معرکہء دوتھان…اک نشان

معرکہء دوتھان…اک نشان ڈ اکٹر محمد صغیر خان (راولاکوٹ) تاریخ کیا ہے؟ کیا یہ مغالطوں کی ’’پنڈ‘‘ ہے یا مخالفتوں کی ’’چنڈ‘‘… یہ سچ کا نکھار ہے یا کذب کا نجار…؟ یہ حق شناسی ہے یا دورغ گوئی؟ یہ اور ایسے بہت سے سوالات مجھ کم فہم کو اکثر الجھائے رکھتے ہیں اور میں اپنی ناقص عقل کے باعث تاریخ فہمی اور تاریخ سہمی کے بیج ایک ایسے جزیرے پر کھڑا رہتا ہوں جس کی بھی وقت حالات کے تیز پانیوں کی نذر ہو سکتا اور یوں کسی بھی معاملے مغالطے پر کھوجتے سوچتے میرے ساتھ وہی ہوتا ہے جو کے پی کے ان پانچ بھائیوں کے ساتھ ہوا جو طغیانی کے بیج کسی ’’امدادغیبی‘‘ کے منتظر تھے مگر ان کا انتظار زندگی سے ان کا فرار بن چلا اور یوں وہ گدّلے تندرو پانیوں میں کہیں بہہ رڑھ گئے۔ ایسا میرے ساتھ ازل سے ہو رہا ہے اور شاید ابد تک ہوتا رہے گا کہ تاریخ سے سچ کی گیڈر سنگھی مانگنے کا مجرم ہوں اور مجرم چاہے چھوٹا ہو چاہے بڑا، اس کی ’’سزا‘‘ کچھ ویسی ہی ہوتی ہے جیسی مجھ ایسوں کے لئے مدت مدید سے تجویز کر دی گئی ہے۔ تاریخ اس کی تجویز کردہ سزا اور جزا اور وقت کے تندپانیوں کے شور کو ایک جانب رکھ کر اگر ہم ماضی کے جزیرے پر اتریں اور اس وقت کو پالیں جب وہ ہوا تھا جس کی اہل اقتدار کو شاید توقع ہی نہ تھی تو ہمیں صاف صاف نظر آئے گا پونچھ شہر جو تب ریاست پونچھ کا مرکز تھا سے مہاراجہ کی فوج جب پچھلے علاقوں کو کنٹرول کرنے نکلتی تھی تو یقینا یہاں سے… ذرا اوپر سے… ذرا نیچے سے۔ تھوڑا دائیں سے یا پھر بائیں سے ہی گزرتی تھی کہ یہ جگہ اس کے راستے میں پڑتی تھی۔ فوجی قافلوں کی گزرگاہیں ہی ہمیشہ ان کے خلاف ’گھات‘ کا موقعہ اور سامان مہیا کرتی ہیں… یہی یہاں بھی ہوا… یقینا ایسا ہی ہوا کہ اس نیم آباد بلکہ تب کے لحاظ سے غیرآباد اس مقام پر شب خون مارا گیا۔ مقامی مجاہدین نے جو اپنے طور پر منظم ہوئے تھے اور جو اس سے پہلے ڈوگرہ و انگریز فوج سے تربیت یافتہ تھے کہ اس کا حصہ رہے تھے اُنہوں نے مہاراجہ کی فوج کے دستے کو گھات لگاکر روکا… ایک زوردار معرکہ ہوا۔ مہاراجہ کی فوج زیادہ مستعد اور لیس تھی مگر ادھر بھی جذبے کی فروانی تھی۔ لہٰذا یہاں بہادری کی نئی کہانی لکھی گئی اور عطا محمد اور چار دوسرے شہداء عوامی مسلح جدوجہد کو ایک کامیاب، یادگار مگر خونیں آغاز مہیا کرکے نئی تاریخ رقم کر دی۔ 29 اگست 1947ء کو دوتھان کی بلندیوں پر ہونے والا یہ معرکہ وقت کی جدوجہد اور تحریک کے لئے نئے جذبوں اور سمت کی نوید تھا۔ یہ کوئی ہجانی و جذباتی قدم ہرگز ہرگز نہ تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی مربوط حکمت عملی کا عملی اظہاریہ تھا… اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 29 اگست 1947ء کا مقام تاریخ جہد کشمیر میں کیا بنتا ہے؟ کیا مسلح جدوجہد اور عملی اقدام کے حوالے سے اسے ’’اوّلیت‘‘ کا سزاوار قرار دیا جا سکتا ہے یا اوّلیت کا تاج کسی اور جگہ و دن کے سر پر رکھ کر اسے ثمرباد کرنا درست ہو گا؟ یاد رہے کہ میں کوئی مورّخ ہوں نہ ہی میں آج کے عہد کا دفاعی تجزیہ نگار اور نہ ہی میں سٹریٹجی سے متعلق معاملات کو زیادہ سمجھتا ہوں۔ میں تو بس اپنی ’’ذرا سی عقل‘‘ کے گھوڑے دوڑائوں تو مجھے لگتا ہے کہ پونچھ شہر سے روانہ ہونے والی ملٹری یا پیراملٹری ٹرپس ہوں یا واپس پلٹنے والے قافلے ان کا راستہ یقینا یہی بنتا ہے اور جب ’’گوریلاوار‘‘ کی تکنیک کو سامنے رکھ کر کسی پر وار کرنا ہوتا ہے تو تب ایسی ہی مشکل، پرپیچ، دورعلیحدہ مگر راستے میں پڑنے والی جگہوں، جنگلوں اور گھاٹیوں کا انتخاب درست ہوت اہے۔ 1947ء کے وقت اس وقت کی جدوجہد اور تحریک اور اس کے لئے اپنائی حکمت عملی کا جائزہ کسی نظریاتی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر لیا جائے۔ یہ دن اور معرکہ بہت دنوں کی ایک مالا کا موتی معلوم ہوتا ہے… 22 جون 1947ء کو پوٹھی مکوالاں میں مولوی اقبال خان کے گھر ہونے والا اجلاس ہو یا پھر 15 اگست 1947ء کو سیاسی ٹیکری راولاکوٹ پر ہونے والا اعلان بغاوت، کیپٹن حسین خان کی منظم فوجی منصوبہ بندی ہو یا مقامی رضاکاران کی اپنے طور پر ہونے والی تیاریاں… Moreover کے طور پر مہاراجہ کی فوج کی نقل و حرکت کا ’Map‘ دیکھا جائے تو دل ہی نہیں دماغ بھی بلاچوں چراں یہ ماننے پر آمادہ ہو جاتا ہے کہ مہاراجہ کی فوج پر پہلا باقاعدہ منصوبہ بند حملہ ’’دوتھان‘‘ میں ہی ہوا اور یہی وہ سچ ہے جسے وقت و نیت کے گدلے پانیوں سے آلودہ کرنے کی جسارت دراصل اپنا منہ مہاندرہ خراب کرنے کی ایک صورت سے زیادہ کچھ بھی نہیں… میں تو کوڑھ مغز ہوں۔ فوج اور فوجی معاملات کی سمجھ پرکھ سے عاری ہوں لیکن وہ جو ’’ہمہ صفت‘‘ ہیں ان سے محض یہ سوال ہے کہ بیج راہ کو چھوڑ کسی بستے رستے علاقے سے ہٹ کر دوردراز ایسی جگہ جو راہ میں آتی ہو نا وہاں فوج کے دییلائی ہونے کا جواز و آثار ہوں وہاں بے موجود ان دیکھی فوج پر پہلا فائر کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟… ہو سکتا ہے ایسا ہوا ہو کیونکہ تاریخ میں کہیں کہیں وہ ہو جاتا ہے جو کہیں نہیں ہوتا لیکن دلیل و شواہد کو بنیاد پر کچھ بلند آہنگ باتوں سے گریز بھی ممکن ہے… میں گریز کہہ رہا انکار نہیں کیونکہ میرے خیال میں انکار بھی ایک طرح کا اقرار ہوتا ہے اور اقرار کسی بھی نوع کا اس کے لئے ’’وقوعہ‘‘ کا ہونا ضروری ہوتا ہے… بہرحال 29 اگست 1947ء کا معرکہ دوتھان ایک ایسا سچ ہے جسے سچ ثابت کرنے کے لئے کسی نوع کے سٹیج اور سیج کی کوئی ضرورت نہیں… کہ یہ راز نہیں کارزار تھا اور پانچ مقامی مجاہدین کی دلیرانہ شہادت وہ ’’شہادت‘‘ ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت و شہادت بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقی داستان ہے… عمل کا نکھرا گلستان ہے… یہ جہد و قربانی کا نشان ہے… یہ دوتھان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخ کے سچ کے باب میں معذرت خواہانہ انداز روا نہ رکھا جائے کیونکہ اگر ایسا ہوتا رہے تو پھر تحریک حقوق ملکیت کے سرخیل سردار بہادر علی خان کے نام و نامے کو بدلنے والا کوئی سامنے آ جاتا ہے اور یوں تاریخ کا روشن چہرہ دھندلا ہی نہیں کرٹھ کالا بھی ہو جاتا ہے اور ہاں غلام قوموں کے لئے تاریخ کا چہرہ ہی چراغ بھی ہوتا ہے اور منہ مہاندرہ بھی ۔روشن شہید ہوں یا عطا محمد شہید یا فقرا شہید، سارے شہید سانجھا ورثہ ہوتے ہیں اور ہر علاقے اور جگہ کے ہوتے ہیں۔ ان سب کو اسی طرح لیا جائے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے ورنہ ٹکڑوں میں بٹے لوگ۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری