مظفرآباد (ڈیلی پرل ویو)جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران نے مہاجرین مقیم پاکستان کے لیے مختص 12 نشستوں کو کرپشن اور سیاسی مفادات کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا تحریکِ آزادی کشمیر سے کوئی عملی، قانونی یا نظریاتی تعلق باقی نہیں رہا۔ اس حوالے سے 29 ستمبر کو پورے آزاد کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔
مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کور ممبران راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، شوکت نواز میر، فیصل جمیل کاشمیری، سید فیصل گیلانی اور راجہ صہیب نے کہا کہ ان 12 نشستوں کو محض جذباتی طور پر تحریکِ آزادی کے ساتھ جوڑ کر مخصوص عناصر کے ذاتی مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقی مہاجرین آج بھی کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ آزاد کشمیر اسمبلی ایک “کرپشن کا گڑھ” بن چکی ہے، جہاں موجود ارکان کو “غلاظت کے لوٹے” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ لوگ نہ صرف سیاسی اصولوں سے عاری ہیں بلکہ پاکستان کے اشاروں پر تنخواہیں لے کر بیٹھے ہیں۔
پریس کانفرنس میں کور ممبران نے واضح کیا کہ 1974 کے عبوری آئین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ان نشستوں کا تحریک آزادی کشمیر سے کوئی آئینی جواز نہیں۔ یہ دراصل نظام میں موجود کرپٹ اور استحصالی ڈھانچے کو تحفظ دینے کا ایک ذریعہ بن چکی ہیں۔