امجد سرور شہید کے شہر میں

امجد سرور شہید کے شہر میں مجاہد آباد ایک طویل عرصے تک ہمارا بازار رہا،جہاں سے ہم سوداسلف بھی لاتے تھے اور راولاکوٹ جانے کے لیے بھی گاڑی پر یہاں سے ہی بیٹھتے تھے۔ جس جگہ بچپن، نوجوانی اور جوانی کا ایک بڑا عرصہ گزرا ہوا ُ س کی یادیں بھی زیادہ ہوتی ہے اور اُنھیں بھولنا بھی چاہے تو آدمی بھول نہیں سکتا۔چند روز قبل ریٹائرڈ صدر معلم سردار ممتاز خان نے فون کیا کہ جمعہ کو امجد سرور شہید اور دیگر شہید ا کے حوالے سے کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے،جس میں آپ کی شرکت ضروری ہے یہ آواز اور حکم اُس بھائی کا تھا جیسے خود بھی شاہد یہ علم نہیں کہ اُس کے شہید بھائی امجد سرور نے مجھے تیسرے حقیقی بھائی کا درجہ دیا تھا اور ساری زندگی آپنے عمل سے اس کا ثبوت بھی دیتا رہا۔ایسے میں نہ جانے کا تو سوال ہی نہیں بنتا تھا تاہم ماضی کی ساری یادیں تازہ ہو گی۔ وہ سارے شب و روز جو اس شہر میں گزرے تھے۔ وہ آندھی و طوفان، خوشیاں و غم ایسے میں یہ حکم بھی برادر محترم نے فرمادیا کہ بات بھی کرو، حکم پر سٹیج پر کھڑا تو ہو گیا سوچا درجنوں لوگ خطاب کر چکے اور ابھی بڑی لیڈر شپ ساری باقی ہے گھنٹوں بیٹھنے سے میں خود تھک چکا اور سٹیج پر بیٹھے شہیدکے عظیم والد کے لیے بیٹھنا کتنا مشکل ہو گا اور جن لوگوں نے ابھی خطاب کرنا ہے اُن میں کمانڈرمفتی مسعود اور اعجاز افضل خان بھی شامل ہیں۔جو گھنٹوں بولنے اور خوب بولنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ایسے میں مجھ جیسے طالب علم کی باتوں کی کیا حیثیت ہے اس لیے اتنا کہ کر کہ امجد سرور شہید سے تعلق کا لمبا عرصہ ہے وہ ایک باکردار اللہ سے تعلق اور محبت رسول ؐسے سرشار باشعور باعمل انسان تھا اور قلم کے ذریعے اپنی گزارشات آپ تک پہنچانے کا اہتمام کروں گا اجازت لے لی یوں وہ وعدہ نبھانے بیٹھا ہوں۔ کالج کا زمانہ طالب علمی تھا۔اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی تھی۔ نظریاتی سیاست کا دور تھا جب لوگ اپنے نظریات اور نعروں اور پرچموں کے رنگوں سے واقف بھی ہوتے تھے۔سوالات بھی کر تے تھے بحث اور ڈسکشن بھی ہوتی تھی اور لڑائی جھگڑے بھی خوب ہوتے تھے اور سب سے زیادہ دیواروں پر چاکنگ پرلڑائیاں ہوتی تھی۔ کارکن کسی بھی تنظیم کا ہوتا ہر وقت سر گرم نظر آتا تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ تو ایک تعلیمی ادارے کی طرح شب و روز کی ڈائری اپنے کارکنان کو دیتی تھی،جس کی رپورٹ ہر ہفتے بعد اجتماع کے اندر دینی ہوتی اور پھر دوسروں کے سوالات کے جوابات اور ناظم کی ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اُس رپورٹ میں نمازوں کی تفصیل کے جماعت کے ساتھ کتنی ہوئی اور بغیر جماعت کتنی پڑھی، قضا کتنی ہوئی؟ مطالعہ قرآن پورے ہفتہ میں کتنے دن اور کتنا کیا؟مطالعہ حدیث اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کتنا کیا اور کتنے لوگوں تک دعوت پہنچائی؟خصوصی رابطہ کتنے اور کون کون ہیں نام؟ اجتماعات میں شرکت اور دیگر تفصیلات کے ساتھ رپورٹ پیش کرنا اور سخت احتساب سے گزارنا سکول سے بھی زیادہ سخت تھا۔ لیکن جن لوگوں نے یہ طریقہ بنایا اُن کو سلام۔اب بھی یہ طریقہ کار ہے یا نہیں پتہ نہیں۔ تاہم تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام اسلامی جمعیت طلبہ کا خاصا تھا۔پوٹھی مکوالاں میرا گاؤں ہونے کے ناطے اور مجاہد آباد میر ا بازار ہونے کے ناطے اس سارے عرصہ میں میرے ہداف میں رہے۔ جمعہ والے دن بعد نماز جمعہ مجاہد آباد میں اجتماع ہوتا تھا جو پہلے مسجد اور پھر ساتھ ہی دفتر میں کرتے تھے۔ ابتدائی دوستوں میں امجد سرور شہید کے بڑے بھا ئی امتیاز سرور تھے جو اس شہر کے چوہدریوں میں بھی شمار ہوتے تھے۔اُن کے چچا اشرف خان کا گھر بھی ادھر ہی تھا اور بڑے بھائی ممتاز خان معلم شعبہ کے ساتھ تحریک سے بھی وابستہ تھے۔لیکن ہمارے اجتماع میں تین چار سے زیادہ طالب علم نہیں ہوتے تھے یہ وہ دور تھا جب ہورنہ میرہ اور مجاہد آباد ہمارے کمزور ترین یونٹ ہوتے تھے،ہم معمول کے مطابق اجتماع کے لیے باہر کھڑے تھے اور نوجوانوں کو شرکت کی دعوت سے رہے تھے میری نظر امجد سرور شہید پر پڑی،جو ایک مخصوص سٹائل میں دوستوں کے ساتھ گزرر ہے تھے میں نے اُنھیں دعوت دی کہ اس طرح ہمارااجتماع ہوتا ہے آپ بھی بیٹھیں۔اُنھوں نے تنزکے انداز میں کہا آپ لوگ پہلے اپنی تربیت کرو،نمازوں کی پابندی کرو میری فکر نہ کرو اور گزر گے حقیقت یہ تھی کہ وہ نماز کے پابند تھے اور امتیاز سرور قدرے سست، تاہم پھر وہ میرے خصوصی روبطہ کی فہرست میں شامل ہوگئے۔دوستی اتنی بڑھی کے بڑھتی ہی چلی گی۔آئے روز کبھی وہ میرے گھر اور کبھی میں اُن کے گھر جاتا اور کبھی کبھار جہڑی سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست نقی اشرف جو آج کل بلجیئم میں ہوتے ہیں اُن کے گھر ٹھہرنے ان دونوں کی خاندانی ناراضگیوں کے باوجود ہم ایک دوسرے کے گھرآتے جاتے رہتے،امجد سرور شہید ہمیشہ مسکراتے بلکہ شروع میں بہت زور سے ہنسنے کے عادی تھے لیکن دینی مطالعہ سے تبدیلی آتی گئی۔ لیکن مسکراتے ایسے جیسے گلاب کا پھول کھلا ہو۔اللہ نے خوبصورت شکل صورت کے ساتھ باطن کا بھی خوب صورت بنایا ہوا تھا۔ شعوری زندگی کا آغاز میڑک سے کرتے ہیں اللہ اکبر،ر ہیرو رہنما مصطفیؐ کے نعرے بلند کرتے ہیں عملا ً اللہ سے تعلق ایسا ہے کہ راتوں کے آخری پہر میں اُٹھنا معمول بنا دیتے ہیں ہر وقت ہسنے والا رورو کر دعاؤں کے لیے ہاتھ اُٹھاتاہے کہ نوجوان اسی نعصب العین کے لیے کارواں میں شامل ہو جائیں۔ مطالعہ قرآن و حدیث معمول بنا دیتے ہیں شروع میں لٹرلچر پڑھنے سے بھاگتے پھر مطالعے کے ایسے عادی ہو جاتے ہیں کہ کتابوں کی کتابیں پڑھ ڈالی تقریر سے دور بھاگتے رہے اورکچھ عرصے کے بعد اچھے مقرر بن گے، برائی سے نفرت اور اُ س سے روکنے کے لیے ہاتھ کا استعمال کرنا ایمان کا حصّہ سمجھتے،حکمت اور تنظیمی پالیسوں کی وجہ سے زبان کا راستہ اختیار کرنے پر راضی با مشکل ہوئے منشیات، فحاشی عریانی اور ہر برائی کے خلاف ننگی تلوارتھے اپنے ساتھ نو جوانوں کو لے چلنے اور اُن کی زندگیوں کو تبدیل کرنے کا گُر خوب جانتے، یہی وجہ تھی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ تنظیم کو حلقہ کی ایک قوت بنانے میں کامیاب ہوگے۔ امجد سرور شہید اپنے بڑے بھائی ممتاز خان سے ڈرتے اور بہت احترام کرتے تھے باقی ڈر نام کی چیز اُن میں نہ تھی۔ اللہ کے خوف کے علاوہ باقی ہر خوف ان کے دل سے نکل گیا تھا اوراللہ کی محبت اُس کی تمام محبتوں پر غالب تھی۔ قرآن پاک کی یہ آیت جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو ہلکے ہو یا بوجھل اکثر زبان پر ہوتی اور حدیث رسول ؐ جب کوئی برائی دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے تو دل میں برا جانو اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے وہ برائی کو ہاتھ سے روکنے کے قائل تھے انکی زندگی میں مجاہدانہ پن پایا جاتا تھا ہمیشہ سعاوت کی زندگی اور شہادت کی موت کی تمنا کرتے۔ دنیا کا ان کے ہاں کوئی مقام نہیں تھا آخرت کی منزل اور وہاں کی کامیابی ہی کی فکر رکھتے اسلام کی محبت اُس کے خون کی رگ رگ میں بستی تھی اور عمل سے نظر آتی تھی۔ اسلام کے غلبے اور کشمیر کی آزادی کا خواب اُسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔ ہربات میں مجھ سے مشور ہ کرنے اور ہر بات ماننے والا جب جہاد کشمیر کے لیے جانے کا ارادہ کر گیا تو میری حکمتوں اور باتوں کو بھی ہوا میں اڑا گیا اور آخری خط میں لکھا "میرے پیارے بھائی،جگری دوست میں بڑے معاذ پر جا رہا ہوں شہادت کی تمنا اور خواہش لے کر۔مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا پھر کچھ دنوں کے بعد ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔وہ جو اس نے عہد کیا تھا میرا جینا میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے اپنے عمل سے سب سچ ثابت کر گیا توقع ہے کہ ہمیشہ سچ بولنے والا قیامت کے دن مجھ گناہگار کو بھی بھائی کے رشتے کا لاج رکھتے ہوئے شفاعت ضرور کرے گا۔اللہ درجات کو بلند کرے اس عظیم نوجوان کی بہترین تربیت کرنے پر اس کے والدین اور اسلامی جمیعت طلبہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں علم کے ساتھ اچھی تربیت وقت کی ضرور ہے۔سردار ممتاز سرور، امتیاز سرور،مولانا اتفاق اور دیگر منتظمین شہدا ء کانفرنس کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک عرصہ کے بعد ایسے پروگرام میں شرکت کا موقع دیا۔ کانفرنس میں مقررین کی گفتگو اچھی تھی لیکن مقررین کی فہرست طویل ہونے کی وجہ سے تھکاوٹ کا احساس ضرور ہوا۔ نیز شہیدا کے حوالے سے معلوماتی گفتگوکی کمی محسوس ہوئی ہے۔امجد سرور شہید کے علاوہ ان14 شہدا کے حوالے سے مجھ سمیت کوئی معلومات لے کر نہ جا سکا،یہ جو لوگ موت کو سامنے دیکھتے ہوئے شہادت کے لیے گئے ہیں ان کی زندگیوں میں یقینا سبق ہے جن کی موت اتنی عظیم ہے ان کی زندگیاں بھی مشعل راہ ہیں۔مجاہدین کا کشمیر کی آزادی کا عزم اور تقسیم کشمیر کی ہر سازش کو ناکام بنانے کا عزم حوصلہ افزا ہے۔ جس تحریک میں امجد سرور شہید،عامر حفیظ شہید جسے ہزاروں نوجوانوں کا خون شامل ہے اُس کے خلاف پہلے بھی سازشیں ناکام ہوئی ہیں۔ آئیندہ بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گی ان کے مقد س لہو سے کشمیر ضرور آزاد ہوگا البتہ حق اور باطل،ظالم او رمظالم کی اس جنگ میں کون کس کے ساتھ کھڑا رہا یہ آزمائش ہے۔کامیاب وہی ہیں جو حق کے ساتھ ہے۔کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے۔ اسلام کا پرچم ضرور ساری دنیا میں غالب ہو کر رہے گا۔ امجد سرور شہیدکے شہر میں اس کی کمی تو تھی لیکن مشن جاری رکھنے کا عزم لیے نوجوانوں کی بڑی تعداداچھے مستقبل کی نویدہیں اللہ حق کے ساتھ زندگی کزارنے کی توفیق دے اور باطل کو مٹا دے آمین۔ 22 Attachments

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری