آزاد کشمیر انتخابات2021ء،ایک جائزہ

آزاد کشمیر انتخابات2021ء،ایک جائزہ شفقت ضیاء آزاد کشمیر 2021ء انتخابات میں ایک ماہ رہ گیا ہے۔تمام سیاسی جماعتوں اور بڑی تعداد میں آزاد امیدواران نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔ایک ایک جماعت کے تقریباََ ہر حلقے میں کئی کئی امیدوار اس وقت تک میدان میں ہیں کوئی ٹکٹ والے اور کوئی بغیر ٹکٹ کے۔ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ ٹکٹ کا حقدار میں ہی تھا،کچھ الزامات لگاتے ہیں کہ ٹکٹ پیسے دے کر دیے،لیے گئے اور کچھ کا کہنا ہے کہ بلیک میل کر کے لیا گیا کہیں تو زیادتی صاف نظر آتی ہے اور کہیں محض دعوے،لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کچھ ٹکٹ ایسے لوٹوں کو دیے گئے کہ وہ 5سال اقتدار کے مزے لیتے رہے اوررات کو پارٹی میں شامل ہوئے اور صبح نئی جماعت کا ٹکٹ لے کر میدان میں آ گئے پاکستان کی حکمران جماعت کے ٹکٹ لیے اور آزادکشمیر کی حکومتی جماعت کو خیر آباد کہا۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایساہوتا آیا ہے اور یہ زیادہ غلط بھی نہیں ہے لیکن ماضی کے ریکارڈ ضرور ٹوٹے ہیں چونکہ رات کو ایک پارٹی چھوڑنا اور صبح نئی پارٹی میں جانا قدرے پہلے ہو جایا کرتا تھا۔گزشتہ انتخابات میں مسلم کانفرنس سے مسلم لیگ بننے کی مثال بھی کچھ لوگ دیتے ہیں لیکن میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے۔مسلم کانفرنس ریاستی جماعت ضرور تھی لیکن تانے بانے اور حکم رائیونڈ کا ہی چلتاتھا اور کبھی کبھار اقتدار کی لالچ میں ڈکٹیٹر سے بھی مل جاتی تھی۔آزادکشمیر میں مسلم لیگ اس لیے نہیں بننے دی جا رہی تھی کہ وہی خدمت ہم کرتے ہیں بلکہ ایک عرصہ تک تو سردار عبدالقیوم مرحوم نے آزاد کشمیر میں جماعتِ اسلامی بھی نہیں بننے دی تھی کہ یہی کام ہم کرتے ہیں پچھلے سال نوز شریف نے مسلم لیگ بنائی اور وہی لوگ جو مسلم کانفرنس میں تھے وہ گئے اُس میں کس کا کیا کردار تھا وہ سب سامنے آ چکا۔آج ریاستی جماعت کو توڑنے کی باتیں کرنے والے خود اس کے ذمہ دار ہیں اس لیے مسلم کانفرنس سے مسلم لیگ بن جانا اور ایک جماعت سے دوسری جماعت میں لوٹوں کا چلے جانے میں بہت فرق ہے،دوسری بات جس کا اکثر ذکر ملتا ہے کہ پاکستان میں جو بھی سیاسی جماعت حکومت میں ہوتی ہے آزادکشمیر میں بھی اُسی کی حکومت بنتی رہی ہے یہ بات بھی درست ہے لیکن ماضی کے حالات اور انتخابات کو آج سے ملانا اس لیے درست نہیں کہ ماضی کے کسی بھی انتخاب کو اُٹھا کر دیکھیں صورتحال مختلف نظر آئے گی گزشتہ دو انتخابات کا جائزہ ہی لیا جائے جس میں پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور دوسرے میں مسلم لیگ نے حکومت بنائی تو دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ تھا ایسا نہیں تھا کہ مقابلہ ہی نہ ہو تیسرے چھوتھے نمبر کی جماعت نے حکومت بنائی ہو،انتخابات کے وقت ہوا کا کردار بہرحال رہتا ہے جب کہ اب کی بار صورتِ حال اس لیے مختلف ہے کہ ایک ماہ پہلے تک پاکستان کی حکمران جماعت یعنی پی ٹی آئی چوتھے نمبر پر تھی گزشتہ دنوں چند الیکٹیبلز کو شامل کرنے کے بعد تین بڑی جماعتوں کی فہرست میں شامل ہوئی ہے اگر صاف شفاف انتخابات ہوں تو کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں تاحال نہیں ہے۔وفاق کی برسر اقتدار پارٹی کو آزاد کشمیر میں اقتدار میں آنے کی ایک بڑی وجہ عوام کے ذہن میں یہ رہی ہے کہ فنڈز ملیں گے اور تعمیر و ترقی ہو گی جو کبھی بھی درست ثابت نہیں ہوئے بلکہ ان انتخابات میں تو پاکستان میں حکومت کے اپنے حالات بھی کافی پتلے ہیں۔مہنگائی کے اثرات آزادکشمیر میں بھی نمایاں ہیں جس کی وجہ سے ہوا بنانا مشکل بھی ہو رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام زور لگانے کے باوجود آزدکشمیر کی حکمران جماعت سے چند افراد کے علاوہ کوئی بڑی ٹوٹ پھوٹ نظر نہیں آئی جبکہ پاکستان کی حکمران جماعت پی ٹی آئی دو واضح گروپوں میں نظر آتی ہے اور ٹکٹوں کی تقسیم سے بھی کافی مسائل کا شکار ہے پھر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے اور کشمیر ایشو کی پالیسی کی وجہ سے بھی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ ایسے انتخابات ہیں جو ایک ماہ پہلے تک واضح پوزیشن وفاقی حکومت کو نہیں دے رہے۔ایسے میں انتخابات کیسے ہوں گے ماضی کے ریکارڈ ٹوٹیں گے یا صاف شفاف ہوں گے آنے والا وقت بتائے گا۔تاہم اگر انتخابات صاف شفاف ہوتے ہیں تو آزاد کشمیر کی 3بڑی جماعتیں مسلم لیگ،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی قریب قریب سیٹوں کے ساتھ سامنے آئیں گی جبکہ آزاد کشمیر کی دو ریاستی جماعتیں مسلم کانفرنس اور جے کے پی پی اپنی تاریخ کے مشکل ترین انتخابات سے گزریں گی۔مسلم کانفرنس کے قائد سردار عتیق جن کا شمار آزادکشمیر کے تیز ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے ملٹری ڈیموکریسی کے نعرے بھی خوب الاپتے رہے اور پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کے جتن بھی کر چکے مگر تاحال کوئی واضع کامیابی حاصل نہ کر سکے۔عمران خان سے حالیہ ملاقات کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انتخابات کے بعد مل کر حکومت بنائیں گے آپ کے پاس کچھ ہو گا تو مل کر حکومت بنائیں گے۔اگر کچھ ہو گا ہی نہیں تو کیسے حکومتی اتحادکرینگے۔شاید یہ ہوا بنانے کی ایک ناکام کوشش ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایک خطرناک کھلاڑی ضرور ہیں جبکہ جے کے پی پی اپنے قائد جو ایک بڑے سیاسی قد کاٹھ کے آدمی تھے سردار خالد ابراہیم کے بعد پہلا الیکشن لڑنے جا رہی ہے ضمنی انتخابات اور اس میں بڑا فرق ہے۔ضمنی انتخاب کے وقت اکثر جماعتوں نے خالد ابراہیم کا ہی حق سمجھتے ہوئے اُن کے فرزند سے اتحاد کر کے کامیاب کرایا تھا۔پی ٹی آئی کے ساتھ اس بار اتحاد بن گیا تھا جس کے مطابق حلقہ4,3جے کے پی پی اور حلقہ 5کو اوپن چھوڑنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن صغیر چغتائی کی وفات کے بعد پی ٹی آئی نے یو ٹرن لے لیا اور انہیں حلقہ 5سے امیدوار نہ دینے کا اصرار شروع کر دیا جسے جے کے پی پی آبائی حلقہ سمجھتے ہوئے کسی بھی صورت میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے جے کے پی پی کے لیے مجموعی طور پر مشکل ترین الیکشن بن گیا ہے لیکن حلقہ 5میں اُس کی پوزیشن بہتر ہو گئی ہے اُس کی ایک وجہ صغیر چغتائی مرحوم کا نہ ہونا اور دوسرا مسلم لیگ ن کا ٹکٹ میں بڑی غلطی ہے حلقہ 5میں پارٹی مکمل تقسیم کا شکار ہو گئی ہے سیٹ تقریباََ ناممکن دکھ رہی ہے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم مجموعی طور پر اوپر سے فیصلوں کے باعث کارکنان میں مایوسی پھیلی ہے اور سیاست میں ایک بڑا ٹرینڈ خاص طور پر پیسے کا چلنا بہت ہی خطرناک ہے جس کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان کا اتفاق و اتحاد ضروری ہے کہ ایسے فیصلوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کوئی اچھا شگون نہیں ہے کہ ہر آدمی خود کو ٹکٹ کا حقیقی حقدار سمجھتے ہوئے ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار بن جائے بلخصوص دولت مند طبقہ تو اسے اپنا حق سمجھتا ہے اور ہر صورت میں الیکشن میں جانا چاہتا ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں آنے والے دوچار دنوں میں امیدواران واضح ہو جائیں گے پھر صورتحال زیادہ واضح ہو گی لیکن کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے گئی اتحادی گورنمنٹ کے چانسز زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔آزادکشمیر کے ان انتخابات میں جس طرح امیدوااران سامنے آ رہے ہیں دور دور تک قانون سازی ہوتی نظر نہیں آ رہی سڑک،کھمبہ، نلکہ، نالی ہی کی سیاست لگتی ہے کسی کے پاس منشور نظریہ نہیں ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات اور سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں کی ترجیحات پر رکھنے کے لیے عوام دباؤ ڈالیں ورنہ آنے والے دور میں صورتِ حال مزید خراب ہو جائے گی۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری