نیلہ بٹ میں کیا ہوا؟

نیلہ بٹ میں کیا ہوا؟ شفقت ضیاء تحریک آزادی کشمیر میں ہر طبقے، علاقے ،قبیلہ کے لوگوں نے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیںجس کے نتیجے میں آزادکشمیر کا خطہ آزادہوا۔ سیاسی اور عسکری قیادت دونوں نے اپنا اپنا بھرپور کردار اد ا کیاتاہم سیاست کے میدان میں سردار محمد ابراہیم خان اور عسکری محاذ پر کیپٹن حسین خان شہید کا مقابلہ کسی اور سے نہیں کیا جاسکتا۔ بدقسمتی سے آج اپنے ذاتی مفادات کے لیے بیرون ملک بیٹھے کچھ نام نہاد ددانشور جن میں باشانی نامی شخص بھی شامل ہے ،جو انڈین چینل پر بیٹھ کر زہر اگلتا ہے، سیاسی وعسکری قیادت پر تنقید کرتاہے، ہندوئوں کا ہمدرد بن کر اُن پرظلم کے قصے سناتاہے، جس کی وجہ سے ہندوستان کے چینل بھی اُس کو وقت دیتے ہیں۔مسلمانوں پرجو ظلم اور بربریت ماضی میں ہوا یا آج ہو رہاہے اُس پر بات کر نے کی بجائے اپنی گھڑی ہوئی کہانیاں سنائی جاتی ہیںجس کے مقابلے میں درست تاریخ اور تحریک کو پڑھانے، بتانے کا کام آزادخطہ میں حکومتوں کے مزے لینے والے کرنے کے بجائے آزادکشمیر میں اپنی مرضی ومنشاء اور تعلقات کو خاطر میں لاتے ہوئے قوم کو بالخصوص نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ آزادکشمیر میں حکومتوں نے ایک طرف اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاریخ کو اپنی پسند اور مرضی کی مطابق ڈالنے کی کوشش کی اور دوسری طرف کچھ لوگوں نے موقع ملنے کے باوجود درست تاریخ بتانے اور مرتب کرانے کے بجائے اتنا کہنے پر اتفاق کیاکہ تاریخ کو کوئی بدل نہیں سکتا، حقائق کو چھپایانہیں جاسکتا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بہت کچھ بدل گیا ۔ تحریک آزادی کشمیر طویل بھی ہے اور قربانیوں کی اپنی مثال آپ بھی ہے ۔ زندہ کھالیں کھینچوانے اور پوری ریاست کو 75 لاکھ روپے نانک شاہی میں فروخت کرنے کی مثالیں قائم ہونا شامل ہیں۔ اس جدوجہد کا ہر ورق سنہری حروف کے ساتھ لکھنے اور ہر تاریخ کو تاریخی حیثیت حاصل ہے لیکن کچھ تاریخیں ایسی ہیں جنہیںبھلایا نہیں جاسکتا ،بالخصوص وہ دن جب لوگوں نے اپنی جانیں دیں اور آزادی کی خاطر شہادتوں کو گلے لگایا ،جن کی قربانیوں کی وجہ سے یہ خطہ آزاد ہوا ۔وہ سارے لوگ عظیم ہیں جنہوں نے 1947 میں کردار ادا کیا ،قربانیاں دیں ،ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا ، جو قابل تحسین ہیں ۔اللہ اُن کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔وزیر اعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس نے اس بار اعلان فرمایا کہ یوم نیلہ بٹ پرسرکاری چھٹی پورے آزادکشمیر میں ہو گی تو خیال تھا کہ وزیراعظم اس دن خود جلسے میں حاضر ہوکر شاید تاریخ کا کوئی ایسا واقعہ سنائیں گے جس سے معلوم ہوگا کہ نیلہ بٹ کی تاریخی حیثیت کیا ہے، جس طرح انھوں نے کچھ عرصہ پہلے یوم شہدائے کشمیر کی تاریخ بتاتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’جمعہ کی اذان کے ساتھ اتنے لوگوں نے قربانیاں دیں‘‘لیکن وہ خود تو جلسہ میںنہیں گئے البتہ ایک نئی سرکاری تعطیل کا اضافہ ضرور کر گئے بلکہ جو کام مسلم کانفرنس اقتدار میں رہنے کے باوجود نہ کر سکی وہ کام تحریک انصاف کے عنانِ حکومت میں وزیر اعظم تنویر الیاس نے کر دیا، یا کروا دیا گیا۔ وزیر اعظم خود وسائل سے مالا مال ہیں ،وہ ذاتی تعلقات کو ذاتی و سائل تک ہی رکھتے تو زیادہ اچھی بات ہوتی۔ سرکاری وسائل کا استعمال اور قومی خزانے کے نقصان کو درست فیصلہ نہیں کہا جاسکتا۔ ہماری معلومات کے مطابق 23 اگست 1947 کو نیلا بٹ کے مقام پر غربی باغ کا جلسہ عام ہوا تھا جس میں مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ریاست کا پاکستان سے الحاق کا اعلان کرے ورنہ ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ جس میں سردار عبدلقیوم خان نے ایک نوجوان رہنما کی حیثیت سے خطاب کیا اور کہا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر باغ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہوکر دبائو ڈالنا چاہئے، جس پر ان کی تحریک پرجلوس روانہ ہوا جسے ڈوگرہ فوج نے باغ داخل نہیں ہونے دیا، بنی پساری کے مقام پر لوگوں نے کیمپ لگالیا پھر 26 اگست کو ہڑاباڑی کے مقام پر جلسہ ہوا، جس پر فائر ہو ا اور 6 لوگ شہید ہوئے، جس کے بعد جلسہ منتشر ہو گیا، جس کی خبر ملنے پر راولاکوٹ میں ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں ڈوگرہ فوج کو مختلف مقامات پر الجھانے کا منصوبہ بنایا گیا اور 29 اگست 1947 کو دوتھان کے مقام پر پونچھ شہر سے براستہ راولاکوٹ ، با غ جانے والی فوج پر مجاہدین نے منصوبہ بندی سے حملہ کیا، جس سے ڈوگرہ فوج کو کافی نقصان ہوا اور پانچ مجاہدین شہید اور ایک زخمی ہوا ۔یہ پہلا باضابطہ منصوبہ بندی سے حملہ تھا۔ سردار عبدالقیوم خان جن کا تحریک آزادی کشمیر میں اہم کردار ہے، جنہوں نے 22 جون 1947 کو چوہدری حمیدا للہ قائم مقام صدر مسلم کانفرنس کے دورہ راولاکوٹ کے موقع پر پہلی بار اعلیٰ سطح کے کنونشن میں شرکت کی تھی۔ اُن کی کوششوں اور قیادت میں تحصیل باغ کو ڈوگرہ فوج سے آزادکرایا گیا۔ انھوں نے خود بار بار کہا کہ میر امجاہد اول کا دعویٰ نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ پہلی گولی نہیں چلائی ہے ،اس کے باوجودنیلہ بٹ کو سرکاری سطح پر بنانا سمجھ سے بالا ہے ۔اگر سرکاری تعطیلات کا زیادہ ہی شوق ہے تو اُن عظیم شہیدوں کے بے شمار دن موجود ہیں لیکن ایسے دن کو پورے آزادکشمیرمیں سرکاری چھٹی کر دینا اور غیر ضروری اہمیت دینا سمجھ سے باہر ہے جبکہ اس سے بہت زیادہ اہمیت کے دن بے شمار موجود ہیں۔ بالخصوص 15 اگست1947جب پاکستان کے قیام کی خوشی میں جشن منایاگیا اور راولاکوٹ میں دفعہ 144 کی دھجیاں اُڑائی گئیںجلسہ عام سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست کا پاکستان سے الحاق کرے ورنہ مسلم گارڈتیارہے، یوں کھل کر بغاوت کا اعلان کیا گیا۔ اسی وجہ سے،راوالاکوٹ کی سیاسی ٹیکری کو سابق وزیراعظم فاروق حیدر کے والد محترم حیدر خان نے دارلجہار قرار دیاتھا اور فاروق حیدر سے ہمیشہ یہی سنا کہ تحریک آزادی کا آغاز راولاکوٹ سے ہوا ،اب اطلاعات ہیں کہ آپ کے دستخط اُس اعلامیہ میں ہیں جس میں کہا گیا کہ آغاز نیلہ بٹ سے ہوا، موجودہ صدر ریاست برسٹر سلطان تو اسے ہمیشہ فراڈ کہتے رہے ہیں اور آج تک کبھی نیلہ بٹ نہیں گئے، شاید ایک وجہ یہ بھی ہو کے وزیراعظم اس دن کو اہمیت دے رہے ہیں لیکن کون انکار کر سکتا ہے کہ 15 اگست 1947ئ، 22 جون 1947ء مولوی اقبال خان پوٹھی مکوالاں راولاکوٹ کے گھر ہونے والے کنونشن، 18 اور19 جولائی 1947ٗ کا کنونشن اور دیگر کئی چھوٹے بڑے پروگرامات 23 اگست سے پہلے ہوئے ہیں وہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس لیے ہماری معلومات کے مطابق 23 اگست کو نیلا بٹ کے مقام پر ایک جلسہ ہوا تھا، جس سے پہلے بھی بہت سے جلسے ہوے اور تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہو چکا تھا۔ وزیر اعظم کی معلومات میں کچھ اور ہو تو برائے مہربانی قوم کو بتا دیں۔تاریخ کو بدلنے کی ناکام کوششیں کرنے والوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں،تعلقات ضرور پالیں لیکن اپنے خرچے پر! اسی میں سب کا بھلا ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری