پی ٹی آئی پاکستان سے آزادکشمیر تک

پی ٹی آئی پاکستان سے آزادکشمیر تک پاکستان میں ایک طویل عرصے تک دو سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ رہا ، نظریاتی طور پر مسلم لیگ کو دائیںبازو اور پیپلزپارٹی کو بائیںبازو کی جماعت سمجھا جاتا تھا ، دائیں بازوکا ووٹ دینی جماعتوں سے زیادہ مسلم لیگ کو جاتا رہا اور سوشلزم کے نظریے سے متاثر دیگر جماعتوں کے پیپلزپارٹی کو، روس کو افغانستان کے ہاتھوں شکست کے بعد نظریاتی سیاست بھی دم توڑ گئی ، لیکن پاکستان میں دو جماعتیں یا دو نظریات کا کسی نہ کسی طور پر مقابلہ چلتا رہا ، پاکستان میں دو جماعتوں کے بجائے زیادہ جماعتوں کی ضرورت محسوس ہوتی رہی بلخصوص نوجوان ایک تیسری قوت کی ضرورت محسوس کرتے تھے ، پہلے سے پاکستان میں موجود جماعتیں اس خلا ء کو پر نہ کرسکی ، نوجوانوں کو اعتماد کے ساتھ دو جماعتوں کے مقابلے میںکھڑا کرنامشکل کام تھا ، جسے عمران خان کی صورت میں ایک بااعتماد شخص نے پورا کیا ، پی ٹی آئی کودائیں یا بائیں بازو میں سے کس طرف رکھا جائے یہ تو مشکل ہے چونکہ عمران خان کبھی مدینہ کی ریاست کی بات کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی چائنہ سے متاثر ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ نوجوانوں کو تیسری قوت کے طور پر کھڑا کرنے میں ضرور کامیاب ہو گئے ہیں وہ خلاء جو ایک عرصہ سے محسوس ہوتا تھا اسے پُرکرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ، عمراں خان کھلاڑی ہونے کی وجہ سے پہلے سے ہی مشہور تھے ، نوجوان انھیں پسند کرتے تھے ، سیاست میں آ کر انھوں نے اپنے خطابات سے نوجوانو ں کو متاثر کیا ،وہ جھوٹ بھی اتنے اعتماد اور خوبصورت انداز میں بولتے ہیں کہ وہ سچ محسوس ہوتا ہے ، انھیں بہترین موٹیویشن سپیکر کہا جاتا ہے ، اپوزیشن میں رہتے ہوئے بڑے بڑے اجتماعات کیے اور دو بڑی جماعتوں بالخصوص ان کی قیادت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ،او رملک کی تنزلی کا ذمہ دار ان کی کرپشن کو قراردیا اور لوگوں کو بتایا کہ یہی دو پارٹیاں حکومت کرتی رہی ہیں ، اس لیے تمام حالات کی ذمہ دار یہی ہیں ، اور اس میں کوئی زیادہ ٖغلط بھی نہیں تھا ، لیکن اس کے ساتھ تیسری غیر جمہوری حکومتوں کو نکال دینا بھی درست نہیں ہے ، پاکستان میں جتنا عرصہ جمہوریت رہی ، اتنا ہی عرصہ آمریت بھی رہی ، اس لیے ان دو جماعتوں کی ذمہ داری کے ساتھ غیر جمہوری قوتوںکا قصور اس سے بھی زیادہ ہے ، عمران خان اسٹیبلشمنٹ پر بھی الزام لگاتے رہے کہ ان جماعتوں کو لانے میں کردار ادا کرتے رہے ، لیکن جب خور اقتدار ان کے ذریعے ملنے کا موقع ملا تو ماضی کی سب تقرریں بھول گے ، چونکہ اقتدار ہی تو منزل ہے اور منزل کے حصول کے لیے سب کچھ کرنا جائز ہے ، پھر وہی جسے چوکیدار رکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے وہ سب سے بڑی وزارت لے گیا اور جو پنجاب کا سب سے بڑا چور تھا وہ پنجاب کا سپیکر بن گیا پھر وہی ایم کیو ایم جو دہشت گردوں کی جماعت تھی وہ اتحادی بن گئی اور اقتدار کے لیے جہانگیر ترین کے ہیلی کاپٹر کو استعمال ہوتے ہوئے دنیا نے دیکھا ، یوںاقتدار کے لیے نظریات کردار سوچ و فکر سب کچھ بہاڑ میں گیا ، پاکستان کے جتنے الیکشن ہوئے ان پر انگلیاں اٹھتی رہی الیکن ان انتخابات کوسب سے زیادہ متنازع سمجھا جاتا ہے، غیر جانبدار حلقوں نے بھی ان پر سوالات اور ان کو پاکستان کے پرانے تمام ریکارڈ توڑنے کا الزام دیا ۔ پاکستان میں پی ٹی آئی حکومت کو تین سال ہو گئے ، شروع میں حکومت عوام کو یہ بتاتی رہی کہ گزشتہ کرپٹ حکومتوں نے ملکی معیشت کابیڑا غرق کیا ہوا ہے ، اس لیے حالات بہتر ہونے کے لیے چھ ماہ لگے گیں، ہم نے جو کروڑوں نوکریوں کے وعدے کیے ہیں اور لاکھوں گھر بنانے کی بات کی ہے چورو ں ، ڈاکوئوں کے لیے احتساب کی بات کی ہے یہ چھ ماہ کے بعد پاکستان میں نظر آجائے گا ، ہم ایسی تبدیلی لائیں گے کہ ملک میں دودھ و شہد کی نہریں بہہ جائیں گی۔ پھر چھ ماہ گزرنے کے بعد حالات ٹھیک نہ ہوئے تو کہا ان چوروں نے بہت برے حالات کیے ہیں ، اس لیے سال میں تبدیلی آجائے گی ، عوام کو تسلی ہوئی اور امید بھی کہ چھ ماہ مزید مشکل ہیں ، ایک سال کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا ، لیکن سال کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے ، لیکن اپوزیشن والوں کو چن چن کر جیلوں میں ڈال کر کہا گیا کہ اب ملک کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے، چوروں کے احتساب کے نتیجے میں ملک ترقی کرے گا ، باہر سے دولت آئے گی ، اور ملک کا کاروبار زندگی بھی بہتر ہو گا ، عوام کی زندگیاں اب سکون سے گزریں گی ، لیکن سب ’’چوروں ــ‘‘کے جیلوں میں جانے کے باوجود مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ، احتساب پر ملک کی اعلیٰ عدالتیں بھی سوالات اٹھا رہی ہیں ، اور گرفتارملزمان کی اکثریت باہر بھی آگئی، بجلی جس کے بارے میں موجودہ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ حکومت میں زیادہ بنائی گئی ، لیکن ترسیل کا نظام بہتر نہیں ، ہم اسے ٹھیک کریں گے اب لوڈ شیڈنگ دوبارہ جوبن پر ہے ، مہنگائی نے عوام کی ایسی کمر توڑی ہے کہ غریب دو وقت کی روٹی سے محروم ہو گیاہے ۔ بے روزگاری میں تاریخی اضافہ ہوا ہے ، آئی ایم ایف سے قرضے لے کر ان کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے پٹرول ، بجلی ، گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کیا جارہا ہے ، ایسے میں عوام تبدیلی سے مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں ، جس کا اظہار گزشتہ عرصے میں پاکستان کے ضمنی انتخابات میں بھی نظر آیا کہ حکومت کے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی کی اپنی سیٹیں بھی اپوزیشن نے حاصل کی ہیں ۔ پاکستان میں پی ٹی آئی حکومت کی تین سالہ ناقص کارکردگی کی موجودگی میں آزادکشمیر میں ہونے والے انتخابات میں پی ٹی آئی اچھی کارکردگی دیکھا سکے گی ، یہ آنے والا وقت بتائے گا ، تا ہم ایک ماہ قبل تک چھوتھے نمبر پر دیکھائی دینے والی جماعت اب تین جماعتوں کے درمیان مقابلے میں شامل ہے اور مجموعی طور پر ایک اچھا منشور بھی عوام کے سامنے پیش کر چکی ہے تاہم سب سے اہم ایشوء مسئلہ کشمیر ہے۔جس کے حوالے سے آزادکشمیر کے عوام میں کافی تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کا آٖغاز گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے ہوا ہے ، جس سے مسئلہ کشمیر متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے ، گلگت کے عوام کے مسائل مختلف تھے وہ صوبہ بنانے کی حق میں اس وجہ سے تھے کہ ان کو حقوق حاصل نہیں تھے وہ نہ آزادخطہ تھا ، نہ صوبہ،جس کی وجہ سے محرومیاں تھی ،لیکن آزادکشمیر کی صورتحال مختلف ہے یہاں کے عوام سو فیصد صوبہ بنانے کے خلاف ہیں اس کی وجہ سے یہ نہیں کہ یہ پاکستان سے ملنا نہیں چاہتے بلکہ رائے شماری سے سارے کشمیر کی آزادی کے بعد پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں ، آزادکشمیر کی تمام بڑ ی جماعتیں الحاق پاکستان کے حق میں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کا حل رائے شماری سمجھتی ہیں ، حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے اس سے پہلے کسی سٹیٹس کو تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہیں ، پی ٹی آئی آزادکشمیر میں کھل کر صوبہ بنانے کی بات تو نہیں کرتی لیکن اپنے منشور میں موجودہ سٹیٹس کو متاثر کیے بغیر آزادکشمیر کو وفاقی پالیسی ساز اداروں میں نمائندگی کی بات کرتی ہے ، آئینی اداروں میں صوبہ بنائے بغیر کیسے شامل کیا جاسکتا ہے ، اس پر سوالات پیدا ہور ہے ہیں ،اور ایسے تقسیم کشمیر کی طرف پیش قدمی سمجھا جا رہا ہے آزادکشمیر کے عوام آج طویل عرصہ گزر جانے کے باجود بیس کیمپ کی حیثیت تبدیل کرنے کے حوالے سے کسی بھی تبدیلی کے حق میں نہیں ، پی ٹی آئی کو الیکشن مہم میں کشمیر ایشو پر دو ٹوک موقف اپنا نا ہو گا،ورنہ عوام میں پائے جانے والے شکو ک و شہبات ان کو بامشکل تیسرا نمبر ہی دے پائیں گے۔خواہ اس کے لیے جس طرح میرپور میں وزیر امورکشمیرایک ووٹ کی لیڈ پر ایک کروڑ روپے دینے کے جتنے اعلانات کریں اور پیسوں کی گھٹیاںپھکتے رہیں ، اس پر عوام سمجھوتا نہیں کریں گے ، پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ تین ماہ میںبلدیاتی انتخابات کرائے گی، اعلان بہت اچھا ہے لیکن پاکستان میں تین سال میں عمل دیکھائی نہیں دیتا ، آزادکشمیر کے عوام کیسے اعتماد کر لیں؟ پی ٹی آئی کو آزادکشمیر انتخابات میں حکومت پاکستان کی کارکردگی ، کشمیر ایشو پر پالیسی ، چند لوٹوں کو ٹکٹ دینا جو کہ پانچ سال مسلم لیگ ن کی حکومت میں وزیر کی حیثیت سے رہے اور کرپشن کے الزمات میں سوالات کا سامنا تھا راتوں رات صاف شفاف ہو کر ٹکٹ کا حق دار بننے کا راز بھی جاننا چاہتے ہیںاور کارکنان سراپا احتجاج ہیںجبکہ پارٹی اندرونی اختلافات کا شکار بھی ہے۔جس کے دو گروپ واضح طور پر آمنے سامنے ہیں ، ایسے میں مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کی قیادت اور عمران خان بھی دورہ کریں گے۔کیا وہ عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوں گے ،یہ آنے والے دن بتائیں گے تا ہم صاف شفاف انتخابات سے چند سیٹیں حاصل کر لینا پی ٹی آئی کے لیے زیاد ہ بہتر ہو گا کہ وہ دھاندلی سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے۔چونکہ آزادکشمیر احساس علاقہ ہے اقتدار آنے جانے والی چیز ہے ، ملک پاکستا ن سے محبت رشتہ زیادہ اہم ہے ، عوام کے جذبات اور رائے کے احترام میں ہی سب کے لیے بہتر ی ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری