0

کومت حریت کانفرنس، سیاسی جماعتوں اور اوورسیز کے ساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کا مقدمہ بین الا قوامی سطح پر لڑے گی،وزیراعظم آزادکشمیر

وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ حکومت حریت کانفرنس، سیاسی جماعتوں اور اوورسیز کے ساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کا مقدمہ بین الا قوامی سطح پر لڑے گی.اس مہم کو بین الاقوامی سطح پر منظم انداز میں چلانے کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے پوری کشمیری قوم کی نمائندگی کرے گی۔ اس مقصد کے لئے ہم نے وزیر اعظم پاکستان، وزارت خارجہ اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا ہے اور ہم اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر کے تمام لوگ اس متحدہ اور مشترکہ پلیٹ فارم سے ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کو آگے چلائیں گے۔ بھارت نے جس طریقہ سے دو تہائی ریاست پر جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اس چھڑانے اور آزاد کروانے کے لئے ہر شخص،تنظیم اور سیاسی جماعت کو اپنا ذاتی تشخص بھلا کر اجتماعی قیادت کے زیر اہتمام کام کرنا ہو گا جس کے لئے آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کا نہ صرف ہم کردار بحال کریں گے بلکہ کشمیری قوم کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ دنیا بھر میں جا کر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں کا نکتہ ء نظر پیش کرے جس کے لئے ہمیں حکومت پاکستان کی بھی بھرپور معاونت حاصل ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر نے اوورسیز کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس وفد میں جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے بانی چیئرمین راجہ نجابت حسین (ستارہ پاکستان) کی قیادت میں مانچسٹر کی لارڈ میئر کونسلر یاسمین ڈار، سٹوک آن ٹرینٹ کے لارڈ میئر کونسلر ماجد خان، تحریک حق خود ارادیت اور کشمیر کونسل(ای یو) کے نمائندے سردار محمد صدیق خان، کنول حیات کشمیری و دیگر راہنماء شامل تھے۔ وفد نے وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر سے جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کر کے اوورسیز کشمیریوں کی طرف سے چلائی جانے والی تحریکی سرگرمیوں اور پاکستان و آزادجموں وکشمیر میں فلاح و بہبوداور دیگر معاملات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام جہاں مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے عوام کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں وہیں وہ آزاد جموں کشمیر کی فلاح و بہبود او رپاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لئے بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی وزیر اعظم آزادجموں کشمیر کے ساتھ مل کر بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور پوری کوشش ہو گی کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کا کیس اور ان کا حقیقی نقطہ ء نظر عالمی سطح پر دنیا کے ہر ایوان میں، دنیا کے ہر پارلیمان میں اور دنیا کے ہر دارالخلافہ میں پہنچانے. آزاد کشمیر کی قیادت اور حریت کانفرنس سمیت ان تمام لوگوں کو خصوصا نوجوانوں کو، خواتین کو اور ڈائسپورا کے نمائندوں کو جو مختلف ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مختلف کونسلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں انہیں بھی منظم کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر نے اپنی طرف سے تحریک آزادی کشمیر کے لئے کام کرنے والے تمام لوگوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی کی کمزوریوں اور کوتائیوں کا تدارک کرتے ہوئے ہم سارے مل جل کر ریاستی عوام کے حقوق کی جدو جہد کریں گے اور اس مقصد کے لئے ہمیں بھارت نے قانون کے زریعے، افواج کے زریعے، سپریم کورٹ کے زریعے جس طریقہ سے دبانے کی کوشش کی ہے اسے ایک منظم پروگرام کے تحت پسپاہی اختیار کرنی پڑے گی بلکہ بھارت کو مجبور کریں گے کہ وہ کشمیری عوام کا نقطہ ء نظر سنے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرے اور ریاست جموں کشمیر کے عوام کو ان کا حق خو د ارادیت دے۔ اس مقصد کے لئے ہر سطح پر جہاں ہم آزاد خطہ کے اندر، پاکستان کے اندر اور مقبوضہ کشمیرکے اندر تحریک کو مذید فعال کریں گے وہاں برطانیہ، یورپ اور دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی جا کر ریاستی عوام کا کیس منظم انداز میں پیش کرنے میں کوئی دقیقہ فر و گزاشت نہیں کریں گے اور ہماری پوری کوشش ہو گی کہ جو تنظیمیں، جو جماعتیں بیرون ممالک کام کر رہی ہیں وہ بھی اس تنظیم اس مشترکہ پلیٹ فارم کا حصہ بنیں اور اپنا کردار اجتماعی طورپر ادا کریں۔ اس موقع پر راجہ نجابت حسین نے وزیر اعظم آزادجموں کشمیر کو اپنی طر ف سے اور اپنی تحریک کی پوری ٹیم کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا جب کہ دونوں لارڈ میئرز اور سردار صدیق خان نے بھی کہا کہ وہ اپنے ریاستی عوام کے بنیادی حقوق کی جدو جہد میں آزاد حکوم ریاست جموں کشمیر کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔ آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہڑپ کرنا چاہتا ہے ہمیں عقلی،فکری اور شعوری طور پر اس یلغار کو روکنا ہے۔ میں نے دو سال آپ کے چینل پر بھی پروگرام کیا اور میں نے اپنا مافی الضمیر کھل کر بیان کیا۔مودی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کیا،اور بھارتی سپریم کورٹ نے ایک جعلی فیصلے میں اس کی توثیق کی جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے لیکن کشمیریوں کو اس پر کوئی پریشانی نہیں ہے انشائاللہ تحریک آزادی اسی طرح جاری رہے گی بھارتی سپریم کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا قتل عام کیا ہے افضل گورو کا معاملہ دیکھ لیں انڈین فوج ملکر یہ فیصلے کرواتی ہے لہذا ہمیں اس سے اسی فیصلے کی توقع تھی لیکن اس فیصلے سے کشمیریوں کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے تحریک آزادی کشمیر پہلے سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ جاری رہے گی اور ہم اپنی منزل الحاق پاکستان حاصل کر کے رہیں گے۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے جو تبدیلیاں کی ہیں ان کا مقصد ہندو وزیر اعلی لانا ہے جبکہ اصل یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر ایک عقوبت خانہ بن چکا ہے جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر پاکستان کے وزیراعظم نے بھرپور ردعمل دیا انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں خطاب کیا اور سیاسی و حریت کانفرنس سے انٹرکشن کیا وزیراعظم پاکستان کے خطاب سے کشمیریوں کو حوصلہ ملا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی اور حریت و سیاسی و مذہبی قیادت ایک پیج پر آئے،افواج پاکستان کے سپہ سالار نے کاکول اکیڈمی سے خطاب میں مسئلہ کشمیر پر خم ٹھونک کر بات کی جس سے بطور کشمیری مجھے حوصلہ ملا۔انہوں نے کہا کہ میں ایک سیاسی کارکن یوں،ساٹھ سال میرے والد محترم نے لوگوں کی خدمت کی اب یہ فریضہ میں انجام دے رہا ہوں،حضرت علی کا قول ہے کہ اختیار انسان کو بے نقاب کر دیتا ہے،میں یہ سمجھتا ہوں کہ آزادکشمیر میں زلزلے سے بھی بڑا زلزلہ تنویر الیاس کا اقتدار میں آنا تھا آزادکشمیر کے عوام کے ٹیکسوں کی پیسے کی مکمل حفاظت کی جائے گی اور جس نے بھی اس قومی دولت میں خیانت کی ہے وہ قانون کے مطابق اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہم ہندو توا ک مقابلہ کر سکتا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت سے توقعات ہیں قوموں پر مشکل ادوار آتے ہیں،آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد اگر اقتدار کی منتقلی ہو جاتی ہے تو اس سے استحکام آئے گا،سیاسیات کے طالب علم کے طور پر سمجھتا ہوں کہ انتخابات کا عمل تو جاری ہے امید ہے کہ بہتر ہو گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں