چہرے نہیں نظام بد

چہرے نہیں نظام بد شفقت ضیاء اسلامی جمہوریہ پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے چوہتر سال گزر گے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کے نعرے بلند کرنے والی ایک نسل اللہ کو پیار ی ہوگی لاکھوں قربانیاں دینے والے اور ان کی نسلیں اس نظام کیلئے ترس گئیں،ہر آنیوالے کے نعرے ،دعوے تو کیے ملک اور قوم کو کچھ نہ دیا جس ملک کے نام کی ابتداء اسلام سے ہوئی اس کو کبھی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی صورت اور کبھی جمہوری عمران خان کی صورت میں مدینہ کی ریاست بنانے کے حسین خواب دیکھاے گئے جس سے مولانا طارق جمیل بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ،افسوس چارسال گز رجانے کے باوجود اس کی طرف ایک قدم بھی مزید بڑھ نہ سکا آئین پاکستان اپنے اقتدار کوڈوبتے ہوے نظر آجاتا ہے لیکن وہ اسلام کا نظام جس کے بارے آئین پاکستان میںکہا گیا ہے سپریم ہوگاوہ تعلیم میںصرف اسلامیات کی چھوٹی سی کتاب کی صورت میںجبکہ عدالتوں میں آج بھی انگریز کا قانون ملے گا ،نسلیں انصاف کی تلاش میں زندگی سے محروم ہوجاتی نظرآئینگی ،معیشت میں تلاش کروگے تو سود کی صورت میں غریبوںکو نچوڑتے ملے گی ،سیاست میں دیکھنا چاہیں تو جھوٹ سے ابتداء اور جھوٹ پر خاتمے کی صورت میں خوب دستیاب ہے معاشرت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہوتو حکمرانوںکی توں توں میں میں اوربداخلاقی کی ساری حدیں پوری کرتے ہوئے قوم کے حکمرانوںسمیت لیڈر اپنے بچوںکوسکھاتے ملیںگے لیکن نہیںملے گاتواسلام نہیں ملے گا یہ کیسا پاکستان ہے جس میں سب کچھ ہے قدرت نے وسائل سے مالامال کیا ہوا ہے پھر بھی غربت اور بے روزگاری مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ ہے اب تو پوری قوم کی چیخیں نکل رہی ہیںپھر بھی سوچنے اور فکر کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو چور اور ڈاکو کہہ کر لیڈران تھکتے نہیں ہیں چہرے بدلنے کی فکر میں ہمیشہ کی طرح پھر لگے ہوئے ہیںنظام بدلنے کی فکر ہے نہ عمل، قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے اسلام کے نام کو بھی استعمال کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے اوراعلانات بھی کرتے ہیں کون نہیںجانتا کہ موجودہ حکمران نے اعلان کیا تھا کہ مدینہ کی ریاست بنائوںگاانصاف کا نظام ہوگا اور چار سال میںایک قدم بھی نہ بڑھانے کے باوجود پھر تقریریں ہورہی ہیں ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئیں ؟ بے روزگاری میں اضافہ کیوںہو ا ؟ پچاس لاکھ گھر بن گئے ہیں تولوگ بے گھر کیوں ہیں ،وزیر اعظم ہاوس اورگورنر ہائوس کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کردینگے ،یونیورسٹیاں بن گئیں؟کابینہ کی فوج ظفر موج نہیں ہوگی اس سے بڑی کابینہ تو پہلے بھی نہ تھی جی ہاں انہی عمران خان صاحب نے کہا تھا خودکشی کر لوں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائوںگا ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا قرض لینے کاریکارڈ کیسے حاصل کرلیا پھر بھی مدینہ کی ریاست بنائوں گا جس سود کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے وہ نظام کیسے کامیاب ہوسکتا ہے اللہ اور رسول پر ایمان ہے تو ان کی باتوںکو ماننا ہوگا سود سے مال نہیں بڑھتا صدقات اور خیرات سے مال بڑھتا ہے زکواۃ کے نظام کو درست کرنے او سود سے جان چھڑانے سے معیشت بہتر ہوگی لوگوںکو بے وقوف بنانے کے لیے جتنے مرضی دعوے کرتے رہومعیشت بہتر نہیںہوسکتی اللہ اور رسول سے مقابلہ کوئی نہیںکرسکتا ہے دو رنگی ختم کیے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ،چوہتر سال سے ملک اور قوم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے نام بدلے ہیں چہرے بدلے ہیں لیکن نظام نہیں بدلا گیا اب پھر چہرے بدلنے کی جدوجہد ہورہی ہے اس میںکوئی شک نہیں کہ حکومت ناکام ہوگئی اس نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ لانا تو دور کی بات ملک کو الٹا تباہ کردیا گیا ہے کوئی بھی شعبہ ایسانہیں ہے جس میں کوئی تبدیلی آئی ہو ہر شعبہ زندگی تباہ حال ہے سب سے بڑھ کر عوام بالخصوص غریب عوام کی زندگی عذاب بن چکی ہے لیکن اس کے باوجود محض چہرہ بدلنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے ایک سال اور دیا جاے قوم کی چٹنی بنا لے گا کافی لوگوں کو آرام آچکا ہے اور باقیوں کو بھی آجاے گا، حقیقی تبدیلی نظام کی تبدیلی کے بغیر نہیں آسکتی چہرہ بدل دینا ماسوائے مزید تباہی سے بچانے کے کچھ نہ ہوگا عدم اعتماد جمہوری طریقہ تو ہے لیکن ماضی سے زیادہ تبدیل نہیں جب جہانگیر ترین جہاز بھر بھر کر لارہا تھا اورعمران خان پھولے نہیںسمارہے تھے اور ساتھ فون کال بھی آئی تھی سنا ہے فون کا لز کا سلسلہ بند ہوگیا ہے اللہ کرئے ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے اور میرے ہم وطنو کا نعرہ بھی نہ بلند ہو اسی میں ملک اور قوم کا بھلا ہے قوم کو خوراک اچھی اور ایک نمبر ملتی نہیں ہے اس لیے اس کا حافظہ بھی کمزور ہوگیا ہے ورنہ پانچ سال کے بعد انتخابات کے موقع پرا نہیںسب دعوے بھول کیوں جاتے ہیں اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ قوم اپنے آپ کو تبدیل نہ کرسکی جو قوم اپنی حالت نہیں بدلتی اللہ بھی اس کی حالت نہیں بدلتا ،اور ایسی قوم پر اللہ کا عذاب ظالم حکمران کی صورت میں مسلط ہوتاہے حدیث میں آٹا ہے جیسے اعمال ہوتے ہیں ایسے ہی حکمران ہوتے ہیں قوم جب تک اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتی اللہ کی طرف سے ایسے عذاب آتے رہیں گے ایک جائے گا دوسرا آئے گا ملک اور قوم کا بھلا اسی میں ہے کہ ملک جس مقصد کے لیے بنا تھا وہ اسلام کا عادلانہ نظام نافذ کیا جائے جس کے لیے خود کو اور حکمرانوں کو بھی بدلنا ہوگا چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا ،جمہوریت کو حقیقی جمہوریت جس میںعوام کو آزادانہ ،منصفانہ ووٹ کا حق ہو جس میں جہاز بھر لانے اور پیسوںکی بوریوں کے منہ کھول کر ضمیر خریدنے کا سلسلہ بندہو اقتدار بچانے کے لیے بھی غیر جمہوری اور غیر آئینی حربوںسے بازآنا ہوگا ورنہ ملک مزید تباہی سے دوچار ہوگیا ہے ملک حقیقی اسلامی اور جمہوری نہ بننے کی قیمت پہلے ہی ایک بڑے حصہ کو گنو ا کردئے چکے ہیں اندرونی ،بیرونی سازشوں سے بچنے کا راستہ اپنے رب کی طرف پلٹنے کے سوا کچھ نہیں اقتدار کے پوجاری موجود ہ ہوں یاسابقہ حکمران ان کی دلچسپی صرف اقتدار سے ہے حل صرف عوام کے پاس ہے کہ وہ سچی توبہ کرتے ہوئے اپنے آپ کوبھی تبدیل کریںا ور ملک کے نظام کو بھی تبدیل کریں اسی میں سب کا بھلا ہے چہرہ تو تبدیل ہونے کو ہے اللہ کرے نظام بھی تبدیل ہوجائے چہرئے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری