عورت کا لباس، عمران خان اور سیکولر طبقہ

عورت کا لباس، عمران خان اور سیکولر طبقہ شفقت ضیاء پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے،جس کی بنیاد نظریہ پر رکھی گئی، جومدینہ کی ریاست کے طرز پراسلامی نظریہ پر وجود میں آیا، خطہ میں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کا نظام نافذ کیا جائے گاجو مسلمانوں کی اکثریت کی وجہ سے اُن کے نظریے یعنی قرآن و سنت کے مطابق ہو گا۔ جس میں انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی اسی نظام کے مطابق ہو گی۔انفرادی حیثیت میں ہندوستان میں زندگی گزارنا کسی حد تک ممکن تھا لیکن اجتماعی نظام اسلام کے اصولوں کے مطابق ناممکن تھا۔مسلمانوں کی زندگی،رہنا سہنا،تہذیب،ثقافت،اُٹھنا،بیٹھنا، معاشی،سیاسی، اجتماعی نظام ہندووں سے مختلف ہے، ان کے ساتھ رہنے سے انفرادی و اجتماعی زندگی میں خامیاں پیدا ہو رہی تھیں جن میں سے بہت سی آج بھی موجود ہیں جس میں اُن کے اور انگریزوں کے چھوڑے ہوئے قوانین اور رسم و رواج شامل ہیں لیکن پاکستان کو حقیقی پاکستان نہیں بننے دیا گیا اور آج بھی دشمن دین و ملت سازشوں میں مصروف ہیں۔ایک منظم منصوبہ بندی کے ذریعے ملک کو کمزور کرنے بلخصوص اُسے اپنے نظریے یعنی اسلام سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ایسا نظام تعلیم اس ملک میں دیا گیا ہے جو منافقانہ ہے جس میں نہ مسلمان بنایا جاتا ہے اور نہ کھل کر کافر بنایا جا رہا ہے جس کی کوئی سمت نہیں ہے۔مخلوط نظامِ تعلیم اور میڈیا کے ذریعے ایسی ذہن سازی کی جا رہی ہے جس سے ایسی ”درمیانی“مخلوق تیار ہو رہی ہے جو اللہ رسول کا اقرار تو کر رہی ہے اور عملاََ انکاری بھی ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہا وضع میں تم ہو نصاریٰ،توتمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں،جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود وزیرِ اعظم عمران خان جدید تعلیم یافتہ شخصیت ہیں جس نے نہ صرف تعلیم بیرونِ دنیا میں حاصل کی بلکہ زندگی کا بڑا حصہ یورپ میں گزارا۔ اسلام سے بھی زیادہ یورپ کے نظریات اور ماحول سے واقفیت رکھتے ہیں۔گزشتہ دنوں انھوں نے دو مختلف نظریات اور تہذیبوں کو اپنے انٹرویو میں سمجھانے کی کوشش کی تو پاکستان کی سیکولر لابی اُن کے خلاف سرگرم ہو گئی بلخصوص میڈیامیں بیٹھے ہوئے اینکر اور اینکرنیاں تو اُن کے پیچھے ہی پڑھ گے اور کہا کہ اُن کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ عورتوں کے لباس پر بات کریں،انہوں نے یہ کیوں کہا کہ عورتوں کے مختصر لباس سے مرد کو ا ثر تو پڑے گا۔ عمران خان نے درست کہا کہ مغرب اور مشرق کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور فکر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔یہ مسلمانوں کی ریاست ہے یہاں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی مرضی و منشاء کے مطابق انفرادی و اجتماعی زندگی گزارنی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سے فرمایا ہے کہاے نبی، مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے اوراپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ نبی ﷺ کی احادیث اور سیرت سے پتا چلتا ہے کہ مسلمان عورتیں پردے کا اہتمام کرتی تھیں، آرائش و زیبائش کر کے باہر نہیں نکلتی تھیں۔ ایسا لباس پہنتی تھی جس سے وہ شریف باعصمت محسوس ہوتی تھی نہ کہ آوارہ۔قرآن مجید میں دوسری جگہ سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپراپنی چادرورں کے پلو لٹکا لیا کریں۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے قرآن و سنت نے لباس اور گھروں سے باہر نکلنے کے لیے عورتوں کو واضح ہدایات دی ہیں۔پردے کے واضح احکامات،قرآن و سنت کی واضح ہدایات کے باوجود ایک مخصوص سیکولر طبقہ قوم کو گمراہ کرنے کے لیے میڈیا کو استعمال کر رہا ہے بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا کا ایک بڑا حلقہ ان کی نمائندگی کرنے کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔فحاشی کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ عمران خان نے درست کہا ہے کہ ملک میں فحاشی عریانی بھی ایک بڑی وجہ ہے، جس سے آئے روز زیادتی کے واقعات پیش آتے ہیں، حیوانی ذہنیت آگے بڑھتی ہے اور بچیوں تک کو ہوس کا نشان بنا لیتی ہے انہوں نے کب کہا کہ ریپ کی واحد وجہ مختصر کپڑے ہیں جب نشان دہی کی جاتی ہے تو توجہ ہٹانے کے لیے اِدھر اُدھر کی مثالیں دی جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے دنیا میں سب سے زیادہ ریپ امریکہ یورپ میں ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں اس کی نسبت کم کیس ہوتے ہیں جوکیس آتے ہیں یہ بھی نہ آئیں اگر اسلامی نظام نفاذکر دیا جائے۔ فحاشی کو کنٹرول کیا جاے، یورپ کا تو برا حال ہے تمام آزادی،سہولتیں ہونے کے باوجود سارا زور صرف جبر کو روکنا ہے پھر بھی کامیاب نہیں ہیں، لیکن یہاں مغرب سے متاثر چند لوگ پروپیگنڈا کرتے ہیں اور ملک کا نقشہ ہی ایسا پیش کرتے ہیں جیسے جرائم ہی سب یہاں ہو رہے ہیں۔ان جرائم کی بھی وجہ سزاوں کا نہ ہونا ہے اسلام کی سزاؤں کو نافذ کیا جائے، اس کے لیے وزیراعظم عمران خان کو کچھ عملی اقدامات کرناہوں گے، کاش وہ مدینہ کی ریاست بنانے کا بار بار اعلان کر چکے کچھ عملی اقدامات بھی کر لیتے تو آج صورتحال بہتر ہو چکی ہوتی اسلام کی عادلانہ سزاؤں کو نافذ کر دیا جائے، تو بہتری آ سکتی ہے۔نظامِ تعلیم میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے مخلوط نظامِ تعلیم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا میں تیزی سے پھیلنے والی فحاشی و عریانی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔اب تو کسی شریف آدمی کے لیے نیوز چینل فیملی کے ساتھ دیکھنا بھی مشکل ہو گیا ہے، ایسی ایڈورٹائزمنٹ چلائی جاتی ہے کہ سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ڈراموں کی تو بات ہی کیا کرنی ہے فحاشی و عریانی سے معاشرہ تباہ ہو رہا ہے، شریف خاندان آئے روز ذلت و پریشانی کا شکار ہو رہے ہیں۔مغربی تہذیب نے پورا حملہ کیا ہوا ہے آج مغرب اپنے تبا ہ حال خاندانی نظام سے پریشان ہے ایسے میں کچھ لوگ مغرب کی غلامی میں اس ملک کو تبا ہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اس کے راستے میں بندھ باندھنے کی ضرورت ہے۔ پردے کے حوالے سے عمرا ن خان نے درست نشاندھی کی ہے،لباس کا مقصد زینت و آرائش اور موسمی اثرات سے حفاظت بھی ہے لیکن اولین مقصد ستر پوشی ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصو ں کوڈھانکے اور تمہارے لیے زینت اور حفاظت کا ذریعہ بھی ہو، لباس ایسا ہونا چاہیے جو شرم و حیا،غیرت و شرافت اور جسم کی ستر پوشی اور حفاظت کے تقاضوں کو پورا کرے اور اس سے تہذیب و سلیقہ اورزینت و جمال کا اظہار ہو۔نیزتعلیم دی گئی ہے کہ لباس میں عورتیں اور مرد ایک دوسرے کا رنگ ڈھنگ اختیار نہ کریں۔نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خدا نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کا سا رنگ ڈھنگ اختیا رکریں اور اُن عورتوں پر بھی لعنت فرمائی ہے جو مردوں کا سا رنگ ڈھنگ اختیار کر یں، نبی ﷺ نے اس مرد پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کا سا لباس پہنے اور اس عورت پر لعنت فرمائی ہے جو مرد کا سا لباس پہنے۔عورتیں دوپٹہ اوڑھنے کا اہتمام رکھیں اور اپنے سر چھپائے رکھیں نہ کہ گلے میں پٹی بنا کر مذا ق بنائیں۔ آج مغرب کی تقلید میں جس طرح کا باریک تنگ لباس خواتین پہنتی ہیں اور ایک خاص طبقہ ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جن سے تم متاثر ہو وہ خود آج پریشان ہیں۔اگر تمہیں ان کی تہذیب پسند ہے تو وہیں چلے جاؤ،اس ملک اور معاشرے کے لیے بزرگوں نے جو دین اور تہذیب پسند کی ہے اس ملک کے باغیرت لوگوں کو اسی پر فخر ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری