی کا زیرانتظام علاقہ بنانے کے لئے احتجاج شروع کیا۔ لیکن مسلمانوں نے اس احتجاج کی مخالفت کی۔ اس طور بدھ تنظیموں نے سوشل بائیکاٹ کیا مسلمانوں کے خلاف بعد میں بودھ فرقہ کے 22افراد مشرف بہ اسلام ہوئے بدھ مسلمانوں کے خلاف مزید بھڑک اٹھے۔ اس طور اب بودھ اور مسلمانوں میں کوئی مذہبی رواداری باقی نہیں۔ لداخ اس وقت گریٹ گیم کا شکار ہے۔ لداخ کے حوالہ سے پاکستان کے بھی اکثر صحافی اور دانش ور بدھ مت کے ماننے والوں کا خطہ قرار دیتے ہیں جبکہ اس خطہ میں مسلم اکثریت میں ہیں۔ جموں و کشمیر و لداخ وہ بدقسمت خطہ ہے جو 72سالوں سے اضطراری کیفیت میں زندگی گزار رہا ہے۔ لداخ جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔ بھارت نے اکتوبر 2019ء میں جموں و کشمیر کی ریاست کو عملی طور پر تحلیل کر دیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ریاستی اسمبلی سے قانون سازی کا اختیار ختم ہو اور اسے نئی دہلی حکومت کے تحت براہِ راست جموں اور کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا جائے۔ جو عملی طور پر ہو چکا۔ اتنی بڑی تبدیلی پر جموں و کشمیر اور لداخ کے فریق پاکستان کی حکومت نے ایک روائتی سا بیان دینے سے آگے کوئی عملی اقدام اٹھانے سے گریز کیا۔ اس فیصلے کے نفاذ سے قبل جموں و کشمیر، بھارت سے وابستہ واحد مسلم اکثریتی ریاست تھی۔ اب جموں و کشمیر بھارت کا حصہ بن چکا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی پر سلامتی کونسل، اقوام عالم اور انصاف کے گیت گانے والے دنیا کے ٹھیکیداروں کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ حکومت پاکستان اپوزیشن سے جنگ میں مصروف ہے اور مافیاز کی پشت پناہی کر کے اپنی کرسی کی سلامتی کی طرف توجہ کے علاوہ اس سے کچھ نہیں ہو رہا۔ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے ہر روز نئے نئے سکینڈلز عوام کے سامنے لا کھڑے کر دئیے جاتے ہیں اور پھر الیکٹرانک میڈیا پر تماشا لگا کر جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے۔ 5اگست 2019ء کو بھارتی دستور کی دفعہ 370جس نے ریاست کو خصوصی حیثیت دی تھی، اسے مختلف آئینی شقوں کے اطلاق سے خارج کر کے منسوخ کر دیا گیا۔ جبکہ دفعہ 35-Aجس نے مقامی آبادی کے لئے رہائش کے کچھ مخصوص حقوق محفوظ کر رکھے تھے اس تحفظ اور بقاء کے سارے انتظامات کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ ان دونوں دفعات نے یہ ضمانت دی تھی کہ زمین خریدنے اور اس کے مالکانہ حقوق لینے یا سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست دینے کاحق صرف ان لوگوں کا ہے جو مستقل طور پر نسل در نسل یہاں پر مستقل رہائش پذیر چلے آرہے تھے۔ ان قوانین کا مطلب یہ بھی تھاکہ جموں و کشمیر سے باہر لوگوں پر کاروباری سرمایہ کاری پر پابندی لگائی جائے یا جموں و کشمیر کی اراضی اور معیشت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے بڑی اجارہ دار کمپنیوں کی کوششوں پر پابندی لگائی جائے۔ یہ سب کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں مخصوص سطح کی سیاسی اور معاشی خودمختاری کا حق دار بنانے کے لئے کیا گیا تھا۔ لیکن ریاست کو عملی طور پر بھارت میں تحلیل کر دینے کے بعد کشمیری اپنے ہی وطن میں اجنبی ہو گئے ہیں اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے یہ سارے ڈرامے رچائے گئے ہیں۔ 31مارچ 2020ء رات گئے بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر اور لداخ کے لئے باضابطہ طور پر ایک نئے ڈومیسائل کا اعلان کیا اس ڈومیسائل اعلان کے مطابق کوئی بھی فرد جو 15سال تک جموں و کشمیر اور لداخ میں کسی بھی حوالے سے مقیم رہا ہے یا اس علاقہ میں سات سال تک تعلیم حاصل کر چکا ہے یا دسویں یا بارہویں کے امتحان میں حاضر ہوا ہے اسے یہاں زمین خریدنے کا حق حاصل ہو گا اور وہ مختلف سرکاری ملازمتوں کا اہل ہو گا۔ یوں جموں و کشمیر اور لداخ کے مقامی لوگوں پر ملازمتوں کے دروازے بھی بند ہو جائیں گے۔ اس نوٹیفکیشن کے وقت بھارت نے کورونا (Covid-19)پر قابو پانے کے لئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے کے صرف ایک ہفتے کے اندر کیا، جس سے بھارت کے شیطانی مذموم مقاصد کا پتہ چلتا ہے۔ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے اندر ایک اور لاک ڈاؤن بھیانک انداز میں کر کے کشمیریوں سے زندگی کی سانسیں چھیننے کی کوشش کی۔ نئے انتظام کے تحت لداخ کو قانون ساز اسمبلی کے نام پر لوٹ لیا جائے گا اور جموں و کشمیر کو محدود اختیارات ملیں گے جس سے ان علاقوں کو ریموٹ کنٹرول میونسپلیٹوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ جس سے ایک مرکزی اتھارٹی کے زیرانتظام جموں و کشمیر اور لداخ کو مزید غلامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا جائے گا اب 19جولائی الحاق پاکستان کی افادیت بھی ختم ہو چکی۔ کشمیری اب پاکستان سے محبت کا اظہار پاکستانی پرچم میں لپٹ کر قبر میں اترنے کی صورت میں کریں گے۔ کشمیر کی اس کرنٹ صورت حال پر پاکستان کی مجرمانہ غفلت اور خاموشی کو تقسیم کشمیر کا ہی پیغام سمجھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ، مودی، عمران ٹرائیکا ضرور اس کھیل میں مصروف ہیں۔ کشمیری ایک سال سے لاک ڈاؤن بلکہ کرفیو کی زد میں ہیں لیکن دنیا کے منصفوں کی توجہ اس طرف نہیں ہے۔ اللہ نے لاک ڈاؤن کو پوری دنیا میں پھیلا کر لاک ڈاؤن کی اذیت کا احساس دلایا ہے۔ لداخیوں نے بھی اس نئے غلامی کے طوق کو مسترد کر دیا ہے۔



لاہور، کراچی اور مِنی لاڑکانہ


لاہور، کراچی اور مِنی لاڑکانہ کبیرخان حضرت پطرس شاہ بخاری ؒ نے لاہور کا جغرافیہ تحریر فرماتے ہوئے اس کا محلِ وقوع کچھ یوں بیان کیا تھا: ’’ ایک دو غلط فہمیاں البتّہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں ۔ لاہور پنجاب میں واقع ہے۔ لیکن پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔ اس پانچ دریاوں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں ۔ اور جو نصف دریا ہے ، وہ تواب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلاح میں راویِ ضعیف کہتے ہیں ۔ ملنے کا پتہ یہ ہےکہ شہر کے قریب دو پُل بنے ہیں ۔ان کے نیچے ریت پر دریا لیٹا رہتا ہے ۔ بہنے کا شغل عرصہ سے بند ہے۔ اس لئے یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔ لاہور تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں ۔ لیکن دو ان میں سے بہت مشہور ہیں ۔ ایک پشاور سے آتا ہے دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیا کے حملہ آورپشاور کے راستے اور یو. پی والے دہلی کے راستے وارد ہوتے ہیں ۔ اوّل الذکر اہلِ سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی اور غوری تخلّص کرتے ہیں ۔ موخرّ الذکر اہلِ زبان کہلاتے ہیں ۔ یہ بھی تخلّص کرتے ہیں ، اور اس میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں‘‘َ اس کے بعد حضرت پطرس شاہ ؒنے محض ثواب دارین کے لئےلاہور کا حدود اربعہ بھی صاف صاف بیان فرما دیا: ’’ حدود اربعہ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلبا کی سہولت کے لئے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کردیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہو رہاہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دس بیس سال کے بعد لاہور ایک صوبے کانام ہو گا جس کا دارالخلافہ پنجاب ہو گا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ لاہور ایک جسم ہے جس کے ہر حصّہ پر ورم نمودار ہو رہا ہے۔ لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے ، جو اس کے جسم کو لاحق ہے‘‘َ۔ صاحبو! پطرس بخاری نے تو محض راوی کے ضعف کو اور لاہور کی بڑھتی ہوئی تنومندی کے پیشِ نظراز رہ التفات لاہورکو پنجاب کے منصب پر اور پنجاب کولاہورکی گدی پرجما دیا ہے۔ اور اللہ اللہ خیرسلّا۔ لیکن یاروں نے تو کراچی کو مِنی (بلکہ اصلی تے وڈّا)پاکستان قرار دے ڈالا۔ پھر اس شہر کی فصیلیں اسلام آباد تک کھینچا کئے۔اس کھینچا تانی کی وجہ سےپاکستان اور اصلی پاکستان کو از سرِ نو وہ بھگتنا پڑا جو 1947میں بھگتنا پڑا تھا۔ روشنیوں کا شہر، امن کا گہوارہ،اورغربا کاپالن ہارایک عقوبت خانہ بن گیا۔ جس میں دن رات وحشت اور دہشت رقصاں تھی۔ ربّ جانے کتنے ہی کمزور،نہتّے اور بے بس چیختی چنگھاڑتی دہشت کے شکار ہوئے۔ سرمایہ دار بھتّے دے دے کر تنگ آئے تو کاروبار اور سرمایہ لپیٹ کر بنگلہ دیش ،ملائشیا اور نجانے کہاں کہاں جا پہنچے۔ مِنی اور اصلی پاکستان کوامن کی طرف لوٹنے کی بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔اتنی کہ اب مِنی پاکستان کے نام سے عام آدمی بدکنے لگا ہے۔ یادش بخیر! ایوب خانی لیگ کے بعد اورقائد عوام کے دور میں جب آزاد کشمیرمیں یکلخت پی۔ پی۔ پی کا طوطی بولنے لگا تو قائد عوام کو شہید وں اور غازیوں کی سرزمین راولاکوٹ کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ جواُنہوں نے قبول کرلی۔ راولاکوٹ میں ایک (شاید) تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی جلسہ منعقد کیا گیا۔ قائد عوام سے پہلے مقرّر نے اسکرپٹ کے عین مطابق قائد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ’’میرے مائی باپ آپ پر قربان، فخرِ ایشیا عوام کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس امر کا ثبوت ہے کہ شہیدوں ،غازیوں اور مجاہدوں کی یہ سر زمین ، یہ راولاکوٹ مِنی لاڑکانہ ہے۔‘‘ اور پھر عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے راولاکوٹ کے لئے منی لاڑکانہ کا اعزازنہایت پُر جوش انداز میں قبول کر لیا۔ پھر منِی لاڑکانہ کا حال بھی وہی ہوا جو آج کل سُپر لاڑکانہ کا ہے۔ یہی نہیں ، چند سال بعد اسی منی لاڑکانہ یعنی راولاکوٹ کو منی سرینگر کا اعزاز بخشا گیا۔ تب بھی جمِّ غفیر نے اس اعزاز کو نہایت ولولہ انگیز طریقہ سے قبول کیا ۔ آج کل پھر منی سرینگر کو منی لاڑکانہ بنا کر چھوڑنے کے عزائم کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اسی دھرتی کا ایک ادنیٰ باشندہ ہونے کے ناتے عرض ہے کہ عوام نے بڑی بھاری قربانیاں دے کرراولاکوٹ کو راولاکوٹ بنایا ہے،خدا را اسے راولاکوٹ ہی رہنے دیں ،ہمیں مِنیاں اور مِنمِنیاں ہونا راس نہیں آتا۔ کم از کم منی لاڑکانہ اور منی پاکستان (یعنی کراچی)ہونے کے اعزازات ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ عنایات کسی اورمستحق کو بخشی جائیں۔



”عظیم ہمالیہ کے حضور“ایک شاندار سفر نامہ


”عظیم ہمالیہ کے حضور“ایک شاندار سفر نامہ پروفیسر خالد اکبرٍ عظیم ہمالیہ کے حضور! جاویدخان کی اولین تصنیف ہے۔جاویدپیشہ کے لحاظ سے استاد ہیں۔ زمانہ طالب علمی سے ہی فعال نظریاتی کارکن رہے ہیں۔ ہمارے اُن چنیدہ شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔جنھیں قدرت نے پڑھنے لکھنے کاذوق اور ابلاغ کافن ودیعت کیاہے۔یوں عرصہ دراز سے علم وادب کے نادرموضوعات پر اُن کے حکیمانہ کالم مختلف اَخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔جو فہمیدہ اور سنجیدہ قارئین کے لیے فروغ علم کاباعث رہے۔ عظیم ہمالیہ کے حضور!سفر نامہ، پاکستان کے بڑے اشاعتی ادارے فکشن ہاؤس نے چھاپا ہے۔جس کی اشاعت کردہ کُتب ملک کے طول و عرض میں موقر و معتبر خیال کی جاتی ہیں۔یہ کتاب 224صفحات پر مشتمل ہے۔اس کاٹائیٹل پیج بہت ہی دیدہ زیب ہے۔ کتاب کاپیش لفظ معروف صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف محترم ظفر حیات پال نے لکھا ہے۔انھوں اس سفرنامہ کومنفرد اوربہترین کاوش قرار دیاہے۔اُردو کے منجھے ہوئے استاد،کالم نگار اور وسیع المطالعہ نابغہ پروفیسر ذوالفقار احمد ساحرصاحب نے اس کی پروف ریڈنگ اور نوک پلک سنواری ہے۔یوں کتاب کسی بڑی غلطی سے پاک ہے اور قاری کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ سوغات،قدرتی حسن سے مالامال گلگت بلتستان (دیوسائی) کاسفرنامہ ہے۔جو مصنف نے اپنے دوستوں کے ہم راہ باجماعت کیا۔یوں تو ہرسال پورے ملک سے بلکہ بیرونی دنیا سے سیاح اور کوہ پیما ان فلک بوس پہاڑوں اور مرغزارو ں کی طرف سفر کرتے ہی رہتے ہیں۔ان میں سے کئی لوگوں نے مختصر بعض نے تفصیلی اور جامع یاداشتیں قلم بند کی ہیں۔مگر جاوید نے اپنے مضبوط قوت مشاہدہ،تخیل آفرینی،خوب صورت منظر نگاری،زباں وبیاں کے سادہ اور صاف استعمال سے اس سفرنامہ کو شاہکار تصنیف میں ڈھال دیا ہے۔اپنے عمدہ اسلوب نگارش کے علاوہ یہ فن پارہ شمالی علاقہ جات کے بارے میں بیش بہاعلمی اور تاریخی معلومات فراہم کرتا ہے۔مصنف کے ہم سفر دوست عمران رزاق،وقاص جمیل اور شفقت عہد رفتہ میں ہمارے سکول کے طالب علم رہے ہیں۔یہ نوجوان اس وقت نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں صف اول کے طور پر پیش پیش رہتے تھے۔اس سفر میں اِن سب کااکٹھا ہونا،اَحوال و تاثرات،تنوع اَور منا ظر پر ردعمل وغیر ہ مل کر مصنف کے لیے ممیزکاکام کرتے ہیں۔اور ان کے زبان و بیان کے تاثر کو گہرا کرتے نظر آتے ہیں۔ کسی بھی ادبی تخلیق کی تنقید لکھنا،تبصرہ کر نا اور جائزہ لینا ایک سنجیدہ اور مشکل کام ہے۔جو ارباب نقد و نظر کو ہی زیبا ہے۔یوں جس کاکام اسی کو ساجھے۔! راقم الحروف نے اس سفرنامہ کامطالعہ کیا اور جو تاثرات ذہن کی سکرین پر ہویدا ہوئے ان کو اس کالم میں قلم بند کیا ہے۔ اس سفرنامہ میں سب سے زیادہ personification کااستعمال ملتا ہے۔سفرنامہ نگارنے اس صفت کے استعمال سے فلک بوس پہاڑوں،بے آب و گیاہ میدانوں،جھیلوں،کھیت کھلیانوں اور نخلستانوں کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔یوں اس باب میں ان کا قلم بو قلم کا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔مثلا”بالاکوٹ سے آگے اور کیوائی سے پیچھے دونوں اطراف فلک بوس پہاڑوں نے دریا کو سکڑ کر چلنے پر مجبور کر دیا ہے“ ”اسی مصنوعی آکسیجن پر لیٹی شہ رگ (سڑک) کے نیچے لکڑی کاپل اپنا ٹوٹا ہو ا انگ اگلے کنارے سے جوڑنے کی جدوجہد میں تھا۔مگر شاید اب مزید جان نہیں رہی تھی۔“اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں ”شیو سر(جھیل) ہمارے سامنے اپنا آبی حسن لیے کھڑی تھی“۔اس کے ساتھ ساتھ مصنف نے معتدد مقامات پر مجرد تصورات کو اس شاندار انداز میں امیجری کے زور پر مجسم کیا ہے کہ جس سے ایک قاری حظ بھی لیتا ہے اور عش عش کیے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔ اس سفر نامہ کی ایک اہم خاصیت اس کا Didectic اندا ز ہے۔مصنف پیشہ معلمی سے وابسطہ ہیں اور زمانہ طالب علمی سے ہی فعال نظریاتی کارکن رہے ہیں۔لِہٰذا یہ واعظانہ اور خطیبانہ انداز قرطاس پر گاہے گاہے پھلجڑیاں بکھیرتا نظر آتاہے۔ ایک جگہ رقم طراز ہیں: ”غرور انسانوں کاہو یا چٹانوں کاکہیں بھی اچھا نہیں ہوتا،غرور کو آخر کار تڑخنا ہی ہوتا ہے۔“ایسے ہی رستے میں ایک مقا م پر دیار کے کمزور درختوں کاجھنڈ دیکھ کر رقم طراز ہیں۔”ایک جگہ دیودار کے درخت جمگھٹے کی صورت میں کھڑے تھے۔کمزور اور لاغر،جیسے کوئی غریب الوطن اپنے دیس کے لیے ترستا ہو۔ایسی ہی غریب الوطنی ان کے وجود سے عیاں تھی۔یہ جگہ ان درختوں کی افزائش کے لیے نہ تھی۔کوئی بھی درخت ہو یاتہذیب صرف اپنی مٹی پر ہی کھڑی اچھی لگتی ہے۔ان درختوں کو یہاں جبراً اگایا گیا تھا۔جو جنگل اور تہذیبیں اجنبی زمینوں پر زبردستی اگائی جاتی ہیں،ان کے وجود سے ایساہی پردیسیانہ اور لاغر پن جھلکتا ہے۔“ غلام قوم کاباشندہ ہونے کے نا طے، ایک منقسم حصہ کی سیر کے دوران مصنف کا جذبہ آزادی انگڑائی لیتا نظر آتاہے۔جس کوو ہ لطیف انداز میں تشبیہات اور استعاروں کی لطیف زبان دیتے نظر آتے ہیں۔ایک جگہ دریاِ کنہار کی تنگ دامنی یوں بیان ہوئی ہے: ”کنہار یہاں چٹانوں کے درمیان تیز اور شوریدہ سر ہے۔شاید ہر پہاڑی دریا کی یہی نفسیات ہوتی کہ جب اسے اپنادامن کشادہ کرنے کے لیے جگہ نہیں دی جاتی،تو وہ غصیلہ اور سرکش ہو جاتا ہے۔دریا ہو یا فرد یا کوئی قوم،جب اس کی کشادگی اور آزادی صلب کرکے اسے سکڑ کر چلنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے،تو اس میں غصہ اور اینگزائٹی بھر جاتی ہے۔پھر وہ سرکشی کے راستے پر چل نکلتی ہے۔جس کا قرض صدیاں مل کر چکاتی ہیں۔“ مصنف اپنے ماضی کو رستے کے مناظر سے ہم آہنگ کرتے ہوئے خوب صورت پیراے میں بیان کرتے ہیں۔ماضی کی دیہی زندگی کو خوب صورت نثری نظم میں بیان کیا ہے۔ سفرنامہ نگار نے گا ہے گاہے صفت pun کاخوب صورت استعمال بھی کیا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:”لولو سر ایک منظر ہے اور اس منظر میں سارے لوگ خود منظری (سیلفی) میں مصروف تھے۔“مصنف مذہبی شعور اور فرقہ پرستی پر چوٹ کرتے ہیں۔ایک نخلستانی وادی میں اک ویران مسجد پر تبصرہ دیکھیے:”عبادت گاہیں پہلے صرف اللہ کی ہوتی تھیں۔اب بندوں اور مسلکوں کی ہیں۔ہر عبادت گاہ کااشاروں کنایوں میں اپنی مسلکی شناخت کااظہار ایک فیشن بن گیا ہے۔جب تک کوئی عبادت گاہ مسلک کاچولا نہیں پہنے گی،وہ سند یافتہ عبادت گاہ نہیں بن سکے گی۔اس عارضی بساؤ میں بھی یہ مسجد مسلکی ٹکڑے چپکائے بغیر نہ رہ سکی۔“ مصنف کی فلسفیانہ افتاد طبع بھی کبھی کبھی اپنی جولانی پر نظر آتی ہے۔”انسان اگر اپنی جبلت کو نہ مار پائے تو وہ حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔کشت و خون لڑائیاں زندگی کا جزو لازم بن جاتا ہے۔انسان آدمی نما ریوڑ ہوتے ہیں۔“ گاہے گاہے قرطا سں پر بکھر ے استعارات صنفی رحجانات کے بھر پورعکاس نظر آتے ہیں۔جو کنوار ے سفرنامہ نگار کے پوشیدہ جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں:”ساری برفیلی چوٹیوں کے لب ورخسار پر لالی پھیل گئی تھی۔جیسے ہزاروں دلہنیں سرخ دوپٹوں میں بناؤ سنگھار کیے بیٹھی،شرمیلی مسکراہٹ لیے دیکھ رہی ہوں۔سرخ کرنوں میں لپٹا دُودھیا حسن ان مسکراہٹوں میں نکھرا ہوا تھا۔“یہ ہمالیہ کی چوٹیوں کی منظر کشی ہے۔اشعار کا برمحل اور موضوع استعمال مصنف کے وسیع مطالعہ کاغماز ہے۔خٖوب صورت pithy فقرات کااستعمال بہت شاندار ہے:”راگوں اور سروں کا یہ حسن ابھی انسانی صناعی میں نہیں آیا۔“،”دوست پرتکلف ناشتے پر کسی تکلف سے آزاد تھے۔“یہ کتاب معلومات اور ادب کابیش بہا خزانہ ہے۔اس سفرنامہ کے مطالعہ کے دوران میرے علم میں بہت سا اضافہ ہوا۔مصنف کاریاضیاتی علم بھی حیران کر دینے والا ہے۔منظرنگاری اور حوالوں کے طور پر جب وہ ریاضی اور جیومیٹری کااستعمال کرتے ہیں۔تو مجھ جیسا ریاضی سے نابلد آدمی بھی ریاضی شناس ہو جاتا ہے: مثلاً:”نیم سفید گول پتھر سے نکلا ۰۲ سنٹی میٹر قطر کی گولائی کاسرخ پھول جس کی سیکڑوں کلیاں سرخ رنگ لیے ہوئے تھیں۔“،”ایک لمبی قائمہ الزاویہ کی مثلث کی شکل بناتا پہاڑ،دریا کے ساتھ لگ کر کھڑا تھا،سورج اس کے وتر پر شعاعیں ڈالنے لگاتھا۔“،”مساوی الزاویہ مثلث کی شکل کی ایک چوٹی دیوہیکل دروازے کے پیچھے کھڑی تھی۔اس پر کچھ برف باقی تھی۔“مصنف لطیف پیراے میں گلوبل وارمنگ اور جنگلی حیات کو لاحق خطرات کانوحہ سناتے نظر آتے ہیں۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف کی ماحولیات کے حوالے سے حساسیت کس قدر گہری ہے۔ مصنف کاعالمی کلاسیکل ادب سے بے شمار تلمیحات اور حوالہ جات کااستعمال بہت ہی شاندار ہے۔یہ استعاروں اور تشبیہات کی شکل میں واقع ہوتی ہیں۔جو مصنف کے عالمی کلاسیکل ادب سے گہرے شغف کاعکاس ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں: ”تراجم کی صحت ہمیشہ قابل اعتبار نہیں ہوتی۔جیسے ہومر کی اوڈیسی اور ایلیڈ میں بے شمار غلطیاں ہیں آسکروائیلڈ کے شہرہ آفاق افسانے ”سرخ گلاب“ کاحوالہ اور محل بہت ہی شاندار ہے۔ عظیم ہمالیہ کے حضور!اُردو زبان میں لکھے جانے والے سفرناموں میں اہمیت کاحامل ہے۔میری کوتاہ نگاہ میں اردو کے صف اول کے سفرناموں میں شمار ہو گا۔اپنے اسلوب نگارش میں یہ انتہائی اچھوتا اورمیعاری سفرنامہ ہے۔اس میں شاعرانہ تخیل،منظر نگاری،زبان کی سادگی اور صفائی،استعارات اور تشبیہات کااستعمال لاجواب ہے۔اس میں مرصع نگاری بھی ہے اور مرقع نگاری بھی۔خطہ کشمیر میں کئی سفرنامہ نگاروں نے سفرنامہ نگاری کے باب میں عمدہ سفرنامے تخلیق کیے ہیں۔تاہم خطہ کشمیر کے عظیم مزاح نگار سردار کبیر کے سفر نامے ”اک ذرا افغانستان تک“کے بعد اپنے متن اور اسلوب نگارش کے لحاظ سے یہ بہت ہی اعلی ٰہے۔جاوید خان کی یہ پہلی کاوش ہے۔جاوید ابھی جوان ہیں۔سیکھنے اور لکھنے کے لیے ان کے پاس ایک عمر پڑی ہے۔اگر انھوں نے ایسے ہی محنت شاقہ سے اپنا کام جاری رکھا تو بعید نہیں کہ ان کی آمدہ تخلیقات ادب عالیہ میں اپنا مقام نہ بناسکیں۔کیوں کہ ایک ادیب کے جملہ جواہر ان کی شخصیت میں موجود ہیں۔



(۱)دوہری شہریت دوہرا معیار۔(۲) نیب پر سوالیہ نشان(۳) نوٹس کا الٹا اثر


(۱)دوہری شہریت دوہرا معیار۔(۲) نیب پر سوالیہ نشان(۳) نوٹس کا الٹا اثر محمد حیات خان ایڈووکیٹ اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت سے پاکستان کے عوام کو جو توقعات تھیں وہ پوری ہونا تو در کنار حالات پہلے سے بھی بد تر اور اس میں دور دور تک بہتری کے کوئی آثار نہیں۔عمران خان جو دعوے،وعدے اور امیدیں دلا کر اقتدار میں آئے۔یہی سوچا جارہا تھا کہ شاہد ناتجربہ کاری کی وجہ سے وہ اپنے پروگرامز کو عملی جامہ پہنانے میں وقتی ناکام ہیں۔اور جلد ہی رموز حکومت سمجھ جائیں گے اورحسب وعدہ ڈیلیور کر لیں گے۔مگر دوسال گذرنے کے بعد دیکھا گیا کہ ان کا ہر قدم پہلے سے خراب،نکما اورحوصلہ افزاء چھوڑ کر امید افزاء بھی نہیں۔سب سے بڑی خامی اور کمزوری یہ ہے۔ کہ روز اول سے انہوں نے ہر اس بات پر یو ٹرن لیا جس کا قوم اور عوام سے وعدہ کر کے اقتدار میں آئے تھے۔ اور دوسری بات کہ وہ ملک میں اپوزیشن کو شجرے ممنوعہ سمجھتے ہیں۔یہ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ حکمرانی کے لیے جو ماحول،سپورٹ(ہر طرف سے) ان کو ملی۔دوسری جماعتیں اس کی صرف حسرت ہی کر سکتی تھیں۔پہلی بات کہ انہوں نے اپنا وعدہ توڑ کر دوسری جماعتوں سے ان ابن الاوقتوں کو ساتھ ملایا جو ہمیشہ ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔اور وہ صرف مال و دولت بنانے کے لیے ”اپنے ضمیر کی آواز“ پر جماعتیں بدلتے اور بعض اوقات ووٹ کی خرید و فروخت بھی کر دیتے ہیں جیسے سینٹ کے الیکشن میں ہو ئی تھی۔خیر آپ نے اقتدار میں آنا تھا۔تو یہ سب کر کے آ گئے۔مگر اقتدار سمھبالنے کے بعد تو اپنے کہے یا قول و اقرار کا پاس رکھتے۔جو ہر گز اور ذرا برابر نا رکھا گیا۔آپ نے عوام کو بتایا کہ باہیس سالہ جد وجہد کے بعد حکومتی امور چلانے کے لیے میرے پاس ایک تجربہ کار ٹیم موجود ہے۔جو چند ہی مہینوں میں دیئے گئے منشور پر عمل کر کے ملک کی کایا پلٹ دے گی۔مگر ہوا اس کے بالکل الٹ۔آپ کے پاس پی پی پی سے لائے گئے چند ایک لوگ تو تھے ہی مگر آپ نے آئی ایم ایف کی ٹیم اور دوہری شہریت کے چند نوجوان جو اچھی خاصی دولت کے مالک ہیں۔کو اپنے ساتھ ملا کر حکومتی امور چلانے کی کوشش کی۔جو اونچی آواز میں بات تو کر سکتے ہیں مگر تجربے سے عاری اورمعاملات بنانے کی بجائے بگاڑنے میں ماہر ہیں۔اصل بات سمجھنے کی ہے کہ کسی ملک کا اقامہ ہونا اور شہریت ہونا اور رکھنا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔وہ یہ کہ جس کسی شخص کے پاس کسی دوسرے ملک کا اقامہ ہو گا وہ وہا ں ایک خاص مدت تک نوکری کر سکتا ہے(یہ الگ بحث ہے کہ کون نوکری کر سکتا ہے اور کون نہیں)۔مگر جو شخص کسی دوسرے ملک کی شہریت لیتا ہے تو اللہ پاک اور کتاب مقدس پر ہاتھ رکھ کر یہ عہد کرتا ہے کہ میں اس ملک کا وفادار رہوں گا اور اگر اس ملک جس کی میں شہریت لے رہا ہوں کے خلاف کو ئی دوسرا ملک(یعنی ایک پاکستانی جب امریکہ۔کینیڈا۔برطانیہ۔یا کسی دوسرے ملک میں شہریت لیتا ہے تو حلفاً وعدہ کرتا ہے کہ اگر میرے سابقہ ملک کے خلاف یہ ملک جنگ کرے گا تو میں اس ملک کے ساتھ سابقہ ملک کے خلاف جنگ کروں گا۔گویا نئے ملک کے حق میں کلبھوشن کی طر ح کام کروں گا)لیکن ایک آدمی کو صرف اقامہ رکھنے کے جرم میں تا حیات سیاست سے آؤٹ اور نااہل کر دیا جاتا ہے اور ایک دوہری شہریت والے کو تما م امور حکومت(جن میں بہت ہی حساس نوعیت کے معاملات بھی ہوتے ہیں) میں شامل کیا جاتا ہے۔تو یہ حکومت پانچ دوہری شہریت والے مشیروں کے ساتھ سب راز و نیاز شیئر کرتی ہے۔اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک ممبر اسمبلی فیصل واوڈا جو دوہری شہریت کا حامل ہے۔اس کا کیس ہی نہیں سنا جاتا۔کیا یہ دوہرا معیار نہیں۔؟ملک میں دو قانون ہو ں گے تو وقتی چل چلاؤ تو ہو گا مگر یہ دیر پا نہیں۔جو ملک کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔وزیراعظم پاکستان سے کچھ کہنا بیکا رکی مشق ہو گی۔اس لیے کہ انہوں نے قسم کھا لی ہے کہ جو قوم سے وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کرنا۔ورنہ وہ تو کہا کرتے تھے۔کہ جن لوگوں کے اثاثے باہر پڑے ہوں یا باہر کی شہریت ہو انہیں کوئی حق نہیں کہ ملک میں حکمرانی کریں کیوں کہ ان کا مفاد دوسرے ملک سے وابستہ ہوتاہے۔ اب جبکہ ان معاونین اور مشیروں کے بیرون ملک بھاری اثاثے میڈیا میں بھی آ چکے ہیں۔تو وزیراعظم پاکستان عمران خان کا وہ سب کہنا،قوم کو یقین دلانا اور اب بالکل عمل نا کرنا کیا ایک ذمہ دار شخص کے لیے مناسب ہے۔؟مگر نہیں وہ تو سب کچھ بھول گئے ہیں۔ بے شک دوستوں سے دوستیاں نبھاہیں۔مگر ملک و قوم کی قیمت پر نہیں۔یہ جو مشیر رکھے گئے ہیں یہ سب شوکت عزیز ثابت ہوں گے۔کیا پی ٹی آئی کے پونے دو کروڑ ووٹروں میں پانچ دس آدمی بھی نہیں کہ جنہیں یہ امانت دی جا سکے۔؟ اور اگر اس تیسری بڑی (اور بوجوہ اس وقت بڑی)جماعت کے پاس اتنے اہل لوگ بھی نہیں تو خود سوچئے کہ کیا یہ ملک و قوم پر حکمرانی کے اہل ہیں۔؟ نہیں بالکل نہیں۔اور اس کا نوٹس لیا جانا چاہیئے۔اور اپوزیشن بھی اس پر احتجاج کرے۔مگر اپوزیشن اس انتظار میں ہے کہ عوام تنگ ہو کر سڑکوں پر آہیں۔جو کہ لوگوں کے سڑکوں پر آنے میں کوئی کسر بھی ان حکمرانوں نے نہیں چھوڑی۔تو یہ اپنی باری لیں۔اگر اپوزیشن سنجیدہ ہے تو اس چینی۔آٹے۔دواہیوں۔پیٹرول کے بھاری اور بہت بڑے سکینڈلز پر احتجاج کیوں نہیں کرتے۔؟ اور پی ٹی آئی کے صاہب الرائے لوگ بھی اس کو ان مساہل اور معاملات کو سنجیدہ لیں۔یا د رکھیں۔یہ ملک سب کا ہے۔۔۔۔ (۲)نیب۔۔۔آج خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے کیس کا فیصلہ آیا اور معزز سپریم کورٹ نے اس میں چند اہم آبزرویشنز دی۔ جبکہ اعلیٰ عدلیہ کئی مرتبہ نیب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا چکی ہے۔لیکن ایک بات نا سمجھ آنیوالی ہے کہ اگر کوئی ٹیکنوکریٹ یا کوئی اور شخصیت نیب کی چیئر مین ہوتی تو یہ سوچا جا سکتا تھا کہ کیس بنتے ہیں اور سقم رہ جاتا ہے۔مگر تعجب کی بات ہے کہ ایک ایسی شخصیت جو جج۔جسٹس۔پھر چیف جسٹس رہے ہوں اور اچھی شہرت بھی رہی ہو۔ان کے ہوتے ہوئے۔جتنے کیسسز بنائے اور ریفرینسسز بنا کر بیجھے جاتے ہیں وہ سب ملزمان عدالت سے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔یا تو وہ کیس ہی بوگس ہوتے ہیں یا پھر چیئر مین نیب وہ کیس خود کبھی دیکھتے ہی نہیں۔ایک نہیں اپوزیشن کے خلاف جتنے بھی کیس بنتے ہیں ان کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج خواجہ برادران کے کیس میں نکلا ہے۔تو کیا اپوزیشن جماعتوں کا شور اور واویلا درست نہیں کہ ہمارے خلاف تما م کیسسز جعلی اور من گھڑت ہوتے ہیں۔؟اور تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر جب سالوں سال کسی کو جیل میں رکھ کر ریفرینس ہی دائر نا کیا جائے۔جیسے حمزہ شہباز کے کیس میں ہے۔کہ سال سے اوپر ہو گیا اور نیب سوچ رہا ہے کہ کیا کریں۔اور جب کیس عدالت میں جائے گا تو نتیجہ۔۔۔باعزت بری۔۔تو کیا کہا اور سوچا جائے۔؟یہ انصاف نہیں۔۔۔اور پھریہ کتنی عجیب بات ہے کہ حکمران جماعت کے کسی بھی آدمی کے خلاف کو ئی کیس نہیں بنتا نا سنا جاتا ہے۔جس میں وزیراعظم،ان کے ساتھی ہیں مگر فہرست میں نام شاہد پانچ سالوں کے بعد آئے۔یہ تو کسی بنانا ریپبلک میں بھی نہیں ہوتا۔ مگر پاکستان میں ہوتا ہے۔۔۔نیب ایک آہینی ادارہ ہے۔اس کے قوانین میں کئی نہیں لکھا کہ نیب صرف اپوزیشن کی غلط کاریوں اور کرپشن پر نظر رکھے گا۔ گرفت میں لائے گا۔بلکہ ملک میں کوئی بھی کرپشن کرے۔ یہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ بددیانتی اور کرپشن کو پکڑے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ اپوزیشن کے تیس سالہ پرانے چھوٹے موٹے کیس کو انتہائی پھرتی سے دیکھا،اورمبینہ ملزم کو پکڑکر جیل میں ڈال دیاجاتا ہے۔اور مہینوں اور سالوں اس کا پتہ ہی نہیں چلتا۔جبکہ حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں ملک میں چوریوں اور سکنڈلز کا ایک سیلاب آیا اور اب بھی موجود ہے مگر نیب نے کوئی نوٹس نہیں لیا جیسے یہ چھٹی پر ہوں اور سالوں کے بعد جب واپس آہیں گے تو شاہد سوچیں۔مثلاً یہ دواہیوں کا سکینڈل ہوا۔پھر چینی۔آٹا۔پیٹرول بحران اور خوب دولت کمائی گئی۔کل پھر دواہیوں کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔تو نیب کہاں سویا ہے۔؟یہ کسی دوسرے ملک میں نہیں یہ پاکستان کی بات ہے۔اور ان سے اس لیے پوچھ گچھ نہیں ہوتی کہ یہ حکومت میں بیٹھے وزیراعظم کے ساتھی کر رہے ہیں۔اور ان کو کھلی چھوٹ ہے۔ورنہ ان سب چیزوں پر نوٹس اور ایکشن نا لینا۔کیا جائزواحسن ہے اورکیا یہ اپنے فرائض سے غفلت اور کوتائی نہیں۔؟ (۳) نوٹسسز کا الٹا اثر۔۔۔۔۔ایک بات اب واضح ہو چکی ہے۔کہ جیسے آسمان ابر آلودہو، بادل چھائیں تو بارش ہوتی ہے۔ایسے ہی جس دن اور جس وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان (ایسے ہی زبانی عوام کو خوش کرنے اور امید دلانے کے لیے)کسی چیز کا نوٹس لیتے ہیں تو وہ شےء دوسرے دن دوگنی مہنگی،اور وہ سکینڈل دوسرے دن اس سے بڑا سکینڈل بن کر سامنے آتا رہا ہے۔اس لیے عوام اب وزیراعظم سے دست بستہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی مہنگی کی گئی چیز یا چینی۔آٹے۔دواؤں۔اشیاء خورد و نوش پر بالکل نوٹس نا لیں۔جس پر عوام ان کے شکر گذار ہوں گے۔وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔اگر ہاتھ میں ہوتا تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ماہ کے آخری دن اوگرہ کی مشاورت سے بڑھائی جاتی ہیں مگر اس دفعہ اپنوں کو فاہدہ پہنچانے کے لیے چھبیس تاریخ کو ہی اوگرہ کو بتائے بغیر قیمتیں بڑھائی گئی۔ پھر بیرون ملک سے منگوائے گے مشیر دن اور رات ایک ہی راگ الاپتے ہیں کہ ملک میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی لیڈر نے اپنے وقت میں یہ چینی۔آٹے۔دواؤں۔پیٹرول۔اور پی آئی اے کے پاہلٹس کے سکینڈلز سامنے لائے۔۔۔یہ تو ایسے ہی ہے کہ ایک تھانے کا ایس ایچ او کسی چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھے۔چور سامان لے کر سامنے خراماں خراماں جا رہا ہو اور ایس ایچ او کہے کہ دیکھا میرا کمال کہ میں نے کیسے چور کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔تو جناب چینی چوری میں چور مال پانی بھی بنا گئے۔چینی ساٹھ روپے سے پچاسی روپے بھی ہو گئی اور متواتر یہی قیمت وصول کی جارہی ہے۔آٹا تازہ گندم مارکیٹ میں آنے کے باوجود مہنگا بک رہا ہے۔اور کچھ تو ذخیرہ ہو رہا ہے۔تین سو فیصد دواؤں کی قیمتیں بڑھی۔اس آدمی کو جماعتی بڑا عہدہ دیا۔آپ نے نوٹس لیا تو اب دس فیصد اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔پی ٹی وی کی فیس پنتیس روپے تھی چالیس یا پچاس کر لیتے ایک دم سو روپے کر دی۔کیا یہ عوام کے ساتھ ظلم نہیں۔اور ان چوریوں میں ملوث سب لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔وزیراعظم صاحب آپ تو کہا کرتے تھے کہ جب ایسے قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تو یہ حکمرانوں کی جیب میں جاتی ہیں،مگر یاد رکھیں کہ جو قیمتیں آپ نے دوسالوں میں بڑھائی ہیں وہ سابقہ ”چوروں“ نے پندرہ سالوں میں نہیں بڑھائی تھیں۔ملک کا غریب پس کے رہ گیا ہے۔آپ کو تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔آپ کو ہر طرف سے سپورٹ ہے۔مگر یاد رکھیں کہ ظلم کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ملک کے طول و عرض میں عوام چیخ رہے ہیں رو رہے ہیں پیٹ رہے ہیں۔اور وہ دن دور نہیں کہ جب اللہ پاک ان بے کس اور بے بس لوگوں کی فریاد سنے گا۔پھر آپ کو بھی گذرا ہوا وقت یاد آئے گا۔اللہ پاک ہی ملک وقوم پر رحم فرمائے۔آمین۔ثم آمین



یکساں قومی نصاب تعلیم


یکساں قومی نصاب تعلیم صدا بصحرہ سردار ممتاز حسین خان وطن عزیز میں یکساں قومی نصاب تعلیم ایک ایسا ادھورا خواب ہے جس کی تعبیر 73سال گزر جانے کے باوجود بھی نظر نہیں آتی۔ نظریہ اسلام پر قائم ریاست میں قوم کی تشکیل، یکج جہتی کے لئے ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں یکساں اور متفقہ نصاب تعلیم کا نفاذ اشد ضروری ہے۔ ایسے مطلوبہ قومی نصاب تعلیم کو ہر صورت میں قومی نظریاتی امنگوں کا آئینہ دار اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے پورے ملک میں یکساں قومی نصاب کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ جسے حکومت سنگل نیشنل کریکولم کے نام سے موسوم کر رہی ہے۔ اس مناسبت سے جو نصابی رپورٹیں شائع کی گئی ہیں ان کے سر ورق پر یہ دل کش نعرہ لکھا ہے۔ ایک نصاب، ایک قوم۔ لیکن افسوس صد افسوس اس قومی نوعیت کے کام کو کن لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے۔ حکومت یکساں قومی نصاب تعلیم کے نام پر بیرونی قوتوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کا ایجنڈا اس ملک کی آئندہ نسلوں پر نافذ کرنا چاہتی ہے۔ سنگل نیشنل کریکولم کی ترتیب و تدوین ان بنیادوں پر ہے جو بظاہر جاذب نظر ہیں لیکن یہ سارے دعوے ہوائی قلعے ہیں۔ ۱۔دستوری رہنمائی، ۲۔قومی معیارات کی قومی پالیسیاں،۳۔ ظہور پذیر عالمی رحجانات،۴۔ نتیجہ خیز تعلیمی بنیاد،۵۔اقدار اور مہارتوں کی فراہمی پر مبنی تعلیم پر توجہ، ۶۔بچوں کی فکری، جذباتی، روحانی جمالیاتی، سماجی اور جسمانی نشوونما،۷۔رٹا لگانے کے بجائے عملی بنیادوں پر حصول تعلیم کا رواج، ۸۔علم کا عملی زندگی پر انطباق، ۹۔انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کا استعمال،۰۱۔تدریسی طریقوں کی شمولیت،۱۱۔ریاضی اور سائنس کے عالمی رحجانات سے مطابقت۔ یہ پیش کردہ سنگل نیشنل کریکولم بنیادی طور پر 2006کا کریکولم ہے، جو جنرل پرویز مشرف کے دور استبداد میں جرمنی کی ایجنسی جی آئی زیڈ کے مالی، فکری اور عملی تعاون سے تیار کیا گیا تھا جس کی سربراہ ایک پاکستانی خاتون تھیں۔ اب بھی وہی محترمہ اس این جی او کے پلیٹ فارم سے سنگل نیشنل کریکولم کی تشکیلی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ 2006ء کے نصاب تعلیم پر سخت نقد و جرح کی تھی۔ اب نئی انقلابی حکومت اور مشرف کی باقیات نے 2006کے کریکولم کو ویلیوز ایجوکیشن (اقداری تعلیم) کے نام سے ایک سیکولر، لبرل نظریاتی اساس فراہم کر دی ہے۔ اگرچہ نصاب تو پہلے ہی سے سیکولر لبرل تھا، لیکن بین الاقوامی سطح پر سیکولر لبرل قوتیں جن اقدار کو پھیلا رہی ہیں، خصوصاً مسلم دنیا میں جن نظریات کو راسخ کر رہی ہیں، انہی کو سرائیت کردہ موضوعات کی شکل میں آگے بڑھایا گیا ہے، سنگل نیشنل کریکولم بنانے والی ٹیم نے نظر ثانی مسودے میں ’ہیومنزم‘ کی اصطلاح اڑا دی ہے جبکہ اس کی تمام ذیلی اقدار میں ہیو منزم کی روح جوں کی توں موجود ہے۔ بیان کردہ گیارہ دعوؤں میں سب سے پہلا دعویٰ ’دستوری رہنما خطوط‘ کے متعلق ہے سب سے زیادہ انحراف اس نصاب میں اسی چیز کا گیا ہے۔ دیگر شقوں کے علاوہ دستور 1973ء میں شامل قرار داد مقاصد اور دفعہ 31تعلیم اور نصاب تعلیم کے لئے رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔ اس کے مطابق 5سال سے 16سال کی عمر کے طلبہ (جو کہ لازمی تعلیم کا دورانیہ ہے) کے لئے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کی وہ تمام تعلیمات مہیا کی جانی چاہئیں کہ وہ طالب علم جب عملی زندگی میں قدم رکھے تو اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارے۔اس کے برعکس مجوزہ نصاب میں اسلامیات کے نصاب میں پہلی سے بارہویں جماعت تک بیان کردہ مقاصد کسی طرح بھی مذکورہ بالا ضرورت کو پورا کرتے نظر نہیں آتے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ قرآن و حدیث اور اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ایمانیات، عبادات، اخلاقیات اور معاملات کے تحت ان تمام امور کی فہرست بنائی جاتی جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے فرض عین ہے اور پھر ان امور کو پہلی سے دسویں جماعت تک کے نصاب میں عمر اور بلوغت کے تقاضوں کے مطابق تقسیم کر دیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ نصاب سازی ایک سائنس ہے اور اس کا ایک طریق کار ہے جب تک وہ طریق کار اختیار نہ کیا جائے تب تک عملی بنیادوں پر مطلوبہ نصاب ترتیب نہیں دیاجا سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ دستوری رہنما خطوط پورے نصاب کے لئے ہوتے ہیں۔ اسلامیات کا نصاب جیسا، تیسا ہے اس میں بہتری کی گنجائش ہے لیکن اسلامیات کے نصاب کے ساتھ جنرل نالج اور معاشرتی علوم کا جو نصاب دیا گیا ہے وہ مکمل طور پر سیکولر ہے ان دونوں مضامین کے نصاب میں لفظ اسلام کے استعمال سے مکمل پرہیز کیا گیا ہے۔ وژن، مشن اور مقاصد نصاب پوری طرح سکولر، لبرل اور بیو منسٹ نظریہ حیات کے آئینہ دار ہیں۔ معاشرتی علوم تو کسی معاشرے کے نظریات، اور اس کی تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار ہوتے ہیں مگر یہاں پر اسلامی جمہوریہ پاکستان سے اس نصاب کو منسوب کرنے کی زحمت نہ کی گئی۔ سنگل نیشنل کریکولم میں انگلش، ریاضی اور سائنس کے نصاب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور ملک یا ملکوں کا نصاب ہے۔ زیر غور نصاب تعلیم کی نظریاتی اور پاکستانی جہت درست خطوط پر استوار ہونا ضروری ہے۔ مگر نصاب کی کوئی مقامی تحقیق نہ ہونے کے باعث یہ این جی اوز زدہ ہے۔ 73سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اس بدقسمت ریاست میں ایسے ماہرین تعلیم پیدا یا تیار نہ کئے جا سکے جو نصاب تعلیم کو وطن عزیز کی نظریاتی اساس پر تدوین کر سکتے۔ قومی اہمیت کا یہ کام بدقسمتی سے انتہائی خفیہ طریقے سے اور چھپ چھپا کر کیا گیا۔ اس نصاب کا جو پہلا مسودہ سامنے آیا وہ بھی پبلک نہیں کیا گیا۔ محدود سطح پر بعض پسندیدہ افراد سے رائے لی گئی۔ بعد ازاں فروری 2020ء میں تین روزہ ورکشاپ کی گئی، جس میں صوبوں کے نصاب و درسی کتب کے اداروں کے بعض پسندیدہ اہلکار بلائے گئے۔ اس تعلیمی میلے میں بھی کسی کو پورا نصاب نہیں دکھایا گیا۔ مذکورہ تین روزہ ورکشاپ کے بعد عجلت میں وزیراعظم عمران خان سے منظوری بھی لے لی گئی اور پھر قومی نصاب کے طور پر اپریل 2021ء سے اسے نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ وزیراعظم سے منظوری مارچ 2020ء میں لی گئی اور اب جولائی ہے لیکن حتمی مسودہ قوم کے علم میں نہیں لایا گیا۔ نصاب تعلیم پر نظر رکھنے والے کچھ ماہرین تعلیم نے اصل مسودہ اپنے ذرائع سے حاصل کیا جس کی بنیاد پر مجوزہ نیشنل کریکولم پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن واضح ہوتی ہے۔ سنگل نیشنل کریکولم فی الحقیقت یہ جنرل پرویز مشرف کی این جی اوز زدہ آمرانہ حکومت میں تیار کیا گیا 2006ء کا متنازعہ نصاب ہے۔ اس نصاب کی نظرثانی، تدوین اور اسے حتمی شکل دینے کا کام آغا خان یونیورسٹی، برطانیہ کی واٹر ریڈ، امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مقامی ایجنٹوں، بیکن ہاؤس، اور کیمبرج کے ماہرین اور بعض دیگر سیکولر این جی اوز کی شمولیت سے سر انجام دیا گیا۔ حدیہ ہے کہ قومی اداروں یعنی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، پنجاب یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایجوکیشن، بلوچستان یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی، اور کراچی یونیورسٹی کے ادارہ ہائے تعلیم و تحقیق و شعبہ ہائے ایجوکیشن کے اعلیٰ درجے کے ماہرین میں سے کسی کو شامل نہیں کیا گیا۔ صوبوں کے نصابات اور درسی کتب کے اداروں کے تجربہ کار ماہرین کو نظر انداز کیا گیا۔ محض سیکولر لبرل قسم کی آرگنائزیشن کو ہی اس کام کے لئے منتخب کرنے کا مطلب واضح ہے کہ وطن عزیز کے تعلیمی عمل سے نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کو کھرچ کر باہر کرنا ہے۔ عمران خان حکومت کے دیگر کارناموں کی طرح یہ بھی ایک کارنامہ ان کے دامن پر ایک سیاہ دھبہ ہو گا۔ اگر قومی نصاب تعلیم پر پوری قوم کا اتفاق رائے حاصل نہ کیا گیا تو محض چند لوگوں کی سیکولر اور لبرل انا پرستی اور ان کے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی آرزو سے قومی تعلیم کے حوالے سے موجودہ حکومت کے کھاتے میں ایک اور ناکامی سیاہ حروف سے لکھی جائے گی۔



اعلٰی عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت


اعلٰی عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت عمیر پرویز خان قرنطینہ کے سبب حسب معمول تاخیر سے جاگا اور عادتاََ پہلا کام موبائل سکرین پر نظر دوڑائی۔ حیرت کی انتہاء نہ رہی جب مختلف دوستوں کی جانب سے انباکس میں مبارکباد کے پیغامات پڑھے کہ آزاد کشمیر کی عدلیہ میں تقریباََ دو سال قبل کی گئی تقرریاں کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔ حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی و غم کے جذبات بھی سراعیت کر گے کیونکہ جس شخصیت نے ریاست آزاد کشمیر کی عوام کے لئے اصولی موقف اپنایا تھا وہ ظاہری طور پر نومبر ۸۱۰۲ میں اس دنیا سے پردہ فرما چکے۔ عدلیہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ہائی کورٹ میں تعیناتیوں کے حکومت آزاد کشمیر کے عمل کے خلاف ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان (مرحوم) نے دو برس قبل ۸۱۰۲ میں آزاد کشمیر اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ہائی کورٹ کی تعیناتیوں میں صدر مسعود خان،و زیر اعظم فاروق حیدر خان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ نے خلاف آئین اقدام کیا اور تمام قبیلوں کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں کیں جس سے انصاف کا قتل ہوا ہے اور آئین میں وضع کردہ اصولوں سے منخرف ہوتے ہوئے ایک آسامی کے خلاف ایک ہی نام تجویز کر کے ججز کی تعیناتی کی جو سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ سردار خالد ابراہیم خان نے مزید یہ نقطہ بھی اٹھایا تھا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آفتاب تبسم علوی نے ان سفارشات پر مختلف رائے دی اور ان کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ تقرریاں عمل میں لائی گئیں جواخلاقی و قانونی اعتبار سے درست نہ تھا۔ اس تقریر کے دوسرے دن چیف جسٹس سپریم کورٹ ابراہیم ضیاء نے سردار خالد ابراہیم خان کو عدالت میں آ کر وضاخت کرنے کا نوٹس جاری کیا جس پر سردار خالد ابراہیم خان نے اصولی موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اور آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ 34 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے لہذیٰ اس غیر آئینی اقدام کو نہیں مانتا اور اس چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ۰۰۰۵۱ تنخواہ لینے والے سپاہی کو گرفتاری دے سکتا ہوں لیکن ان مراعات یافتہ ججوں کی عدالت میں پیش ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے جہاں ان کا اداروں پر یقین ثابت ہوتاتھا وہیں ان کا اداروں میں بیٹھے کرپٹ لوگوں سے لڑنے کا عزم بھی۔ اور ان کی اس بات کی لاج خدا بزرگ و برتر نے بھی رکھی اور ۸ نومبر ۹۱۰۲ کو اریسٹ کئے جانے یا عدلات میں پیش کئے جانے سے پہلے ہی ۴ نومبر ۹۱۰۲ ان کو اپنی عدالت میں بلا لیا۔ سردار خالد ابراہیم خان نے اسمبلی فلور پر تقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب یہ ججز گھر جائیں گے اور کیا پتہ اس وقت ہم ہوں گے یا نہیں۔ اور آج وہ دن آ گیا جب اس سیاست کے کربلا کے اکیلے حسین کے کہے گے الفاظ پورے ہوئے۔ ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی تقرری کو سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے جج راجہ سعید اکرم و دیگر نے اپنے تفصیلی فیصلے میں غیر آئنی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیاہے۔ عدلیہ کے اس فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ابراہیم ضیاء نے بد نیتی کی بنیاد پر سردار خالد ابراہیم خان کو توہین عدالت کا نوٹس دیا تھا اور وزیر اعظم فاروق حیدر اور صدر آزاد کشمیر سابق چیف جسٹس کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ سردار خالد ابرہیم خان جیسی شخصیت کا اس طرح کا سخت موقف چیف جسٹس اور حکومت دونوں کے لئے درد سر بن گیا تھا اور اس پورے عرصہ میں ریاست بھر میں ملا جلا ردعمل سامنے آتا رہا لیکن سردار خالد ابراہیم خان کے موقف کو ریاست کی تمام برادریوں سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے سراہا اور ان کی حمایت میں بیان بھی دیے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس تمام وقت میں کچھ عقل سے عاری لوگ اسے برادری ازم کا بھی رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے حتیٰ کہ ابراہیم ضیاء کی برادری کے ۸ وزراء کرام نے چیف جسٹس کے حق میں پریس کانفرنس کر کے براردری ازم کی بدترین مثال قائم کی لیکن خالد ابراہیم خان کی شخصیت کے ہوتے ہوئے وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سردار خالد ابرہیم نے کبھی بھی کسی ایک مخصوص برادری و قبیلہ کے مفاد کا تخفظ نہ کیا بلکہ ہمیشہ اصول کے ساتھ کھڑے رہے جس کی بے تحاشا مثالیں موجود ہیں لیکن قارئین کے خافظہ کو تازہ کرنے کے لئے خالد ابراہیم خان کا 90 کی دہائی میں عتیق کمیشن کے خلاف اسمبلی سے احتجاجاً استعفیٰ دینا اور پھر اس کے نتیجہ میں 484 لوگوں کا ملازمتوں سے فارغ ہونا جس میں اکثریت سردار خالد ابراہیم کے اپنے قبیلہ اور پونچھ کے لوگوں کی تھی، بہترین نظیر ہے۔ اس تمام جدوجہد کو سردارخالد ابراہیم خان کی وفات کے بعد بھی جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے جاری رکھا۔ ۸۱۰۲ جون میں ہی وکلاء خضرات جن میں شاہد بہار ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز، سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ، عزت بیگ ایڈووکیٹ،شمشاد ایڈووکیٹ، فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ، بیرسٹر عدنان نواز و دیگر نے ان تقرریوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ تقریباََ دوسال کے بعد سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے (چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کے ریٹائر ہونے کے ۳ ماہ بعد) مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچوں تعیناتیوں کو کالعدم قرار دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سابق چیف جسٹس انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ جن جج خضرات کی تقرری کالعدم قرار دی گئی ان میں راجہ سجاد ایڈووکیٹ،سردار اعجاز خان ایڈووکیٹ، خالد یوسف ایڈووکیٹ، چودھری منیر ایڈووکیٹ اور رضا علی خان ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ اس کیس میں دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کے دفتر کی جانب سے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا گیا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدرآزاد کشمیر نے اس وقت کے چیف جسٹس ہائی کورٹ ایم تبسم علوی سے مشاورت کی تھی۔ اس بیان حلفی کو وکلاء نے چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے اس بیان حلفی کو دلائل کی بنیاد پر رد کر دیا۔ قانونی و سیاسی حلقوں میں یہ بحث چل پڑی ہے اور یہ مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ صدر ریاست کو عدالت عالیہ میں جھوٹا حلف نامہ جمع کرانے پر اخلاقیات کو مد نظر رکھتے ہوئے از خود استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر اسمبلی میں ان کے مواخذہ کی تحریک پیش کی جانی چاہئے۔ مزید یہ کہ سابق چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کی بد تینی چونکہ اب ثابت ہو چکی ہے لہذیٰ سردار خالد ابراہیم خان مرحوم توہین عدالت کیس دوبارہ کھولا جائے اور اس میں عدالتی ریکارڈ میں درستگی کرتے ہوئے ابرہیم ضیا ء سے اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرنے پر اعلٰی عدلیہ جواب طلب کرے اور تحریری معافی نامہ لیا جائے۔ اعلیٰ عدلیہ کا حالیہ عمل یقینا عدلیہ کی تاریخ میں مثال بن چکا ہے اور اس فیصلے سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ ضرورت اس عمل کی ہے کہ جو عدلیہ بحران ان پانچ ججز کی تقرریاں کالعدم قرار ہونے کے بعد پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس حوالے سے حکومت حکمت عملی طے کرے اور سیاسی بنیادوں سمیت ججز کی تقرریوں میں کسی بھی قسم کی کرپشن کا راستہ روکنے کے لئے قانون سازی کرے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو فعال بنا کر اس کے ذریعہ تعیناتیاں کی جائیں یا جیسے ذیلی عدالتوں میں ججز کی تعیناتیوں کے لئے طریقہ امتحان طے ہے ویسے ہی پی ایس سی کے ذریعہ اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیوں کاطریقہ کار طے کرنا چاہئے تاکہ میرٹ پر تعیناتیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی مراعات پر بھی نظر ثانی کی جانی چاہئے کیونکہ آزادکشمیر کا خطہ اقتصادی لحاظ سے خود کفیل نہیں ہے۔ اس لئے عا م آدمی کے ٹیکس سے بھاری مراعات سے اعلیٰ عدلیہ کالطف اندوز ہونا کوئی مناسب عمل نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آبادی ۲۲ کروڑ ہے جس میں ٹیکس کی آمدنی آزادکشمیر سے کئی گنا زیادہ ہے۔ جب کہ آزاد کشمیر کی کل آبادی تقریباََ پینتالیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر میں عدلیہ کو پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کے برابر مراعات دینا عقلمندی نہیں اور بجٹ پر غیر ضروری بوجھ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں عدالتی اصلاحات کے لئے مکالممہ کا آغاز کیا جائے۔ عدلیہ تحریک کے تمام ہمدردوں کو مبارک ہو!



اعلٰی عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت


اعلٰی عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت عمیر پرویز خان قرنطینہ کے سبب حسب معمول تاخیر سے جاگا اور عادتاََ پہلا کام موبائل سکرین پر نظر دوڑائی۔ حیرت کی انتہاء نہ رہی جب مختلف دوستوں کی جانب سے انباکس میں مبارکباد کے پیغامات پڑھے کہ آزاد کشمیر کی عدلیہ میں تقریباََ دو سال قبل کی گئی تقرریاں کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔ حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی و غم کے جذبات بھی سراعیت کر گے کیونکہ جس شخصیت نے ریاست آزاد کشمیر کی عوام کے لئے اصولی موقف اپنایا تھا وہ ظاہری طور پر نومبر ۸۱۰۲ میں اس دنیا سے پردہ فرما چکے۔ عدلیہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ہائی کورٹ میں تعیناتیوں کے حکومت آزاد کشمیر کے عمل کے خلاف ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان (مرحوم) نے دو برس قبل ۸۱۰۲ میں آزاد کشمیر اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ہائی کورٹ کی تعیناتیوں میں صدر مسعود خان،و زیر اعظم فاروق حیدر خان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ نے خلاف آئین اقدام کیا اور تمام قبیلوں کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں کیں جس سے انصاف کا قتل ہوا ہے اور آئین میں وضع کردہ اصولوں سے منخرف ہوتے ہوئے ایک آسامی کے خلاف ایک ہی نام تجویز کر کے ججز کی تعیناتی کی جو سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ سردار خالد ابراہیم خان نے مزید یہ نقطہ بھی اٹھایا تھا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آفتاب تبسم علوی نے ان سفارشات پر مختلف رائے دی اور ان کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ تقرریاں عمل میں لائی گئیں جواخلاقی و قانونی اعتبار سے درست نہ تھا۔ اس تقریر کے دوسرے دن چیف جسٹس سپریم کورٹ ابراہیم ضیاء نے سردار خالد ابراہیم خان کو عدالت میں آ کر وضاخت کرنے کا نوٹس جاری کیا جس پر سردار خالد ابراہیم خان نے اصولی موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اور آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ 34 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے لہذیٰ اس غیر آئینی اقدام کو نہیں مانتا اور اس چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ۰۰۰۵۱ تنخواہ لینے والے سپاہی کو گرفتاری دے سکتا ہوں لیکن ان مراعات یافتہ ججوں کی عدالت میں پیش ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے جہاں ان کا اداروں پر یقین ثابت ہوتاتھا وہیں ان کا اداروں میں بیٹھے کرپٹ لوگوں سے لڑنے کا عزم بھی۔ اور ان کی اس بات کی لاج خدا بزرگ و برتر نے بھی رکھی اور ۸ نومبر ۹۱۰۲ کو اریسٹ کئے جانے یا عدلات میں پیش کئے جانے سے پہلے ہی ۴ نومبر ۹۱۰۲ ان کو اپنی عدالت میں بلا لیا۔ سردار خالد ابراہیم خان نے اسمبلی فلور پر تقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب یہ ججز گھر جائیں گے اور کیا پتہ اس وقت ہم ہوں گے یا نہیں۔ اور آج وہ دن آ گیا جب اس سیاست کے کربلا کے اکیلے حسین کے کہے گے الفاظ پورے ہوئے۔ ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی تقرری کو سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے جج راجہ سعید اکرم و دیگر نے اپنے تفصیلی فیصلے میں غیر آئنی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیاہے۔ عدلیہ کے اس فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ابراہیم ضیاء نے بد نیتی کی بنیاد پر سردار خالد ابراہیم خان کو توہین عدالت کا نوٹس دیا تھا اور وزیر اعظم فاروق حیدر اور صدر آزاد کشمیر سابق چیف جسٹس کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ سردار خالد ابرہیم خان جیسی شخصیت کا اس طرح کا سخت موقف چیف جسٹس اور حکومت دونوں کے لئے درد سر بن گیا تھا اور اس پورے عرصہ میں ریاست بھر میں ملا جلا ردعمل سامنے آتا رہا لیکن سردار خالد ابراہیم خان کے موقف کو ریاست کی تمام برادریوں سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے سراہا اور ان کی حمایت میں بیان بھی دیے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس تمام وقت میں کچھ عقل سے عاری لوگ اسے برادری ازم کا بھی رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے حتیٰ کہ ابراہیم ضیاء کی برادری کے ۸ وزراء کرام نے چیف جسٹس کے حق میں پریس کانفرنس کر کے براردری ازم کی بدترین مثال قائم کی لیکن خالد ابراہیم خان کی شخصیت کے ہوتے ہوئے وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سردار خالد ابرہیم نے کبھی بھی کسی ایک مخصوص برادری و قبیلہ کے مفاد کا تخفظ نہ کیا بلکہ ہمیشہ اصول کے ساتھ کھڑے رہے جس کی بے تحاشا مثالیں موجود ہیں لیکن قارئین کے خافظہ کو تازہ کرنے کے لئے خالد ابراہیم خان کا 90 کی دہائی میں عتیق کمیشن کے خلاف اسمبلی سے احتجاجاً استعفیٰ دینا اور پھر اس کے نتیجہ میں 484 لوگوں کا ملازمتوں سے فارغ ہونا جس میں اکثریت سردار خالد ابراہیم کے اپنے قبیلہ اور پونچھ کے لوگوں کی تھی، بہترین نظیر ہے۔ اس تمام جدوجہد کو سردارخالد ابراہیم خان کی وفات کے بعد بھی جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے جاری رکھا۔ ۸۱۰۲ جون میں ہی وکلاء خضرات جن میں شاہد بہار ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز، سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ، عزت بیگ ایڈووکیٹ،شمشاد ایڈووکیٹ، فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ، بیرسٹر عدنان نواز و دیگر نے ان تقرریوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ تقریباََ دوسال کے بعد سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے (چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کے ریٹائر ہونے کے ۳ ماہ بعد) مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچوں تعیناتیوں کو کالعدم قرار دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سابق چیف جسٹس انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ جن جج خضرات کی تقرری کالعدم قرار دی گئی ان میں راجہ سجاد ایڈووکیٹ،سردار اعجاز خان ایڈووکیٹ، خالد یوسف ایڈووکیٹ، چودھری منیر ایڈووکیٹ اور رضا علی خان ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ اس کیس میں دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کے دفتر کی جانب سے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا گیا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدرآزاد کشمیر نے اس وقت کے چیف جسٹس ہائی کورٹ ایم تبسم علوی سے مشاورت کی تھی۔ اس بیان حلفی کو وکلاء نے چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے اس بیان حلفی کو دلائل کی بنیاد پر رد کر دیا۔ قانونی و سیاسی حلقوں میں یہ بحث چل پڑی ہے اور یہ مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ صدر ریاست کو عدالت عالیہ میں جھوٹا حلف نامہ جمع کرانے پر اخلاقیات کو مد نظر رکھتے ہوئے از خود استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر اسمبلی میں ان کے مواخذہ کی تحریک پیش کی جانی چاہئے۔ مزید یہ کہ سابق چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کی بد تینی چونکہ اب ثابت ہو چکی ہے لہذیٰ سردار خالد ابراہیم خان مرحوم توہین عدالت کیس دوبارہ کھولا جائے اور اس میں عدالتی ریکارڈ میں درستگی کرتے ہوئے ابرہیم ضیا ء سے اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرنے پر اعلٰی عدلیہ جواب طلب کرے اور تحریری معافی نامہ لیا جائے۔ اعلیٰ عدلیہ کا حالیہ عمل یقینا عدلیہ کی تاریخ میں مثال بن چکا ہے اور اس فیصلے سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ ضرورت اس عمل کی ہے کہ جو عدلیہ بحران ان پانچ ججز کی تقرریاں کالعدم قرار ہونے کے بعد پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس حوالے سے حکومت حکمت عملی طے کرے اور سیاسی بنیادوں سمیت ججز کی تقرریوں میں کسی بھی قسم کی کرپشن کا راستہ روکنے کے لئے قانون سازی کرے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو فعال بنا کر اس کے ذریعہ تعیناتیاں کی جائیں یا جیسے ذیلی عدالتوں میں ججز کی تعیناتیوں کے لئے طریقہ امتحان طے ہے ویسے ہی پی ایس سی کے ذریعہ اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیوں کاطریقہ کار طے کرنا چاہئے تاکہ میرٹ پر تعیناتیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی مراعات پر بھی نظر ثانی کی جانی چاہئے کیونکہ آزادکشمیر کا خطہ اقتصادی لحاظ سے خود کفیل نہیں ہے۔ اس لئے عا م آدمی کے ٹیکس سے بھاری مراعات سے اعلیٰ عدلیہ کالطف اندوز ہونا کوئی مناسب عمل نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آبادی ۲۲ کروڑ ہے جس میں ٹیکس کی آمدنی آزادکشمیر سے کئی گنا زیادہ ہے۔ جب کہ آزاد کشمیر کی کل آبادی تقریباََ پینتالیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر میں عدلیہ کو پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کے برابر مراعات دینا عقلمندی نہیں اور بجٹ پر غیر ضروری بوجھ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں عدالتی اصلاحات کے لئے مکالممہ کا آغاز کیا جائے۔ عدلیہ تحریک کے تمام ہمدردوں کو مبارک ہو!



نظریاتی ریاست کے لبرل سیاست دان


نظریاتی ریاست کے لبرل سیاست دان از سیّد زاہد حسین نعیمیؔ نظریہ وہ بنیاد حیات ہے جس پر قومیں وجود میں آتی ہیں۔ قومیں مذہبی، علاقائی، لسانی، رنگ و نسل کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ مغربی نظریہ قومیت انہی بنیادوں پر ہے، جو زیادہ دیر پا نہیں ہے۔ سینکڑوں قومیں اس بناء پر وجود میں آئیں اور پھر صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ اس کے برعکس دین اسلام نے قومیت کے بجائے ملت کانظریہ پیش کیا ہے، جس کی بنیاد کلمہ شہادت ہے، یعنی بنی نوع انسان میں سے جس نے بھی رسول اللہﷺ کا کلمہ پڑھ لیا، وہ ملت اسلامیہ میں شامل ہو گیا۔ ملت اسلامیہ وسیع المفہوم ہے، یہاں رنگ و نسل، علاقہ، زبان، اس کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے اور اولاد آدم میں سے کوئی بھی شخص جو کلمہ گو ہے، وہ ملت اسلامیہ کا حصہ ہے اور وہ اسی بنیاد پر ایک وحدت میں ضم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں شرق و غرب سے تشریف لانے والے مختلف نسل، رنگ، زبان اور علاقہ کے حامل تھے، لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کے بھائی تھے۔ حضرت بلال حبشی، حضرت سلمان فارسی، حضرت صعیب رومی یہ وحدت اسلامی میں شامل ہو کر ان حجاز مقدس کے باسیوں کے بھائی بن گئے جو قریش تھے، حجازی، ہاشمی تھے۔ مہاجر تھے، انصار تھے، مہاجر اور انصار آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ نہ کوئی نسبی رشتہ اور نہ کوئی علاقائی رشتہ، اور وہ عرب اور قریش سردار ان ان سے الگ ہو کر عتاب و عذاب کا شکار ہو گئے، جیسے ابولہب، ابوجہل وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک ملت اور کفار کو دوسری قرار دیا ہے۔ گویا کھلم کھلا دو نظریات کے پیروکاروں کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ ان دونوں جماعتوں کو پھر رحمن اور شیطان کی دو الگ الگ جماعتیں قرار دیا ہے۔ یہ نظریہ ہی تھا جس کے لئے نبی کریمﷺ نے کفار مکہ کی سختیاں برداشت کیں۔ شعیب ابوطالب گھاٹی میں تین سال گزارے۔ طائف میں پتھر کھائے، جنگ بدر، احد اور خندق ہوئی اس سے کوئی بھی انحراف نہیں کر سکتا۔ جنگ بدر میں اسی نظریہ کی فتح تھی۔ فتح مکہ کے دن اسی نظریہ مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، حق کے آنے اور باطل کے مٹنے کا اعلان۔ ریاست مدینہ کا قیام اسی نظریہ کی بنیاد پر تھا۔ نبی کریمﷺ کو پیشکش کی گئی تھی۔ کچھ عرصہ تم ہمارے دیوی دیوتاؤں کی پوجاپاٹ کرلو اور کچھ عرصہ ہم تمہارے خدا کی عبادت کر لیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکافرون نازل کرکے مشرکین عرب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ اب قیامت تک یہی اُصول، یہی ضابطہ اور یہی نظریہ باقی رہے گا۔ یعنی کفر و اسلام کے نظریات جدا جدا ہیں۔ وہ کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دونوں کے ملاپ سے کوئی تیسرا نظریہ قابل قبول ہے۔ دنیا میں پہلی نظریاتی ریاست مدینہ منورہ ہے اور مدینہ منورہ کی اتباع میں دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی ریاست وجود میں آئے گی وہ اسی نظریہ پر قائم ہو گی۔ دنیا میں دوسری بڑی ریاست جو نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی وہ ریاست پاکستان ہے، جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی تھی۔ پاکستان کے قیام کا مقصد اسلامی نظریہ حیات کو نافذ کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ۷۴۹۱ء میں جو نعرہ بلند ہوا، یہی تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“ یعنی یہ ملک کلمہ شہادت کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ یہ ایک اسلامی نظریاتی ملک ہے۔ اسی نظریہ حیات کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے جانی و مالی قربانیاں دیں اور ہجرت پر مجبور ہوئے۔خاندانوں کے خاندان ہندو اور سکھ شدت پسند جتھوں کے ہاتھوں تہ تیغ ہوئے۔ ۷۴۹۱ء کے دلخراش واقعات سن کر اور پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اسلامی نظریاتی ریاست پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور قیام کے ساتھ ہی قرارداد مقاصد نے نئی ریاست کے خدوخال واضع کر دئیے۔ قرارداد مقاصد میں بتایا گیا تھا کہ مسلمان اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے اور غیرمسلم اقلیتوں کو اپنے مذہب اور عقائد پر عمل کرنے اور اپنی اپنی ثقافتوں اور روایات کو ترقی دینے کی مکمل آزادی ہو گی۔ اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کے جائز حقوق کی حفاظت کا انتظام کیا جائے گا۔ بعد میں بتائے جانے والے دساتیر بالخصوص ۳۷۹۱ء کے آئین میں اسے اور زیادہ موثر اور واضح کر دیا گیا اور یہ سب اتفاقِ رائے سے ہوا۔ مسلمان کی تعریف، دین اسلام کی سربلندی، حاکمیت اعلیٰ کا تصور، اسلامی تعلیمات کا فروغ، توہین مذہب کے قوانین، ممبر اسمبلی کے لئے صادق و امین وغیرہ سمیت اسلامی نظریہ حیات کو فروغ دینے میں عملی اقدامات یہ سب کچھ آئین پاکستان میں موجود ہے۔ ساتھ نظریہ پاکستان کے خلاف تحریری یا تقریری قولی یا فعلی مسلم و غیرمسلم جو بھی اس میں ملوث ہو گا وہ قابل تعزیر ہو گا۔ اس کے خلاف آئین پاکستان کی خلاف ورزی پر مقدمہ بغاوت چلایا جائے گا اور یہ کہ اس نظریہ حیات کی خلاف ورزی پر اس کی قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی جائے گی، لیکن بدقسمتی سے ان تمام چیزوں کو بالائے طاق رکھ کر اس اسلامی نظریاتی ریاست کو سیکولر اور لبرل بنانے کی کوشش جاری ہے۔ مذہبی جماعتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باہم دست و گریباں بنا دیا گیا۔ جمعیت علماء پاکستان نے ۰۷۹۱ء میں پارلیمانی جماعت کے طور پر ۳۷۹۱ء کے آئین کو اسلامی آئین قرار دینے میں اہم کام کیا۔ ۴۷۹۱ء میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا، نتیجہ اُسے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اس کی جگہ ایک لبرل اور سیکولر جماعت مہاجر قومی موومنٹ کو جنم دیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ سیکولرزم کی باتیں کیں۔ مذہبی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں آنے سے روکنے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئیں۔ کچھ مذہبی جماعتوں کو دانا دنکا دے کر مطمئن کر دیا گیا۔ پاکستان کے سیاست دان اور ا نکی سیاسی جماعتیں اگرچہ سیاست میں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ایک دوسرے کے خلاف دھواں دار تقاریر بھی کرتے ہیں، لیکن قادیانی مسئلہ پر، توہین مذہب کے معاملہ پر، قانون توہین رسالت پر، غیرمسلموں سے محبت پر سب یکساں ہیں اور ایک دوسرے کے اتحادی بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں مندر کی تعمیر پر گرماگرم بحث ہوئی۔ اسلام آباد میں ہندوؤں کے مندر کی تعمیر پر تمام جماعتیں مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، ایم کیوایم یہ تمام جماعتیں مندر کی تعمیر کے حق میں ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں۔ خواجہ آصف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ معاذاللہ ”کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر فوقیت نہیں ہے“ یہ کہہ کر خواجہ آصف نے اسلام کی بنیادی تعلیم سے انکار کیا ہے۔ دو قومی نظریہ اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد ان کی رکنیت باقی نہیں رہتی اور ان کے خلاف مقدمہ بنتا ہے، اگرچہ اب وہ اس سے انکاری ہیں۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ خواجہ آصف کی تائید پر ایک صفحہ پر ہیں، البتہ مسلم لیگ (ق) نے مندر کی مخالفت کی ہے، لیکن اُس نے اپنے دورِحکومت میں اس سے بھی بڑھ چڑھ کر گوردواروں اور مندروں پر کام کیا تھا۔ یہ لبرل سیاست دان چونکہ بنیادی طور پر غیرمسلموں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔ اس لئے ان کی مذہبی رسومات میں بھی جاکر اس شرکیہ عمل سے گزرتے ہیں جو ہندو یا سکھ کرتے ہیں۔ انہی کی طرح ماتھے پر تلک لگاتے ہیں، زردرنگ کے کپڑے پہنتے ہیں، مندروں اور گوردواروں میں جاکر دیوی دیوتاؤں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ ہولی و دیوالی میں شریک ہو کر رنگ پھینکتے ہیں۔ مشاہد حسین سیّد، بے نظیر بھٹو، بلاول بھٹو، آصف علی زرداری، نوازشریف، شہبازشریف، چوہدری برادران، عمران خان، ایم کیو ایم کی قیادت مذکورہ سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار سیاست دان کی ایسی تقریبات میں شرکت ریکارڈ پر موجود ہیں، بلکہ نوازشریف بحیثیت وزیراعظم پاکستان بھارت میں کھڑے ہو کر کہہ چکے ہیں بھارت و پاکستان کے لوگ ایک ہیں، ہم سب کا کلچر ایک ہے، درمیان میں صرف سرحد کی لکیر ہے۔ اس طرح کی تقاریر و بیانات دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں کو ایک مذہبی جماعتوں کا ڈر نہ ہو تو وہ اس ملک کو کب کا سیکولر ملک بنا لیتے، لیکن جب تک پاکستان میں ایک بھی کلمہ گو باقی ہے اس نظریاتی ریاست کو سیکولر ریاست بنانے کی لبرل سیاست دانوں کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ مذہبی حلقے کہہ چکے ہیں کہ آئین و قانون میں غیرمسلموں کو جو حقوق حاصل ہیں، وہ ان کو ضرور ملنا چاہیے، لیکن ایک اور دین الٰہی کی یہاں گنجائش نہیں، پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسی پر قائم رہے گا۔



آزادکشمیر کی اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں، قابلِ عمل راہ کون سی ہے؟


آزادکشمیر کی اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں، قابلِ عمل راہ کون سی ہے؟ جسٹس(ر)منظور حسین گیلانی میں نے اپنے گزشتہ کالم میں سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے ایک فیصلہ کے ذریعہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے پانچ ججوں اور اس سے پہلے متعدد بار کئی ججوں کی ایک ہی جیسی وجوہات کی بناء پر برطرفی پر تبصرہ کیا تھا- چند ماہ پہلے اسی اصول کو کھینچ تان کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی برطرف کیا گیا تھا ، حالانکہ سپریم کورٹ اس سے پہلے اس تقرری کو درست قرار دے چکی تھی اور وہ اس کیس سے یکسر مختلف بھی تھا- حالیہ فیصلے میں فاضل سپریم کورٹ نے ضمنی طور اس طرف اشارہ بھی کیا ہے- اس کالم میں، مَیں نے رائج الوقت آئینی طریقہ کار ناکام ہونے کی چند وجوہات بھی لکھی تھیں البتہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کرنا کیا چاہیے ، وہ کالم کی طوالت کی وجہ سے موخر کر دیا تھا- تقرری کے طریقہ کار کو آئین کے مطابق عمل میں نہ لانے کی ذمہ داری سراسر صدارتی سیکریٹریٹ اور کونسل سیکریٹریٹ پر ہے ، لیکن اس غلط کاری کا الزام اور ذمہ داری حکومت پر لگی اور نقصان برطرف ججوں کا ہوا ہے، جو انتہائی افسوس ناک ہے- ریاست کا اقتداراعلیٰ اور ہر ادارے کی بری کارکردگی کے لیے جواب دہ بھی حکومت ہی ہوتی ہے،جبکہ آزاد کشمیر میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے حکومت کے قانون و انصاف کے سکریٹریٹ کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی جاتی حالانکہ رُولز آف بزنس کے تحت یہ اسی کی ذمہ داری اور اختیار میں ہے- تاہم اتنے بڑے عمل کو اس طرح نظر انداز کرنا یقینآ حکومت کی گڈ گورننس کی ذمہ داری ادا کرنے سے پہلو تہی ہے- اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری ان کی درخواست ، کسی کمیشن کے ذریعہ امتحان کے نتیجے یا کار کردگی کی جانچ پڑتال پر نہیں ہوتی ، صرف متعلقہ چیف جسٹسز کے پینل کی بنیاد پر کونسل کی ایڈوائس سے مشروط ہے ، تاہم ایک حکومتی پراسس سے گزرنا پڑتا ہے- اس پراسس کے ناقص ہونے میں متعلقہ امیدواروں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا- بہ ایں ہمہ کسی بھی غیرمتوقع فیصلے کی صورت میں عزت، شہرت ، وقار ، مرتبے اور روز گار سے محروم ہونے کا نقصان تو ان کا ہی ہوتا ہے- قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر متعین طریقہ کار پر عمل کیے بغیر کسی کو فائدہ ملا ہے تو وہ ناجائز استفادہ کے زمرہ میں آتا ہے جس کو اس بنا پر تحفظ نہیں مل سکتا کہ اس میں متاثرہ فریق کا کوئی قصور نہیں تھا، کیونکہ مستفید تو وہی ہورہا ہے - لیکن اس عرصہ کے دوران کیے گئے اقدامات اور حاصل شدہ استفادہ کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ بظاہر ایک جائز فرمان حکومت کے تحت عمل میں آئے ہوتے ہیں اور اس کو تحفظ حاصل رہتا ہے وگرنہ اس کے مضر اثرات کا دائرہ وسیع تر ہوکر نظام کو تلپٹ کر سکتا ہے- قانونی زبان میں اس کو Transactions passed and closed ہونے کی وجہ سے Defacto Doctrine یا Fait accompli کے طور درست قبول کیا جاتا ہے - اس وقت سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں مستقل چیف جسٹس کی اسامی خالی ہے جس پر سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج، بطور چیف جسٹس فرائض انجام رہے ہیں ، ان ہی کی مستقل تقرری ہونا آئینی تقاضا ہے، یہ جتنی جلدی ہوجائے اچھا ہے کیونکہ باقی ساری تقرریاں اس کے بغیر ممکن نہیں- اس پر تقرری کے بعد سپریم کورٹ میں ایک مستقل جج کی اسامی خالی ہو جائے گی- ہائی کورٹ میں بر طرف شدہ ججوں کی پانچ اسامیاں خالی ہو گئی ہیں - مستقل چیف جسٹس کی برطرفی کے بعد اس اسامی پر بھی سینئیر موسٹ جج بطور ایکٹنگ چیف جسٹس ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، جن کی مستقل چیف جسٹس کے طور تقرری بھی آئینی تقاضا ہے، جس کے بعد چھ مستقل خالی اسامیوں پر تقرری ہو سکتی ہے- آئینی تقاضوں کے تحت سب سے پہلے چیف جسٹس آزاد کشمیر، یعنی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی اسامی پر تقرری ناگزیر ہے ، کیونکہ سپریم کورٹ کے جج اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججوں کی تقرری مستقل چیف جسٹس کی سفارش کے بغیر نہیں ہو سکتی- چیف جسٹس آزاد کشمیر کی تقرری کسی سفارش کی محتاج نہیں جس کی خاطر معاملہ پہلے سے کونسل کے زیر کار ہے، اس لیے اس پر فوری تقرری ہونا چاہیے تاکہ باقی ججوں کی تقرری ممکن ہو سکے ، جس میں پہلے تو سپریم کورٹ میں ایک اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری ہی ہو سکتی ہے- ہائی کورٹ کے باقی ججوں کی تقرری ، ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کے بعد ہی ہو سکتی ہے ، ایکٹنگ چیف جسٹس سفارش کر سکتے ہیں نہ ہی سابق چیف جسٹس صاحبان کی سفارشات کی کوئی قانونی حیثیت رہی ہے- اس لیے جب تک مستقل چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی تقرری نہیں ہوتی، معاملات التواء کا ہی شکار رہیں گے، دونوں بڑے ادارے عملی طور سوالیہ نشان بنے رہیں گے- ججوں کی تقرری کا رائج الوقت طریقہ کار ناکام بنا دیا گیا ہے، گوکہ طویل عرصے سے یہی طریقہ کار بہت اچھے طریقے سے چل رہا تھا- میں وثوق سے، لیکن بادل نخواستہ یہ بات کہتا ہوں کہ طریقہ کار غلط نہیں ہے، لیکن اس پر عمل کرنے اور کرانے والوں کے معیار کی سطح بدل گئی ہے، ترجیحات بدل گئی ہیں ، اس پر ذاتی اور گروہی مفادات حاوی ہوگئے ہیں- اس لیے بدلے ہوئے حالات اور اس پس منظر میں جو ہم کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں، اس طریقہ کار کو بدلنا پڑے گا ، تاکہ شخصی اور منصبی کمزوریوں پر ایک وسیع البنیاد کمیشن کے ذریعہ قابو پایا جا سکے، جو خالی آسامیوں پر تقرری کے لیے ایک Transparent اور Merit Oriented طریقہ کار مقرر کر کے ، اتفاق رائے یا دو تہائی اکثریت سے تقرریوں کو حتمی صورت دے - پاکستان کے آئین میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان کرتے ہیں- سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے ممبران میں سپریم کورٹ کے چار سینئر جج، سابق چیف جسٹس یا جج ، فیڈرل وزیر قانون، اٹارنی جنرل ، پاکستان بار کونسل کے نامزد سینئیر وکیل ہیں ، جبکہ ہائی کورٹ میں تقرریوں کے لیے ممبران میں متعلقہ صوبے کا چیف جسٹس اور سینئیر موسٹ جج، متعلقہ صوبائی وزیر قانون اور صوبائی بار کونسل کا نامزد وکیل بھی ممبر ہوں گے- اس کمیشن کی سفارشات پارلیمانی کمیٹی کو بھیجی جاتی ہیں- پارلیمانی کمیٹی آٹھ ممبران پر مشتمل ہوتی ہے جس میں حکومتی اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہوتی ہے- یہ اکثریت رائے سے کمیشن کی سفارشات منظور ہونے کی صورت میں تقرری کی منظوری دیتی ہے- اختلاف کی صورت میں معاملہ وجوہات دے کر دوبارہ جوڈیشل کمیشن کو بھیجا جا سکتا ہے- یہ انتظام فیڈرل سسٹم کا تقاضا ہے جبکہ آزاد کشمیر صوبائی مماثلت رکھنے والا خطہ ہے لیکن حکومت پاکستان کے صوبوں کی طرح براہ راست حکومت پاکستان کے کنٹرول میں نہیں، البتہ بالواسطہ حکومت پاکستان کے مختلف ادارے یہاں ویسی ہی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں جیسا مجموعی طورپاکستان بھر میں کرتے ہیں-اس لیے یہاں کمیشن کی تشکیل میں بالواسطہ طور حکومت پاکستان بھی ایک اسٹیک ہولڈر ہے- فی الوقت کشمیر کونسل کے چئیرمین کی حیثیت سے وزیراعظم پاکستان کا ہی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں حتمی رول ہے جو بذات خود آمرانہ عمل ہے اور اس وجہ سے ہی اکثر بے ضابطگیاں ہوتی ہیں- اس لیے کمیشن کی تشکیل میں حکومت پاکستان کی نمائندگی سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ، لیکن کُلی اختیار وزیراعظم پاکستان/ چئیرمین کشمیر کونسل کو بھی نہیں دیا جا سکتا- پاکستان جوڈیشل کمیشن سے رہنمائی لیتے ہوئے اس کی روح مقامی حالات میں سموئی جا سکتی ہے جو آزاد کشمیر کے ' تیتر ، بٹیر' سیاسی نظام میں توازن برقرار رکھ کے بہتر نتائج کا ضامن ہو سکتا ہے- آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کے پس منظر میں اعلیٰ عدلیہ اور اس سے مماثلت رکھنے والے دیگر اداروں ، شریعت کورٹ، الیکشن کمیشن، احتساب کمیشن، چئیرمین پبلک سروس کمیشن ، محتسب اعلیٰ کی تقرری کے لیے مشترکہ کمیشن کی تشکیل کی ضرورت ہے جو 'جوڈیشل سلیکشن بورڈ ' کے نام سے تشکیل پائے جس کے لیے آزاد کشمیر کے آئین میں دفعہ 41-A کا اضافہ کیا جانا مطلوب ہے - اس کی ہئیت ترکیبی ARJK تھنک ٹینک نے پہلے 2012 میں‌تجویز کی جس کا اعادہ 2014 میں دوبارہ کیا گیا ہے ، اس کی تفصیل یہ ہے: 'چیف جسٹس آزاد کشمیر کمیشن کے چئیرمین ہوں گے جس کے ممبران میں، سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج، چیف جسٹس ہائی کورٹ، سینئیر موسٹ جج ہائی کورٹ، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے دو ریٹائرڈ چیف جسٹس یا جج، ( جو ڈیشل ممبران) مرکزی وزیر کشمیر اور گلگت افئیرز یا حکومت پاکستان کا نامزد کردہ کوئی دوسرا وزیر، اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، آزاد کشمیر کے وزیر قانون، آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کا وائس چئیرمین، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر- کمیشن کو اپنی کارروائی کے لیے خود قواعد بنانے کا اختیار ہوگا- ہر اسامی کے لیے کمیشن دو تہائی اکثریت سے صرف ایک نام تجویز کرے گا جبکہ چیف جسٹس کے لیے صرف سینئر موسٹ جج کو ہی تجویز کیا جائے گا - سفارش کے ایک ہفتہ کے اندر صدر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے-' میں حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان ، آزاد کشمیر کے چیف جسٹس صاحبان اور ان کے ہاتھ ، کان ، آنکھوں اور زبان کا کام کرنے والوں سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے آپ ، اپنے اختیارات اور اپنی انا سے بالا تر ہوکر اداروں اور مملکت کے بہتر مفاد میں کام کریں ، تاکہ اقتدار سے باہر آنے کے بعد، ان کو اپنے غلط عمل پر افسوس نہ ہو-



"ساوتھ ایشیا فیڈریشن" ممکن ہے؟


سچ تو یہ ہے "ساوتھ ایشیا فیڈریشن" ممکن ہے؟ بشیر سدوزئی ۔ ساوتھ ایشیا میں امن و ترقی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارتی سول سوسائٹی ایک نئی تجویز سامنے لائی ہے۔ لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس میں بھارتی ریاستی ادارے، حکومت یا سیاست دان بھی شامل ہیں یا یہ محض سول سوسائٹی ہی کی اختراع ہے ۔ بھارت کی معروف صحافی اور سوشل میڈیا و سول سوسائٹی کی متحرک رکن نیوپور شرما نے اپنے گروپ کی جانب سے فیس بک پیج nurpur Sharma official پر دونوں ممالک کے عوام کو مخاطب کیا اور 36 منٹ کی گفتگو میں مس شرما نے کہا کہ دوستی اور محبت میں پاکستان ایک قدم آگئیں آئے تو بھارت دو قدم بڑھائے۔ تجویز کی بڑی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی اور کہا کہ آپس کی لڑائی جھگڑے میں دونوں ممالک کو کوئی فائدہ نہیں تیسرا فائدہ اٹھا رہا ہے جو اسلحہ کا بیوپاری ہے۔ اس کشیدگی کو ختم کر کے عوام کی خوش حالی اور ترقی کے لئے خطہ کے ممالک پر مشتمل "ساوتھ ایشیا فیڈریشن " قائم کی جائے، بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نیوپور شرما کی تجویز ہے کہ دونوں ممالک کشمیر کو ایک اکائی کے طور فیڈریشن کا حصہ تسلیم کریں۔ اس پر ابھی تک کسی بھی جانب سے ردعمل نہیں آیا تاہم بھارت کی سول سوسائٹی کے اضطراب سے لگتا ہے کہ امریکی عوام کی طرح بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی مودی کی پالیسیوں سے خطہ خصوصا بھارت کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں ۔ مودی کی قیادت میں بی جے پی نے بھارت کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر کمزور کر دیا ۔ بی جے پی نے نہ صرف گاندھی کے سیکولر بھارت کا چہرہ بگاڑ دیا بلکہ پورے خطہ کو بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کی پیدائش ہی اس نظریہ پر ہوئی کہ جب ہندوستان میں پہلے مسلمان نے پہلا قدم رکھا ہندو دھرم کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا، اور اس وقت تک دھرم کو خطرہ لاحق ہو گا جب تک ہندوستان سے آخری مسلمان کا آخری قدم اٹھ نہیں جاتا۔ یہاں ہندوستان سے مراد پاکستان اور بنگلہ دیش بھی ہے۔ ایسی سوچ کے لوگوں سے کسی خیر کے توقع رکھنا عبث ہے ۔تاہم بی جے پی کی اس سے قبل قیادت، اٹہل بہاری واجپائی ہوں یا مراجی ڈسائی یا کوئی دوسرا ان میں کچھ تدبر اور سنجیدگی نظر آتی تھی ۔ مودی نہ صرف خطہ کے لیے اسکورٹی رسک ہے بلکہ اس نے خود دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ میں نفرتوں کی آگ لگا دی۔ آج کا بھارت صرف غربت اور افلاس ہی میں نہیں ، باہمی تعصب اور نفرتوں کی آگ میں بھی جل رہا ہے۔ بھارت کا میڈیا کشمیریوں اور پاکستان کے لئے جو زبان استعمال کر رہا ہے، اس سے صاف لگتا ہے کہ ہر کوئی بال ٹھاکرے بیٹھا دل کی بھڑاس نکال رہا ہے۔الزامات کی بوچھاڑ اور نفرت انگیز مہم شروع کی ہوئی ہے جیسا وعدہ معاف گواہ ہو۔ یہ ایک دو میڈیا ہاوسز کا مسئلہ نہیں تمام کے تمام چینل کا یہی طریقہ اور رویہ ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کو حکومت کی بھی آشیرواد حاصل ہے۔ بھارت جیسے غریب ملک جہاں ایک ارب سے زیادہ لوگ مفلسی اور جہالت کے باعث غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کو گمراہ کرنا آسان ہے ۔ جب کہ بی جے پی کے بدمعاش میڈیا کے اس پروپیگنڈے کی آگ کو خوب ہوا دے کر پاکستان کے خلاف نفرتوں کو بھڑکاتے ہیں جس کا سارا خمیازہ، کشمیری عوام اور بھارتی مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ ان حالات اور ایسے ماحول میں بھی اگر بھارت میں کچھ لوگ موجود ہیں جو امن اور خوش حالی بھائی چارے کی بات اور اپنی سے کوشش کر رہے ہیں کہ خطہ میں امن اور سکون ہو۔ مسئلہ کشمیر کا آبرومندانہ حل نکل آئے جو دونوں ممالک اور خود کشمیریوں کو قبول ہو، تو ان کی بات پر غور کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے۔ ممکن ہے مودی اور اس کے دوستوں کو بھی عقل کی کوئی بات سمجھ آ جائے ۔ بھارت سول سوسائٹی کی " ساوتھ ایشیا فیڈریشن " کی تجویز پر کم از کم دونوں ممالک کی سول سوسائٹی کی حد تک بحث مباحثہ ہو سکتا ہے ۔ ساوتھ ایشیا براعظم ایشیا کے جنوبی علاقوں کو کہا جاتا ہے جس میں 8 ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں نیوپور شرما کی تجویز کے مطابق 9ویں اکائی کشمیر کو شامل کیا جائے ۔اس خطہ کو اللہ تعالی نے وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے لیکن کبھی بھی یہاں کے عوام کو اس سے فوائد حاصل نہیں ہوئے ۔ اس کے ایک طرف دنیا کا تیسرا بڑا سمندر بحرِ ہند اور دوسری جانب بلند ترین پہاڑی سلسلہ ہمالیہ جو نیپال سے وسط ایشیا تک طویل اور برصغیر و چائنہ کو الگ کرتا ہے۔ مجموعی طور پر اس کی آبادی دو ارب کے لگ بھگ ہے۔پورے ساوتھ ایشیا میں ہندی اور اردو بڑی زبانیں ہیں جو دونوں بولنے اور سمجھنے میں قریب تر ہیں بنگالی، پشتوں اور دیگر علاقائی زبانیں بھی ہیں لیکن ماضی میں نوآبادیاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے انگریزی سب کی مشترکہ زبان ہے۔ خوبصورتی، زرخیزی اور پیداواری صلاحیتوں کے باعث یہ علاقہ ماضی میں ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کا مفتح رہا۔ انہوں نے اس سرزمین کو لوٹا بھی اور عظیم بھی بنایا ۔ خصوصا مغلوں نے اس خطے کی ثقافت، مذہب اور روایتوں پر بہت اثر چھوڑا جن کی حکومت کا دورانیہ طویل تھا۔زمانہ قدیم میں انڈس سولائیزیشن یا انڈس تہذیب دنیا کی ترقی یافتہ ترین تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ مغلوں کے بعد یہ علاقہ برطانیہ کے قبضے میں رہا جبکہ چند چھوٹے علاقوں پر پرتگال، ہالینڈ اور فرانس کا قبضہ بھی رہا۔ 1940ء کی دہائی کے اوآخر میں یہ خطہ آزاد ہوا تو برصغیر مذہب کے نام پر تقسیم ہو چکا تھا ۔ مسلمانوں نے الگ وطن تو حاصل کیا مگر ہندوں نے ابھی تک اس ملک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا جب کہ انگریز جاتے جاتے مسئلہ کشمیر کو حل طلب چھوڑ کر دونوں ممالک کے درمیان فتنہ ڈال گئے ۔ 73 سال گزرنے کے بعد بھی تمام وسائل سے مالا مال ساوتھ ایشیا ترقی نہیں کر رہا۔ بے پناہ وسائل کے باوجود 60 فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔عظیم سلسلہ کوہ ہمالیہ جو برف سے ڈھکہ دیوار کی طرح کھڑا ہے ۔دریائے سندھ، گنگا اور برہم پترا ان پہاڑوں سے پگھلنے والی گلیشیر کے ٹھنڈے پانی سے میدانوں کو زرخیز اور ڈیلٹائی علاقے سبز سونے کی کانیں بنانے کے لئے کافی ہیں۔ وسط میں سطح مرتفع اور ساحلی بندرگاہوں کے ذریعے سبز سونے کو دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچانے کی سہولت حاصل ہے۔ لیکن باہمی جھگڑوں کے باعث خطہ کے عوام اللہ تعالی کی دی ہوئی ان سہولیات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سک رہے ۔ آبادی کی اکثریت کا ذریعہ معاش زراعت ہونے کے باوجود زرخیز زمین سے معاش حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہو رہی۔ حتی کہ رہائش کی مطلوبہ سہولیات نہ ہونے کے باعث آبادی کی بڑی تعداد کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات تک موجود نہیں ہر لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان بھارت کا ہی ہوا مگر بدقسمتی سے بھارت کو صاحب بصیرت اور سیاسی تدبر کی قیادت کبھی میسر نہیں آئی جو اس ملک کو قائدانہ پوزیشن میں لے جاتی۔ آبادی اور رقبہ لے لحاظ سے بھارت بڑا ملک ہے اس کی قیادت پر ذمہ داری بھی زیادہ تھی کے آزادی کے بعد وہ خطے کے ممالک کو اپنے ساتھ جوڑتی ۔ چھوٹے ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سفارتی تعلقات اور ہمدردی کا رویہ رکھتی۔ کشمیر پر جبرا قبضے کے بجائے وہاں کے عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا تو کم از کم بھارت خطہ کا چوہدری ہوتا اور دیگر تمام ممالک بھارت کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ بھارت کی توسیع پسندانہ عزائم سے خوفزدہ ہو کر خطہ کے تمام ممالک نے چین کو خوش آمدید کہا، آج چین جنوبی ایشیا کا حصہ نہ ہونے کے باوجود داخل ہو چکا ۔ اب بھارت کے بس میں نہیں کہ چین کو خطہ سے باہر نکال سکے۔افغانستان میں بھارت کا کردار منفی رہا۔طالبان اہم سیاسی قوت کے طور پر ابھرے ہیں وہ بھارت کے کردار کو بالکل نہیں چاتے۔نیپال بھارتی طرز عمل سے عاجز آچکا ہے اور اس کا جھکاؤ چین کی طرف ہے۔بھوٹان جو بھارت کی ذیلی ریاست تھی اب اس سے چھٹکارا پانے کی راہ تلاش کررہاہے۔بنگلہ دیش اور چین کے تعلقات میں گرم جوشی میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔۔سری لنکا کبھی بھی چین مخالف محاذ میں شامل نہیں ہوسکتا بلکہ چینی کی سرمایاکاری سے استفادہ کررہاہے۔ مختصر یہ کہ بھارت کے علاوہ ساوتھ ایشیا کے تمام ممالک چین کے ون روڑ ون بلٹ منصوبہ کے ساتھ منسلک ہو چکے ۔ انڈین قیادت کے پاس کون سی حکمت عملی ہے کہ ان ممالک کو اس سے علیحدہ کرے ۔ اس کے باوجود نیو پور شرما کی تجویز پر دونوں ممالک کی سول سوسائٹی میں اگر ڈبیٹ ہوتی ہے تو کیا حرج ہے بہتری کی امید کی گنجائش رہنی چاہیے ۔۔۔



آزادکشمیر ہائی کورٹ کے ججوں کی بر طرفی، خرابی کی جڑ کہاں ہے؟


آزادکشمیر ہائی کورٹ کے ججوں کی بر طرفی، خرابی کی جڑ کہاں ہے؟ جسٹس (ر)منظور حسین گیلانی عرف عام میں ہائی کورٹ کے جج کو بھی ہائی کورٹ ہی کہا جاتا ہے ، اس تناظر میں دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے پانچ ہائی کورٹس کو بر طرف کردیا ہے - اس واقعے کا مجھے ذاتی طور سےمختلف وجوہات کی بنا پر افسوس ہوا- ایک تو یہ کہ اتنے بڑے منصب داروں کی تقرری کو خلاف آئین قرار دے کر ان کی برطرفی ، عوام الناس کا اعلیٰ عدلیہ پر اعتماد متزلزل ہونا، ججوں کی نوکری کا ساتھی ججوں کی خوشنودی پر منحصر رہ جانا، عوام الناس میں حکومت کے اختیارات کے غلط استمعال کا تاثر عام ہو جانا- سب سے بٹ کر یہ کہ میں ذاتی طور دو لوگوں کی اہلیت بہت اچھی طرح جانتا تھا جو میسر لوگوں میں سے اس اہلیت کے حامل ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی نہیں، لیکن میں ذاتی طور ان کی اہلیت سے واقف نہیں- سپریم کورٹ نے بڑا تفصیلی اور مدلل فیصلہ لکھا ہے جس کا مرکز و محور ان ججوں کی تقرری میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت کا آئین کے مطابق نہ ہونا اور صدر آزاد کشمیر کا مسلمہ آئینی اصولوں اور عدالتی نظائر کے خلاف چئیر مین کشمیر کونسل سے ان کی تقرری کی بابت ایڈوائس لینا ہے - تفصیلی فیصلہ میں لکھا ہے کہ جن واقعات کی بنیاد پر چئیر مین کشمیر کونسل نے صدر آزاد کشمیر کی تجویز ایک بار مسترد کر کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے دوبارہ تجویز بھیجنے کی ہدایت کی تھی ، صدر نے ان ہی واقعات کی بنا پر چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت کے بغیر دوبارہ وہی تجویز تین ایسے ناموں کو شامل کرتے ہوئے بھیجی جن کو چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کبھی تجویز ہی نہیں کیا تھا اور چئیرمین کشمیر کونسل نے اس تجویز سے اتفاق کر کے پانچ ججوں کی تقرری کی ایڈوائس جاری کردی - ایسے حالات میں ملک بھر کی مسلمہ آئینی روایات اور نظائر کی روشنی میں سپریم کورٹ اس کے مغائر کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھی- ججوں کی بر طرفی پر افسوس سے قطع نظر ، مجھے یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ سپریم کورٹ نے سابقہ قانونی نظائر پر عمل کرکے نظائر کا تسلسل بحال رکھا جس کی اعلیٰ عدالتیں امین ہوتی ہیں - گذشتہ چند برسوں سے اعلیٰ عدالتوں نے اپنی ہی کئی مسلمہ نظائر ، جن میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف مقدمات بھی شامل ہیں، کو یکسر نظر انداز کر کے کیس ٹو کیس مقدمات کا فیصلہ کیا ، جس کی کلاسیکل مثال جسٹس علوی کا کیس ہے- اعلیٰ عدلیہ کو کورٹ آف اوریجنل جورس ڈکشن ، کورٹ آف ریکارڈ اور کورٹ آف اپیل کی حیثیت حاصل ہوتی ہے - ان کے فیصلے ان کی حدود کے اندر تمام اداروں کے لئے قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں - ان کو ان روایات اور نظائر کا امین سمجھا جاتا ہے - ان کے فیصلے ہمیشہ معروضی اصولوں (Objective principles )پر مبنی ہوتے ہیں، جو ہمہ گیر اہمیت اور اطلاق کے حامل ہوں ، غیر معروض ( Subjective) محدود نہیں ہوتے نہ ہونے چاہییں - اگر کسی سابقہ رائے کو بدلنا ہو تو معقول تحریری وجوہات کی بناء پر ہی بدلا جا سکتا ہے، اس زعم پر نہیں کہ یہ بڑی اور حتمی عدالت ہے لہٰذا جو چاہے کرتی رہے - 'مشاورت اور ایڈوائس ' کے حوالے سے یہ پہلا کیس نہیں ہے، نہ ہی اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی بر طرفی پہلی بار ہوئی ہے بلکہ 1994-95 سے آج تک اس آئینی اصول اور اس پر متعدد عدالتی نظائر کی خلاف ورزی کی بناء پر کئی تقرریاں کالعدم قرار دی جا چکی ہیں، لیکن انتظامیہ اس سے سبق نہیں سیکھتی نہ اپنی سمت درست کرتی ہے ، یہ حیرت کی بات ہے اور کم از کم الفاظ میں نالائقی یا بد دیانتی کی انتہا ہے - 1994-95 کے دوران ہائی کورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کی تقرری کو ایڈوائس نہ ہونے کی بناء پر کالعدم قرار دیا گیا، 1997-98 میں شریعت کورٹ کے ججوں سمیت شریعت کورٹ کو ہی کالعدم قرار دیا گیا ، 2010 میں ہائی کورٹ کے دو ججز کی تقرری کو غیر آئینی مشاورت طریقہ کار کی بناء پر کالعدم قرار دیا گیا- اس کے بعد شریعت کورٹ میں دوبار تقرریوں کو کالعدم قرار دیا گیا- اس بدعت کی ابتداء 1991 میں چیف جسٹسز کی مشاورت کے بغیر ایک وکیل کے ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج کے طور تقرری سے ہوئی، بدقسمتی سے ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ نے محض اس بناء پر اس کو درست قرار دیا کہ صدر وقت نے اس ایڈوائس کے پروانے پہ لکھا تھا 'میں نے چیف جسٹس سے مشورہ کر لیا تھا' حالانکہ یہ بالکل غلط تھا، اور ہائی کورٹ نے ریکارڈ طلب کرنا بھی گوارا نہیں کیا- سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک اور بات مترشح ہوتی ہے کہ اس کیس میں خط و کتابت صرف چیف جسٹسز، صدر یا صدارتی سیکریٹریٹ اور کونسل سیکریٹریٹ کے درمیان ہی ہوتی رہی ، آزاد حکومت کے وزیر اعظم ، وزیر قانون ، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری قانون کی سطح پر کسی بھی مرحلہ پر ساری خط و کتا بت کی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوئی ، حالانکہ ساری کاروائی کو مربوط کرنے کی ذمہ داری سیکریٹری قانون کی ہوتی ہے جو کونسل میں معاملہ ریفر کرنے سے پہلے اور ایڈوائس آنے کے بعد آئین اور رولز آف بزنس کی روشنی میں اس میں کمی کوتاہی کو اتھارٹی مجاز کی روشنی میں لاتے ہیں جس کے نہ ہونے کی وجہ سے تقریبآ پندرہ سال سے اداروں اور افراد کو خفت اٹھانی پڑ رہی ہے - سپریم کورٹ نے اس اہم نکتہ کا نوٹس نہیں لیا- میرے پاس 1991 سے 2010 تک کا ایسا ریکاڈ موجود ہے جس میں سیکریٹریٹ قانوں نے کونسل میں ایڈوائس کے لیے معاملہ بھیجنے سے پہلے اور ایڈوائس آنے کے بعد آئین یا قواعد کار میں کوئی خامی پائی ہو تو اس کی نشاندہی کی ہے - دو بار تو کونسل سے جاری شدہ ایڈوائس بھی واپس ہوئی ہے- ججوں کی تقرری کا آئین میں لفظ “ پریزیڈنٹ “ لکھا ہونے کی وجہ سے، اسٹیبلشمنٹ کے زور یا مرکز میں ہم جماعت حکومت ہونے کے باعث منتخب ہونے والے ہر صدر نے ، ججوں کی تقرری ہی نہیں ، جہاں جہاں تقرری کے لئے لفظ ' پریذیڈنٹ ' لکھا ہے وہاں حکومت کے سارے اداروں کو یرغمال بنا کر یہ حکومتی اختیار غصب کر لیے ہیں- اسی لیے میں اکثر یہی لکھتا رہا ہوں کہ آزاد کشمیر میں ایک “ معلوم الاسم اور معدوم الجسم “ بالاتر حکومت کے علاوہ، تین واضع متوازی حکومتیں کام کر رہی ہیں ، ایک آزاد کشمیر کی منتخب حکومت (جس کے 1/3 حصےکو بھی غیر رہائشی لوگوں نے یرغمال بنایا ہے) دوسری صدر ریاست کی حکومت، تیسری کونسل کی حکومت - ایک المیہ یہ بھی ہے آزادکشمیر کے سیاست کار پہلے باہمی اتفاق سے کسی غیر عوامی و سیاسی اشارے یا مشورے پر اپنے اوپر صدر بنواتے ہیں . اکثر اس عہدے پر فائز ہونے والے فرد کا عوام کے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی عوام میں سیاسی جڑیں ہوتی ہیں. پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس عہدے کے لیے سہولت کار بننے والے(یعنی غیر سیاسی قوتیں) آزادکشمیر کی حکومت کے نظام و نسق کو یرغمال بنا لیتے ہیں اور پھر یہی سیاست دان شکوے کرتے پھرتے ہیں. آزادکشمیر کے سیاست دانوں کو خود اپنی اداوں پر بھی غور کرنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسی سیاسی و انتظامی بد عملی کے دور رس بین الاقوامی اثرات مرتب ہوتے ہیں. حالانکہ یہ سارے براہ راست منتخب حکومتی اختیار ہیں ، جن سے مرتب ہونے والے ہر عمل کی جواب دہ حکومت ہے۔ ان اداروں کو حکومت ہی اسمبلی کے ذریعہ قائم کرتی ہے، ان کے لیے بجٹ فراہم کرتی ہے ، ان کے نظم ونسق کے لئے حکومت اسمبلی اور لوگوں کے پاس جواب دہ ہے، صدر اور کونسل کسی کے پاس کسی بھی جگہ جواب دہ نہیں ہیں، اسی لیے یہ ان کا اختیار بھی نہیں ، اس کا ازالہ منتخب حکومت اور اسمبلی ہی کر سکتی ہے اور کرنا چاہیے - سچی بات یہ ہے اس بے ڈھنگے نظام اور بد عملی کے دور رس بین الاقوامی اثرات مرتب ہوئے ہیں جن کا کوئی ذی شعور انسان دفاع بھی نہیں کر سکتا- اس سسٹم کو دیکھنے کے بعد ، تحریک آزادی کے دوران پاکستان آئے ہوئے وادی کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے خیالات نے تبدیلی، کشمیر میں خود مختار کشمیر کی تحریک نے زور پکڑا ہے - سپریم کورٹ کے حتمی اپیلیٹ کورٹ ہونے کی حیثیت سے مجھے توقع ہے کہ یہ اپنے اور آزاد کشمیر کی حدود کے اندر کام کرنے والے اداروں کے حدود کا احترام کرنے اور کرانے کو یقینی بنائے گی، اداروں کو آئینی روح کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے کی پابند بھی کرے گی اور اچھے دنوں میں معروف آئینی نظائر ، جو دنیا بھر میں رائج اور اسی عدالت نےماضی میں وضع کرنے کے علاوہ ان پر عمل کیا ہے، ( جس کا احیاء اس کیس میں کیا گیا ہے جبکہ جسٹس علوی کے کیس میں تمام روایات کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں) ) ، کو یقینی جاری رکھنے اور حالات کے مطابق زیادہ بہتر اور منصفانہ بنائے گی ، جو نظر بھی آئیں اور محسوس بھی ہوں - Reply al



ڈاکٹر خالد محمود، قابل تحسین انتخاب


ڈاکٹر خالد محمود، قابل تحسین انتخاب شفقت ضیاء جماعتِ اسلامی کا قیام پاکستان بننے سے پہلے 1941ء میں بہت ہی بڑے عالمِ دین، مفکر، مفسرِ قرآن سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے 75دیگر علماء اور علمی شخصیت کی مشاورت سے رکھا، وقت کے ساتھ اسی نام اور بعض ممالک میں دوسرے ناموں کے ساتھ دنیا کے بہت سے ممالک میں اسلامی تحریکوں کی بنیاد اسی سوچ و فکر کے ساتھ رکھی گئی کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس کے مکمل نفاذ کے لیے اسلامی حکومت کا وجود ضروری ہے۔اگرچہ کسی بھی ملک میں یہ تحریک مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکی بعض اسلامی ممالک میں اقتدار تک پہنچنے میں کامیابی کے باوجود اسے موقع نہ دیا گیا جبکہ پاکستان میں عوام کی مقبول جماعت نہ بن سکی۔آزاد کشمیر میں 1970 ء تک کہا جاتا ہے کہ سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے کہنے پر اسلام اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے جو خدمات آپ ادا کرنا چاہتے ہیں وہی کام ہم مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے کر رہے ہیں اس لیے اس کی آزاد کشمیر میں ضرورت نہیں ہے کی وجہ سے 30 سال تک اقامتِ دین کا کام اُن کے سپرد رہا اس کے بعد احساس ہوا کہ یہ وہ کام نہیں ہو رہا جس کے بعد جماعت اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا آزاد کشمیر میں پاکستان کے مقابلہ میں بہتر دینی ماحول ہونے کے باوجود 50سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود جماعت اسلامی اقتدار سے کوسوں دور بامشکل خصوصی نشست پر سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی اور خاتون ممبر کی صورت میں موجود ہے مگر عوام کی مقبول جماعت بننے میں تا حال کامیاب نہیں ہو سکی ایک نظریاتی جماعت،با صلاحیت کارکنان کی ٹیم اور عوامی خدمت کے کام،اچھا ماحول ہونے کے باوجودعوام میں پذیرائی حاصل نہ ہونا جماعتِ اسلامی کی قیادت کے لیے سوالیہ نشان اور لمحہ فکریہ ہے۔تاہم جماعت اسلامی نے خامیوں،کوتاہیوں کے باوجود تسلسل سے جماعتی انتخابات کرا کر ایک جمہوری جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے،بلکہ دیگر جماعتوں کے لیے باعثِ تقلید بھی ہے ایسے میں جب پاکستان اور آزاد کشمیر میں سیاسی جماعتوں پر خاندانوں کے قبضے ہیں دولت سے عہدے اور منصب خریدے جاتے ہیں، انتخابات کے بجائے سلیکشن ہوتی ہے، معیار اور کارکردگی کے بجائے دولت، تعلق اور سفارش سے کام چلتا ہے، وہاں سراج الحق جیسے سفید پوش اور آزاد کشمیر میں ڈاکٹر خالد جیسے درویش کا انتخاب ہوتا ہے،جومثبت سائن اور یقینا دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے قابلِ غورہے، جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں آتی تو درست قیادت سامنے نہیں آ سکے گی،جس کا نقصان سیاسی جماعت کے ساتھ ملک و قوم کا ہوتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے انتخاب کے طریق کار میں ایک خامی یہ ہے کہ انتخاب کے لیے صرف جنرل کونسل کے ارکان کو حق دیا جاتا ہے اگر اس کے بجائے کارکنان تک کو اس میں شامل کیا جائے تو اس کے اثرات زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں تاہم ایک ایسے دور میں جب مفادات اور مادہ پرستی اپنے عروج پر ہے جس کے اثرات سے جماعت اسلامی بھی محفوظ نہیں ہے، اگرچہ یہ حکومت میں نہیں پائی جاتی لیکن اپنے اداروں میں نوکریاں ہوں یا دیگر معاملات کہیں نہ کہیں مفاد کا عنصر ادھر بھی آیا ضرور ہے، اس کے باوجود قیادت کے چناؤ میں پاکستان اور آزاد کشمیر میں ارکان کا شعور قابلِ تحسین ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود جیسا ہیرا موجود ہونے کے باوجود ان کا انتخاب نہ ہوتا تو یہی سمجھا جاتا کہ ابھی چند ہزار لوگ بھی تیار نہ ہو سکے جو درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈاکٹر خالد محمود ایک با کردار انسان ہیں جن کے بارے میں ہی شاید کہا گیا ہے کہ وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا شباب جس کا ہے بے داغ،ضرب ہے کاری خوبصورت خدوخال، ظاہر و باطن میں ایک جیسا،عاجزی و انکساری کا پیکر، گفتگو میں موتی بکھیرتا، علم کا سمندر، قرآن سے خصوصی تعلق اور باکمال مدرس ڈاکٹر خالد محمود کے انتخاب کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔درویش صفت ڈاکٹر خالد محمود سرکاری جاب کو چھوڑکر پرائیویٹ ہسپتال میں غریبوں کا مفت علاج کر کے خدمت کرتا رہا۔ جماعت کے لیے قربانی دی اور جدوجہد کی۔آج بھی کر ائے کے گھر میں رہتا اور اپنا گزر بسر اپنے محدود وسائل سے کر رہا ہے جو آج کے دور میں درخشاں ماضی کا بہترین کردارہے۔کمال کی صلاحیتیں، اپنے اور پرائے سے سلیقے کے ساتھ گفتگو کا ہنر جاننے والا،دیانت دار،امین،صادق،جرات مند،کیا جماعت اسلامی کو عوام میں مقبول کر پائے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔تاہم پہلا سیشن اچھی ابتدا ضرور رکھ چکا،چیلنج بہت صلاحیتوں کی کمی نہ علم و ویژن کی البتہ اندر کی رکاوٹوں، سازشوں سے بچ گیا تو جماعتِ اسلامی کوعوامی قوت بنا دے گا۔ورنہ قاضی حسین احمد کی طرح اچھی کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے گا۔تحریک آزادی کشمیر کے تناظرمیں آزاد کشمیر میں باکردار اور ویژن والی قیادت کی اشد ضرورت ہے،جس کے لیے طلبہ یونین کی بحالی اور بلدیاتی انتخابات انتہائی ضروری ہیں۔ڈاکٹر خالد محمود سمیت تمام سیاسی جماعتوں میں کئی بہتر لوگ ہیں اور ان کونکھیرنے والی طلبہ تنظیمیں ہیں جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص ڈاکٹر خالد محمود کو کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ مستقبل روشن ہو سکے۔ڈاکٹر خالد محمود کے بارے میں ہی شاعر نے شاید کہا ہے کہ نگاہ بلند سخن و دل نواز، جاں پر سوز یہی ہے رخت ِ سفر میر کارواں کے لیے



"کورونا وائرس کے متعلق احتیاطی تدابیر کی شرعی حیثیت " (قسط نمبر 02)


بسم اللہ الرحمن الرحیم "کورونا وائرس کے متعلق احتیاطی تدابیر کی شرعی حیثیت " (قسط نمبر 02) انسان بنیادی طور پر خلاصہ کائنات اور مرکز خلائق ہے۔ دنیا کی تمام بہاریں انسان کے دم قدم سے ہیں۔ لہذا انسانی کی زندگی کی حفاظت نظام تکوین (تخلیقِ انسان اور کائنات) اور تشریعی (دین اسلام) کے اساسی مقاصد میں سے ہے۔ اس پر واضح دلیل انسانی زندگی کی کرہ زمین پر مختلف بیماریوں سے حفاظت کے لیے انسانی وجود میں ایک ایسا مدافعتی نظام (Immune System)موجود ہے جو انسانی وجود میں داخل ہو کر اس کی صحت اور زندگی کو نقصان پہنچانے والے ہر قسم کے جراثیم کے خلاف لڑتا ہے۔ یہ نظام ہمارے خون میں ہمیشہ گردش کرتا ہے اور بے شمار بیماریوں کے جراثیم کو ہمیں کوئی اطلاع دیئے بغیر ہی تباہ کر دیتا ہے۔ ہمارے جسم میں کسی بیماری کی علامات دراصل اس نظام کے کمزور یا پسپاہ ہونے پر ہمیں مطلع کرتی ہیں۔ آج دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں ایک کروڑ تیس لاکھ انسان کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔جبکہ حقیقی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس بیماری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہلاکتوں کا تناسب مختلف ممالک میں کم و بیش ہے۔ تاہم مجموعی طور پر یہ تناسب دو سے چار فیصد کے درمیان ہے۔ اس مرض سے شفایاب ہونے والے تمام مریض قوت مدافعت کے ذریعہ ہی جانبر ہوئے ہیں۔ چند لمحوں کے لیے تصور کیجئے کہ جسدِ انسانی میں اللہ رب العزت نے قوت مدافعت کا ایک فعال نظام نہ رکھا ہوتاتو اس مرض کے تمام متاثرین لقمہ اجل بن گئے ہوتے۔جب تما م تر انسانی ترقی، سائنسی ایجادات اور طبی ادویات بے بس ہو گئی ہیں تو انسانیت کی دستگیری خالق کائنات خود فرمارہا ہے،اس سے ثابت ہوا کہ نسل انسانی کی حفاظت و بقامقصود فطرت ہے۔خالق کائنات کا ارشادہے۔ "فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا "(سورۃ روم، آیت ۰۳)اللہ کا(نظام) فطرت ہے جس پراُس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ نظام فطرت میں انسان کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے اہتمام کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر وجود انسانی کو کوئی بیماری لاحق ہوجائے جس کے مقابلہ میں انسان کا دفاعی نظام کمزور پڑجائے تو خالق فطرت نے روئے زمین پر ایسی بے شمار جڑی بوٹیاں پیدا کر رکھی ہیں جو ان بیماریوں کے خلاف لڑتی ہیں اور انسانی زندگی کو بچانے میں قوت مدافعت کی مدد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: "ماانزل اللہ داء َ الا انزل لہ شفاء "(صحیح بخاری، کتاب الطب)۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا ء بھی (ساتھ) نہ اتاری ہو۔ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ماانزل اللہ داء الا انزل لہ دواء " (ابن ماجہ، کتاب الطب)۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری اتاری اس کی دوا بھی اتاری ہے۔یہی نظام فطرت کا کمال ہے کہ دنیا میں لاکھوں ادویات موجود ہیں اور اس فطری اصول کو ساری دنیا ء سائنس اورطب مانتی ہے جب ہی تو کورونا کی ویکسین کے لیے انسان پرامید ہے اور دنیا میں لاکھوں سائنسدان اس کی جستجو میں شب و روز سرگرم عمل ہیں۔ انسانی صحت و حیات کی حفاظت مقصود فطرت اور مطلوب شریعت ہونے کا تیسر اہم ثبوت ثبوت یہ ہے کہ خوردنی اشیاء میں ہر چیز انسانی خوراک نہیں بن سکتی۔ لہذا اس ضمن میں انسان کو ہر دور میں الہامی راہنمائی کی ضرورت رہی ہے تاکہ انسان غلطی سے ایسی کوئی خوراک استعمال نہ کر ے جس کا اس کی جسمانی صحت، بلکہ اخلاقی رفعت اور روحانی طہارت پر کوئی منفی اثر مرتب ہو۔ قرآن حکیم نے نبی آخرالزماں کے فرائض منصبی بیان کرتے ہوئے آپ کی ایک اہم خوبی یہ بیان کی ہے کہ "یحل لھم الطیبت و یحرم علیھم الخبائث"(الاعراف، ۷۵۱)۔ اُن کے لیے (وہ بنی ﷺ) طیبٰت کو حلال اور خبائث کو حرام قرار دیتے ہیں۔ قرآن و سنت میں ایک مومن کی فہرست طعام (Menu)میں طیبٰت کو شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ خبائث کو انسان کے لیے ناقابل استعمال قرار دیا گیا ہے۔ "طیب"اور "خبیث" بہت جامع اور واضح اصطلاحات ہیں۔ "طیبٰت "سے مراد اچھی، سود مند (useful)خوش ذائقہ (Delicious)اشیاء ہیں جبکہ "خبیث"سے مراد خراب، نقصان دہ (Harmful)اشیاء ہیں۔ قرآن و حدیث میں کہیں اجمال اور کہیں تفصیل کے ساتھ حرام اشیاء کا تذکرہ موجود ہے۔ یہ دین اسلام کا سائنسی اعجاز ہے کہ وہ جانوراور دیگر غذاہیں جنہیں دین فطرت نے اس وقت انسان کے لیے ناقابل استعمال قرار دیا تھا جب ان کی حرمت کی کوئی سائنسی اساس انسان کے علم میں نہ تھی، آج سائنسی علوم کے ارتقاء نے ابھی اسلام کی حرام کردہ اشیاء کو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ جو دین اسلام کے بارے میں محدود علم بلکہ لاعلمی کے باعث اسے سائنسی بنیادوں پر مُسلّم دین (Scientifice Religion)ماننے میں تذبذب کا شکار ہیں ان کی چشم عبرت کھولنے کے لیے یہ حقیقت کافی ہے کہ موجودہ کورونا وائرس دراصل اسلام کی حرام کردہ اشیاء کے استعمال سے ہی انسانی زندگی پر حملہ آور ہوا ہے۔ چینی مرکز برائے کنٹرول امراض و علاج نے تصدیق کی ہے کہ ووہان شہر میں واقع سمندری غذا کی ہول سیل مارکیٹ سے ہی اس وائرس کی ابتدا ہوئی ہے جہاں زندہ بھیڑیے، کتے، لومڑیاں، چوہے اور چمگادڑ فروخت ہوتے تھے۔ (روزنامہ جنگ 31مارچ 2020ء کالم حنا پرویز بٹ)اس سے یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہو گئی کہ مقاصد الشریعہ میں ایک اہم مقصد ِانسانی صحت و زندگی کا تحفظ ہے۔ یہ حقیقت ایک دوسرے پہلو کو پیش نظر رکھنے سے مزید واضح ہوجاتی ہے۔شریعت اسلامیہ میں حرام اشیاء توکجامشتبھات (شبہ والی اشیاء) سے بھی بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ تاہم انسانی زندگی کے نشیب و فراز میں بعض ایسے مواقع بھی پیش آسکتے ہیں جہاں انسان حرام کھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی دنیا کے بعض ممالک ہیں قحط سالی اور غربت نے ہزاروں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا مگر آج دنیا کے گلوبل ویلج ہونے اور بین الاقوامی سطح پر کئی تنظیمات اور اداروں کی موجودگی کے باوجود بھوک و افلاس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی نسل انسانی کے لیے کچھ نہ کیا جاسکا۔ افریقہ کے ملک ایتھوپیا اور پاکستان کے علاقہ تھرسمیت دنیا کے کئی ممالک میں خشک سالی اور غربت کے باعث ہونے والی ہلاکتیں اس کا بین ثبوت ہیں۔ ایسی کسی بھی صورت حال میں دین اسلام کے حلت و حرمت کے ضابطوں میں حقیقی ضرورت کے مطابق عارضی طور پر لچک پیدا ہوجاتی ہے تاکہ انسانی زندگی کو بچایا جاسکے۔ سورۃ بقرہ میں چند حرام اشیاء کا یوں ذکر آیا ہے۔ "بلاشبہ (اللہ نے)تم پر مردہ جانور (بہتا) خون اور خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر وقتِ ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام قرار دیا ہے۔پس جو شخص (شدت کی بھوک سے) مجبور ہو جائے نہ شریعت کا باغی ہو اور نہ (ضرورت سے زیادہ) حد سے تجاوز کرنے والا ہو،سو اس پر کوئی گناہ نہیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے "(بقرۃ آیت:۳۷۱) سورۃ مائدہ آیت نمبر ۳ اور سورۃ نحل آیت نمبر ۵۱۱ میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔ مجتہدین کرام اور فقہاء عظام جن کی مقاصد شریعت پر گہری نظر تھی اس نوعیت کی آیات اور احادیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند قواعد فقہیہ وضع کیے ہیں۔ مثلاََ "الضرورات تبیح المحظورات "ضرورتیں ناجائز چیزوں کو (وقتی طور پر) جائز کر دیتی ہیں، "اذا ضاق الامر اتسع"جب انسان کے لیے کسی معاملہ میں (شدید) تنگی پیدا ہوجائے تو اسلام کے ضابطوں میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔تاہم اس میں شرط یہ ہے کہ "الضرورات تقدر بقدرھا" ضرورتیں حقیقی ضرورت تک محدود رکھی جائیں گی۔ حقیقی ضرورت کا تعین ایک طرح سے انسانی ضمیر پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں اصل مفتی آدمی کا اپنا دل و دماغ ہو گا۔ تاہم یہ لچک وقتی اور دو شرائط کے ساتھ مشروط ہوگی۔ اول یہ کہ آدمی ان حرام اشیاء کا استعمال دل کی چاہت سے نہ کرے۔ دوم یہ کہ آدمی صرف جان بچانے کی حد تک اس نرمی سے استفادہ کر سکتا ہے۔ ان رخصتوں کو دیکھتے ہوئے بلاتامل کہا جاسکتا ہے کہ شریعت کا اصل مدعا انسانی جان کی حفاظت ہے۔ یہ رخصت صرف کھانے پینے کی اشیاء تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہر شعبہ زندگی تک وسیع ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر بیمار افراد امت کو نماز کے ارکان (جن کی تلافی سجدہ سھو سے بھی نہیں ہوتی) قیام،رکوع و سجود میں استثناء حاصل ہوتا ہے۔ اسی ضابطہ کے تحت حالت مرض و سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ اسی رعایت سے خواتین ایام حمل و رضاعت میں فرض روزہ کو مؤخر کر سکتی ہیں۔ اسی انسانی مجبوری کو سامنے رکھتے ہوئے دائمی مریض شیخ فانی (انتہائی عمر رسیدہ مرد) اور عجوز فانیہ (انتہائی عمر رسیدہ خاتون) کو فرض روزے ترک کر کے ان کے بجائے فدیہ دینے کی اجازت ہے۔ تاہم اس رعایت سے استفادہ کرنے کے لیے عام طور پر مفتیان عظام اور علماء کرام فتویٰ دینے یا شرعی مسئلہ بتانے سے پہلے ڈاکٹر حضرات کی اس بارہ میں رائے معلوم کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس بارہ میں صرف یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر مستند، دین دار اور صالح ہو تاکہ اس کی رائے نیک نیتی اور حقیقت پر مبنی ہو۔ جب نسبتاََ کم مہلک اور ضرر رساں بیماریوں سے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے صرف ایک ڈاکٹر یا بعض صورتوں میں چند ڈاکٹر صاحبان کی رائے کو معتبر سمجھتے ہوئے علماء کرام فرائض و واجبات کو وقتی یا دائمی طور پر ترک کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ایک مہلک وائرس جس کے پھیلاؤ کو روکنے اوراس سے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ (Option)انسان کے پاس نہیں ہے۔ سو ساری دنیا کے ڈاکٹر صاحبان متفقہ طور پرجو احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں انہیں کسی شرعی دلیل کی بنیاد پر نظر انداز کیا سکتا ہے۔۔۔(جاری ہے)



چین اوربھارت لداخ میں


چین اوربھارت لداخ میں سیدحبیب حسین شاہ ایڈووکیٹ 0345-5531411 چین اوربھارت آبادی کے لحاظ سے تقریباًقریب قریب ہے۔2000-01ء کے اعدادوشمارکے مطابق ان کی آبادی ایک ارب ہے انڈیاکی آبادی ایک ارب35کروڑہے اس طرح آبادی کے لحاظ سے یہ دوبڑے ملک ہیں۔البتہ رقبے کے لحاظ سے روس اورکینیڈاکے بعدچین تیسرے نمبرپرہے۔جبکہ بھارت ساتویں نمبرپرہے۔اگربھارت کے کچھ حصے یاتقسیم میں کچھ ملک اس سے الگ نہ ہوتے توبھارت چین سے بڑاملک ہوتا۔ایک زمانہ تھا1960ء میں ہندوچینی بھائی بھائی کے نعرے لگتے ہندوستان شروع سے ہی سویت یونین کے بلاک میں رہاجبکہ ایک زمانے میں امریکہ کے قریب رہا،اوریہ 1962ء کی بات ہے۔اس سے پہلے ہندی چینی بھائی بھائی تھے۔1962ء میں لداخ کے ایک علاقہ جس کونیفاکی پہاڑیاں کہاجاتاتھااس میں چین اورہندوستان کاٹکراؤہوا۔اس طرح بھائی بھائی کانعرہ ختم ہوگیا۔ہم اس وقت زیادہ زیادہ دس گیارہ سال کے تھے اورریڈیوپرراقم جوخبرسنتاتھاکہ یہ لڑائی جو1962ء میں ہوئی یہ بھیڑوں پرہوئی تھی اورچین نے ہندوستان کے کافی رقبے پرجونیفاکی پہاڑیوں پرتھاقبضہ کرلیا۔عجیب بات ہے کہ آبادی اوررقبے کے لحاظ سے ان دوملکوں کے درمیان آج بھی باضابطہ طورپرسرحدپرحدبندی نہ ہے۔اس لئے ان کے درمیان ٹکراؤ ہوتا رہتاہے۔اس وقت دونوں ملک روسی فیڈریشن کے اتحادی ہیں،گوکہ ہندوستان موجودہ وزیراعظم جوبھارتیہ جنتاپارٹی کی لیڈرہیں ان کاشروع سے کچھ کچھ جھکاؤامریکہ کی طرف رہااوران جھڑپوں تک بھی باوجوداس کے کہ ہندوستان کاسارااسلحہ مگ طیارے سے خوئی طیارے جنگی ہیلی کاپٹرسمندری میرینیں اورجدیدترین ہوائی جہازسیخوئی اورروس کے جدیدترین میزائل جن کاتوڑدنیاکے پاس نہیں ہے ایس ایس تھری ہنڈرڈہندوستان کے پاس موجودہیں جبکہ ایس ایس فورہنڈرڈکاسوداہوچکاہے یہ ایک ایسامیزائل ہے کہ جوزمین سے ایک اٹھتاہے لیکن آگے فضامیں یہ سینکڑوں طیاروں کوالگ الگ مارنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ایک اورہتھیارجسے T-90ٹینک کہتے ہیں وہ بھی روس کاہندوستان کے پاس ہے۔یہ ایک ایساٹینک ہے کہ جس پرکوئی میزائل اگراٹیک کرے تومیزائل توتباہ ہوجائے گالیکن ٹینک کوکچھ نہیں ہوتاہے۔شام میں امریکہ کے میزائلوں نے اس ٹینک کونشانہ بنایالیکن دنیاحیران ہوگئی کہ ٹینک کوخراش تک نہیں آئی۔ہندوستان کی فضائی کوعددلحاظ سے دنیاکی سب سے بڑی فضائیہ تسلیم کیاجاتاہے جبکہ افواج میں روس چین اورہندوستان کچھ آگے کچھ پیچھے دنیاکی تین بڑی افواج ہیں۔پہلے روس کی افواج دنیاکی سب سے بڑی افواج تھی اب چین کی افواج کوئی سینکڑوں میں روس سے زیادہ ہے۔اورانڈیاکی بھی تھوڑی بہت چین سے پیچھے ہے۔لیکن زیادہ نہیں سینکڑوں میں ہیں۔ہندوستانی فوج میں گورکھے اورمرہٹوں کودنیاکی اعلیٰ ترین فوج سمجھاجاتاہے۔جب مودی صاحب امریکہ کے صدرٹرمپ کے ساتھ اٹکیلیاں کررہے تھے ہاتھوں میں ہاتھ دے اورہاتھوں میں ہاتھ لے اورپھرہنس ہنس کرایک دوسرے کوتھپکیاں دے رہے تھے پھرامریکہ میں ایک بڑی کانفرنس سے جس میں امریکی ریاستوں کے گورنراورحکومت کے کرتے دھرتے موجودتھے آگے آگے مودی اورپیچھے پیچھے ٹرمپ اسٹیج پرپہنچے اورٹرمپ کی مختصرتقریرکے بعدمودی کاپہلے انگریزی میں بھاشن پھرہندی زبان میں بھاشن ہندی زبان بنیادی طورپراردواورہندی کے الفاظ کامجموعہ ہے اوراسی زبان میں مودی صاحب نے جب امریکہ میں تقریرکی توساتھ ساتھ انگریزی زبان میں اس کاترجمہ ہورہاتھااوریوں مودی نے ٹرمپ اورٹرمپ نے مودی کی تعریف میں زمین وآسمان کے کلابے ملادیئے۔اس میں ٹرمپ کی ایک چھپی ہوئی آس تھی کہ آئندہ الیکشن میں امریکہ میں مقیم ہندوستانی ٹرمپ کوووٹ دیں گے۔جب ساراکچھ امریکہ میں ہورہاتھاتوروس کاانگریزی ٹی وی چینل RT(Russia Today)یہ ساراکچھ دیکھ رہاتھا۔اورروس چاہے موجودہ روس ہویاسوویت یونین ہووہ کبھی برداشت نہیں کرتے کہ ان کاکوئی اتحادی ملک جس کوروس ہرطرح کااسلحہ دیتاہوکھائے روس سے لے روس سے اورجھپے امریکی صدرسے لگائے اورمیرے خیال میں لداخ میں ہندوستان کوچین کی طر ف سے اس جھٹکے سے یاران طریقت کابھی حصہ ہے کہ کچھ سمجھے میرے شکوے کوتورضواں سمجھا مجھ کوجنت سے نکالاہواانساں سمجھا لگتاہے کہ ہندوستان بھی سمجھااوراسی لیے اپنے ایک وزیرراجناتھ صاحب کواس جھڑپ کے بعدروس بھیج دیااوروہاں راج ناتھ روس کی دوسری جنگ آزادی کے فتح کے جشن میں شامل ہواجہاں ہندوستان سمیت پندرہ ممالک کی فوجیں بھی حصہ لے رہی تھیں۔راج ناتھ صاحب سفیدپجامے سفیدکرتااورسفیدکوٹی میں بہت بھاری برکم قدم ماسکومیں رکھ رہے تھے ماتھاشکن آلودتھاآنکھوں میں کچھ کچھ آنسواترے ہوئے تھے اورگالوں پرکچھ جھریاں نظرآرہی تھیں۔جس سے پتہ چلتاتھاکہ وہ روس کے سامنے کچھ کچھ شرمندہ ہیں۔ ہندوستان نے پہلے سنایالداخ میں چینیوں کے ہاتھوں ایک کرنل ایک ہندوستانی کمانڈواورایک ہندوستانی سپاہی شامل ہوگئے لیکن گولی چلی نہ تیروتفن کیسے مرے آج بھی ہندوستان کی تمام اپوزیشن پارٹیاں پوچھ رہی ہیں لیکن جواب نہ دارد۔پھرہندوستان کے ٹی وی کومبارک ہوکہ اس نے جھوٹ نہیں بولااورکہاکہ ہندوستان کے بیس فوجی مارے گے ایک ہلکی سی خبرساتھ میں دی کہ ان کوپہاڑسے گراکرماراگیا۔ہندوستان کی بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس آج تک پوچھ رہی ہے کہ یہ ہندوستانی فوجی چین کی سرزمین پرمارے گئے ہندوستان کی سرزمین پرمارے گئے کس چیزسے مارے گے لیکن مودی صاحب اپنے جوش خطابت سے لوگوں کے پیٹ بھرتے ہیں اوراصل جواب آج تک نہیں آیا۔ہم کسی طورپربھی چین کی کامیابی کے حامی نہیں ہیں۔وہ اس لئے کہ ہندوستان اورہم کل تک ایک تھے آج بھی ہماری زباں ہمارالباس ہماراکلچرایک جیساہے۔ہمارے گیت سنگیت ایک جیسے ہیں۔ہندوستان کے ٹی وی پرروزانہ قرآن مجیدکی دلسوزاندازمیں تلاوت ہوتی ہے،دل پہ اترنے والی نعتیں پیش ہوتی ہیں۔دنیابھرمیں سب سے زیادہ مسلمان ملک ہند میں ہی بستے ہیں اوردنیامیں سب سے زیادہ اولیاء اللہ کی مساجداورمزاراسی ہندوستان میں موجودہیں۔اسی میں مسلمانوں کے سب سے زیادہ قبرستان آبادہیں۔اورمسلمانوں کوبولنے اورلکھنے کی آزادی بھی اسی ملک میں ہے ہمارے پیارے نبیﷺ کے ملک میں بھی آزادی نہیں ہے جوہندوستان کے اندرہے یہاں کبھی مارشل لاء نہیں رہااوریہاں اقلیت کاقتل وغارت اس طرح نہیں ہواجس طرح چین میں یاکچھ ہمارے مہربان ملکوں میں ہوتاہے۔چین میں پندرہ لاکھ مسلمان الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنگلوں میں قیدہیں ان کے باہرتاریں لگی ہوئی ہیں محمدنام رکھناجرم ہے مسلمانوں کی اپنی تہذیب چین سے قطعاًمختلف ہونہیں سکتی ہے پھرہم نہ کتے کھاتے نہ بلے کھاتے ہیں نہ سانپ سانڈولے کھاتے ہیں اورنہ چمگادڑکھاسکتے ہیں اورہندوستان میں کوئی مہذب کتے بلے نہیں کھاتاہے۔اس کے علاوہ لداخ کاعلاقہ برصغیریاہندوستان کاہوسکتاہے یاپاکستان کاہوسکتاہے اوراگرسچ کہوں توبرانہ منایئے کہ یہ کشمیریوں کاعلاقہ ہے وہی کشمیری جواپنے وجوداورخصوصی حیثیت کے لئے 73سال سے برسرپیکارہیں۔چین کشمیریوں کاعلاقہ کس طرح لینے کاحقدارہے چین مقبوضہ علاقے میں کس طرح بڑے بڑے پراجیکٹ بنارہاہے اورپھرچین کہیں ایسانہ ہوکہ تعمیروترقی کے لبادے میں ایسٹ انڈیاکمپنی بن جائے جس نے تعمیروترقی کے عنوان سے افریقہ اورسری لنکااورکچھ اورممالک پرقبضہ کررکھاہے۔ہمارے کوہالہ پراجیکٹ پربھی جوحال ہی میں ہوناطے ہواتیس سال تک چین کاکنٹرول رہے گا۔ہمارے کچھ ساتھی جوش جنون میں اس حقیقت سے غافل ہیں کہ جب ایسٹ انڈیاکمپنی نے ہندوستان میں تجارت کی غرض سے مالابارمیں پڑاؤڈالاتوکچھ ناداں لوگوں نے بالخصوص مغلیہ دورکے وظیفہ خوروں نے اس امیدپرکہ انگریزملک میں ریل گاڑیاں چلائے گاانگریزیہاں سائنسی ترقی کرے گااورانگریزی سکھائے گااورہم منہ ٹیڑاکرکے انگریزی بول کراردواورہندی بولنے والوں کی صلاحیت پراپنے آپ کوانگریزہی سمجھیں گے اوریوں بربادی ایک ایساسلسلہ ایسٹ انڈیاکمپنی شروع کیاکہ سراج دولہ بھی مرگیاٹیپوسلطان بھی مرگیامنگل پانڈے بھی مرگیاجھانسی کی رانی بھی مرگئی اشفاق احمدبھی ماراگیااوربھگت سنگھ بھی نہ بچااوریوں ایسٹ انڈیاکمپنی نے ”یوں دی ہمیں بربادی کہ دنیاہوئی حیران“۔بیعنہ چین توسیع پسندپالیسی اگربرصغیرپرقابض ہوگئی توپھرہم نے چینی بولنے کے ساتھ ساتھ وہ چیزیں بھی کھانی پڑیں گی جس کاذکرسطوربالامیں کیاہے۔اب روس کے کہنے پرہندوستانی وزیرخارجہ اورچینی وزیرخارجہ کوسمجھایاگیاہے کہ وہ اپنی اپنی سابقہ بارڈرپرآجائیں جنگ سے گریزکریں جس پرکچھ کچھ عمل ہورہاہے اوراس وقت تک چین کی فوج تین کلومیٹرپیچھے آگئی ہے۔اورہندوستان کی بہت زیادہ فوج بارڈرپرآن کھڑی ہے۔ہندوستان کی فضائیہ کے طیارے بالخصوص مگ29سیکھوئی ہیلی کاپٹراورباقی ہتھیارمشقوں میں مصروف ہیں۔ہندوستان نے فیصلہ کیاکہ چائینہ جوتجارت ہندوستان کے ساتھ کرتاہے دھیرے دھیرے وہ پیداواری چیزیں ہندوستان کی کمپنیاں خودبنائیں۔جس کے لئے کم ازکم تین سال کاعرصہ درکارہے ترنت یہ نہیں ہوسکتاہندوستان کے تعلقات نیپال سے بہت اچھے تھے لیکن وہاں کیمونسٹ حکومت آنے کے باوجوداورباوجودہندوحکمران کے ہندوستان کے نیپال سے تعلقات خراب ہوگئے۔جس کے پیچھے بھی چین کی پالیسی کارفرماہے۔پاکستان اورہندوستان کے تعلقات پہلے سے ہی خراب ہیں۔تاہم چین کے حالات بھی کچھ زیادہ بہترنہیں ہیں تاوان چین کے خلاف جنوبی کوریاچین کے خلاف جاپان چین کے خلاف امریکہ اورنیٹوتوچین کے خلاف ہیں ہی لیکن امریکہ کے ساتھ مغربی ممالک جواسلحہ بھی خودتیارکرتے ہیں اور29ملک جنہیں نیٹوکہاجاتاہے روس کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں ایک جنگی اتحادبنایاہواہے کہ جب کبھی بھی روس کے خلاف لڑناہواتوایک ساتھ لڑیں گے اورروس جورقبے میں دنیاسب سے بڑاملک سائنس وٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے وہ اپنے پڑوسی بڑے ملکوں چین اورہندوستان کولڑنے نہیں دے گااگریہ دوملک آپس میں لڑے توان کاحشربھی وہی ہوگاجوعراق وایران کی لڑائی میں ہواتھاعراق اورایران آپس میں نہ لڑتے تولیبیاشام افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی امریکہ اورنیٹوکی مداخلت نہ ہوتی۔ہندوستان اورپاکستان کواپنے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے ہوں گے اس لئے کہ جنگی ماہرین جانتے ہیں جنگ کھیڑنہیں ہوندی زنانیاں دی اورجنگ کے مقابلے میں امن بہرصورت بہت اچھی چیزہوتی ہے۔جس میں خون خرابہ نہیں ہوتاجس میں تباہی وبربادی نہیں جس میں نفرتیں اوردشمنیاں نہیں ہوتیں۔آج کامضمون بس اتنامیری بیماری مکمل ختم نہیں ہوئی میرے بہت سارے دوست اورمہرباں مرگے جن میں سردارنعیم صاحب محترم معلم سرداریعقوب خان ہمارے ماضی کے پیپلزپارٹی کے دریرینہ ساتھی۔پاک گلی کے میرے ایک مہربان راجہ دفترکیانی صاحب تراڑکھل سے یعقوب صاحب کی بیگم جوچاردن پہلے رخصت ہوئیں۔لیکن یعقوب صاحب نے اس داغ اوردکھ کواتنالیاکہ ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاکرتوپہلے کدھرچلی گئی اورچوتھے دن یعقوب صاحب بھی قبرمیں چلے گئے پھرمیری چچازادبہن جوسرچھہ میں رہتی تھی ممتازبیگم وہ بھی چلی گئیں۔اس طرح کچھ اورساتھی جویہاں سے چلے گئے میں بوجہ بیماری حاضرنہ ہوسکتاجن کے تہی اسی مضمون میں بخشش کی دعاکرتاہوں،اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے بہشت بریں میں وہ امن وسکون میں رہیں۔(واللہ اعلم)اورسوگواران کواللہ تعالیٰ صبرجمیل عطاکرے۔صحت کی بہتری پران کے ہاں حاضری دوں گا۔باقی آئندہ یارزندہ صحبت باقی۔۔۔



اسلام آباد میں مندر کی تعمیر


اسلام آباد میں مندر کی تعمیر از سیّد زاہد حسین نعیمیؔ رابطہ نمبر: 03465216458 ای میل: szahidnaeemi@gmail.com پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جس کی بنیاد دوقومی نظریہ پر رکھی گئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر میں ہندومسلم دو نظریاتی قومیں آباد تھیں۔ لیکن کئی صدیاں اکٹھے رہنے کے باوجود یہ ایک قوم نہ بن سکیں۔ وجہ ظاہر تھی اور وہ یہ کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کو وحدہ و لاشریک ذات مان کر اُس کی عبادت کرتے ہیں۔ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، اس ضابطہ حیات کے مطابق ہی وہ اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ عبادت گاہ سے لے کر ریاست کے ایوانوں تک زندگی گزارنے کا اسلام کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے، جو اللہ و رسول ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات کے مطابق گزارنا ہے۔ یہ ایک پورا فلسفہ زندگی ہے جو اللہ و رسول ﷺ کی تعلیمات کے تابع ہے، جبکہ ہندو جو ہندوستان میں غالب اکثریت ہیں، وہ بھی اپنا ایک نظریہ رکھتے ہیں، جس کے مطابق وہ زندگی گزار رہے ہیں۔ جس میں بنیادی بات عبادت کی ہے۔ وہ پوجاپاٹ سے کام لیتے ہیں، ایک خالق کے بجائے ان کی زندگی کے تمام معاملات دیوی اور دیوتا چلاتے ہیں۔ ان کے نفع و نقصان کے مالک و مختار یہی دیوی و دیوتا ہیں، جو ہندوستان میں ہزاروں تک کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے تراش کر ان کو بنایا ہے، اور پھر مندروں میں رکھ کر ان کی پوجاپاٹ کرتے ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں یہ بھی کہ کچھ عرصہ ان دیوی دیوتاؤں کی پوجاپاٹ سے جب اکتا جاتے ہیں، ان سے دل بھر جاتا ہے، تو اٹھا کر ندی نالوں میں پھینک دیتے ہیں، پھر ان کی جگہ اور نئے رکھ دیتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ سلسلہ ہزاروں سالوں سے جاری ہے۔ اسلام جب برصغیر میں آیا، صوفیاء کرام کی تعلیمات نے مقامی آبادی کو اپنے کردار، اخلاق اور اسلام کی عمدہ آفاقی تعلیمات سے متاثر کیا تو ہندو پنڈتوں کی ستائی ہوئی ہندو آبادی نے اسلام کے دامن میں پناہ لیتے میں ذرہ بھر دیر نہ کی۔ یوں ہندوؤں کے بعد دوسری بڑی آبادی مسلمانوں کی قرار پائی۔ لیکن ہندوؤں نے اُنہیں الگ ملک بنانے پر مجبور کیا، چنانچہ علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تحریک پاکستان کے ذریعے پاکستان کا قیام عمل میں لایا۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ قرار پایا، جس میں قرآن وسنت کے قانون کو بالادست قرار دیا اور قرار پایا کہ یہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنی زندگیاں گزار سکیں گے۔ لیکن یہ بھی قرار پایا کہ اقلیتی برادریاں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہوں گے، جو آزادی اُن کو پاکستان کے آئین وقانون میں بھی حاصل ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اقتدار میں آنے والے اکثر حکمران رواداری کی انتہاء کو پہنچتے رہے، وہ کبھی عیسائیوں اور کبھی ہندوؤں اور کبھی سکھوں کی عبادت گاہوں میں جاکر اظہارِ یکجہتی کرتے رہے اور یوں وہ اسلامی تعلیمات سے روگردانی کرتے رہے۔ کبھی ہولی دیوالی، کبھی بیساکھی تہوار اور کبھی کرسمس تقریبات میں جاکر عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کے رنگ میں رنگ جانے لگے، جو یقینا خدا و رسولﷺ کی تعلیمات کے بالکل خلاف تھا۔ پاکستان میں جہاں کہیں غیر مسلم آبادیاں تھیں، وہاں ان کے لئے پہلے ہی سہولیات موجود تھیں۔ ان کے گردوارے، مندر اور کلیسے اور چرچ موجود تھے۔ ان کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کا حق حاصل تھا اور بلا روک ٹوک وہ ایسا کر رہے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ ہندوؤں کی زیادہ آبادی سندھ اور بلوچستان میں ہے، جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے طریقے کے مطابق پوجاپاٹ کر رہے ہیں۔ سکھوں کے گردوارے پنجاب میں ہیں، وہ بھی اپنی مذہبی رسومات آزادی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ عیسائی آبادی کراچی اور پاکستان کے چند چیدہ چیدہ شہروں میں آباد ہے۔ وہاں ان کو بھی پوری پوری سہولیات موجود ہیں، لیکن اسلام آباد پاکستان کا بالکل نیا شہر ہے، اس شہر کی بنیاد پاکستان کے سابق صدر جنرل ایوب خان نے رکھی تھی، اور پاکستان کے نظریہ کے مطابق اس کا نام رکھا گیا تھا۔ اسلام آباد میں تاریخی لحاظ سے سکھ یا ہندو آبادی یا ان کے پہلے سے تعمیر شدہ مندر یا گرددواروں کے کوئی آثار نہیں ملتے، ہاں البتہ اس شہر میں پرانی مساجد اور صوفیاء کے مزرات ملتے ہیں۔ یہ علاقہ صرف گزرگاہ تھی، جہاں امام بری سرکار نے ڈیرا ڈالا تھا، یہاں سے گزرنے والے مسافروں کو لوٹنے والے ڈاکوؤں کو راہ راست پر لاکر ان کی سیرت و کردار کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا تھا۔ یہ اس علاقہ کی مختصر تاریخ ہے۔ جنرل ایوب خان نے کراچی سے دارالحکومت یہاں منتقل کیا تو اس کا نام اسلام آباد رکھا گیا، جس کے معنی ”یہاں اسلام کا آباد ہونا ہے“۔ یہ ایک جدید شہر ہے، جس کی آبادکاری کے بعد کئی دیہات ویران ہوئے اور کہیں مساجد ویران ہوئیں۔ 1947ء کے بعد پہلی بار بینظیر دورِحکومت میں یہاں پہلا عیسائیوں کے لئے گرجا گھر بنایا گیا، حالانکہ اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں تھی۔ اب اسلام آباد H9-2 میں ہندوؤں کے لئے مند رتعمیر کرنے کی عمران حکومت نے بنیاد رکھ دی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے ہندوؤں اور سکھوں کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں چار سو مندروں کی شناخت کر لی ہے، جہاں مندر تعمیر ہوں گے۔ اب جب عمران خان کے اسلام آباد میں مندر تعمیر کرنے پر تنقید ہوئی تو حکومتی اہلکار کہنے لگے کہ اس کی نبیاد 2017ء میں نوازشریف نے رکھی تھی۔ یہ مقام افسوس ہے کہ قائداعظم کی وفات کے بعد پاکستان میں بننے والی حکومتیں اسلامی نظریہ حیات کو پس پشت ڈال کر ملک کو سیکولر بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اسلام آباد اور اس کے ملحقہ موضعات میں اسلام آباد کی آبادکاری کے موقع پر مسجدیں ویران ہو گئی تھیں، جن کے نشان اب موجود ہیں۔ ضرورت تو یہ تھی کہ ان مساجد کو پھر سے تعمیر کرکے آباد کیا جاتا، لیکن اس کے برعکس اسلام آباد میں پہلے عیسائیوں کا گرجا گھر بنایا گیا اور اب ہندوؤں کا مندر تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ اسلام آباد میں کوئی ہندو آبادکار نہیں ہے۔ صرف اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے کبھی کرتارپور میں سرکاری زمینوں پر سکھوں کے لئے گردوارہ تعمیر کیا جاتا ہے تو کبھی اسلام آباد میں سرکاری زمین پر گرجا گھر اور مندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ دو قومی نظریہ اور تحریک پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ آئین اور قانون بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اقلیتوں کے حقوق کا یہ مطلب ہے کہ جہاں وہ آباد ہیں، اور ان کی عبادت گاہیں ہیں، ان کی حفاظت کی جائے۔ لیکن مسلمان آبادی میں ان کے گرجاگھر اور مندر تعمیر کرانا جہاں ان کا وجود ہی نہیں، یہ قیامِ پاکستان کے مقاصد کے خلاف ہے۔ ایسا ہی کرنا تھا تو پھر پاکستان الگ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ پھر جمعیت علماء ہند اور ابوالکلام آزاد کے فلسفہ پر ہی عمل کرنا چاہیے تھا۔ ہندوستان میں آج بھی مسلمانوں کی عبادت گاہیں، مسجدیں جلائی جا رہی ہیں اور ساتھ مسلمانوں کو بھی جلایا جا رہا ہے۔ لیکن ہمارے حکمران ہندوؤں کے لئے مندر بنانے کے لئے بے تاب ہیں، خاص اسلام آباد میں مندر بناکر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں اور ایک اور فتنہ کو جنم دے رہے ہیں۔ ایک طرف مسجدوں پر پہرے ہیں اور دوسری طرف سرکاری طور پر مندر تعمیر ہو رہے ہیں۔ یہ مندر اگر تھر میں تعمیر ہوتا تو اس کی کوئی جوازیت تھی، لیکن اسلام آباد میں مندر تعمیر کرنا کسی بھی لحاظ سے قرین قیاس نہیں ہے۔ حکمرانوں کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنا چاہیے۔



ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات اور حکومتِ آزاد کشمیر کا رویہ


ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات اور حکومتِ آزاد کشمیر کا رویہ تحریر: سرمد شمریز پاکستان اور آزاد کشمیر میں سب سے قابل اور لائق ترین سمجھے جانے والے طلباوطالبات ہی میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے اہل قرار پاتے ہیں۔ شعبہ طب سے منسلک ڈاکٹرز کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے ایک لمبا اور مشکل سفر طے کرنا پڑتا ہے جس سے تمام پڑھے لکھے لوگ واقف ہیں۔ اپنی زندگی کے اہم ترین وقت کو قربان کر کے ایم-بی-بی-ایس اور بی-ڈی-ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی پاکستان اور آزاد کشمیر میں ڈاکٹرز شدید مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں۔ دن اور رات کی پرواہ کئے بغیر پاکستان اور آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اپنی آسائشوں کو پس پشت ڈال کر فرنٹ لائن فائٹرز کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ بالخصوص آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات اور محدود وسائل کے باوجود ایک بے حس قوم کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ اس حقیقت سے آزاد کشمیر کا ہر شہری واقف ہے کہ ریاست کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں سہولیات ناپید ہیں جس کی وجہ سے اکثر و بیشتر مریضوں کو راولپنڈی، اسلام آباد اور ایبٹ آباد جیسے شہروں میں ریفر کر دیا جاتا ہے اور پھر ڈاکٹرز پر جملے کسے جاتے ہیں کہ یہ ڈاکٹرز صرف مریضوں کو ریفر کرنے کی تنخواہیں لیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں انہی ناکافی سہولیات اور اپنے سروس سٹریکچر کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے ینگ ڈاکٹرز قریباً پچھلے دو ماہ سے زائد عرصہ سے احتجاج پر ہیں۔ گزشتہ دنوں آزاد کشمیر حکومت کی ایماء پر مظفرآباد میں ینگ ڈاکٹرز کے احتجاجی دھرنے پر پولیس کے ذریعے لاٹھی چارج کیا گیا اور ڈاکٹرز رہنماؤں کی گرفتاریاں عمل میں لا کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ پوری قوم کے لئے یہ افسوس کا مقام ہے کہ کریم آف دی نیشن قرار دئیے جانے والے ڈاکٹرز کے ساتھ اس معاشرے میں یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات ان کے اپنے فائدے سے زیادہ ایک عام شہری کی صحت کے بنیادی حقوق کی علمبرداری کرتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ آزاد کشمیر میں مریضوں کے تناسب کے لحاظ سے ڈاکٹرز اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کی آسامیوں میں اضافہ کیا جائے۔ آزاد کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کی جائیں۔ آزاد کشمیر میں کم از کم تین ٹرشیئری کیئر ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے علاج کے لیے ریاست کے شہریوں کو راولپنڈی، اسلام آباد کے چکر نہ لگانا پڑیں۔ آزاد کشمیر کے شہریوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی بھاری فیسوں سے بچانے کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں سی ٹی سکین اور ایم-آر-آئی کی مشینیں فراہم کی جائیں۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں بی-ایچ-یوز اور آر-ایچ-سیز کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں ایک کارڈیک ہسپتال اور ایک نیورولوجی سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز اس وقت پاکستان کے تمام صوبوں کے ڈاکٹرز کی نسبت کم مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ ان کو وفاق کے مساوی مراعات اور حقوق دیے جائیں۔ کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے پرسنل پروٹیکشن کٹس کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے جو کہ ڈیوٹیاں سرانجام دینے کے لیے ڈاکٹرز کی بنیادی ضرورت ہے۔ ینگ ڈاکٹرز اپنے تحفظ کے لیے حکومت سے سیکیورٹی ایکٹ نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں تاکہ وہ عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں۔ ایک عام شہری کی سمجھ میں بھی آ جانے والے ان بنیادی مطالبات کو لے کر گزشتہ دو ماہ سے ینگ ڈاکٹرز پر امن احتجاج پر ہیں لیکن حکومت آزاد کشمیر ان ڈاکٹرز کے خلاف تشدد پر اتر آئی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کو زیر کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق چونکہ آزاد کشمیر پاکستان کا باضابطہ طور پر حصہ نہیں ہے، لہذا پاکستان میں ڈاکٹرز کو جو مراعات حاصل ہیں وہ آزاد کشمیر کے ڈاکٹرز کو نہیں دی جا سکتی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کا رویہ بھی قابلِ مذمت ہے جو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پولیس فورس کے ذریعے ینگ ڈاکٹرز پر چڑھائی کی جا رہی ہے جو قابلِ مذمت ہے۔ قوم کے ان عظیم فرنٹ لائن فائٹرز اور پڑھے لکھے طبقے کو پولیس اہلکاروں سے مقابلہ کسی صورت زیب نہیں دیتا اور نہ یہ ڈاکٹرز کے شایانِ شان ہے۔ ڈاکٹرز نے ریاستی تشدد برداشت کرنے کے لیے تعلیم ہرگز حاصل نہیں کی۔اس وقت ینگ ڈاکٹرز مکمل قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں اور ایمرجنسی سروسز کا بھی بائیکاٹ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مریض در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان تمام حالات کی ذمہ دار آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت ہے جو اپنی شاہ خرچیوں کے لئے تو کروڑوں روپے مختص کیے ہوئے ہے لیکن ڈاکٹرز اور مریضوں کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کے پاس بجٹ موجود نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیر صحت خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں لیکن اس کے باوجود ڈاکٹرز کے مسائل کے حل کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔ اسی طرح سے سیکرٹری صحت آزاد کشمیر کا رویہ بھی جارحانہ ہے۔ آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے جب ڈاکٹرز تشویشناک مریضوں کو راولپنڈی اسلام آباد ریفر کرتے ہیں تو ان ڈاکٹرز کے خلاف محاذ کھڑا کر کے ان کے مقدس پیشہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں قابل ڈاکٹرز ایک بڑی تعداد میں ایم-بی-بی-ایس کرنے کے بعد ملک کو چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں جہاں انہیں نہ صرف اچھے ہسپتالوں میں کام کرنے کے مواقع میسر آتے ہیں بلکہ عزت و احترام بھی دیا جاتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز کے مسائل کے حل کے لیے آزاد کشمیر کی حکومت کو احکامات جاری کرے اور آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی اور ڈاکٹرز کے سروس سٹریکچر کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر حکومت سے فنڈز مختص کروائے جائیں۔ ایک ڈاکٹر کسی کی امید اور کسی کا ہیرو ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کو سیلوٹ سے زیادہ ان کے حقوق کی ضرورت ہے۔ ہمارا معاشرہ اس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ قوم کے مسیحا ہسپتالوں کا بائیکاٹ کر کے سڑکوں پر ریاستی تشدد برداشت کریں۔



مریض جس کو کرونا وائرس، ٹائیفائیڈ اور معدے کا السر ہو، بچنے کی امید دو فیصد


مریض جس کو کرونا وائرس، ٹائیفائیڈ اور معدے کا السر ہو، بچنے کی امید دو فیصد تحریر: ڈاکٹر محمد نواز خان ناظرین یہ تحریر ہر طبقہ فکر مریض،معالج اور انسانیت کے وجود کیلئے پڑھے گا اُس کا ایمان اللہ پر اُسکی قدرت پر اور اُس ذات پر خودبخومضبوط ہوگا کہ وہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی ہے ایمان مضبو ط ہوگا۔ بحیثیت انسان اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں، انسان کو زندگی کس نے دی اللہ نے، موت کون دے گا اللہ، موت کے وقت کا تعین کون کریگا اللہ، بیماری کون لگائے گا اللہ، شفاء کون دے گا اللہ، کس نے قرآن پاک میں فرمایا اللہ نے انسان کیلئے کوئی بیماری نہیں بھیجی جس کی دوا نہ بھیجی ہو تو پھر میں اور پوری دنیا یہ کیوں کہتی ہے کہ کرونا وائرس کا علاج نہیں ہے۔ کیا یہ بات شرک کے کھاتے میں نہیں چلی جاتی اللہ کہے کہ دوا موجود اور ہم کہہ دیں دوائی نہیں جس کے ساتھ مریض کا علاج کیا جائے۔ آپ کی آسانی کیلئے دوائی کیسے بنائی جاتی ہے مختصر تصور تاکہ بات ناظرین کے سمجھنے کیلئے آسان ہو جائے۔ دوائی کا اسٹریکچر تیار کرنے سے پہلے دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بھی جرثومہ کس طرح کی خوراک کھانے کے چکر میں ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس اُس کو دو طرح سے دھوکہ دیتی ایک اُس کے انسانی خلیہ کے اندر جانے کی خوراک کا راستہ بند کرکے تاکہ اس کے کھانے کا راستہ بند ہو جائے اور وہ بھوکا پیاسا مر جائے اُس کو ہم کہیں گے Static Method، دوسرا طریقہCidialیعنی دوائی اندر گئی اور اُس کو اندر ہی مار دے گی وہ سوچے کا مجھے میری غذا مل گی جب کہ یہ اس کیلئے زہر ہوگا جو کھائے گا اور مر جائے گا۔ یہ بہت ہی عام الفاظ ہیں ہر ایک کے سمجھنے کیلئے ہیں۔ میں بہت ٹیکنیکل الفاظ کی طرف نہیں گیا تاکہ کم پڑھا لکھا آدمی بھی بات کو سمجھ جائے۔ ناظرین سورۃ الرحمن کی چار باتیں پھر کالم کا باقی حصہ،رحمن کیا ہے اللہ کا اپنے لیے پسندیدہ نام اس کے معنی رحمت، حضور پاک (ﷺ) نے فرمایا کوئی آدمی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک اللہ کی رحمت اس کی دستگیری نہ کرے،کسی صحابی ؓ نے جرت کرکے پوچھ لیا کیا حضور (ﷺ) آپ بھی، فرمایا کوئی شخص داخل نہیں ہوسکتا اپنے اعمال کی بنیاد پر جب تک اللہ کی رحمت نہیں ہوگی اسی طرح میں بھی۔ رحمن نے قرآن سیکھایا جو بھی علم ہے کس نے دیا اللہ نے سائنس کا علم کس نے دیا اللہ نے باقی علم کس نے دیئے اللہ نے بس ہر طرح کا علم جو اللہ تعالیٰ دینا چاہے تمام علوم میں چوٹی کا علم قرآن، انسان کو پیدا فرمایا سوال ہے باقی چیزوں کو کس نے پیدا کیا مثلاً فرشتے زمین آسمان پودے باقی تمام جاندار سب اللہ نے لیکن تخلیق انسان اس کا عروج ہے۔ انسان کو بیان کی صلاحیت عطا کی آنکھیں دی دیکھنے کیلئے کان دیئے سننے کیلئے دل دیئے سوچنے کیلئے اسکے علاوہ جسم کے اندر اور باہرپوری پوری فیکلٹیز ہیں۔ یہ باتیں ایمان اور یقین کرنے کیلئے لکھی کوئی ڈاکٹر کچھ نہیں جانتا جب تک اللہ کی طرف سے دانائی نہ ملے یہ مرض کی تشخیص خالصتاً دانائی ہے اور یہ عظیم نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ جس سے بھلائی کرتا ہے حکمت عطا کرتا ہے جس کو سیدھے راستے پر چلانا چاہتا ہے اس کو ہدایت دینا۔ قرآن پاک میں مکھی کے پیدا کرنے کی مثال دی گئی ہے کہ سب مل کر ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے ہو بلکہ اگر وہ تمہارے ہاتھ سے کوئی چیز لے جائے تو تم اس سے وہ بھی واپس نہیں لے سکتے۔ اس ساری تمہید کا مطلب یہ ڈاکٹر ز فارماسسیٹ نرسنگ اسٹاف مریضوں کے ساتھ پیا ر کریں محبت کریں پیار سے بات کریں مریضوں کی دلجوئی کریں جب آپ اس کو عزت دیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو عزت دیں گے۔ مشکل ترین وقت میں مریضوں کی دعائیں آپ کو بھی اللہ تعالیٰ زندگی کے آخری لمحات سے واپس صحت مند زندگی کی طرف لے آئیں گی۔ حضرت محمد (ﷺ) کا طریقہ یہ تھا کہ مریض کو دیکھتے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے، اے عر ش عظیم کے مالک تیری بارگاہ الٰہی میں دعا کرتا ہوں کہ اگر اس مریض کی زندگی ہے تو اس کا شفاء دے اور اگر زندگی نہیں تو اس کے لیے آسانی پیدا کرے۔ ناظرین تقریباً چار ہفتے سے میں نے ڈیوٹی نہیں کی ایک ہی وقت میں اللہ پاک نے امتحان میں ڈال دیا۔ ایک ہی ساتھ تین بڑی بیماریاں کرونا وائرس کا حملہ ساتھ ہی ٹائیفائیڈ اور معدہ کا السر یہ 06,05,04جون سے شروع ہوا 07جون کو ٹمپریچر یعنی بخار 105تک پہنچ گیا رات کو جب مجھے زیادہ تکلیف ہوئی تو بے ہوشی کے عالم میں میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ حضرت محمد (ﷺ) کے وصال کی وجہ یہ بخار ہی تھا اور اب شاہد میرا بھی آخری وقت ہے۔ اللہ سے اپنے کیے گناہوں کی معافی مانگ لینی چاہیے۔ بہرحال خود بھی کرونا وائرس پر کئی کالم لکھ چکا تھا ساتھ ہی جب سے کرونا وائرس کی وباء آئی میری بیٹی ڈاکٹر آمنہ نواز کو بھی ڈی ایچ او صاحب نے انچارج بنا دیا اس طرح وہ بھی اس وباء کے بارے میں کافی حد تک اسٹیڈی کرچکی تھی۔ میں نے بیٹی سے کہا کہ مجھے اگرہسپتال لے گئی تو واپسی پر لاش ہی واپس لے آؤ گی۔ جو کچھ ہو گیا ہے گھر پر اس کے ساتھ خود ہی علاج معالجہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے شفاء دینی ہو تو دے دیگا اور اگر مر گیا تو بالکل اسلام کے طریقہ کے مطابق کفن دفن کردینا اور اگر کسی نے مداخلت کی تو قیامت کے دن میرے ہاتھ ہونگے اور دوسرے کے گریباں چونکہ جس طریقہ سے مسلمان مرنے والے یا مرنے والی کے ساتھ ہوتا اسلام میں تو کئی اس طرح کا تصور تک نہیں ہے۔ علماء سے ایک کالم لکھ کر التجاء کی تھی کہ قرآن پاک کی سورۃ بقرہ آیت نمبر 113پڑھ کر مسلمان حکمرانوں کی راہنمائی کریں مگر عالم اسلام میں کسی کو جرت نہیں ہوئی کہ وہ حکومت کی راہنمائی کرتے۔ 07-06-2020کو میں نے ایک دوائی کا استعمال شروع کیا چونکہ کرونا وائرس پھپھڑوں کی نمونیہ ہے اس وقت میرے نزدیک Linezolidسے بہتر کوئی دوائی نہیں چونکہ یہ سالٹ نیا ہے اور کم استعمال ہے اور Panadolاور Prednisolneٹیبلٹ تین دن استعمال کی لیکن ساتھ ہی سخت سردی اور پسینہ بھی آنے لگا۔ میں نے سوچا ساتھ ہی ٹائیفائیڈ اور H-Pyloricٹیسٹ بھی کروا دیتا ہوں۔16-06-2020کو وہ دونوں ٹیسٹ بھی +veآگئے۔ لہٰذا میں نے یہ دیکھ کر بیٹی کی مشاورت سے Cefixime 400mgشروع کی پانچ دن کے بعد آفاقہ نہ ہوا تو پھر Levofin 500mgتین دن پھر جب منہ کے ذریعے دوائی لینے کے قابل نہ رہا تو Inj Claforan 2gmصبح شام ساتھ Inj Solucortifمورخہ 23-06-2020کو Covid-19ٹیسٹ کروایا تو +veتھا۔ اتنا لیٹ یہ ٹیسٹ کیوں کروایا اس پر انشاء اللہ پورا کالم لکھوں گا تاکہ لوگوں کو بھی آگاہی حاصل ہو تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ کون سے ٹیسٹ کس وقت ہو تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ Covid-19ٹیسٹ کے پھر دوائی تبدیلی کی چار دن Inj Moxifloxacinپھر پانچ دن ٹیبلٹ ایک چیز نوٹ کرنے کی ہے یہ وائرس سائنس کی نالی کے اوپر بیٹھتا ہے اور جب آدمی سائنس لیتا ہے تو اس کا گلہ دباتا ہے اور کہتا ہے دوبارہ سائنس لے کر تو دیکھو،یہ جو کچھ میں نے لکھا یہ صرف ڈاکٹر فارماسسیٹ اور نرسنگ اسٹاف کیلئے اگر کوئی مریض اپنی مرضی سے سٹور سے لے کر کھائے گا تو اس سے بڑا جرم کوئی نہیں ہوگا میں نے جو کچھ کیا بحیثیت ماہر ادوایات اور ڈاکٹروں کی نگرانی میں کیا۔ میں اپنے بہن بھائیوں دوستوں کا اور مریضوں کا جن کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے دوبارہ زندگی دی سب لوگوں نے آئیسولیشن میں میرا مشورہ مانا میں نے کہا کہ میں متاثر ہو گیا ہو خداراہ ادھر آکر اپنے آپ کو متاثر نہ کرنا، میری بیگم نے بیٹی نے بیٹے نے ڈاکٹر تنویر ان کے بھائی سجاد اور خاص کر سیاب عالم، مقبول حسین نے جو میری دیکھ بھال کی اللہ تعالیٰ ان کو اس کا اجرو ثواب دے میں اللہ کے فضل سے 90فیصد ریکور ہو گیا ہوں عام کمزوری ہے انشاء اللہ ہفتے دس دن میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ پھر اپنی خدمات پیش کروں گا۔ ابھی جب بیٹی سے کہتا ہوں کہ اب تو ڈیوٹی کروں گا تو وہ اپنی آنکھیں موٹی کرکے میرے چہرے کی طرف دیکھتی ہے اورکافی آنسوں بہاتی ہے اور مجھ سے سوال کرتی ہے کہ ابو آپ کو پتہ ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے کہاں سے واپس زندگی دی ہے آپ تو صبر سے لیٹ گئے تھے اف تک نہیں کررہے تھے ابھی اپنے ربّ کا شکر ادا کریں اور آرام کریں۔ آئندہ انشاء اللہ کرونا وائرس کی ٹیسٹوں کے شیڈول اور کیا غذائیں کھانی چاہیں اس پر سیر حاصل بحث ہوگی۔ آخر میں حکومت سے میری اپیل ہے کہ کرونا وائرس جائے گا نہیں جس طرح ہم خسرہ، Mumps، Cheken Pox، کینسر، ٹی بی اور بیماریوں کے ساتھ زندہ ہیں اس کی کبھی ویکسین نہیں آئے گی چونکہ ہر جگہ اس کی شکل مختلف ہے۔ آپ ویکسین کا کون سا اسٹریکچر تیار کریں گے جب آدمی پورے طور پر اس کے قابو میں ہوتا ہے وہ مختلف قسم کی شکلیں خواب میں آتی ہیں اور انسان جھٹکے سے اچھلتا ہے۔ اللہ تعالی اپنے آمان میں رکھے۔



اسلام آباد میں کفر کی تعمیر کی بنیاد


اسلام آباد میں کفر کی تعمیر کی بنیاد (ابن نیاز) کتنے فخر سے کفر کا ساتھ دے کر اس کو پھیلانے کی بنیاد رکھتے ہوئے فوٹو سیشن کروایا جا رہا ہے۔ اکڑ کر یوں کھڑے ہیں جیسے اللّٰہ کے دین کو روند کر اور کفر کی جڑ کو پانی دے کر کوئی بہت اعلٰی ترین کام کیا ہے۔ کاش قرآن کو بچپن میں پڑھ کر اسے طاق میں نہ رکھتے بلکہ اس کو دل سے لگا کر اس اس کا ترجمہ پڑھتے، کسی عالم سے اس کی تفسیر پڑھ کر اسے سمجھتے، اگر خود نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین صرف زبان سے کہنا کافی نہیں ہوتا۔۔ جب صرف اللّٰہ ہی کی عبادت کا نعرہ بلند کیا جائے تو پھر کفر کا ساتھ دینے کے کیا معنی۔ پھر تو اس کی پرچھائیں سے بھی بچنا چاہیے، چہ جائیکہ اس کو باقاعدہ پنپنے کا موقع دیا جائے۔ قرآن پاک میں اللہ نے سیدھا سیدھا فارمولا بتا دیا ہے۔۔"اور تمہیں اس قوم کی دشمنی جو کہ تمہیں حرمت والی مسجد سے روکتی تھی اس بات کا باعث نہ بنے کہ زیادتی کرنے لگو، اور آپس میں نیک کام اور پرہیزگاری پر مدد کرو، اور گناہ اور ظلم پر مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔" (سور? المائدہ۔ آیت2) واضح ہے کہ ان کے ساتھ بھی زیادتی نہیں کرنی جو تمھیں تمھاری عبادت گاہوں سے روکتے تھے۔ یعنی اب ان کو ان کی عبادت گاہوں سے منع نہیں کرنا۔یا ان کو اور کسی قسم کی تکلیف دینا۔ لیکن یہ بھی نہ ہو کہ ان کے گناہوں میں اور ان کے کفر میں ان کے ساتھ نہیں مل جانا اور ان کو آگے بڑھنے میں ان سے تعاون کرنے لگ جانا۔ کتنی صاف بات لکھی گئی ہے کہ ان کے ساتھ ہر گز گناہ میں اور ظلم میں مدد نہیں کرنی۔ لیکن بت پرستی کو بڑھاوا دینا، ان کو مندر خود بنا کر دینا کیا ان کے شرک میں، کفر میں ان کے ساتھ تعاون کرنے کے برابر نہیں ہے؟ اور جب وہ لوگ، جو اس تعاون کے بارے میں ذمیوں کے حق کی بات کریں گے، وہ بھی اسی آیت کے زمرے میں آئیں گے۔ ذمیوں کو یعنی غیر مسلموں کو پاکستان میں کون سے حقوق نہیں دیے گئے؟ سب ان کو میسر ہیں۔ وہی نہیں میسر، جن سے ہمیں ہمارا دین منع کرتا ہے۔ حقوق کی بات ہو رہی ہے نہ کہ ان کے مذہب میں ان سے تعاون کی۔ یہاں حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب موجودہ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد تو پہلے دن سے ہی سامنے آگیا تھا، اب ان کے اعمال پر بھی شک کرنے کو دل کرتا ہے۔ کبھی قادیانیوں کو اپنے مشیر بناتے ہیں تو کبھی انھیں اونچی نشستیں فراہم کرتے ہیں۔ گذشتہ حکمران کہتے تھے کہ قادیانی ہمارے بھائی ہیں تو موجودہ حکمرانوں نے اس بات کو سچ ثابت کرکے دکھایا کہ شریف برادران نے غلط نہیں کہا تھا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ متحدہ عرب امارات میں بھی ہم کچھ ماہ پہلے دیکھ چکے ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر میں نہ صرف مدد کی گئی بلکہ پھر اس کا افتتاح بھی حکومت وقت نے کیا۔ ہمیں تو چلو عربی نہیں آتی۔ شاید ہم قرآن کی آیات کی غلط تشریح کرتے ہوں گے، غلط ترجمہ پڑھتے ہوں گے لیکن کیا وہ بھی عربی سے نابلد ہیں۔ یا قرآن کی عربی ان کی عربی سے مختلف ہے جو انھیں بھی سمجھ نہیں آتی۔ بالکل نہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بس کفار کے بے بنیاد پرپیگنڈہ کی وجہ سے کہ اگر وہ غیر مسلم ممالک سے روابط نہیں رکھیں گے تو ان کی معیشت خراب ہو جائے گی۔ وہ اگر جمہوریت کا راگ اپنے ملک میں نہیں الاپیں گے تو ان کو حکمرانی کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ سعودی عرب میں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات میں جمہوریت کا راگ الاپا گیا ہے۔جب سے خلافت کا خاتمہ ہوا، تب سے وہاں بادشاہت کا سلسلہ رواں ہے۔ بات ہو رہی تھی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی۔جس کی تعمیر کے لیے درخواست دینے والوں میں اسلام آباد کے ایف 6 سیکٹر کے لوگ بھی شامل تھے۔ جب کہ مندر کے لیے زمین کی تفویض سیکٹر ایچ نائن میں کی گئی ہے۔ درخواست میں لکھا گیا تھا کہ ان کے پاس دیوالی اور دیگر تہوار منانے کے لیے کوئی عبادت گاہ نہیں ہے۔ بندہ ان سے پوچھے کہ تم لوگ تو اپنے گھروں میں اپنے ہاتھوں سے اپنے بھگوان بنا کر پوجتے ہو، تو عبادت گاہ کی کیا ضرورت۔ کون سا وہ لوگ اجتماعی عبادت کرتے ہیں اپنے بھگوان کی۔ ہر کسی نے اپنا علیحدہ بھگوان بنایا ہوا ہے۔ کروڑوں بھگوان ہیں۔ آتے جاتے، بندر، ہاتھی، گھوڑا، سانپ، شیولنگ، ہر کسی کو پوجتے ہیں، تو عبادت گاہ کی ضرورت کیا ہے۔ اگر بفرض محال بہت ہی ضرورت ہے تو پھر راول ڈیم کے پاس جو مندر ہے، اس کو دوبارہ اپنے خرچے پر تعمیر کر دو۔ ویسے تو پاکستان میں فساد اور دہشت گردی کے لیے بے تحاشا پیسہ ہے لیکن اپنے ہی مندر کی تعمیر کے لیے ڈونیشن مانگتے ہیں۔ مندرکی تعمیر میں تعاون کی غرض سے حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے اس کے رد میں قرآن کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور مختصر سا واقعہ کا حوالہ کہ جب منافقین نے مدینہ میں ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی وہ ایک نماز وہاں پڑھا کر افتتاح کر دیں تو اللہ نے ہمارے آقا کو روک دیا اور اس مسجد کو مسجد ضرار کا نام دیا کہ جس کی بنیاد ہی شر پر رکھی گئی تھی۔ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو گرانے کا حکم دے دیا تھا۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک مسجد اگر شر کی بنیاد پر گرائی جا سکتی ہے توکوئی مندر یا کسی بھی اور مذہب کی کوئی بھی عبادت گاہ کی تعمیر حکومت وقت کس طرح کر سکتی ہے۔ ہر گز نہیں۔ حکومت وقت کا یہ فیصلہ اللہ کے احکامات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے شدید منافی ہے۔ اللہ تو قرآن پاک میں ان لوگوں کے لیے جن کو حکوت دی جائے، فرماتے ہیں: "وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰ? دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں، اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔ " (سور? الحج۔ آیت۔ 41) جب کہ یہاں نماز کی پابندی کا حکم تو درکنار، الٹا کورونا کا بہانہ بنا کر مساجد میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ بازاروں میں، شادی کی تقریبات میں تو کورونا ہر گز نہیں پھیلتا۔ بس پھیلتا ہے تو مساجد میں نمازیوں کے ذریعے، جو پانچ وقت وضو کرکے آتے ہیں، اللہ کا نام اپنی زبان سے لیتے ہیں اور اسی کا ذکر بلند کرتے ہیں۔ نیکی کے کام نہ خود کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کا بندے سرعام نیکی کر ہی ڈالے، جو ریاکاری سے پاک ہو تو حکومت فوجدار (اہلکار) اس کے پیچھے ہاتھ پاؤں دھو کر پڑ جاتے ہیں کہ نیکی کرنے کے لیے یہ رقم کہاں سے آئی۔ کیا وہ سیاستدان بننا چاہتا ہے؟ کیا وہ فلاں کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ہزار ہا طریقوں سے اس کو پریشان کیا جاتا ہے۔ اس کے نیک کا م میں اس سے تعاون کرنے کی بجائے اس کو اس حد تک مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نیک کام سے باز آجاتا ہے۔ کاش سب سے پہلے ہمارے عوام کو اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنے کا موقع ملے اور وہ درست سمت میں اپنے آپ کو چلا سکیں اور اس کے بعد ایسے حکمرانوں کا انتخاب کریں جو نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں مدد گار ہوں اور گناہوں کے کاموں سے روک سکیں۔ **********



آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی غیر معیاری سروس


آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی غیر معیاری سروس تحریر: سرمد شمریز آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیز کے خلاف شہریوں اور طلباوطالبات کی ایک بڑی تعداد نے گزشتہ کچھ دنوں سے زبردست احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہوا ہے۔ آزاد کشمیر کے تمام علاقوں میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیز جن میں ٹیلی نار، زونگ، یوفون، موبلنک اور ایس کام شامل ہیں، کے خلاف شدید عوامی تحفظات اس وقت شدت کے ساتھ سامنے آئے جب کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے تعلیمی اداروں نے آن لائن تعلیمی سسٹم کا آغاز کیا۔ گو کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے قبل بھی ان کمپنیز کی جانب سے فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ سروس انتہائی سست اور غیر معیاری تھی لیکن موجودہ حالات میں طلباوطالبات کی آن لائن کلاسز اور آن لائن امتحانات کی وجہ سے عوامی ردعمل شدت کے ساتھ سامنے آیا۔ آزاد کشمیر کے شہریوں کا مؤقف یہ ہے کہ یہ کمپنیز عوام سے 4G انٹرنیٹ سروس کے نام پر پیسے وصول کرنے کے بعد بھی ایسی سروس فراہم کر رہی ہیں جس کی رفتار 2G سے بھی کم ہے۔ بلکہ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس تو دور کی بات، عام موبائل کالز کی سروس بھی موجود نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے مرکزی شہروں کی حد تک تو یہ کمپنیز 4G انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہی ہیں جس کی رفتار سست ہے لیکن مرکزی شہروں سے چند کلومیٹر دور چلے جائیں تو وہاں 2G سروس بھی موجود نہیں ہے۔ عام شہریوں اور طلباوطالبات کا یہ مطالبہ بالکل بجا ہے کہ اگر یہ کمپنیز 4G انٹرنیٹ سروس کے پیسے وصول کرنے کے بعد بھی غیر معیاری اور انتہائی سست سروس فراہم کر رہی ہیں تو یہ عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر کے شہریوں کی جانب سے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر شدید احتجاج کیا گیا۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔ ٹویٹر پر ان کمپنیز کے خلاف شہریوں کی جانب سے زبردست ٹرینڈ چلایا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں ٹویٹس کی گئیں اور یہ معاملہ کھل کر سامنے آیا - 'آزاد کشمیر میں بہتر انٹرنیٹ فراہم کرو ' کے ہیش ٹیگ سے قریباً 27 ہزار سے زائد ٹویٹس ایک دفعہ اور قریباً 29 ہزار ٹویٹس دوسری دفعہ کی گئیں۔ صرف دو گھنٹوں میں یہ ٹرینڈ ٹویٹر پر پاکستان میں پہلے نمبر پر آ گیا۔ ایسا صرف آزاد کشمیر کے با شعور سوشل ورکرز اور دیگر شہریوں کی محنت کی بدولت ہوا کہ انکا یہ مطالبہ قومی سطح پر سامنے آیا۔ شہریوں کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس میں کہا گیا کہ انکا مطالبہ انتہائی واضح اور قابلِ فہم ہے کہ آزاد کشمیر کے شہریوں کو فی الفور معیاری انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ عوام نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھی آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی ناقص سروس کے خلاف احتجاج کیا لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس احکامات سامنے نہیں آئے اور نہ ہی انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیز کے ذمہ داران نے کوئی نوٹس لیا۔ اس صورتحال میں پاکستان کے بڑے بڑے الیکٹرانک میڈیا چینلز نے بھی بے حسی کا مظاہرہ کیا اور آزاد کشمیر کے شہریوں کے اس اہم مسئلہ پر کوئی پروگرام یا خبر نشر نہ کی۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ معیاری تعلیم کا حصول بہتر انٹرنیٹ سروس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بالخصوص موجودہ حالات میں پروفیشنل تعلیمی اداروں اور کالجز کے طلباوطالبات کو انٹرنیٹ کی ناقص سروس کی وجہ سے آن لائن کلاسز لینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے رویے پر بھی عوام شدید احتجاج کر رہی ہے۔ دنیا ٹیکنالوجی کی کتنی منازل عبور کر چکی ہے اور آزاد کشمیر کے شہری اس دور میں بھی موبائل فون کے سگنلز تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر اس وقت تک اپنے شہریوں کو معیاری انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے میں بالکل ناکام ہیں۔ آزاد کشمیر کے شہریوں نے معیاری انٹرنیٹ سروس کی فراہمی تک سوشل اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہریوں نے کہا ہے کہ 4G انٹرنیٹ سروس کے پیسے لے کر 2G انٹرنیٹ سروس بھی فراہم نہ کرنے کا دھوکا مزید نہیں چلنے دیں گے۔ موجودہ حالات میں حکومتِ پاکستان اور پی ٹی اے کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیز کی لوٹ مار کا نوٹس لے کر آزاد کشمیر کے تمام علاقوں میں بلا تفریق فور جی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے احکامات جاری کریں بصورتِ دیگر شہریوں کی جانب سے مرحلہ وار احتجاج جاری رہے گا۔



سوپورکا ننھامجاہد


سوپورکا ننھامجاہد سردارمحمدحلیم خان پینسٹھ سالہ کنٹریکٹر بشیر احمد اپنے نواسے تین سالہ عبید کے ساتھ سوپور کسی کام کے سلسلے میں پہنچے۔کشمیر کے چپے چپے پر بھارتی فوج نیم فوجی دستے اور پولیس تعینات ہے یہاں بھی فوج کے جوان جمع تھے بشیر احمد نے اسے معمول کی سرگرمی سمجھا لیکن انھیں معلوم نہ تھا کہ یہ درندہ صفت فوجی ان کو قتل کر کے سکور پورا کریں گے۔یہ اپنی عمر اور چہرے مہرے سے بھی مجاہد نہیں دکھ رہے تھے لہذا بظاہر خطرے والی کوئی بات نہ تھی۔اچانک ان کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔گاڑی رکی تو انھیں معصوم عبید کے ساتھ گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا۔اس سے قبل کہ وہ کچھ وضاحت کر تے پورا برسٹ ان کے جسم میں اتار دیا گیا۔لاش سڑک پر پھینک دی گئی۔ننھا عبید یہی سمجھا اس کے نانا کو صرف مارا ہے اسے معلوم نہ تھا ان کی شہادت ہو چکی ہے۔تین سالہ عبید اب ان درندوں کے بیچ اکیلا تھا وہ نانا کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا نا معلوم اس لئے کہ ان درندوں سے بچنے کے لئے یا پھر اپنے خیال میں زخمی نانا کو اٹھانے کے لئے کچھ دیر تک جب نانا کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا وہ اس کے التجائیں کرنے بلبلانے کے باوجود نہ اٹھے کہ وہ تو رب کے حضور پہنچ چکے تھے عبید نے عجیب فیصلہ کیا اس نے پتھر اٹھایا اور ایک بھارتی فوج کی طرف چل پڑا۔ننھے عبید کے ہاتھ میں پتھر والی تصویر کاش کے قارئین کو دکھائی جا سکتی۔ تصور کریں ایک تین سالہ معصوم بچہ جس کے سامنے اس کے نانا کو خون میں نہلادیا گیا ہے اس کے بس میں پتھر ہی تھا وہی لیکر چل پڑا۔ یہ معصوم پھول قرآن پاک کی عملی تفسیر بن گیا۔نکلو اللہ کی راہ میں ہلکے ہو یا بوجھل۔ یہ بچہ ساڑھے بائیس کروڑ پاکستانی عوام اورحکمرانوں کو جھنجوڑ چکا کہ میرے پاس ایک پتھر تھا وہی لے کے چل پڑا۔آخر تمہیں کیا ہو گیا تمہارے پاس ایٹم بم ہے میزائل اور ٹینک ہیں جدید ترین طیارے ہیں پھر تمہاری ٹانگیں کیوں کانپ رہی ہیں؟ جذبوں کا یہ عالم کہ تین سالہ بچہ اپنے نانا کا خون میں لتھڑا لاشہ دیکھ کر بھی ہار ماننے کو تیار نہیں اور قربانیوں کی داستان اتنی طویل کہ گذشتہ مارچ سے اس وقت تک 229 نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں جن میں ریاض نائیکو جنید صحرائی اور پی ایچ ڈی سکالر ہلال احمد جیسے ہیرے شامل ہیں کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ سے جام شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔بشیر احمد کی شہادت نے اس پروپیگنڈے کو بھی تحلیل کر دیا کہ بھارتی فوج پاکستان کے جھنڈے اٹھانے کی وجہ سے قتل عام کر رہی یے۔کیا ایسے بیہودہ دلائل دینے والے بتائیں گے کہ بشیر احمد یا ننھے عبید میں سے کس نے پاکستانی پرچم اٹھا رکھا تھا جس سے یہ درندے مشتعل ہوے؟ پتھروں سے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے والی بچیاں ہوں یا پتھر کو ہتھیار بنانے والا ننھاعبید یہ بے مثال تاریخ رقم کر رہے ہیں۔لیکن آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے دانشور یوروپ اور گلف کیٹھنڈے ٹھار کمروں میں بیٹھ کر ان کی جدوجہد پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ فیس بکی دانشوروں پر ہی کیا موقوف ہے حال ہی میں ایک سابقہ جرنیل جو الیکٹرانک میڈیا پر دانشوری بگہارتے رہتیہیں انھوں نے بھی یہ تبصرہ کرنا ضروری سمجھا کہ کشمیریوں نے آج تک اپنی جنگ اس طرح نہیں لڑی جیسے لڑنی چاہیے تھی۔پہلی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ پاکستانی عوام مذکورہ شخص کے کسی کارنامے سے واقف نہیں ہیں اپنے آپ کو عسکری ماہر سمجھنے والے اگر کسی نشست میں یہ بھی بتا دیں کہ ان کی عسکری دانش کے نتیجے میں پاکستان کو کس محاذ پہ کامیابی ملی ہے تو ہمیں ان کی بات سمجھنے میں آسانی رہے گی۔فی الحال تو ان کا تعارف صرف اتنا ہے کہ وہ اس مشرف ٹولے کاحصہ تھے جس نے 2003 میں بھارتی دھمکیوں اور سرحدوں پر فوج کے ارتکاذ سے خوفزدہ ہو کر کنٹرول لائن کے تقدس کا معاہدہ کر لیا تھا۔اسی پہ بس نہیں کیا کشمیر میں جہادی اور سیاسی تحریک سے دینی قوتوں کو بے دخل کرنے کے لئے حریت کانفرنس کو تقسیم کیا۔مجاہدین پر پابندیاں لگائیں اور ان میں پھوٹ ڈلوانے کی سازش کی۔ساتھ ہو کر کنٹرول لائن پر باڑ لگوائی۔آج اگر ہندوستان کشمیر میں میدان صاف دیکھ رہا ہے اور اپنے مقاصد کے لئے کشمیر کے آرپار کئی غدار پیدا کر چکا ہے تو اس کا 'کریڈٹ' بھی مشرف کو جاتا ہے۔موجودہ فوجی قیادت کو اگر یہ احساس ہوا ہے کہ مجاہدین کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر غلطی کی گئی تو مشرف کے چیلوں چانٹوں کو بھی اپنی ترجمانی سے روکیں۔ اگر انصاف کے ترازو پہ تولا جائے تو پاکستان کی عسکری قوت کشمیریوں کی مقروض ہے یہ قرض اتارے بغیر آپ تاریخ میں سرخرو نہیں ہو سکتے۔ہم سب کچھ بھلا کر ملت اسلامیہ پاکستان کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط رکھنا چاہتے ہیں لیکن اگر ایک جرنیل تجزیہ کرنا ہی چاہتے ہیں تو پھر خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔آگر فوجی قیادت 1947 میں قائداعظم کے حکم پر عمل کر کے جموں سری نگر شاہراہ کاٹ دیتی تو ہندوستان ایک سال بھی کشمیر پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔ اگر سری نگر ائیر پورٹ پر قبضہ کر لیتی تو بھارت اپنی فوج ہی نہیں اتار سکتا تھا۔اگر فوجی قیادت بانی صدر سردار ابراہیم خان کی بار بار ایپل پر کان دھرتے ہوے محاصرے میں آئے پونچھ شہر کی ہوائی جہازوں کے ذریعے کمک کو ناکام بنا دیتی تو آج نہ صرف پونچھ شہر بلکہ اوڑی مہنڈر اور راجوری بھی آزاد کشمیر کا حصہ ہوتا۔62 میں جرنیل ایوب خان بزدلی نہ دکھاتے تو کشمیر آزاد ہو جاتا۔65 میں کمانڈوز کے ساتھ عدم تعاون کو جرنل امجد نے بطور خاص ذکر کیا۔اگر کبھی فرصت ملے تو بریگیڈئیر اے آر صدیقی کی کتاب پڑھ لیں۔آپریشن جبرالٹر کے ذریعے ہیرو اور فاتح کشمیر بننے کے چکر میں جرنیل ایوب بھٹو اور جرنیل موسی خان کے مابین مقابلہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے یہ آپریشن کوئی راز تھا ہی نہیں ایک ماہ سے تیاریاں جاری تھیں اور پشاور ائیر بیس پر اس طرح چہل پہل تھی جیسے پکنک منانے نکلے ہوں نتیجہ معلوم کہ بھارت نے مقامی آبادی پر ایک ماہ پہلے ہی کریک ڈاون کر کے اپنے مخبروں کا جال پھیلا دیا۔ جنہوں نے پل پل کی خبریں بھارت کو پہنچا دیں۔ یوں گویا کہ ناقص منصوبہ بندی اور عدم رازداری کی وجہ سے پرندوں کو جکڑے کے لئے شکاری پہلے ہی گھات میں تھے۔آپ کو یہ تو یاد ہے کہ آپریشن آپ کی اپنی بے تدبیری سے ناکام ہو گیا لیکن آپ کو یہ یاد نہیں رہا کہ اس مہم کے دوران راجوری دوسری مرتبہ آزاد ہو گیا پہلی مرتبہ کرنل ہدایت خان کی قیادت میں ازاد ہوا تھالیکن آپ اس کی حفاظت نہ کر سکے اور جب بھارت نے اس پر دوبارہ قبضہ کیا تو چودہ سو خواتین کو اس جرم میں گرفتا کر کے ان کے ہاتھ گرم تووں پر رکھے گے کہ وہ روپوش مجاہدین کو کھانا پکا کے دیتی رہی ہیں۔ پھر جنرل ضیائالحق شہید نے ان کوتاہیوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی 95 میں عملا کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ایک فیصلہ کن یلغار کی ضرورت تھی وہ ہمت آپ نہ کر سکے۔الٹا اس تحریک کو لو پروفائل کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔2011 شیخ عبدالعزیز کی شہادت کے وقت اور 2016 برہان وانی کی شہادت کے وقت حالات اس سے سو گنا مداخلت کے لئے سازگار تھے جتنے بھارت کی طرف سے مشرقی پاکستان میں مداخلت کے وقت تھے۔لیکن آپ کے ہاتھ اور ٹانگیں کانپتی ہی رہیں۔ آپ کا تجزیہ ان معنوں میں ٹھیک ہے کہ کشمیریوں کا روڈ میپ آج تک یہ رہا کہ انھوں نے بھارت کو بے بس کرنا ہے اور آپ نے آگے بڑھ فیصلہ کن ضرب لگانی یے آپ کی پے درپے شکستہ دلی کے بعد یہ حکمت عملی واقعی غلط تھی۔5 اگست کے بعد کی بے عملی کے بعد تو کشمیر کا بچہ بچہ یہ جان چکا ہے اور درجنوں مواقع کھو دینے کے بعد یہ امید دم توڑ چکی کہ آپ کبھی فیصلہ کن ضرب لگا سکتے ہیں۔ اب ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ بھارت کو خوب زخمی کر کے اسے اٹوٹ انگ کا راگ چھوڑنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں تک لانا ہے۔اس کام میں بھرپور معاونت کر کے آپ سابقہ کوتاہیوں کا کسی حد تک ازالہ کر سکتے ہیں۔ہمیں دنیا کی کوئی طاقت آزادی سے نہیں روک سکتی کیونکہ ہمارے پاس ننھے عبید جیسے بچے موجود ہیں



سید علی گیلانی کشمیر ہے اور کشمیر سید علی گیلانی


سید علی گیلانی کشمیر ہے اور کشمیر سید علی گیلانی سید سلیم گردیزی 13جولائی 1931کو جب سری نگر سنٹرل جیل کے احاطے میں غاصب ڈوگرہ مہاراجہ سے بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں گرفتار نوجوان عبدالقدیر کے مقدمے کی سماعت کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر ڈوگرہ سامراج کی پولیس کی فائرنگ سے 22فر زندان اسلام نے جام شہادت نوش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کا افتتاح کیا تھا،سید علی گیلانی اس وقت دو سال کے تھے۔گیلانی اور تحریک آزادی دونوں ساتھ ساتھ پلے بڑھے ہیں۔سید کو تحریک آزادی سے عمر میں دو سال بڑے ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔یہ گزشتہ صدی کے نصف اول کی بات ہے۔ 29ستمبر 1929کوزوری منس تحصیل بانڈی پورہ، نہر زینہ گیر کی کھدائی کرنے والے ایک مزدور سید پیر شاہ گیلانی کے گھاس پھوس کے جھونپڑے میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام سید علی گیلانی رکھا گیا۔خدا جانے یہ محض اتفاق تھا یا پیر شاہ گیلانی کی بصیرت مستقبل کے پردوں میں جھانک رہی تھی کہ اس بچے کا نام کشمیر میں اولین تحریک اسلامی کے داعی و قائد سید علی ہمدانی ؒکے نام پر رکھا گیا۔اس بچے نے بڑے ہو کر سید علی ہمدانی ؒکے نام کی لاج رکھی اور ان کا حقیقی جانشین بننے کا اعزاز حاصل کیا۔شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ بڑا ہوکر اپنی درماندہ و تباہ حال قوم کو غلامی کے اندھیروں سے نکال کر آزادی کی منزل کی جانب رواں دواں کردے۔ سید علی گیلانی ابھی دو ہی برس کے تھے کہ1931ئمیں سری نگر سنٹرل جیل کے احاطے میں 22 فر زندان توحید نے اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر کے پہلے باب کی رسم افتتاح ادا کی۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک دور و نزدیک تک پھیل گئی۔سید علی گیلانی نے شعور کی آنکھ کھولی تو آزادی کی تحریک جوبن پر تھی۔ڈوگرہ استعمار کے خلاف بغاوت کے الا? ہر سو دھک رہے تھے تکبیر کے نعرے تھے اور آزادی کے ترانے تھے۔علی گیلانی بھی اپنا ننھا ہاتھ بلند کر کے توتلی زبان میں نعرہ ¿ تکبیر بلند کرتا تھا۔آزادی ان کو گھٹی میں پلائی گئی۔بچپن اور لڑکپن کا دور انہوں نے اس تحریک میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک ہو کر گزارا۔سید علی گیلانی نے ابتدائی تعلیم پرائمری سکول بوٹنگو، سوپور سے حاصل کی۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول سوپور سے کیا۔اس کے بعد آپ نے حصول تعلیم کے لیے لاہور کا سفر اختیار کیا اور اسلامیہ کالج لاہو ر سے ادیب عالم کا امتحان پاس کیا۔ادیب فاضل اور منشی فاضل کی ڈگریاں کشمیر یونیورسٹی سری نگر سے حاصل کیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ ریاست کے محکمہ تعلیم سے بطور استاد وابستہ ہو گئے۔ 1947ئکا سال جہاں برصغیر پاک و ہند کے باشندوں کے لیے آزادی کا پیغام لایا اور ہندوستان اور پاکستا ن کے نام سے دو بڑی طاقتیں آزاد حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھریں وہاں یہ سال بد قسمت ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے لیے ایک نئی، تازہ دم اور سفاک تر غلامی کا پیش خیمہ ثابت ہو ا۔آزادی کی منزل،جس کے لیے ایک عرصے سے اسلامیان وطن قربانیاں دیتے آئے تھے، اندھیروں میں گم ہو گئی تو نو عمر سید علی گیلانی پر اس سانحے کا بڑا گہرا اثر ہوا۔ہر چند شیخ عبداللہ اور اس کے قوم پرست مصاحبین قرآن اٹھا کر لوگوں کو یقین دلاتے رہے کہ ان کی گردن میں جو پھندا ڈالا گیا ہے وہ غلا می کا طوق نہیں بلکہ آزادی کا تمغہ ہے لیکن سید علی گیلانی، شیخ عبداللہ کی اس منطق کو قبول کرنے پر تیار نہ ہو سکے۔ وہ سوچتے رہے، کیا 1931ئکے شہیدوں نے قربانی اس لیے دی تھی کہ ڈوگر ہ استعمار کی جگہ برہنی سامراج کشمیر کو اپنی گرفت میں لے لے؟کیا یہ ساری قربانیاں بھارتی فوجوں کی سنگینیوں کے سائے میں شیخ عبداللہ کو کشمیر کا حکمران بنانے کے لیے دی گئی تھی؟وہ سوچتے رہے اور کڑھتے رہے۔بھولی بھالی قوم کے ساتھ شیخ عبداللہ اور اس کے حواریوں کا یہ دوسرا دھوکہ تھا۔پہلا دھوکہ 1938ئمیں مسلم کانفرنس کا نیشنل کانفرنس میں انضمام تھا۔جس کے نتیجہ میں آزادی کشمیر کی تحریک / منرل کھو کر بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ گئی۔شیخ عبدا للہ اور ہر ی سنگھ کی ملی بھگت سے کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق دوسر ا عظیم فراڈ تھا، کھلی غداری تھی۔ کیا کشمیر اب دوسرا اندلس بنے گا؟کیا اب یہاں سپین کی تاریخ دہرائی جائے گی؟کیا بخارا اور سمر قند کی طرح یہاں سے بھی اسلامی تہذیب کو دیس سے نکال دیا جائے گا؟۔مستقبل کے پر دوں میں چھپے ہوئے ان مہیب خطرات کی آہٹیں سید علی گیلانی کے اندر کی دنیا کو زیرو زبر کئے ہوئے تھیں۔ان خطرات کا مقابلہ کون کرے گا؟لڑکپن اور جوانی کے سنگھم پر کھڑے سید گیلانی کے لیے یہ اضطراب انگیز سوال چیلنج بن گیا۔وطن کے جن اصحاب اخلاص پر نگاہ رکتی تھی اور اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی امید کی جا سکتی تھی، وہ ریاست سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے تھے۔ان میں چودھری غلام عباس اور میر واعظ مولوی محمد یوسف شاہ جیسی قد آور سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں۔مایوس کن حالا ت میں سید علی گیلانی کی رسائی مولانا سید ابو الا مودودی ؒکے لٹریچر تک ہو ئی تو انہیں اندھیرے میں روشنی کی کرن نظر آگئی۔انہیں اپنے ہر سوال کا جواب مل گیا۔ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی اور نظام اسلامی کے احیائکے لیے سید مودودیؒنے اپنے افکار و کردار سے جہد مسلسل کا جو راستہ اختیار کیا تھا، جناب سید علی گیلانی نے اسی راستے کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔اسی دوران تحریک اسلامی جموں و کشمیر کے درویش صفت امیر جنا ب مولانا سعد الدین سے ان کی ملاقات ہوئی، تو وہ سید مودودیؒ کے لٹریچر کے بعد مولانا سعد الدین کے فیضان نظر کے قائل ہو گئے۔ یوں جنا ب سید علی گیلانی اس قافلہ عشاق میں شامل ہو گئے، جسے جماعت اسلامی کہا جاتا ہے۔جماعت اسلامی میں شمولیت کے ساتھ ہی سید علی گیلانی کو اپنے تمام سوالوں کا جواب مل گیا۔وہ جماعت اسلامی کی انقلابی دعوت اور اسلامی نظام حیات کے قیام کے لیے دیوانہ وار سرگرم عمل ہو گئے۔جماعت اسلامی جموں و کشمیر نے ریاست پر بھارتی تسلط کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔جماعت اسلامی کے قائدین ہمیشہ اپنی گرمئی گفتار سے ریاست پر بھارتی قبضے کو توڑتے رہے۔حق گوئی و بے باقی کے جرم میں جماعت اسلامی کے قائدین اور کارکنوں کو بارہا جیلوں میں دھکیلا جاتا رہا لیکن جماعت اسلامی آزمائش کی ہر بھٹی سے کندن بن کر نکلتی رہی۔ ابتلا کی بھٹی سلگائی گئی تو سید علی گیلانی سب سے بڑھ کر تعزیر و تعذیب کے مستحق ٹھہرے کہ انہوں نے بھارتی استعمار کو زیادہ جرات اور زیادہ بلند آواز سے للکارا تھا۔انہوں نے ہر بار یہ بات دو ٹوک انداز میں کہی: ”میں بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کو نہیں مانتا۔میں بھارتی سامراج کا باغی ہوں اور اس بغاوت کے جرم میں مجھے پھانسی کے پھندے کو بھی چومنا پڑا تومیں اسے اپنی سعادت سمجھوں گا“۔جناب سید علی گیلانی کی یہ جرا ¿ت اور بیباکی بھارتی حکمرانوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی چلی گئی۔28اگست 1962ئکو پہلی بار انہیں گرفتار کر کے پس دیوار زندان پہنچا دیا گیا۔جہاں وہ ایک سال ایک ماہ تک مقید رہے۔یہ دارو گیر کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا نقطہ آغازتھا۔اس کے بعد تو جیل سید علی گیلانی کا مسکن، ہتھکڑی زیور اور زنجیر کی کھنکھناہٹ آزادی کا ترانہ بن گئی۔اور ان کی سیاسی زندگی کا ہرتیسرا دن جیل میں گزرنے لگا۔جیل میں ایک اور مرد درویش جناب حکیم مولانا غلام نبی بھی موجود تھے جو بعد میں امیر جماعت اسلامی (مقبوضہ)جموں و کشمیر بھی رہے۔ ان کی قربت نے سید علی گیلانی کی علم کی پیاس بجھائی اور انہیں عمل کے اسلحے سے لیس کیا۔یہ عرصہ گیلانی صاحب کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔مولانا حکیم غلام نبی کے علم و تقوی نے آپ کی زندگی میں گہرے نقوش ثبت کئے۔اسی اسیری کے عرصے میں آپ کے والد گرامی کی وفات ہوئی، لیکن آپ کو والد ماجد کا آخری دیدار کرنے کی اجازت بھی نہ دی گئی۔وہ اپنے محبوب باپ کے جنازے کو کندھا بھی نہ دے سکے۔جیل سے رہائی کے بعد آپ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے سیکرٹری جنرل بنا دیے گئے۔جیل کی سختیوں اور قید و بند کی صعوبتوں نے آپ میں بھارتی تسلط کے خلاف بغاوت کے جذبات کو اور بھی بھڑکا دیا تھا۔اب وہ پہلے سے زیاوہ بلند آہنگ میں آزادی کی صدا بلند کرنے لگے۔و ہ پوری یکسوئی سے ہندوستانی استعمار سے رائے شماری کرانے کا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔عوام کو آپ نے حق خودارادیت کے حصول کے لیے تیار،بیدار اور ہوشیار کرنا شروع کیا۔ 1965ئمیں پاکستان کے مشہور زمانہ ”آپریشن جبرالٹر“سے کچھ ہی عرصہ پہلے7مئی1965ئکو سید علی گیلانی کو پھر گرفتار کر لیا گیا۔باور کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کو اپنے خفیہ اداروں کے ذریعے اس آپریشن کی بھنک پڑچکی تھی۔ان کے خیال میں پاکستانی حملے کی صورت میں سید علی گیلانی ہی پاکستانی کمانڈوز کو اندرون کشمیر ہر ممکن مدد فراہم کر سکتے تھے، ©لہٰذا”آپریشن جبرالٹر“کو ناکام بنانے کیلئے جناب گیلانی کی گرفتاری ضروری تھی۔ ©”آپریشن جبرالٹر“کی ناکامی کی وجوہ میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں رائے عامہ کو بیدار اور منظم کر کے مجاہدین کی پشت پر لا کر کھڑاکرنے والی قیادت میسر نہ تھی۔سید علی گیلانی میدان میں موجود ہوتے تو اس کمی کو احسن انداز سے پورا کر سکتے تھے۔لیکن آپریشن جبرالٹر کے ”شاہ دماغ“منصوبہ سازوں کو شاید صورت حال کے اس پہلوکی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ سید علی گیلانی کی رہائی 1967ئمیں اس وقت عمل میں آئی جب آپریشن جبرالٹر کا طوفان تھم کر حالات بظاہر پر سکون ہو گئے تھے۔رہائی کے فوراََبعد سری نگرمیں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں سید علی گیلانی نے ایک بار پھر اپنے عزم آزادی کا بیانگ دہل اظہار کر کے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دیں۔پریس کانفرنس میں آپ نے فرمایا: ”بھارت نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ میں تسلیم کر رکھاہے اور ہماری بھی کوشش یہی ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی انداز میں ہی حل کیا جائے۔خود بھارت کا مفاد بھی اسی میں ہے لیکن اگر بھارتی حکمرانوں نے مزید ٹال مٹول سے کام لیا تو کشمیری کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔“جب شیخ عبد اللہ اور اس کے حواری بتدریج رائے شماری کے مطالبے سے پسپائی اختیار کرنے لگے۔شیخ نے 1973ئمیں اندرا گاندھی کے ساتھ گٹھ جوڑکر کے بھارئی قبضے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔یوں وزارت اعلیٰ کی کرسی کے عوض کشمیریوں کے حق آزادی کاایک بار پھر سودا کر کے ”شیر کشمیر“غدار چہرے کے ساتھ سامنے آگیا۔اب شیخ عبد اللہ اور اس کے مصاحبین کے تیورہی بدل گئے تھے۔ جو کل تک رائے شماری کے لیے لڑنے مرنے کی قسمیں کھاتے تھے، اب کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو”اٹل حقیقت“اور کشمیر کو بھارت کا ”اٹوٹ انگ“ ثابت کر انے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔اس موقع پر بھی سید علی گیلانی نے ہی قوم کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کیا۔



22جون تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد و آغاز


22جون تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد و آغاز سردار ممتاز حسین خان 1832ء میں مہاراجہ گلاب سنگھ والی پونچھ ضلع ہزارہ کے علاقہ میں یوسف زئی قبیلہ کے ساتھ مصروف جنگ تھا تو ریاست پونچھ میں سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کی قیادت میں ڈوگرہ فوج کو مجاہدین نے گاجر مولی کی طرح کاٹا۔ جب گلاب سنگھ کو اپنے بیٹے کی شکست کا علم ہوا تو ایک انگریز مصنف مائیکل سمتھ کے مطابق گلاب سنگھ برق رفتاری سے فوج کا ایک بھاری لشکر لے کر پونچھ پر نازل ہوا اور مجاہدین سے جنگ شروع کی۔ پندرہ ہزار مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔ فتح پانے کے بعد گلاب سنگھ نے سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کیا ان کی زندہ کھالیں نکال کر ان میں بھوسہ بھر کر منگ کے مقام پر ایک درخت کے ساتھ لٹکایا۔ مگر پونچھ کے لوگوں خاص کر سدھن قبیلہ میں حریت کی چنگاری سلگتی رہی۔ جو 13جولائی 1931ء میں شعلہ جوالہ بنی۔ انگریزوں نے 1846ء میں جموں و کشمیر کو ریاست پونچھ کے حکمران گلاب سنگھ کے ہاتھوں 75لاکھ نانک شاہی کے عوض فروخت کیا۔ اس پر علامہ اقبال کی تڑپتی روح نے کہا:۔ دہقاں و کشت و جوئے، خیاباں فر وختند قوت فروختند و زچہ ارزاں فروختند گلاب سنگھ نے محکوم ریاست جموں کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف ظلم و جبر کا ہر حربہ استعمال کیا۔ گلاب سنگھ اور اس کی اولاد کے ظلم و بربریت کے خلاف وقتاً فوقتاً حریت کی چنگاری بھڑکتی رہی جو 13جولائی 1931ء سے ہوتے ہوئے 1947ء میں داخل ہوئی۔ 1947ء کا سال ڈوگروں کی حکمرانی کا آخری سال ثابت ہوا۔ برصغیر میں بن کے رہے گا پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان کے نعرے گونج رہے تھے۔ جموں و کشمیر میں بھی آزادی کی تڑپ نے کروٹ لی تو کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے گونجنے لگے۔ اپریل 1947ء میں مہاراجہ ہری سنگھ راولاکوٹ آیا۔ تیس ہزار سابق فوجیوں کو وردی میں دیکھ کر سٹپٹایا۔ واپس جا کر اس نے حکم دیا کہ مسلمانوں سے چاقو چھری تک جمع کر دیا جائے۔ مئی 1947ء میں دھمنی کے مقام پر ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں خواتین کی بے عزتی اور کچھ گرفتاریوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ سردار محمد ابراہیم خان صاحب بھی اپریل، مئی میں تحصیل سدھنوتی اور تحصیل باغ کا دورہ کر کے اور لوگوں کے اندر حریت و آزادی کی چنگاری بھڑکر واپس سرینگر چلے گئے تھے۔ ایسے میں بکھرے جوش و ولولہ کو یکجا کر نے کے لئے ریاست کے سرکردہ لوگوں کی ایک میٹنگ لازمی تھی۔ راولاکوٹ و باغ میں دفعہ 144کا نفاذ تھا۔ جلسہ اور میٹنگ انتہائی مشکل کام تھا۔ کسی گھر یا عمارت کو پیش کرنے کا مطلب آگ سے کھیلنے کے مترادف تھا۔ مسلم کانفرنس کے قائمقام صدر چوہدری حمید اللہ راولاکوٹ پہنچ چکے تھے۔ ان دگرگوں حالات میں ایک مرد مجاہد و مرد آہن آگے بڑھتا ہے اور اس اہم میٹنگ کے لئے اپنا قلعہ نما گھر پیش کر دیتا ہے۔ اس عظیم شخصیت کا نام نامی مولوی اقبال تھا۔ راولاکوٹ شہر کے نزدیک پوٹھی بالا ان کا مسکن تھا۔ مولوی اقبال کے ساتھی خان بہادر آف کھڑک ڈوگرہ فوج اور پولیس کو یوں غچہ دینے میں کامیاب ہوئے کہ میٹنگ کھڑک کسی مقام پر ہو گی۔اس عظیم شخصیت کے بارے میں سیّد حسن شاہ گردیزی کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں ”دنیا میں ان گنت لوگوں نے ذہنی سوچ، فکر و عمل اور جدوجہد کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی ہے۔ یہی لوگ ہر دور کے رہبر، رہنما و سرخیل رہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہر عید کے لئے چشم بینا کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہی لوگوں کے نقوش قدیم تاریخ کے ہر موڑ پر جگمگاتے نظر آتے ہیں“۔ مولوی اقبال خان کا شمار بھی ایسے ہی پر عزم لوگوں میں ہوتا ہے۔ سمیط سدوزئی میں سردار صابر حسین صابر لکھتے ہیں۔ ”سردار محمد ابراہیم خان سیاسی و عسکری ونگ کی تشکیل کے بعد جب واپس سرینگر گئے تو انہوں نے چوہدری حمیداللہ کو دورہ راولاکوٹ سے آگاہ کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا کہ وہ مسلم کانفرنس کے قائمقام صدر کی حیثیت سے خود بھی راولاکوٹ جائیں تاکہ کارکنان کے حوصلے بلند ہو۔ اس کے بعد 22جون کو چوہدری صاحب بھی راولاکوٹ کے دورے پر آئے لیکن یہاں دفعہ 144کا نفاذ تھا جو اجلاس کے انعقاد میں مانع تھا۔ اس صورت حال کے پیش نظر چوہدری صاحب اور کارکنان مایوسی کے حصار میں سرپکڑ کر بیٹھ گئے۔ اس موقع پر ایک مرد حق نے اجلاس کے انعقاد کے لئے جب اپنے قلعہ نما وسیع مکان کے در کھولے تو گویا قوم کے دراقبال کھل گئے۔ قوم کے اس محسن کا نام مولوی محمد اقبال خان ہے اور ان کا وہ قلعہ نما مکان پوٹھی مکوالاں میں تھا۔ مولوی صاحب نے اجلاس کے شرکاء کے لئے نہ صرف اشیائے خوردونوش کا اہتمام بقدر ضرورت کیا بلکہ ان کی حفاظت کے لئے عسکری ونگ کو بھی چاک و چوبند ررکھا۔ مذکورہ اجلاس میں شامل ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس موقع پر چوہدری حمید اللہ نے کہا مجھے خدشہ ہے کہ سدھن 1832ء کی طرح ایک بار پھر زیر عتاب نہ آجائیں۔ جواباً سردار سلیمان خان آف ہورنہ میرہ نے کہا ”چوہدری صاحب اگر یوں ہوا تو کھالیں اب کے سدھنوں کی نہیں بلکہ ڈوگروں کی اتریں گی“۔ ”آزادی کے خواب پریشان میں“۔ سردار مختار خان ایڈووکیٹ فرماتے ہیں۔ ”دفعہ 144کے نفاذ کے باعث جلسہ عام کرنا ممکن نہ تھا اس لئے جملہ کارکنان کے مشورہ سے رات کے وقت کارکنان کا اجلاس راولاکوٹ سے باہر مولوی اقبال خان کے قلعہ نما وسیع مکان واقع پوٹھی مکوالاں میں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا۔ کارکنان مختلف اطراف سے تحصیل سدھنوتی اور تحصیل باغ سے اقبال خان کے مکان میں پہنچنا شروع ہوئے۔ خوردونوش کا اہتمام مولوی صاحب نے کیا ہوا تھا۔ اس تاریخی اجلاس میں پاکستان کے ساتھ ریاست کے الحاق کے سلسلہ میں تن، من، دھن کی بازی لگانے کا عہد کیا گیا۔ چوہدری حمید اللہ خان نے کلام پاک پر سب سے حلف لیا۔ نتیجتاً یہ میٹنگ ایکسپوز ہوئی مولوی اقبال خان کے اس تاریخی مکان کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی۔ مال و اسباب ڈوگرہ فوج نے لوٹ کر یہ مکان نذر آتش کر دیا اور مولوی اقبال خان کو گرفتار کر کے حوالہ زندان کیا گیا۔ اس مقام کو پونچھ میں اولیت اور تاریخی حیثیت حاصل ہے“۔ دین محمدؐ کا یہ غازی 14ماہ تک ہری سنگھ کی جیل میں رہا۔ یہ عزت وناموس کے رکھوالے جیالے تقدیر کے معمار ہیں اے وادی کشمیر تاریخ جموں و کشمیر میں غازی محمد امیر رقمطراز ہیں۔ ”آپ مولانا محمد اقبال خان واحد خوش قسمت شخص ہیں جن کے مکان کے اندر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس سردار محمد شریف خان ریٹائرڈ چیف جسٹس کی صدارت میں ہوا جو اس وقت میں مسلم کانفرنس کے صدر تھے۔ اور چوہدری حمید اللہ جو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے قائمقام صدر تھے وہ بھی اس اجلاس میں موجود تھے اور مہمان خصوصی تھے۔ اسی اجلاس میں سردار محمد عبدالقیوم نے مسلم کانفرنس میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ جو سیّد حسن شاہ گردیزی کی کوشش سے ہوا۔ آپ اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے لیڈروں نے آپ کے گھر میں آزادی کے لئے اہم نوعیت کے فیصلے کئے۔ آپ کا اعلان تھا (یعنی مولوی اقبال کا) یا تخت یا تختہ دار پر لٹک جائیں گے۔ آپ چودرہ ماہ تک مہاراجہ ہری سنگھ کی کی جیل میں رہے۔ یہ ان عینی شاہدین کے مولوی اقبال خان کے بارے میں ان کی قربانی کا اعتراف ہے۔ 1947ء کے حوالہ سے دیگر مصنفین کے بھی مولوی اقبال خان کے بارے میں بہترین الفاظ میں خراج تحسین ہے لیکن کالم کی تنگ دامنی آڑے ہے۔ 22جون کو مولوی اقبال خان کے پوتے ریاض صابر کے گھر مولوی اقبال خان کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ مقررین بالخصوص سردار طاہر انور سابق وزیر حکومت نے فرمایاکہ 22جون ہی تحریک آزادی کشمیر کا نقطہ آغاز ہے جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ اگر مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ نہ کیا تو مہاراجہ کی حکومت کے خلاف اس اجلاس کو اعلان بغاوت کے طور پر لیا جائے گا۔ سامعین کے مزید گوش گزار کیا گیا کہ 19جولائی 1947ء سری نگر میں الحاق پاکستان کی قرارداد کی منظوری ہو یا 15اگست 1947ء راولاکوٹ میں اعلان بغاوت ہو یا 23اگست نیلہ بٹ کی میٹنگ ہو یا 26اگست ہڈا باڑی کے مقام پر جلسہ اور ڈوگروں کی طرف سے فائرنگ ہو یا 29اگست دوتھان کے مقام پر ڈوگروں سے دست بدست لڑائی ہو یا 24اکتوبر کو انقلابی حکومت کا قیام ہو ان سب کی بنیاد 22جون مولوی اقبال خان کے مکان میں ہونے والے پہلے اجلاس کے فیصلوں کا اظہار ہے۔ 22جون کو ریاض صابر کے گھر منعقد ہونے والی اس تقریب میں شرکاء نے یہ عہد کیا کہ تحریک آزادی کشمیر کے اس عظیم ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے اور مولوی اقبال خان مرحوم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہر سال 22جون کو یہ دن منایا جائے گا۔ اس عظیم مقصد کے لئے مولوی اقبال میموریل فورم تشکیل دیا گیا جو فی الحال پوٹھی مکوالاں کی مختلف جماعتوں پر مشتمل ہو گا۔ بعد میں اسے راولاکوٹ تک وسعت دی جائے گی۔ اس فورم کے سردار طاہر انور ایڈووکیٹ چیف آرگنائزر (ن لیگ)، سردار اظہر نذر(مسلم کانفرنس)، سردار ممتاز حسین خان (جماعت اسلامی)، سردار ببرک شریف (پاکستان پیپلز پارٹی) اور سردار ماجد نعیم(جموں کشمیر پیپلز پارٹی) حصہ ہیں۔ پروگرام کے آخر میں مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی گئی اور ماکولات سے شرکاء کو نوازا گیا۔



کورونا وائرس قرآن وحدیث کی روشنی میں


کورونا وائرس قرآن وحدیث کی روشنی میں یاسر یوسف انسانی تخلیق کے بعداگر غور گیا جائے تو بیماریوں کا آناجانا نظام کا حصہ ہے۔تاریخ کے اوراق پر ایسی بیماریوں کا ذکر ملتا ہے جنوں نے وبائی شکل اختیار کی اور پورے معاشرے کو متاثر کیاہے اور ساتھ میں معاشرے کی جان بھی لی ہے تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنی بھی وبائی امراض پھیلی ان میں اکثر کسی ایک علاقہ یاچندممالک تک محدود رہی اور باقی علاقہ محفوظ رہے لیکن اگر غور کیا جا ئے تو کروناوائرس بھی ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کرچکا ہے اور چین کے شہرووہان سے پھیلنے والے وائرس نے پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اوردن بدن یہ وبائی مرض شدت اختیار کر رہی ہے اور لاکھوں انسانوں کی زندگیاں کا سورج اس نے غروب کر دیا ہے اور زندہ انسانوں کے زہن میں اپنا خوف راسخ کر چکا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق کورونا وائرس بھی عام وائرل انفیکشن نزلہ زکام اور بخار کی طرح ہے لیکن بہت تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتا ہے جس انسان کو منتقل ہو تا ہے اس کو خبر تک نہیں ہوتی کیونکہ اس وائرس کے اثرات کچھ دنوں بعد ظاہر ہوتے ہیں اس سے قبل یہ اور بہت سے انسان کو متاثر کر چکا ہوتا ہے اس بیماری نے تمام ممالک جن میں ترقی پذیراور ترقی یافتہ ہرایک کو متاثر کر چکا ہے اس لیے ضروری ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی حاصل کی جائے۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخربیماریاں اور مصیبتیں کیوں آتی ہیں....؟اس چیزمیں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ نے اپنی تقدیر میں لکھ رکھ ہے صحت اور بیماری یہ رب کے حکم سے آتی ہے اور یہ بھی رب کی تقدیر کا حصہ ہے چنانچہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے ”اگر ساری دنیا مل کر تمہیں فائدہ دینا چاہے تو تمہیں فائدہ نہیں دے سکتی سوائے اس کہ جو رب نے لکھ دیا ہے اور اگر سارے مل کر تمہیں نقصان دینا چاہیں تو تمہیں کوئی نقصان نہیں دے سکتے سوائے کہ جو رب نے لکھ دیا ہے“اسی طرح رب نے قرآن کریم (سورۃ الشوری:۰۳)میں ارشاد فرمایا ”اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے“اس طرح قرآن و حدیث سے معلوم ہوا کہ انسانوں کے اپنے اعمال بھی مصیبتیں اورپریشانیاں آنے کا سبب بنتے ہیں۔بلکہ حضورﷺ نے ان کاموں کی نشاندہی بھی فرمائی ہے جو کسی خطرناک بیماری کا سبب بنتی ہیں۔ابن ماجہ میں حضورﷺکی ایک حدیث ہے کہ ”جب کسی قوم میں کھلم کھلا بے حیائی شروع ہو جاتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کہ گزرے لوگوں میں نہیں ہوتی تھی“اس سے معلوم ہوا کہ جب بے حیائی اور گناہ عام ہوجاتا ہے تو نت نئی اور خوفناک بیماریاں پھیلتی ہیں جن سے معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہوتا ہے لیکن اسلامی معاشرے میں ہر تکلیف،بیماری اور مصیبت میں بھی ایک سبق پو شیدہ ہوتا ہے اور اس سے مومن کے گناہوں کی معافی ہوتی ہے اس بارے میں حدیث نبوی ہے کہ ”جب مومن کو کوئی بیماری اور تکلیف لاحق ہوتی ہے اور پھر اللہ اسے شفاء عطاکرتا ہے تو بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور آئندہ کہ لیے یاددہانی ہو جاتی ہے اور منافق جب بیمارہوتا ہے تو اس کو وہ تکلیف دور ہوجاتی ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے اس کے مالک نے پہلے باندھا اور پھر چھوڑدیا اور اسے یہ پتہ ہی نہیں چلتااسے باندھا کیوں گیااور چھوڑا کیوں گیا“(سنن ابی داؤد)چنانچہ بیماری میں خزع اور فزع کرنے کے بجائے ان اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہے جن کی طرف اللہ اور رسول ﷺنے حکم دیا ہے یہاں پر ان اعمال کا ذکر کردیتے ہیں جن کو اگر اختیار کیا جائے تو حالات میں ضروربہتری آجائے گی رجوع الی اللہ....انسان اس دنیا میں اسقدر مصروف ہو گیا ہے کہ اسے ہر طرف دنیا کی لذت ہی نظر آتی ہیں ان لذت کے حصول میں انسان نے حلال اور حرام کی تمیز کو ختم کر دیا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر قسم کے گناہوں سے سچی توبہ کی جائے اور اللہ کی طرف رجوع کریں خصوصا کبیرہ گناہوں سے جسے بدکاری و بے حیائی،ناپ تول میں کمی،زکوۃ کی عدم ادائیگی،سودی لین دین اور رشوت جسے کاموں کو ترک کر کے اللہ اور رسولﷺکے احکام کے مطابق زندگی کو بسر کیا جائے۔ صدقہ کی عادت بنائیں......صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کر تا ہے اس سلسلے میں ترمذی میں حدیث موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ”صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے“اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ صدقہ وخیرات کا اہتمام کیا جائے تاکہ یہ صدقہ اور خیرات ہماری جان ومال کی حفاظت کا زریعہ بنے۔ صبرکو زندگی کا حصہ بنائیں.....بندۂ مومن اگر کسی موقعہ پر کسی غم وپریشانی یا وبائی مرض میں مبتلاء ہو جائے تو گلے شکوے کرنے کے بجائے صبرکا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے کیونکہ قرآن میں آیاہے کہ صبرکرنے والوں کے لیا خوشخبری ہے اور حدیث میں آیاہے کہ ”جو بندہ کسی جانی یا مالی مصیبت میں مبتلاہو اور وہ کسی سے اس کا شکوہ شکائیت نہ کرے تو اللہ کے ذمہ یہ وعدہ ہے کہ وہ اسے بخش دے“مندرجہ بالااعمال کو اختیارکرنے کے ساتھ ساتھ ظاہری اسباب کو اختیار کرنا بھی سنت نبوی ہے اس لیے علاج معالجے کے لیے دستیاب مستندوسائل اور احتیاطی تدابیرکو اختیار کیاجائے ظاہری اور باطنی صفائی اور پاگیزگی کا خاص خیال رکھا جائے باوضوررہے کا معمول ہو اس سے اعضاء کی صفائی ہو نے کے ساتھ بہت سی نیکیاں بھی حاصل ہوتی ہیں جس مجمع یا جس مقام پر بیماری لگنے کے خطرات واضح طور پر موجود ہوں وہاں سے باہر نہ نکلیں بلکہ صبر اور مضبوط ایمان کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہیں۔وبائی مرض میں فوت ہونے والا شہید ہے حدیث کے مطابق طاعون اللہ کا عذاب ہے لیکن اللہ نے ایمان والوں کے لیے اس کو رحمت بنا دیا ہے حدیث میں آیا ہے ”جو شخص طاعون میں مبتلاہو اور وہ اپنے شہر میں صبر کرتے ہو ثواب کی امید کے ساتھ ٹھہرارہے یہ جانتے ہوے کہ اسے وہی چیزپہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے تو ایسے شخص کے لیے شہید جیسا اجر ہے۔ لہذا مسلمانوں کے لیے کوروناوائرس یا کسی بھی دوسری بیماری میں گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے احتیاطی تدابیر،علاج معالجے مسنون دعاؤں اور اعمال کا اہتمام،اللہ پاک کی طرف رجوع اور ثواب کے ساتھ اپنے معمولات کو جاری رکھا جائے اور بلا تصدیق وتحقیق بے بنیاد چیزوں یا افواہوں کو پھیلانے سے گریز کیا جاے۔مختلف وبائی امراض ناگہانی مصائب وآلام سے محفوظ رہنے اورآفات سماوی وارضی سے حفاظت کے لیے یہ وہ تعلیمات ہیں جو ہمیں ہمارے دین اور پیارے نبی حضرت محمدﷺنے ہمیں دی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے پروردگار کی جانب رجوع کریں،توبہ واستفارکواپنا معمول بنالیں،حقوق اللہ اورحقوق العبادکی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی کے مرتکب نہ ہوں،اللہ اور رسولﷺکی رضا اور اطاعت کو اپنا شعار بنالیں،اس میں دین ودنیاکی کامیابی اور آخرت میں نجات کا راز پوشیدہ ہے۔



کشمیر و عمران خان


کشمیر و عمران خان سردار ممتاز حسین خان ٹی وی آن کیا تو حکومتی ترجمان مراد سعید غصے بھرے لہجے میں اسمبلی بجٹ سیشن میں تقریر فرما رہے تھے۔ ماتھے پر شکن، ناک اوپر کی طرف کھینچی ہوئی۔ وہ اگر نارمل بھی بات کر رہے ہوں تو چہرے کی ساخت سے غصہ نظر آتا ہے۔ عمران خان صاحب کی کابینہ میں عجوبے بھی ہیں۔ شیریں مزاری چونکہ شیریں ہیں ان کی مٹھاس والی گفتگو قوم کو ذائقہ دے دیتی ہے۔ اس لئے وہ میٹھا عجوبہ ہیں اور مراد سعید کڑوا عجوبہ۔ مراد سعید اپوزیشن کی ہوٹنگ میں تقریر فرما رہے تھے کہ عمران خان نے کشمیر کو انٹرنیشنلائز کیا۔ ایک سال میں دو مرتبہ اقوام متحدہ میں کشمیر کو برننگ ایشو بنایا۔ 72سالوں میں پہلی مرتبہ کشمیر کی بازگشت دنیا میں سنائی دی وغیرہ وغیرہ۔ مراد سعید کی دھواں دھار تقریر اپوزیشن کے انٹرپ کے باعث رکتی رہی ورنہ آج کی تقریر میں کشمیر کا قضیہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کر دیتے۔ اسمبلی ہال مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ بانجھ قوم کے بانجھ رہنما آج پوری دنیا کے سامنے تماشا لگائے ہوئے تھے۔خیر میں اپنے موضوع کے مطابق ہی قلم و قرطاس کا رشتہ جوڑوں گا۔ اقوام متحدہ میں عمران خان کی زور دار تقریر نے مقبوضہ کشمیر کو بہت ریلیف پہنچایا۔ امن و آشتی کی ہوائیں چلیں۔ کشمیریوں کو امن کی زندگی نصیب ہو گئی۔ ایک سال میں دو مرتبہ بقول مراد سعید اقوام متحدہ میں کشمیر کی گونج نے 5اگست 2019ء کو بھارت کو اتنا دلیر کیا کہ 72سال بعد دفعہ 370اور 35اے کا خاتمہ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو دفن کر کے اقوام متحدہ اور عمران خان کو پیغام دیا کہ آپ بھارت کا بال بھی ٹیڑا نہیں کر سکتے۔ بھارت یہ کام پاکستان میں کسی بھی لولی لنگڑی حکومت کے دور میں کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔ اس پر مستزادیہ یہ کہ اس اقدام کے ایک ماہ بعد کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس کی ڈیمو گرافی تبدیل کی گئی۔ اب کشمیر، کشمیر نہیں ہندوستان ہے۔ یہ بھی عمران خان کی تقریر کی برکت ہے کہ ان تمام بھارت کی جانب سے اقدامات کو اقوام عالم نے اس ظلم پر خاموشی اختیار کر کے بھارت کے اقدام کی خاموش حمایت کی۔ عمران حکومت کی قابلیت اس وقت آشکارا ہوئی جب یہ انسانی حقوق کمیشن میں قرارداد بھی پیش نہ کر سکی۔ کشمیر میں غیر معمولی حالات کا عمران خان نے ادراک کب کیا۔ کشمیر میں 5اگست 2019ء کو سویرے ہر طرف کرفیو کا اعلان ہونے لگا۔ لینڈ لائن، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سب کچھ بند کر دیا گیا۔ جماعت اسلامی پر تو پہلے ہی پابندی عائد ہو چکی تھی۔ اس کے ادارے بند کر دئیے گئے تھے۔ سینکڑوں کارکن گرفتار کر لئے گئے تھے۔ اثاثے منجمند کر دئیے گئے تھے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پر بھی پابندی لگ گئی تھی اور اس کے کارکن گرفتار کر دئیے گئے تھے۔ حریت کی ہر سطح کی قیادت کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔ 5اگست کو کشمیر میں اٹھارہ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حتیٰ کہ دہلی نواز لوگوں کو بھی تین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، اور محبوبہ مفتی، نظر بند کئے گئے وہی محبوبہ مفتی جو کچھ ہی مہینے قبل بی جے پی حکومت میں حلیف تھی۔ اب مکافات عمل سے گزر رہی تھیں۔ ہندوستان کو اب ان کی ضرورت نہ تھی۔ اب جبر کے ہتھکنڈے ہی ان کی کامیابی کی دلیل تھی۔ اس لئے کہ بھارت کو یقین ہو چکا تھا کہ ان کا بازو مروڑنے والا دنیا میں کوئی نہیں۔ اقوام متحدہ میں عمران خان کی جاندار تقریر کے زیر سایہ بھارتی حکومت نے کشمیر کی قومی، نسلی اور جغرفائی شناخت کی تبدیلی اور خصوصی قوانین کے خاتمے کے آٹھ ماہ بعد اپنے اصل منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020 کے نام سے جاری کردہ ایک حکم نامے کے ذریعے ریاستی ڈومیسائل کی نئی تشریح کی گئی۔ جس کے تحت کشمیر میں پندرہ سال تک مقیم رہنے والے اور یہاں سات سال تک تعلیم حاصل کرنے اور دسویں اور بارہویں جماعت کا امتحان دینے والے ملازمت کے حق دار ہوں گے۔ ڈومیسائل قانون کی نئی تشریح کے مطابق اب بھارتی حکومت کے کشمیر میں سات سال تک تعینات رہنے والے اعلیٰ آفیسران، آل انڈیا سروس آفیسرز،بھارتی حکومت کے کشمیر میں نیم خودمختار اداروں، کارپوریشنوں کے لوگ فوراً اس قانون کے تحت درخواست دے سکتے ہیں۔ اب آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی نئی چال بھارت نے چلی ہے۔ پاکستان کے ٹیپو سلطان نے ایک رسمی سا بیان داغ کر اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔بھارت کے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بننے کا کریڈٹ بھی عمران خان کو جاتا ہے۔ کشمیری 5اگست 2019ء سے بدترین کرفیو اور لاک ڈاؤن میں ہیں۔ دنیا تین ماہ کا سمارٹ لاک ڈاؤن برداشت نہ کر سکی۔ بڑے بڑے قہاروں کی چیخیں نکل گئیں۔ ”ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے“ کا نعرہ لگانے والے خدا کے چھوٹے سے عذاب کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ کشمیری تو گیارہ ماہ کے اس لاک ڈاؤن میں جی رہے ہیں۔ جس میں گرفتاریاں ہیں، ظلم و جبر ہے، شہادتیں ہیں، عصمتیں پامال ہیں، معیشت تباہ ہے۔ فون تک بند ہے، حکومتی امداد کے بجائے اذیتیں ہیں۔ ہر ایک کشمیری دکھی اور مجروح ہے۔ لیکن کشمیری جینا سیکھ چکے ہیں۔ ان کی جدوجہد طویل ہے، پیلٹ گنوں کا استعمال ان کی جدوجہد کے راستے میں حائل نہیں ہے۔ شہادتوں کے سفر میں نئے جذبے جنوں بنتے جا رہے ہیں۔ 12رمضان المبارک کو حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو اپنے ایک ساتھی عادل کے ساتھ ایک خون ریز معرکے میں شہید ہوئے۔ ریاض نائیکو برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھی تھے۔ مظفر وانی کی شہادت کے بعد منصورالاسلام چیف آپریشنل کمانڈر بنے ان کی شہادت کے بعد ریاض نائیکو چیف آپریشنل کمانڈر بنے تھے۔ ریاض نائیکو نے جان بازوں کو منظم کرنے اور ان کی مزاحمتی صلاحیت کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کسی ایک کمانڈر کی شہادت کے بعد سینکڑوں کمانڈر میدان عمل میں آجاتے ہیں۔ اس لئے کہ ”خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا“۔ آزادی کی سحر پیدا کرنے کے لئے ریاض نائیکو کی شہادت کے بعد جنید صحرائی نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ جنید صحرائی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھے وہ اشرف صحرائی رہنما حریت کے بیٹے تھے۔ اشرف صحرائی سید علی گیلانی کے دست راست ہیں۔ اتنے نامور کمانڈروں کی شہادت پر پاکستان کے ٹیپو سلطان لب نہ ہلا سکے۔ انہیں اپنے بکھیڑوں سے فرصت ہی نہیں۔ البتہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے طویل المیعاد ایجنڈا فلسطین سٹائل پر عمل درآمد ہے۔ تقسیم کشمیر کی فضاء ہموار ہو رہی ہے۔ عمران خان کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر راضی کر دیا جائے گا۔ امریکہ اور کچھ دوسری طاقتیں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر حقیقت میں بھارت کو کشمیر میں ہندو نوا ایجنڈے پر عملدرآمد کرواتے ہوئے تقسیم کشمیر کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ ٹرمپ، مودی، عمران ٹرائیکا تقسیم کشمیر فارمولہ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے قضیہ کشمیر سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ 72سال بعد پاکستان کی طرف سے یہ خدمت عمران خان کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہو گی۔ کشمیر کو انٹرنیشنلائز عمران خان نے نہیں برہان مظفر وانی، ریاض نائیکو، منصورالاسلام، جنید صحرائی اور ان جیسے ہزاروں شہدا نے اپنے خون کے نذرانے سے کیا۔ بھارت کو چین سے پٹوانے کے لئے اللہ کی لاٹھی بھی حرکت میں ہے۔ آگے آگے دیکھتے ہیں ہوتا ہے کیا۔



راجہ امان اللہ داغ مفارقت دے گئے


راجہ امان اللہ داغ مفارقت دے گئے حافظ سردار محمد اشفاق خان غازی ملت سردار محمدا براہیم مرحوم کی دعوت پر راجہ عنایت اللہ مرحوم نے راولاکوٹ شہر میں انیس سو چونسٹھ کی دہائی میں عنایت بیکر کے نام سے بنیاد رکھی،اس وقت بیکرز کا یہ عالم تھا کہ لوگ گھروں سے انڈے لایا کرتے تھے اور بند یا باقر خوانی اس کے عوض لے جاتے تھے اس وقت بیکری میں بند یا ڈبل روٹی ہوا کرتی تھی بیکری کی دنیا میں جدت 1989 ء میں ہوئی عنایت بیکری کا کام کی ذمہ داریاں عنایت اللہ مرحوم کی وفات کے بعد راجہ عبدالحفیظ کے سرا ٓن پڑیں اور انھوں نے بیکری کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اپنا نام ہی نہیں بلکہ ایک معیار بھی دنیا کے سامنے رکھا طویل عرصہ کے باجود ایک دوبرابچیں اوپن کیں،کمیشن پر مال کسی دوسری برانچ پر نہ دیا وجہ یہ تھی کہ جب بھی کوئی بیکری کسی دوسری برانچ کو مال سپلائی کرتی ہے خواہ وہ اس کی برانچ نہیں ہے تو پھر مال میں وہ معیار نہیں رہتا کیوں کہ معیار ی مال کم کمیشن پر دینا ممکن نہیں رہتا راجہ عبدالحفیظ نے طویل عرصہ تک بیکری پر کام کیا الحمد اللہ آج بھی راجہ عبدالحفیظ باحیات ہیں انھوں نے اپنے بیٹے امان اللہ کو اپنے ساتھ بیکری پر رکھا انھیں پورا بیکری کا کام سکھایا کام کے علاوہ جس چیز کی طرف ان کا زیادہ رجحان تھا کہ بیٹا اپنے تمام گاہکوں یا عام لوگوں سے اخلاق سے پیش آنا یہی وجہ تھی راجہ امان اللہ نے اپنے والد کی نصیحت پر من وعن عمل کیا اور اخلاق کے پھول ایک عرصہ سے نچھاور کیے راقم الحروف دوہزار نو میں صحافت سیکھنے ایک مقامی اخبار میں گیا اور تاحال مختلف اخبارات میں فن تحریرسے واقفیت کی کوشش میں ہے یقین جانیئے آج بھی قلم درازی کے اصولوں کی الف ب سے واقفیت نہ ہوسکی دوہزار نو میں امان اللہ خان سے ملاقات ہوئی اوروہ ملاقات ایسی کہ ملاقاتوں میں تبدیل ہوگئی ملاقاتوں کا سلسلہ رقابتوں تک جاپہنچا پھر یہ عرصہ دس سال تک چلتا رہا انتہائی بااخلاق انسان،قدر دان کسی کو نہ دیکھا شعبہ تجارت میں قارئین کرام آپ نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہوں گے جن کی دکانوں پر کوئی چیز خریدنے گاہک جائے تووہ موبائل کان سے اتارتے ہی نہیں ا گر اتارہی دیں تو پھرا نکا رویہ گاہکوں سے غیر مناسب ہوتا ہے مگر راجہ امان اللہ کے بارے میں پولیس،تاجر،صحافی،وکلاء،ڈاکٹرز سمیت ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا یہی اظہار ہے کہ امان اللہ ایک نیک صفت انسان تھے انھوں نے غرباء کا ہمیشہ خیال رکھا کبھی کوئی چیز خریدتے تو وہ کم منافع رکھتے لالچی نہ تھے ہمیشہ خوبصورت انداز میں ملتے،پیار والفت سے پیش آتے لین دین کے معاملات میں کھڑے تھے اگر کسی شخص کو کوئی قرض چاہیے ہوتا تو اسے فوراً ادا کرتے ساتھ یہ ہر گز مطالبہ نہ کرتے کہ آپ کب واپس دیں گے۔ زندگی مختصر مگر خوبصورت تھی سترہ جون دوہزار بیس کی شام اپنی ہمشیرہ سے ملاقات کے بعد اپنے گھر واپس آئے۔بیٹے سے کہا کہ بکر ے کا صدقہ کرنا ہے اس کے لیے چھری لے آؤ یوں ہی کرسی پر بیٹھے کہ اللہ رب العزت کی جانب سے بھیجا گیا نمائندہ پہنچ گیا اور وہ اس عارضی دنیا کو چھوڑ کر عقبیٰ کو سدھار گئے نماز جنازہ اٹھارہ جون گیارہ بجے جگلڑی کے مقام پر ادا کی گئی جس میں ہزاروں ا فراد نے شرکت کی راولاکوٹ سے ہر مکتبہ فکر کے لوگ بھی باغ جگلڑی پہنچے اور نماز جنازہ ادا کی نماز جنازہ سے قبل تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے مقررین نے ان کے حسن اخلاق،کردار کی بھرپور تعریف کی قارئین کرام امان اللہ خان نام کے ہی امان اللہ نہ تھے بلکہ کام کے بھی امان تھے ان کی امان میں جو بھی آتا وہ خوش وخرم جاتا نمازی،متقی،پرہیز گار تھے،پنجگانہ نمازیں،تراویح،روز ئے رکھنا ان کا وطیرہ حیات تھا کبھی کسی کا دل نہ دکھایا،ہمیشہ نرم خوئی سے پیش آتے،اعتبار کرتے اور اعتبار کا پاس رکھتے ہر سال یتیم،غریب بچوں کی بھرپور مالی مدد کرتے۔ کردار کا سنہری عالم یہ تھا کہ جب بھی بیکرز کی تشہیر مقامی اخباروں میں کرتے تو اپنے والد کا نام پروپرائیٹر میں لکھواتے اپنا نام نہ لکھواتے ایک دفعہ جاننے پر بتایا کہ والد کی عزت میری عزت ہے یہ جو کچھ بھی ہے میرے والد کا ہی ہے اس میں میر ا کچھ بھی نہیں میں آج جو کچھ بھی ہوں یہ میرے والد ہی کی تربیت کا نیتجہ ہے مجھے امید نہیں یقین واثق ہے بیکرز پر کام کرنے والے امان اللہ مرحوم کے اخلاق کے پھول سب خریداروں پر نچھاور کرتے رہیں گے زندگی عارضی ہے آنے کی ترتیب ہے جانیکی کوئی ترتیب نہیں ہوا کرتی،انسان دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہوجاتا ہے اس کے پیچھے جو چیز باقی رہا کرتی ہے وہ ہے صرف اخلاق ہی ہوا کرتا ہے بداخلاق انسان سے لوگ دور بھاگا کرتے ہیں اخلاق والوں کی لوگ مثالیں دیا کرتے ہیں شاہ بنی آدم ﷺ کے فرمان علی شان کا مفہوم ہے کہ اخلاقی آدمی اور مجھ میں نبوت کا فرق ہے بروز قیامت سب سے اچھی چیز اچھے اخلاق ہی ہوا کرتے ہیں راجہ عبدالحفیظ،راجہ محمد مصطفی،راجہ احسان اللہ،راجہ ضیاء،راجہ مبشر اوردیگر سوگوران سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے دعا گو ہوں اللہ رب العزت مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے



ہم سایہِ خد(۱)


ہم سایہِ خد(۱) کبیرخان ’’پِیرجِنّات شاہ نی قِسیں(پیر جنید شاہ کی قَسم)اَج کے بعدمیں کبھی اپنے لال کو تتّے اُچّے سنگ (گرم چمٹے سے) نئیں ماروں گی۔۔۔‘‘۔اِس مثردہِ جانفزا پر ہم رضاکارانہ جاںبحق ہونے کو تیار ہو ہی رہے تھے کہ ماں نے دلاسہ دیتے ہوئے فرمایا’’ہک تاں اِس واسطے کہ خصماں کھایا مِیرا مِستری اب کھلین پر صرف پھالا،تیشہ،درانتی اور پیل(کدال) چھنڈ کر دیتا ہے۔باقی لوہے لکڑ کا کوئی کام ہو، مواالگ سے پیسے مانگتا ہے۔دوجے تیرا دوشاخہ رونا ہو یاہاسا،مجھے ماسہ چنگا نئیں لگتا۔ایسے لگتا ہے جیسے سخیے کے باجے کی پیپنی میں نسوار کی گولی پھنس گئی ہواور گھر میں بے موسمے ڈڈّو ُ اور بے خصمے بِلّے بِلّیاںخواہی مخواہی بھِڑپڑے ہوں۔ اِسّے مارے اَجّ سے میں اُچّے کی تھاں ویلے کویلے تیرے پیو کا گڑنگ (فوجی بوٹ) تیرے اُپّروارا کروں گی۔اُپّر والے کو منظور ہوا توکسی دن پھنسی ہوئی گولی ’پھڑُکّ‘سے نکل جائے گی۔‘‘ ماں کی تفتیش اور تشخص درست نکلی۔ شام کی خوراک میں ہم نے ایک ہی جوتا کھایاتھا کہ نسوار کی گولی ’’پھڑُکّ‘‘ سے نکل گئی اور بے خصمے بِلّے بِلّیاںہمیشہ کے لئے کہیںبھاگ گئے۔بے موسمے ڈڈّو البتّہ اب بھی کبھی کبھی وہیڑے میں ٹرّاتے ہیں توماں بہت یاد آتی ہیں۔ بات کہیں کی کہیں اور نکلی جاتی ہے، اسی شام ماں اور دادا کے بیچ گھمسان کا رن پڑا۔ماں کی خواہش تھی کہ اُن کا لال ’’باوو‘‘ لگے۔دادا کا موّقف تھا ’’منیا گویا ولَیتی لاٹ صابوں کی خانساماں گیری میں بندے کو بڑا مان سمّان ملتا ہے، عِجّت کی عِجّت پینسے کا پینسا۔ اُپروںمجلس تاثیر۔۔۔۔ سال کھنڈ میںبندہ خودبھرے ڈھنگ میںدُدّھ چِٹّا رومال گلے میں ڈال کر چھُری ترِنگل سنگ اُلٹی گاگرپر وٹّی دیسی سویّاں اور چالیسویں کے مِٹّھے چول کھانے لائق ہو جاتا ہے،تاں ہر پاسے بہہ جا بہہ ہو جاتی ہے۔لیکن پکّی نوکری آخر پکّی نوکری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔مار بڑے بوُٹ، دے برانڈیاں، جراباں ٹوپیاں،جرسیاں دستانے،کمبل دریاں، رسیاں ڈوریاں،ایدھر گینتیاں، اودھر بیلچے۔ کاہ کاہڑیوں،اتے گراہ لنگروں۔ جتنا جی کرے کھائو،کوئی روک رکاوٹ نئیں۔کہالی کمائی ویلے حقّی چھٹّی کے علاوہ ٹَیم بے ٹَیم نَیٹ پاس کی سہولیّت وکھری۔ پہلی کی پہلی نقد و نقد تنخواہ، اوپر سے پِلسن(پنشن)الگ۔گرتے پڑتے حوالدار جمعدار بن گیا تو گراں موہڑے میں تیری ٹوہر، میرا ٹہکہ۔ جو اَجّ سِدّھے مونہاں سلام کا جواب نئیں دیتے،وہی کل تیرے لئے رستہ،کھِیڑا، پِیڑھا، اورمیرے لئے چوکا،مونڈھا چھوڑ کے کھڑے ہو جائیں گے۔۔۔۔جی آیاں نوں، اَجّ لہنے پاسیوں چنّ کس طراں چڑھیا؟ستّ اٹھّ بسم اللہ۔۔۔‘‘ اِدھر سے دلائل،اُدھر سے ریپڈ فائر۔دونوں اک دوجے کے قائل، دونوں گھائل۔ آخر طے ہوا کہ علاقہ کی رائج الوقت رِیت کے عین مطابق ہمیں بھی ’’کرینچی‘‘بھیج دیا جائے۔ جہاں یا تو ٹائپ رائٹنگ سیکھ کر ہم بابو لگ جائیں یا کچھ سیکھے بغیر حوالدار جمعدار۔ یوں دوشاخہ آواز میں رونے اور ویسی ہی آواز میں ہنسنے کی عمر میں ہم کراچی پہنچ گئے۔ کئی ہفتوں تک ٹرام کی تھرلنگ سواری اور بندر روڈ پرمکرانی گدھا گاڑیوں کی ریس کا حِصّہ بنے رہنے کے علاوہ ایک ٹائپنگ انسٹیٹیوٹ میں The quick brown fox jumps over a lazy dog پیٹتے رہے۔ لیکن کہیں چیچی ’’کی بورڈ‘‘ میں پھنس گئی، کبھی انگوٹھا ہینڈل میں دھنس گیا۔ تین ماہ کی جان توڑ کوشش کے بعد بھی ہماری حدِ رفتار بیس الفاظ فی منٹ سے آگے نہ بڑھ پائی۔ تب ہم نے اپنے دوست نذیر حسین کے ساتھ مل کر پاکستان ائیر فورس کے بھرتی دفتر پر حملہ کیا۔ وہاں ایک بھلے مانس نے ناپ تول کے بعد ہمیں باجماعت لوٹا دیا کہ ہم رائج الوقت پیمانوں کے عین مطابق کھینچ تان کراپنا قدکم ازکم ایک بالشت مردانہ اور وزن ڈیڑھ دھڑی زنانہ بڑھا کر لائیںتو سینٹر کا عملہ ہمیں ٹسٹ میں بیٹھنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ وہاں سے ’’صحرااست کہ دریا است، تہِ بال و پر ما است‘‘از بر کر کے یہ سوچتے ہوئے لوٹ آئے کہ آج شام سے وزن اور قد بڑھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔چنانچہ اُن پارکوں کی فہرست بنائی جن میں پول تو باقی ہیں،جھولے نہیں۔نیز نواح میں سستے اور صحت بخش کھانوں کی ریڑھیا ںکہاں کہاں واقع ہیں۔ ہم کئی ہفتوں تک پارکوں میں جھولوں کے خالی کراس باروں سے لٹکتے اور پہلوانوں کی مورتوں والی ریڑھیوں سے مرغن اور صحت بخش کھانے کھاتے رہے۔ کوئی دس ہفتوں کی محنتِ شاقہ کے باوجود قد کاٹھ اور وزن میں رتّی برابر افاقہ نہ ہوا تو نذیر حسین سے ’’نِکّی سِکّی‘‘ کی کہ بھائی ذرا سوچو!کیا پاک فضائیہ میں بدستِ خودہوائی جہازوں کوسر سے اوپر اٹھا کر ہوا میں اڑایا جاتا اور ہوا سے پکڑ کر پوٹے بھار رن وے پر لایا جاتا ہوگا جو اُنہیں انسان کے پُتر نہیں،گلیور درکار ہوتے ہیں؟۔یہ سب ہمیں بھرتی نہ کرنے کے چونچلے ہیں اور بس۔’’پھر کیا کیا جائے‘‘؟ خدا لگتی بات نذیر حسین کی سمجھ میں آگئی۔کہاائیر فورس کوگلیوروں کے لئے رہنے دیتے ہیں،ہم انسان کے پُتر ہیں، آرمی جوائن کر لیتے ہیں۔ آرمی کی نوکری بھی کچھ بُری نہیں۔لیکن نذیر حسین مان کے نہ دیئے۔ ہم نے ایک دلیل یہ بھی دی کہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن میڈم شمیم آرا کی اوپن آفر ہے کہ جو کوئی مرد جنا کشمیر آزاد کروائے گا،وہ اُسی درپن سے شادی کرلیں گی۔۔۔۔۔‘‘ ’’اوّل تو یہ کہ میں نے چھُپ چھپا کے شمیم آرا کی ہیٹھ اوپرچھ فلمیں دیکھی ہیں۔۔‘‘انہوںنے ہماری بات کاٹی۔۔۔’’وہ ہر فلم میں کسی نا کسی ہیرو سے شادی کر لیتی ہیں۔ایک میں تو ہیرو یعنی اپنے محبوب و منگیترکے قاتل(ولن)سے بھی ہنسی خوشی دوبول پڑھا چکی ہیں۔میرا خیال ہے کہ کشمیر کے آزاد نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ شمیم آرا کا یہی اعلان بالجہر بھی ہے۔میری مانوتو ایسی ہرجائی سے بندہ لنڈورا ہی بھلا۔ دوسرے اس کی کیا گارنٹی ہے کہ ہمیں ہی کشمیر آزاد کراونے کا مِشن اِمپاسیبل دیا جائے گا؟۔خدا نخواستہ ایسا ہواور ہم دونوں مشترکہ طور پرمہم سر کرنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو شمیم آرا ناحق کس کے حق میں لکھی جائیں گی؟بھائی!ذرا سوچو،کشمیر آزاد کروانے کے بعددوستی یاری اور قریبی رشتہ داری میں ایک اور مسئلہ کشمیر کھڑا نہیں ہو جائے گا؟‘‘۔ عرض کیا مفروضوں کے پیچھے چھُپنے کی بات اور ہے لیکن مردانہ کاموں اور فتوحات کا کُل کام اب بھی آرمی ہی کے دستِ وفاکیشںکے لئے مختص ہے۔ چنانچہ اِس امکان کے واضح امکانات بھی ہیں کہ بطور کشمیری ہمیںہی یہ مہم سونپ دی جائے۔ رہی بات عفیفہ شمیم آرا کے حوالہ سے ٹنٹے کی توکچّے بچھیرے کی کمر کاہے کو توڑیں۔ وقت آنے پربات چیت کے ذریعہ معاملہ کر لیں گے۔ لیکن بے حد محتاط طبع برادرم نذیر حسین مان کے نہ دیئے۔ہمیں یوں لگا جیسے وہ عفیفہ مذکوریہ کے بارے میں ہم سے رضاکارانہ دستبرداری کاپیشگی بیان حلفی لینا چاہتے ہیں۔ وہ بھی مصدّقہ۔اُنکے اسی معاندانہ رویّہ کی وجہ سے ہم ایک دن اکیلے ہی کشمیر آزاد کرانے کے لئے آرمی ریکروٹنگ سینٹر پہنچ گئے۔کافی دیر کے بعد سُرخ ٹوپی،سفید پیٹی اوربے حد کڑک وردی والے ایک فوجی نے ویسی ہی آواز میں پوچھا تو ہم نے عجز و انکسار کے ساتھ ساری رودادِ نفس سنا ڈالی۔اُس نے جواباً گیٹ سے ہی ہمیںیہ کہہ کر لوٹا دیا کہ ’’بچّہ پارٹی‘‘کی بھرتی کئی سالوں سے بند ہے ِ،کبھی کھُلی تو آجانا۔ ہم اس قدر دلبرداشتہ ہوئے کہ وہیں سے سیدھے حیدرآباد پہنچ گئے۔جہاں چچا سردار عبدالرزاق بڑے لیبر لیڈر لگے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے ہمیں ایک بلیڈ فیکٹری میں سوا روپیہ دیہاڑی داری پر لگوا دیا۔ فیکٹری کے گرائنڈنگ اینڈ ہوُننگ (Grinding & Honing)سیکشن میں ایک ایسے تیل کی پھوار سی برستی رہتی جس میںچمڑے اورپلاسٹک کی مصنوعات دِنوں میں اِنلارج ہوکر اپنے اصل سائز سے کہیں بڑی ہو جاتیں۔ چنانچہ کارکنان کام کے دوران جوتوں کی بجائے قینچی چپل استعمال کرتے تھے۔اور ارزاں ترین جوڑی ڈیڑھ روپیہ میں دستیاب تھی۔یوں ہم ہر ہفتہ نئی جوڑی خریدتے اور پرانی فیل پا کے کسی مستحق مریض کے لئے گلی میں رکھ چھوڑتے۔جب سال بھر میں پوری باون جوڑیاں باون گزوں کو دان کرچکے اور لنڈے کے سارے کپڑے چھوٹے اور تنگ ہو گئے، تو ہم بھی تنگ آکر واپس کراچی پہنچ گئے۔ (جاری ہے)



حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی……!


حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی……! از سیّد زاہد حسین نعیمیؔ رابطہ نمبر: 03465216458 ای میل: szahidnaeemi@gmail.com حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اسلام کی اہم شخصیت ہیں۔ گزشتہ دنوں شام کے شہر کے علاقہ امارات میں بشارالاسد کے لئے لڑنے والے ایرانی حمایت یافتہ مسلح شدت پسندوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ فاطمہ کی قبور کو کھود کر ان کی لاشوں کو نکال کر بے حرمتی کی اور پھر ان کو آگ لگا دی۔ اس خبر کی بین الاقوامی میڈیا نے تصدیق کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر قبور کو کھودنے کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے، جس میں دہشت گرد قبور کو کھودتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ قبیح فعل کرتے ہوئے وہ خوشی کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ اس واقعہ کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا ہے اور واقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت بھی کی ہے۔ یہ خبر بھی ہے کہ ان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان دہشت گردوں کا تعلق داعش سے ہے۔ ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ قبر شہید کرنے کی اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے ۱۱ لاکھ ڈالر دئیے تھے۔ مزارات کو مسمار کرنے کی روایت نجدیوں نے شروع کی تھی، جب ترکی کی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہو اتھا اور حجاز پر نجدیوں نے انگریزوں کی مدد سے ۳۲۹۱ء میں قبضہ کر لیا تھا۔ اُنہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ جنت البقیع میں مزارات امہات المومنین، اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام کے مزارات مٹا دئیے تھے۔ شہداء اُحد بالخصوص امیر حمزہؓ کے مزار کو بھی مٹا دیا تھا، بلکہ جہاں جہاں نجدی حکومت قائم ہوئی، وہاں دیگر مزارات کو بھی مٹا دیا گیا تھا، کچھ عرصہ پہلے سعودی حکمرانوں نے نبی کریمﷺ کی والدہ حضرت آمنہؓ کی مرقدمنورہ کو بھی مٹا دیا تھا، جس پر پورے عالم اسلام میں احتجاج ہوا تھا۔ دنیا بھر میں جب سے مسلمانوں میں شدت پسندی کا عنصر شامل ہوا ہے۔ نجدی فکر کی حامل بعض شدت پسند تنظیموں القاعدہ، داعش، بکوحرام، تحریک طالبان پاکستان، لشکر اسلام، جزب التحریر اور ان جیسی دیگر کئی شدت پسند تنظیموں کا پہلا ایجنڈا یہی رہا ہے کہ وہ پوری دنیا میں موجود انبیاء و مرسلین، شہداء صالحین، صحابہ کرام، اہل بیت اور اولیاء کرام کے مزارات کو مٹا دیا جائے۔ چنانچہ شام، عراق، پاکستان اور دیگر کئی ممالک میں وہ ایسا کر چکے ہیں۔ حضرت زینبؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت انسؓ سمیت کئی ایک بزرگ ہستیوں کے مزارات کو مٹاکر ان کی بے حرمتی کر چکے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے شیعہ شدت پسند عراق میں حضرت انسؓ کے مزار کی بے حرمتی کر چکے ہیں، جو عالم اسلام کے لئے انتہائی افسوس ناک ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز بالااتفاق خلافت راشدہ کے بعد پہلے خلیفۃ المسلمین ہیں، جنہوں نے خلافت راشدہ کو پھر سے زندہ کیا۔ بنوامیہ کی اہل بیت دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے آئمہ اہل بیت کو شہید کرایا، لیکن جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے ان تمام زیادتیوں کے ازالہ کی بھرپور کوشش کیں جو پہلے بنوامیہ کے خلفاء نے کی تھیں۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ صالح تھے، آپ کا شمار خلفائے راشدین میں پانچویں خلیفہ کی حیثیت سے کیا جاتا ہے اور ثفیان ثوری کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ کے بعد پانچویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۸۲۳) لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت علیؓ کے بعد پانچویں خلیفہ راشدہ حضرت امام حسنؓ ہیں۔ اس طرح خلافت راشدہ کو پھر سے زندہ کرنے والے حضرت عمر بن عبدالعزیز چھٹے خلیفہ راشد ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا تھا کہ میری اولاد میں ایک شخص پیدا ہو گا، جس کے چہرے پر داغ ہو گا وہ روئے زمین کو عدل سے بھر دے گا…… یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اللہ نے دنیا میں بھیج دیا۔ (ایضاً،صفحہ۹۲۳) حضرت عمر بن عبدالعزیز سلیمان کے چچازاد بھائی تھے، آپ کی والدہ حضرت عمر فاروقؓ کی پوتی تھیں۔ آپ کے والد مصر کے گورنر تھے۔ شاہانہ ماحول میں پرورش پانے کے باوجود آپ کی طبیعت میں سادگی تھی۔ علم و فضل کے اعتبار سے آپ وقت کے امام تھے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۰۹۲) آپ کا پچپن تھا کہ قرآن جمع ہوا، آپ کے والد عبدالعزیز نے آپ کو مدینہ منورہ میں تحصیل علم کے لئے عبیداللہ بن عبداللہ کے پاس چھوڑ دیا، ایک عرصہ تک آپ ان سے تحصیل علم اور استفادہ کرتے رہے۔ والد کے انتقال کے بعد عبدالملک نے آپ کو دمشق بلا لیا اور اپنی بیٹی فاطمہ سے آپ کا نکاح کر دیا۔ خلیفہ بننے سے پہلے ہی آپ نہایت صالح تھے۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۹۲۳) آپ نے متعدد احادیث صحابہ کرام اور تابعین و علماء حدیث سے روایت کی ہے۔ حضرت زید بن اسلم، حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمربن عبدالعزیز کے پیچھے نماز پڑھنے سے رسول اللہﷺ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی، وہ سنت کے مطابق نماز پڑھاتے تھے۔ (ایضا ً، صفحہ۰۳۳،۹۲۳) خلیفہ سلیمان کی وفات کے بعد آپ خلیفۃ المسلمین بنے۔ آپ نے حضرت عمرفاروقؓ کے نقش قدم پر چل کر عدل و انصاف کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ خلافت راشدہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت آپ کے دورِ حکومت کو خلافت راشدہ کی ایک بڑی کڑی قرار دیتے تھے اور آپ کو خلفاء راشدین میں شمار کرتے تھے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۱۹۲) آپ کا دورِحکومت دو سال پانچ ماہ پر مشتمل تھا۔ اس قلیل دور میں آپ نے زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دیا تھا۔ ابونعیم ریاح بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ نماز کے لئے مکان سے باہر تشریف لے جا رہے تھے، ایک بوڑھا آپ کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے چل رہا تھا، نماز کے بعد پوچھا یہ بوڑھا شخص کون تھا جو آپ کے ہاتھ کا سہارا لے کر چل رہا تھا؟ آپ نے فرمایا یہ حضرت خضرؑ تھے جو مجھے محمد مصطفےٰﷺ کی امت کے حالات دریافت کرنے اور مجھے عدل و انصاف پر گامزن ہونے کی تلقین کرنے آئے تھے۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۱۳۳۔۰۳۳) آپ کے پاس شاہی اصطبل کے گھوڑوں کا نگران آیا اور ان کے لئے گھاس اور دانے طلب کیے تو آپ نے فرمایا ان گھوڑوں کو شام کے مختلف شہروں میں بھیج دو تاکہ یہ فروخت کر دئیے جائیں اور رقم بیت المال میں جمع کر دو۔ آپ نے اپنی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک سے کہا کہ اپنے تمام زیورات بیت المال میں جمع کرا دو یا مجھ سے الگ ہو جائے۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنے تمام زیورات بیت المال میں جمع کرا دئیے۔ (ایضاً، صفحہ۲۲۳۔۳۲۳) حضرت امیرمعاویہ کے دور سے بنوامیہ بڑی بڑی جاگیروں کے مالک بن گئے تھے۔ نہایت شاہانہ زندگی گزارتے تھے۔ آپ نے ان سے وہ تمام جائیدادیں واپس کرکے ان کے جو اصل مالک تھے، ان کے حوالے کر دیں۔ آپ نے پش روؤں کی بہت ساری جائیدادیں واپس کیں اور ابتداء اپنے گھر سے کی۔ اس سلسلہ میں آپ کے نوجوان بیٹے عبدالملک نے آپ کا بھرپور ساتھ دیا۔ یوں آپ نے وہ جائیدادیں اصل وارثوں کو لوٹادیں۔ جب کسی نے پوچھا تمہاری اولاد کا کیا ہو گا۔ آپ نے فرمایا اُن کا اللہ وارث ہے۔ جب اپنی اور اپنے خاندان کی جائیدادیں واپس کرا چکے تو پھر گورنروں اور حکام کو کہا فوری طور پر غصب شدہ جائیدادیں اصل مالکوں کو لوٹا لو، پھر ایسا ہی ہوا۔ یہی نہیں بلکہ آپ نے بنوامیہ کے عطیے اور وظیفے بھی بند کر دئیے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۴۹۲۔۳۹۲) آپ نے عمال کے محاسبہ کے لئے ادارہ بنایا۔ یزید بن مہلب کو معزول کرکے خراسان کے لوگوں کا لیا ہوا دو کروڑ واپس کرنے کا حکم دیا اور پھر اُسے قید میں ڈال دیا۔ حجاج کے پورے خاندان کو جلا وطن کر دیا اور اُس کے معمور کیے ہوئے عمال کو معزول کر دیا۔ آپ نے زمیوں کے ساتھ بہترین سلوک لیا۔ ان کے حقوق ادا کیے، بیت المال کی اصلاح رفاہ عامہ کے کام کیے۔ شریعت کا احیاء کرتے ہوئے شراب نوش لہوولعب رسومات بدکو ختم کیا۔ مقبوضہ علاقوں میں مبلغ بھیجے جس سے کثیر تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۸۹۲) حضرت امیرمعاویہ کے دور میں حضرت علی المرتضیٰ پر لعن طعن کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ اُن کے لئے خطبہ میں بھی نازیبا الفاظ ادا کیے جاتے تھے۔ آپ نے اس کا خاتمہ کرکے اس کی جگہ ایک آیت کا اضافہ کر دیا۔ (ایضاً، صفحہ۹۹۲) بلکہ مورخین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی حضرت علی المرتضیٰ اور اہل بیت میں سے کسی پر تبریٰ کرتا تو آپ ایسے شخص کو کوڑے لگواتے تھے۔ آپ سچے عاشق رسولﷺ اور محب اہل بیت تھے۔ تقویٰ و طہارت سے مزین، خلیفہ وقت ہونے کے باوجود درویشوں کی طرح زندگی بسر کی۔ بنوامیہ نے اپنے جائیدادیں چھن جانے کی وجہ سے آپ کو ایک غلام کے ذریعے زہر دلایا گیا۔ آپ نے وفات پانے سے پہلے اُسے طلب کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ کام تم نے کیوں کیا؟ اس نے بتایا مجھے اس کا ایک ہزار دینار دیا گیا ہے۔ آپ نے وہ رقم اس سے واپس کراکر بیت المال میں جمع کرا دی اور اُس سے فرمایا یہاں سے غائب ہو جائے واپس اس طرف رخ نہ کرنا۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۰۵۳) اس عظیم المرتبت خلیفہ کی وفات ۹۱۷ء میں ہوئی۔ شام میں آپ کا مزار مقدس ہے، جس کی بے حرمتی کی گئی ہے، جو افسوس اور قابل مزمت ہے۔ اگر واقعی ان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو شامی حکومت ان کو قرارواقعی عبرتناک سزا دے۔ حکومت پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کو بھی شامی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ فاطمہ بنت عبدالملک کے درجات بلند فرمائے اور دشمنانِ اسلام کو خائب و خاسر کرے۔ امین بجاہ سیّدالمرسلین



"چند سوالات "


"چند سوالات " سردار کامران " جاگتی آنکھیں " جو سچ کہوں تو بُرا لگے، جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں، تعلیم اور شعور کا گہرا رشتہ ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہمارے ہاں جو تعلیم دی جاتی ہے وہ صرف معلومات اور علم کی حد تک ہے یا کہ اُس کا شعور کے ساتھ بھی کوئی رشتہ ہے؟ایک طرف ہمارے ہاں سکولز،کالجز اور یونیورسٹیز میں بڑی بڑی ڈگریاں بھی دی جا رہی ہیں اور دوسری جانب ہمارے ہاں مدارس کا مربوط نظام بھی موجود ہے،المیہ یہ ہے کہ بہت سارے بچے ابتدائی تعلیم سے محروم ہیں، کچھ بچے ابتدائی تعلیم لیتے ہیں اور مزید جاری نہیں رکھ پاتے، اسی طرح کچھ بچے میٹرک تک پہنچ پاتے ہیں اور کالجز یا یونیورسٹیز تک نہیں پہنچ پاتے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ، ایک حقیقت اور بھی ہے، جیسے کہ ہمارے سلیبسز میں سب کچھ پڑھایا جاتاہے ماسوائے عملی تربیت کے، ہمارے معیار تعلیم پر کوئی شک نہیں ہے مگر بات پھر وہیں ٹھہرتی ہے کہ کیا ہماری اتنی عملی تربیت کی جاتی ہے کہ ہم تعلیم یافتہ لوگ سماج کے اندر جاہلانہ رسومات کے خاتمے کیلئے کوئی عملی اقدام کر سکیں؟کیا ہماری تعلیم ہمیں شعور یا تنقیدی شعور دیتاہے؟ حال ہی میں کرونا وائرس کی وبا نے ہمار ے مذہبی تعلیمی اور سماجی شعور کا امتحان لیا، کیا ہم اس امتحان میں کامیاب ہو رہے ہیں؟ہم بچوں کو آئن سٹائن کی تھیوری تو پڑھا لیتے ہیں، مگر ہمیں کیا کھانا چاہیے، سماج میں کس طرح اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، خاص طور پر کسی قدرتی آفات یا بیماری میں کس طرح سے اپنے رویوں کی وجہ یا سائنسی علم کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو اور دوسروں کو محفوظ بنا سکتے ہیں، کی عملی تربیت دی جاتی ہے؟ ہم جس دور میں تعلیم حاصل کرتے تھے، سول ڈیفینس، این سی سی اور اس طرح کے بہت سار ے کورسز ہمارے سلیبسز کا حصہ ہوتے تھے، آج اُن کو کیوں نظر انداز کر دیا گیاہے؟ بات سماج سے جڑی ہوئی ہے، تمام انبیائے کرام اور جتنے ریفارمرز دنیا میں آئے انہوں نے سماج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ مسئلہ ہمارے سماج میں ہے یقینا اس کا تعلق سیاسیات سے بھی ہے کہ حکمران طبقہ سماج کو تبدیل کرنے کی کتنی کاوشیں کر رہاہے۔ حکمران طبقہ قانون سازی کے ذریعے اور تعلیمی اصطلاحات کے ذریعے یقینا بڑی تبدیلی لا سکتاہے مگر ہمیں بھی اپنے سماجی رویوں پر کیا غور کرنے کی ضرورت نہ ہے؟یقینا ہم سماجی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ایک دوسرے سے گلے ملنا، ہاتھ ملانا ہمارے رویوں کا حصہ بن چکاہے، کیا ہمیں وبا کے دوران فوراً سے غیر سماجی ہونے میں دقت نہیں ہو رہی؟کیا بغیر دقت کے ہم غیر سماجی رویے نہیں اپنا سکتے، جو کہ موجودہ وقت کی ضرورت ہے۔ ہماری مساجد الحمداللہ نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں، زکوٰۃ بھی ہم لوگ دیتے ہیں، صدقہ اور خیرات میں ہم لوگ باقی اقوام سے آگے ہیں، حج بھی صاحب استطاعت کرتے ہیں، رمضان کا اہتمام بھی ہم لوگ بڑے ذوق و شوق سے کرتے ہیں، یہ سب عبادات ہمارے ملک میں کی جاتی ہیں، مگر کیا یہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، جھوٹ، دوسرے کا مال ہتھیانا، زمینیں ہتھیانا، منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ، جھوٹی گواہیاں، یہ بھی ہمارے رویوں کا حصہ نہ ہیں؟آخر کار یہ لوگ بھی کون سے سماج سے آتے ہیں؟یہ بھی کیا ہم لوگ ہی ہوتے ہیں جو ایک طرف مسجد میں اللہ کو راضی کرتے ہیں اور دوسری طرف اُسی کی مخلوق کو اور ملک و قوم کو تکلیف پہنچاتے ہیں؟سوال اُٹھانے اور تنقیدی شعور رکھنے والوں کو طعنہ زنی اور مختلف القابات سے کیا ہم نہیں نوازتے؟ خلیل جبران پورے مشرق پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مجھ پر منفی ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں، کیا میں قبرستان کے آگے خوشی کا اظہارکروں یاکہ رقص، مجھے تعفن کی بو آتی ہے۔ کراچی کے اندر ڈاکٹر کو گولی ما ردی جاتی ہے، اسی طرح ہندوستان میں ڈاکٹروں پر حملے کیے جا رہے ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد (وزیر صحت پنجاب) صاحبہ نے پوری قوم کو جاہل قرار دیا، غلط کیا، اتنی کھل کر بات نہیں کرنی چاہیے، حبیب جالب اگر یہی بات لکھتاہے،جو سچ کہوں تو بُرا لگے، جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں،یہ سماج جہل کی زد میں ہے،یہاں بات کرنا حرام ہے۔ کرونا وائرس نے جہاں معاشی صورتحال کو خراب کر دیا، صحت کے نظام کو متاثر کر لیا، شاید یہ اُسی کا قصور ہے کہ ہمارے رویے ایسے ہیں، ایسی باتیں حبیب جالب کو، یا ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ کو زیب نہیں دیتیں۔ اصل میں بچپن میں ہمیں بلاؤں، جنوں اور ججوؤں کی کہانیاں سن سن کر، ذہنوں میں بھی یہ ساری بلائیں اور ججوگھس چکے ہیں جو تعلیم سے بھی نہیں نکل سکتے۔ جو تعلیم بھی ہمیں دی جاتی ہے اس طرح دی جاتی ہے کہ صرف اور صرف تھیوریاں پڑھائی جاتی ہیں، گھر میں آ کر پھر وہی ہر محلے کی کہانی، کہ فلاں آدمی کو جن سے فلاں پیر نے جان چھڑائی، ہمارے ذہن کنفیوژن کا شکار ہی رہتے ہیں۔ شُف شَف والے کے ہاں بہت زیادہ رَش پڑا رہتاہے جبکہ ڈاکٹرز کی طرف ہم غصہ اور آج کل تو پستول بھی لے کر جا رہے ہیں، ڈاکٹر انجکشن لگا کر مارتے ہیں، گویا پچپن ہزار جو کرونا کا مریض صحتمند ہوا، تو ساڑھے تین ہزار شہید ہو گیا، پچپن ہزار کو انجیکشن نہیں لگا صرف ساڑھے تین ہزارکو انجیکشن لگ گیا، ڈاکٹر زبھی کیا کر رہے ہیں زیادہ کا علاج ہو رہا ہے اور کم لوگوں کو انجکشن لگا رہے ہیں، ملنے سے تو پرہیز ہے مگر جب بھی کسی سے سامنا ہوتاہے تو روایتی جملہ "موت سے ڈرتے ہیں؟" ملتے نہیں ہیں " اور پھر زور دارجپھی"، اب کیا کیا جائے؟ نہ بھی ملنا چاہیں اس جپھی سے کیسے جان چھوٹے؟ شُف شَف سے ہم اس لیے ٹھیک ہوتے ہیں کہ وہ جو ججو زہن میں بیٹھا ہے وہ ہمارے علاج کیلئے کافی ہے، ہمیں کسی دوا کی ضرور ت نہیں ہے بلکہ صرف اُس ججو کو ایک شُف درکارہے باقی وہ ججو پلیبی سو ایفیکٹ کے ذریعے ٹھیک کر لے گا۔ اب حکومتیں کیا کریں؟SOPs پر عمل ہم لوگ نہیں کرتے، لاک ڈاؤن ہونا چاہیے تھا،نہیں کیا گیا، اس کا صاف مطلب ہے کہ ہمیں خود اس وبا سے بچنا ہو گا، اب حکومت کیا کرے؟ہر کسی بندے کے پیچھے ایک پولیس والا اور ایک ڈاکٹرکی ذمہ داری لگا لے؟ پولیس والا ڈنڈہ لے کر کھڑا ہو اور ڈاکٹر انجیکشن۔۔۔؟ایک دوسرے سے گلے نہ لگنے کیلئے کیا حکومت کوئی حفاظتی شیلڈ مہیا کرے، جس کے نتیجے میں کرونا خود بخود گھائل ہو جائے اور ہم محفوظ رہ سکیں؟ اصل میں ہم آسانی چاہتے ہیں، کون ان سارے معاملات کو دیکھے، کون ڈاکٹر زپہ بھروسہ کرے، گھنٹوں پیر صاحب کی لائنو ں میں کھڑے ہو کر ایک شُف ہی تو کروانی ہوتی ہے اور ہم ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو نئے ماحول کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا ہو گا، جب تک ویکسین دریافت نہیں ہو جاتی ہمیں اپنے سماجی رویوں کو بدلنا ہو گا، اگر ججوؤں اور بلاؤں سے ہم پیچھا چھڑا پائے تو ہم کرونا کی اس جنگ میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔اب چالان بکوں، جرمانہ کی کتابوں اور جگہ جگہ روک رکاوٹ ہی ہمارے لیے کافی نہیں ہے، ہمارے شعور سے ہمیں خود اپنے آپ کو سنبھالنا ہو گا۔



میں، میں اور میں


میں، میں اور میں کبیر خان ہم تینوں ماکھائے ماجائے ہی نہیں جُڑواں تُڑواں بھی ہیں۔مجھے جنتے ہوئے ماں کو بہت تکلیف ہوئی۔وہ درد سے چیخ رہی تھی۔ اُس کی دُکھن دیکھ کر مجھے بھی درد سا ہو رہا تھا۔لیکن مرد بچّہ ہونے کی وجہ سے میں رویا نہیں۔ مجھے یقین تھا کہ ماں کو مجھ جیسے کی ماں ہونے پر فخر ہوا ہوگا۔ اور میں بھی اسی احساس تفاخرکے ساتھ دُنیا میں آنے پر بجا طورپرذرا چوڑا سا ہو گیا تھا۔ لیکن جب میری آنکھیں کھُلیں تو یہ دیکھ کر کچھ حیران پریشان، کچھ کچھ خفیف بھی ہوا کہ مجھ سے پہلے مجھ جیسے دو،چُپ اور شانت پڑے،بلونگڑوں طرح ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ بس اسی دوئی کی وجہ سے میری چیخ نکل گئی۔ اور چیخ پر ماں کے زرد اور مرجھائے ہوئے چہرے پر اک جہاں کی رونق لوٹ آئی۔اُس نے سوکھے ہونٹوں سے میری پپّی لی۔ یہ دیکھ کر دونوں بلونگڑے چِلّانے کی کوشش میں ممیاکے رہ گئے۔بس میں سمجھ گیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ جب ماں سمیت ہمیں سرمائی کھُرلی کے اندھیرے سے نسبتاً روشن بسیوے میں لایا گیا تو میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ لیکن میں سمجھ چکا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔چنانچہ میں نے پھپھڑوں کا پورا زور صرف کر کے ایک چیخ ماری۔ماں کے علاوہ کئی پھپّھے کُٹنیاں بھی میں صدقے میں واری کرنے کو لپکیں۔میری دیکھا دیکھی بلونگڑے بھی پر تولنے لگے مگر میری چیخم چاخ تلے صرف منہ بگاڑ سکے۔بے ہنروں کو روہانسا ہونا بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا۔ یہیں سے میری ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں اور آف کورس،کام بھی۔چنانچہ میری چیخوں کے مقابل بلونگڑوں کی منمنی آوازیں کانوں کے کچّوں تک بھی نہ پہنچ پاتیں۔ یوں مجھے ہی اُن کی ترجمانی کرنا پڑتی۔ ”ما صدقے...“ماں کی مائے نے پچھلی عید سے چلی آنے والی دائمی ناراضگی کی پوٹلی اور پنجیری کی دیگچی طاق میں دھری اور”ناس پِٹّی“ بیٹی سے لپٹ کر لگیں بین کرنے...”مرنے جوگیئے، نامرادے! مرتی مر جاتی،تیرے بوہے جھاتی نہ مارتی۔ لیکن کیا کروں توُ لاکھ کلمونہی سہی،میں ماجو ٹھہری۔ریشم جان نے ریگمالی آواز میں سانحے کا سندیسا دیا تو رہا نہ گیا....دوڑی چلی آئی۔اب مہینہ کھنڈ رہنا بھی پڑا تو اُوپر والے کی دی ہوئی نسوار کی چُٹکی پر رہ لوں گی۔پر تیرے گھر کا بھوراحرام۔“ اس پر میں خوشی کی چیخ نہ روک سکا۔جسے سُن کر نانی کی تانا تانی بگڑ گئی...”میں صدقے،میں واری، اتنی کراری آواج..؟شالا کسی کلمونہی کی نظر نہ لگے۔اوپر والے کے کرم سے بڑا ہو کر سرکاری ڈھنڈورچی بنے گا یاپھربہت ہی پھنیّرمولمی صاب...نی ناس پِٹیئے، نامرادے تیری ساری مرادیں سمجھوپوری ہوئی کھَلی۔ایہہ دیکھ تیری اندھیر نگری میں کیسا چنّ چڑھا ہے...؟“ماں نے اک ڈبڈبائی سی نگاہ ڈالی اور ہولے سے جواب دیا....”سلیٹی“۔”ہائے نی! خود کون سی سینف املوک کی دُدّھ چِٹّی نیل پری اور تیرا گھر والا ہنس راج ہے...“نانی تڑخیں ”دیکھنا کیسے کیسے تارے توڑے گا“۔نانی کی بات سُن کر میں زور کاقہقہہ لگانا چاہتا تھا لیکن اتنے ہی زور کی چیخ نکل گئی۔ نانی نے گھبرا کر مجھے واپس ماں کے پہلو میں دھرااورپھر یکلخت اپنی آنکھیں ملنے لگیں.....”یہاں تو دوجی اور کلبلا رہے ہیں؟،نی بے پاوتیئے! توُ نے اَجّ تنی کبھی مجھے پوری بات نئیں بتائی۔ھمیشاں وِچلی گلَ لُکا کے رکھی۔پر یہ بات لکانے چھپانے کی تھی کیا....؟؟“نانی نے سر سے دوپٹہ کھینچ گود میں ڈالا اور بولیں ”اے اُوپر والے!تیری لِیلا دھاری نیاری...جوایک جوگی بھی نہیں تھی، اُسے تین تین دے مارے؟؟؟مار وے قہاریئے۔“۔اس سے پہلے کہ نانی بے ہوش ہوتیں،ایک پھپّھے کُٹنی نے اُنہیں مکھن کے پیڑے والی لسّی کا گلاس تھما دیا۔نانی بے اختیار حرام کا گلاس چڑھا گئیں۔”چل مر...“نانی نے آستین سے منہ پونچھتے ہوئے ماں سے کہا”یہ تو بتادے،اِن میں سے بڑا کون سا ہے...؟“ ”میں ں ں ں“۔میں اتنے زور سے چیخاکہ بلونگڑوں سمیت تقریباً سب ہی حاضرینِ مجلس ہکّا بکّا رہ گئے۔ ماں نے گھگھیاتے ہوئے نانی کو جواب دیا...”خورے....، یہی“۔”میں ں ں،میں ں ں“۔میں نے ماں کے منہ سے کِرنے والا ’خورے‘لات مار کر چارپائی سے نیچے گرا دیا۔دونوں بلونگڑے ماں کا منہ تاکتے رہ گئے۔دوسرے روز سویرے سویرے کمیٹی کا مُنشی اندراج کے بہانے خرچی لینے پہنچ گیا...”اللہ ہور دیوے...“رجسٹر کاصفحہ کھول،کچّی پنسل تھام بولا: ڈیرے کا بڑا کون ہے؟ناں مع نانکڑی(نام مع عرف)لکھائیں۔”میں ں ں ں...“میں چیخا، منشی کے ہاتھ سے رجسٹر گر گیاجو اُس کے نائب نے جھاڑ کر واپس تھمادیا۔”میں ں ں ں“، میں پھر چیخا۔”ٹھیک ہے...“منشی زبان کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا”اپنا نام اور نانکڑی بتائیں...“۔”میں ں ں ں ں“میں نے پورا زور لگا کر کہا۔”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے...آپ غصّہ نہ کریں۔میں ریح کا مریض ہوں،بھاگا نہیں جاتا۔محنتانہ بھانویں نہ دیں، البتّ فیس اور نذر نیاز بے شک نال کل نائب صیب کے بدستِ مبارک بھیج دینا۔رہی چاء چُو تو فیر سہی“۔یوں نا چیز پیدائشی طور پرتیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود کاغذات میں اوّل نمبر قرار پایا۔ ”لِخ کے لے لے،یہ انّی پائے گا...“باہر نکلتے ہی مُنشی نے اپنے نائب سے کہا”اِس میں ساری خوبیاں لیڈروں والی ہیں۔شکل رونی،آوازکڑاکے دار،اطوار شڑاکے دار۔اپنے بیگانے،ہر کس و ناکس کو اُتلی میں لگا کے بیچے گا۔ جس نے اپنے اُمّ زادوں اور ہم زادوں کو معاف نہیں کیا وہ غیروں کو کیا بخشے گا.... بھانویں لِخ کے رکھ لے،یہ پیدائشی لیڈر ہے۔



آزاد کشمیر، گلگت،حریت کانفرنس پر مشتمل سفارتی کونسل کی ضرورت ۔


آزاد کشمیر، گلگت،حریت کانفرنس پر مشتمل سفارتی کونسل کی ضرورت ۔ سچ تو یہ ہے بشیر سدوزئی ۔ یہ انتہائی تشویش اور افسوس ناک امر ہے کہ ساری دنیا کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے اپنے عوام کو بچانے کے لیے نت نئی تدابیرں اور حکمت عملی میں مصروف ہے ۔ مودی سرکار مقبوضہ کشمیریوں میں نسل کشی کر رہی ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 14 جون 2020 کو جاری کی گئی تازہ رپورٹ میں انتہائی خطرے ناک صورت حال کا انکشاف کیا اور بتایا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں زیر زمین ٹارچر سیل قائم کئے ہوئے ہیں جہاں نہ صرف نوجوانوں کو بلکہ نوجوان لڑکوں کو بھی لایا جاتا ہے ۔ رپورٹ میں پہلی مرتبہ انکشاف ہوا کہ حال ہی میں فوج کے ان زیر زمین ٹارچر سیل سے 500 لڑکیوں کی لاشیں اور 200 نیم مردہ حالت میں دریافت ہوئی ہیں ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ زیر زمین ان ٹارچر سیلوں میں اغواء کی گئی عورتوں پر تشددد اور مظالم کی بھارتی فوج نے انتہاء کر دی ہے۔فوج نے خفیہ ٹارچرسیل بنا رکھے ہیں جہاں لڑکیوں کولایا جاتا ہے اور ان پر انسانی سوز تشددد غیر انسانی فعل اجتماعی عصمت دری، بربریت و درندگی کی جاتی ہے۔ مظلوم لڑکیوں کے چیخنے چلانے کی آواز تک کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتی جہاں سے بڑی دردناک رپورٹس آرہی ہیںَ۔ ٹارچرسیل سے نہ صرف 500 لڑکیوں کی لاشیں بل کہ 200 ایسی زندہ لڑکیاں بھی برآمد ہوئی ہیں جو بھارتی فوج کے مظالم سے زندہ لاشیں بن چکی تھی ۔ جب کہ بچوں کی ہلاکت کی واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے جاری سالانہ رپورٹ میں کہا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بچوں کی ہلاکتوں اور تشددد کی اطلاعات ہیں جس پر اقوام متحدہ کو تشویش ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سنٹرل ریزرو فورس اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران 1 سے 17 سال کی عمر تک کے 15 بچوں (13 لڑکے ، 2 لڑکیاں) پر چھرے سے چہرے زخمی کرنے اور گرفتار کر کے تشددد کرنے کی تصدیق ہوئی ہے ۔15 جون کو پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یو این سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ۔"جموں و کشمیر میں ہونے والی بچوں کی ہلاکتیں حراست کے دوران تشدد ، فائرنگ ، بشمول پیلٹ گنوں اور سرحد پار سے گولہ باری سے ہوئی ہیں۔" جس پر اقوام متحدہ کو تشویش ہے۔سیکریٹری جنرل نے بھارتی حکومت سے کہا کہ بچوں پر یہ تشددد بند کیا جائے ۔ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں یہ سب کچھ بطور ریاستی پالیسی کر رہی ہے جس کی ریاست بھارت نے ان کو اجازت دے رکھی ہے اور کسی بھی فورم پر فوج کے کسی اقدام کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔ ماضی قریب میں آرمی چیف نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ " کشمیر میں عورتوں کا ریپ جائز ہے اس طرح کا الزام کسی فوجی پر لگتا ہے تو اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔" گویا آرمی چیف نے فوج کو یہ کھلی چھٹی دے دی کہ جو چاہے حسن کرشمہ ساز کرے۔ ان خطرے ناک رپورٹ اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ابھی تک پاکستان، چین سمیت دنیا کے کسی بھی ملک کی طرف سے سخت ردعمل سامنے نہیں آیا جس قدر ایک ماہ کے دوران مقبوضہ وادی میں مظالم کی انتہاء ہوئی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق سری نگر میں 7 لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومسائل کے ساتھ کشمیر کی شہریت دی جا چکی ہے، آرمی میں داخل کئے گئے شیوا سینا کے غنڈوں کو کشمیر میں ریونیو کی زمین آلائٹ کی جا رہی ہے ۔ جب کہ چند دن کے دوران نامور کمانڈروں سمیت تین درجن سے زائد نوجوانوں کو مختلف الزامات لگا کر شہید کر دیا گیا۔افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ دنیا کا میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے نہ حل ہونے والے مسئلہ کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی گنتی پر لگ گئےجمہوری ممالک کی حکومتیں وضاحتوں اور اپوزیشن حکومتیں گرانے کی کوشش تک محدود اور میڈیا انہی خبروں کی تشہیر پر لگا ہوا ہے ۔ پاکستان میں یہ کچھ زیادہ ہی ہو رہا ہے۔ کرونا کی اس گہما گہمی میں پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو بھول ہی گئی۔ اس خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ماضی میں ہونے والے مظالم کے سارے ریکارڈ خود ہی توڑ دے۔ حریت کانفرنس کی آواز کو ایسا دبا رکھا ہے کہ بزرگ رہنما علی گیلانی سمیت تمام رہنماء نظر بند یا ٹارچر سیلوں میں ہیں اور وادی میں ابلاغ کے تمام ذرائع نقل و حمل پر سخت پہرے بٹھا دئے گئے ہیں کوئی آواز باہر نہیں آ سکتی ۔ تازہ دم اطلاعات بہت زیادہ خطرے ناک، افسوس ناک شرم ناک اور دنیا کی توجہ طلب ہیں ۔ پاکستان اور وادی سے بائر کی کشمیری قیادت کو آج بہت زیادہ سفارت کاری اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ مگر ہر طرف خاموشی ہے حتی کہ حریت کانفرنس پاکستان چپڑ بھی متحرک نظر نہیں آتا کیا مصلحتیں ہیں وہ بہتر جانتے ہیں ۔سفارتی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنے اور مظلوم کشمیریوں کی آواز بننے کی اس وقت سخت ضرورت ہے جو ہو نہیں رہی ، ورنہ بھارت تو کشمیریوں کی نسل کو ختم کرنے کے در پر ہے۔۔ بھارت میں انسانی حقوق کی کارکن اروں وھتی رائے بھی چند دن قبل بھارتی حکومت پر مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات روکنے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کے محافظوں اور کارکنوں نے اس سے پہلے بھی اطلاع دی تھی کہ جموں کشمیر کے شمال میں اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں ۔ دی ہندو اخبار کی رپورٹ کے مطابق ، انٹر نیشنل ہیومن راٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالتِ انصاف کو (آئی پی ٹی کے) نامی این جی او کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں کشمیر کے شمال میں پونچھ، راجوری، بانڈی پورہ ، بارہ مولہ اور کپواڑہ کے 55 دیہات میں کی جانے والی کھدائی کے دوران 2 ہزار 700 قبریں اور ان قبروں میں کم از کم 2 ہزار 900 افراد کی نعشوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی۔جب کہ 8000 افراد لاپتہ ہیں۔ لیکن بھارتی فورسز یا حکومت کی جانب سے اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی کیوں کہ مقبوضہ کشمیر میں فوج کے کسی بھی اقدام کو کسی عدالت یا ادارے میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اس لئے تازہ اطلاعات میں ٹارچر سیل سے برآمد ہونے والی لڑکیوں کی لائشوں نیم زندہ اور تشددد کا نشانہ بننے والے بچوں کا مقدمہ بھی کسی فورم پر پیش نہیں کیا جا سکے گا سوائے بین الاقوامی اداروں کے ۔ بھارتی فوج سفاکانہ ریاسی دہشت گردی سےعوام کو خوف زدہ کر کے تحریک سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہے ۔اس کی حکمت عملی ہے کہ ایسا تشددد کیا جائے جو انسانی برداشت سے باہر ہے ۔ اب یہ بات پوشیدہ نہیں رہی کہ مقبوضہ کشمیر میں قتل، تشدد، جبری اغوا، تذلیل، ہراس، جنسی بدسلوکی، زنابالجبر، غیر قانونی گرفتاریاں، مظاہرے، ماتم، ناکے، چھاپے، پولیس مقابلے اور جلاؤ گھیراؤ روزمرہ کا معمول بن چکا۔ مگر ان مظالم کو دنیا تک کیسے پہنچایا جائے۔ پاکستان کی حکومت کو مضبوط سفارت کاری سے زیادہ 1974 ایکٹ میں چودھویں آئنی ترمیم میں دلچسپی ہے تاکہ وزارت امور کشمیر کو زیادہ مالی اور انتظامی اختیارات مل سکیں اور لوٹ مار کے موقعے میسر آئیں جو تیرویں آئنی ترمیم میں کم ہو گئے ہیں ۔ کنٹینر پر گھڑے عمران خان اور وزیراعظم عمران خان کی قول و فعل میں مکمل تضاد ہے اور اب اس میں دو رائے نہیں کہ خان صاحب ملک چلانے میں ابھی تک مکمل ناکام ہو رہے ہیں ۔ ان حالات میں کشمیری قیادت کو خواہ وہ حریت کانفرنس ہو یا آزاد کشمیر کی قیادت واضح اور دو ٹوک فیصلہ کرنا چاہیے ۔ سفارتی کاری اپنے ہاتھ میں لینے کا مطالبہ کریں ۔ کشمیر کانسل کو مکمل ختم کر کے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کی اسمبلیاں اور حریت کانفرنس برابر نمائندوں پر مشتمل ایک سپریم کونسل کو منتخب کریں ۔ اس کونسل کو کشمیر کی سفارت کاری کے مکمل اختیارات دئے جائیں کونسل کا چئیرمین کشمیر کا وزیر خارجہ ہو جو بحثیت عہدہ پاکستان وزارت خارجہ میں ڈپٹی وزیر خارجہ کے طور پر کشمیر امور میں مکمل اختیارات کے ساتھ دنیا بھر میں سفارت کاری کی ذمہ داری انجام دے۔ بصورت دیگر کوئی یہ سمجھتا ہے خواہ وہ حریت کانفرنس ہی کیوں نہ ہو کہ ڈھائی سو نوجوان کلاشنکوف یا معمولی اسلحہ سے 10 لاکھ سے زائد آرمی سے لڑ کر کشمیر آزاد کر کے دیں گے یہ خواب غفلت اور خیام خیالی ہے ۔



آزاد کشمیر حکومت کے چار سال


آزاد کشمیر حکومت کے چار سال شفقت ضیاء آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے چار سال مکمل ہو گئے ہیں اور ایک سال باقی ہے جو عموماََ الیکشن کا سال سمجھا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آخری سال کو حکومتیں الیکشن سامنے رکھتے ہوئے اپنیکارکرردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ الیکشن میں کامیابی حاصل کر سکیں۔گزشتہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیرِ اعظم چوہدری مجید اور صدر حاجی یعقوب کی قیادت میں آخری سال بھرپور محنت اور بڑے پراجیکٹس دینے کے باوجود ناکام ہوگئی تھی جس سے ثابت ہوا کہ محض آخری سال نہیں پہلے چار سال بھی اہم ہوتے ہیں۔البتہ آخری سال زیادہ محنت کے ساتھ پچھلی کمیوں کو پور ا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے جس طرح کے میگا پراجیکٹس آزاد کشمیر میں دیے جن میں میڈیکل کالجز،یونیورسٹیاں اور کچھ سڑکیں اور ہسپتال شامل ہیں موجودہ حکومت تاحال اس طرح کے میگا پراجیکٹس دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے البتہ اُن پراجیکٹس کی تکمیل میں کردار ضرور ادا کیا ہے۔ بلخصوص ضلع پونچھ میں کوئی میگا پراجیکٹ ایسا نہیں جو موجودہ حکومت کے حصّے میں آیا ہو۔پی پی حکومت کے دور میں حاجی یعقوب کی صورت میں ایسا صدرِ ریاست رہا جس سے سو اختلاف کی گنجائش کے باوجود تعمیر و ترقی کی دلچسپی اور محنت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔آج اگرپونچھ میں میڈیکل کالج یا یونیورسٹی ہے تو اُس کا سارا کریڈیٹ حاجی یعقوب کو جاتا ہے۔غازی ملت شاہراہ (المعروف گوئیں نالہ)بھی آپ کے آخری عرصہ میں ایشین بنک کے منصوبے میں رکھوائی گئی۔اسی طرح چک ڈسٹرکٹ ہسپتال جس کے لیے فنڈز موجودہ حکومت نے دیے انہی کے دور میں آغاز ہوا اورمسئلہ کشمیر کے حوالے سے بیانات کا کام بھی حاجی یعقوب نے خوب کیا،اُن کی اہلیت،صلاحیت اور معیار پر سوالات کے بعد صلاحیت،قابلیت کی بلندیو ں کو چھونے والے موجودہ صدرِ ریاست کا انتخاب ہوا تو عوام کا خیال تھا کہ کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا اور آزاد کشمیر کا نقشہ بھی بدل جائے گا پاکستان اور دنیا بھر میں تعلقات رکھنے والے مسعود خان سے ایسی ہی امیدیں وابستہ کر دی گئیں جیسی پاکستان میں عمران خان سے تبدیلی کی۔جس طرح دو سال میں پاکستا ن کی عوام کو مایوسی ہوئی اسی طرح چار سال میں مسعود خان نے بھی عوام کو مایوس کیا۔مسئلہ کشمیر تو 72سالوں سے حل طلب ہے اگربیانات اور خطابات سے حل ہو سکتا تو پہلے ہی حل ہو جاتا لیکن آزاد کشمیر کے اس چھوٹے سے خطے کی حالت نہ بدلی جا سکی اور جو لیڈر شپ اتنا نہیں کر سکی تواُس سے مسئلہ کشمیر کے حل کی امید حماقت ہی ہو سکتی ہے۔سڑکیں،پانی، تعلیم،صحت جیسی بنیادی سہولتیں میسر نہیں،بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔پونچھ میں تو ان چار سالوں میں کسی بھی پہلو پر قابل ذکر توجہ نہیں دی گئی۔صدرِ ریاست کو سڑکوں کے کھنڈروں کے بجائے گاڑی میں مسئلہ نظر آتا ہے جس کیلئے حکومت نے 6کروڑ رکھ دیا جس پر وقتی طور پر میڈیا کے شور مچانے خاموشی اختیار کر دی گئی ہے۔ہو سکتا ہے وہ بھی جلد مل جائے گی ملنا بھی چاہیے تاکہ اس کی وجہ سے عوامی مسائل اور تنازعہ کشمیر کے حل میں کوئی رکاوٹ نہ پیش آئے آزاد کشمیر کی حکومت کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے پی پی دور کی میرٹ پالیسیوں کا بڑی حد تک خاتمہ کیا۔NTS کے ذریعے غریبوں کے بچوں کو بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق نوکریاں ملی ہیں جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتاتھا۔البتہ محکمہ تعلیم کے علاوہ ان کی کارکردگی گزشتہ حکومت سے مختلف نہیں بلکہ موجودہ حکومت نے پونچھ میں تو ریکارڈ توڑتے ہوئے دوسرے اضلاع کے لوگوں کو بھی تعینات کیا جس کی وجہ شایداسے لاوارث سمجھا گیاہے۔ موجودہ حکومت نے نوازشریف سے ترقیاتی بجٹ دو گنا کرایا لیکن پورا استعمال نہ کر سکی اربوں روپے لیپس ہو گئے 13ویں ترمیم بھی موجودہ حکومت کا بڑا اقدام ہے جس سے بڑی حد تک اختیارات اور وسائل حاصل ہوئے ہیں لیکن آج بھی کشمیر کونسل میں کروڑوں روپے تنخواؤں کی مدمیں جا رہے ہیں جس کا کوئی حل نہ نکالا گیا اور قومی اخراجات پر بوجھ ہنوز جاری ہے۔وزیرِ اعظم فاروق حیدر کا الیکشن سے پہلے عوام سے وعدہ تھا کہ چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے وہ چار سال میں پورا نہ ہو سکا اگر یہ وعدہ پورا کر لیتے تو آج صورتحال بالکل مختلف ہوتی لیکن پی پی اور ن لیگ دونوں جماعتیں بلدیاتی انتخابات میں دلچسپی نہیں رکھتی چونکہ اس سے ان کے ممبران اسمبلی کی اہمیت کم ہو جاتی ہے قانون سازی تو ان لوگوں نے کرنی نہیں ہوتی اور مسائل کے مارے عوام کا ان کے در پر حاضریاں لگانا انہیں پسند ہے۔اُسی پر ان کی سیاست چلتی ہے یو ں عوام کو بلدیاتی انتخابات سے دور اور مسائل کے حل کیلئے دھکے کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت سے توقعات تھیں کہ فاروق حیدر بولڈ آدمی ہیں یہ سٹپ لے لیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا اب وہ اس کی جتنی مر ضی تاویلیں کریں اسی طرح کابینہ 12 سے زیادہ نہ ہونے کی باتیں اوروعدے بھی ایفانہ ہو سکیں گے اگرچہ سابقہ پی پی کے دورِ حکومت میں جو ظلم ہوا تھا وہ نہیں کیا لیکن اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکے۔ پی پی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موجودہ حکومت نے بھی اپنے چند کارکنان کے ذریعے ترقیاتی فنڈز دیے جس سے کچھ چھوٹے چھوٹے منصوبوں پر کام ہوا اور کچھ ہواؤں کے دوش میں خرچ ہوئے۔ آزاد کشمیر جو 13297 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے جس کی آبادی تقریباََ 42لاکھ ہے 72 سالوں میں کوئی شک نہیں کہ تعمیر و ترقی ہوئی ہے سکول،کالجز،سڑکیں بنی ہیں لیکن بدقسمتی سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہر حکومت آتی اور اپنی ترجیحات کے مطابق اپنا وقت گزار کے چلی جاتی رہی جمہوری حکومتوں سے زیادہ عرصہ آمریت کا رہا اور جمہوریت کو نیچے تک موقع کم ملا جس کی مثال 35سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے۔عوام کو بنیادی حقوق جن میں تعلیم،صحت اور انصاف شامل ہیں وہ آج تک میسر نہیں۔سرکاری اداروں میں معیاری تعلیم میسر نہیں حکومتیں اعلانات کے باوجود سرکاری ملازمین تو دور اپنے اساتذہ کے بچوں کو گورنمنٹ اداروں میں داخلے کے پابند نہ کر سکے اور ایک نصاب نہ دے سکے۔صحت کے لیے سرکاری ہسپتالوں کی کمی اور آٹے سے دوائی تک کوئی چیز خالص میسر نہیں۔انصاف کا یہ حال ہے عدلتوں میں نسلوں تک کیس چلتے رہتے ہیں اور انصاف نہیں ملتا اس ظلم و نا انصافی کے نظام کو بدلنے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت اپوزیشن سے مل کرجو اگرچہ آزاد کشمیر میں ان چار سالوں میں کہیں نظر نہیں آئی تلاش سے مل جاے تو تعلیم،صحت اور انصاف کے نظام کی بنیاد رکھتے ہوئے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے جس میں یکساں نصابِ تعلیم اور معیاری سرکاری تعلیمی اداروں کی بنیاد اور سرکاری ہسپتالوں کو آبادی کے تناسب کے مطابق تمام سہولیات سے مزین کرنا اور انصاف کے ایسے نظام کیلئے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے جس میں فوری اور سستا انصاف میسر آسکے۔جس کے لیے ان شعبوں کے ماہرین کے بورڈ زقائم کیے جائیں جو ہر طرح کی سفارش اور سیاسی وابستگیوں سے بالاترہوں۔اُن کی سفارشات پر ہر آنے والی حکومت عملدرآمدیقینی بناے، 72سال گزرجانے کے باوجود بنیادی کام بھی شروع نہ ہو سکے، مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی باتیں اور دعوے فضول کی مشق ہو گی۔جو قیادت اتنا چھوٹا سے خطہ آئیڈیل نہ بنا سکے اُس سے کسی بڑے اقدام کی امید حماقت ہے 5 سال بعد حکومت کی کارکردگی کا موازانہ اور چند بہتر اقدامات سے تبدیلی نہیں آسکتی۔اب عوام کی تقدیر کو بدلنا ہو گا چہرے نہیں اس گلے سڑے نظام کو بدلنا ہو گا۔غریب عوام کے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔اُن کو بنیادی حقوق دینے ہوں گے جس کے لیے اب عوام کو بھی بیدار ہونا ہو گا۔خدا بھی ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کو نہ ہو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا۔72 سال گزر جانے کے باوجود اگر تعلیم،صحت اور انصاف میسر نہیں تو عوام کو اس سے کیا غرض کہ کس پارٹی کی حکومت ہے عوام کو چہرے، نعرے نہیں نظام کی تبدیلی چاہیے موجودہ حکومت کے پاس ایک سال بہت اہم ہے اگر اس نے حق ادا کر دیا تو سر خرو ہو گی ورنہ داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں۔۔۔۔۔



کرونا وائرس اور حکومتِ آزاد کشمیر کا کردار


کرونا وائرس اور حکومتِ آزاد کشمیر کا کردار شفقت ضیاء کرونا وائرس نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اپنی طاقت کا گھمنڈ رکھنے والی نام نہاد سپر پاور تمام تر کوششوں کے باوجود بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔لاکھوں انسان متاثر ہیں اور دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔واحد علاج لاک ڈاؤن سمجھنے والے اب بھوک کے خوف میں مبتلا ہیں تمام راستے بند نظر آتے ہیں اور جب سارے راستے بند ہو جائیں تو خدا کو نہ ماننے والے بھی َ اُسی کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔آج بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کے اپنے حالات پتلے ہیں ایسے وقت میں جس طرح کی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے وہ مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔مسلمان ممالک میں ایسے حکمران مسلط ہیں جو اس کے اہل نہیں جس کی وجہ سے آزمائش کے اس موقع سے باہر نکلنے کے بجائے مزید ذلت و خواری ہی امت مسلمہ کے مقدر میں نظر آتی ہے دنیا میں اس وائرس کی تباہی کے مقابلے میں پاکستان تا حال کافی حد تک بچا ہوا ہے جو تباہی آئی بھی وہ بر وقت لاک ڈاؤن نہ کرنے کی وجہ سے آئی ہے۔وزیرِاعظم پاکستان پہلے دن سے کنفیوز نظر آتے ہیں اور آج تک کوئی واضح پالیسی دینے میں ناکام ہیں۔تقریریں بہت کی لیکن کوئی واضح لائحہ عمل نہ دے سکے۔لاک ڈاؤن کرتے بھی رہے اور انکار ی بھی رہے جس کی وجہ سے لاک ڈاؤن بے معنی ہوا محض معاشی نقصان کا باعث بنا۔البتہ بیرونی امداد ضرور ملی صوبائی حکومتوں میں سندھ کا بہتر رول رہا لیکن وہ بھی اس صورتِ حال میں مرکز کے تعاون نہ کرنے پر شکوے کرتے دیکھائی دی تاہم ایسے میں حکومتِ آزاد کشمیر نے بروقت اور درست فیصلہ کرتے ہوئے فوری انٹری پوائنٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ یہ کافی مشکل کام تھا چونکہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں لوگوں کا آنا جا نا ایسے ہے جیسے ایک گھر سے دوسرے میں ہوتا ہے۔ لیکن وزیرِ اعظم فاروق حیدر نے یہ مشکل فیصلہ کر کے آزاد کشمیر کو تباہی سے بچانے میں اہم کردار اداکیا۔اس کے باوجود جو کیسز آئے وہ بدقسمتی سے انتظامی کمزوریوں کی وجہ بنے انٹری پوائنٹ سے چور راستوں سے آنے والوں کو روکنے کا اہتمام نہیں کیا گیا اور پولیس نے بھی مٹھی گرم کر کے لوگوں کو آنے دیا لیکن مجموعی طور پر حکومت آزاد کشمیر کا کردار اس حوالے سے قابلِ ستائش ہے مگر ابھی چونکہ وائرس ختم نہیں ہو اہے،نرمی جس طرح سے کی جارہی ہے اس سے خطرہ بڑھ رہا ہے۔اس لیے گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کرونا وائرس کی وجہ سے جو لاک ڈاؤن کیا گیا اس سے دنیا بھر کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا پاکستان جو پہلے ہی معاشی طور پرتباہ حالی کا شکار تھا وہ زیادہ متاثر ہوا۔حکومت کی طرف سے زیادہ کمزور طبقے کو جنہیں بینظیر انکم سپورٹس پروگرام سے مدد کی جاتی تھی مزید اضافے کے ساتھ احساس پرگرام کے ذریعے 12ہزار کے حساب سے دئیے جو کسی حد تک غریب عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنا ہے لیکن حقیقت میں یہ بہت کم ہیں آزادکشمیر حکومت نے اس کے سوا سرے سے کچھ نہ کیا فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات نے جو کردار ادا کیا وہ قابلِ ستائش ہے جس نے ایک بار پھر زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔آزاد کشمیر میں بھی فلاحی تنظیموں اور دردِ دل رکھنے والے افراد نے ہر گاؤں اور شہر میں دیہاڑی دار اور کمزور طبقے تک پہنچنے میں کوئی فرق نہیں چھوڑا لیکن سفید پوش طبقہ آج سب سے زیادہ متاثر ہے اور آزاد کشمیر میں یہی طبقہ سب سے زیادہ ہے حکومتِ کا اس حوالے سے کردار انتہائی مایوس کن ہے بلکہ ایسے محسوس ہوتا ہے حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے کسی شعبے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا لاک ڈاؤن کھول کر شہروں میں عوام کو عید کی شاپنگ پر لگا دیا گیا جس میں کوئی احتیاتی تدبیر نظر نہیں آرہی۔کپڑے جوتے اس عید کے موقع پر لینے پہ پابندی ہونی چائیے جو اقدامات کر کے عوام کو معاشی مشکلات سے دوچار کیا گیا وہ سب عید کی تیاریوں کی نذر کرتے ہوئے برباد کیا گیا۔اللہ نہ کر ئے لیکن یہ تباہی کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔ایسے میں صرف پبلک ٹرانسپوٹ اور باربرز کوپا بند کرنے کے کیا معنی ہیں؟ان کو بھی حصہ ڈالنے دیا جاتا تو کیا قیامت آجاتی؟رہا شعبہ تعلیم تو وہ ہماری حکومتوں کی کبھی بھی ترجیح نہیں رہا شعور پھیلنے سے ان کی عیاشیاں کو بند ہو جانا ہے۔سرکاری تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے والا یہی حکمران طبقہ ہے جس نے میرٹ کا جنازہ نکالا۔اپنی سیاست چمکانے کے لیے بھرتیا ں کرتے رہے اور معیارِ تعلیم پر توجہ نہ دی آج تک یکساں نصاب ِ تعلیم نہ دے سکے قوم کو طبقوں میں تقسیم کرکے رکھا ہوا ہے تین طرح کے نظامِ تعلیم چل رہے ہیں ایک سرکاری تعلیم،دوسری پرائیویٹ تعلیم تیسری دینی تعلیم جبکہ دعوے بڑے بڑے کیے جا رہے ہیں لیکن حقیقت میں ان 72 سالوں میں تعلیم اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔آج سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈی بند پڑی ہیں غریب مریض ہسپتالوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر پرائیویٹ ہسپتالوں میں چیک کر رہے ہیں لیکن سرکاری میں نہیں آخر کیوں؟ سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین کو بھاری تنخواہیں مل رہی ہیں جبکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے جنھوں نے گرتے ہوئے معیارِ تعلیم کو سہارا دیا اس پر توجہ کیوں نہیں ہے کیا اب انہیں تباہ کرنے کی ٹھان لی گئی ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین کے لیے فیسوں کی ادائیگی ان حالات میں مشکل ہو رہی ہے جو تین ماہ سے بند ہیں اور سرمائی سکول تو پانچ ماہ سے بند ہیں اور ان لوگوں کے روزگار بھی بند ہیں لیکن حکومت نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے جو عوام کے خون پسینے سے چلتی ہے اُس کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے کہ نہیں؟اس مشکل وقت میں وہ اپنی ذمہ داریوں سے کیوں غافل ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ہزاروں اساتذہ کرام تو انتہائی سفید پوش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو بہت ہی محدود سی تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں۔ان کو تنخواہیں نہیں مل رہی اور اطلاعات کے مطابق بہت سارے اساتذہ اور سٹاف کو فارغ کیا گیا ہے جو ظلم ہے جس کی ذمہ دار حکومت بھی ہے۔حکومت کوکردار ادا کرناچاہیے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے مل کر ایسا درمیانہ راستہ نکالا جائے کہ والدین پر بھی بوجھ کم سے کم ہو اور پرائیویٹ اداروں کے ضروری اخراجات اور تنخوائیں ادا ہو سکیں۔والدین اساتذہ کے درمیان سرد جنگ ٹھیک نہیں ہے سوشل میڈیا پر تعلیم جیسے مقدس پیشے سے وابستہ افراد کی تذلیل مافیا کہہ کر کی جا رہی ہے۔کرونا وائرس تو ختم ہو جائے گا لیکن قوم کا مستقبل تباہ ہو گیا تو نسلیں بھکتیں گی اس لیے تعلیم کے ساتھ مذاق بند کیا جائے پہلی ترجیح میں ان تعلیمی اداروں کو بحال کرنے کی منصبوبہ بندی کی جائے۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے نکالے گئے اساتذہ کو بحال کرایا جائے فیسوں کے معاملے کو مشاورت سے حل کیا جائے۔۸ کروڑ کی نئی گاٹیاں خریدنے کے بجائے اس شعبے کی مشکلات حل کرنے پر لگاے جائیں۔پرائیویٹ اداروں کی ایسوسی ایشن کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے پاکستان کی طرح کم ازکم ۰ ۲فیصد رعایت فیسوں میں کی جاے اور اس سال مارچ میں جو فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے وہ اس سال کے لیے واپس لیاجاے مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو دئیے گئے ریلیف سے اللہ برکت اوراجر دے گا حکومت غریب عوام کے بجلی بلات معاف کرے۔چھوٹے کاروباری طبقے کو بلاسود قرض دیے جائیں۔ٹیکس معاف کیے جائیں اور تمام متاثرہ درمیانی طبقے کے لیے ریلیف کا اہتمام کرے جس کے لیے اگر وسائل کی کمی ہے تو ترقیاتی بجٹ کو لگا دیا جائے تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہمیں اپنے گناہوں سے معافی کے سہنری موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے ظلم و ناانصافی کے نظام کے خاتمے کا عزم کرناہو گا ورنہ اس طرح کے عذاب ا ور آزمائشیں آتی رہیں گی اور ہم مشکلات سے دوچار ہوتے رہیں گے۔چونکہ خدا کھبی ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کو نہ ہو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔



رمضان نیکیوں کا موسم بہار


رمضان نیکیوں کا موسم بہار شفقت ضیاء اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنی زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ نصیب کیا جس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔ جو نیکیوں کا موسم بہار ہے ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس نے دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے نام نہاد سپر پاور اور اس کے چیلے چانٹے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں تما م تر تدابیر کے باوجود لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور ہزاروں زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ جن کو اپنی معاشی طاقت پرناز تھا وہ بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔ محسن انسانیت ﷺ نے 14سو سال پہلے جو ہدایات دی تھی ان کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں صفائی کو ایمان کا حصہ، پانچ وقت وضو، ہاتھ، منہ، ناک کو اچھی طرح صاف رکھنا اور اپنے آپ کو وباء سے بچانے کے لیے ایسے علاقے میں نہ جانا اور ایسے علاقے کو نہ چھوڑ نا شامل ہے ایسے میں اس آزمائش سے نکلنے کے لیے رمضان المبارک جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ نبی مہرباں ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ گویا نیکیاں کمانے کا سنہری موقع ہے جس نیکی کے دروازے سے جنت میں جانا چاہتے ہو وہ کر لو سب دروازے کھولے ہیں۔ بنی مہربان ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ تو اس کے وہ سب گنا ہ معاف کر دیے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزرد ہوئے ہیں اور جس نے رمضان میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ قصور جواس نے پہلے کئے ہوں گے اور جس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ سب گناہ جو اس نے پہلے کیے ہو ں گے۔ احتساب سے مراد تمام نیک اعمال میں ٖصرف اللہ کی رضا اور اسی سے اجر کا امیدوار ہو نا ہے یہی وجہ ہے کہ روزے کو دیگر عبادات سے بڑھ کر اجر و ثواب کا ذریعہ کہا گیا ہے جس میں دکھاوے کا امکان نہیں بلکہ روزے دار اور اللہ کو اس کا علم ہو تا ہے نبی مہربان ﷺ نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی د س گنا تک اور دس گنی سے سات سو گنی تک بڑھائی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، بدقسمت ہو گا وہ شخص جو اس موقع سے کما حقہ فائدہ نہ اٹھا سکے جب اللہ کی رحمت پورے جوبن پر ہے ہر نیک کام کا اجر و ثواب بڑھ چکا ہے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ رب کریم اپنے بندوں کو معافی اور اجر و ثواب کے بہانے تلاش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ بنی مہرباں ﷺنے تین با ر آمین کہا تو صحابی ؓ نے پوچھا ہمیں کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آیا آپ نے خلاف معمول آمین کہا ہے تو آپ ؐ نے فرمایا جبرائیل ؑ آئے تھے اور دعا کر رہے تھے وہ شخص تباہ ہو گیا جس کی زندگی میں رمضان المبارک آیا اور وہ اپنی مغٖفرت حاصل نہ کر سکا میں نے کہا آمین دوسری بار کہا وہ شخص بھی تباہ ہو گیا جووالدین کی خدمت کر کے جنت نہ پا سکا جس پر میں نے کہاآمین اور تیسری بار فرمایا جس کے سامنے میرا نام نامی محمد ﷺ لیا گیا اور مجھ پر درود نہ پڑھا۔جس پر میں کہا آمین بس ثابت ہوا جو دعا جبرائیل نے کی ہو اور جس پر محمد ﷺ نے آمین کہا و ہ دعا قبول ہو گی اس کی قبولیت پر شک نہیں بس ہمیں اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کیلئے رمضان المبارک کو ایسا گزارنا ہو گا کہ بخشش کا سامان حاصل کر لیا جائے۔ اللہ نے قرآن مجید میں رمضان المبارک کو قرآن کا مہینہ قرار دیا ہے جس میں قرآن نازل ہو ا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کر تے ہیں روزہ کہتا ہے کہ اے رب میں نے اس کو دن بھر کھانے پینے سے شہوت سے روکے رکھا تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما اور قرآن کہتا ہے کہ میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما بس دونوں کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی۔ اس لیے اس مہینہ میں قرآن سے خصوصی تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا اصل مقصد ہے اس ماہ میں آغاز کر لیا جائے اور اس بات کا عزم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو سمجھتے ہوئے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈالنے کی کوشش کرنی ہے آج قرآن سے دوری کی وجہ سے امت مسلمہ ذلت اور آزمائش سے دوچار ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے زندگی کے ہر شعبہ میں قرآن رہنمائی کرتا ہے لیکن ہماری انفرادی و اجتماعی زندگیاں اس سے خالی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پڑھنے کا بہت اجر و ثواب ہے بلخصوص رمضان المبارک میں اس کا اجر تو اور بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے اس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جانی چاہیے لیکن اس کا اصل مقصد ہدایت لینا ہے جس کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے پھر اس کو آئینہ کی طرح سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ڈالنا ہوگا قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہمیں انسانوں کا خیال رکھنے ان کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا درس ملتا ہے آج کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں ان کی مدد زکوۃ کے علاوہ صدقات کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ کرنا ہوگی روزہ کا ایک مقصد لوگوں کا احساس پیدا کرنا بھی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو بھوکا پیا سا رکھنے سے کیا حاصل کرنا تھا اس کے خزانوں میں کسی کی کمی تو نہیں آنی تھی اس لیے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اس ماہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اس لیے اس کی پلاننگ پہلے دن سے ہی کر لینی ہو گی تا کہ کوئی لمحہ ضائع نہ ہو جائے۔دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے جہاں انسانیت کی خدمت پر خصوصی توجہ دی جائے وہاں اللہ کو یاد کرنے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ آنے والے گیا رہ ماہ کو بھی اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا عزم کرنا ہو گا۔ اگر اس ماہ سے درست طور پر استفادہ کیا گیا تو آئندہ آنے مہینوں میں اس کے اثرات نظر آئیں گے ورنہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق بہت سارے روزے دار ایسے ہیں جنہیں بھوک پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو تا اللہ نہ کر ے ہم ایسے لوگوں میں شامل ہو ں بلکہ نیکیوں کے اس موسم بہار میں اپنے دامن کو بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین



رمضان نیکیوں کا موسم بہار


رمضان نیکیوں کا موسم بہار شفقت ضیاء اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنی زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ نصیب کیا جس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔ جو نیکیوں کا موسم بہار ہے ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس نے دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے نام نہاد سپر پاور اور اس کے چیلے چانٹے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں تما م تر تدابیر کے باوجود لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور ہزاروں زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ جن کو اپنی معاشی طاقت پرناز تھا وہ بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔ محسن انسانیت ﷺ نے 14سو سال پہلے جو ہدایات دی تھی ان کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں صفائی کو ایمان کا حصہ، پانچ وقت وضو، ہاتھ، منہ، ناک کو اچھی طرح صاف رکھنا اور اپنے آپ کو وباء سے بچانے کے لیے ایسے علاقے میں نہ جانا اور ایسے علاقے کو نہ چھوڑ نا شامل ہے ایسے میں اس آزمائش سے نکلنے کے لیے رمضان المبارک جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ نبی مہرباں ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ گویا نیکیاں کمانے کا سنہری موقع ہے جس نیکی کے دروازے سے جنت میں جانا چاہتے ہو وہ کر لو سب دروازے کھولے ہیں۔ بنی مہربان ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ تو اس کے وہ سب گنا ہ معاف کر دیے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزرد ہوئے ہیں اور جس نے رمضان میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ قصور جواس نے پہلے کئے ہوں گے اور جس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ سب گناہ جو اس نے پہلے کیے ہو ں گے۔ احتساب سے مراد تمام نیک اعمال میں ٖصرف اللہ کی رضا اور اسی سے اجر کا امیدوار ہو نا ہے یہی وجہ ہے کہ روزے کو دیگر عبادات سے بڑھ کر اجر و ثواب کا ذریعہ کہا گیا ہے جس میں دکھاوے کا امکان نہیں بلکہ روزے دار اور اللہ کو اس کا علم ہو تا ہے نبی مہربان ﷺ نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی د س گنا تک اور دس گنی سے سات سو گنی تک بڑھائی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، بدقسمت ہو گا وہ شخص جو اس موقع سے کما حقہ فائدہ نہ اٹھا سکے جب اللہ کی رحمت پورے جوبن پر ہے ہر نیک کام کا اجر و ثواب بڑھ چکا ہے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ رب کریم اپنے بندوں کو معافی اور اجر و ثواب کے بہانے تلاش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ بنی مہرباں ﷺنے تین با ر آمین کہا تو صحابی ؓ نے پوچھا ہمیں کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آیا آپ نے خلاف معمول آمین کہا ہے تو آپ ؐ نے فرمایا جبرائیل ؑ آئے تھے اور دعا کر رہے تھے وہ شخص تباہ ہو گیا جس کی زندگی میں رمضان المبارک آیا اور وہ اپنی مغٖفرت حاصل نہ کر سکا میں نے کہا آمین دوسری بار کہا وہ شخص بھی تباہ ہو گیا جووالدین کی خدمت کر کے جنت نہ پا سکا جس پر میں نے کہاآمین اور تیسری بار فرمایا جس کے سامنے میرا نام نامی محمد ﷺ لیا گیا اور مجھ پر درود نہ پڑھا۔جس پر میں کہا آمین بس ثابت ہوا جو دعا جبرائیل نے کی ہو اور جس پر محمد ﷺ نے آمین کہا و ہ دعا قبول ہو گی اس کی قبولیت پر شک نہیں بس ہمیں اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کیلئے رمضان المبارک کو ایسا گزارنا ہو گا کہ بخشش کا سامان حاصل کر لیا جائے۔ اللہ نے قرآن مجید میں رمضان المبارک کو قرآن کا مہینہ قرار دیا ہے جس میں قرآن نازل ہو ا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کر تے ہیں روزہ کہتا ہے کہ اے رب میں نے اس کو دن بھر کھانے پینے سے شہوت سے روکے رکھا تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما اور قرآن کہتا ہے کہ میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما بس دونوں کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی۔ اس لیے اس مہینہ میں قرآن سے خصوصی تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا اصل مقصد ہے اس ماہ میں آغاز کر لیا جائے اور اس بات کا عزم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو سمجھتے ہوئے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈالنے کی کوشش کرنی ہے آج قرآن سے دوری کی وجہ سے امت مسلمہ ذلت اور آزمائش سے دوچار ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے زندگی کے ہر شعبہ میں قرآن رہنمائی کرتا ہے لیکن ہماری انفرادی و اجتماعی زندگیاں اس سے خالی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پڑھنے کا بہت اجر و ثواب ہے بلخصوص رمضان المبارک میں اس کا اجر تو اور بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے اس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جانی چاہیے لیکن اس کا اصل مقصد ہدایت لینا ہے جس کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے پھر اس کو آئینہ کی طرح سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ڈالنا ہوگا قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہمیں انسانوں کا خیال رکھنے ان کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا درس ملتا ہے آج کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں ان کی مدد زکوۃ کے علاوہ صدقات کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ کرنا ہوگی روزہ کا ایک مقصد لوگوں کا احساس پیدا کرنا بھی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو بھوکا پیا سا رکھنے سے کیا حاصل کرنا تھا اس کے خزانوں میں کسی کی کمی تو نہیں آنی تھی اس لیے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اس ماہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اس لیے اس کی پلاننگ پہلے دن سے ہی کر لینی ہو گی تا کہ کوئی لمحہ ضائع نہ ہو جائے۔دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے جہاں انسانیت کی خدمت پر خصوصی توجہ دی جائے وہاں اللہ کو یاد کرنے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ آنے والے گیا رہ ماہ کو بھی اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا عزم کرنا ہو گا۔ اگر اس ماہ سے درست طور پر استفادہ کیا گیا تو آئندہ آنے مہینوں میں اس کے اثرات نظر آئیں گے ورنہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق بہت سارے روزے دار ایسے ہیں جنہیں بھوک پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو تا اللہ نہ کر ے ہم ایسے لوگوں میں شامل ہو ں بلکہ نیکیوں کے اس موسم بہار میں اپنے دامن کو بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین



اقتدارکا بیانیہ


اقتدارکا بیانیہ شفقت ضیاء آزادی انسان کا بنیادی حق ہے طاقت کے زور پرا س حق کو چھینے والا ظالم ہے خواہ وہ فرد ہو یا ملک یاقوم ہوظالم کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے کردارادا کرنا ہر مسلمان کے لیے فرض ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ا ن بے بس مردوں،عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے ہوجو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں اورفریاد کررہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی اور مدد گار پیدا کردے۔کشمیر کے مسلمان بہتر سال سے ہندو کے ظلم کا شکار ہیں دنیا کی جنت النظیر وادی خون سے لہو لہو ہے عفت مآ ب خواتین کی عصمتیں تارتار ہیں بچوں کی چیخیں ہیں ظلم کا یہ سلسلہ بند ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرگیا ہے مقبوضہ کشمیر جیل کا نقشہ پیش کررہا ہے ایسے میں کشمیری 71 واں یوم حق خوداراردیت منارہے ہیں دنیا میں امن کے ٹھیکداروں کے دوہرے کردا رکا ماتم کررہے ہیں جو انسانوں کے حقوق کے علمبردار ہیں جن کے نزدیک جانورکی بھی قدر ہے بس انھیں نظر نہیں آرہا تو وہ کشمیریوں کا لہو ہے وہ ظلم ہے جو مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے اکہتر سال سے ان سے کیا ہوا وعدہ جو اقوام متحدہ نے اس وقت کیا تھا جب ظالم ہندوستان خود اس مسئلے کو لے کرگیا تھا ورنہ مجاہدین کشمیر اپنی منزل کے قریب تھے بزدل ہندو جواہر لال نہرو کے بھیک مانگنے پر اسے مہلت دی گئی اور سلامتی کونسل نے قراداد پاس کی مگروہ وعدہ ایفا نہ ہوسکا جس نے ثابت کیا کہ اقوام متحدہ نہ مسلمانوں اور نہ مظلوموں کے لیے ہے بلکہ یہ صرف مسلمانوں کے خلاف اور ظالموں کا حمایتی ہے دنیا بھر میں اس کا کردار ایسا ہی ہے بالخصوص کشمیر اور فلسطین میں اس کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے پھر بھی اس سے امیدیں رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں بدقسمتی سے مسلمان ممالک میں بھی ان کے پٹھو حکمران ہیں ستاون اسلامی ممالک کا کردار بھی مایوس کن ہے ان کی تنظیم او آئی سی کے مقاصد بھی پورے نہ ہوسکے جس کی وجہ سے ان ممالک کی قیادت ہے جو امریکہ کی غلام ہے جن کے وسائل پر ان کا کنٹرول ہے مسلمان ممالک لیڈر شپ کی وجہ سے مار کھارہے ہیں ایسے میں کشمیریوں کی کھل کر حمایت کرنے والے ترقی،ملائشیاجیسے ممالک کی کانفرنس میں وعدے کے باوجود پاکستان کا ٹیپو سلطان امریکہ اور سعودی عرب کی ناراضگی کی وجہ سے شرکت نہ کرسکا۔جبکہ ایران کی جراء ت مند قیادت کو کچلنے کے لیے امریکہ سرگرم ہو گیا ہے مسلمان ممالک ایک جسم کی مانند بننے کے بجائے ایک دوسرے کو مٹانے کے درپے ہیں ایسے میں کشمیریوں کی حمایت کی توقع بیرون دنیا سے کرنا حماقت ہی ہوسکتی ہے کشمیریوں کا وکیل پاکستان جس کے حق میں کشمیریوں نے اس کے وجود میں آنے سے پہلے فیصلہ دے دیا تھا اس کے حکمرانوں کا کردار بھی ہمیشہ مایوس کن رہا ہے موجودہ حکومت نے اسی امریکہ سے توقعات وابستہ کررکھی ہیں اور اس کی ثالثی کی پیش کش کو کافی سمجھ لیا ہے اور کشمیری مجاہدین کے راستوں کو بھی بند کردیا ہے جمعہ کوآدھے گھنٹے کاا حتجاج کا اعلان تیسرے جمعہ تک نہ جاسکا۔ کشمیری اس حکومت سے کیا امید رکھ سکتے ہیں جو اپنے عوام سے کیا گیا کوئی وعدہ پورا نہ کرسکی مہنگائی کا ایک طوفان بپا کردیا گیا جس سے زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں نئے سال کے آغاز پر بجلی،گیس،پٹرول کے ساتھ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔جس سے مہنگائی دس سال کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے تعمیر وترقی تو دور رہی غریب عوام کوپیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور کردیا گیا ہے غریبوں کی چیخیں ہیں اور حکومت اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اسی قانون سازی کررہی ہے جو اقتدار سے پہلے اس کے بیانیہ مختلف ہے چوروں،ڈاکوؤں کو نہ چھوڑنے کے اعلانات اور وعدے بھی اب ہوا میں تحلیل ہوگئے جب ہوا کار خ اپنی ہی حکومت کی طرف آتے دیکھا تو نیب قوانین بھی تبدیل کرنا ضروری ہوگئے۔اب بزنس مین اور بیوروکریٹس کو احتساب سے نکالنا ترقی کے لیے ضروری ٹھہرا۔بیرون ممالک سے قرض کی بھیک مانگ کر اب ان کے اشاروں پر چلنالازم ٹھہرا۔آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر قرض لیکر اب عوام کی درگت نکالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا عوام دشمن پالیسیوں میں اپوزیشن بھی خاموش ہے وہ بھی اپنے بیانیہ سے دور ہوچکی ہے نوازشریف کی جگہ شہباز شریف کا بیانیہ آگیا ہے جو مصلحتوں کا شکار ہے مریم نواز نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے یا رکھوا لیا گیا ہے۔بلاول بھٹو کسی حدتک اپنا کردار ادا کررہے ہیں باقی مجموعی طور پر خاموشی ہے جو اپنے مفادات اور مصلحتوں کا شکار ہے کشمیرایشوپر جماعت اسلامی کی طرف سے احتجاجی مارچ کے علاوہ خاموشی ہے وہ بھی ماضی کے مقابلے میں اپنے بیانیہ میں مصلحت کا شکار ہے ایسے میں کشمیری مسلمانوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اللہ کی مدد سے 1947 ء میں جس جذبے سے جہاد کے لیے نکلے تھے اٹھ کھڑے ہوں۔انقلابی حکومت کا کردار ادا کیا جاے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے پاس تو اب کوئی اور آپشن نہیں ہے قربانیوں کی تاریخ رقم کرچکے ہیں اب آخری سانس تک لڑنے کہ سواء کوئی چارہ نہیں ہے دنیا بہری،گنگی،اندھی اور نابنیا ہوچکی ہے مسلمان ممالک کے حکمران یہودیوں کے ایجنڈ بن چکے ہیں اور پاکستان کے حکمران جنہوں نے وکیل کا کردار ادا کرنا تھا وہ بھی اپنا کردار ادا نہیں کررہے ایسے مشکل حالات میں آزادکشمیر کے عوام جھنوں نے سینتالیس میں نمایاں کردار ادا کیا تھا ان کا ظلم کے خلاف خاموش رہنا ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے اس لیے بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمرانوں کو جگانے کا اہتمام بھی ہونا چاہیے اور اس جہاد میں اپنے حصے کا کردار بھی ادا کرنا چاہیے حکومت پاکستان اور اپوزیشن کا بیانیہ اقتدار ہے یہ اقتدارکے پجاری ہیں یہ صرف جماعتیں بدلتے ہیں چہرے وہی ہیں ان کا کام عوام کو بے وقوف بنانا ہے جس کے لیے یہ جھوٹے وعدے اور اعلانات کرتے ہیں اور پھر وعدوں اور اعلانات سے روگردانی کرنے کو یوٹرن سے موسوم کرتے ہیں



قوم کا شاندار مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے


قوم کا شاندار مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے شفقت ضیاء تعلیم ایک ایسی روشنی ہے جس سے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ عرب کے اندھیروں میں اوجالا دنیا نے دیکھا جاہل اور بد بودار معاشرے سے خوشبو ایسی پھیلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے چار سو معطر ہو گئی جب تک تعلیم سے رشتہ مضبوط رہا مسلمان دنیا میں امام رہے اس نور سے ہر قوم نے فائدہ اٹھایاپھر اپنوں اور غیروں کی سازشوں نے علم سے دور کیازلت وپستی مقدر بنی قوم کے بجائے ہجوم بنتے گئے۔ 72سال گزر جانے کے باوجود جو پاکستان نظریے کی بنیاد پر بنا تھا جسے دنیا کی امامت کرنی تھی یکساں تعلیمی نظام نہ دے سکا آج امیروں کے لیے الگ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جہاں بھاری بھرکم فیسیں ہیں آکسفورڈ کا نصاب ہے ایک پلے گروپ کے طالب علم کی فیس سے کہیں گھروں کا ماہانہ نظام چلتا ہے دوسری طرف سرکاری سکولز ہیں جو غریبوں کے بچوں کے لیے ہیں جس میں کوئی معیار نہیں اور نہ ہی کسی کی دلچسپی ہے جبکہ تیسرا نظام تعلیم مدارس میں پڑھایا جاتا ہے یوں حکمران ہمیشہ دعوے کرتے ہوئے آتے ہیں اور کچھ کیے بغیر اپنا وقت پورا کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت نے بھی بڑے دعوے اور وعدے کیے تھے لیکن جس طرح دوسرے شعبے میں کچھ نہ ہو سکا اس شعبہ میں بھی سمت درست نہ ہو سکی وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں یونیورسٹیاں بنانا تو دور رہا اب یونیورسٹیوں میں نئی پالیسی سے بھاری فیسیں ادا کرنا غریب طالب علم کے بس کا رو گ نہیں رہا۔ آنے والے عرصے میں تعلیم حاصل کرنا خواب بن رہا ہے نصاب تعلیم تبدیلی تو دور کی بات اب ایسا کلچر پروان چڑھایا جا رہا ہے جو مغربی ہے جس میں فحاشی عریانی ہے،جس سے ملک مزید تبائی کی طرف جائے گا جس میں میڈٰیابھی خوب کردار ادا کر رہا ہے ایسے میں سنجیدہ حلقوں کو سنجیدگی سے غورکرنا ہو گا آزاد کشمیر چھوٹا سا خطہ ہے جس کا کلچر روایات اچھی ہیں۔ جس کا تعلیمی تناسب 77فیصد ہے۔جو پاکستان سے بہت اچھا ہے 6ہزار سے زیادہ تعلیمی ادارہ جات ہیں لیکن سرکاری اداروں کا معیار نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ ادارے تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں غریبوں کے بچوں کو بہتر تعلیم میسر نہ ہونے سے طبقاتی نظام بڑھ رہا ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے نصاب اور معیار تعلیم پر توجہ نہیں دی بلکہ میرٹ کو بری طرح پامال کیا جس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں تبائی آئی قومی خزانے کا زیادہ حصہ شعبہ تعلیم پر لگنے کے باوجود نتائج اچھے نہیں آرہے ہیں۔جس پر حکومتیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں دکھاتیں موجودہ حکومت کی طرف سے چند اچھے اقدامات اٹھائے گے ہیں جس میں ا ین ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ نمایاں ہے گو کہ اس میں بہتری کی مزید گنجائش موجود ہے تاہم ماضی کے مقابلے میں بہتری آئی ہے لیکن گزشتہ دنوں پی ایس ای ممبران کی طرف سے مدت ختم ہونے پر جاتے جاتے اپنے رشتہ داروں کو نوازنے والی خبر کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے ورنہ حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اسی طرح این ٹی ایس کے جو دس نمبرات ہیں اس کی وجہ سے آئے روز ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جس سے میرٹ میں بڑی تبدیلی لائی جاتی ہے جس کا خاتمہ ضروری ہوگیا ہے جس پر حکومت کو نوٹس لیتے ہوئے تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ان نمبرا ت کو تعلیمی کئیریر میں بدلینا چاہیے۔ اساتذہ تعلیم جیسے مقدس شعبہ سے وابستہ ہیں جو انبیاء کا پیشہ ہے حضورﷺ کا فرمان عالی شان ہے مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے اس لیے اس کا پاس رکھنا چاہیے کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکومت کو اساتذہ حاضری نہ ہونے ٹھیکہ سسٹم ختم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں بائیو میٹرک مشینیں لگانی پڑی ہیں تاکہ حاضری یقینی بنائی جاسکے پھر اس سے بھی بڑا ظلم یہ کہ کچھ سکولوں میں ان مشینوں کو خراب کردیا گیا تھا تاکہ حاضری سے جان چھوٹ جائے اور گھر بیٹھ کر حرام کھایا جائے انھیں محض چند ہزار کے جرمانے کرنے کا حکومتی اقدام بھی درست نہیں ہے انھیں ملازمت سے فارغ کیا جانا چاہیے جنہوں نے جان بوجھ کر ایساکیا ہے یہی محدود سے ایسا طبقہ ہے جواس مقدس شعبہ کو بدنام کررہا ہے۔یہی تعلیمی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ موجودہ حکومت نے ایسے تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا جن میں مطلوبہ تعداد نہیں ہے اس طرح سب سے اہم اقدام جس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری کے نمایاں امکانات ہیں وہ ملازمین کے بچوں کی سرکاری تعلیمی اداروں میں لازمی تعلیم ہے جس پر اساتذہ تنظیموں کی طرف سے احتجاج کی دھمکی بھی آئی تھی اور مذاکرات کی بات بھی سامنے آئی تھی حکومت کو اس پر کسی صورت گھٹنے نہیں ٹیکنے چاہیے یہ ایسا اقدام ہے جس سے قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے اور اس سے شعبہ تعلیم کی کامیابی کا انحصار ہے ماضی میں بھی حکومتیں احتجاجی دھمکیوں،ووٹ سے محرومی کے خوف کی وجہ سے ایسے اقدامات سے گریز کرتی رہی ہیں جس کا نتیجہ سرکاری تعلیمی اداروں کی تباہی کی صورت میں نکلا ہے اب یا کھبی نہیں کی صورتحال ہے حکومت کو اس پر ہر صورت عملدرآمد کراناچاہیے۔ بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں میں سرکاری اساتذہ کرام کے بچوں کی تعلیم حاصل کر نے کے اعلان پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے بلکہ اگلے مرحلے میں تمام سرکاری ملازمین کو بھی پاپند کیا جانا چاہیے جب اساتذہ کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں آجائیں گے تو پھر معیار بہتر ہوجائے گا بلکہ آنے والے وقتوں میں سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ ملنا مشکل ہوجائے گا کون پاگل ہوگا؟جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھاری فیس دے گا اگر وہی معیاری تعلیم سرکاری اداروں میں ملے گی موجودہ وقت میں آزادکشمیر میں بعض سرکاری کالجز ایسے ہیں جن میں بچوں کو داخلہ ملنا مشکل ہوگیا ہے ان کالجز میں کیپٹن حسین شہید کالج راولاکوٹ بھی شامل ہے جس کی ماڈل کلاس میں ایک ہزار سے زائد نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کو داخلہ ملتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کام کیا جائے تو بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں تاہم حکومت کی طرف سے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے سرکاری تعلیمی اداروں میں سٹاف کی قلت کی شکایات ہیں بعض تعلیمی اداروں کی بلڈنگ نہیں ہیں پرائمری سکول میں پچیس طلبہ تک کو ایک استاد دینا بھی درست نہیں چونکہ مختلف کلاسز کے بچے ہوتے ہیں ایک معلم حق ادا نہیں کرسکتا کم ازکم دومعلم ہونے چاہیے سرکاری تعلیمی اداروں میں لیب اور لائبریریوں پر بھی توجہ درکار ہے پرائمری سکولز میں اگر اچھی تعلیم یافتہ معلمات تعینات کی جائیں توبہتری آئے گی بعض تعلیمی اداروں کے پاس کھیل کے میدان بھی نہیں ہیں جوا ٓج کی بڑی ضرورت ہیں صحت مندسرگرمیوں کے لیے سہولتیں دی جائیں اگر سرکاری تعلیمی اداروں میں جو سہولتوں کی کمی ہے اسے پورا کرتے ہوئے تعلیمی پالیسی پر سختی سے عملدرآمدکرادیا گیا تو چند سال میں نقشہ بدل جائے گا اس کے ساتھ ہی حکومت کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام رکھناچاہیے چھوٹی چھوٹی دکانوں میں ادارے بن چکے ہیں معمولی تنخواہ پر کم تعلیم یافتہ ناتجربہ کار ٹیچرز بھرتی کی ہوئی ہیں لیب،لائبریوں اور کھیلوں کے میدان بہت کم پرائیویٹ اداروں کے پاس ہیں اسی طرح جس طرح کا کلچر دیا جارہا ہے اس پر سنجیدگی سے مل بیٹھ کر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا مجموعی طور پر بہت اچھا اور اہم کردار ہے ان کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے اور جو کمیاں ہیں انھیں دور کیا جانا چاہیے۔قوم کا مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے ہر باشعور فرد کو اس میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کا اقدام انتہائی قابل تحسین ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی اسے لازمی قرار دیا جانا چاہیے جو قرآنی تعلیم سے واقفیت رکھتے ہوں جن حالات سے ہماری نسل نو گزررہی ہے اس میں قرآنی تعلیم انتہائی ناگزیر ہوچکی ہے حکومت آزادکشمیر ان تعلیمی پالیسیوں پر عملد رآمد کرالیتی ہے تو قوم کا مستقبل شاندار ہے اور نیک نامی دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی ان سب لوگوں کو اجر ملے گا



طاقتور بچاؤ


طاقتور بچاؤ شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے کے لیے انبیاء علیہ الصلوۃ واسلام بھیجے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت لے کر آتے رہے آخر میں حضرت محمد ﷺ قرآن کی صورت میں اپنی کتاب ہدایت لے کر آئے جو رہتی دنیا تک راہ نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے جو لوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر، فاسق اور ظالم ہیں گویا اللہ کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کراپنے یا دوسرے انسانوں کے بتائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرنے والے دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کا اطلاق گھر سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک ہر صاحب حیثیت کے فیصلوں پر ہوتا ہے ملک پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا اس کا قانون قرآن و سنت کو سپریم کہتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس عدل ا نصاف والے نظام کو مکمل طور پر نافذ نہ کیا جا سکا۔ جس کی وجہ طاقتور اور امیرکی طرف سے رکاوٹیں ہیں چونکہ اسلام سب کو مساوی حقوق دیتا ہے اسلامی نظام ہو تو طاقتور کو بھی جرم پر وہی سزا ملے گی جو کمزور کو ملے گی تاکہ کوئی امیر مال کے زور پر انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکے یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقہ اس عدل والے نظام کو نافذ کرنے کے بجائے اس کے راستے کی رکاوٹ بنا ہوا ہے اگر کبھی کسی طاقتور کے خلاف فیصلہ آبھی جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے اور سارے جرائم پیشہ اٹھ کھڑے ہو جاتے ہیں جب غریب انصاف کے لیے ساری زندگی دھکے کھانے پر مجبور ہوتا ہے اپنی خون پسینے کی کمائی اور وقت سب کچھ لگا دینے کے باوجود اس زندگی میں انصاف حاصل نہیں کرپاتا یہ ظلم کا نظام ہے جس میں غریب اور مظلوم لوگوں کی آہیں اور سسکیاں آسمانوں تک جاتی ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات ظالم پکڑ میں آجاتے ہیں اور ان کی چیخیں دیدنی ہوتی ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی ہے اصل حصہ آخرت میں ہوتا ہے جہاں کوئی بھی ظالم بچ نہ پائے گا پاکستا ن اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام ہے جو کلمے کی بنیاد پر وجود میں آیا آج ہندوستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر یہ وجود میں آیا تھا وہ اس وقت کی قیادت کی دور اندیشی کا ثبوت ہے لیکن اگر پاکستان حقیقی اسلامی جمہوری پاکستان بن جاتا تو ساری دنیا کے مظلوم و محکوم عوام کو طاقت حاصل ہوتی،کشمیر میں ہونے والے مظالم پر یوں خاموشی نہ ہوتی جس کے باشندے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں سے نجات دلائی جائے لیکن دنیا خاموش ہے اور پاکستان کے حکمران بھی ان کے لیے کچھ کرنے کے بجائے اپنے اقتدار میں مگن ہیں ان مظلوموں کی بد دعائیں اور شہداء کے مقدس خون سے غداری کرنے والے اپنے انجام کوکچھ پہنچ چکے ہیں اور باقی بھی پہنچیں گے جنرل مشرف کو آئین توڑنے کے سنگین غداری کیس میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ ہے جس میں ایک طاقتور شخص کو سزاد ی گئی ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان جب اپوزیشن میں ہوتے تھے کہتے تھے دو نہیں ایک پاکستان بنائیں گے جس میں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہو گا۔جنرل مشرف نے سنگین غداری کا ارتکاب کیا ہے ان پر سیدھا آرٹیکل 6 لگتا ہے جس کی سزا پھانسی ہے آج جب عدالت نے فیصلہ دے دیا تو تحریک انصاف کی حکومت طاقتور کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے یہ ایسی حکومت ہے جس کے وزراء کی بڑی تعداد انہی لوگوں پر مشتمل ہے جو ماضی میں مشرف حکومت کا بھی حصہ رہے اس لیے وہ سارے لوٹے بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں قانون کو ان کے خلاف بھی حرکت میں آئے گا؟ کیا ان کی طرف سے توہین عدالت نہیں ہو رہی؟ یہ تو ایک چیف جسٹس کے دماغ پر سوالات اٹھا رہے ہیں اس لیے کہ شاید اتنا بڑا فیصلہ یا تو کوئی بڑے دل والا دے سکتا ہے یا دماغ میں کوئی مسئلہ ہو۔ جو بھی ہو حکومت کی طرف سے کھل کر سامنے آنے کا مطلب یہی ہے کہ عمران خان نے ایک اور بڑا یوٹرن لیا ہے کل تک چیف جسٹس پاکستان کو یہ کہنے والے کہ طاقتور کو قانون کچھ نہیں کہتا آج کہتے ہیں منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا جائے تو درست فیصلہ ہے اس لیے مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں جشن مناتے ہیں اور ڈکٹیٹر کے خلاف فیصلہ سے حکومت تکلیف محسوس کرتی ہے ایسا کیوں ہے؟ ماضی میں منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دی گئی قتل کر دیا گیا اس وقت بھی سیاستدان یا تو خاموش رہے یا جشن مناتے رہے لیکن ایک ایسے شخص کو سزا ملنے پر جس نے آئین وقانون ہی نہیں توڑا کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچایا مسجدوں کو تالے لگائے قوم کی ان بیٹیوں کو طاقت کے بل بوتے پر جلا کر رکھ دیا جو دین کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ ملک کو سیکولر بنانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے جو اتاترک کو اپناآئیڈیل سمجھتا تھا جس کے بارے میں جنرل حمید گل نے کہا تھا کہ اس نے ملک او ر قوم کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا۔ملک میں دو بار مارشل لاء۔ جامعہ حفصہ میں ظلم کیا، عافیہ صدیقی کو دشمن کے حوالے کیا، اکبر بکٹی کو قتل کیا، 12مئی کو درجنوں افراد قتل ہوئے اور کئی جرائم ہیں جوناقابل معافی ہیں تا ہم یہ بات بھی درست ہے کہ اس کے ساتھ شریک دیگر لوگوں کو بھی سزا ملنی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارا عدالتی نظام اور فیصلوں پر بھی کئی سوالات ہیں۔ ڈکٹیٹر کو تحفظ دینے والے اور ان کو قانونی جواز فراہم کرنے والے بھی بری الذمہ نہیں ہیں۔ یوں ماضی میں ہر ایک پر چپٹے نظر آتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضٰی میں سبق سے سیکھا جائے، تمام ادارے اپنا اپنا احتساب کریں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ ان سے دور رہنے کا عزم کریں اور ہر ایک اپنی حدود میں رہ کر کام کرے تو اس طرح کے مسائل نہیں ہو ں گے۔ سب سے بڑھ کر ملک کو جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا وہ نظام نافذ کیا جائے جب تک اسلام کا عادلانہ نظام نفاذ نہیں ہو گا افراتفری رہی ہے ملک اور قومیں انصاف سے چلتی ہیں۔ محسن انسانیت نے فرما یا ہے۔" تم سے پہلے قومیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ وہ طاقتور کو چھوڑ دیتی تھیں اور کمزور کو پکڑ دیتی تھیں۔ آپ ﷺ نے عملاً ایسا نظام لا کر بھی دنیا کو دیکھایا۔ صحابہ کرام ؓ کے دور میں غیر مسلم کو بھی انصاف ملتا تھا اور کہی فیصلے مسلم کے خلاف بھی ہوئے اس لیے مدینے کی ریاست کی باتیں کرنا تو آسان ہے لیکن عملاً وقت آنے پر ثبوت بھی دینا پڑتا ہے۔ طاقتور کے خلاف فیصلہ آنے پر سبق سیکھنا چاہیے،۔ ظلم نا انصافی کے اس نظام کے خاتمہ اور مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دے کر ہی نجات مل سکتی ہے ورنہ جنرل مشرف بھی بہت طاقتور ہوتا تھا تکبر اور غرور آخر مٹ جاتا ہے۔



ریاستی جماعتوں کا مستقبل


ریاستی جماعتوں کا مستقبل شفقت ضیاء ملک کی سیاست ہی نہیں تمام شعبہ زندگی زوال پذیرہیں جس کی وجہ سمت کا درست نہ ہو نا ہے ملک بنا تھا کہ اس کا نظام اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گا آئین بھی اسی کی بات کرتا ہے مگر عملاًکوئی بھی شعبہ اس کے مطابق نہیں ہے نظام تعلیم 72سال گزر جانے کے باوجود نہ یکساں ہو سکا اور نہ سمت کا تعین ہو سکا کہ ہم کیسی قوم تیارکرنا چاہتے ہیں امیرروز بروز امیر اور غریب، غریب تر ہو رہا ہے طاقتور اپنی طاقت اور سرمائے سے سب کچھ حاصل کرلیتا ہے اور غریب انصاف کے لیے دھکے کھانے پر مجبور ہے گزشتہ دنوں ڈبل گریجویٹس نے جس طرح ہسپتال پر حملہ کر کے اپنی تعلیم اور قانون کا مذاق بنایا اس سے ہر سنجیدہ اور پڑھے لکھے انسان کا سر شرم سے جھک گیا لیکن ان ماہرین قانون کی دیددلیری کا یہ حال کہ انہوں نے ان کالے کوٹوں والوں کے کالے کرتوتوں کی مزمت کرنے کے بجائے ان کے حق میں ہڑتال کا اعلان کر دیا جس سے ثابت ہوا کہ کس قدر پستی میں گر چکے ہیں۔ سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کے لیے لال لال مظاہروں کے ساتھ ہی اسلامک یونیورسٹی اسلام آبادکو ایک نوجوان کے خون سے لال لال کر دیا گیا جس نے ثابت کیا کہ سٹوڈنٹ یونین بحالی نہیں مقاصد کچھ اور ہیں ورنہ ایسی صورت میں کیسے یونین بحالی کا رسک لیا جا سکتا ہے۔سیاسی جماعتیں بہتر قانون سازی اور اچھی جمہوری روایت دینے میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں سرمایا دار طبقہ سیاسی جماعتوں پر قابض ہو تا جا رہا ہے پاکستان میں اقتدار میں آنے والی بڑی سیاسی جماعتوں نے آزادکشمیر میں بھی اپنے پنجے مضبوط کرنے کے لیے نہ صرف جماعتیں بنائی بلکہ ان کو سپورٹ کرتے ہوئے اقتدار میں لاتے رہے۔ پاکستان میں جس سیاسی جماعت کی حکومت رہی آزادکشمیر کے انتخابات میں وہی کامیاب کرائی جاتی رہی جس کی وجہ سے ریاستی جماعتیں مضبوط نہ ہو سکی۔ اس میں زیادہ قصور آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کا بھی رہا ہے۔جو اقتدار کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار پائی گئی ہیں۔ مسلم کانفرنس مضبوط تاریخی سیاسی جماعت تھی جسے پاکستان سے مسلم لیگ کی حمایت حاصل رہی سردار عبدالقیو م مرحوم نے تو ایک عرصے تک جماعت اسلامی کو بھی آزادکشمیر میں نہیں بننے دیا کہ ہم یہی کام کررہے ہیں اور مسلم لیگ ن تو مسلم کانفرنس کو ہی اپنی جماعت سمجھتی رہی لیکن سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے بعد جماعت میں اختلافات بڑھتے گئے۔ سردار عتیق جو اپنے والد کے دور سے ہی سیاست میں پوری طرح اترے ہوئے تھے بلکہ اقتدار کے دور میں خوب قبضہ جمائے رکھا والد کی صحبت اور سیاسی تربیت کی وجہ سے سیاسی باریکیوں کو سمجھنے کے باوجودانا اور اقتدار کی لالچ کے باعث جماعت کو بچا نہ پائے۔ نواز شریف کے مشکل وقت میں ڈکٹیٹر مشرف سے قربت اور ملٹی ڈیموکریسی جیسے فلسفے پیش کیے جاتے رہے تا ہم اپنی تمام تر چالاکیوں اور سیاسی چالوں کے با وجود مسلم کانفرنس کو نہ بچا سکے اور آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن بن گئی جو آج بر سر اقتدار ہے اور ریاستی جماعت مسلم کانفرنس دو سیٹو ں پر آکر ٹھہری ہے اس کی وجہ جماعت میں انتخابات نہ کرانا اقتدار اور پارٹی قیادت اپنے ہی پاس رکھنا ہے سردار عتیق سے جتنا اختلاف بھی کیا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ آزادکشمیر کی لیڈر شپ میں بہترسیاسی بصیرت، سمجھ بوجھ، معاملہ فہم اور پاکستان میں اچھے تعلقات رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال کامیاب نہیں ہو سکے اور مستقبل میں بھی کوئی امید دور دور تک نظر نہیں آرہی ایسے میں دیگر ریاستی جماعتوں کے مستقبل کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جماعت اسلامی آزادکشمیر کبھی بھی پارلیمانی سیاسی میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکی حالانکہ اس کے اندر جمہوریت پائی جاتی ہے اس کی قیادت تبدیل ہوتی رہی ہے قابل با صلاحیت قیادت اور منظم جماعت کے ساتھ عوام کی خدمت کے کاموں کے باجود مقبول نہ ہو سکی۔ جس کی وجہ اس کی سیاسی حکمت عملی اور سیاست میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے اختلاف کے بعد سردار خالد ابراہیم خان نے 1990میں جموں کشمیر پیپلزپارٹی بنائی بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں یہ خطہ آزاد ہوا ان کے فرزند جو خود انتہائی با کردار انسان تھے جن کی جمہوریت اور میرٹ کے لیے بڑی قربانیاں تھیں جو اپنے آپ کو پہلے پاکستانی اور پھر کشمیری کہتے تھے پاکستان میں اچھے تعلقات بھی تھے تحریک آزادی کشمیر میں قربانیاں دینے والے خاندان کے اس بیٹے کی ریاستی جماعت دو حلقوں تک محدود رہی۔بلکہ اب عملاً ایک حلقے تک محدود ہو چکی ہے سردار خالد ابراہیم کا سیاست میں منفرد مقام تھا ان کی صاف ستھری سیاست کے ان کے مخالفین بھی متراف تھے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اندر بھی جمہوریت رکھی اور تسلسل سے انتخابات ہوتے رہے آپ خود کئی بار امیدوار نہ بنے جس کی وجہ سے دیگر لوگو ں کو بھی موقع ملتا رہا انتخابات کے نتیجہ میں آپ کی جماعت کو نقصان بھی ہوتا رہا کئی لوگ جماعت سے نکل گئے لیکن آپ نے اس جمہوری تسلسل کو بند نہیں ہو نے دیا۔ خالد ابراہیم موروثی سیاست کے حق میں نہیں تھے تا ہم اپنے شوق اور جدوجہد سے آگے بڑھنے کے مخالف بھی نہیں تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے زندگی میں کبھی اپنی اولاد کو آگے نہیں لایا بلکہ آپ کی وفات تک اکثر لوگ تو ان کی اولاد کے ناموں تک سے واقف نہ تھے خالد ابراہیم کی وفات کے بعد ضمنی الیکشن کا مرحلہ آیا تو ان کے بیٹوں کے نام سامنے آئے اور ایک بیٹے کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا جس کا فیصلہ شاید ان کی اہلیہ نے کیا ہے۔جو وقت اور حالات کے مطابق درست تھا جس کے نتیجے میں خالد ابراہیم کی ہمدردی اور دیگر سیاسی جماعتو ں کی حمائت سے حسن ابراہیم کا میاب ہو گئے اور حاجی یعقوب جیسا مضبوط امیدوار شکست سے دوچار ہوا۔ خالد ابراہیم کی وفات کے بعد دوسرا مرحلہ پارٹی انتخاب کا آیا تو پارٹی نے مرکزی رہنما نبیلہ ارشاد جو خالد ابراہیم کے ساتھ جنرل سیکرٹری بھی رہ چکی تھیں جیسی متحرک کارکن کو ڈسپلن کی خلاف ورزی کے نام پر پارٹی رکنیت سے فارغ کر دیا جس کے نتیجے میں حسن ابراہیم تو بلا مقابلہ پارٹی صدر بن گئے لیکن نبیلہ ارشاد نے اپنی الگ پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا جو اُن کی غلط فہمی ہے یا کسی کا مشورہ لیکن پارٹی بنانا تو آسان کا م ہے چلانا خالہ جی کا گھر نہیں تاہم پارٹی کو ایک بڑا نقصان ضرورہوگا۔ بدقسمتی سے ایک اور ریاستی جماعت جو خالد ابراہیم کی وفات سے مشکل میں تھی ایک اور جھٹکے سے دوچار ہو گئی ہے اس موقع پر پارٹی کی سینئر قیادت کو ذمہ دار ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی کو بچانا چاہیے تھا اور حلقے کی قیادت کے ساتھ پارٹی قیادت کا بوجھ حسن ابراہیم پر نہ ڈالا جاتا تو پارٹی کے لیے زیادہ بہتر ہو تا۔ اس کے اثرات کیا ہوں گئے آنے والا وقت ہی بتائے گا تا ہم لگتا نہیں کہ یہ جماعت اب اپنے آپ کو سنھبال سکے گئی



طلبہ یونین اور بلدیاتی انتخابات


طلبہ یونین اور بلدیاتی انتخابات تحریرشفقت ضیاء اسلامی جمہوریہ پاکستان بدقسمتی سے 72 سالوں میں نہ اسلامی بن سکا اور نہ ہی جمہوری،ملک میں سب سے زیادہ عرصہ ڈکٹیٹروں کی حکومت رہی جس کے اثرات سیاسی جماعتوں پر بھی پڑے،کسی بھی بڑی سیاسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے موروثیت اور سرمایہ داری کا راج ہے چند خاندانوں اور کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں میں سیاست آگئی ہے اسلامی نظام اور حقیقی جموریت کے خلاف ان سب کا اتحاد ہے نظریاتی سیاست ختم ہوچکی ہے ملک کا باصلاحیت پڑھا لکھا طبقہ اب سیاست سے دور ہوتاجارہا ہے سرمائے کی دوڑ لگی ہوئی ہے جس کے لیے ناجائز طریقہ سے دولت جمع کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کی تینوں بڑی جماعتوں پر کرپشن کے الزامات ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو کھبی ڈکٹیٹر کے ساتھ ہوتے ہیں اور کبھی جمہوری حکومتوں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ان کی قابلیت خاندان،برادری اور سرمایہ ہے جس کے زور میں یہ لوٹے کامیاب ہوجاتے ہیں۔جب نظریاتی،سیاست ختم ہوجاتی ہے اور پارٹیوں کے اندر بھی جموریت نہیں رہتی تو نتیجہ ایسا ہی نکلتا ہے۔ جمہوریت کی نرسری طلبہ یونین پر ڈکٹیٹر کے دور میں پاپندیاں لگائی گئی ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کے خلاف تحریک میں طلبہ کا اہم کردار تھا جس نے دوسال کے اندر استعفیٰ دینے مجبور کردیا تھا یہی وجہ تھی کہ ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے خوف محسوس کرتے ہوئے طلبہ یونین پر پاپندی لگا دی کہ کوئی منظم تحریک نہ چل سکے اس کا نقصان یہ ہوا کہ سیاسی قیادت پیراشوٹ کے ذریعے آنا شروع ہوگئی جو لوگ نرسری سے تیار ہوکر آتے تھے ان کی جگہ سرمائے نے لے لی جس کی وجہ سے کرپشن نے راستے بنا دیے طلبہ یونین کی یہ پاپندی ڈکٹیٹرکے دور میں تو سمجھ آتی ہے لیکن ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کے دور میں کیوں رہی؟ اعلانات