قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور اسلام آباد(پرل نیوز) قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، ٹیکس معاملات، ترقیاتی منصوبوں میں بے قاعدگی کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا، پرانا چیئرمین دوبارہ تعینات نہیں ہوسکے گا، نیب گرفتاری سے قبل مناسب ثبوت فراہم کرنے اور 24 گھنٹے میں ملزم کی عدالت میں پیشی کا پابند ہوگا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشریف کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں انتخابی اصلاحات سے متعلق بل کے بعد نیب قوانین میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا گیا۔ بل وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل نیب ترمیمی بل میں چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کردیا گیا ہے جس کے تحت چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے، ان کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج مل جائے گا۔ پرانا چیئرمین نیب دوبارہ تعینات نہیں ہوسکے گا نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورتی عمل 2 ماہ پہلے شروع کیا جائے گا، مشاورتی عمل 40 روز میں مکمل ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا، پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی، چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخصیت کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جاسکے گا۔ ڈپٹی چیئرمین کی تقرر کا اختیار صدر سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا جائے گا۔ ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے ترمیم کے ذریعے وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے ہیں۔ مالی فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے۔ ترقیاتی منصوبوں میں بےقاعدگی بھی نیب اختیار سے خارج کسی بھی ترقیاتی منصوبے یا اسکیم میں بےقاعدگی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی۔ کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کارروائی نہیں کرسکے گا۔ یہ بھی پڑھیں : الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق سابق حکومت کی ترامیم ختم احتساب عدالت کرپشن کیس کا فیصلہ ایک سال میں کرنے کی پابند ترامیم کے مطابق احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوگی۔ احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہوگی۔ احتساب عدالتیں کرپشن کیسز کا فیصلہ ایک سال میں کریں گی۔ نیب 6 ماہ میں انکوائری شروع کرنے، ملزم کو 24 گھنٹے میں پیش کرنے کا پابند نیب انکوائری کے لیے نئے قانون کے تحت مدت کا تعین کر دیا گیا نیب اب 6 ماہ کی حد کے اندر انکوئری کا آغاز کرنے کا پابند ہوگا، نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں کے اندر نیب کورٹ عدالت میں پیش کرنے کا بھی پابند ہوگا۔ گرفتاری سے قبل تسلی بخش شواہد کی موجودگی لازمی قرار نئے قوانین کے مطابق کیس دائر کرنے کے ساتھ ہی گرفتاری نہیں ہوسکے گی، نیب گرفتاری سے قبل تسلی بخش ثبوت کی دستیابی یقینی بنائے گا، نیب قانون میں ترمیم کرکے ریمانڈ 90 دن سے کم کرکے 14 دن کردیا گیا ہے، نیب ملزم کے لیے اپیل کا حق 10 روز سے پڑھا کر 30 روز کر دیا گیا ہے۔ ریفرنس دائر ہونے تک نیب افسر میڈیا میں بیان نہیں دے سکے گا ملزم کے خلاف ریفرنس دائر ہونے تک کوئی نیب افسر میڈیا میں بیان نہیں دے گا۔ ترامیم کے تحت ریفرنس دائر ہونے سے قبل بیان دینے پر متعلقہ نیب افسر کو ایک سال تک قید اور 10 لاکھ تک جرمانہ عائد ہوسکے گا، کسی کے خلاف کیس جھوٹا ثابت ہونے پر ذمہ دار شخص کو 5 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا بل پر اظہار خیال قبل ازیں نیب ترمیمی بل پر بات کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سابق وزیراعظم نہیں چاہتے تھے کہ اس ایوان میں قانون سازی ہو، سابق حکومت آرڈیننس کے ذریعے معاملات چلاتے رہے، ایک آرڈی ننس چیئرمین نیب کے حوالے سے جاری کیا گیا اور توسیع دی گئی اس کے بعد کچھ اور ترامیم کی گئیں جس کے ذریعے سول سرونٹس کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ نیب کو سیاست دانوں کو دیوار سے لگانے کیلیے استعمال کیا گیا انہوں نے کہا کہ بغیر کسی ثبوت کے سول سرونٹس کو جیل میں ڈالا گیا، سیاست دانوں کو ان کی آواز تبدیل کرنے کے لیے اس نیب کے قانون کو استعمال کیا گیا، ججز نے کہا کہ نیب کو سیاست دانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ آج ہم اس عقوبت خانے سے 22 کروڑ عوام کو نکالیں گے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم نے حلف لیا ہے کہ آئین کے تابع قانون سازی کریں گے، آج ہم اس عقوبت خانے سے 22 کروڑ عوام کو نکالیں گے جو اس میں آسکتے ہیں، ہم یہ قانون بھگت چکے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ دیگر لوگ اس کا شکار ہوں، نیب کے اس قانون میں ناقابل ضمانت اختیارات کے ساتھ 90 روزہ ریمانڈ تھا۔ نہ این آر او دینا چاہ رہے ہیں اور نہ لینا چاہ رہے ہیں وزیر قانون نے کہا کہ 90 روز کا ریمانڈ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے لیے ہوتا ہے جن کی ذہن سازی کی جاسکتی ہے، جب کئی جرائم میں ضمانت ہے تو پھر نیب کے کیسز میں ضمانت کیوں نہیں؟ اس لیے اس نیب قانون کے خلاف ترامیم لے کر آرہے ہیں، ہم اس نظام کو بہتر کرنا چاہ رہے ہیں، نہ این آر او دینا چاہ رہے ہیں اور نہ لینا چاہ رہے ہیں، یہ پارلیمان ایسا قانون نہیں بناسکتی جو اسلام سے منافی ہو۔ رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ نیب قانون مارشل لا کی پیداوار ہے، نیب قانون کو آرڈی ننس پر آرڈی ننس کے ذریعے انتقامی بنایا گیا، قانون کے ساتھ آرڈی ننس تواتر کے ساتھ لائے گئے۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018