مسلم لیگ ن اقتدار سے انتخابات تک

مسلم لیگ ن اقتدار سے انتخابات تک آزاد کشمیر میں ایک طویل عرصہ تک مسلم کانفرنس کو ہی مسلم لیگ سمجھا جاتا رہا وہی ٹکٹ جو مسلم لیگ ن کے آج رائیونڈ سے دیے گئے مسلم کانفرنس کے امیدواران کو دیے جاتے رہے لیکن پھر بھی وہ ریاستی جماعت رہی ،مسلم کانفرنس میں اندرونی اختلافات اور نواز شریف نے جب دیکھا اور سمجھا کہ مسلم کانفرنس اقتدار کے لیے ڈکٹیٹروں سے بھی ہاتھ ملا لیتی ہے اور ہمارا سہارا محض اقتدار کے لیے لیا جاتا ہے تو انہوں نے گزشتہ انتخابات سے قبل آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن بنائی جس کے نتیجے میں مسلم کانفرنس سردار عتیق کے علاوہ تقریباََ ساری ہی مسلم لیگ میں چلی گئی اور انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کر کے اقتدار بھی حاصل کر لیا راجہ فاروق حیددر وزیرِ اعظم بن گئے اور ایک اچھے ایمبسٹر کو صدر بنا دیا گیا جس نے 5سال اچھی نوکری کی کشمیر ایشو پر روزانہ کی بنیاد پر بیانات دیتے رہے تعمیر و ترقی تو ان کے سٹینڈرڈ سے نیچے کی بات تھی جس کی انہوں نے زحمت ہی نہیں کی۔ یوں اُن کی قابلیت اور صلاحیت سے عام آدمی کو سِرے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا مظفرآباد اور میرپور والوں کو غلط فہمی رہی کہ صدر ریاست کا تعلق پونچھ سے ہے انھوں نے پونچھ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہائی ہوں گی لیکن دیکھنے پر اُنھیں بھی مایوسی ہوئی اور تعصب کا شکار وزیرِ اعظم مظفرآباد میں بہت کچھ کرنے کے باوجود بھی آج 5سیٹوں میں مقابلے کی پوزیشن میں نہیں دیکھائی دے رہا آزاد کشمیر میں مجموعی طور پر بہتر حکومت کرنے کے باوجود اس حال میں آنے کی وجوہات محض یہ نہیں ہیں کہ حکومتِ پاکستان کسی اور پارٹی کی ہے اور وہ آزادکشمیر میں زور لگا رہے ہیں بلکہ اقتدار میں رہتے ہوئے اپنے منشور کو پس پشت ڈالنا بڑی وجہ ہے وزیرِ اعظم فاروق حیدر نے الیکشن میں وعدہ کیا تھا کہ 6ماہ میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے آج وہ کچھ بھی کہیں لیکن سنجیدہ ہوتے تو بلدیاتی انتخابات کر ا لیتے تو ان کی پوزیشن مختلف ہوتی، غیر منتخب لوگوں کو ایڈمنسٹریٹر بنا کر نہ ہی عوام سے اُس طرح کا رابطہ رہتا ہے اور نہ ہی خدمت ہوتی ہے ایسے لوگ صرف اپنی خدمت کرتے ہیں اور سب سے بڑی رکاوٹ ممبران اسمبلی ہیں جو نہیں چاہتے کہ بلدیاتی انتخابات ہوں کیونکہ اُن کے پاس نلکے،نالی،سڑک کے علاوہ عوام کے لیے کچھ نہیں ہے وزیرِ اعظم کا پروگرام ہو یا دیگر منصوبے 50ہزار سے لاکھ روپے کا منصوبہ دے کر ممبران اسمبلی بلدیاتی نمائندے سے بھی نیچے گرتے ہیں یہ ووٹ بنانے کی کوشش آج ہر جگہ ناکام نظر آتی ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ اتنے چھوٹے منصوبے تو آج نقد کی صورت میں دینے والے سرمایہ دار الیکشن میں موجود ہیں پھر پرانے کس نے یاد رکھنے ہیں یاد تو قریب کی ہی رہتی ہے اس سے قبل پیپلز پارٹی نے بھی وعدے کے مطابق بلدیاتی الیکشن اور سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کا کام نہیں کیا تھا اور یہی چھوٹے منصوبوں کے نام پر انہوں نے بھی مخصوص لوگوں کو نوازا تھا اور انجام بد سے درچار ہونا پڑا تھا اس کے باوجود کہ مسلم لیگ ن کا دورِ حکومت پیپلز پارٹی سے بہت بہتر رہا بلخصوص محکمہ تعلیم میں NTSکے ذریعے جو میرٹ قائم کیا گیا یہ ایسا کارنامہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اور ہم نے توصیف و توقیر میں کوئی فرق بھی نہیں چھوڑا بلکہ اس پر مسلم لیگی کے طعنے بھی دیے گئے لیکن حق و سچ کی بات کہنے سے باز نہ آئے،پیپلز پارٹی کے دور میں میرٹ نام کی چیز نہیں تھی نوکریاں ریوڑیوں کی طرح اپنے لوگوں میں بانٹی جاتی تھی لیکن ظلم نا انصافی کا اللہ بہتر بدلہ دیتا ہے اسی طرح پبلک سروس کمیشن کا قیام اور کردار بھی ہمیشہ یاد رکھا جاتا لیکن جاتے جاتے دودھ میں ایسی مینگنی ڈال دی کے اپنے کیے پر پانی پھیر دیا جب ایڈہاک، عارضی ملازمین کو امتحانی پراسس کے بغیر مستقل کر دیا ۔5سال میرٹ کا بڑی حد تک خیال رکھنے والوں نے جب میرٹ کا جنازہ نکالا۔ وزیرِ اعظم فاروق حیدر کے چند آستین کے سانپوں نے ا یسا کام کرایا ہے جس سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے۔قادیانیوں کو اسمبلی سے غیر مسلم قرار دینے جیسے اچھے اقدام والوں نے غیر شریعی اور ناانصافی والا کام کر کے دنیا تو دنیا آخرت میں جوابدہی کا سامان کیا ہے اسی پر اتفاق نہیں بلکہ چند لوگوں کی خوشنودی کے لیے چیف سیکرٹری اور دیگر بڑے ملازمین کی تنخوہوں میں مال مفت دل بے رحم کے طور پر خزانے کے منہ کھولے گئے۔ایسا خطہ جس میں عوام کو بنیادی حقوق حاصل نہیں،تعلیم،صحت اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں میسر نہیںغریب آدمی کا بجٹ اچھا کھانا نہیں کھا سکتا وہاں لاکھوں روپے صرف امیروں کی تنخواہوں میں اضافہ کردینا کونساانصاف ہے اس نا انصافی کا کبھی تو جواب دینا ہو گا۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے آزادکشمیر کے بجٹ کو دو گنا ضرور کرایا لیکن آج بھی وہ تعمیر و ترقی کے بجائے زیادہ تر انہی تنخواہوں کی نظر ہو تا ہے۔ایک کھرب 41ارب کے بجٹ میں سے ایک کھرب40کروڑ روپے غیر ترقیاتی جبکہ صرف 28ارب ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہیں یہ ہے وہ نظام جس سے یہ خطہ گزر رہا ہے صاف شفاف نظام ہوتا تو چھوٹا سا خطہ ضرور بدل چکا ہوتا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیںہو سکا اور نہ ہی ہوتا نظر آرہا ہے سوائے اس کے کہ عوام نظام کو بدلنے کا عزم کر لیں اور بلدیاتی انتخابات ،سٹوڈنٹ یونین کی بحالی اور صاف شفاف لوگوں کو کامیاب کرانے کی تحریک کریں۔ مسلم لیگ ن آزادکشمیر حکومت نے تیرویں ترمیم کا بھی بڑا کارنامہ کیا جس سے کشمیر کونسل کے اختیارات کم ہوئے عجلت کے باعث مکمل طور پر بہتری تو نہیں آ سکی لیکن ایک مشکل کام فاروق حیدر ہی کرسکتے تھے سو انھوں نے کیا۔لیکن وزیرِ اعظم فاروق حیدار اور ان کی پارٹی آئندہ کی توقعات اور لالچ نہ رکھتی ہوتی تو پاکستان میں مہاجرین کی 12سیٹوں کا کچھ ضرور کرتے جو ہمیشہ دھاندلی کا ذریعہ رہی ہیں اور اس بار بھی امید کی جارہی ہے کہ استعمال ہوں گی جس کا مزہ فاروق حیدر کو چکھنا پڑے گا۔ مسلم لیگ ن بلخصوص وزیرِ اعظم فاروق حیدر آج کل بڑے کھل کر کشمیر ایشو پر بول رہے ہیں اور خدشات اور منصوبہ بندی کو بے نقاب کر رہے ہیں اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ کشمیر ایشو پر کوئی بڑی تبدیلی دیکھائی دے رہی ہے ۔گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنایا جانا اس کی طرف پیش رفت ہے اور کشمیر کی تقسیم کا کوئی بھی اقدام لاکھوں شہدا کے خون سے غداری ہو گی آزاد کشمیر کے عوام سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے انھوں نے خطہ قربانیاں دے کر آزاد کرایا ہے لیکن فاروق حیدر وزیرِ اعظم ہوتے ہوئے محض آنسو بہانے کا کام کیوں کرتے رہے ہیں؟ جرات اور بہادری کے ساتھ عوام کو لے کر میدان میں کیوں نہیں اترے تھے؟کیا کہیںمصلحت اور اقتدار کا لالچ تو آڑے نہیں آ رہا تھا؟اور اب جب اقتدار کا سورج ڈھل رہا ہے اُس وقت جارہانہ بیٹیگ شروع کر دی ہے بہرحال جو بھی ہے سوالات ضرور بنتے ہیںلیکن کشمیر ایشو پر کسی بھی جماعت کو کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے خواہ اقتدار کو ٹھوکر ہی کیوں نہ مارنی پڑے لیکن ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے یہ نہ ہو کسی غیر سیاسی قیادت سے کام لیا جائے یقینا کوئی بھی سیاسی قیادت ایسا نہیں کرے گی کیونکہ یہ اُسکی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کشمیر ایشو کشمیری عوام کہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ فاروق حیدر درست ایشو پر الیکشن مہم چلا رہے ہیں کاش وہ پہلے بھی اسی طرح کی جاندار بیٹنگ کرتے اور بلدیاتی الیکشن کرا چکے ہوتے اور ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنے کا جرم نہ کرتے تو آج کوئی آپ کی حکومت پر انگلی نہ اٹھا سکتا لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ مجموعی طور پر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی حکومت ماضی کی تمام حکومتوں سے اچھی رہی ہے جس کی وجہ سے وہ آج بھی کھڑی ہے اور خوب مقابلہ کر رہی ہے تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بہت بڑا ڈینٹ نہیں ڈالا جا سکا ہے اور مریم نواز کے جلسوں سے ٹیم مزید چارج ہو گی جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ اچھی نشستیں حاصل کر لے گی۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری