’’ارقم‘‘… ’’محترم و محتشم‘‘

’’ارقم‘‘… ’’محترم و محتشم‘‘ (چٹکا) تحریر: ڈ اکٹر محمد صغیر خان (راولاکوٹ) ’’جہنیاں ناں بالا ایہہ نیدری اینا اوٹھی‘‘… دیگر ہزارہا بلیغ اور برمحل پہاڑی آخانوں کی طرح یہ آخان مجھے اُس کو دیکھ کر بے طرح یاد آیا۔ وہ میرے لئے کوئی اجنبی اور ’’اوپرا‘‘ نہیں۔ اس نے میری آنکھوں کے سامنے جنم لیا۔ میں اس کی ’’مائی‘‘ یا ’’دائی‘‘ تو نہیں تھا لیکن وہ ’’نائی‘‘ ضرور تھا جو اس کی ’’بدھائی‘‘ کہنے اور ’’مٹھائی‘‘ لینے صبح سویرے یا رات اندھیرے جا پہنچتا ہے۔ وقت گزرا تو وہ پالے سے نکلا۔ قدم قدم چلنا سیکھا اور پھر سرپٹ دوڑنے لگا۔ اس دوران بوجوہ اس کا در گھر تو نہیں رہا لیکن تب تک وہ ’’بال‘‘ اتنا ’’کمال‘‘ ہو چکا تھا کہ اسے بہرحال زوال نہیں آیا۔ وہ چلتا رہا، وہ بڑھتا رہا اور وہ ہنوز پوری شان سے مگر خراماں خراماں چل رہا ہے۔ وقت نے اسے اعتماد بخشا اور اعتباردان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ارقم‘‘ محترم بھی ہو چکا اور محتشم بھی۔ اس کا تازہ ظہور میرے دعوے کی تصدیق ہے کہ ’’ارقم‘‘ کا کشمیر نمبر واقعی لاجواب ہے۔ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کی سرپرستی اور ڈاکٹر ضیاضی نقی کی ادارت میں نئے روپ اور نرالی سج دھج کے ساتھ سامنے آنے والا مجلہ بلامبالغہ ایک شعلہ بھی ہے اور حوالہ بھی۔ یہ جلتے بھسم ہوتے سرد راکھ بنتے کشمیر کے بچے کچھے تنکوں تیلوں کے لئے دیا سلائی ہے اور کشمیر بیتی پر ایک مترنم دہائی بھی۔ بزم ارقم کے زیرانصرام شائع ہونے والا یہ شمارہ اپنے وجود میں ضخیم، مواد میں اعلیٰ اور انداز میں نرالا کہلا سکتا ہے مزید یہ کہ ایک بھری پوری مجلس مشاورت اس کے وزن کو مزید بڑھاوا دینے کا ایک اور جواز بھی ہے۔ ڈاکٹر ظفر نے اسے ’’کشمیر شناسی کی روایت کا تسلسل‘‘ کہا ہے تو بجا کہا ہے کہ وہ بساط بھر یہ بھاری پتھر چومنے اٹھانے کی سعی مسلسل کر رہے ہیں۔ ایسے ہی فیاض نقی اسے ’’قصہ حاصل جاں‘‘ لکھے تو اس کا حق بنتا ہے کہ ازاں بعد اس کے اس ’’دلنشیں جرم‘‘ کے ’’کئی نشان‘‘ اس کی کہی کو سچ ثابت کرنے موجود ہیں۔ ابتداًء تاریخ کا باب وا کیا جاتا ہے۔ اس میں علم الدین سالک، پنڈت پریم ناتھ بزاڑ، مسعود احمد خان، ڈاکٹر زاہد عزیز، ڈاکٹر ممتاز احمد اور سردار اعجاز افضل کے وقیع مضامین مجلے کی وقعت ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ’’تحریک‘‘ کے خانے میں ارشاد محمود، مقبول ساحل، سردار عاشق حسین، دانش ارشاد، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور ڈاکٹر فیاض نقی کے تحقیقی اور تخلیقی رنگ اپنے انداز اور زاویہ نگاہ سے تحریک کشمیر کا تجزیہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اب ’’زبان و ادب‘‘ کی باری ہے۔ اس میں سب سے ’’خوش دیوینی‘‘ کا ہونا وحدت کا مزہ دیتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر قاسم بن حسن کا تحقیقی مقالہ ’’کشمیر اُردو کے افسانوی ادب کے آئینے میں‘‘ آتا ہے۔ یہ ایک معلومات افزاء جاندار بلکہ شاندار تحقیقی مرقع ہے جو ادب اور کشمیر فہمی کے لئے موثر بھی ہے۔ پھر ’’کشمیر میں اُردو زبان و ادب‘‘ پڑھتے ہوئے ڈاکٹر فیاض نقی کی محنت و ہنر کا داد دینے کی باری آتی ہے اور انسان ’’مرحبا‘‘ پکار اٹھتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر محمد طیب امجد علی سدوزئی، منظور دایک، اعجاز نقی، مفتی اقبال اخترنعیمی اور سعیدارشد کے تحقیقی مضامین علم و جانکاری میں اضافے کے لئے موجود ہیں۔ جب ہم ’’سیاحت‘‘ کو نکلتے ہیں تو ہماری پہلی ملاقات حسن نواز شاہ سے ہوتی ہے۔ آگے بڑھتے تو ڈاکٹر ارشد ناشاد ہمارا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر ظفر خود آجاتے ہیں۔ یہ تینوں تحقیقی مقالات یعنی ’’میاں محمد بخش کا سفر کشمیر اور شیخ تارہ احمد بلی‘‘، ’’منشی امین چند کی سیاحت کشمیر‘‘ اور ’’سفرنمہ کشمیر از غلام رسول مہر‘‘ اپنے حسن میں تحقیق و تدوین کا بہترین نمونہ ہیں۔ سچ کہا جائے تو یہ مقالات اس مجلے کی جان ہیں۔ میاں محمد بخش جو ریاست جموں کشمیر کا روشن استعارہ ہیں کے سفر کشمیر کو یوں بیان کرنا کہ بندہ ساتھ چل پڑے، ایک اوکھا اور چوکھا کام ہے جسے حسن نواز شاہ نے خوبصورتی سے کیا۔ ڈاکٹر ارشد ناشاد تحقیق کے بندے ہیں اور اس بندھے بھی۔ امین چند کا سفرنامہ کشمیر جو اُردو کی بہت ابتدائی سفرناموں میں گنا جاتا ہے، غالباً اس عہد کا کشمیر کا اوّلین سفرنامہ بھی کہلا سکتا ہے۔ اس کے مطالعہ سے کشمیر کا ایک پورا عہد انسان کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ یقینا نادر و نایاب تخلیق ہے جس کی دریافت بھی کسی قدر کم اہم نہیں۔ جب ہم غلام رسول مہر کے سفر کشمیر کی روئیداد پڑھتے ہیں تو ایک اور طرح کے کشمیر سے شناسا ہوتے ہیں۔ یہ سفرنامہ تصویر کا دوسرا رخ ذرا زیادہ دکھاتا ہے اور یقینا یہی اس کی بڑی انفرادیت ہے۔ اسے تحقیق و تدوین کی بھٹی سے گزارنا ڈاکٹر ظفر کی محنت اور محبت کی علامت ہے۔ ’’ثقافت‘‘ کی باری آئے تو ہمیں عبداللہ قریشی، عرشی امرتسری اور عطاء محمد میر سے ملاقات کرنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ ’’ادبی دنیا‘ کا وہ کشمیر نمبر جو ازاں بعد حنیف رامے کے ’’نصرت‘‘ کی طرح کشمیر کے حوالے سے ایک جامع دستاویز ہے۔ وہ سنوارنے نکالنے والے ہاتھ عبداللہ قریشی کے تھے۔ ایسے ہی ’’ارقم‘‘ میں ان کا وجود بلاشبہ وجہ سواد اور مسعود کہلا سکتا ہے۔ ’’مکاتیب‘‘ تک پہنچیں تو یقینا اہم شخصیات کی خطوط نگاری ہمارے سامنے آتی ہے جن میں معلومات کا خزینہ پوشیدہ ہے اور بہت سے نئے مباحث کی بنا ڈالنے کے سامان بھی موجود ہیں۔ ’’کتاب شناسی‘‘ کا حصہ بھی مناسب سا ہے کہ اس میں بعض تبصرے یا تذکرے واقعی اہم ہیں۔ کشمیر ہمہ رنگ رنگوں کی بستی ہے جس کا ہر رنگ مختلف اور منفرد ہے اور بے حد خوبصورت اور جاذب نظر بھی۔ ’’ارقم‘‘ کو مختلف رنگوں کے پھولوں کے بجائے ایک دنگ کے مختلف پھولوں سے خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ ’’ارقم‘‘ کے مطالعہ سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ ڈاکٹر ظفرحسین ظفر اپنے ساتھ محققین کی ایک جماعت کامیابی سے بنا چلے ہیں جو بلاشبہ ایک پائیدار ادبی عمل ہے۔ اگر زمینی حقائق، مقامی ادبی فضائ، علمی و تحقیقی ماحول اور میسر وسائل کو سامنے رکھ کر ’’ارقم‘‘ کے کشمیر نمبر کو دیکھا تولا جائے تو اسے ایک ’’کارنامہ‘‘ کہنے مانے بغیر ہرگز بنتی نہیں۔ یہ ہماری ادبی تحقیقی بنجرپنے میں کھلنے والا وہ پھول ہے جو اپنے حسن میں بلاشبہ بے مثال ہے۔ یہ ایک جامع دستاویز ہے جو کئی پہلوئوں سے دلنشیں بھی ہے اور دلآویز بھی۔ اس خوبصورت ’’تحقیقی عمل‘‘ کے لئے ڈاکٹر ظفر اور ’’عاملین‘‘ کو ست سلام… اللہ مزید حوصلہ و تونائی دے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری