0

آزاد کشمیر میں محکمہ تعمیرات عامہ اور فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ انتظامی بحران کا شکار

مظفرآباد(ڈیلی پرل ویو)حکومتی عدم دلچسپی و عدم توجہی کے باعث محکمہ تعمیرات عامہ و محکمہ فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ انتظامی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا،اس وقت ہر دو محکمہ میں 6چیف انجینئر اور دو چیئرمین ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیڈر کی اسامیاں ہیں۔جبکہ کل 8اسامیوں بی 20 کے خلاف ایک مستقل اور چار افشنٹنگ بنیادوں پر چیف انجینئر تعینات ہیں اور تین آسامیاں چیف انجینئر کی عرصہ دراز سے خالی چلی آرہی ہیں جبکے چیف انجینئر شاہرات میرپور بیرون ملک چھٹی پر ہیں اسطرح اس وقت ہر دو محکمہ میں کل چار آسامیاں چیف انجینئر بی 20 خالی چلی آرہی ہیں جبکے ہر دو محکمہ جات میں ناظم بی 19 کی کل 11 آسامیاں ہیں معزز عدالت کے فیصلہ فہدابرار بنام آزاد حکومت کے واضح حکم کیمغاہر کے کرنٹ چارج بنیادوں پر تعینات صرف عرصہ چھ ماہ کے ہوتی ہے کہ سراسر مغائر عرصہ آٹھ سالوں سے کرنٹ چارج بنیادوں پر مہتمان بی 18 کو ناظم بی 19 کا چارج دے کر کام چلایا جا رہا ہے جبکے ہر دو محکمہ جات میں کل مہتمان بی 18 کی کل آسامیاں کی تعداد 29 ہے اور ان اسامیوں کے خلاف 11 مہتمان بی 18 مستقل بنیادوں پر جبکے 18 اسامیوں پر عرصہ دس سالوں سے معزز عدالت کے واضح فیصلہ کے مغائر کرنٹ چارج بنیادوں پر نائب مہتمم بی 17 سے کا م چلایا جا رہا ہے اور ستم ضعیفی ہر دو محکمہ جات میں گریجویٹ انجینئرز کی کل آسامیاں کی تعداد 50 ہے اور اس وقت ہر دو محکمہ جات میں کل 28 آسامیاں گریجویٹ انجینئر کی خالی ہیں ان آسامیوں پر بذریعہ پبلک سروس کمیشن تعناتیان عمل میں لائی جانی ہیں ان آسامیاں پر تا وقت مناسب تعناتیان نہ ہونے کے باعث مستقل میں ہر دو محکمہ جات مہتمان وناظم و چیف انجینئر کی دستیابی ممکن نہ ہو گی۔ہر دو محکمہ جات کے افسران کے اندر مایوسی اور بے چینی پائی جا رہی ہے حکومت کو فوری طور پر اسکا نوٹس لیتے خالی آسامیاں پر تحت قواعد مناسب ترقیابی و تعناتیان عمل میں لانی چاہیں تاکہ ہر دو محکمہ جات کے افسران کے اندر پائی جانے والی مایوسی کا سدباب ممکن ہو سکے۔ہر دو محکمہ جات کا ازادکشمیر کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار رہا ہے اور قبل ازیں ہر دور حکومت میں ہر دو محکمہ جات کے سنیر انجینئرز کو سیکرٹری کی آسامیاں پر ترقیاب کیا جاتا رہا ہے جبکے موجود دور حکومت میں کسی بھی انجینئر کو سیکرٹری حکومت ترقیابی نصیب نہ ہوئی ہے۔اسی بنا پر کچھ عرصہ قبل ایک چیف انجینئر نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی جبکے ایک چیف انجینئر چھٹی لے کر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں