کیا ترابی بھی بِک گیا؟

کیا ترابی بھی بِک گیا؟ شفقت ضیاء جماعتِ اسلامی پاکستان کا قیام 1940میں پاکستان بننے سے پہلے ہوا ۔مفکرِ اسلام سید ابواعلیٰ مودودیؒ نے اپنے لٹریچر کے ذریعے پڑھے لکھے طبقے کو بے حد متاثر کیا پاکستان بننے سے پہلے دو قومی نظریے کو خوبصورت انداز میں پیش کیا اور اسلام کو ایک مکمل نظام کے طور پر قرآن و سنت سے مضبوط دلائل کے ساتھ رکھا سیاسی، سماجی،معاشی ،معاشرتی،خاندانی ہر پہلو سے لکھا اور خوب لکھا ۔علم کے اس سمندر نے قرآن مجید کی آسان زبان میں بہترین اردو تفسیر لکھ کر ایسی خدمت کی جو انہی کا خاصا ہے۔پاکستان،ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے لوگ ان کی خدمات سے متاثر ہوئے اور دنیا بھر میں اسلامی تحریکیں چلیں جن سے عوام متاثر ہوئے کئی ملکوں میں کامیابیاں بھی حاصل کیں،اسلام کے اس حقیقی تصور کولا دین قوتیںقبول کرنے کو تیار نہیں تھے اس لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور جمہوری انداز میں کامیابیوں کے باوجود موقع نہیں دیا گیا۔ پاکستان کو جب دو ٹکڑے کیا جا رہا تھا اقتدار کے پجاری ادھر ہم ادھر تم کے نعرے لگا رہے تھی ان کی فکر کے لوگ قربانیاں دے رہے تھے آج بھی پھانسیوں پر چڑھ رہے ہیں لیکن اس سب کے باجود جماعتِ اسلامی بنگلا دیش میں ایک بڑی قوت بن گئی ، پاکستان میں مولانا مودودی کی فکر سے متاثر بڑے بڑے لوگ نعیم صدیقی ہوں یا ڈاکٹر اسرار نے بہت پہلے کہہ دیا کہ اس جمہوریت سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی اور انہوں نے الگ جدوجہد شروع کی جماعتِ اسلامی پاکستان میں بارہا انتخابات میں شکست کے باوجود انتخابی سیاست کا حصہ بنی ہوئی ہے قاضی حسین احمد کے دور میں خرم مراد جیسے دانشوروں نے کوشش کی کہ کچھ تبدیلیاں کی جائیں سیاسی شعبہ میں تبدیلیاں لائی جائیں فرنٹ بھی بنا جو اس وقت بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا کہ ابھی ابتدائی مرحل میں تھا کہ انتخابات ہو گے بہر حال سب سے بڑی پر مغز اور اچھی کاوش تھی جو قاضی حسین احمد کے دور میں کی گئی لیکن جماعتِ اسلامی کے اندر اختلاف کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی۔ جماعتِ اسلامی نے کبھی مارشل لا کا سہارا لے کر اور کبھی مسلم لیگ اور پی ٹی آئی سے اتحاد اور کبھی مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے کوشش کی کہ وہ کامیابی حاصل کر سکے لیکن ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔بلکہ اس سے ہمیشہ نقصا ن اُٹھایا اس سب کے باوجود 75سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کا وجود باقی رہنا اس بات کی علامت ہے کہ سید مودودیؒ کی فکر جاندار ہے۔ جماعتِ اسلامی سب سے منظم اور اپنے اندر جمہوریت رکھنے والی جماعت ہے ورنہ سرا ج الحق جیسا غریب کا بیٹا اور ڈاکٹر خالد محمود جیسا درویش آدمی امیر نہ بن سکتے۔آزاد کشمیر میں جماعتِ اسلامی 1970کے بعد بنی اُس سے پہلے ایک عرصہ تک سردار عبدالقیوم مرحوم کہتے رہے کہ یہی خدمت میں ادا کر رہا ہوں اس لیے جماعتِ اسلامی کی ضرورت نہیں۔آزاد کشمیر کے عوام دینی مزاج اور تعلیمی شعور رکھتے ہیں۔جہادِ کشمیر میں جماعتِ اسلامی کا اہم کردار ہے۔عوامی خدمت کے بے شمار ادارے جن میں الخدمت فائونڈیشن ،ریڈ فاونڈیشن ، آغوش بہترین کام کر رہے ہیں۔زلزلے اور دیگر موقو ں پر جماعت کے کام کو سب نے سراہا۔اس کے باوجود انتخابی سیاست میں مسلسل ناکامی پر جماعتِ اسلامی کو کھلے دل و دماغ کے ساتھ سوچنا اور منصوبہ بندی کرنا ہو گی ورنہ عبدالرشید ترابی جیسے دن دیکھنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔عبدالرشیدترابی جنہیں مجاہدین کا پشتی بان اور نہ جانے کیا کیا کہا جاتا تھا آج اپنے اور پرائے کہتے ہیں کہ ترابی بھی بک گیا۔لاکھوں ، کروڑوں میں بکنا ہی بکنا نہیں ہوتا عہدوں کے لیے بھی اصول ،نظریات سے ہٹنا بکنا ہی ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اب ہر کوئی کروڑوں کا ذکر کرتے نظر آتا ہے لیکن میرا نہیں خیال کہ انہیں کروڑوں کی ضرورت تھی۔ جماعتِ اسلامی نے انہیں دوکان سے اُٹھا کر سب کچھ دیا امیر ہوتے ہوئے بھی نہ ہوتے بھی گھر، گاڑی، تنخواہ،سفر خرچ اور تمام تر اخراجات کے ساتھ اتنی عزت دی کہ آزادکشمیر، پاکستان ہی نہیں دنیا کے سامنے لیڈر کے طور پر پیش کیا اس کے بعد انہیں کروڑوں کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔البتہ ممبر اسمبلی کا چسکا بھی کوئی کم نہیں ہوتا گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے مشتاق منہاس کے حق میں بیٹھ جانے پر احتساب کیوں نہیں ہو؟اس لیے کہ موصوف خود امیر جماعت تھے؟ مثالیں تو صحابہ کی دی جاتی ہیں اُس قت کارروائی کیوں نہ ہوئی؟؟ایک عرصہ سے وہ اقتدار اور اختیار کے خواہش مند رہتے تھے جماعت اسلامی میں لابنگ کی اجازت نہ ہونے اور منصب کی خواہش نہ رکھنے کے باوجود وہ یہ عمل کرتے رہے اُس وقت شوریٰ کیا کرتی رہی۔اب اُن سے امارت بھی لے لی اور وہ ممبر اسمبلی بھی نہ بنیں تو کیا کریں؟اتنا بڑا لیڈر اقتدار اور اختیار کے بغیر کیسے رہ سکتا ہے انہیں ٹکٹ کیوں دیا گیا جبکہ باقی حلقوں میں نئی نوجوان قیادت سامنے لائی گئی اُن کے حلقے میں تو نثار شائق جیسا جاندار جوان موجود تھا وہ ان سے زیادہ ووٹ لینے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا عبدالرشید تربی تو کہتے ہیں میں نے جماعت کو کہا تھا اس عمر میں الیکشن ہارنے کے لیے نہیں لڑ سکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ مجاہدین کا پشتی بان اب بڈھا ہو گیا اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتا ویسے دیکھنے میں تو جوان ہی لگتے ہیں۔جماعتِ اسلامی کے اندر سے جو آوازیں آتی تھی کہ معاملات خراب ہیں؟ مفادات، عزیر و اقارب کو نوازنا ا نہیں دبایا کیوں جاتا رہا؟ جماعتِ اسلامی اس سب کچھ کے بعد سیکھ پائے گی یہ آنے والا وقت بتائے گالیکن عبدالرشید ترابی نے جماعت اسلامی کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہے۔ایسے میں امیر جماعتِ اسلامی ڈاکٹر خالد محمود نے شوریٰ کی مشاورت سے انہیں جماعت سے نکالنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس نے ثابت کیا کہ جماعتِ اسلامی ایک سیٹ نہ جیتنے کے باوجود منظم اور ڈسپلن میں سب سے آگے ہے بڑی بڑی جماعتیں یہاں بے بسی لاچاری کی تصویر نظر آتی ہیں جیسے مسلم لیگ ن جیسی بڑی سیاسی جماعت چوہدری نثار کو نکالنے کی ہمت نہ دیکھا سکی،پی ٹی آئی جہانگیر ترین پر کرپشن کے الزامات، الگ گروپ بنانے کے باوجود ہمت نہ کر سکی چونکہ عمران خان کے پر جلتے ہیں جماعتِ اسلامی آزادکشمیر نے سخت فیصلہ کر کے جماعتِ اسلامی کو دوسروں سے ممتاز بنایا ہے سخت فیصلوں کے دوررس نتائج نکلیں گے اگرچہ ایسے فیصلے بہت پہلے ہونے چاہیے تھے لیکن موجودہ امیر نے ثابت کیا کہ بڑے فیصلے بڑا آدمی ہی کر سکتا ہے۔ عبدالرشید تربی نے کس نیت سے اور کیوں ایسا فیصلہ کیا وہی بتا سکتے ہیں لیکن انھوں نے گھاٹے کا سودا کیا عزت کے بجائے ذلت کا فیصلہ کیا اُن کی بڑی خدمات اور قربانیاں ہیں لیکن شاید کئی غلطیاں بھی ہوگئی ہیں چونکہ اسلام کی خدمت مشکل کا م ہے۔نیت کی خرابی ہو یا تکبر و غرور مالی معاملات میں بد دیانتی ہو یا اختیارات کا غلط استعمال،مشکل اور بڑی ذمہ داریوں کی پکڑ بھی سخت ہوتی ہے یہ تو دنیا کی زندگی ہے اللہ آخرت کی ذلت سے ہر ایک محفوظ رکھے۔ جماعتِ اسلامی سیاسی طور پر مکمل ناکام ہو چکی ہے نئی سیاسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جماعت اپنے دعوتی،تربیتی پہلو پر مکمل توجہ دے اور سیاسی میدان میں الگ گروپ بناے جو عوام میں موجود ہو جماعت اسلامی کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہوتااسیے میں قیامت تک عوامی جماعت نہیں بن سکتے ۔ترابی تیار ہوتے رہیں گے اور جاتے رہیں گے اور مزید 70سال میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آ سکے گی اب حالات کافی بدل چکے ہیں ڈاکٹر خالد محمود جیسی قیادت کچھ نہ کر سکی تو جماعت کامیابی کبھی حاصل نہیں کر سکے گی۔بڑی تبدیلی کے بغیر جماعت اسلامی الیکشن کی سیاست میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے گئی بلکہ تنزلی کا شکار ہوتی رہے گئی ،تاہم پوری قوم کو غور کرنا ہو گا ہم کدھر جا رہے ہیں الیکشن میں عام آدمی توکیا ترابی بھی نہ بچ سکے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری