تحریکِ لبیک پر پابندی

تحریکِ لبیک پر پابندی شفقت ضیاء 1947ء میں تقسیم ِ برصغیر کے نتیجہ میں مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل الگ ملک وجود میں آیا جس کا نام پاکستان رکھا گیا۔جس کا مقصد ایک ایسی اسلامی ریاست تھا جس میں اسلام کا مکمل نظام ِ حیات نافذ کرنا تھا۔ اس تجربہ گاہ سے دنیا کو مستفید کرنا اور ایک اسلامی بلاک کی صورت میں اسلام کے پرچم کو دنیا بھر میں بلند کرنا تھا۔لیکن بدقسمتی سے اپنوں اور غیروں کی سازشوں سے 73سال گزرنے کے باوجود اسلام کا مکمل حقیقی نظام نافذ نہ ہو سکاتاہم ایک جدو جہد کے نتیجہ میں اس ملک کو ایک ایسا آئین ملا جو اسلام کو سپریم لاء تسلیم کرتا ہے اور قرآن و سنت کے مطابق نظام چلانے کی بات کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو رہا جس کے راستے میں دنیا کی بڑی طاقتور قوتیں رکاوٹ ہیں جو پلاننگ کے ساتھ ایسے حکمران تیار کرتی ہیں جو ہمیشہ اس کے راستے میں رکاوٹ رہتے ہیں اور آج بھی رکاوٹ ہیں۔چند سو لوگوں نے قوم کو یر غمال بنایا ہوا ہے وہ اقتدار کے لیے کبھی کسی جماعت میں ہوتے ہیں اور کبھی کسی جماعت میں اور اگر ڈکٹیٹر کی حکومت آجائے تو اُس میں شامل ہو جاتے ہیں۔یہ اقتدار کے پجاری ہیں جن کا کوئی نظریہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک پاکستان مسائل سے نکل نہیں پا رہا اگر اس کے حقیقی مقاصد کو پورا کر دیا جاتا ہے تو ملک دنیا میں با عزت قیادت کر رہا ہوتا لیکن بزدل حکمرانوں کی وجہ سے آج بھی غیروں کی غلامی کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وہ آئے روز مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔غربت،بے روزگاری نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے جبکہ محدود سا طبقہ ہے جس کے سرمائے کا حساب ہی نہیں اقتدار کے راستے انہی کے لیے کھلے ہیں۔سوچ و فکر بھی انہی کی چلتی ہے جو ان کی اپنی نہیں بلکہ غیروں کی دی ہوئی ہے۔ان کی تعلیم و تربیت وہی کرتے ہیں یہ بڑی بڑی ڈگریوں کے باوجود چھوٹی سی سورت کی تلاوت تک نہیں کر سکتے اور قرآن و حدیث کے علم سے نابلد ہیں البتہ اپنے اقتدار کے حصول کے لیے یہ کوئی بھی نعرہ لگا سکتے ہیں اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے سب کچھ کرتے ہیں اسی وجہ سے انہوں نے ملک کے ایک بڑے حصّے کو کاٹ دیا واور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے نعرے تقریروں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ہندو اُن پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے وہاں ان پر ہونے والا ظلم نہ دنیا کو نظر آتا ہے اور نہ یہ دنیا کے سامنے رکھ سکے اور نہ خود جرات کر کے ان کے لیے عملی اقدامات اُٹھا سکے۔آج تک کوئی واضح پالیسی نہ بنا سکے کبھی جذبہ جہاد سے سرشار نوجونوں کو جہاد کی اجازت دیتے ہیں ا ور کبھی انہی کو دہشت گرد بنا دیا جاتا ہے۔کنفیوز پالیسی کے باعث ملک اندونی و بیرونی خطرات سے دوچار ہے لیکن اقتدار کے نشے میں مست حکومت اور اپوزیشن جو ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اُن کو اقتدار کے علاوہ کسی چیز سے دلچسپی نہیں۔کشمیر میں ہونے والے ظلم پر ہی خاموش نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایمان کے جز محمدﷺ کی شان میں گُستاخی پر بھی محض تقریر کر کے سمجھتے ہیں حق ادا کر دیاجب مسلمانوں کے جذبات بُری طرح مجروح ہیں گناہ گار ترین شخص بھی سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن محسنِ انسانیت ﷺ کی شان میں گُستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔کیوں کہ محبت رسول کے بغیرایمان ہی نہیں مکمل ہوتااس میں پاکستان کے 22کروڑ عوام یک زبان ہیں۔جان دے سکتے ہیں لیکن گوستاخی برداشت نہیں،دنیا بھر کے مسلمانوں نے فرانس کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کیا لیکن 57اسلامی ممالک کے بے حس لاچار غلام حکمران ان کے جذبات کو دلیری کے ساتھ دنیا کے سامنے نہ لا سکے احتجاجاََ فرانس سے سفارتی تعلقات بھی ختم نہ کر سکے پاکستان میں دینی جماعتوں کے طرف سے احتجاج ہوا تحریکِ لبیک نے بھی احتجاج کیا دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔حالانکہ س سے بھی انھیں کیا فرق پڑ جانا تھالیکن حکومتِ پاکستان نے مذاکرات کے ذریعے تحریکِ لبیک سے معاہدہ کیا جس میں اس بات کا وعدہ کیا گیا لیکن وقت مقرر تک ایسا نہ ہو سکا جس پر تحریک لبیک نے دوبارہ احتجاج کا فیصلہ کیا تحریکِ لبیک کے قائد سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا جس پر تحریک کے کارکنان نے احتجاج شروع کر دیا۔ سڑکیں بلاک کی گئیں جس کے نتیجے میں پولیس اور کارکنان میں تصادم ہوا۔اطلاعات کے مطابق دونوں طرف سے بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے پولیس کے کچھ جوان جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی۔املاک کا بھی نقصان ہوا۔جس کے بعد حکومت نے تحریکِ لبیک پر پابندی لگا دی اور اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔ایساکس کے کہنے پر کیا گیا؟کس کا دباو تھا حکومت بتانے سے قاصر ہے اس میں کوئی دو راہے نہیں کہ تحریکِ لبیک کے جذبات پوری قوم کے جذبات ہیں بلکہ تمام امت مسلمہ کے ہیں۔البتہ قانون کو ہاتھ میں لینے کا بھی کسی کو حق نہیں ہے حکومت کو چاہیے کہ غیر جانبدارانہ تحقیق کرائے جو لوگ ملوث ہیں انھیں سخت سزائیں دی جائیں۔لیکن غیر قانونی پابندیاں لگانا بھی درست اقدام نہیں۔تاریخ بتاتی ہے اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتے ہیں۔چند سال پہلے جب مسلم لیگ کی حکومت تھی تو ان کی حمایت موجودہ حکمران پارٹی کر رہی تھی یہی وزیرِ داخلہ جن کو عمران خان چپڑاسی بھی رکھنے کے قابل نہیں سمجھتے تھے تعاون کر رہے ہیں۔خود حکمران جماعت نے 126دن دھرنا دے کر عوام کو جو تکلیف دی تھی اُس کی بھی کچھ سزا بنتی ہے؟۔قومی املاک کے نقصان پر اُس وقت جو کیس بنے تھے اُن کا کیا بنا؟وزیرِ داخلہ کے جلاؤ مارو والی تقریروں کا کیا بنا؟خود وزیرِ اعظم کی تقریروں کا کیا بنا؟دو نہیں ایک قانون کی بات کرنے والے وزیرِ اعظم کو ان پر بھی غور کرنا چاہیے۔پھر کل ان سے تحریری معاہدہ کیوں کیا تھا؟ اس کا مطلب یہی سمجھا جائے کہ ساری باتیں جھوٹ اور وقت گزرنے کے لیے ہوتی ہیں اب کون اور کیوں اعتبار کرے گا حکومت کو اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہیے تحریکِ لبیک بریلوی مکتبِ فکر کی سیاسی جماعت ہے۔بریلوی مسلک سب سے پُر امن سمجھا جاتا ہے۔بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکتا ہے لیکن ضرورت کے مطابق کسی گروہ کو استعمال کر کے جب بات آگے بڑھ جاتی ہے اُس وقت دہشت کرد بنا کر پیش کرنا انصاف نہیں ہے۔مذہبی جماعتوں کو بھی ہوشیار رہنے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ناموسِ رسالت ﷺ پر کٹ مرنے کا جذبہ رکھنے والوں کو سیرتِ رسولﷺ کو سامنے رکھتے ہوئے دوسروں کی جان،مال عزت کا احترام کرنا چائیے اور اگر صفوں میں سازشوں سے شر پسند داخل ہو گئے ہیں تو اُن کو نکالنا ہو گا۔مسجدوں اور نماز، روزہ تک اتفاق کر کے بیٹھ جانے کے بجائے اقتدار کے ایوانوں تک پُر امن عوامی جدوجہد کے ذریعے باہمی اتحاد وا تفاق سے جانا ہو گا۔اسی صورت میں نہ صرف اسلام کا نظام نافذ ہو سکتا ہے بلکہ اللہ اور رسولﷺ سے محبت کا تقاضا بھی پورا ہو سکے گا۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری