آزادکشمیر انتخابات، مفاد پرست لوٹے اور تبدیلی

آزادکشمیر انتخابات، مفاد پرست لوٹے اور تبدیلی شفقت ضیاء جمہوریت میں عوام کی رائے سے حکومت کی تشکیل ہوتی ہے۔سیاسی جماعتیں اپنے منشور کو عوام تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہیں جس کو دیکھ کر عوام یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس کا منشور ملک اور ان کے مفاد میں ہے اُسے ووٹ دیتے ہیں۔ووٹ دینے والے سارے برابر ہوتے ہیں خواہ پی ایچ ڈی ہو یا انگوٹھامار،امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت،نیک ہو یا بد سب کا ووٹ ایک ہی ہوتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں عوامی شعور زیادہ ہوتا ہے اور مسائل بھی مختلف ہوتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں عوام کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں، تعلیم کم ہونے کی وجہ سے شعور بھی کم ہوتا ہے اور بدقسمتی سے سیاسی استحکام نہ ہونے کے باعث جمہوریت میں پائی جانے والی خامیا ں اور بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں پاکستان جس کی بڑی مثال ہے،جس کے 73سالوں میں نصف سے زیادہ عرصہ غیر جمہوری رہا،تعلیم پر بھی توجہ نہ دی گئی جس کی وجہ سے جمہوریت نام کی حد تک ہی ہے،جو چند خاندانوں اور افراد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ اور اب گزشتہ 3سال سے پی ٹی آئی آپ کو وہی لوگ نظر آئیں گے جو ہر 5سال کے بعد ہوا کا رُخ دیکھ کر پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں اور ہوا کا رُخ بنانے میں اسٹیبلشمنٹ اہم کردار ادا کرتی ہے۔یہ چند سو افراد عوام کی خدمت کی وجہ سے اقتدار حاصل نہیں کرتے بلکہ کرپشن سے لُوٹے ہوئے قومی خزانے کا منہ کھولتے اور غریبوں کی غربت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور طاقت کا بھی استعمال کرتے ہیں۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے تنگ نوجوانوں کو تیسری قوت کی تلاش تھی اور اُس خلا کو تحریکِ انصاف کی صورت میں عمران خان سے امیدیں لگا کر تیزی سے پُر کیا جا رہا تھا۔اینٹی اسٹیبلشمنٹ عمران خان ابھی تیسری بڑی سیاسی قوت کے روپ میں سامنے آئے تھے کہ اچانک نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات خراب ہونے پر ہاتھوں میں لے لیا گیا اور عمران خان اقتدار کی لالچ میں آگئے پھر شارٹ کٹ میں سارے وہی الیکٹیبل لیے اور دھونس و دھاندلی کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔لیکن تیاری نہ ہونے اور درست حقیقی طریقے سے نہ آنے کے باعث پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت کا باعث بن گئے جس میں غریب آدمی کے لیے زندگی کی سانس لینا دشوار ترین بن گیا۔مہنگائی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ،قرض، کشمیر ایشو سمیت دیگر بے شمار مسائل حل کے بجائے خرابی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔اس کی وجہ عمران خان کی حکومت میں چند حقیقی کارکنان کے علاوہ سارے وہ الیکٹیبل ہیں جن کا نہ کوئی منشور ہے نہ نظریہ وہ مفادات کے پجاری ہیں ہر اقتدار میں آنے والے کے ساتھ ہوتے ہیں عوام کو خریدنے اور دبانے کا ہنر جانتے ہیں یوں ایسی تیسری قوت جس کے لیے عوام بلخصوص نوجوان سہانے خواب دیکھ رہے تھے مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کا چھوٹا سا خطہ جسے بڑی قربانیوں سے حاصل کیا گیا جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کی گئی اس کا مقصد بیس کیمپ بنانا تھاجس سے آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانا تھا۔مظفرآباد کو دارلحکومت اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہ سری نگر کے قریب ہے اور منزل کی طرف بڑھنا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ بیس کیمپ کے بجائے اقتدار کا ریس کیمپ بن گیا۔جس میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا بھی کردار ہے لیکن اس کے ساتھ آزاد کشمیر میں قیادت کا نہ ہونا بھی ہے، سردار محمد ابراہیم خان، کے ایچ خورشید، سردار عبدالقیوم خان اور اب سردار خالد ابراہیم بھی نہیں رہے ایسے میں گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے اور اس کے تشخص کو ختم کرنے کے لیے آخری حملے کا امکان بڑھ گیا ہے آزاد کشمیر کے انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔کسی بھی سیاسی جماعت کے حقیقی کارکن کی کامیابی ہی عوام کے مفاد میں ہو گی اگر مفاد پرست ہوا کے رُخ پر چلنے والوں کا انتخاب کسی بھی طرح سے ہوا تو یہ تباہ کن ہو گا۔آج ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت جو لوٹے رات کو پارٹی میں شامل ہوتے ہیں اور صبح انہیں دوسری پارٹی سے ٹکٹ دے دیا جاتا ہے اگر سیاسی کارکنان اور عوام نے ان کا انتخاب ہونے دیا تو داستان بھی نہیں رہے گی داستانوں میں۔یہ مفاد پرست کرپٹ ترین لوگ ہیں بلخصوص جو گزشتہ 5سال اقتدار کے مزے لیتے ہیں اپنی تجوریاں بھر کر اب اپنی کرپشن بچانے کے لیے نئی چھتری لے رہے ہیں ان ضمیر فروشوں اور کرپٹ لوگوں کا راستہ روکنا سیاسی کارکنوں اور عوام پر فرض ہے۔اس کے لیے سیاسی جماعتوں کے بتوں کو توڑنا بھی ضروری ہے جس سیاسی جماعت کی قیادت کو اپنے کارکن کی طویل جدو جہد کا خیال نہیں وہ لوٹے کو لے کر اُس کی مہم چلانے کے لیے کہے تو بغاوت کرنی چائیے۔یہ اس خطے کی نسلوں کی جنگ ہے ورنہ ان کی نسلیں بھی قابض رہیں گی پھر معیارِ تعلیم،قابلیت، صلاحیت یا محنت نہیں رہے گا بلکہ دولت، بے ضمیر ہونا اور طاقت ور ہونا ٹھرے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادکشمیر کے انتخابات میں ہمیشہ پاکستان کی حکومت کے اثرات رہتے ہیں اس کا حل ایک ہی دن انتخابات ہے عوام کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ دیں لیکن لوٹوں کو ٹکٹ دینے پر بغاوت کریں یہ ملک قوم کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں تبدیلی کی علم بردار تحریک انصاف کی قیادت بلخصوص عمران خان سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ آپ کہتے ہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کرپٹ پارٹیاں ہیں یہ پانچ سال کرپشن کر کے اب آپ کی طرف آ رہے ہیں ان کو آپ سینے سے لگا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟کیا کرپٹ شخص پی ٹی آئی میں شامل ہو جائے تو وہ پاک صاف ہو جاتا ہے؟کیا یہ ہے تبدیلی؟ اگر یہ تبدیلی ہے تو آزادکشمیر کے عوام کو اس سے معاف رکھیں، جن لوگوں نے 5 سال حکومت کے مزے لیے آج احتساب کے وقت پارٹی بدل کر عوام کے پاس نئی چھتری کے ساتھ آنے والے اور ان کو ٹکٹ دینے والے عوام دوست نہیں ہو سکتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے حلف کا پاس بھی نہیں رکھا، کہا جاتا ہے ان کی فائلیں تیار ہیں اور انہیں چند ورق دیکھائے جاتے ہیں وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں حتیٰ کے حلف بھی بھول جاتے ہیں اُس میں پیر بھی ہیں اوروزیر جنگلات بھی ہیں اگر ایسے کرپٹ لوگوں سے حکومت بنانا کامیابی اور تبدیلی ہے تو ایسی کامیابی سے ناکامی اچھی ہے۔ایسے چہروں کو عوام کو پہچاننا چاہیے۔ان کو پھولوں کے ہار نہیں کچھ اور پہنانے کی ضرورت ہے۔یہ لوگ سیاست پر بد نما دھبہ ہیں انہیں عزت نہیں بے عزت کرنے کی ضرورت ہے، وہ سیاسی کارکنان جنہوں نے پارٹی کے لیے طویل جدو جہد کی ہے اُن کے سیاسی قتل کرنے والے عزت کے نہیں ذلت کے حقدار ہیں۔قوموں اور افراد کی زندگیوں کے کچھ خاص موقع ہوتے ہیں جن میں کیے گئے فیصلے نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔آزاد کشمیر کے عوام اور سیاسی کارکنوں کے لیے یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے، بے ضمیر لوٹوں کی صورت میں قیادت پر فائز کر کے نسلوں کے لیے تاریک مستقبل چھوڑنا یا پھر با ضمیر سیاسی لوگوں کا انتخاب کر کے باشعور قوم کا ثبوت دینا ہو گا۔ووٹ اور سپورٹ کسی بھی سیاسی جماعت کی کرو لیکن لوٹوں کو ان کی اوقات ضرور دیکھاؤ۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری