مظفرآباد(ڈیلی پرل ویو)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی راہنما اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد نے اسمبلی میں انٹرن شپ کروانے کے لیے 53اسامیوں کے خلاف بذریعہ میڈیا آزادکشمیر بھر سے ا میدواروں کو سلیکشن کیلئے طلب کرنے کی کارروائی کو ایک مکمل ڈھونگ،پڑھے لکھے اور بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ ایک فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسمبلی کے جملہ ارارکین اسمبلی کو ایک ایک PRO ساتھ دینا تھا وہ بھی صرف 6 ماہ کے لیے تو یہ انٹرویو کا ڈھونگ رچانے کا کیا مقصد تھا۔خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ گزشتہ 3 دنوں سے ہزاروں نوجوان جس میں خواتین کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے کو جلال آباد ایم ایل اے ہاسٹل میں انٹرویو کے نام پر خوار کرنے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ سنگین مذاق کیا ہے۔اسی لیے سیاستدانوں،حکمرانوں سے ہماری نئی نسل کا اعتبار اٹھتا جارہا ہے۔جب آپ نے کوئی انٹرن شپ کروانی ہی نہیں تھی تو پھر ہزاروں نوجوانوں کو انٹرویو کے لیے بلانے کا کیا مقصد تھا،کون ذمہ دار ہے،بے روزگار لوگ رات 10،10 بجے تک انٹرویو کے لیے کھڑے رہے یہ مذاق کیوں کیا گیا،ہزاروں روپے خرچ کرکے دور دراز سے بے روزگار لڑکے،لڑکیاں انٹرن شپ کے لیے بلائے گئے جبکہ ایسا کوئی پروگرام سرے سے ہی نہیں تھا نہ ہی اسمبلی کے پاس 53امیدواروں کو انٹرن شپ کروانے کے لیے کوئی سٹاف جگہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ تھا محض بے روزگار طبقہ کی بے روزگاری کا مذاق اڑایا گیا ہے جس کو فوری طورپر وضاحت کر کے اور تمام آئے ہوئے امیدواروں سے اس سنگین مذاق کی معافی مانگ کر ختم کرنا چاہیے اور آئندہ کے لیے ایسے جعلی انٹرن شپ انٹرویو کا انعقاد نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔
0
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل