تاجدارِ ختمِ نبوتﷺ زندہ باد

تاجدارِ ختمِ نبوتﷺ زندہ باد محسنِ انسانیت ﷺ سے محبت مسلمان کے ایمان کا حصّہ ہے۔ ناموسِ رسالتﷺ کی شان میں گُستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مسلمان کا دل دکھی ہے۔ احتجاج کا طریقہ کار میں فرق ضرور ہے لیکن تمام امت مسلمہ کے مسلمان اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں پاکستان میں تحریکِ لبیک کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کے مطالبہ پر حکومت نے معاہدہ کیا جس پر عمل نہ کرنے پر دوبارہ احتجاج شروع ہوا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور کچھ جان سے بھی گئے۔جس پر حکومت نے تحریک لبیک کو دہشت گرد تنظیم کرار دیتے ہوئے پابندی لگائی لیکن دوسرے ہی دن پھر مذاکرات کیے اور ان کے گرفتار افراد کو رہا اور پابندی ختم کرنے کے لیے بھی انڈرسٹینڈنگ کہا جاتا ہے کہ ہو چکی ہے اسی کے نتیجے میں اس مسئلہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کیا گیا لیکن حکومت اسے پاس کرانے کے حق میں نظر نہیں آئی تاہم قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے تاجدارِ ختمِ نبوتﷺ زندہ باد اور غلامی رسول ﷺمیں موت بھی قبول کے نعروں کی گونج سنائی گئی جس سے ثابت ہوا کہ ان اسمبلیوں میں بھی بیٹھے ہوئے ممبران اگرچہ محسنِ انسانیتﷺ کے نظام کو عملاََ نافذ کرنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے لیکن محبت کی رمق ضرور موجود ہے۔کاش یہ بات بھی سمجھ جائیں کہ جس نبی ﷺ سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں اُن کا لایا ہوا نظام آج مغلوب ہے اس کے غلبے کے لیے جدوجہد کرنافرض ہے نبی مہربان ﷺ نے 23سال تک دن رات قرآن کے نظام کے لیے جدوجہد کی کوئی تنگی اور تکلیف ایسی ہے جو برداشت نہیں کی؟ لہولہان کیے گئے وطن کو چھوڑنا پڑا پیٹ پر پتھر باندھے، ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن اپنی جدوجہد کو اس وقت تک جاری رکھا جب تک دین غالب نہیں ہو جاتا اور پھر لاکھوں لوگوں کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگو میں نے آپ تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے کہ نہیں سب نے کہا بلاشبہ آپ نے اس کا حق ادا کر دیا ہے۔اس وقت اللہ کو گواہ کر کے کہا کہ اے اللہ تو گواہ رہنا میں نے یہ کام تکمیل کر دیا ہے اب اے لوگو تمہاری ذمہ داری ہے اس دعوت اور پیغام کو آگے لوگوں تک پہنچانے کی محبت ِرسولﷺ سے سرشار لوگ ہر دور میں اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتے رہے ہیں آج امت ِ مسلمہ مشکل دور سے گزر رہی ہے ذلت اس کا مقدر بن چکی ہے 57اسلامی ممالک کے حکمران دنیا پرست بن چکے ہیں۔غیروں سے ڈر تے ہیں۔ایٹمی پاکستان کا حکمران کہتا ہے میں مغرب کو جانتا ہوں اگر پاکستان فرانس کے سفیر کو نکالے گا تو دوسرے یورپی ملک میں آزادی اظہار کے نام پر یہی کچھ ہو گا تو کیا ہم پھر اس کے سفیر کو بھی واپس بھیجیں گے؟ سفیر کو واپس بھیجنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے کا لیکن پاکستان کو اس سے بہت فرق پڑے گا۔ہماری معیشت کا بیڑہ غرق ہو جائے گا۔اس لیے ہم سفیر کو نہیں نکال سکتے ان حکمرانوں کو کون سمجھائے عشقِ رسولﷺ سودوزیاں کے احساسات سے ماوراء ہوتا ہے۔رسول مہربانﷺ سے تو اللہ اور اس کے فرشتے محبت کرتے ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اللہ اور اسکے ملائکہ نبیﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو“ اللہ کی طرف سے درود کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ پر بے حد مہربان ہے۔آپ ﷺ کی تعریف فرماتا ہے آپ ﷺ کا نام بلند کرتا جس کی تعریف اللہ کر رہا ہے اس کے فرشتے کر رہے ہیں اس نبیﷺ مہربان کا گنہگار ترین امتی بھی آپﷺ کی ناموس پر کٹ مرنے کے لیے تیار کیوں نہ ہو۔رسول ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے باپ اور اولاد سے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔ رحمت العالمینﷺ سے محبت تو ایمان کا حصہ ہے ہی لیکن رسولﷺ کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیا گیا ہے آج تمام مسائل کا حل اس بہترین زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادی و اجتماعی نظام میں ہے۔محبت رسولﷺ کے دعوے اور تقریریں کافی نہیں ہیں اگر عملاََ اُس نظام کو لایا جائے تو دنیا کی کسی قوت میں اتنی جرات نہیں ہو سکے گی کہ وہ گستاخی کا سوچ بھی سکے۔محبت رسول ﷺ موجود ہو گی تو دنیا و آخرت میں سرخروحی یقینی ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا آدمی اس کے پاس ہے جس سے اس نے محبت کی کتنا ہی خوش قسمت ہو گا وہ شخص جسے محمد ﷺ کی قربت نصیب ہو گی لیکن محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ زندگی اس طرح گزاری جائے جس طرح گزارنے کا محبوب نے بتایا ہے۔اسلام محض ایک مذہب نہیں ہے بلکہ یہ دین ہے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔رسولﷺ کو غیر مسلموں نے بھی دنیا کا بڑا لیڈر مانا ہے اور مدینہ کی ریاست کو بہترین ریاست نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اس سے استفادہ بھی کیا ہے۔ان صولوں پر عمل بھی ہو رہا ہے لیکن بطورمکمل نظام کے بدقسمتی سے مسلمانوں کے ملکوں میں بھی آج نافذ نہیں ہے۔پاکستان جو بناہی کلمے کے بنیاد پر تھا آج 73سال بعد بھی محض دعوے ہیں کہ مدینہ کی ریاست بنائیں گے عملاََ کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ا ٓج بھی وہی سودی نظام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایایہ اللہ اور رسولﷺ کے خلاف جنگ ہے اللہ اور رسولﷺ کے خلاف جنگ لڑنے والے کہتے ہیں معیشت بہتر کرنے کے لیے فرانس، امریکہ اور دیگر دنیا کی قوتوں کا راضی رہنا ضروری ہے اللہ اور رسول ﷺ کو ناراض کر کے یہ تو قع رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔یا تو اللہ اور رسول ﷺ کو ماننا ہے تو اس کے فیصلوں کو بھی ماننا ہو گا یا پھر اُس سے انکار کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہونا ہو گا۔منافقت سے کامیابی ممکن نہیں ہے دو رنگی ختم کیے بغیر کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے ذلت کے سوا کچھ نہیں مل سکے گا۔منافقت سے انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی اُس میں رسوائی ہی مقدر بنتی ہے۔ نبی مہربانﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے جب وعدہ کرتا ہے خلاف ورزی کرتا ہے اور جب کوئی امانت دی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔ مدینہ کی ریاست میں کافروں سے زیادہ منافقین نے مسائل پیدا کیے تھے اور اسلام کو نقصان پہنچایا تھا۔مسلمانوں کے پاس قرآن کی صورت میں دستور زندگی اور نبی مہربانﷺ کی زندگی کا بہترین نمونہ موجود ہونے کے باوجود منافقت کی وجہ سے مشکلات کا دور دور ہ ہے۔سچ کے بجائے جھوٹ عام ہو چکا ہے وعدہ کر کے مکر جانا چلاکی سمجھا جاتا ہے امانت کا پاس نہیں رکھا جاتا۔اللہ کا کلام قرآن مجید جیسی امانت ہمارے پاس ہے اس کو دوسروں تک پہنچانے اور اس کے نظام عدل کو نافذ کرنے میں خیانت کی جا رہی ہے۔لوگوں سے جھوٹے وعدے کرنا مذاق بن چکا ہے ایسے میں رمضان المبارک کا یہ برکتوں والا مہینہ اچھا موقع ہے جس میں توبہ کرتے ہوئے اس بات کا عزم کیا جائے کہ اب زندگی اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت والی گزاری جائے گی۔قرآن و سنت کے نظام کے غلبے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو لگایا جائے۔قرآن کو محض ثواب کے لیے پڑھنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کی جائے رسول ﷺ کی زندگی انفرادی و اجتماعی کا مطالعہ کیا جائے اور اُس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈالا جائے۔ رمضان کے مہینے تک اپنے آپ کو نیک بنانے کے بجائے بقایا گیارہ ماہ بھی تقویٰ والی زندگی اپنائی جائے۔بدقسمت ہو گا وہ شخص جو اس ماہ مقدس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکاتاجدارِ ختمِ نبوتﷺ زندہ باد اور غلامی رسولﷺ میں موت بھی قبول ہے کے محض نعرے نہیں اسمبلیوں میں عملاََ اس کے نظام کے نفاذ کا اعلان کیا جاے کامیابی کا صرف یہی راستہ ہے کہ انفرادی و اجتماعی طور پر دین کو نافذ کیا جائے تمام مسائل اسی صورت حل ہو پائیں گے ورنہ دنیا اور آخرت کی ذلت سے بچنا ممکن نہیں ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری