مظفرآباد (ڈیلی پرل ویو)موہری گوجرہ کے رہائشی سید مجاہد حسین شاہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی وراثتی زمین پر ناجائز قبضہ کیا جا رہا ہے جبکہ ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد کے سائلین ڈیسک پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آٹھویں پشت سے اپنے گاؤں میں مقیم ہیں، مگر محکمہ مال کے بعض اہلکاران نے ان کی ملکیتی زمین کو غلط اندراج کے ذریعے خالصہ ظاہر کر کے دوسروں کو منتقل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق یہ عمل ریاستی اداروں کی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف ہے۔
سید مجاہد حسین شاہ نے بتایا کہ عدالت ریونیو میں 2022 سے ان کا کیس زیرِ سماعت رہا اور 2025 میں عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا، جس کے مطابق ان کی ملکیت تسلیم کی گئی اور انتقالات کی تصدیق بھی ہوئی، تاہم اس کے باوجود مخالف فریق کی پشت پناہی جاری ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’میرے 20 کنال سے زائد کمرشل رقبے پر غیر قانونی طور پر راستہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ پہلے سے ایک راستہ موجود ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ مقامی بااثر افراد زبردستی ان کی زمین کو استعمال کرنا چاہتے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے۔
انہوں نے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور محکمہ مال کے اعلیٰ حکام کو متعدد بار درخواستیں دینے کے باوجود شنوائی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بعض افسران کی ملی بھگت سے ان کے حق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے جبکہ غیر متعلقہ افراد کو نوازا جا رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے عوامی، سماجی اور عدالتی فورمز سے مطالبہ کیا کہ ان کی وراثتی زمین کو ناجائز قبضے سے فوری واگزار کرایا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بصورت دیگر وہ عوامی تحریک اور قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔