ڈیلی پرل ویو (نیوز رپورٹر) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں موسٹ سینئر وزیر حکومت کرنل (ر) وقار احمد نور نے ایک مشترکہ قرارداد ایوان میں پیش کی۔ اس قرارداد کی توثیق وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق سمیت کابینہ کے متعدد وزراء اور قائد حزب اختلاف جناب خواجہ فاروق احمد نے کی۔
قرارداد میں بھارت کی جانب سے پہلگام میں کیے گئے فالس فلیگ آپریشن، پاکستان پر بے بنیاد الزامات، بھارتی میڈیا کی اشتعال انگیزی، عام شہریوں کی گرفتاریوں، گھروں کو مسمار کرنے جیسے ظالمانہ اقدامات کی سخت مذمت کی گئی۔ ایوان نے واضح کیا کہ یہ اقدامات ایک منظم منصوبے کے تحت حق خودارادیت کی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں۔
مزید برآں، ایوان نے ہندوستان کی سیکورٹی کابینہ کے فیصلوں اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے اعلان کو بین الاقوامی قوانین اور علاقائی امن کے خلاف قرار دیا۔ قرارداد میں پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے دلیرانہ موقف کی مکمل تائید کی گئی اور افواج پاکستان کے کردار کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔
ایوان نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی طرف سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے اصولی مؤقف کی حمایت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے، اور ہندوتوا ایجنڈے کے خلاف دوٹوک موقف پر انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
ایوان نے کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے، قربانیاں دینے کے عزم کو دہرایا اور اقوام متحدہ و عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
قرارداد میں مقبوضہ کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت اور حریت پسند عوام کے جذبے، استقامت اور قربانیوں کو سراہا گیا، جبکہ قائد ایوان کے مؤقف کو کشمیری عوام کا اجتماعی مؤقف قرار دیا گیا۔