انتخابات یا جنگِ آزادی

انتخابات یا جنگِ آزادی آزاد کشمیر کے انتخابات آئین کے مطابق 29جولائی سے پہلے ہونے ضروری ہیں۔انتخابات ملتوی ہونے کی واحد صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جنگی حالات ہوں اور ملتوی کرنے کے لیے اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے فیصلہ آنا ضروری ہے۔مقبوضہ کشمیر میں آگ و خون کا کھیل ایک عرصے سے جاری ہے نوجوانوں کے خون سے گلی کوچے رنگین ہیں، خواتین کی عزتیں تار تار ہیں۔لاک ڈاؤن سے زندگیاں اجیرن ہیں۔قیادت گرفتار، نظر بند بعض جیلوں میں ہی شہید کر دئیے گئے ہیں، بچوں کے چیخیں آسمانوں کو پہنچ رہی ہیں۔یوں مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری مسلمانوں کے خلاف جنگ ہو رہی ہے، وہ بھی ایک طاقتور ملک کی لاکھوں افواج کے ساتھ جو انہیں زندگی کے بنیادی حق اور حقِ آزادی سے محروم کیے ہوئے ہیں۔ان کی اکثریت کو اقلیت سے تبدیل کرنے کے لیے بھی تیزی سے کام جاری ہے۔انسانی حقوق کی پامالی کی اس سے بڑی نظیر شاید ہی دنیا بھر میں کہیں ہو لیکن اس کے باوجود دنیا خاموش ہے۔انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردارں کے منہ پر تالے ہیں۔مسلمان ممالک کے بے غیرت حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے حکمران ایک تقریر کر کے عوام کو بیوقوف بنا کر اپنے حال میں مست ہیں جبکہ آذاد کشمیر کے عوام کے ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھے ہوئے ہیں۔خود بزدل حکمران تو ڈرتے ہیں لیکن با غیرت عوام کو بھی اجازت نہیں کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کر سکیں۔اب تو ایسا لگتا ہے کہ حکمران کشمیر ایشو کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے در پر ہیں یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے اور آزاد کشمیر کو بھی ملانے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں جن کی تعبیر لاکھوں کشمیریوں کے خون کے بعد بھی ممکن نہیں ہو گی۔ ایسے حالات میں آزاد کشمیر میں انتخابات کے بجائے آزادی کی جنگ شروع کر دی جائے تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔مقبوضہ کشمیر کے حالات کا تقاضا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام اُن کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔حکومتوں کی 73سالہ کارکردگی مایوس کن ہے لیکن اب آنے والے حالات کسی بڑے سانحہ کا باعث بن سکتے ہیں۔اس لیے انتخابات کے بجائے مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد کی جائے جو فریاد کر رہے ہیں کہ ہمیں ظالموں کے ظلم سے بچانے کے لیے کوئی محمد بن قاسم، کوئی صلاح الدین ایوبی، کوئی مدینہ کی ریاست کا نام لیوا، کوئی فاروق حیدر، کوئی مسعود خان، کوئی نام نہاد ٹیپو سلطان آئے اور اگر یہ بزدل نہیں آ سکتے تو عوام کے پاؤں کی بیڑیاں کھولیں تاکہ عوام اپنے بھائیوں کے لیے کوئی پتھر کوئی گولی اپنے سینے پر ہی کھا کر اُن کے زخموں میں کمی کر سکیں اور قیامت کے دن اللہ کے حضور سرخرو ہو سکیں۔ایٹمی پاکستان اور دنیاکی بہترٰین افواج کی موجودگی میں صرف شیرقیادت کی ضرورت ہے آزاد کشمیر جس کو بیس کیمپ کا کردار ادا کرنا تھا اُسے اقتدار کا ریس کیمپ بنانے والو کل قیامت کے دن کیا منہ دیکھاؤ گے۔کشمیر محض تقریروں سے آزد نہیں ہو گا شاید آپ آزادی چاہتے ہی نہیں ہو اس لیے کہ اگر کشمیر آزاد ہو گیا تو تمہیں کوئی چپڑاسی بھی نہیں رکھے گا۔اس لیے تمہارے لیے آزاد کشمیر ہی ٹھیک ہے جہاں تم وزیرِ اعظم بھی بنتے ہو، صدر بھی بن جاتے ہیں اور وزیر مشیر اور نہ جانے کیا کیا بن جاتے ہو لیکن یاد رکھو حالات بدلتے نظر آرہے ہیں اب صدر، وزیرِ اعظم،وزیر،مشیر بھی شاید نہ بن سکو۔آزاد کشمیر کی عیاشیاں بھی ختم ہو سکتی ہیں۔ہاں لوکل کونسل کے لیے تیار رہو چونکہ پاکستان میں پیسے والے بھی آپ سے بہت زیادہ ہیں جو عہدے اور منصف کروڑوں میں خرید لیتے ہو وہ اربوں میں بھی مشکل سے حاصل کر سکو گے۔ایسے میں اقتدار سے زیادہ اختیارات اور شناخت کی فکر کرو۔کشمیر کی آزادی کی جنگ کی طرف جاؤ یہی صورت انتخابات کو ملتوی بھی کر سکتی ہے اور کشمیر کی آزادی کا تقاضا بھی کرتی ہے۔کشمیر تقریروں سے آزاد ہو گا نہ اقوامِ متحدہ جو امریکہ کا پھٹو ہے حق ِ خود ارادیت لے کر دے گا۔کشمیر کی آزادی کا واحد حل جہاد ہے۔حکمرانوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اس راستے کواختیار کریں۔اقتدار کے پجاریوں سے اس کی توقع نہ کی جائے عوام نے ہی فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہو گا۔ورنہ نہ رہے گا بانس نا بجے گی بانسری۔اگر انتخابات ہی ہونے ہیں تو ہوشیار ہونا پڑے گا۔آنے والے انتخابات ماضی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کا انحصارہے۔بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں پہلے ہی قیادت کا فقدان ہے ایسے میں سرمایا کاروں کو سیاسی جماعتیں تلاش کر کے آگے لانے کے راستے پر گامزن ہیں اس سے اُن کو ذاتی فائدہ بھی ہوتا ہے اور غریب عوام کو ٹوٹی،کھمبے،سڑک،ٹینکی کے نام پر خرید کر کامیابی بھی ممکن ہوتی ہے۔عوام نہ بِکنے کا فیصلہ کر لیں۔لوٹوں کو اپنی اوقات میں رکھ لیں تو پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔بصوتِ دیگر پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں حاصل ہو گا۔آزاد کشمیر میں تعلیم کا ریشو پاکستان سے زیادہ ہونے کی وجہ سے عوام کا شعور زیادہ تصور کیا جاتا ہے لیکن انتخابات قریب آتے ہی شعور بھی کہیں دفن ہوتا دکھائی دیتا ہے جو کسی بھی صورت میں بہتر سائین نہیں ہے۔آپ کسی بھی پارٹی کو ووٹ دیں پوری دیانت داری سے ملک و قوم کے مفاد کو سامنے رکھیں۔ چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے ضمیر کا سودا کرنے والی قوم نہ ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی اُس کا کوئی مستقبل ہے۔مفاد پرستی کے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دی جائے کشمیر کی آزادی اور تعمیر وترقی با صلاحیت اور دیانتدار قیادت کے بغیر ممکن نہیں۔وسائل اور صلاحیتوں کی کمی نہیں،قیادت نا اہلوں اور مفاد پرستوں کے ہاتھوں میں ہے جومسائل کی اصل جڑ ہے۔الیکشن نہیں سلکشن ہوتی ہے لوٹے خریدنے اور استعمال کرنے کا کھیل ہے جن کا کوئی نظریہ ہے نہ جماعت اسے لوگ جب پڑھی لکھی باشعور عوام کی قیادت کریں گے تو آزادی ملے گئی نہ تعمیر و ترقی عوام کو لوٹوں کو اپنی اوقات بتانی ہو گئی سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو بھی کردار ادا کرنا ہو گا جو ان کا استحصال کرتے ہیں ان کے خلاف علم بغاوت کرنا ہو گاخواہ اپنی ہی پارٹی کی قیادت کیوں نہ ہو،الیکشن ہوں تو صاف شفاف ورنہ انتخابات نہیں جنگ ہی بہتر ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری