مظفرآباد (ڈیلی پرل ویو)وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثرہ تعلیمی اداروں کی تکمیل کے لیے ایک ارب روپے گرانٹ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، تاہم فنڈز کی عدم دستیابی منصوبوں کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یہ بات نوتعینات سیکرٹری سیرا خالد محمود مرزا کو دی گئی بریفنگ کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری سیرا عابد غنی میر نے بتائی۔
زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تعلیمی بحران برقرار
ایڈیشنل سیکرٹری کے مطابق 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں آزاد کشمیر کے سات اضلاع میں 46,574 افراد جاں بحق ہوئے اور اربوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہوئیں۔ بحالی کے لیے سیرا (SERRA) کے تحت تعلیم، صحت، گورننس و دیگر شعبوں میں 7,608 منصوبے شروع کیے گئے جن میں سے 5,878 مکمل ہو چکے ہیں، 919 پر کام جاری ہے جبکہ 811 منصوبے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث شروع ہی نہیں ہو سکے۔
دو لاکھ بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور
عابد غنی میر کے مطابق زلزلے کے 20 سال بعد بھی دو لاکھ سے زائد طلبہ شدید موسمی حالات میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ 1,100 تعلیمی ادارے ابھی بھی زیر تعمیر یا غیر فعال ہیں جن کی تکمیل کے لیے 44.125 ارب روپے درکار ہیں۔
فنڈز کی قلت کے اثرات
گزشتہ تین سالوں سے وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث:
81 ترجیحی تعلیمی منصوبے تعطل کا شکار ہیں
محکمہ صحت کے 5 ہسپتالوں کی تعمیر رکی ہوئی ہے
515 تعلیمی منصوبے زیر تعمیر ہیں
597 منصوبوں پر ابھی کام شروع نہیں کیا جا سکا
8 ارب روپے درکار ہیں
کنگ سلمان چیریٹی کے تحت جزوی کام
کنگ سلمان چیریٹی کی جانب سے چار تعلیمی اداروں کی تعمیر کے لیے فنڈز مہیا کیے گئے ہیں اور ان پر کام جاری ہے۔
سیکرٹری سیرا کا عزم
سیکرٹری سیرا خالد محمود مرزا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:
“مجھے تعمیرنو پروگرام کو درپیش رکاوٹوں کا مکمل ادراک ہے۔ کوشش ہوگی کہ سیرا ٹیم کے تعاون سے ان تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور متاثرہ علاقوں کے بچوں کو عالمی معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں۔”
انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا تو نہیں جا سکتا، لیکن زلزلہ مزاحم عمارات اور جدید بلڈنگ کوڈز پر عمل کرکے انسانی جانوں کے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔