0

مظفرآباد سے واپس لائی گئی سدرہ راولپنڈی میں غیرت کے نام پر قتل، پولیس کی تیز کارروائی سے ہوشربا انکشافات

ڈیلی پرل ویو.راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کی حدود میں غیرت کے نام پر ایک اور لرزہ خیز قتل نے انصاف کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مظفرآباد سے جرگہ کے ذریعے واپس لائی گئی سدرہ کو اس کے گھر والوں نے مبینہ طور پر “غیرت” کے نام پر قتل کر کے خاموشی سے دفنا دیا۔ تاہم پولیس نے خفیہ اطلاعات، تفتیشی مہارت اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حقائق سامنے لا دیے۔

تفصیلات کے مطابق 11 جولائی کو سدرہ، جو کہ اپنے شوہر ضیاء الرحمان سے ناراضگی کے باعث گھر سے چلی گئی تھی، کو 16 جولائی کی شب باڑہ مارکیٹ کے تاجر رہنما عصمت اللہ، اس کے والد عرب گل، اور دیگر اہل خانہ مظفرآباد سے واپس لے آئے۔ اگلے روز، 17 جولائی کو گھر میں ایک خاندانی جرگہ منعقد ہوا جس کی سربراہی عصمت اللہ نے کی۔

جرگے نے فیصلہ سنایا کہ سدرہ “غیرت” کے نام پر اپنی زندگی کا حق کھو چکی ہے، جس کے بعد لڑکی کے والد، بھائی اور چچا سسر نے سدرہ کو گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔

قتل کی خاموشی: غسل، جنازہ، دفن، اور نشان مٹانے کی کوشش
قتل کے بعد گھر میں ہی خواتین نے میت کو غسل دیا، جنازہ عصمت اللہ نے پڑھایا اور پیرودھائی قبرستان میں اپنی مدد آپ کے تحت قبر کھود کر دفن کیا گیا۔ میت کو ایک رکشے کے ذریعے پولی تھین میں لپیٹ کر لایا گیا اور قبر تیار نہ ہونے کے باوجود دفنا دیا گیا۔ پولیس کو مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع ملی تو تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔

جعلی رپورٹ کا ڈرامہ
20 جولائی کو قاتلوں نے کیس کو گمراہ کرنے کی کوشش میں سی پی او راولپنڈی کو سدرہ کے اغوا اور نکاح کی جعلی درخواست دے دی، ساتھ ہی عدالت میں پولیس پر ایف آئی آر درج نہ کرنے کی درخواست بھی دائر کی۔

پولیس کی تفتیش: قبر سے سراغ، سی سی ٹی وی نے بھانڈا پھوڑ دیا
پولیس نے مختلف قبرستانوں میں تازہ قبروں کا ریکارڈ چیک کرنا شروع کیا اور بالآخر پیرودھائی قبرستان میں مشکوک قبر کا سراغ ملا۔ ریکارڈ میں چھیڑ چھاڑ کے شواہد ملے اور سب سے اہم ثبوت قبرستان کمیٹی کے دفتر سے حاصل شدہ سی سی ٹی وی فوٹیج تھی، جس میں پولی تھین میں لپٹی لاش اور قاتلوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

گرفتاریاں اور عدالتی پیش رفت
پولیس نے گورکن اور قبرستان کمیٹی کے رکن کو فوری طور پر گرفتار کر لیا۔ سدرہ کے والدین، شوہر اور دیگر افراد کو شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ عدالت میں قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی درخواست دائر کر دی گئی ہے،

چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو کا نوٹس
قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئرپرسن ام لیلی اظہر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ جرگہ، رشتے یا شوہر کو کسی عورت کی جان لینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ قاتلوں کو کسی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام مجرموں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں