افغانستان ہو یا کشمیر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

افغانستان ہو یا کشمیر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں شفقت ضیاء افغانوں نے کبھی بھی غلامی کو قبول نہیں کیاآزادی کے لیے قربانیوں کی تاریخ رقم کی اوردنیا کی دو بڑی سپر پاور زکو عبر ت ناک شکست سے دوچارکیا۔روس نے اپنی طاقت کے گمنڈ میں افغانستان پر یلغار کی اس امید کے ساتھ کہ جلد پاکستان تک کامیابی کے جھنڈے گاڑیں گے ، ان بھوکے پیاسے لوگوں کی جدید ہتھیاروں کے سامنے نہیں چل سکے گی۔ افغانی ڈٹ گئے تو امریکوں نے موقع غنیمت سمجھا اور مدد شروع کر دی ۔پھر دنیا نے دیکھا افغان لڑے اور خوب لڑے روس کو اپنے نظریے سمیت شکست دی ، روس کے اندر سے کئی ملک بنے اور دنیا کی سپر پاوردنیا کو فتح کرنے کے خواب سمیت دھڑم ہو گئی،اشتراکیت کی شکست پر سرمایہ دارانہ نظام کا علمبردار امریکہ سپر پاور بنا اُس نے سوچا ہماری مدد سے روس کو شکست ہوئی تھی اب ہمارامقابلہ افغان کیا کریں گے ، دیگر ممالک کو ملاتے ہوئے امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا بہانہ بنا یا،جب دو طیارے ٹکرانے سے ٹریڈ سنٹر زمین بوس ہو گیا تو الزام اسامہ بن لادن پر لگایا اور افغانوں کو اسامہ بن لادن کے حوالے کرنے کو کہا گیا لیکن مہمان نواز افغانوں نے انکار کر دیا جس پر دنیا کی نام نہاد سپر پاور نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نیٹو افواج کے ذریعے افغانستان میں بارود کی بارش کی ۔ڈالروں کی خاطر اپنے اور پرائے سب نے کوئی کسر نہ چھوڑی لاکھوں بے گناہ لوگوں کا خون بہا۔پاکستان میں بھی دہشت گردی بڑھی اور غلط پالیسیوں کا بڑا نقصان اُٹھایا، افغانستان کو کھنڈرات بنا دیا گیا افغانوں کی سرزمین کو اُن ہی خون سے لالہ زار بنا دیا گیا۔بیرونی قبضے اور مداخلت کے خلاف کسی کی آواز نہ نکلی لیکن نہتے افغانوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی سرزمین پر کسی کے قبضے اور یلغار کو تسلیم نہ کیا اسی لیے شاید اقبال نے کہا تھا افغان باقی کہسار باقی الحکم للہ الملک للہ امریکہ اور نیٹو کی افواج تمام وسائل اور جدید ترین اسلحہ استعمال کرنے کے باوجود باضمیر بہادر ایمان کی حرارت والے افغانوں کے خلاف تمام حربوں کے باوجود کامیاب نہ ہوئے اپنے فوجیوں کے لاشیں اور مالی نقصان کے بعد واپسی کا باعزت راستہ نکالنے کے لیے سر پیر مارنے لگے اور اپنی فوجوں کو یہ کہ کر نکال لیا کہ ہم نے کابل میں مضبوط حکومت اور جدید اسلحہ سے بہترین فوج تیار کرلی ہے۔ اس لیے اب ہماری ضرورت نہیں رہی در اصل وہ اپنی شکست کو کھل کر تسلیم نہیں کر رہے تھے لیکن اندر سے مان چکے تھے کہ ان بوریا نشین ایمان والوں سے مقابلہ ممکن نہیں ہے یوں غاروں میں رہنے والے معمولی اسلحہ والے جب نکلے تو جدید اسلحہ بھی ہاتھ آتا گیا اور علاقے ایسے خالی ہوتے گئے جیسے تیز ہوا سے ریت کے ذرے اڑتے ہیں ۔ کابل تک فتح حاصل کرنے کے لیے دفاعی تجزیہ کار مہینوں کا سفر کہتے تھے جو دنوں اور گھنٹوں میں مکمل ہوا۔اشرف غنی نوٹوں کے جہازوں سمیت غائب ہو گئے اور طاقتور فوج جو ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب تھی صرف 30ہزار طالبان کے آگے ہاتھ کھڑے کرنے پر مجبور ہو گئی اللہ کی مدد اور ایمان کی طاقت کے علاوہ اگر کسی کو کچھ اور نظر آیا ہے تو وہ اندھا ہے،بصیرت اور بصارت سے آری ہے۔امریکہ اور اُس کے حواریوں کی تکلیف اور پریشانی سمجھ میں آتی ہے،کیوں کہ وہ اس شکست کو معمولی نہیں سمجھ رہے وہ اُس وقت سے ڈرتے ہیں جب روس کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوں وہ جانتے ہیں جس طرح اشتراکیت کی موت ہوئی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کا وقت بھی بہت زیادہ دور نہیں لیکن افسوس کہ ملک پاکستان میں بھی سیکولر طبقہ کے رنگ اڑے ہوئے ہیں اور منہ کھلے ہوئے ہیں ان کی تکلیف کی شدت میڈیا پر نظر آتی ہے۔اللہ کے دین کا علم اور سمجھ نہ ہونے اور دین سے بیزاری کی وجہ سے سرمایہ دار انہ انظام کے علم برداروں کی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور طالبان پر بھی سوالات اُٹھا رہے ہیں۔ مبارک ہو طالبان کی قیادت پر جنہوں نے فتح کے وقت عام معافی کا اعلان کر کے فتح مکہ کی یاد تازہ کی اور دشمنوں کے منہ پر تمانچہ مارا ہے عورتوں کے حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو تعلیم اور ملازمت باعزت اور شریعی طریقے سے کرنے کی اجازت دی ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ 20سال کی جدوجہد اور قربانیوں سے سیکھا ہے۔ امریکہ اور دنیا کی جدید فوج کو شکست ہی نہیں دی الحمداللہ دین اور دنیا کی تعلیم سے لیس قیادت بھی تیار کی ہے اس وقت تک اقدامات قابلِ تعریف ہیں لیکن ماضی میں طالبان کے خلاف جہاں دنیا بھر میں سازش ہوئی تھی اُن سے غلطیاں بھی ہوئی تھی۔ اس وقت تک کے اقدامات سے محسوس ہوتا ہے طالبان نے بہت سیکھا لیکن ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں دنیا بھر کی باطل قوتیں جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ان کے خلاف صف آراء ہیں کوئی موقع ضائع نہیں کریںگے۔ مسلمان ممالک کی قیادت بھی بدقسمتی سے انہی کے اہل کار ہیں اللہ کی مدد صبر، تدبر ، حکمتِ عملی اور اسلامی تحریکوں کی سپورٹ کے بغیر اچھی حکومت قائم کرنا مشکل ہو گا۔پہلی کامیابی سے دوسری کامیابی زیادہ مشکل اور بڑا چیلنج ہے جس کے لیے دینا بھر کی اسلامی تحریکوں کو اُن کی پشت پر آنا ہو گا اور جدید تعلیم سے لیس مختلف شعبوں کے ماہرین کو سیاست ،معیشت، معاشرت، تعلیم ،صحت ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کو تعاون کرنا ہوگا ، اگر طالبان ایک حقیقی اسلامی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا بھر میں ایک بار پھر اسلام کا علم بلند ہو پائے گا۔ اس موقع کو طالبان اور اسلامی تحریکوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔تمام افغان گروپوں کو ملا کر حکومت قائم کرنا ہی عوامی اور مضبوط حکومت ہو گی۔ افغانستان کی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال نہ کرنے اور دوسروں کو بھی مداخلت کی اجازت نہ دینے کا عزم قابلِ تحسین اور سختی سے عملدآمدکا متقاضی ہے طالبان کو ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا چونکہ اُن کا مقابلہ دنیا بھر کے ظالموں سے ہے جو اتنی بڑی شکست کو ہضم نہیں کر سکیں گے۔اُ ن کے لاکھوں ڈالر اور طویل ظلم جو انہوں نے کیا ہوا ہے وہ راتوں کو سونے نہیں دے رہا ہو گا۔بھارت بھی زخمی ہے اُس کے بہت ڈالر لگے ہیں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے اور کشمیریوں کو دبانے کا خواب ادھورا رہ گیا ہے اس لیے وہ بھی چالیںچلے گا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے اور توجہ دوسروں کی طرف دینے کی تمام کوششوں کی ناکامی پر پھڑپھڑا رہا ہے جس کی چیخیں اُس کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر سنائی دے رہی ہیں ۔ لیکن ایسے میں مظلوم کشمیریوں کی دعائیں آپ کے لیے ہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوم عوام کی دعائیں ہیں ، چونکہ دنیا بھر کی بڑی قوتوں کے تمام مظالم آپ نے برداشت کیے ہیں ، ننگا کر کے گرم پانی ڈالا جاتا رہا۔زندہ جلایا گیا کونسا حربہ ہے جو طالبان پر آزمایا نہ گیا ہو انسانی حقوق کے کسی علمبردار کو مظالم نظر نہ آئے، ظلم پھر ظلم ہوتا ہے جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ ہندوستان بھی ظلم کے سارے حربے آزما چکا ہے بچے، جوان، بوڑھے، عورتیں سب ہی ظلم کا شکار ہیں ۔دنیا خاموش ہے کیونکہ اُن کے کاروبار ہندوستان کے ساتھ ہیں اُن کے ملکوں میں سرمایہ جاتا ہے اُن کو اپنے مفادات عزیز ہیں اس لیے ہندوستان کی آٹھ لاکھ فوج کے مظالم کو وہ نہیں دیکھ سکتے۔لیکن ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ نیت خالص ہو مرنے اور مارنے کے لیے قوم تیار ہو اور مشکلات صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کا حوصلہ ہو تو مقدس خون رنگ لاتا ہے اللہ کی مدد آتی ہے اور دنیا کی سپر پاور لائو لشکر کے ساتھ ہونے کے باوجود ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ ہندوستان کی فوج اور جدید ترین اسلحہ دنیا بھر کی سپورٹ میں بہت جلد انشاء اللہ ریت کی دیوار ثابت ہو گی ۔ کشمیروں کی آزادی کی منزل بھی قریب ہے ، دنیا کا نقشہ بدلنے والا ہے مظلوم حاکم اور ظالم ٹوٹنے کو ہیں منزل قریب لیکن راستہ بہت مشکل ہے افغانستان ہو یا کشمیر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری