بلدیاتی ادارے اور ان کے انتخابات کیوں ضروری ہیں۔؟

بلدیاتی ادارے اور ان کے انتخابات کیوں ضروری ہیں۔؟ محمد حیات خان ایڈووکیٹ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہر کام ملک میں رائج قوانین کے مطابق طریقے سلیقے سے ایک سسٹم کے تحت ہونے سے عوام خوشحال زندگی گذارتے اور مطمن رہ کر روز مرہ کے معمولات بڑی خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں۔مگر ترقی پذیر ممالک اور خصوصاً پاکستان جیسے ملک میںجیسے کہ ہم آج کل دیکھ رہے ہیں۔حکمران صرف حکمرانی کرتے ہیں۔عوام پستے ہیں یا مساہل سے دوچار ہیں ان حکمرانوں کو اس سے غرض نہیں۔اور چونکہ حکمرانوں کا مطمع نظر صرف پیسہ بنانا ہوتا ہے اس لیے عوام یہ خواہئش کرتے ہیں۔کہ اگر انہیں بھی زندگی کی دوڑ میں اپنی روزمرہ کی زندگی گذارنے کے لیے عملی حصہ لینے دیا جائے تو شاہد انہیںآٹے میں نمک کے برابر کچھ ریلیف مل سکے۔اس کے لیے بلدیاتی ادارے ایک موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔جونوجوانوں کی گراس روٹ لیول پر سیاسی تربیت،اور دیہی و شہری علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے اور جمہوریت کی روح کے مطابق معاشرے میں بہتر کارکردگی سے اپنے مساہل کے حل میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔جہاں نئی سیاسی پود تیار ہوتی ہے وہاںوارڈ،یونین کونسل،اور ڈسٹرکٹ کونسل کی سطع پر محلے ،گائوں اور علاقے کے بنیادی مساہل جانتے ہوئے انہیں باہمی مشاورت سے بہتر انداز میں حل کر کے عوام کو ریلیف مہیا کرتے ہیں۔جبکہ برادری اور گائوں کے چھوٹے موٹے معاملات اور تنازعات اپنی حد تک ہی حل کر کے تھانے کچہری اور عدالتوں کے گورکھ دھندے میں جائے بغیر حل کر لیے جاتے ہیں۔اگر کوئی مصلحتاً اظہار نا کرے تو الگ بات ہے وگرنہ موجودہ سیاسی قیادت سے کسی بھی طرح کی بہتری اور اچھائی کی توقع رکھنا خام خیالی ہی نہیں نادانی اور کم عقلی ہے۔ہمیں پاکستان یا دیگر کسی کے معاملات کو پرکھنے کی ضرورت نہیں۔ہم خود جائزہ لیں کہ ہمارے نماہندے جنہیں ہم ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بیھجتے اورمسند اقتدار پر بیٹھاتے ہیں۔کیا دیانت دار ی سے اپنے فرائض پورے کرتے ہیں۔؟جواب ہے۔نہیں۔قطاً نہیں ۔بالکل نہیں۔ اصل میں یہ ہمارے حقیقی نماہندے نہیں ہوتے ۔اس لیے کہ ہم سے دولت کے زور پر یا وقتی قسمیں وعدے جھوٹے لارے لگا کر ووٹ لیتے ہیں۔اور پھر اس کی قیمت ریاست کے ترقیاتی فنڈز سے سکیمیں،حکومت سے روٹھ کر بڑی بڑی گاڑیاں دیگر مراعات،اپنے بچوں اور رشتے داروں کو نوکریاں دلوانا،ان کے بچے جب تعلیم کے آخری سال میں ہوتے ہیں تو ان کے لیے پہلے سے دفتر تیار ہوتے ہیں۔جو بڑی پہنچ والے ہیں انہوں نے امریکہ،یورپ اور کنیڈا کی دوہری شہریت لے رکھی ہوتی ہے۔اور یہاں آزاد کشمیر میں بطورمہمان رہ کر عوام پر احسان کرتے ہیں۔ان کے بچے پاکستان کے اعلیٰ کالجز اور یونیورسٹیز میں لاکھوںکی فیسیں دے کر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔اور جو سیاسی لوگ ہیں انہیں سونگھ کر پتہ چلتا ہے کہ کس کی حکومت بنے گی ۔یہ اپنا ضمیر جگا کر اس پارٹی کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔اور اپنے ذاتی مفاد حاصل کرتے ہیں۔اور منتخب ہونے والے ممبر نے قسم اٹھائی ہوتی ہے کہ حلقے میں اپنی پارٹی اوراپنے ووٹر کے سواء کسی دوسرے کا کام نہیں کرنا۔ایک حلقے میں چار پانچ امیدوار الیکشن میں حصہ لیتے ہیں۔جیتنے والا ۱۵ ہزار ووٹ لیتا ہے اور رنر آپ ۱۴۵۰۰ ووٹ لیتا ہے جبکہ دیگر بھی چار چار پانچ پانچ ہزار ووٹ لیتے ہیں۔اب جیتنے والے نے ۱۵۰۰۰ اور ہارنے والوں نے۲۵۰۰۰ ووٹ لیے ہوتے ہیں مگر جیتنے والا صرف انہی ۱۵۰۰۰ اپنے ووٹروں کے کام کرتا ہے۔اور یہ عملی طور پر ہوتا ہے۔اس کا گذشتہ ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں۔اور آج کی حکومت کا بھی ریکارڈ دیکھ لیں۔۔۔۔۔گذشتہ حکومتوں میں ہر ممبر اسمبلی یہ کہتاتھا کہ ایک ایک پائی صحیح جگہ پر لگا رہا ہوںتو راقم نے یہ عرض کیا کہ جناب آپ پانچ نہیں ایک سال کی ترقیاتی سکیموں کی تفصیل لکھ کر حلقے کے دو چار بازاروں میں لگائیں تاکہ آپ کی بات کی تصدیق ہو سکے۔مگر جواب نادارد۔پھر کچھ وقت کے بعد یاد دہانی کرائی مگر پھر بھی خاموشی اور ایک ہی جواب کہ ایک ایک پائی ٹھیک لگ رہی ہے۔پھر یہ سیاسی لیڈرز اپنے ذاتی کاموں کے لیے وزیراعظم کو ایک ہاتھ میں استعفیٰ اور دوسرے میں ذاتی کاموں کی لسٹ ( اس میں یہ مہاجرین سب سے زیادہ تیز واقع ہوئے ہیں) ہوتی ہے۔اور کام نکلوا لیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ابھی حالیہ آزاد کشمیر کے بجٹ میں پاکستان کی معاشی حالت اچھی نا ہونے کی وجہ سے سوچا گیا کہ بجٹ پرکچھ کٹ لگایا جائے۔تو آزاد کشمیر گورنمنٹ نے اودھم مچا دیا ۔اور ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ اگر پورے فنڈز نا ملے تو ملازمین کی تنخوائیں ادا نہیں کر سکتے۔جب فنڈز مل گئے تو پہلی فرصت میں پارلیمانی پارٹیز کے راہنمائوں کو نئی گاڑیاں لے کر دی گئی۔۔۔۔۔۔ہمارا صدر جب ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تودو درجن گاڑیوں کے پروٹو کول میں جاتا ہے۔اور وزیراعظم کے پروٹو کول میں ابھی پرسوں ہی میرپور میں بیالیس گاڑیاں تھیں۔یہ لوگ تو پتہ چلتا ہے کہ برونائی دارلسلام کے باد شاہ ہیں۔انہی لوگوں نے آزاد کشمیر میں پاکستانی جماعتوں کی فرنچائز بنا کر ایک تماشا لگا رکھا ہے۔ اور اس وقت ایوان میں بیٹھے پچانوے فیصد ممبران کو یہ معلوم نہیں کہ اس انقلابی اور عارضی حکومت کا کیا مقصد اور ذمہ داری تھی۔کوئی ن لیگ کے لیے لڑ رہا ہے۔کوئی بھٹو زندہ ہے کے نعرے لگا رہا ہے۔اور کوئی عمران خان کی فارن فنڈنگ کی چوری اور توشہ خانہ کے معاملے کا دفاع کرنے کے لیے اس کی تیاری میں مصروف ہے کہ کب حکم ملے تو اسلام آباد پر چڑھائی کر کے عمران خان کو بچائیں۔بیشک اس نے کیسی ہی کرپشن کی ہو۔اداروں کی ایسی تیسی کر رہا ہو۔مگر ہے تو عمران خان کہ ورلڈ کپ اکیلے جیت کے لایا تھا۔یہ ہے ہماری اصل حقیقت۔ ۔۔۔۔۔پھر پاکستان کے اداروں کی طرح آزاد کشمیر کے ادارے بھی کام نہیں کرتے ۔کہ جو آفیس میں آکر بیٹھتے پیں یہی غنیمت ہے۔ہے کوئی ہمت والا جو یہ دیکھ کر بتا سکے کہ آزاد کشمیر میں کتنے اٹھارویں گریڈ سے اوپر کے بیوروکریٹس ہیں اور کتنوں کی دوہری شہریت ہے۔؟۔۔۔۔۔کیا ہمارے لوکل گورنمنٹ کے ادارے پچاس فیصد بھی صحیح کام کر رہے ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ بڑی پوزیشنوں پر کام کرنے والوں کا تجربہ ہی زیرو ہوتا ہے۔وہ کسی نا کسی کے رشتے دار ہوتے ہیں۔بغیر تجربے کے کام کرتے ہیں اور آفیسوں سے باہر نکلناان کے لیے ناممکن ہو تا ہے تو سیکھیں کہاں۔؟ انہی دنوں میں پاک گلی کے نزدیک اور پانیولہ کے ساتھ سلائنڈنگ میں جو کام ہو رہے ہیں۔یہ کوئی ان پڑھ عام زمیندار بھی نہیں کرتا۔مگر دیکھے کون۔؟پہلی بات یہ کہ ادارے کے متعلقہ لوگوںمیں ٹیکنیکل نالج ہی نہیں۔وہ کام کیا دیکھیں۔جو قومی خزانے کے ساتھ سراسر ظلم اور مجرمانہ غفلت ہے۔اور باقی جو جو ۔۔۔۔کچھ ہوتا ہے یہ سب مخلوق جانتی ہے۔۔۔۔ٹریفک کا ایک ادارہ ہے۔اس کے لوگ کتنے ایفیشنٹ ہیں کہ سڑک پرجگہ جگہ اونچے اونچے ہمپس بنا کر بغیر مارکنگ کے چھوڑ دیتے ہیں۔ جو ڈرائیور کو بالکل دیکھائی نہیں دیتے ۔اور جب گاڑی اور خصوصاً موٹر سائیکل سواران جنپس سے گذرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوتے ہیں اور اکثریت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔تو ایک انتباہ جاری کرتے ہیں۔کہ سیفٹی کا خیال رکھا کریں۔اگر کوئی مہذب اور قانون کی حکمرانی والا ملک ہو تو ان بڑے آفیسران کو سزا وار ٹھہرائے۔مگر نہیں یہ آزاد کشمیر اور پاکستان ہے۔یہاں پانی مہنگا اور خون ارزاں ہے۔۔۔۔۔سنتے ہیں کہ یہاں پرائیس کنٹرول کمیٹیاں بھی ہوا کرتی ہیں۔اور ارباب اختیا رجو راولاکوٹ میں بیٹھتے ہیںیہ کبھی کبھار مہنیے میں ایک دفعہ مارکیٹ کا چکر تو لگا لیا کریں۔(کہ شہر یار آفریدی کی طرح آپ نے بھی اللہ کو جان دینی ہے) جہاںہر دکاندار کا اپنا ریٹ ہے۔ اسے پتہ ہے کہ کب کسی نے دیکھنا ہے انہیں جو مرضی کرے۔ ۔۔۔۔۔پنڈی ڈویژن جس کی سوا کروڑ آبای ہے۔ایک ڈی سی اور دیگر عملہ کام کرتا ہے۔یہاں پچاس لاکھ کی آبادی پر تین ڈویژنل کمشنر،دس ڈی سی،کئی درجن اے سیسز،کئی د رجن ایس پیز ،ڈی ایس پیز اور اسی طرح کے لاتعداد دوسرے ملازمین ہیں ۔اسی طرح دوسرے کئی ادارے ہیں ۔ جنگلات کا محکمہ ہے کیا یہ جنگل کی رکھوالی کرتے ہیں۔؟ ایک محکمہ تجدید جنگلات کا ہے ۔اور سالانا اعلان ہوتا ہے کہ اتنے کروڑ درخت لگائے ہیں۔جیسے عمران خان نے کے پی کے میں ہزاروں بیلین پودے لگائے ہیں۔کیا یہ محکمہ چند سو بھی دیکھا سکتا ہے۔تو ان سفید ہاتھیوں کی کیا ضرورت ہے ۔؟آزاد کشمیر میں ایک محکمہ مال بھی ہے ۔جو ایک زمیندار کو ’’فیس‘‘ لے کر اس کی اپنی زمین کی نقل دیتا ہے۔قانون یہ ہے کہ اگر کوئی مر جائے تو محکمے کا عملہ متوفی کے ورثا میں زمین کا انتقال کرے۔کیا آزاد کشمیر کی تاریخ میں کبھی اس پر عمل ہوا۔ ربیع اور خریف میں محکمے کے اہل کار گائوں میں جا کر کاشتی بھریں۔کیا ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ میں کبھی ایسا ہونا تو در کنار ایسے کرنے کا سوچا بھی گیا۔؟نہیں۔اگر کسی کے پاس کئی عشروں سے ایسا کوئی ثبوت ہو تو پلیز شیئر کر لیں تاکہ استفادہ کیا جا سکے۔نوے کی دہائی میں مسلم کانفرنس کی حکومت اور طارق فاروق وزیرمال تھے بڑے دعوے کئے کہ اس ٹینیور میں محکمہ مال کا ریکارڈکمپیوٹرائز کر کے ثواب دارین حاصل کروں گا۔کیا کچھ ہوا۔؟نہیں یہ صرف دعویٰ تھا۔جس نے نا ہونا تھا نا ہوا۔اور نا کبھی ہو گا۔جو خزانے پر بوجھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔اسی طرح کئی محکمے مثلاً زراعت کا محکمہ ہے ۔جس کی برانچیزمیں ڈائرکٹرز،اسسٹنٹ ڈائرکٹرز اور مکئی،گندم ،آلو،پیاز،سبزیاں،پھل فروٹس کے ایکسپرٹ سینکڑوں ملازمین ہیں۔جو میہنے کے بعد تنخواہ لیتے وقت سوچتے ہوں گے کہ کوئی پوچھے تو کیا بتائیں گے کہ ان کا کام کیا ہے۔؟ ۔۔۔۔۔اور محکمہ تعلیم کہ جو خزانے پر سب سے بڑا بوجھ ہے ۔کہ بلڈنگز اور اساتذہ تو ہیں مگر بچے نہیں۔کیوںکہ اساتذہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھاتے ہیں تو عوام کیوں سرکاری سکول میں بچے بھجیں۔جبکہ ان لیڈروں نے اپنے ووٹوں کی خاطر یہ بھاری بھر کم بوجھ اٹھا رکھا ہے۔اور ستم تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس پر آواز نہیں اٹھاتے۔جو قومی جرم ہی نہیں اللہ اور رسول کے نزدیک دیدہ دانستہ اس کوتائی کو دیکھ کر خاموشی اختیا ر کرنا گناہ عظیم ہے ۔مگر کئی سے کوئی آواز نہیں اٹھتی۔بعض خدائی خدمتگار بڑے دعوے کرتے ہیں مگر یہاں آ کر ان کی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔بہر حال ہر ایک نے اللہ کو حساب دینا ہے۔ ۔۔۔۔۔ آزاد کشمیر کے اس بیس کیمپ جو اب پیسے کمانے کا ایک کارخانہ بن چکا ہے کے ملازمین پر ٹوٹل سالانہ بجٹ جو ایک کھرب اور چالیس ارب کا ہے صرف پچیس ارب ترقیاتی (اس میں سے بھی نصف سیاسی لوگ ہڑپ کر لیتے ہیں)اور ایک کھرب پندرہ ارب ملازمین کی تنخوائوں اور دیگر مراعات پر جاتا ہے ۔اور حاصل وصول کیا ہے۔ان لیڈروں کی بلا سے۔انہیں بڑی بڑی گاڑیاں اور ہوٹرز چاہیے جو ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں۔جب دل کرے تو اسلام آباد کے پر فضا مقام پر کشمیر آزاد کرانے چلے جائیں۔یا پھر کشمیر کی آزادی کے لیے عمرہ کر نے کے لیے مکہ مکرمہ چلے جائیں۔ ۔۔۔۔۔عوام نے دیکھا ہو گا کہ زبانی تو سب کہتے ہیں مگر جے کے پی پی اور جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی جماعت بھی بلدیاتی انتخابات کرانے میں بالکل مخلص نہیں۔اور یہ انتخابات ہوں گے بھی نہیں۔کہ ان لیڈروں کی روزی روٹی بند ہوجاتی ہے۔لہذاٰ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام زور دیں پریشر بڑھائیں تاکہ یہ بلدیاتی الیکشن ہو سکیں۔اس میں بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کا ڈسٹرکٹ کونسلر بالکل حلقے کے اسمبلی ممبر کی طرح ہوتا ہے کہ وہ قسم کھا کے آتا ہے کہ اپنے پورے ٹینیور میں صرف اورصرف اپنے جماعتی لوگوں اور صرف اپنے ووٹروں کو ہی نوازے گا۔اس پر کچھ قد غن لگنی چاہیے کہ یونین کونسل کے کام باہمی مشاورت سے ہوں اور ڈسٹرکٹ کونسلر صرف اپنی جماعت تک محدود نا رہے۔ ۔۔۔۔۔یہ دیکھنا کہ یہ لیڈران کتنی کرپشن کرتے ہیں ۔قومی خزانہ شیر مادر سمجھ کر کس طرح ہضم کرتے ہیں۔اسے ایک ٹسٹ کیس سمجھ کر دیکھیں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔وہ یہ کہ (۱)نیلم جہلم پراجیکٹ کتنے میں شروع ہوا، ٹوٹل کتنا خرچہ ہوا،اس کا مکمل آڈٹ کرائیں۔(۲) ۲۰۰۵ئ؁ کے زلزلے میں کتنا نقصان ہوا۔کتنی امدا دملی۔ کتنی خرچ ہوئی۔اس کا مکمل حساب بالکل موجو دہے مگر ادارہ د ے گا نہیں۔کا آڈٹ کرائیں۔تو معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے یہ سیاست دان کیسے کیسے فن کار ہیں۔کس کس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔تو دیکھنے والوں کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔۔تو کیا یہ بلدیاتی الیکشن کرائیں گے سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو سر عام نیلام کریں گے۔یہ ڈیمانڈ کر کے تو دیکھ لیں تو ان کی پاکبازی ظاہر ہو جائے گی۔اور اسی طرح ہمیشہ فنڈز ہڑپ کیے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کی گورنمنٹ حساب مانگتی ہے تو شور اٹھتا ہے کہ کشمیر خطرے میں پڑ گیا ہے۔شروع سے آج تک جو آزاد کشمیر کو امداد ملتی رہی ہے اگر پچاس فیصد بھی لگتی رہتی تو پورے آزاد کشمیر میں سونے کی اینٹوں کی سڑکیں اور بلڈنگیں بن چکی ہوتی۔مگر کاش پوچھے کون۔؟ اس لیے کہ آج ایک کی باری ہے تو کل دوسرے کی۔۔۔اللہ پاک ہم پر رحم فرمائے۔آمین۔ثم آمین

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری