0

وزیر قانون میاں عبدالوحید: “عوام کو انسان سمجھیں گے تو ہی رشتہ قائم رہے گا

ڈیلی پرل ویو ۔وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور آزاد جموں و کشمیر میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سب ڈویژن انتظامیہ کا عوام کے ساتھ احترام کا رشتہ اس وقت تک قائم رہے گا جب تک نیلم کے عوام کو بلاتخصیص انسان سمجھا جائے گا۔

یہ بات انہوں نے اپنے بالائی نیلم کے 10 روزہ دورے کے بعد شاردا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سرگن ہائیڈل پاور پراجیکٹ پر پہلا حق اہلِ سرگن کا ہے، اور متعلقہ محکمے کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوامی حقوق تک ان کی رسائی یقینی بنائیں۔ وزیراعظم کو پراجیکٹ کی خستہ حالی سے متعلق خط بھی ارسال کیا گیا ہے۔ نیلم میں 13 ٹاورز منظور کیے گئے ہیں، اور جلد دور دراز علاقوں کو بجلی کی سہولت میسر آئے گی۔

انہوں نے محکمہ جنگلات، مال اور پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے اپنا قبلہ درست کریں، اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح بنائیں۔ میاں عبدالوحید نے کہا کہ وہ کسی حادثاتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ عوام کی امیدوں کا ترجمان ہیں، اور انہیں یقین ہے کہ ڈیڈ لائن دینے کی نوبت نہیں آئے گی۔

“پیپلزپارٹی دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی”
وزیر قانون نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے تنہا حکومت بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حلقہ 25 نیلم ون سے عوام کی بڑی تعداد پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر رہی ہے اور مخالفین کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ گھموٹ کے لیے 5 کلومیٹر سڑک اور سرگن میں کھیلوں کا گراؤنڈ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنان کو تنظیم سازی کے عمل پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحصیل شاردہ کی یونین کونسلز اور وارڈ سطح پر پارٹی تنظیمیں مکمل کر لی گئی ہیں، جو عوامی اعتماد کی عکاس ہیں۔

“کارکنان کی جدوجہد سے ہزاروں کی شمولیت ممکن ہوئی”
انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسلر میاں بنیامین، صدر یونین کونسل شاردا عارف، لوکل کونسلر محمد افضل، سید صادق حسین شاہ، نذیر دانش ایڈووکیٹ، خورشید منگتا، چوہدری ارشاد، بشارت لون، بشیر ملک، مشتاق خان سواتی، سردار مقصود ایڈووکیٹ، حوالدار ادریس، جاوید اسلم، علی اصغر کیل سیری، اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جن کی محنت سے ہزاروں افراد نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

انہوں نے کہا کہ بالائی نیلم میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے ہزاروں کارکنان نے اپنے خاندانوں سمیت پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

“قانون کی حکمرانی اخلاقیات سے آتی ہے”
میاں عبدالوحید نے کہا کہ حکومت کے منصوبوں پر ذاتی ناموں کی تختیاں لگانا بند کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کی سیاسی قیمت چکانی پڑی، لیکن اصولی موقف پر قائم رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون کی اصل حکمرانی اخلاقیات سے آتی ہے، اور وہ گزشتہ 25 سال سے بغیر تنخواہ اور ٹی اے لیے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں