ادارہ پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تباہی اور موجودہ حکومت سے امیدیں

ادارہ پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تباہی اور موجودہ حکومت سے امیدیں شفقت ضیاء کشمیر جنت نظیر کی خوبصورت وادی پرل قدرت کا حسین شاہکار ہے۔قدرتی حسن اور جغرافیائی اعتبار سے پورے آزاد کشمیر میں منفرد حیثیت کی حامل اس وادی کو راولاکوٹ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے لیکن بہت پہلے اس کے حسن سے متاثر ہو کر کسی انگریز سیاح نے اسے پرل کہہ دیا تو اس کا دوسرا نام پرل پڑ گیا اس خوبصورت علاقے کو 74سال میں رنگ بھرنے کے بجائے گند بھرنے کا کام کیا گیا جس کا ثبوت بنجوسہ جھیل اورراولپنڈی سے راولاکوٹ داخل ہوتے ہوئے بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ماسٹر پلان پہلے موجود ہی نہ تھا لیکن ایک عرصے سے موجود ہونے کے باوجود خلاف قواعد تعمیرات سے شہر مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا ہے اس شہر کو خوبصورت بنانے کے لیے 1994میں پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(پی ڈی اے)کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بعد جزوی تکمیل شدہ پبلک ہاؤسنگ سکیم راولاکوٹ اور چھوٹا گلہ اسکیم پی ڈی اے کو محکمہ تعمیرات سے منتقل ہوئیں۔ادارہ ترقیات پرل نے پہلے سے کی گئی پلاننگ کو تبدیل کرتے ہوئے پلاٹ الاٹ کیے اور اس رقم کو حکومتی ہدایات کے برعکس خلاف قواعد تنخواہوں اور دیگر مدعات پر خرچ کر کے ایک ایسا آغاز کیا جس کا سلسلہ جاری رہا،پلاٹس کی الاٹمنٹ پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ہوتی رہی اور ہر دور میں اپنا حصہ لینے کا کام جاری رہا جس سے شہر کی قریب ترین ہاؤسنگ سکیم اور عوامی اہمیت کی ضرورت کی جگہوں پر بھی پلاٹ بنا کر الاٹ کر دیے گئے ایک بڑے ایریا کو کمرشل بھاری فیس لے کر بنا دیا گیا اور ادارے میں آنے والی آمدنی غیر ضروری کاموں اور تنخواہوں پر اڑانے کے سوا عوام کے مفاد کا کوئی کام نہ ہو سکا سیاسی چیئرمینوں نے ادارے کو تباہ کرنے میں زیادہ کردار ادا کیا ہر دور میں شکایات کے باوجود مافیاز کا احتساب نہ ہو سکا بلکہ وہ اپنا کام کرتے رہے۔یوں پبلک ہاؤسنگ اسیکم چند افراد کے لیے سونے کی کہن اور پبلک کے لیے مشکلات کا باعث بنتی گئی طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود سیوریج کا نظام ہے نہ سڑکیں چلنے کے قابل،ہر طرف گندگی کے ڈھیر ہیں یوں محسوس ہوتا ہے یہ کوئی غیر وارث علاقہ ہے جبکہ دوسری طرف ادارے میں عملے کی ایک فوج ہے جن کو سیاسی چیئر مینوں نے اپنے اپنے دور میں بھرتی کرنا ضروری سمجھا۔21سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ادارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی بجائے تباہ حال ہو گیا۔ہاؤسنگ اسکیم میں رہنے والوں کے مسائل کا ذکر کیا جائے یا شہر کے خوبصورت ترین علاقے میں سڑک پر بلدیہ اڈے سے لے کر آگے تک جو جگہ تھی جسے شہر کا دل کہا جا سکتا ہے جس طرح کے پلازے کھڑے کیے گئے وہ اس ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہی نہیں بلکہ ماضی کی حکومتوں کا ماتم بھی ہے۔مین سڑک پر بڑے بڑے کمرشل پلازے فیس لے کر منظوری دے دی گئی کسی کے پاس پارکنگ نہیں گاڑیاں سڑک میں کھڑی رہنے کی وجہ سے ٹریفک کے نظام میں خلل پڑتا ہے اور آئے روز حاثات پیش آتے ہیں ماسٹر پلان میں تعمیرات نہ ہونے کی وجہ سے شہر تنگ اور عوام کی مشکلات کا ازالہ کون کرے گا؟ پی ڈی اے نے پبلک ہاؤسنگ سکیم اور پلازوں کو ہی تباہ نہیں کیا بلکہ گلشنِ شہداء کے نام سے رہائشی اسکیم کے لیے زمین اور باقاعدہ منصوبہ بندی اور پلاننگ سے آغاز نہ کرتے ہوئے الاٹمنٹس سے کثیر رقم حاصل کر کے غیر متعلقہ اور غیر ضروری کاموں پر خرچ کر دیے قومی خزانے کو کبھی کسی فرم کے حوالے کیا گیا کھبی کسی، تنازعات اور عدالتوں میں معاملے کو جانے کے باعث اخراجات کے سوا عوام کو 25سالوں میں کچھ حاصل نہ ہو سکا۔الایٹوں سے وصول ہونے واالی رقم کا بڑا حصہ بھی تنخواہوں اور دیگر غیر متعلقہ کاموں پر خرچ کی جا چکی ہے اور مختلف فرموں نے بھی اپنا اپنا حصہ وصول کیا اور کام جوں کا توں ہے مختلف اداروں میں حکومتوں کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی رہیں ترقیاتی کاموں کی الاٹمنٹ کے خلاف قواعد ہونے کی نشاندہی بھی ہوتی رہی لیکن ہر دور میں مٹی پاؤ اور اپنا الو سیدھا کرو کی پالیسی سے ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا اور عوام پر بوجھ بن چکا ہاؤسنگ اسکیم میں الاٹیوں کے کروڑوں روپے طویل عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں جس میں ایک کنال کے 190پلاٹ اور 10مرلہ کے 230پلاٹ کی ابتدائی رقم دو کروڑ ارسٹھ لاکھ بتیس ہزار چار سوایک(2,68,32,401)بنتی ہے جبکہ بہت سے الاٹیوں نے تقریباََ ساری ادائیگی کی ہوئی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان لوگوں کو کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے۔؟ کیا عوام کے ٹیکسوں سے بننے والے اور چلنے والے ادارے اس لیے ہوتے ہیں؟احتساب نام کی کوئی چیز اس خطے میں موجود ہے؟ مسلم کانفرنس،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے اس ادارے کے ساتھ جو ظلم کیا ہے پی ٹی آئی حکومت صاف شفاف تحقیقات اور احتسا ب کر پائے گی یا یوں اپنا چیئرمین بنا کر اس تباہ حال ادارے کو مزید تباہ کرے گی یہ آنے والا وقت بتائے گا تاہم اب اس ادارے کے پاس کچھ نہیں بچا ہوا جس سے پی ٹی آئی مستفید ہو سکے اب اُن کے پاس ایک ہی حل ہے کہ صاف شفاف احتساب کرتے ہوئے اس ادارے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے جنگی بندیوں پر منصوبہ بندی کی جائے۔ گلشن شہداء ہاؤسنگ سکیم کو حکومتی توجہ اور خصوصی گرانٹ کے ساتھ تعمیر کرایا جائے تاکہ متاثرین جنہوں نے 25سال پہلے گھر بنانے کا خواب دیکھا تھا وہ پایا تکمیل تک پہنچ سکے یقینا اب وہ اس رقم میں تعمیر ہونا ممکن نہیں لیکن الاٹیوں کا کوئی قصور نہیں اس لیے انہیں اب مزید سزا نہ دی جائے باقی ہاؤسنگ اسیکم مکمل ہو یا نہ ہو ابتدائی الاٹیوں کو فوری طور پر ضروری کام کر ا کر قبضہ دیا جائے۔پی ٹی آئی حکومت اگر اپنا چیئرمین بنانا بھی چاہتی ہے تو ایسے فرد کو بنائے جو تباہ حال ادارے کو از سر نو اُٹھانے اور ان مشکل ترین مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ورنہ مزید انجوائے کرنے کا یہ ادارہ متحمل نہیں رہا ہے۔ عوام کی اب آخری توقعات پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت سے ہیں اب نہیں تو کبھی نہیں کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے وادی پرل کی خوبصورتی میں اضافے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے بڑے اقدامات کی اشد ضرورت ہے ماضی میں تباہ کیے جانے والے دیگر ادارے جن میں جامعہ پونچھ، میڈیکل کالج اور ٹیکنیکل کالج کی بلڈنگ کی عدم تعمیر شامل ہے پر بھی توجہ کی ضرورت ہے بلخصوص پی ڈی اے کو تباہ کرنے والوں کا سخت احتساب عوامی منصوبوں کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات سے ہی موجودہ حکومت اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے عوام کی توقعات پر موجودہ حکومت پورا اترتی ہے یا نہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا تاہم وادی پرل کے ساتھ بہت ظلم ہو چکے ہیں اب عوام کو اپنے حقوق کے لیے اُٹھانا ہو گا جن کو آج کی جدید دنیا میں صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت تک پوری نہیں ہو رہی۔حکومتی ادارے کو پیسے دینے کے باوجود ہاؤسنگ اسکیم مکمل نہیں ہو رہی صحت کی سہولتیں ہیں نا تعلیم کی ادارے چند لوگون کی عیاشیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں عوامی نمائندے حق نمائندگی ادا نہ کرتے ہوں تو عوام کو سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا اس لیے موجودہ حکومت کو کچھ وقت ضرور دیا جائے لیکن عوام کو اپنے حق کے لیے اُٹھے بغیر حق ملنا مشکل دیکھائی دیتا ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری