0

سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا سخت نوٹس پبلک ڈاکومنٹس کی عدم فراہمی پر متعدد افسران طلب، ڈی ایچ او حویلی کی سرزنش

ڈیلی پرل ویو.مظفرآباد: سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں زیر سماعت مقدمہ محمد شرافت میر بنام ڈاکٹر جواد افضل کیانی کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے پبلک ڈاکومنٹس کی نقول جاری نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعدد سرکاری افسران کو طلب کر لیا ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس جسٹس خواجہ محمد نسیم اور جسٹس رضا علی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ پبلک ڈاکومنٹس کی فراہمی سے انکار نہ صرف بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کے مترادف ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس رضا علی خان نے ڈی ایچ او حویلی، ڈاکٹر جواد افضل کیانی کو مخاطب کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے کہ “بظاہر لگتا ہے کہ آپ نے جعلی طریقے سے ڈرائیور کی بھرتی کی، اور اگر یہ ثابت ہو گیا تو آپ خود بھی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔”

عدالت نے ڈی ایچ او کی طرف سے جمع کرایا گیا جواب غیر تسلی بخش قرار دیا اور انہیں 8 اگست 2025 کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونے اور تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی۔

ریکارڈ میں رد و بدل کا الزام
عدالت نے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے ریکارڈ میں مبینہ رد و بدل پر بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس پی حویلی اور ڈسٹرکٹ ٹریفک انسپکٹر حویلی کو طلب کر لیا ہے تاکہ معاملے کی مکمل تحقیقات ہو سکیں اور حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

عدالت کے مشاہدے کے مطابق، پبلک ڈاکومنٹس کی فراہمی میں تاخیر یا انکار انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، اور اس قسم کی غفلت ادارہ جاتی شفافیت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

پس منظر
یہ کیس ایک ڈرائیور کی بھرتی کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں اور سرکاری ریکارڈ میں ممکنہ چھیڑ چھاڑ سے متعلق ہے، جس میں متعدد محکمہ جات کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں