آزادکشمیر کے انتخابات اور کشمیریوں کا تشخص

آزادکشمیر کے انتخابات اور کشمیریوں کا تشخص تحریر شفقت ضیاء پاکستان میں مہنگائی ،بے روزگاری، بجلی ،پٹرول کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ، LPG(گیس) جس کا استعمال آزادکشمیر میں زیادہ ہوتا ہے اُس کی قیمتیں تاریخ کی بلد ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں 3سال قبل 1000روپے میں ملنے والا سلنڈر 2300روپے سے تجاوز کرگیا ہے ابھی تو گرمیوں کا موسم ہے سردیوں تک 3000تک پہنچنے کاخدشہ موجود ہے گیس مہنگی ہونے کی وجہ نااہلی اور بروقت فیصلہ نہ کرنا ہے جب گیس سستی مل رہی تھی اُس وقت خریدی نہیں گئی اور اب مہنگی خریدنے سے پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور عوام جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں اُن کے لیے بم ثابت ہو رہی ہے۔آٹا جو ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیںچینی جو 55روپے تھی موجودہ حکومت کے دور میں 110 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح دیگر اشیاء ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیںبے روزگاری میں اضافہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔کشمیر ایشو پر حکومتی پالیسی گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانا اور آزاد کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پاکستان کے موقف سے ہٹ کر وزیرِ اعظم عمران خان کا ریفرنڈم کرانے کا اعلان سمیت بے شمار سوالات کے باوجود آزادکشمیر کے عوام نے پی ٹی آئی کو کامیاب کر اکر ثابت کیاکہ پا کستان میں جو بھی اور جیسی بھی حکومت ہو انہیں قبول ہے۔ایسے میں انتخابات پاکستان کے ساتھ عبوری حکومت کے دور میں ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔اپوزیشن کی طرف سے دھاندلی کا واویلا اس حد تک تو درست ہے کہ آزادکشمیر میں انتخابات سے قبل الکٹیبلز کو توڑا گیا اور پھر ان لوٹوں کو کامیاب بھی کرایا گیا اور وفاقی وزراء کی طرف سے عوام کو لالچ اور اعلانات کیے گئے جو قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی وزیرامور کشمیر پابندی کے باوجود نہ صرف جلسوں سے خطاب کرتے رہے بلکہ وزیرِ اعظم پاکستان کے دورہ آزادکشمیر کے دوران ساتھ ساتھ رہے اور تقاریر کیں۔جس نے ثابت کیا کہ ان کے نزدیک قوانین کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اور اس کے ساتھ مہاجرین کی سیٹوں میں وفاقی حکومت نے ٹھپے لگائے۔ماضی میںبھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے البتہ آزادکشمیر میں پولنگ والے دن کوئی بڑی دھاندلی دیکھنے کو نہیں ملی وہی لوگ کامیاب ہوئے جو مقابلے میں تھے کوئی ایک بھی ایسا امیدوار نہیں جو مقابلے کی دوڑ میں ہی نہ ہوا ہو۔اس لیے اپوزیشن کو ہار تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے اور اپنی ناقص کارکردگی اور دیگر عوامل پر بھی غور کرنا چاہیے البتہ جمہوریت کے موجودہ طریقہ کار پر ایک بار پھر سوالات پیدا ہوئے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کیا جانا ضروری ہے جیسے پی ٹی آئی کی طرف سے 26نشستیں 6لاکھ ووٹوں سے اور ن لیگ کو 5لاکھ ووٹوں کے باوجود 6سیٹس ملنا اپوزیشن کو مجموعی طور پر 10لاکھ ووٹ ملنا اور حکومتی پارٹی کو 6لاکھ ووٹ ملنا غوور طلب ضرور ہے اور متناسب نمائندگی طرز پر انتخابات کی ضرورت بڑھ گئی ہے اس سے شخصی طور پر جس طرح اب کروڑوں سے اربوں تک اخراجات کر رہے ہیں خرید و فروخت کا بازار گرم ہو گیا ہے اس پر کنٹرول ممکن ہے ورنہ یہی حال رہا تو دشمن ممالک کے لوگ بھی کل خریدنے کے لیے آ جائیں گے۔اور یہ انتہائی خطرناک کھیل ہے سیاست کاروبار بنتی جا رہی ہے بدقسمتی سے اس میں تمام بڑی جماعتیں شامل ہیں الزامات ایک دوسرے پر لگائے جاتے ہیں لیکن جس کے بس میں جہاں ہوتا ہے وہ یہی کھیل کھیتا ہے۔آزاد کشمیر کے انتخابات میں وفاقی وزراء اوردیگر جماعتوں کی قیادت نے جو زبان استعمال کی انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے ایسی گندی سیاست اس سے پہلے دیکھنے کو نہیں ملی جس ملک و قوم کی قیادت ایسی ہو گی عوام کا کیا حال بنے گااس پر انہیں شرمندگی محسوس ہونی چاہیے آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں گندی زبان کے استعمال میں مشہور وزراء کو ہی آزادکشمیر کیوں بھیجا گیا؟جس طرح عوام کی تذلیل ہوئی اور بکنے والی قوم سمجھ کر کئی نوٹوں کے بنڈل اور کئی ہوائی اعلانات ہوئے جو انتہائی افسوس ناک پہلو ہے سیاست میں جو گندگی پھیلائی جا رہی ہے اس کے اثرات کسی کے لیے بھی اچھے نہیں ہوں گے۔ آزادکشمیر انتخابات میں پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل ہونے کے باوجود یہ غلط فہمی نہیںہونی چاہیے کہ وہ پاکستان میں اپنی کارکردگی یا عوام میں مقبول جماعت بن چکی ہے بلکہ یہ حقیقت تسلیم کرنی چائیے کہ پاکستان میں حکومت ہونے کا جو امیج حاصل تھا اُس وجہ سے کامیابی ملی ہے اس کے اثرات نہ پاکستان میں آنے والے انتخابات میں ہوں گے نہ آزاد کشمیر میں سوائے اس کے کہ کارکردگی پر توجہ دیتے ہوئے عوام کے مسائل کو حل کریں مہنگائی جو اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اسے کنٹرول کیا جائے اپنے انتخابی منشور کے مطابق تعمیر و ترقی بلخصوص بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کر کے مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے۔آزادکشمیر میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم آزادکشمیر کے لیے انٹرویو اور آزادکشمیر کی قیادت کو بلا کر جس طرح اسلام آباد میں ذلیل کیا گیا یہ بھی قابلِ افسوس ہے ۔پہلے تینوں جماعتوں نے ٹکٹوں کے لیے بنی گالہ ، رائیونڈ اور گڑھی خدابخشکے چکر لگائے اور ٹکٹوں کے نام پر بھاری فیس اور نہ جانے کیا کیا کرایا اور کامیابی کے بعد وزیرِ اعظم اور دیگر عہدوں کے لیے تذلیل کی،کشمیریوں کا تشخص کہاں گیا کہاں گئے وہ لوگ جو باعزت،باوقار برابری کی بنیاد پر بات کرتے تھے باقی کیسا مال بچا ہے؟ایسی قیادت میں جوقوم تیار ہو گی اُس کا اللہ ہی حافظ ہو گا اللہ ہمارے حال پر رحم کریں آج جن لوگوں نے یہ خطہ آزاد کرایا تھا اُن کی روح کو بھی تکلیف ہوئی ہو گی۔ یہ کیسی جمہوریت ہے اور کیسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے ممبران اسمبلی کو الیکشن جیتنے کے بعد بھی نہیں پتہ ہوتا کہ ہماری قیادت کون کرے گا ہم منتخب ہو کر بھی اپنے فیصلے خود نہیں کر سکیں گے عوام کے منتخب نمائندوں کی اس سے بڑی تذلیل کیا ہو گی با عزت اور باوقار راستے کو چھوڑ کر ہمارے سیاستدانوں نے کون سے راستے کا انتخاب کر لیا۔ہمارے فیصلے آزادکشمیر کے بجائے اسلام آباد میں اگر آج وزیراعظم کے ہو رہے ہیںتو اللہ نہ کرے کل ہمارے مستقبل کے فیصلے بھی وہاں سے ہی ہوں ۔کیا یہ سب واقعی آزادکشمیر کے ساتھ ہو رہا ہے بزرگوں نے خون دے کر یہ خطہ اس لیے تو آزاد نہیں کرایا تھا کاش آزادکشمیر میں کوئی لیڈر ہوتا جو اس سب کچھ کے خلاف آواز بلند کر سکتا خالد ابرہیم زندہ ہوتے تو ایک شخص کی آواز ہی ہوتی لیکن ضرور گونجتی۔لیڈرشپ کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے اللہ کو ئی بہتر نعم البدل دے آمین۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری