0

مظفرآباد اور گردونواح میں جنگلی خنزیر قابو سے باہر، کسانوں کی محنت خاک میں ملنے لگی

مظفرآباد (ڈیلی پرل ویو)آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد اور اس کے مضافاتی علاقوں میں جنگلی خنزیر زمینداروں کیلئے عذاب بن گئے ہیں۔ فصلیں تباہ کرنے والے ان جانوروں نے کسانوں کی محنت اور سرمایہ کاری کو لمحوں میں خاک میں ملا دیا ہے، جس پر مقامی کسان مہینوں خون پسینہ بہاتے ہیں۔

مقامی زمینداروں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت جنگلی خنزیر جھنڈ کی صورت میں کھیتوں میں داخل ہو کر قیمتی فصلوں کو منٹوں میں تباہ کر دیتے ہیں۔ بعض علاقوں میں کسانوں نے حالات سے تنگ آ کر فصلوں کی کاشت صرف جانوروں کے چارے تک محدود کر دی ہے تاکہ کم از کم کچھ فائدہ حاصل ہو سکے۔

اس سنگین مسئلے پر عوامی دباؤ کے نتیجے میں موجودہ حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اعلیٰ حکام سے مشاورت کے بعد جنگلی خنزیر کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔

تاہم دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو کمیٹی کی طرف سے کوئی ٹھوس اقدام سامنے آیا ہے اور نہ ہی زمینی سطح پر کوئی مؤثر کارروائی کی گئی ہے۔ اس دوران خنزیر مسلسل زرعی زمینوں پر حملے کر رہے ہیں، جس سے زمینداروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔

کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے، غیر فعال کمیٹی کو تحلیل کر کے عملی اقدامات کیے جائیں، اور محکمہ جنگلات و تحفظِ ماحولیات کے ذریعے خنزیر کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اور پائیدار پالیسی تشکیل دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں