صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے اس اہم، نازک اور فیصلہ کن موڑ پر تمام سیاسی قیادت کو مسئلہ کشمیر پر متحد و متفق ہونا چاہیے اور مسئلہ کشمیر پر جب بھی مذاکرات ہوں تو یہ مذاکرات سہ فریقی ہونے چاہیے اور اُس میں کشمیری بھی مذاکرات کی میز پر ہوں کیونکہ مسئلہ کشمیر کے اصل اور اہم فریق کشمیری عوام ہیں اور کشمیریوں نے ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ مودی کی ہندوتوا پالیسیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا دو قومی نظریے پر پاکستان بنانے کا فیصلہ بالکل درست تھا کیونکہ ہندوستان اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام اور خود بھارت میں مقیم اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھے ہوئے ہے وہ یہ واضح کرتا ہے کہ بھارت دنیا کی سب بڑی جمہویرت نہیں بلکہ ایک ہندو آمریت ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے عوام کشمیر کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔میرے حالیہ امریکہ اوربرطانیہ کے دورے کے بعدبھارت عالمی سطح پر دفاعی پوزیشن پر آ گیا ہے یہ موقع ہے کہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جائے کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ کرایا گیا تو جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔دنیا کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے۔ آزادکشمیر کے دیرینہ مسائل میں میرپور میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا قیام، راولاکوٹ اور مظفرآباد ائیر پورٹس کی وسعت و بحالی جبکہ میرپور مظفرآباد مانسہرہ موٹروئے کی جلد تعمیر،میرپور میں سی پیک بزنس سنٹر کا قیام اور رٹھوعہ ہریام برج کی جلد تعمیر کے لئے میں ہر سطح پر اپنا کردار ادا کروں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں ایوان صدر کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں اپنے امریکہ اور برطانیہ کے دورے سے واپسی پر کشمیری صحافیوں کے اعزاز میں اپنی طرف سے ددئیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ ریاست کی عوام مودی کے 2019 کے اقدامات کو مسترد کر چکی ہے۔ میں نے خرابی صحت اور سخت سردی کے باوجود امریکہ اور برطانیہ جا کر نریندر مودی کو ہر محاذ پر للکارا اور دنیا کو دوٹوک پیغام دیا کہ انٹرنیشنل کمیونٹی مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم بند کرانے کے لئے فوری اقدامات اُٹھائے۔میں نے اپنے امریکہ اور برطانیہ کے دورے میں برطانوی پارلیمنٹ میں برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے خطاب اور امریکہ میں امریکی کانگریس مین سے اپنی ملاقاتوں میں عالمی برادری پر واضح کیا کہ اگر دنیا جنوبی ایشیا میں امن چاہتی ہے تو اُسے بھارت پر دباؤ ڈال کر ریاست جموں کشمیر کے عوام کو ان کا تسلیم شدہ حق خودارادیت دینا ہو گا۔صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے واضح کیا کہ بھارت کو عالمی سطح پر اپنا موقف تسلیم کرانے میں پسپائی کا سامنے ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی پرانٹرنیشنل کمیونٹی کشمیریوں کے موقف کی حمایت کرتی ہے۔بھارت دفاعی پوزیشن اختیار کرتا جارہا ہے عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی حساسیت کا احساس دلائیں کہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل نہ نکالا گیا تو خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہے گا۔ صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ تحریک آزادی کیلئے اوورسیز کشمیریوں کا کردار قابل ستائش ہے۔ طاقتور ممالک باالخصوص امریکہ اور برطانیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرائیں اور کشمیری عوام کو اُن کا حق خودارادیت دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب برطانیہ اپنے دو سو سالہ اقتدار کے خاتمے پر بر صغیر سے گیا اور کشمیری عوام 77سال گزر جانے کے باوجود بھی اپنی آزادی کے لئے آج تک اقوام عالم کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں کے درمیان کوئی بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جس سے خطے کا امن خطرے میں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کوئی بھی چھوٹی سی چنگاری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ لہذا مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے انٹرنیشنل کمیونٹی اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ عالمی برادری کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جنوبی ایشیاء میں قیام امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات کی میز پر کشمیری عوام کو بھی بٹھایا جائے کیونکہ اس مسئلے کے اصل اور اہم فریق کشمیری عوام ہیں۔صدرآزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریشہ دوانیاں بڑھتی جا رہی ہیں بھارت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیرمیں بلکہ خود بھارت میں بھی مقیم اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے۔ بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر اسٹیٹ اور جمہوریت ہونے کا دعویدار تھا لیکن اب مودی کی ہندوتوا پالیسیوں کے باعث بھارت کی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے اور بھارت کا مکروہ چہرہ ایک عالمی دہشت گرد کے طور پر دنیا کے سامنے نمودار ہوا ہے۔ بھارت نے نہ صرف بھارت میں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جس کے واضح اور دو ٹوک ثبوت کینیڈا کی وزیر جسٹن ٹروڈو نے کینیڈین پارلیمنٹ میں پیش کیے جس میں اُنہوں نے بتایا کہ کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث ہے اور اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک نے بھی بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے شواہد دئیے ہیں۔صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی مذاکرات ہوں تو مذاکرات سہ فریقی ہونے چاہیے اور اُس میں کشمیری عوام شریک ہوں کیونکہ مسئلہ کشمیر کے اصل اور اہم فریق کشمیری عوام ہیں۔ آزادکشمیر کے دیرینہ مسائل میں میرپور میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا قیام، راولاکوٹ اور مظفرآباد ائیر پورٹس کی وسعت و بحالی جبکہ میرپور مظفرآباد مانسہرہ موٹروئے کی جلد تعمیر،میرپور میں سی پیک بزنس سنٹر کا قیام اور رٹھوعہ ہریام برج کی جلد تعمیر کے لئے میں ہر سطح پر اپنا کردار ادا کروں گا۔ افطار ڈنر میں صدارتی مشیر سردار امتیاز،صدارتی سیکریٹری ادریس عباسی کے علاوہ صدراے کے این ایس امجد چوہدری،سابق صدر عامر محبوب،سید اکرم شاہ،صدرکشمیر جرنلسٹس فورم عرفان سدوزئی،سیکریٹری مقصود منتظر اخبارات کے ایڈیٹران راجہ کفیل احمد،شہزاد راٹھور،محی الدین ڈار،اعجاز عباسی،عابد عباسی،سردار عبدالحمید،جاوید اقبال،بشارت عباسی،خالد گردیزی، کاشف میر،پرسنل سٹاف آفیسر ہمراہ صدر آزادکشمیر سید کمال حیدر شاہ، بشیر عثمانی،عثمان طاہر،نثار کیانی، اعجاز خان،لطیف ڈار، ساجد چوہدری،نثار صائم،نقاش عباسی اور دیگر شریک تھے۔
