بلدیاتی انتخابات کے التوا کی سازش،راولاکوٹ سمیت مختلف شہروں میںاحتجاجی مظاہر ے، وزراء کے پتلے نزرآتش

بلدیاتی انتخابات کے التوا کی سازش،راولاکوٹ سمیت مختلف شہروں میںاحتجاجی مظاہر ے، وزراء کے پتلے نزرآتش الیکشن ملتوی کرنے کے اقدامات کے خلاف لوگوں میں غم وغصہ، مختلف شہروں میں وزراء کے پتلے نزرآتش ، بارکونسل نے بل کو بدنیتی پر مبنی اقدام قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کا ساتھ دینے اور اسے مجاز فورم پر چیلینج کرنے کا اعلان کیا بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آئین میں مجوزہ مسودہ ایوان میں پیش ہونے کے بعد آزادکشمیر کے دیگر شہروں کی طرح راولاکوٹ میں بھی احتجاجی مظاہرہ مشیر حکومت کا پتلا نذر آتش، سازشوں کو قبول نہیں کریں گے،مقررین راولاکوٹ (سٹی رپورٹر پرل ویو) بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آئین میں مجوزہ مسودہ ایوان میں پیش ہونے کے بعد آزادکشمیر کے دیگر شہروں کی طرح راولاکوٹ میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا. بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے کے خبر آنے کے بعد مظاہرین کچہری ایریا میں جمع ہو گئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مظاہرین نے مشیر حکومت چوہدری رفیق نئیر کا پتلا نذر آتش کیا،علاوہ وزیر بلدیات خواجہ فاروق احمد کے خلاف بھی نعرہ بازی کی گئی. احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز رائٹس فورم کے صدر زاہد رفیق ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی راولاکوٹ کے امیر سردار عدنان رزاق, جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے رہنما خان افتخار خان، ایڈووکیٹ افتخار، سردار انور خان، نجیب ریاض، فیضان اعجاز اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے اور ترامیم کے حوالے سے ہونے والی سازشوں کو قبول نہیں کریں گے اور اس بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پیش کی جانے والی ترمیم کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے حکومت مجوزہ ترمیم اس لیے کر رہی ہے کہ اختیارات عوامی سطح پر نہ منتقل ہو سکیں۔رہنماوں نے کہا کہ ہم کسی صورت ایسا نیں ہونے دیں گے حکومت بلدیاتی انتخابات سے اس لیے خوف زدہ ہے کہ وہ نیں چاہتی کے عوام کے کاموں میں بجٹ خرچ ہو کیونکہ وہ اپنی گاڑیوں اور دیگر مراعات پر رقم خرچ کر رہی ہے حکومت کو عوام کی پروا ہی نیں ہے ہم عوامی حقوق کی خاطر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے احتجاجی مظاہرہ کے بعد ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں بلدیاتی آمیدواران کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور یہ فصیلہ کیا گیا کہ 15 اگست بروز سموار کو راولاکوٹ میں تمام بلدیاتی آمیدواران اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس بلایا جاے گا جس میں آہیدہ کے حوالے سے اہم فصیلہ ہو گا۔سردار طارق مسعود خان ایڈووکیٹ وائس چیئرمین آزادجموں وکشمیر بار کونسل نے کہا ہے کہ حکومت آزادکشمیر کی جانب سے الیکشن ایکٹ میں ترامیم کا بل اسمبلی میں پیش کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔اسمبلی قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے مگر بدنیتی سے بنایا گیا قانون،ایکٹ ناقابل قبول ہوگا۔الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد اسمبلی میں بل پیش کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔الیکشن کے لیے ووٹر فہرست ہا اور پولنگ سکیم فائنل ہوچکی ہیں ایسی صورت میں الیکشن ملتوی کرنا بنیادی حقوق متاثر کرنے کے مترادف ہوگا۔مجوزہ پیش کردہ بل الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد پیش کیا گیا جس کا اطلاق موثر باماضی نہ ہوگا۔اس طرح کے الفاظ بدنیتی پر مبنی ہیں،حکومت اگر کوئی قانون سازی کرنا چاہتی ہے تو وہ آئندہ بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے کرسکتی ہے لیکن اس ترامیم کا اطلاق حالیہ بلدیاتی الیکشن پر قانون کے مطابق نہ ہوگا۔بار کونسل اور وکلاء آزادکشمیر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت وقت کو تنبیہ کرتے ہیں کہ کوئی ایسا اقدام کرنے سے باز رہے جس سے آزادکشمیر کے اندر افراتفری کا ماحول پیدا ہو۔آزادجموں وکشمیر بار کونسل اس بل کے جملہ قانونی پہلوئوں کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی اور بار کونسل بدنیتی پر اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف بنائے گئے اس ترمیمی ایکٹ کو مجاز فورم پر چیلنج کرے گی اور بار کونسل سپریم کورٹ سے بھی رجوع کرے گی۔

متعلقہ خبریں