0

یومِ استحصال کشمیر: بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو چھ سال مکمل، پاکستان اور آزاد کشمیر بھر میں ریلیاں، احتجاج

ڈیلی پرل ویو.بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کے غیر قانونی خاتمے کو چھ سال مکمل ہونے پر آج پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں یومِ استحصال کشمیر بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر یکجہتی کشمیر کے جذبات کو اُجاگر کرنے کے لیے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں، جلسے اور ریفرنسز کا انعقاد کیا گیا، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی آل پارٹیز حریت کانفرنس کی اپیل پر یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ سے ڈی چوک تک ریلی: کشمیریوں سے اظہار یکجہتی
اسلام آباد میں دفترِ خارجہ سے ڈی چوک تک نکالی گئی ریلی میں نوجوانوں، طلبہ، خواتین، بچوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے لگائے اور بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کی شدید مذمت کی۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیریوں کے انسانی حقوق کی بحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا پیغام: مودی حکومت کے اقدامات اقوامِ متحدہ کی خلاف ورزی
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں 5 اگست کے بھارتی اقدامات کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کی، اور ڈومیسائل قانون جیسے اقدامات کشمیری ثقافت، تہذیب اور demography کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔

وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق — حقِ خودارادیت — دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

مظفرآباد میں مرکزی احتجاجی مارچ، پتلے نذرِ آتش
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں حکومت کے کشمیر سیل کے زیر اہتمام وزیراعظم ہاؤس سے مرکزی احتجاجی مارچ کا انعقاد ہوا، جو گھڑی پن چوک اور آزادی چوک سے ہوتا ہوا اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصر مشن (قائداعظم لاج) تک پہنچا۔

پاسبانِ حریت کے سربراہ عزیر احمد غزالی اور سینکڑوں شہریوں کی قیادت میں شرکاء نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے پتلے نذرِ آتش کیے۔

سول سیکرٹریٹ سج گیا، قومی یکجہتی کا مظاہرہ
سول سیکرٹریٹ مظفرآباد کو پاکستانی اور کشمیری پرچموں سے مزین کیا گیا، جس سے پوری فضا میں قومی یکجہتی اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے وابستگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مختلف مقامات پر یومِ سیاہ کے بینرز، پوسٹرز اور فلیکس آویزاں کیے گئے۔

مقبوضہ کشمیر میں یومِ سیاہ، کرفیو جیسا ماحول
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کی کال پر یومِ سیاہ کے موقع پر سخت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ بھارتی افواج نے وادی کے مختلف علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے اور سرچ آپریشنز کے نام پر گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پوسٹرز لگنے کے بعد بھارتی انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے اور خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔

چھ سال بعد بھی معاشی بدحالی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں:

غربت کی شرح 49 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے

بے روزگاری کی شرح 23.09 فیصد تک پہنچ گئی ہے

نوجوان طبقہ بدترین معاشی دباؤ میں ہے

خودکشیوں اور احتجاجی مظاہروں میں اضافہ ہو رہا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے ان اقدامات سے انسانی حقوق کی پامالیاں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، جبکہ اظہارِ رائے کی آزادی بھی شدید پابندیوں کا شکار ہے۔

کشمیریوں کا عزم برقرار: قربانیوں کو سلام
وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری عوام اپنی جدوجہدِ آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ کبھی بھارت کے غاصبانہ قبضے کو تسلیم نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں