انتیس اگست پہلا اقدامی جہاد

انتیس اگست پہلا اقدامی جہاد سردار محمد حلیم خان انتیس اگست کا دن برصغیر کی تقریباً تین سو سو سالہ تاریخ میں منفرد اور بے مثال مقام رکھتا ہے۔یہ بات محض اپنی خوش عقیدگی یا شہدا دوتھان کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے نہیں کہ رہا بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1857 کی جنگ آزادی سے لیکر 1947 تک برصغیر کے مسلمانوں نے معرکہ دوتھان کے علاوہ کسی مقام پر آگے بڑھ کر حملہ نہیں کیا۔1857 کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر میں اور اس سے قبل 1832 میں پونچھ میں سبز علی خان ملی خان شمس خان راجولی خان اور ساتھیوں کی مظلومانہ شہادت اور اس سے قبل سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل کی بالا کوٹ کے مقام پر شہادت کے بعد کشمیر سے لیکر بنگال تک مسلمانوں کی تیغ حریت ہمیں نیام میں ہی نظر آتی ہے۔ایسے حالات میں برصغیر کے سب سے ظالم مہاراجے کو للکارنے کے بعد عملاً اس کی افواج پر پہلا حملہ کرنا نوے سال بعد پہلا اقدامی جہاد تھاجو ایک بھرپور منصوبہ بندی اور نظریاتی جہت کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔اس سے دو ہفتے قبل پندرہ اگست 1947 کو راولاکوٹ میں مہاراجہ کی ریشہ دوانیوں کو بھانپتے ہوئے اس کی طرف سے الحاق پاکستان میں لیت و لعل پر اعلان بغاوت کر دیا گیا تھا۔اس دوران تین مزید اہم واقعات ہوے راولاکوٹ کے اعلان جہاد کے بعد لوگ سردار محمد اشرف کی قیادت میں منظم ہونا شروع ہوے ساتھ ہی یہ چنگاری تھوراڑ دھیرکوٹ اور باغ تک پھیلتی چلی گئی اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ صرف راولاکوٹ کے اعلان بغاوت کے نتیجے میں کس طرح سارے آذاد کشمیر میں مہاراجہ کی فسطائیت کے خلاف بغاوت ہو گئی تو وہ حالیہ واقعات سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ کس طرح راولاکوٹ سے پندرہویں ترمیم کے خلاف اٹھنے والی چنگاری شعلہ جوالہ بن کر پورے آذاد کشمیر میں پھیل گئی۔ یہ بات تو برسبیل تذکرہ اگئی۔ راولاکوٹ کے اعلان بغاوت کے بعد انتیس اگست سے قبل کچھ اہم واقعات ہوے تھوراڑ جسہ پیر کے مقام پر عوام نے ڈوگروں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا یہ ایمان افروز تقریب اس طرح منعقد ہوئی کہ درخت کے ساتھ قرآن پاک باندھا گیا اور تمام لوگ عہد جہاد کے طور پہ اس کے زیر سایہ گزرے تئیس اگست کو نیلا بٹ کے مقام پر پیر شمشاد شاہ گردیزی کی صدارت میں جلسہ ہوا مولانا مظفر ندوی صاحب نے شرکاء سے جہاد پہ بیعت لی اور سردار عبد القیوم خان نے بھی ایک نوجوان ریٹایرڈ فوجی کی حیثیت سے پرجوش خطاب اس وقت ان کی کوئی جہادی یا سیاسی پہچان نہیں تھی لیکن ان کی پرجوش تقریر نے شرکاء پر ویسا ہی اثر کیا جیسا غیر معروف عبدالقدیر کی تقریر نے سری نگر میں مجمع پر کیا تھا۔ ا چھبیس اگست کو ہڈا باڑی کے مقام پر ڈوگرہ فوج کی فائرنگ سے مولوی اللہ بخش شہید ہو گے ان واقعات کے بعد پونچھ شہر سے کرنل رام لعل کی قیادت میں ڈوگرہ فوج باغیوں کا قلعہ قمع کرنے کے لیے روانہ ہوئی۔ پونچھ شہر سے نکلتے ہی اس فوج نے قابض فوج کی حیثیت سے گھر گھر تلاشی اور لوٹ مارکا سلسلہ شروع کردیا۔ جہاں جہاں سے یہ فوج گزرتی گئی اس پاس کی بستیوں میں لوٹ مار کے ساتھ ہر قسم کے ہتھیار حتیٰ کہ سبزی کاٹنے والی چھری تک ضبط کردی۔دیہات کے نمبرداروں کی ڈیوٹی لگائی کئی ک کسی قسم کی نقل و حرکت اور اسلحہ کی رپورٹ ڈوگرہ فوج کو دی جائے۔ مجاہدین کے پاس بھی جاسوسی کا انتظام تھا انھوں نے اس قاتل گروہ کو قتل وغارت گری سے قبل ہی گردن سے دبوچنے کا فیصلہ کیا چنانچہ ہجیرہ سے یہ فوج آگے بڑھی تو مجاہدین نے دوتھان موجودہ یادگار کی جگہ اپنی پکٹ لگا دی۔جب ڈوگرہ فوج عین پکٹ کی سیدھ میں نیچے سے گزرنے لگی تو مجاہدین نے اس پر ہلہ بول دیا انھوں نے توڑے دار بندوقوں سے فائرنگ شروع کر دی اور پہلے سے جمع کیے گے بھاری پتھر اور چٹانیں بھارتی فوج پر لڑھکانا شروع کر دیں۔ درست اندازہ تو نہیں لیکن درندہ قابض فوج کا بھاری نقصان ہوا انکی خچریں اور سپاہی جدھر منہ اٹھابھاگ کھڑے ہوے۔ انھوں نے بوکھلاہٹ میں آٹومیٹک گنوں سے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ملت کے پانچ ستارے شمع آذادی پہ قربان ہو گے۔ جن میں سردار عطا محمد خان سردار سخی محمد خان باپ بیٹا سردار مصاحب خان سردار فقرالہ خان اور سردار روشن خان شامل تھے نوے سال کے بعد پہلی دفعہ ڈوگرہ فوج پر منظم اور با مقصد حملہ کیا گیا تھا اس حملے اور شہادتوں نے لوگوں میں جہاد اور شہادت کی وہ لو روشن کر دی جس نے آگے چل کر بارہمولہ اور کرنل ہدایت خان کی قیادت میں ریاسی تک ڈوگرہ فوج کو بھگا بھگا کے مارا۔اٹھارہ ماہ تک مجاہدین نے نہتے پونچھ شہر کے گردا گرد تمام چوٹیاں جن میں چاند ٹیکری خاکی ٹیکری اور چھجہ پہاڑی شامل ہیں ڈوگروں سے چھین کر پونچھ شہر کو اٹھارہ ماہ تک محصور رکھا۔اس دوران ہندوستان ہیلی کاپٹر کے ذریعے محصور فوج تک اشیاء ضرورت پہنچاتا رہا بعد میں جب مجاہدین سے ہتھیار رکھوا دیے گے تو مجاہدین کے فتح کیے گے علاقوں کو بھی سنبھالا نہ جا سکا۔چنانچہ راجوری مینڈھر پونچھ ہی نہیں خاکی ٹیکری اور چھجہ پہاڑی بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی ا۔ لیکن اس سب کا نکتہ آغاز معرکہ دوتھان ہی ہے اسی معرکے سے پھوٹنے والے جہاد کے نتیجے میں ساڑھے تیرہ ہزار مربع کلومیٹر آذاد کشمیر کا علاقہ آذاد ہوا اور یہی خبریں سن کر گلگت والوں نے بھی علم بغاوت بلند کر کے اٹھائیس ہزار مربع میل علاقے سے ڈوگرہ فوج کو مار بھگایا۔ یوں نوے سال کے بعد پہلا حملہ بھی ایک منفرد واقعہ ہے اور برصغیر کی تاریخ میں پچھلے تین سو سال میں آذاد کشمیر کا آذاد ہونا بھی منفرد واقعہ ہے کیونکہ تین سو سال سے برصغیر کے مسلمانوں نے سوائے آزاد کشمیر کے کوئی دوسرا علاقہ فتح نہیں کیا۔ اس کا بہت بڑا کریڈٹ شہداء دوتھان کو جاتا ہے کہ آذادی شہادت اور جہاد کی نئی داستان کے ابتدائی حروف ان کے خون سے لکھے گے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پہ چلتے ہوے بقیہ کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کی توفیق سے نوازے۔آمین

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری