جوتے مارنے کی نہیں،با شعورہونے کی ضرورت ہے

جوتے مارنے کی نہیں،با شعورہونے کی ضرورت ہے شفقت ضیاء آزاد کشمیر کے 25جولائی کو ہونے والے انتخابات کی انتخابی مہم پورے جوبن پر ہے ۔تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کارکنان کو جوش وولولہ دلانے اور عوام کو اپنی طرف قائل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے ۔آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار 3بڑی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے تینوں جماعتوں کی مرکزی قیادت بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر رہی ہے اپوزیشن جماعتوںکے قائدین حکومتِ پاکستان کی کشمیر پالیسی پر سخت تنقید کر رہی ہے اور اس کے ساتھ مہنگائی جس سے آزادکشمیر کے عوام بھی متاثر ہوتے ہیں کی وجہ سے آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں جبکہ پاکستان کی حکومتی پارٹی کے وزرا آزادکشمیر میں تعمیر و ترقی نہ ہونے کا ذمہ دار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو قرار دیتے ہیں اور مسائل کا حل ان سے نجات قرار دیتے ہیں۔ غداری کے فتوے اور نقد روپے دینے کی باتیں ہو رہی ہیں عوام بھی سب کی سن رہے ہیں اور سننا بھی چائیے۔دلیل اور عمل کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کا ہر ایک کو حق ہے لیکن ایک دوسرے کو ذلیل کرنے اور ایسی گفتگو جس سے کارکنان پر منفی اثرات پڑتے ہیں کسی طور درست نہیں ہے۔تینوں سیاسی جماعتوں کی قیادت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا کردار ادا کیا اور کس نے کس موقع پر کیا کیا سب تاریخ کا حصہ ہے کسی کا کردار بھی مثالی نہیں رہا البتہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عوام کا اتفاق رہاکہ رائے شماری کے علاوہ کوئی حل قبول نہیں، تقسیم کشمیر کسی صورت قبول نہیں،آزاد کشمیر کو صوبہ کسی صورت نہیں بننے دیا جائے گا۔25جولائی الیکشن کے دن عوام کو فیصلہ دیتے وقت بھی کشمیرایشو ہی کو سب سے مقدم رکھنا چاہیے اور اس کے بعد کشمیر کی تعمیر و ترقی اور دیگر معاملات کو رکھا جانا چاہیے، بدقسمتی سے چھوٹا سا خطہ آج بھی بے شمار مسائل کا شکار ہے تعلیم،صحت اور پانی جیسے بنیادی مسائل آج بھی حل طلب ہیں لیکن یہ کہہ دینا کہ کچھ بھی نہیں ہوا یہ بھی درست نہیںہے ۔سڑکیں بنی ہیں، میڈیکل کالج ، یونیورسٹیاں ،ہسپتال بہت کچھ بننے کے باوجود عوام کی بہت سی ضروریات اب بھی موجود ہیں جس کے لیے عوام کو ووٹ دینے سے پہلے جائزہ لینا چاہیے کہ کس ممبر اسمبلی نے اپنا کردار درست طور پر ادا کیا۔قانون ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے قانون سازی میں کون کردار ادا کر سکتا ہے بکنے جھکنے والا تو نہیں ہے عوام کو پیسوں سے خریدنے کی کوشش کرنے والا تو نہیں ہے چونکہ جو خرید و فروخت کرنے والا ہو گا وہ عوام کے مفادات کا خیال نہیں رکھے گا وہ اپنے مفادات کا ہی خیال رکھے گا۔بلخصوص ایسے لوٹے جنہوں نے گزشتہ حکومت میں 5سال لگائے اور آج کسی دوسری پارٹی کا رخ کر دیا ہوا کے رُخ پر چلنے والے بے ضمیروں سے خیر کی توقع رکھنا عبس ہے۔ وفاقی وزرا کی طرف سے جس طرح نوٹ پھینکنے کے واقعات سامنے آئے اور اعلانات ہوئے اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے اور پیسوں کے زور پر انتخابات کے موقع پر آنے والے پراشٹروں کا راستہ بھی روکنا ہو گا۔جوتے مارنے سے مسائل حل نہیں ہوتے شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔باغ میں وفاقی وزیر پر جوتا مارنے والے کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کے بجائے اخلاقیات کا درس دینے کی ضرورت ہے۔غیرت اور بہادری کا تعلق جوتے پھینکنے ،گالیاں دینے اور کسی کوذلیل کرنے سے نہیں ہوتا بلکہ سیاسی بصیرت سے ہوتا ہے اگر کشمیری قوم کی توہین ہوئی ہے تو قوم کے پاس موقع ہے ووٹ کے ذریعے اپنے شعور کا ثبوت دے نہ کہ غیر اخلاقی حرکتوں سے اپنی پستی کا ثبوت دیں آزادکشمیر پڑھے لکھے باشعور لوگوں کا خطہ ہے دلیل اور منطق سے جواب اور اُس کا ثبوت دینا چائیے، وہ جو لوٹے بنتے ہیں اور ہر سال پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں یا جو سرمائے کے آگے ڈھیر ہو جاتے ہیں جو ضمیروں کا سودا کرتے ہین ان بکنے والے بے ضمیروں کو ناکام بنا کر باشعور کشمیری ہونے کا ثبوت دیں اگر ایساا کر دیا تو آئندہ آپ کا سودا لگانے کی جرات نہیں کر سکے گا کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ دیں اس کی کاکردگی اور پرگرام کودیکھتے ہوئے ووٹ دیا جائے۔وفاق میں حکومتی پارٹی پی ٹی آئی کی کارکردگی بھی سامنے ہے اور آزادکشمیر میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی کارکردگی بھی سامنے ہے اور سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو بھی سامنے رکھا جائے۔سب سے بڑھ کر اپنے حلقے کے امیدواروں کا پوری دیانتداری سے جائزہ لیا جانا چاہیے ہوا کے رُخ پر چلنے والے لوٹوں کو کسی بھی صورت ووٹ نہیں دینا چائیے اگر عوام نے اس بار شعور کا مظاہرہ کیا تو نسلوں کا مستقبل بن جائے گا ورنہ مستقبل کا نقشہ بڑا گھمبیر ہو گا جس میںسرمایادار کرپٹ لوگ پیسوں کے زور پر سیاست کو کاروبار بنا دیں گے۔سیاست جب کاروبار بن جائے گی اور اہل اور باکردار لوگوں کی جگہ کرپٹ لوگ اقتدار میں آجائیں گے تو نسلیں تباہ ہوں گی اپنے وقتی مفاد کے لیے قوم کے مستقبل کو دائو پر لگانے والے قومی مجرم ہیں جو کسی معافی کے مستحق نہیں ہیں۔25جولائی کو آزادکشمیر کے عوام کے شعور کا امتحان ہے جوتے مارنے کی نہیں شعور کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے الیکشن کمیشن کو بھی قواعد و ضابطہ پر عمل درامد کرانا چائیے وفاقی وزیر کے حوالے سے خط لکھ دینا یا آخر میں کشمیر کی حدود سے نکال لینے والے اقدامات بروقت اور زیادہ سخت کی توقع کی جاتی تھی آزدکشمیر کے الیکشن اہم نوعیت کے ہیں یہ انتہائی حساس خطہ ہے صاف شفاف ا لیکشن میں ہی سب کا بھلا ہے جس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی تو ہے ہی لیکن سیاسی جماعتوں کی قیادت کی بھی بڑی ذمہ داری ہے جو زبان استعمال کی گئی وہ غیر ذمہ دارانہ ہے قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ پر امن صاف شفاف الیکشن ہو سکیں

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری